Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وفاق کی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وفاق کی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی (ایس ای ایچ سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گیس کی پیداوار اور اس کی فراہمی سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبے کی گیس پیداوار کی اہمیت اور اس کی درست فراہمی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے۔

    وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ گیس پیداوار میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور اس حوالے سے سندھ حکومت کا موقف مضبوط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام وفاقی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی مناسب نمائندگی ہو تاکہ صوبے کے مفادات کو بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ تیل اور گیس کی دریافت اور پیداواری کمپنیوں کی جانب سے نجی فریقین کو 35 فیصد فروخت کے فریم ورک میں سندھ کی رائے کو شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف صوبے کے حقوق کی حفاظت کرے گا بلکہ عوام کے لیے بہتر نتائج بھی فراہم کرے گا۔

    سید مراد علی شاہ نے گیس کی فراہمی میں کٹوتی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ میں واقع گیس فیلڈز سے پیدا ہونے والی گیس کی صوبے کو فراہمی میں جو کٹوتی کی جاتی ہے، اس کے اعدادوشمار بروقت شیئر کیے جائیں تاکہ معاملہ صاف اور شفاف ہو۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی گیس چونکہ سستی ہے، اس لیے اس کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کر کے صوبے کے عوام کو محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔اس اجلاس میں سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی کے افسران اور متعلقہ حکام نے بھی اپنی رپورٹیں پیش کیں اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق اقدامات پر غور کیا گیا۔

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی منظوری دے دی

    برہنہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکر امشا رحمان نے خاموشی توڑ دی

  • جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی منظوری دے دی

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس کے دوران پشاور ہائیکورٹ کے لیے ایڈیشنل ججز کے ناموں پر غور کیا گیا، جس میں فرح جمشید، انعام اللہ خان، مدثر امیر، ثابت اللہ، اور اورنگزیب کو ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح، عبد الفیاض، صلاح الدین، صادق علی، طارق آفریدی اور اورنگزیب خان کو بھی پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ابتدائی طور پر 9 ایڈیشنل ججز کی تعیناتیوں کا ایجنڈا زیر غور تھا، تاہم اجلاس کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے اتفاق رائے کیا اور 10 ججز کی تعیناتی کی منظوری دی۔اس فیصلے کے بعد، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں یہ فیصلہ اکثریت سے کیا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز تعینات کیے جائیں۔ تاہم، ذرائع کے مطابق 3 ممبران نے اس بات پر اعتراض کیا کہ 9 کی بجائے 10 ججز کی تعیناتی کی جائے، لیکن اجلاس کے دوران اس پر اتفاق کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتیوں کا مقصد عدالتوں پر دباؤ کم کرنا اور مقدمات کی سماعت میں تیزی لانا ہے تاکہ عوام کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔

    وینزویلا سے چھ امریکیوں کی رہائی

    یرغمالیوں کی رہائی چوتھے مرحلے میں، دو اسرائیلی رہا

  • وینزویلا سے چھ امریکیوں کی رہائی

    وینزویلا سے چھ امریکیوں کی رہائی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ چھ امریکی جو وینزویلا میں حراست میں تھے، اب واپس امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ رہائی اس وقت ہوئی جب ٹرمپ کے خصوصی نمائندے رچرڈ گرنیل نے وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو سے ملاقات کی۔

    کراکاس میں ہونے والی اس ملاقات کی تفصیلات پہلی بار سی این این نے نشر کیں، اور یہ ملاقات اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ امریکہ وینزویلا کے صدر مدورو کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، اور وینزویلا کی اپوزیشن قیادت نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے پچھلے سال کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔امریکی حکام نے رہائی پانے والے چھ افراد کے بارے میں تفصیلات ابھی تک فراہم نہیں کیں، تاہم ٹرمپ کے خصوصی نمائندے رچرڈ گرنیل نے ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر شیئر کی جس میں وہ چھ رہائی پانے والے امریکیوں کے ساتھ طیارے میں موجود ہیں۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، "مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ ہم وینزویلا سے چھ امریکی شہریوں کو واپس لا رہے ہیں۔ رچرڈ گرنیل اور میری پوری ٹیم کا شکریہ، شاندار کام کیا!”

    گرنیل نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "ہم ان چھ امریکی شہریوں کے ساتھ روانہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ابھی صدر ٹرمپ سے بات کی، اور وہ ان کا شکریہ ادا نہیں کر پا رہے تھے۔”گرنیل کی شیئر کی گئی تصویر میں رہائی پانے والے چار امریکیوں کو ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو وینزویلا کے جیلوں میں قید افراد کے لیے عام طور پر پہنے جانے والے لباس ہیں۔

    وینزویلا کی اپوزیشن نے مدورو کے تیسری مدت کے دعوے کو چیلنج کیا ہے، اور انہوں نے ایسے ہزاروں ووٹنگ نتائج شائع کیے ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے امیدوار ایڈمونڈو گونزالیس نے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان نتائج کی حمایت آزاد مبصرین جیسے کارٹر سینٹر اور کولمبیا الیکٹورل مشن نے کی تھی۔امریکہ سمیت یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا، مدورو کو وینزویلا کا جائز صدر نہیں مانتے اور اس کے حمایتی حکام پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ کا وینزویلا میں کوئی سفارتی مشن نہیں ہے۔

    ستمبر میں امریکہ نے مدورو کا طیارہ ضبط کیا تھا، اور جمعہ کو ہونے والی قیدیوں کی رہائی کے بعد گرنیل کی مدورو سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات اس وقت متوقع تھی جب وینزویلا کے شہریوں کی امریکہ سے ملک بدری پر بات چیت کی جا رہی تھی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے پیمانے پر ملک بدری کے وعدے کیے تھے، مگر مدورو نے وینزویلا کے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

    گرنیل اور مدورو کے درمیان ملاقات میں امیگریشن اور پابندیوں کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔

    وینزویلا میں 2013 سے اقتدار میں رہنے والے مدورو کی حکومت نے ملک کو گہرے اقتصادی اور سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے وینزویلا کے سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ "امریکی شہریوں کی غلط طریقے سے حراست میں لیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔”2022 میں بائیڈن انتظامیہ نے پانچ سال بعد وینزویلا سے نو امریکی شہریوں کو واپس لایا تھا، اور 2023 کے آخر میں بھی چھ امریکیوں کی رہائی کو ممکن بنایا تھا۔

    یرغمالیوں کی رہائی چوتھے مرحلے میں، دو اسرائیلی رہا

    مختصر ترین پروازوں کے لئے 450 سے زائد نشستوں والے طیاروں کا استعمال

  • یرغمالیوں کی رہائی چوتھے مرحلے میں، دو اسرائیلی رہا

    یرغمالیوں کی رہائی چوتھے مرحلے میں، دو اسرائیلی رہا

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے یرغمالیوں کی رہائی کے چوتھے مرحلے میں مزید دو اسرائیلی شہریوں کو رہا کر دیا۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے یہ دو اسرائیلی یرغمالی خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کیے۔حماس نے ان دو اسرائیلی شہریوں اوفر کالدرون اور یارڈن بیباس کو رہا کیا۔ اس کے علاوہ، ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی رہائی کا عمل بھی جاری ہے، جس کے مطابق تیسرے اسرائیلی شہری کی رہائی کا عمل بعد میں مکمل کیا جائے گا۔عرب میڈیا کے مطابق تیسرے اسرائیلی یرغمالی کیتھ سیگل کو غزہ سٹی میں ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے گا۔یہ رہائی ایک معاہدے کے تحت کی گئی ہے جس کے تحت حماس کی جانب سے 3 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں 183 فلسطینیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

    ہفتہ کو اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر نے یہ اطلاع دی کہ یارڈن بیباس اور اوفر کالدرون کے خاندانوں کو یہ آگاہی دی گئی ہے کہ دونوں افراد اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، "اسرائیلی حکومت ان دونوں افراد کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ان کے خاندانوں کو متعلقہ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ وہ ہمارے فورسز کے ساتھ ہیں اور ان کی حالت اچھی ہے۔”ہوسٹجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم کی جانب سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ وہ دونوں افراد کی حالت کے بارے میں جانتے ہیں اور ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ دونوں افراد اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع ایک ابتدائی استقبالیہ مرکز پر پہنچ چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ یہ دونوں افراد رائم فوجی بیس پر پہنچے ہیں، جہاں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا۔ آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) کے میڈیکل اہلکار ان کے ساتھ ہیں، اور فوجی نمائندے ان کے خاندانوں کے ساتھ اسپتال کے باہر انتظار کر رہے ہیں، جہاں ان دونوں کو لے جایا جائے گا۔ اسرائیل میں یہ موقع خوشی اور مسرت کا باعث بن گیا، اور تل ابیب کے "ہوسٹجز اسکوائر” میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ وہاں اسرائیلی پرچم لہرائے جا رہے تھے، اور باقی ماندہ یرغمالیوں کی تصاویر کے پوسٹرز دکھائے جا رہے تھے۔ ایک بڑی اسکرین پر ان کی تصاویر بھی دکھائی جا رہی تھیں، جس سے اس خوشی کا اظہار ہو رہا تھا کہ دو اور یرغمالی واپس گھر پہنچے ہیں۔

    خان یونس میں ہفتہ کی صبح اسرائیلی یرغمالیوں کی منتقلی کی ایک بڑی کارروائی ہوئی۔ اس کے دوران حماس کے مسلح جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اور یہ جنگجو پک اپ ٹرکوں پر سوار ہو کر علاقے میں گشت کر رہے تھے۔ ان جنگجوؤں کے ہمراہ مسلح نقاب پوش افراد تھے، جو اس منتقلی کی نگرانی کر رہے تھے۔حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ کہا گیا کہ ان یرغمالیوں کی منتقلی کے بعد ان کا اگلا مقصد دوہری شہریت والے امریکی-اسرائیلی کیتھ سیگل کی رہائی کی تیاری ہے، جس پر غزہ شہر میں تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس دوران حماس کے جنگجوؤں کی موجودگی زیادہ تھی، جب کہ عام شہریوں کی تعداد بہت کم تھی۔

    اس دوران حماس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے۔ حماس کے قیدیوں کے میڈیا آفس نے ان قیدیوں کی فہرست بھی جاری کی ہے، جس میں 18 قیدی ایسے ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ 111 قیدیوں کی گرفتاری غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد ہوئی تھی۔ ان پر لگائے گئے الزامات ابھی تک واضح نہیں ہو سکے ہیں۔فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی اور فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے تصدیق کی کہ یہ 183 قیدیوں کی رہائی ہفتہ کے دن ہوگی، اور یہ رہائی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے بدلے میں طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاملے میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات اور عارضی جنگ بندی پر بات چیت جاری ہے، اور اس معاہدے کی کامیابی سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں مزید یرغمالیوں کی رہائی ہو سکتی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے مذاکرات کاروں کو تاکید کی تھی کہ ایسے منظم اور موثر طریقے سے یرغمالیوں کی منتقلی اور قیدیوں کی رہائی کی کارروائیاں انجام دی جائیں تاکہ خان یونس میں گزشتہ دنوں کی طرح کی افراتفری اور غیر منظم حالات دوبارہ نہ ہوں، جنہیں اسرائیل میں غصے اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان واقعات کی وجہ سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے 3 اسرائیلی خواتین کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل نے 90 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں حماس نے 4 اسرائیلی خواتین کو رہا کیا تھا، جبکہ اسرائیل نے 120 فلسطینیوں کو رہا کیا۔ تیسرے مرحلے میں حماس نے 5 تھائی خواتین سمیت 8 یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔

    برہنہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکر امشا رحمان نے خاموشی توڑ دی

    پاکستان سے یورپ تک پھیلا انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

  • برہنہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکر امشا رحمان نے خاموشی توڑ دی

    برہنہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکر امشا رحمان نے خاموشی توڑ دی

    پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا اسٹار، امشا رحمان نے بالاخر گزشتہ برس اپنے نازیبا ویڈیوز کے آن لائن لیک ہونے کے معاملے پر خاموشی توڑ دی۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں اس اسکینڈل کے اثرات اور اس سے ہونے والی مشکلات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

    امشا رحمان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے 2 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، مگر گزشتہ برس نومبر میں ٹک ٹاکر مناہل ملک کی نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد وائرل ہو گئیں تھیں۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد امشا نے اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کر لیا تھا۔امشا رحمان نے اب نازیبا ویڈیو لیک ہونے پر خاموشی توڑی ہے اور کہا ہے کہ ان ویڈیوز کا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ فیک ویڈیوز تھیں جو انہیں بدنام کرنے کے لیے پھیلائی گئی تھیں۔ انہوں نے اس واقعے کے بعد اپنی ذاتی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کو بھی شیئر کیا۔

    امشا رحمان نے کہا، "میں نے انٹرنیٹ پر وہ ویڈیوز دیکھیں، جنہوں نے میری زندگی کو تباہ کر دیا۔ میں یونیورسٹی نہیں جا سکتی، لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتی، اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں تک دی گئیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "سوشل میڈیا پر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی ذاتی ویڈیوز بنا کر شیئر کرنا بہت ‘کول’ ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کا دوسرے کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔”امشا نے بتایا کہ اگر وہ چاہتیں تو ویڈیو پوسٹ کر کے اس اسکینڈل کا جواب دے سکتیں تھیں، لیکن انہوں نے اس کے بجائے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے قومی ادارہ ایف آئی اے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت باصلاحیت ہیں اور اس کیس میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایک اور پاکستانی ٹک ٹاکر کی نازیبا ویڈیو لیک

    پورن ویب سائٹس پر پابندی کی مہم چلانے والی خاتون وزیر کی شوہر کے ساتھ "تعلقات” ویڈیو لیک

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکر مریم فیصل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • مختصر ترین پروازوں کے لئے 450 سے زائد نشستوں والے طیاروں کا استعمال

    مختصر ترین پروازوں کے لئے 450 سے زائد نشستوں والے طیاروں کا استعمال

    آج کی فضائی صنعت میں مختلف ایئر لائنز 450 نشستوں سے زائد والے طیارے مختصر دورانیے کی پروازوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں، خاص طور پر ایشیا اور ترکی میں۔ یہ ایک نیا رجحان ہے جو دنیا بھر میں اعلیٰ طلب والے راستوں پر بڑی ایئر لائنز کی طرف سے زیادہ تر بڑے طیاروں کی تعیناتی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان طیاروں کا مقصد زیادہ سے زیادہ مسافروں کو ایک ہی پرواز میں لے جانا ہے، تاکہ ایئر لائنز کی آپریشنل لاگت میں کمی لائی جا سکے، خاص طور پر ایسے راستوں پر جہاں پرواز کا وقت کم ہو لیکن مسافروں کی تعداد زیادہ ہو۔

    فروری سے جون 2025 کے دوران، وائیڈ باڈی طیارے جو مختصر روٹس پر چلائے جائیں گے، اوسطاً 307 مسافروں کو 2,680 نیٹیکل مائلز (4,964 کلومیٹر) کے فاصلے پر لے جائیں گے۔ بعض روٹس صرف 200 نیٹیکل مائلز کے فاصلے پر ہوں گے، جہاں کیریئرز بڑے طیارے جیسے بوئنگ 777-300ER یا ایئر بس A330-900 استعمال کریں گے۔ اس طرح کی پروازیں غیر معمولی ہیں اور زیادہ تر ایشیا میں دیکھی جاتی ہیں جہاں زیادہ مسافروں کی مانگ بڑے طیاروں کا استعمال ضروری بناتی ہے۔

    بیشتر روٹس ایشیا میں ہیں جہاں مسافروں کی کثافت زیادہ ہے اور ایئر لائنز کو زیادہ مانگ کا سامنا ہوتا ہے۔ سیبو پیسیفک کی A330-900 پروازیں منیلا اور دیگر ملکی یا قریبی بین الاقوامی مقامات کے درمیان بڑی تعداد میں مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑی ایئر لائنز استعمال کرتی ہیں۔وائیڈ باڈی طیاروں کے ذریعے چلنے والی مختصر پروازیں عموماً اہم ہب مقامات کو آپس میں جوڑتی ہیں، جیسے کہ ترک ایئر لائنز کا استنبول سے انقرہ روٹ اور آل نمپون ایئر ویز کے ٹوکیو ہنیڈا سے ساپورو اور فوکوؤکا خدمات۔ یہ روٹس مسافروں کے لیے بین الاقوامی پروازوں کے لیے اہم کنیکشن فراہم کرتے ہیں۔سیبو پیسیفک اور ترک ایئر لائنز جیسے کیریئرز بڑے طیاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے بیڑے کا بہتر استعمال اور لاگت کی کارکردگی بڑھا سکیں، چاہے روٹس مختصر ہوں۔ وائیڈ باڈی طیارے عموماً کم قیمت میں فی نشست فراہم کرتے ہیں،

    ترکی ایئر لائنز نے اپریل 2024 میں ایک نیا 492 نشستوں والا بوئنگ 777-300ER طیارہ حاصل کیا، جسے مختصر دورانیے کی پروازوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ سعودی عرب اور ترکی کے اندرونی راستوں پر زیادہ تر پروازوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ ترکی ایئر لائنز کا یہ قدم اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایئر لائنز اب اپنے بیڑے کو مؤثر بنانے اور بڑے طیاروں کی صلاحیت کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ طیارے ان پروازوں پر استعمال ہوتے ہیں جو نسبتاً کم وقت کی ہوتی ہیں، جیسے استنبول اور انقرہ کے درمیان کی پرواز (جو تقریباً 205 ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کرتی ہے اور 45 سے 50 منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے)۔ اس کے باوجود، بڑے طیارے کی تعیناتی ایئر لائنز کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ان طیاروں میں زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود، ہر پرواز کو مکمل طور پر بھرنا ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔

    اس رجحان کا فائدہ صرف ترکی ایئر لائنز تک محدود نہیں ہے۔ مختلف دیگر ایئر لائنز بھی اپنے بڑے طیاروں کو مختصر دورانیے کی پروازوں پر استعمال کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر،ایئر کینیڈا کی ٹورنٹو اور مانٹریال کے درمیان پرواز، جو 777-300ER طیارے کے ذریعے چلائی جاتی ہے، ایک اور اہم مثال ہے۔آل نیپون ایئرویز کی ٹوکیو اور ساپورو کے درمیان پروازیں بھی 777-300 طیارے کے ذریعے کی جاتی ہیں، جہاں طیارہ زیادہ نشستوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔سیبو پیسیفک، جو فلپائن اور مشرقی ایشیا میں اپنی ای 330-900 طیاروں کی مدد سے متعدد پروازیں چلاتی ہے، اس حکمت عملی کا ایک اور بڑا کھلاڑی ہے۔

    بڑے طیاروں کا استعمال مختصر دورانیے کی پروازوں پر ایئر لائنز کے لیے کئی فوائد اور چیلنجز دونوں لے کر آتا ہے۔ زیادہ تر ایئر لائنز کو اپنے فلائٹ نیٹ ورک میں بڑے طیاروں کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زیادہ مسافروں کو ایک ہی پرواز میں لے جا سکیں۔ کچھ راستوں پر سلاٹس کی کمی ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایئر لائنز کو کم وقت میں زیادہ تعداد میں مسافروں کو لے جانے کے لیے بڑے طیاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک نشست پر لاگت کم ہونے کی وجہ سے یہ حکمت عملی ایئر لائنز کے لیے مالی طور پر فائدہ مند ہو سکتی ہے، بشرطیکہ طیارہ مکمل طور پر بھرے۔ بڑے طیارے، جو عام طور پر طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے بنائے جاتے ہیں، مختصر دورانیے کی پروازوں پر بھرنا ایئر لائنز کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ ان طیاروں میں زیادہ سیٹیں ہونے کے باوجود، ایئر لائنز کو ان کو بھرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، خاص طور پر جب یہ طیارے چھوٹے فاصلے کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    ترکی ایئر لائنز کی 777-300ER کی مثال کے ذریعے، ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ بڑے طیاروں کا استعمال براہ راست برانڈنگ اور آپریشنل حکمت عملی کے درمیان توازن قائم کرنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف، یہ حکمت عملی ایئر لائنز کے لیے لاگت کو مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف، اس سے مسافروں کے لیے سروس کی سطح اور برانڈ کی تصویر پر اثر پڑ سکتا ہے۔سیبو پیسیفک نے ای 330-900 طیاروں کو بڑی کامیابی کے ساتھ مختصر دورانیے کی پروازوں پر تعینات کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ طیارے زیادہ مسافروں کو ایک ہی پرواز میں لے جا سکتے ہیں، جبکہ ایئر لائن کے آپریشنل اخراجات میں کمی آتی ہے۔ سیبو پیسیفک کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایئر لائنز نہ صرف بڑے طیاروں کا استعمال بڑھا رہی ہیں، بلکہ وہ اپنے بیڑے کی جدید کاری کے ذریعے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

    مختصر دورانیے کی پروازوں پر 450 نشستوں والے طیارے آپریٹ کرنا ایئر لائنز کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی بن چکا ہے۔ ترکی ایئر لائنز، ایئر کینیڈا، آل نیپون ایئرویز، اور سیبو پیسیفک جیسے بڑے کھلاڑی اس حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، ان طیاروں کا استعمال مالی فائدے کے ساتھ ساتھ آپریشنل چیلنجز بھی پیش کرتا ہے، خاص طور پر جب ان طیاروں کو چھوٹے راستوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایئر لائنز کو اپنے بیڑے کی آپٹمائزیشن اور مسافروں کی تعداد کو بہتر بنانے کے لیے یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اس میں توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہوں۔

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی نژاد خاتون کی لاش برآمد

    کیا اب بھی فضائی سفر محفوظ ہے؟ واشنگٹن حادثے کے بعد ماہرین کی رائے

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس برآمد، تحقیقات میں نئی پیش رفت

  • واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی نژاد خاتون کی لاش برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی نژاد خاتون کی لاش برآمد

    تین روز قبل امریکا میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی نژاد خاتون اسریٰ حسین کی لاش مل گئی۔ اسریٰ حسین کی میت ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے، اور ان کی تدفین اتوار کو انڈیانا پولس میں کی جائے گی۔

    اسریٰ حسین 26 سال کی تھیں اور ان کا تعلق امریکی ریاست انڈیانا کے علاقے کارمل سے تھا۔ وہ امریکن پاکستانی حامد رضا کی اہلیہ تھیں۔ اسریٰ حسین نے 2020 میں انڈیانا یونیورسٹی بلومینگٹن سے ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کے شعبے میں گریجویشن کیا تھا اور بعد ازاں کولمبیا یونیورسٹی سے اسی شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔اسریٰ حسین اور حامد رضا کی پہلی ملاقات انڈیانا یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ اس دوران حماد 2017 سے 2021 تک کیلی اسکول آف بزنس سے فنانس میں گریجویشن کر رہے تھے، اور دونوں کی ملاقات مسلم اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن کی ایک تقریب میں ہوئی تھی۔

    اسریٰ حسین اپنے کام کے سلسلے میں حال ہی میں کنساس گئی تھیں جہاں انہیں ایک اسپتال کی حالت بہتر بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یہ حادثہ واشنگٹن ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک مسافر طیارہ اور ایک فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ دونوں طیاروں میں سوار 67 مسافروں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حادثے کے بعد دریا میں گرنے والے طیارے سے اب تک 41 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 28 کی شناخت کر لی گئی ہے۔اس حادثے نے نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ پورے امریکا کو غمگین کر دیا ہے، اور اس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

    کیا اب بھی فضائی سفر محفوظ ہے؟ واشنگٹن حادثے کے بعد ماہرین کی رائے

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس برآمد، تحقیقات میں نئی پیش رفت

    امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہوابازی کے حفاظتی معیار کا جائزہ لیا جائے گا، وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    واشنگٹن حادثہ،ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی،ہیلی کاپٹر روٹ سے ہٹا،تحقیقات جاری

    واشنگٹن فضائی حادثہ،بھارتی نژاد خاتون،دولہا پائلٹ،سکیٹنگ چیمپئنز سمیت دیگر ہلاک

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عینی شاہد نے منظر انتہائی ہولناک قرار دیا

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عارضی مردہ خانہ قائم،30 لاشیں مل گئیں

    واشنگٹن فضائی حادثہ، 67 افراد میں سے ابھی تک ایک بھی زندہ نہ ملا

    برطانوی وزیرِ اعظم کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر افسوس کا اظہار

    واشنگٹن،پیچیدہ فضائی نظام میں فضائی حادثہ کس طرح پیش آیا؟ماہرین نے سرجوڑ لئے

    واشنگٹن فضائی حادثہ، فضائی حدود کی تنگی،روشنیاں،پائلٹ کنفیوژن کا شکار

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ممکنہ انسانی غلطی،کوئی زندہ نہیں بچے گا،حکام مایوس

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،ملبے،مسافروں کی تلاش،امدادی عملے کو مشکلات

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

  • پاکستان سے یورپ تک پھیلا انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    پاکستان سے یورپ تک پھیلا انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

    فیصل آباد: ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلنگ کے گینگ کا سراغ لگا لیا ہے۔

    اس کارروائی کے نتیجے میں ایک اہم سہولتکار عبدالغفار کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق، عبدالغفار پاکستانی ایجنٹ ہے جو یورپ میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔پچھلے دنوں مراکش میں پیش آنے والے کشتی حادثے کے بعد ایف آئی اے کی تحقیقات میں تیزی آئی اور اس کے نتیجے میں پاکستان سے یورپ تک پھیلنے والے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا۔عبدالغفار کا شمار ان سہولتکاروں میں ہوتا ہے جو درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ بھجوانے کا کام کر رہے تھے۔ اس کے خلاف ایف آئی اے فیصل آباد نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ عبدالغفار کے ساتھ 7 مسافر بھی پاکستان پہنچے تھے جن کی نشاندہی پر اس کو حراست میں لے کر فیصل آباد منتقل کیا گیا۔

    ملزم عبدالغفار سال 2023 سے موریطانیہ میں مقیم تھا اور اس نے انسانی اسمگلنگ کے معاملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ عبدالغفار کا والد محمد سرفراز اور قریبی رشتہ دار منیر احمد بھی 2018 سے موریطانیہ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ عبدالغفار اور اس کے ساتھیوں نے متعدد پاکستانیوں کو یورپ جانے کا جھانسہ دے کر کشتی میں سوار کیا، جس کے نتیجے میں کئی معصوم افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس گینگ کا ایک اور اہم رکن افریقی اسمگلر ابوبکر بھی تھا، جس سے ملزم عبدالغفار کے رابطے کے شواہد برآمد ہوئے ہیں۔

    ایف آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں عالمی سطح پر جاری ہیں اور انٹرپول کی مدد سے بیرون ملک موجود اسمگلرز کے خلاف بھی کاروائیاں کی جائیں گی۔ایف آئی اے کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث تمام افراد اور سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کی نشاندہی پر مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ایف آئی اے نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ "معصوم جانوں سے کھیلنے والے اسمگلرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ہم عالمی سطح پر اس نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے اپنے اقدامات تیز کر رہے ہیں۔”

    شادی کیلئے کراچی آئی امریکی خاتون علاج کیلئے ہسپتال منتقل

    کیا اب بھی فضائی سفر محفوظ ہے؟ واشنگٹن حادثے کے بعد ماہرین کی رائے

  • شادی کیلئے کراچی آئی امریکی خاتون  علاج کیلئے ہسپتال منتقل

    شادی کیلئے کراچی آئی امریکی خاتون علاج کیلئے ہسپتال منتقل

    کراچی: امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کو جناح اسپتال کراچی کے شعبہ نفسیات میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ماہر نفسیات ان کا تفصیلی معائنہ کریں گے۔

    اطلاعات کے مطابق، خاتون کے ہاتھ پاؤں سوجے ہوئے ہیں اور وہ بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹر ان کا طبی معائنہ کریں گے، خاتون کے بیٹے نے کہا تھا کہ ان کی والدہ ذہنی مریضہ ہے، اسی وجہ سے خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، قبل ازیں خاتون نے کراچی کے گارڈن تھانے میں پہنچ کر اپنی شکایت درج کرائی تھی کہ چھیپا ویلفیئر سینٹر میں بدبو آ رہی تھی، تاہم تھانے میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی بدبو نہیں ہے۔ ان کی حالت کے پیش نظر، ایس ایچ او نے خاتون کو اپنی کمرہ میں آرام کرنے کی اجازت دے دی۔

    اسی دوران، سندھ کے شہر نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان علی رضا نے پاکستانی میڈیا کے ذریعے امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "میں سچا پاکستانی ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ پاکستان کی بدنامی ہو۔ اونیجا کو دھوکہ دیا گیا، اور میں یہ گوارا نہیں کرتا۔”علی رضا نے مزید کہا کہ "میڈیا کے ذریعے میں ان سے شادی کی پیشکش کرنا چاہتا ہوں، ان کے جو بھی مسائل ہیں، میں ان کو حل کروں گا۔ میرے گھر والے بھی میرے فیصلے کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی خاتون کی پریشانی کا کوئی تعلق ذہنی بیماری سے نہیں، بلکہ وہ صرف پریشان ہیں۔علی رضا نے کہا کہ وہ اونیجا کی عمر سے متعلق کچھ نہیں جانتے، لیکن ان کے ساتھ شادی کے بعد نواب شاہ یا امریکا میں رہنے کا فیصلہ ان کے اہل خانہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو گی کہ میں ایک عیسائی خاتون کو مسلمان کر دوں۔”علی رضا نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اچھی نوکری اور تنخواہ ہے، اور وہ پاکستان کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

    کراچی کی بزرگ خاتون نے امریکا سے آئی خاتون کو بہو قراردیدیا

    کراچی،امریکی خاتون کی برگر کھانے کی فرمائش چھیپا نے پوری کر دی

    کراچی کے نوجوان سے شادی کی دعویدار امریکی خاتون بارے بیٹے کا انکشاف

  • 59 سالہ عامر خان ایک مرتبہ پھر محبت میں گرفتار

    59 سالہ عامر خان ایک مرتبہ پھر محبت میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف اداکار اور مسٹر پرفیکشنسٹ کہلائے جانے والے عامر خان کی زندگی میں ایک نئی تبدیلی آئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، 59 سالہ عامر خان ایک مرتبہ پھر محبت میں گرفتار ہو گئے ہیں اور یہ محبت ایک خاتون سے ہے جن کا تعلق بنگلور سے بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، عامر خان نے حال ہی میں اپنی نئی ساتھی کو اپنے پورے خاندان سے متعارف کروا دیا ہے۔ یہ ملاقات خوشگوار رہی اور خاندان کے افراد نے ان کو خوش آمدید کہا۔ تاہم، اس حوالے سے عامر خان کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہ

    عامر خان کی ذاتی زندگی کی بات کی جائے تو ان کی پہلی شادی رینا دتہ سے 1986 میں ہوئی تھی، لیکن یہ رشتہ 2002 میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد، 2005 میں عامر خان نے فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، لیکن یہ تعلق بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا اور 2021 میں دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔عامر خان کی پہلی شادی سے دو بچے ہیں؛ بیٹا جنید خان جو کہ اداکار بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور بیٹی ایرا خان۔ دوسری شادی سے ان کا ایک بیٹا آزاد خان ہے۔

    عامر خان کی ذاتی زندگی ہمیشہ میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے اور اب تیسری بار محبت میں گرفتار ہونے کی خبریں یقیناََ ان کے مداحوں کے لئے ایک نیا چمکتا پہلو ہیں۔عامر خان کی ذاتی زندگی اور ان کے کیریئر پر نظر رکھنے والے اب یہ دیکھیں گے کہ یہ نیا رشتہ ان کی زندگی میں کس طرح کی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔

    حکومتی نمائندوں کا پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف

    وزیراعلی پنجاب نے زرعی ٹیوب ویل کی سولرائزیشن پراجیکٹ کا افتتاح کردیا