Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہشتگردوں کی فائرنگ،انسداد پولیوٹیم کی سیکورٹی پر تعینات  پولیس اہلکار شہید

    دہشتگردوں کی فائرنگ،انسداد پولیوٹیم کی سیکورٹی پر تعینات پولیس اہلکار شہید

    ضلع خیبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران دہشتگردوں نے پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار عبدالخالق شہید ہو گئے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کے مطابق ضلع بھر میں آج سے 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ مہم پولیو کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں جاری ہے، جس میں پولیو کے 945 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ان کا مقصد 2 لاکھ 8 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔اس مہم کے دوران دہشتگردوں نے تھانہ حدود جمرود کے علاقے بکر آباد میں گھات لگا کر پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار عبدالخالق پر اچانک فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار عبدالخالق موقع پر شہید ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں پولیو ٹیم کا دیگر عملہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا جبکہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔ جائے وقوعہ سے 30 بور کے دو خول ملے ہیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں کر دیں۔ پولیس نے ملزمان کے تعاقب کا آغاز کر دیا ہے تاکہ انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔محکمہ صحت کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بکر آباد کے علاقے میں ہونے والے حملے کے بعد انسداد پولیو مہم کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور پولیو ٹیم کو واپس بلا لیا گیا ہے۔یہ حملہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے خلاف جاری مہم کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم دہشتگردوں کے حملوں کی وجہ سے انسداد پولیو مہم متاثر ہوتی رہتی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں کاروائی کا آغاز

  • وزیرِ اعظم   کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد  ،  زخمی  سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت

    وزیرِ اعظم کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد ، زخمی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت کی۔

    دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے زخمی جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی قربانیوں اور وطن کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا، "آپ سب قوم کے ہیروز ہیں اور ہم سب کو آپ کی قربانیوں اور آپ کے اہل خانہ پر فخر ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "جب تک قوم کا تحفظ ایسے بہادر جوانوں کے سپرد ہے، دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔”وزیرِ اعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے افواج پاکستان اور پاکستانی عوام ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں دہشت و شر کی فضاء پھیلانے والے عناصر کو ترقی کے دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز شر پسند عناصر کے سد باب کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔”

    اس موقع پر وزیرِ اعظم نے بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیرِ بجلی اویس لغاری بھی موجود تھے۔

    قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم کوئٹہ پہنچنے پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    اس دورے میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیرِ بجلی اویس لغاری بھی موجود ہیں۔وزیرِ اعظم کے دورے کا مقصد بلوچستان کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ اس دوران وزیرِ اعظم کو امن و امان کی صورتِ حال پر بریفنگ دی جائے گی تاکہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور امن کے قیام کے حوالے سے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی قیادت سے ملاقات کریں گے تاکہ بلوچستان کے مسائل اور ترقی کے حوالے سے باہمی مشاورت کی جا سکے۔ یہ دورہ صوبے کی ترقی اور امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    وزیرِ اعظم کے اس دورے کے حوالے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ بلوچستان میں امن و سکون کے قیام میں معاون ثابت ہوگا اور حکومت کی جانب سے اس صوبے کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    پنکی گوگی اور کپتان لوٹ کر کھا گئے پاکستان، نحوست کا سایہ چھٹ چکا،عطا تارڑ

    لاہور ،گولیاں چل گئیں، گھر کے دروازے پر وکیل قتل

  • پنکی گوگی اور کپتان لوٹ کر کھا گئے پاکستان، نحوست کا سایہ چھٹ چکا،عطا تارڑ

    پنکی گوگی اور کپتان لوٹ کر کھا گئے پاکستان، نحوست کا سایہ چھٹ چکا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا، اور حکومت اپنے اصلاحاتی اقدامات کو بلا کسی رکاوٹ کے مکمل کرے گی۔ملک سے پنکی، گوگی اور کپتان کی نحوست کا سایہ چھٹ چکا ہے اس لیے ملکی معیشت بھی ترقی کر رہی ہے ،اور سیاسی استحکام بھی آ رہا ہے

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے واضح کیا کہ پیکا ایکٹ فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خلاف ہے، اور اس کا مقصد عوام میں گمراہی پھیلانے والی غیر مستند معلومات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ کسی بھی فرد کو فیک نیوز پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا اور اس کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے پیکا قانون پر اعتراض کرنے والوں کو دعوت دی کہ وہ بتائیں کہ اس کے کس شق پر انہیں اعتراض ہے۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ اگر کسی کو اس قانون میں کوئی خاص شق پر اعتراض ہے تو اس کو کھل کر بیان کرنا چاہیے تاکہ اس پر غور کیا جا سکے۔عطاء تارڑ نے سوشل میڈیا پر افراد کی جانب سے بغیر کسی تحقیق کے الزامات لگانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس کا جو دل کرتا ہے وہ مائیک اٹھا کر دوسروں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیتا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔عطاء تارڑ نے کہا کہ پیکا ایکٹ میں ایسی کوئی متنازعہ شق نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ اس بارے میں وضاحت فراہم کرے تاکہ اس پر مناسب طور پر غور کیا جا سکے۔وزیر قانون نے کہا کہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ فیک نیوز کے خلاف اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہ دراصل عوام کی بھلاہی کے خلاف ہیں۔عطاء تارڑ نے کہا کہ پیکا ایکٹ پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی قانونی معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک متفقہ راستہ اختیار کیا جا سکے۔

    عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کی چوری پر پورا ٹبر پکڑا گیا،دنیا میں شہ سرخیاں لگیں کہ ایسا وزیراعظم تھا جو گھڑیاں بیچ کر کھا گیا، پی ٹی آئی کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں تھا، ملک میں نحوست کا سایہ تھا جو چھٹ گیا ہے،190 ملین پاؤنڈ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ہے،پورا ٹولہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، آج وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے،یہ 2025 ترقی کا سال ہے، آپ دیکھیں گے کہ مہنگائی مزید کم ہوگی اور پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوگا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں کاروائی کا آغاز

    سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم نہ کرنا پڑتی،وکیل

  • لیویز کی  گاڑی پر فائرنگ، 5 افرادکی موت، وزیر داخلہ کی مذمت

    لیویز کی گاڑی پر فائرنگ، 5 افرادکی موت، وزیر داخلہ کی مذمت

    ڈیرہ اسماعیل خان: خانوزئی لیویز کے اہلکاروں پر درابن جانے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں 4 لیویز اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، لیویز اہلکار چوری کے ایک ٹرک کی برآمدگی کے لیے درابن جا رہے تھے کہ اچانک ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں 4 لیویز اہلکار اور ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ضروری کارروائی شروع کر دی۔جاں بحق ہونے والے افراد کی میتیں فوری طور پر درابن اسپتال منتقل کر دی گئیں، جہاں ان کی پوسٹ مارٹم کی کارروائی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور فائرنگ کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔اس واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس حملے کے پیچھے کی وجوہات کا پتا چلایا جا سکے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    وفاقی وزیرداخلہ کی ڈیرہ اسماعیل خان میں لیویز گاڑی پر خارجی دہشتگردوں کے حملے کی مذمت
    اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں لیویز فورس کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں 4 لیویز اہلکار شہید ہو گئے۔ وزیرداخلہ نے اس حملے کو غیر انسانی اور بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔محسن نقوی نے شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کی قربانی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔وزیرداخلہ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "شہداء کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، اور ان کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔” محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ان کے خلاف تمام ممکنہ کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ امن اور سکون کی فضا قائم کی جا سکے۔وزیرداخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن مدد کرے گی اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں بے مثال حوصلے اور عزم کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    امن کو سبوتاژ کرنے والے دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں،ایاز صادق
    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈیرہ اسماعیل خان میں لیویز کی گاڑی پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس حملے میں شہید ہونے والے 4 لیویز اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی خواہش کا اظہار کیا۔سردار ایاز صادق نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کا خون رنگ لائے گا۔سپیکر قومی اسمبلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خوارجی دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے والے دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔سردار ایاز صادق نے پورے ملک کی قوم کو یقین دلایا کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا عزم کیا گیا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سرفراز ڈوگر  کی عدالت میں کاروائی کا آغاز

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں کاروائی کا آغاز

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس سرفراز ڈوگر نے کورٹ کا آغاز کر دیا

    جیسے ہی عدالت کی کارروائی شروع ہوئی، تلاوت کلام پاک سے ماحول کو روحانیت بخشی گئی، جس کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر نے کورٹ کی کارروائی کا آغاز کیا۔اس موقع پر عدالت میں موجود مختلف اہم شخصیات نے نئے جج کو خوش آمدید کہا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عبد الخالق تھند نے کورٹ میں آ کر جسٹس سرفراز ڈوگر کا خیرمقدم کیا اور انہیں ویلکم کیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نئے جج کو خوش آمدید کہا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اسی طرح ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے دفتر سے سرکاری وکیل نے بھی عدالت میں آ کر اپنا تعارف کرایا اور نئے جج کو خوش آمدید کہا۔جسٹس سرفراز ڈوگر نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور کہا "تھینک یو”۔

    بعد ازاں، جسٹس سرفراز ڈوگر نے عدالت میں تین کیسز کی سماعت کی۔ تاہم، ان کیسز کی سماعت کے دوران کسی بھی وکیل نے عدالت میں پیش ہونے کی زحمت نہیں کی سوائے سرکاری وکلا اور لا افسران کے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوسری ہائیکورٹس سے تین ججز کے تبادلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج 80 فیصد سے زائد کیسز میں وکلا پیش نہیں ہوئے،لاء افسران سرکاری وکلا اور درخواست گزار خود عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ججز تبادلے کے خلاف ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے آج مکمل ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے،جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس اعظم خان کی عدالت میں وکلا پیش ہوئے،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت میں صرف لا افسران پیش ہوئے

    لاہور ،گولیاں چل گئیں، گھر کے دروازے پر وکیل قتل

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

  • لاہور ،گولیاں چل گئیں، گھر کے دروازے پر وکیل قتل

    لاہور ،گولیاں چل گئیں، گھر کے دروازے پر وکیل قتل

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں وکیل کو گھر کی دہلیز پرگولیاں مارکر قتل کردیا گیا

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں وکیل محمد نوید جمیل گھر کے گیٹ کے قریب پہنچا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی جس سے محمد نوید موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،پولیس حکام کے مطابق ملزمان کو سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر زرائع کی مدد سے ٹریس کیا جا رہا ہے،پولیس اور فرانزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے لئے،لاش تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی،ایس پی صدر ڈاکٹر غیور احمد خاں کا کہنا ہے کہ دیرینہ دشمنی سمیت تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہے،مزید کاروائی حسب ضابطہ عمل میں لائی جا رہی ہے،قتل ہونے والا شخص بچوں کو سکول چھوڑ کر گھر آرہا تھا، مقتول پیشہ کے اعتبار سے ایڈووکیٹ تھا، واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ لگ رہا ہے،جلد ملزمان قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی،سندھ ،بلوچستان ہائیکورٹ بارکا خیر مقدم

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی،سندھ ،بلوچستان ہائیکورٹ بارکا خیر مقدم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی،سندھ ،بلوچستان ہائیکورٹ بارکا خیر مقدم

    سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صدرِ پاکستان کی جانب سے آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 200 کے تحت حاصل اختیارات اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کے ذریعے تقرری کو سراہتے ہوئے خوش آئند قرار دیا ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان کی جانب سے آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 200 کے تحت حاصل اختیارات اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کے ذریعے تقرری کو سراہتی ہے، خصوصاً جب یہ تقرریاں چھوٹے صوبوں سے کی جائیں۔ یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے وفاقی تشخص کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس عدالت کا قیام بنیادی طور پر تمام صوبوں، بشمول چھوٹے صوبے جیسے سندھ اور بلوچستان، کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔جب اسلام آباد ہائی کورٹ کی ابتدا ہوئی، تو اس کا ڈھانچہ اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ اس میں ہر صوبے سے ایک جج شامل ہو، اس کے علاوہ اسلام آباد سے بھی ایک جج مقرر کیا جائے۔ اس ڈھانچے کا مقصد وفاقیت کے اصولوں کو برقرار رکھنا اور تمام علاقوں، بالخصوص چھوٹے صوبوں، کی آواز کو وفاقی دارالحکومت کی عدلیہ میں شامل کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس وفاقی تشخص میں کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان جیسے صوبوں کی متناسب نمائندگی متاثر ہوئی۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ججوں کے تبادلے، بشمول محترم جسٹس خادم حسین سومرو، جو دیہی سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی اصل ساخت اور تشخص کی بحالی میں مدد ملے گی۔ جسٹس سومرو کی تقرری نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں وسیع تجربہ اور مہارت لائے گی بلکہ یہ بھی یقینی بنائے گی کہ سندھ کے عوام، بالخصوص دیہی علاقوں کے لوگ، وفاقی عدلیہ میں مناسب نمائندگی حاصل کریں۔ہم اسلام آباد بار کونسل اور اسلام آباد کی قانونی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اقدام کی مکمل حمایت کریں اور چھوٹے صوبوں، بشمول جسٹس سومرو، سے آنے والے ججوں کو خوش آمدید کہیں۔ اس اقدام کی مخالفت یا منفی بیانات نہ صرف وفاقیت کے اصولوں کو کمزور کریں گے بلکہ سندھ کے عوام، بشمول اس کی قانونی برادری، کے جذبات کو بھی مجروح کریں گے۔سندھ ہائی کورٹ ایسوسی ایشن اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے وفاقی تشخص کی بحالی پاکستان کے عدالتی نظام کی شفافیت اور شمولیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہم تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس اقدام کی حمایت کریں اور عدلیہ کو ایک متحد قوت بنانے کے لیے مل کر کام کریں تاکہ قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔

    دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطاء اللہ لانگو نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دیگر صوبوں کے ججز کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے تحت صدر پاکستان کو اختیار ہے کہ وہ ججز کی تقرر و تبادلے کرے، سینئر و قابل ججز کی اسلام آباد میں تعیناتی آئین کے حوالے سے قابل ستائش ہیں۔ میر عطاء اللہ لانگو نے صدر پاکستان کی جانب سے حال ہی میں بلوچستان، سندھ اور لاہور سے 3 ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 200 کے تحت صدر کو اختیار ہے کہ وہ ججز کی ایک ہائی کورٹ سے دوسرے ہائی کورٹ تبادلے کرے۔ صدر مملکت نے جن ججز کی تعیناتی کی ہے آئین کی پاسداری کے حوالے سے قابل ستائش ہیں ،بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کے ذریعے آئین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم نہ کرنا پڑتی،وکیل

    امریکا میں ایک اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

  • سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم نہ کرنا پڑتی،وکیل

    سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم نہ کرنا پڑتی،وکیل

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نےسماعت کی،جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل کسی صورت نہیں ہو سکتا، اگر آرمی ایکٹ میں ترمیم سے کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو آئینی ترمیم نہ کرنی پڑتی،اس طرح کورٹ مارشل ممکن ہے تو عدالت کو قرار دینا پڑے گا کہ اکیسیویں ترمیم بلاوجہ کی گئی،اکسیویں ترمیم میں آرٹیکل 175 میں بھی ترمیم کی گئی،فوجی عدالتوں میں فیصلے تک ضمانت کا کوئی تصور نہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پندرہ دن میں فیصلہ ہوجائے تو ضمانت ہونا نہ ہونا سے کیا ہوگا، وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں اپیل کسی آزاد فورم پر جاتی ہے نہ مرضی کا وکیل ملتا ہے، وجی عدالتوں کا طریقہ کار شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ کے تمام 5 ججز نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے طریقہ کار کی شفافیت پر اتفاق نہیں کیا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل خواجہ احمد حسین سے کہا کہ دھماکا کرنے والے، ملک دشمن جاسوس سے ساز باز کرنے والے اور عام سویلینز میں کوئی فرق نہیں؟ آپ کو اپنے دلائل میں تفریق کرنی چاہیے۔وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ میں کسی دہشت گرد یا ملزم کے دفاع میں دلائل نہیں دے رہا، سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم نہ کرنا پڑتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 21ویں ترمیم میں تو کچھ جرائم آرمی ایکٹ میں شامل کیے گئے تھے، ملٹری کورٹس میں تو اسپیڈی ٹرائل کیا جاتا ہے۔

  • صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    صدر مملکت کا چین کا سرکاری دورہ طے

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری 4 سے 8 فروری تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کی دعوت چین کے صدر نے دی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران صدر زرداری چین کی اعلیٰ قیادت بشمول چینی صدر، وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ان ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات، تجارتی اور اقتصادی امور پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، سیکیورٹی تعاون اور سی پیک جیسے اہم منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور چینی قیادت اس بات پر زور دیں گے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف معاملات پر تعاون کو بڑھایا جائے۔

    صدر مملکت اس دورے کے دوران نویں ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو چین کے شہر ہانگژو میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ملاقاتوں میں علاقائی اور جغرافیائی امور پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی نئی جہتیں ملیں گی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

    کیپٹن ر صفدر نے لندن جانے پر پابندی لگنے کا انکشاف کر دیا

  • امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

    امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی خواہش

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ محصولات میں اضافے سے کچھ مشکلات پیش آئیں گی، لیکن اس کے اثرات شاندار ہوں گے اور یہ امریکہ کے لیے ایک سنہری دور ثابت ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ "ہم امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں گے۔”

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "ہم کیوں کینیڈا کو سبسڈی دینے کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر ادا کرتے ہیں؟ کینیڈا کو ہماری 51ویں ریاست بننا چاہیے۔” اُنہوں نے اس تجویز کی حمایت میں کہا کہ اس صورت میں کینیڈا کو بہتر فوجی تحفظ ملے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی کیونکہ کینیڈا پر کوئی ٹیرف (ٹیکس) نہیں لگے گا۔

    یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے بارے میں ایسی تجویز دی ہے۔ اس سے قبل بھی اُنہوں نے کینیڈا کو امریکہ کی ریاست بنانے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کینیڈا کے خلاف اقتصادی طاقت استعمال کریں گے۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے صدر ٹرمپ کی اس تجویز پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ "کینیڈا قیامت تک امریکہ میں ضم نہیں ہوگا۔” ٹروڈو نے واضح طور پر کہا کہ کینیڈا اپنی خود مختاری کو کسی صورت میں چھوڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    اس کے علاوہ، یاد رہے کہ امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 25 فیصد جبکہ چین سے امریکہ بھیجی جانے والی اشیاء پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس سے دونوں ممالک میں تجارتی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔صدر ٹرمپ کا یہ نیا بیان عالمی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتا ہے، خصوصاً کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات اور فوجی تعاون کے حوالے سے۔

    امریکا میں ایک اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    کیپٹن ر صفدر نے لندن جانے پر پابندی لگنے کا انکشاف کر دیا