Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فلاڈیلفیا: ایمبولینس طیارہ گر کر تباہ، 6 افراد ہلاک

    فلاڈیلفیا: ایمبولینس طیارہ گر کر تباہ، 6 افراد ہلاک

    امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا کے کمرشل علاقے میں ایک چھوٹا ایمبولینس طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایک شاپنگ مال کے قریب گرا، جس کے باعث متعدد گھروں اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ طیارے کے گرنے کے بعد دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔پولیس اور امدادی ٹیموں کے مطابق، حادثے کے باعث کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، طیارے میں ایک مریض کو منتقل کیا جا رہا تھا۔

    امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ طیارہ نجی ایمبولینس کمپنی کا تھا اور یہ ایک طبی ایمرجنسی کے دوران مریض کو منتقل کر رہا تھا۔ طیارہ گرنے کے بعد آگ لگنے کی وجہ سے علاقے میں مزید مشکلات کا سامنا ہوا، اور وہاں کی انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    یہ طیارہ میڈیکل ٹرانسپورٹ جٹ تھا، جس میں چھ افراد سوار تھے، جن میں ایک بچی، اس کی والدہ اور دیگر چار افراد شامل تھے۔ یہ طیارہ جمعہ کی شام فلاڈلفیا ایئرپورٹ سے اُڑنے کے بعد کچھ ہی دیر میں گر کر تباہ ہو گیا۔طیارہ Jet Rescue Air Ambulance کا تھا، جس کی ملکیت اس کمپنی کے پاس ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ طیارہ XA-UCI، Learjet 55، فلاڈلفیا سے اُڑنے کے بعد حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے میں چار عملے کے ارکان اور دو مسافر سوار تھے۔ ان مسافروں میں ایک بچی تھی جو زندگی بچانے کے لیے فلاڈلفیا میں علاج کروا رہی تھی اور اسے میکسیکو واپس منتقل کیا جا رہا تھا۔کمپنی کے ترجمان شائی گولڈ کے مطابق، طیارے کی منزل ٹیجوانا تھی اور اس سے پہلے یہ میسوری میں رکنے والا تھا۔ گولڈ نے کہا کہ یہ ایک تجربہ کار عملہ تھا اور ان تمام پروازوں کے عملے کو سخت تربیت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا، "جب ایسا حادثہ پیش آتا ہے تو یہ انتہائی حیران کن اور صدمے کا باعث ہوتا ہے۔ تمام طیاروں کی دیکھ بھال انتہائی محنت سے کی جاتی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری مشن کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔”

    کمپنی نے مزید کہا کہ حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔ اس وقت تک مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مسافر یا عملے کے افراد کے نام جاری کیے گئے ہیں، جب تک کہ ان کے خاندانوں کو آگاہ نہ کیا جائے۔”ہمارا فوری تشویش کا مرکز مریض کے خاندان، ہمارے عملے اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممکنہ متاثرہ افراد ہیں جو اس حادثے میں زخمی ہو سکتے ہیں۔ مزید معلومات جیسے ہی دستیاب ہوں گی، ہم انہیں جاری کریں گے۔”

    اس حادثے سے چند روز قبل واشنگٹن میں بھی ایک سنگین حادثہ پیش آیا تھا، جہاں مسافر طیارہ اور ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ اس حادثے میں موجود تمام 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اور ابھی تک 41 لاشوں کی باقیات نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 28 کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔

    فلاڈیلفیا میں ہونے والے اس حادثے پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس واقعے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔

    امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

  • امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

    امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پرسوں رات کو ایک بڑا خوفناک حادثہ ہوا واشنگٹن ڈی سی میں جس میں آرمی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارہ آپس میں ٹکرا گئے اور دریا میں گر گئے، 67 افراد دونوں پر سوار تھے اور کوئی بھی زندہ نہیں بچا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں بیٹھا تھا تو لوگ کہہ رہے تھے ایکٹ آف ٹیرارزم تھا، یہ پتہ کریں کہ ائر ٹریفک کنٹرولر کون تھا مسلمان تھا کالا تھا گورا، یا ایل جی بی ٹی کیو کا ممبر، یہ سب بیکار کی باتیں، واشنگٹن ڈی سی ہے، پوری دنیا کا یہ پاور ہاؤس ہے، پوری دنیا یہ جگہ کنٹرول کرتی ہے،ہوا کیا ، ایک پرواز جو ٹیک آف ہوئی اس نے واشنگٹن ڈی سی میں آنا تھا، کبھی آپ واشنگٹن ڈی سی گئے ہیں دیکھا ہو تو…میں جب پہلی بار گیا تھا تو 23 برس کا تھا، مجھے دوست نے دکھایا اور کہا کہ دیکھیں دریا کے پاس رن وے ہے، ایئر پورٹ ہے، پل کے اوپر جہاز جاتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں، واشنگٹن ڈی سی کا ایئر پورٹ رات دس یا گیارہ بجے نو فلائی زون بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہاں وائیٹ ہاؤس بھی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو ہوا وہ تو بڑی انہونی بات ہے، بہت بڑا حادثہ ہے، جب یہ جہاز آ رہا تھا تو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی آڈیو جو جہاز اور ہیلی کاپٹر والے سے ہوئی، اسکو پہلے دن ہی ریلیز کر دیا گیا تھا، وہ ہمارے سول ایوی ایشن والوں کی طرح نہیں کہ ہم صرف قیاس آرائیاں کرتے رہیں،بلیک ہاک یہ ایک کوریڈور راؤڈ فور کہتے ہیں وہ ایئر پورٹ کے ساتھ ہے وہاں درجنوں ہیلی کاپٹر اڑ رہے ہوتے ہیں، پولیس کے ہیلی کاپٹر، ایمبولنسز وہ وہاں سے اڑ رہے ہوتے ہیں، ایئر کرافٹ میں ایسا سسٹم ہوتا ہے جو کسی جہاز کے قریب آنے پر وارننگ دیتا ہے اور گائیڈ بھی کرتا ہے دائیں بائیں یا اوپرنیچے مڑیں، چند سیکنڈ میں حادثہ ہوناہوتا ہے، ہزار فٹ تک ،15 سو پر بھی گائیڈ کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد 1000 فٹ سے نیچے سسٹم گائیڈ نہیں کرتا،کیونکہ جہاز فائنل پر ہوتا ہے، لینڈنگ گیئر کھلا ہوتا ہے، فیلڈ ان سائٹ ہے، اس وقت سسٹم جو نیچے لگا ہے وہ ممکنہ طور پر بتائے کہ نیچے کوئی ہے، لیکن پائلٹ کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کا فوکس رن وے پر ہوتا ہے جہاں لینڈ کر رہا ہوتا ہے.جہاز جب ایئر پورٹ کی حدود میں آ جاتا ہے اور ایئر پورٹ کا ٹاور کنٹرول کرتا ہے تو نیچے جہاز بہت ہوتے ہیں، ٹی کیٹ سسٹم الرٹ کر رہا ہو تو دس جہاز بھی ہوں تو وہ وارننگ دے رہا ہو گا،لیکن پھر قریب لینڈنگ کے وہ کام نہیں کرتا، لیکن فوجی ہیلی کاپٹر کے اندر ایک سسٹم ہوتا ہے اے ڈی ایس بی جس کے اندر جی پی ایس بھی ہوتا ہے ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا ٹرانسپانڈر بند تھا جو سگنل دے رہا تھا،ٹرانسپانڈر کیوں بند تھا ،وہ اس وقت بند ہوتا ہے جب لا انفورسمنٹ والے فلائی کر رہے ہوتے ہیں ،کوئی ایکٹوٹی ہو تو بند کر دیتے تا کہ ٹریک نہ ہو، کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس ڈائریکشن پر ہیلی آ رہا، اس کی سیلنگ ہے، اس کو 300 فٹ سے اوپر نہیں ہونا چاہئے تھا، اس نے چھ بار کورس بدلا،مجھے لگ رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ٹرینی تھا،یہ ٹریننگ کر رہا تھا اور ٹرانسپانڈر آف کرنا ، اس کا روٹین ٹریننگ کا حصہ تھا، اتنے مصروف ایئر پورٹ پروہ کیوں ٹریننگ کر رہے ہیں یہ میری عقل سے باہر ہے، میرا خیال ہے اور کوئی بات بنتی نہیں ہے،ایئر ٹریفک نے کہا کہ ایئرکرافٹ دیکھ رہے ہو تو اس نے کہا کہ ہاں مجھے نظر آ رہا یہاں پر ایک ہیومن ایرر ہے، اس لئے کہ واشنگٹن ڈی سی رات کے وقت جگمگا رہا ہوتا ہے، اس علاقے میں ہر طرح کی لائٹ ہوتی ہے،سب کچھ جل رہا ہے، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے شاید دوسرے جہاز کو دیکھا اور سمجھا کہ مجھے اس بارے الرٹ کیا گیا، اسکے دس سیکنڈ بعد دونوں آپس میں ٹکرا گئے،جہاز کے تو تین حصے ہو گئے، ہیلی کاپٹر الٹا ہو کر نیچے گرا، وہاں ٹھنڈ ہے،پانی میں برف جمی ہوئی، مائنس ون ڈگری درجہ حرارت، اگر کوئی بچا بھی ہوتو اس ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا، اتنی ٹھنڈ ہے کہ دس دن قبل ٹرمپ کی حلف برداری اسی علاقے میں اوپن ہونی تھی لیکن پھر ٹھنڈ کی وجہ سے ان ڈور کر دی گئی،

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہوابازی کے حفاظتی معیار کا جائزہ لیا جائے گا، وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    واشنگٹن حادثہ،ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی،ہیلی کاپٹر روٹ سے ہٹا،تحقیقات جاری

    واشنگٹن فضائی حادثہ،بھارتی نژاد خاتون،دولہا پائلٹ،سکیٹنگ چیمپئنز سمیت دیگر ہلاک

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عینی شاہد نے منظر انتہائی ہولناک قرار دیا

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عارضی مردہ خانہ قائم،30 لاشیں مل گئیں

    واشنگٹن فضائی حادثہ، 67 افراد میں سے ابھی تک ایک بھی زندہ نہ ملا

    برطانوی وزیرِ اعظم کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر افسوس کا اظہار

    واشنگٹن،پیچیدہ فضائی نظام میں فضائی حادثہ کس طرح پیش آیا؟ماہرین نے سرجوڑ لئے

    واشنگٹن فضائی حادثہ، فضائی حدود کی تنگی،روشنیاں،پائلٹ کنفیوژن کا شکار

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ممکنہ انسانی غلطی،کوئی زندہ نہیں بچے گا،حکام مایوس

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،ملبے،مسافروں کی تلاش،امدادی عملے کو مشکلات

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

  • واشنگٹن فضائی حادثہ،ہوابازی کے حفاظتی معیار کا جائزہ لیا جائے گا، وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہوابازی کے حفاظتی معیار کا جائزہ لیا جائے گا، وائیٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری، کیرولین لیوِٹ نے آج ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارہ حادثے کے فوراً بعد وفاقی ہوابازی کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس جائزے میں "بھرتی کے معیار اور ہوابازی کی حفاظت کے معیار” کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    کیرولین لیوِٹ نے مزید کہا، ” صدر ٹرمپ نے اس دلخراش واقعے سے پہلے ہی ہوابازی کی حفاظت پر توجہ دی تھی۔” انہوں نے بتایا کہ "اپنے عہدے کا دوسرا دن پورا ہونے پر، صدر نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بائیڈن کے DEI (تنوع، مساوات اور شمولیت) کے بھرتی پروگرامز کو روک دیا گیا تھا اور غیر امتیازی میرٹ پر مبنی بھرتی کی پالیسی کی طرف واپس جانے کا فیصلہ کیا گیا۔”کیرولین لیوِٹ نے یہ بھی کہا کہ 2018 میں ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران، امریکی محکمہ نقل و حمل نے اوباما انتظامیہ کے دوران متعارف کرائے گئے حیاتیاتی سوالنامے کا استعمال ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جو "ماہر امیدواروں کو سزا دینے” کا باعث بنتا تھا۔انہوں نے کہا، "صدر ٹرمپ امریکی عوام سے اپنے وعدوں کو تیز رفتار سے پورا کرتے رہیں گے۔”

    کوئی بھی معمولی غلطی یا غلط فیصلہ سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔حسن شاہیدی
    فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن کے صدر اور چیف ایگزیکٹو حسن شاہیدی نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوا بازی کے تمام شعبوں میں مخصوص طریقہ کار اور ہدایات موجود ہیں تاکہ جہاز کی پرواز اور آپریشنز کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ان طریقہ کار کا مقصد ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے اور اگرچہ یہ سب کچھ محفوظ طریقے سے چل رہا تھا، لیکن اس واقعے کے بعد نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ تحقیقات کرے گا کہ اس رات کیا غلط ہوا تھا۔شاہیدی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خاص ہوائی حدود کا ڈھانچہ پیچیدہ ہے اور اس میں غلطی کے لیے بہت کم گنجائش ہے۔ ایسی حدود میں پرواز کرتے وقت کوئی بھی معمولی غلطی یا غلط فیصلہ سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ NTSB کی تحقیقات کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایسی کسی بھی ممکنہ غلطی سے بچا جا سکے اور مناسب تبدیلیاں کی جا سکیں تاکہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔

    امریکی کوسٹ گارڈ اور دیگر ریسکیو ٹیمیں گزشتہ کئی دنوں سے پوٹومک دریا میں حادثے کے مقام پر تلاش اور بازیابی کے کام میں مصروف ہیں۔ حکام مختلف عوامل کا تجزیہ کر رہے ہیں حکام نے حادثے کے مقام سے 41 سے زیادہ لاشیں نکالی ہیں اور بازیابی کی کوششیں تیز تر کی جا رہی ہیں تاکہ مزید لاشوں کو نکالا جا سکے۔امریکہ کی مختلف ایمرجنسی اور ریسکیو ایجنسیوں کے علاوہ غوطہ خور بھی پوٹومک دریا میں لاشوں کی تلاش کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ یہ تلاش اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب حادثے کے حوالے سے کئی سوالات ابھی تک حل نہیں ہو سکے، اور حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا کوئی تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی حادثے کا سبب بنی۔

    سی این این کی جانب سے حاصل کردہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی ایگل جیٹ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ٹکر کا واضح منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی جب غوطہ خور دریا میں حادثے کے مزید شواہد جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ویڈیو کے منظر سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ دونوں طیارے ایک دوسرے کے بہت قریب آ چکے تھے جس کے بعد یہ تباہ کن تصادم ہوا۔اس ویڈیو کو دیکھ کر یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کا سبب دونوں طیاروں کے درمیان فاصلے کا نہ ہونا تھا، اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طیاروں کے پائلٹوں کو اس قسم کی صورتحال میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں تھیں۔ ویڈیو کی اس تفصیل نے تحقیقات کے عمل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، کیونکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ دونوں طیاروں کی پروازوں کا ریکارڈ اور ان کے آپریشنل ڈیٹا کا جائزہ کیسے لیا جائے۔

    ایئرپورٹ کے قریب یادگاریں تعمیرات کی جا رہی ہیں
    ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب حادثے کے شکار افراد کے خاندانوں کی حمایت کرنے کے لیے یادگاری تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ رابرٹو مارکیز، جو ٹیکساس کے شہر ڈلاس سے یہاں آئے ہیں، ایئرپورٹ کے سامنے سڑک پر ایک یادگاری تعمیر کر رہے ہیں تاکہ ان خاندانوں کو دکھا سکیں کہ وہ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ امریکی ایئرلائنز نے ایک ہاٹ لائن اور معلومات کے مراکز قائم کیے ہیں تاکہ وہ لوگ جو اپنے اہل خانہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کی مدد کی جا سکے۔ اس وقت یہ ایک سنگین صورتحال ہے جہاں بہت سے خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹر کی پروازوں پر پابندی
    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹر کی پروازوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ایئرپورٹ کے قریب دو ہیلی کاپٹر روٹس میں سے زیادہ تر ہیلی کاپٹروں کو روک دیا گیا ہے تاکہ اس علاقے میں اضافی خطرات سے بچا جا سکے۔ صرف پولیس اور میڈیکل ہیلی کاپٹروں کو ان علاقوں میں پرواز کی اجازت دی جا رہی ہے۔اس اقدام کا مقصد اس علاقے میں فضائی ٹریفک کو منظم کرنا ہے تاکہ حادثات کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور تحقیقاتی ٹیموں کو بہتر طریقے سے کام کرنے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    400 فٹ کی بلندی پر ہیلی کاپٹر کی پرواز ‘سنگین غلطی’ ہوگی
    پال کینارڈ، جو 23 سال تک آر اے ایف کے پائلٹ رہے، نے بتایا کہ اگر ہیلی کاپٹر 400 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، کیونکہ معمول کی پرواز میں اس سطح کی بلندی سے پرواز کرنا غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہیلی کاپٹر 250 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا ہوتا، تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر وہ 400 فٹ یا اس سے اوپر کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، تو یہ واضح طور پر ایک سنگین غلطی تھی۔کینارڈ نے مزید وضاحت کی کہ ہیلی کاپٹر کے عملے کو "حالات کا صحیح اندازہ نہ ہونے” کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، جیسے کہ غلط موسمی حالات، نیویگیشن کی مشکلات، یا کسی قسم کی تکنیکی خرابی۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ حادثہ انسانی غلطی تھی یا تکنیکی عوامل کی وجہ سے ہوا۔

    ہیلی کاپٹر کا ڈیٹا ریکارڈر نہ مل سکا
    امریکی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹھ نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس یا ڈیٹا ریکارڈر ابھی تک نہیں ملا، اور حکام اس کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کی بلندی، اس کے راستے، اور آیا عملہ نائٹ ویژن گلاسز کا استعمال کر رہا تھا، جیسے اہم پہلو ہیں جن پر تحقیقات جاری ہیں۔یہ بلیک باکس ہیلی کاپٹر کے آپریشنل ڈیٹا کو ریکارڈ کرتا ہے اور اس کی بازیابی سے حادثے کی نوعیت اور اس کے اسباب کے بارے میں مزید اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جو تحقیقات میں معاون ثابت ہوں گی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    واشنگٹن حادثہ،ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی،ہیلی کاپٹر روٹ سے ہٹا،تحقیقات جاری

    واشنگٹن فضائی حادثہ،بھارتی نژاد خاتون،دولہا پائلٹ،سکیٹنگ چیمپئنز سمیت دیگر ہلاک

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عینی شاہد نے منظر انتہائی ہولناک قرار دیا

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عارضی مردہ خانہ قائم،30 لاشیں مل گئیں

    واشنگٹن فضائی حادثہ، 67 افراد میں سے ابھی تک ایک بھی زندہ نہ ملا

    برطانوی وزیرِ اعظم کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر افسوس کا اظہار

    واشنگٹن،پیچیدہ فضائی نظام میں فضائی حادثہ کس طرح پیش آیا؟ماہرین نے سرجوڑ لئے

    واشنگٹن فضائی حادثہ، فضائی حدود کی تنگی،روشنیاں،پائلٹ کنفیوژن کا شکار

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ممکنہ انسانی غلطی،کوئی زندہ نہیں بچے گا،حکام مایوس

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،ملبے،مسافروں کی تلاش،امدادی عملے کو مشکلات

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

    چلی کے نوجوان آئس اسکیٹر اور اس کے والد واشنگٹن فضائی حادثے میں جاں بحق

    چلی کے آئس اسکیٹر فرانکو اپاریسیو اور ان کے والد لوکیانو اپاریسیو ان افراد میں شامل تھے جو ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک طیارہ اور ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے۔فرانکو اپاریسیو واشنگٹن فگر اسکیٹنگ کلب کے رکن تھے اور اس تنظیم کی جونیئر بورڈ پر رضاکار کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ کلب نے اپنی انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا، "ہم دل شکستہ ہیں،” اور مزید کہا کہ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں کئی کمیونٹی کے محبوب افراد شامل تھے۔فرانکو کی بہن، اسابیلہ اپاریسیو نے اپنے بھائی اور والد کی یاد میں سوشل میڈیا پر پیغام شیئر کیا۔ اسابیلہ نے اپنے بھائی کے بارے میں لکھا: "سب سے بہترین بھائی۔ تم بہت جلد چلے گئے، پیارے لڑکے۔”ایک اور پوسٹ میں اسابیلہ نے اپنے والد لوکیانو کے بارے میں لکھا: "شکریہ ابو، تمہاری لامتناہی حمایت کے لئے اور ہمیشہ مجھ پر یقین رکھنے کے لئے، تم ہمیشہ دوسروں کو اپنے سے پہلے رکھتے تھے، میں تم سے محبت کرتی ہوں اور ہمیشہ تمہیں یاد کروں گی۔”

  • واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    بدھ کی شام، واشنگٹن ڈی سی کے قریب ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے نیاربر علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا فضائی تصادم پیش آیا، جس میں امریکی ایئرلائنز کی پرواز 5432 اور امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔ اس حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک ہوگئے، جس میں طیارے کے 64 مسافر اور ہیلی کاپٹر کے 3 عملہ کے ارکان شامل ہیں۔ یہ حادثہ امریکہ کی فضائی تاریخ کا سب سے سنگین واقعہ بن چکا ہے، جو 2001 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں والا فضائی حادثہ ہے۔

    حادثے کی تفصیلات اور ابتدائی تحقیقات
    ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں طیارے ایک ہی فضائی راہداری میں پرواز کر رہے تھے۔ امریکی ایئرلائنز کا طیارہ ایک ریجنل فلائٹ تھی، جو واشنگٹن ڈی سی سے روانہ ہو کر کینساس جا رہا تھا، جبکہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایک فوجی مشن پر تھا۔فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، یہ حادثہ اس کوریڈور میں پیش آیا جسے خصوصی طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے، میڈیکل ایویکویشن، فوجی اور حکومت کے ہیلی کاپٹروں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ اس کوریڈور میں ہیلی کاپٹروں کو 200 فٹ سے نیچے پرواز کرنے کی اجازت ہوتی ہے، مگر یہ تاحال واضح نہیں کہ آیا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اس بلندی پر تھا یا اس سے زیادہ اونچائی پر۔

    صدر ٹرمپ کا بیان اور سیاسی ردعمل
    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حادثے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر "بہت زیادہ اونچائی پر پرواز کر رہا تھا” اور "200 فٹ کے حد سے بہت زیادہ بلند تھا”۔ تاہم، اس بیان کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی، اور یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کا یہ بیان کسی سرکاری رپورٹ پر مبنی ہے یا محض قیاس آرائی۔ٹرمپ نے اس حادثے کا الزام DEI پالیسیوں پر بھی عائد کیا، جو ان کے مطابق فضائی حادثے کا سبب بنیں۔ اس کے برعکس، ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیوسس گارڈیا نے کہا کہ ٹرمپ اس حادثے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ملک میں نسلی تقسیم بڑھا رہے ہیں۔

    تحقیقات کی پیشرفت
    اس حادثے کے بعد امریکی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ اس تصادم کا اصل سبب کیا تھا۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق، طیارے سے دو بلیک باکس ملے ہیں جن کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا پتہ چل سکے۔ البتہ، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ریکارڈر ابھی تک برآمد نہیں ہو سکا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ہیلی کاپٹر کے عملے نے رات کے وقت دیکھنے والی عینکیں استعمال کی تھیں، کیونکہ یہ معمول کی بات ہوتی ہے کہ رات کے وقت پرواز کرتے ہوئے عملہ ایسی عینکیں استعمال کرتا ہے تاکہ وہ اپنی پرواز میں زیادہ درستگی سے کام کر سکے۔

    ایئر ٹریفک کنٹرولر کی صورتحال
    حادثے کے وقت ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر دونوں طیاروں کی نگرانی کر رہا تھا، یعنی وہ ایک ہی وقت میں مقامی پرواز اور ہیلی کاپٹر کی نگرانی کر رہا تھا۔ ایئر ٹریفک کنٹرولرز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق، یہ غیر معمولی نہیں ہے کہ ایک کنٹرولر دو مختلف کام کر رہا ہو، کیونکہ ایک ہی شخص دونوں طیاروں کی نگرانی کر رہا تھا،عملے میں سے ایک شخص چھٹی پر تھا،

    مختلف متاثرین کی شناخت
    حادثے کے بعد، یہ بھی معلوم ہوا کہ کئی متاثرین مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ افراد معروف فگر اسکیٹنگ کمیونٹی کے ارکان تھے، جن میں پیٹر لیونگسٹن، ان کی بیوی ڈونا، اور ان کی دو بیٹیاں ایورلی اور ایلڈیا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، کینساس کی بایولوجی ٹیچر لنڈسے فیلڈز، جو نیشنل ایسوسی ایشن آف بایولوجی ٹیچرز کی صدر منتخب تھیں، بھی حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔

    ریسکیو آپریشن
    حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوراً ریسکیو آپریشن شروع کر دیا تھا۔ حادثے کی جگہ کے قریب ایک عارضی مردہ خانہ قائم کیا گیا ہے، جہاں میڈیکل ٹیمیں ہلاک ہونے والوں کی باقیات کی شناخت کر رہی ہیں۔

    اس حادثے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس کے نتائج کو دیکھتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرول، ہیلی کاپٹر کے راستے، اور دیگر عوامل کی جانچ کی جائے گی۔ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد، حکام متاثرین کے اہل خانہ کو معلومات فراہم کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس حادثے کی وجوہات کی مکمل طور پر تحقیق کی جائے۔

    واشنگٹن حادثہ،ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی،ہیلی کاپٹر روٹ سے ہٹا،تحقیقات جاری

    واشنگٹن فضائی حادثہ،بھارتی نژاد خاتون،دولہا پائلٹ،سکیٹنگ چیمپئنز سمیت دیگر ہلاک

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عینی شاہد نے منظر انتہائی ہولناک قرار دیا

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عارضی مردہ خانہ قائم،30 لاشیں مل گئیں

    واشنگٹن فضائی حادثہ، 67 افراد میں سے ابھی تک ایک بھی زندہ نہ ملا

    برطانوی وزیرِ اعظم کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر افسوس کا اظہار

    واشنگٹن،پیچیدہ فضائی نظام میں فضائی حادثہ کس طرح پیش آیا؟ماہرین نے سرجوڑ لئے

    واشنگٹن فضائی حادثہ، فضائی حدود کی تنگی،روشنیاں،پائلٹ کنفیوژن کا شکار

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ممکنہ انسانی غلطی،کوئی زندہ نہیں بچے گا،حکام مایوس

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،ملبے،مسافروں کی تلاش،امدادی عملے کو مشکلات

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

  • ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔   متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے نجی ٹی وی چینل 365 نیوز کے پروگرام "کھرا سچ” میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہے اور اس کے حل کے لیے حکومت پانی کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور کینال کے پانی پر پنجاب کا بھی حق ہے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ پہلے ڈیم بھر جاتے تھے اور پھر نہروں سے فصلوں کو پانی دیا جاتا تھا، مگر اب اس میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ جب سندھ میں سیلاب آیا تو ہمارا ایریگیشن نظام کامیابی سے کام کرتا رہا، سندھ کے دیہی علاقوں کو فصلوں کے لیے پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی پنجاب نے نہریں نکالنے کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاق کے سامنے کھل کر اپنا موقف پیش کیا اور وزیراعظم سے بھی اس بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو سندھ اور ملک کے لیے نقصان دہ ہو، اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

    کالا باغ ڈیم پر بات کرتے ہوئے وزیر سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے لیے کالا باغ ڈیم پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے اور یہ اعتراض برقرار رہے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پیسے موجود ہیں تو دوسرے ڈیم کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم 16 روہے میں بننا تھا کیا کہ دوسرے ڈیم فنڈز کی کمی کا بہانہ کر کے نہیں بنائے جا رہے۔ پاکستان میں اس وقت ایس آئی ایف سی اچھے کام کر رہی ہے جن کی وجہ سے انویسٹمنٹ آئی اور معاہدے ہوئے، ہم اس کے کام کو سراہتے ہیں زیادہ فصلیں اگانے کے لیے اگر سندھ کی زمین درکار ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں

    سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ سندھ میں پانی بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں فصلوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر دریائے سندھ پر کوئی نئی کینال بنائی جاتی ہے، تو اس پر ان کا اعتراض رہے گا کیونکہ اس سے سندھ کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

    وزیر سندھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی مدد ضروری ہے، تاکہ تمام صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم میں توازن قائم ہو سکے اور کوئی بھی منصوبہ سندھ کی معیشت یا ماحولیات کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

    سید ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کھالوں کو پکا کرنے کا سب سے زیادہ کام سندھ میں ہوا بھارت نے ہمارے پانیوں پر قبضہ کیا بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ پانی کی کمی کچھ سالوں میں ہو جائے گی بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہو گی۔ بھارت کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا یو گا ۔ غلط کام کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے ہماری زمینیں بہت زیادہ غیر آباد ہیں کالا باغ ڈیم کے حوالہ سے جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں دو بڑے سیلاب 2010 اور 2022 میں آئے ۔ ہم چاہتے ہیں انتشار نہ ہو ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کا جو کردار ہے اسکو سپورٹ کرتے ہیں لیکن اگر ایک آدھ منصوبے سے اس طرح کا ماحول بنتا یے تو اسے دوسری طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے میں نے کہا کہ ہماری زمینیں حاضر ہیں۔ چولستان بھی آباد ہونا چاہیے۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ زمین آباد کرنی یے اور دارومدار پانی پر ہے تو پھر وہ علاقہ جہاں زمین ہو جیسے ہمارے پاس تھر ہے ہم دینے کو تیار ہیں اگر اس پر بات نہیں کی گئی تو کی جائے گی ۔ جب ہم مل کر بیٹھتے ہیں تو مسائل ہو سکتے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کو ہم سپورٹ کرتے ہیں متنازعہ منصوبوں کو ریویو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی حل نکلے ۔ انڈس سے پانی نکلنے پر ہمیں اعتراض ہو گا ۔ کیونکہ پانی کم ہو گا پینے کے پانی کا بھی اسی پر انحصار ہوتا ہے ۔ حقائق پر مبنی ایشو ہیں ہم پاکستان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں

  • چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے قومی  ٹیم کا اعلان

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے قومی ٹیم کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سہ فریقی سیریز اور چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا ہے۔

    سلیکٹر اسد شفیق نے اس بات کی تصدیق کی کہ ٹیم میں کچھ اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں فخر زمان، خوشدل شاہ، سعود شکیل اور فہیم اشرف کی واپسی شامل ہے۔اسد شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فخر زمان کے اوپننگ پارٹنر کے طور پر بابراعظم یا سعود شکیل کا انتخاب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوم کنڈیشنز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کرکٹرز کو منتخب کیا گیا ہے تاکہ ٹیم کو بھرپور فائدہ ہو۔اسد شفیق نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ "ہمیں یہ بخوبی علم ہے کہ صائم ایوب کے لیے چیمپئنز ٹرافی نہ کھیلنا کتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن ہم جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے اور یہ فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔”عبداللّٰہ شفیق، محمد عرفان خان، صائم ایوب اور سفیان مقیم کی جگہ فہیم اشرف، فخر زمان، خوشدل شاہ اور سعود شکیل کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی 2025 میں اپنا پہلا میچ 19 فروری کو نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ یہ میچ پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اور ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    پاکستان کا 15 رکنی اسکواڈ
    بیٹرز : بابر اعظم، فخر زمان، کامران غلام، سعود شکیل، طیب طاہر شامل ہیں۔
    قومی ٹیم میں آل راؤنڈرز: فہیم اشرف ، خوشدل شاہ ، سلمان علی آغا (نائب کپتان ) ہیں، وکٹ کیپر بیٹرز محمد رضوان (کپتان)، عثمان خان اور اسپنر ابرار احمد کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
    پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں فاسٹ بولرزحارث رؤف، محمد حسنین، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا چیف جسٹس آف پاکستان کو خط

    وزیراعظم 7 فروری کو قذافی سٹیڈیم لاہور کاافتتاح کریں گے،محسن نقوی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا چیف جسٹس آف پاکستان  کو خط

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا چیف جسٹس آف پاکستان کو خط

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک اہم خط لکھا ہے جس میں عدالت کے اندرونی معاملات اور ججز کی سنیارٹی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    اس خط کا مقصد ان اطلاعات کے بارے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کرنا تھا جن میں کہا جا رہا تھا کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعینات کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ججز نے اپنے خط میں درخواست کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے کسی دوسری ہائیکورٹ سے جج کو نہ لایا جائے اور نہ ہی چیف جسٹس کا عہدہ کسی باہر سے آنے والے جج کو دیا جائے۔خط میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی داخلی سنیارٹی کے نظام کے مطابق، اس عدالت سے ہی تین سینئر ججز میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ ججز نے اس بات پر زور دیا کہ اگر دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کی کوئی تجویز ہے تو اس پر بامعنی مشاورت ضروری ہے اور اس اقدام کے لیے ٹھوس وجوہات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

    مزید برآں، خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقابلے میں دو لاکھ کیسز زیر التواء ہیں، اور سوال اٹھایا گیا کہ ایسی صورت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی کیسے تبدیل کی جا سکتی ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے اس خط کی کاپی لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھی ارسال کی ہے

    سیکورٹی فورسز کا فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن،10 جہنم واصل

  • سیکورٹی فورسز کا فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن،10 جہنم واصل

    سیکورٹی فورسز کا فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن،10 جہنم واصل

    سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں آپریشن کئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 10 خارجی جہنم واصل ہوئے، ہلاک خارجیوں کے ٹھکانے سے اسلحہ،گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ڈی آئی خان اور وزیرستان میں کئے گئے،ہلاک دہشت گرد شہریوں کے قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے،

    وزیراعظم کی فتنہ الخوارج کیخلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کی ستائش
    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ کامیاب کارروائیوں پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج (خارجی دہشت گردوں) کے خلاف بہترین حکمت عملی کے ذریعے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سکیورٹی فورسز کی محنت اور عزم قابل ستائش ہیں۔وزیراعظم نے اس کامیاب کارروائی میں 10 دہشت گردوں کے مارے جانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان دہشت گردوں کا خاتمہ پاکستان کے عوام کی حفاظت کے لئے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس بات کا عہد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پشت پناہی کرتے ہوئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

    "قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے”، وزیراعظم کا کہنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے حکومت اور سکیورٹی فورسز مل کر تمام وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ دہشت گردوں کا خاتمہ مکمل طور پر کیا جا سکے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کی شکست کے ساتھ ہی پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور امن کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت ہر سطح پر اقدامات کرے گی اور ملک کے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آخر میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو تمام سیاسی، سماجی اور قوم کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔

    سندھ ہائی کورٹ میں اے ایس آئی ترقیوں میں کورس کی شرط چیلنج

    آشنا سے شادی کیلئے سفاک ماں نے ڈیڑھ سالہ بچےکی جان لے لی

  • پاکستانی عوام نے فیملی ولاگرز کے خلاف بائیکاٹ  مہم شروع کردی

    پاکستانی عوام نے فیملی ولاگرز کے خلاف بائیکاٹ مہم شروع کردی

    پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے فیملی ولاگس کے نام پر اپنی بیویوں، ماؤں اور بہنوں کو دکھا کر بے حیائی پھیلانے والے کونٹینٹ کریٹرز کے خلاف ایک بڑی عوامی مہم شروع کردی ہے۔ یہ مہم اس وقت زور پکڑ گئی ہے، سوشل میڈیا پر بڑے یوٹیوبرز جیسے ڈکی بھائی، رجب بٹ اور دیگر فیملی ولاگرز کے خلاف شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے

    پاکستانی معاشرتی اور ثقافتی اقدار کے پیش نظر، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیملی ولاگرز اپنی ذاتی زندگیوں کے ذریعے بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد پھیلا رہے ہیں، جس سے نئی نسل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کونٹینٹ کریٹرز نے اپنی فیملیوں کو ویڈیوز اور ولاگس میں شامل کر کے ان کی ذاتی زندگیوں کو عوامی سطح پر پیش کیا، جس پر پاکستانی عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔سوشل میڈیا پر اس مہم کا آغاز ہوتے ہی پاکستانی صارفین نے ان ولاگرز کے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ان سبسکرائب کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، لوگ ان کے اکاؤنٹس کو رپورٹ بھی کر رہے ہیں تاکہ ان کی سوشل میڈیا پر موجودگی کو کم کیا جا سکے۔

    یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ثقافتی اصولوں کے حوالے سے بہت حساس ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ایسے مواد کو برداشت نہیں کرنا چاہتے جو ان کی مذہبی اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔ نتیجتاً، ان کونٹینٹ کریٹرز کی فین فالونگ میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، اور ان کی سوشل میڈیا آمدنی میں بھی واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ ایسے مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی آواز اٹھائیں گے اور ان کونٹینٹ کریٹرز کو اس بات کا شعور دلائیں گے کہ سوشل میڈیا کا استعمال معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے۔

    سیالکوٹ: سرکاری و نجی اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ یقینی بنانے کی ہدایت

    لنڈی کوتل: نجی ہسپتال میں نومولود کا مبینہ غلط آپریشن، والد کی انصاف کے لیے دُہائی

  • آشنا سے شادی کیلئے سفاک ماں نے ڈیڑھ سالہ بچےکی جان لے لی

    آشنا سے شادی کیلئے سفاک ماں نے ڈیڑھ سالہ بچےکی جان لے لی

    رائے ونڈ میں ڈیڑھ سالہ بچے کو قتل کرنے کا انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے

    پولیس نے مرکزی ملزم اسلام کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بچے کو زندہ جلانے کا جرم کا اعتراف کیا ہے ۔ سنگدل ماں کنزہ اور ملازمہ ثنا کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے ، ماں کنزہ نے ملازمہ ثنا کے ذریعے اپنے آشنا اسلام کو بچہ مارنے کیلئے دیا تھا۔سنگدل ماں نے آشنا کے ساتھ شادی کرنے کیلئے ڈیڑھ سال کے بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بچے کی ماں شادی سے پہلے بھی اسلام نامی شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی۔سنگندل ماں بچے کو اسلام سے شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی تھی ۔ ماں نے آشنا کے ساتھ ملکر بچے کو قتل کیا۔پ

    انویسٹی گیشن پولیس نے شک پڑھنے پر رشتے داروں سے تفتیش کی جسمیں ماں کے آشنا کا علم ہوا ۔آشنا سے تفتیش میں بچے کوقتل کرنے انکشاف ہوا ۔ملزم کے انکشاف پر انوسٹی گیشن پولیس نے اغوا ہونے والے اذالان کی لاش برآمد کی ،اذلان کی والدہ نے آشنا سے بیٹے کو اغوا کا ڈرامہ رچایا ،اذلان کی جلی ہوئی لاش کوٹرادھاکشن کے نواحی گاؤں سے برآمد ہوئی،ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے ۔

    دوسری جانب صوبائی دارالحکومت میں ایک زیر تعمیر گھر سے تھیلی میں بند زندہ نومولود بچی برآمد ہوئی ہے،ریسکیو 1122 کے مطابق گجومتہ چوک ایل ڈی اے روڈ سے ایک زندہ نومولود بچی کے ملنے کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ ریسکیو اہل کاروں کو بچی ایک بورے تھیلے میں ملی جو کہ زندہ تھی۔ بچی کو چلڈرن اسپتال منتقل کردیا گیا۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے نومولود بچی برآمد ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیم کو نومولود بچی کو فوری طور پر تحویل میں لینے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں نومولود بچی کی بہترین نگہداشت اور پرورش کی جائے گی

    سیالکوٹ: سرکاری و نجی اداروں میں معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں ای وی بس سروس کا افتتاح کر دیا