Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟جسٹس حسن اظہر

    کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟جسٹس حسن اظہر

    سپریم کورٹ، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے،سماعت کے آغاز میں جسٹس جمال مندوخیل نے کل دیے جانے والے ریمارکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کل خبر چلی میں نے کہا 8 ججز کےفیصلے کو 2 ججز غلط کہہ دیتے ہیں، خبر پر بہت سے ریٹائرڈ ججز نے مجھ سے رابطہ کیا، میڈیا کی پرواہ نہیں لیکن درستگی ضروری ہے، بات عام تاثرمیں کی تھی اور کہا تھا کہ 8ججز کےفیصلےکو 2 لوگ کھڑے ہوکرکہتے ہیں غلط ہے۔ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام میں ذکر نہیں، فوجی عدالتیں الگ قانون کے تحت بنتی ہیں جو تسلیم شدہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت بننے والی عدالتوں کے اختیارات وسیع ہوتے ہیں، مخصوص قانون کے تحت بننےوالی عدالت کادائرہ اختیار محدود ہوتا ہے، 21 ویں آئینی ترمیم میں لکھا ہےفوجی عدالتیں جنگی صورتحال میں بنائی گئی تھیں، شہریوں کے ٹرائل کےلیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی تھی، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ٹرائل کے لیے ترمیم کی ضرورت نہیں تھی، ترمیم کے ذریعے آرمی ایکٹ میں مزید جرائم کو شامل کیا گیا تھا۔

    جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں مہران اور کامرہ بیسز کا بھی ذکر ہے، جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کہاں ہوا تھا؟ کامرہ بیس پر حملہ آور ملزمان کا ٹرائل کہاں ہوا تھا ؟ پاکستان کے اربوں روپے مالیت کے 2 کورین طیارے تباہ ہوئے تھے، کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا مہران بیس حملے کے تمام دہشتگرد مارے گئے تھے، جسٹس حسن سوال کیا کیا مارے جانے کے بعد کوئی تفتیش نہیں ہوئی کون تھے؟ کہاں سے اور کیسے آئے؟ کیا دہشتگردوں کے مارے جانے سے مہران بیس حملے کی فائل بند ہو گئی؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ تحقیقات ضرور ہوئی ہونگی،جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوا تھا اور ٹرائل 21 ویں آئینی ترمیم سے پہلے ہوا تھا، اس پر جسٹس حسن اظہر نے کہا تمام حملوں کی بنیاد پر آئینی ترمیم کی گئی تھی تاکہ ٹرائل میں مشکلات نہ ہوں۔

    عدالت نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا اور مزید سماعت وقفے کے بعد ہوگی۔

    انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

  • انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    سکردو: ایس سی او نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے فری لانسنگ ہبز کے قیام کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں ایک فری لانسنگ ہب قائم کیا گیا ہے، جس سے ان افراد کو آئی ٹی کے شعبے میں اپنے ہنر کو مزید نکھارنے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

    ڈی جی ایس سی او نے ان سینٹرز کا دورہ کیا اور اپنی گفتگو میں کہا، "خصوصی افراد ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں جو محنت، عزم اور قابلیت سے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ یہ باصلاحیت افراد دوسروں کے لیے بھی مثال قائم کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "خصوصی افراد کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔”

    پاک فوج اور ایس سی او کی جانب سے انڈیپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام ایک سنگ میل ہے، جس کے ذریعے خصوصی افراد کو آئی ٹی کی تربیت اور آن لائن پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس ہب میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچے اور بچیاں لیپ ٹاپ کی فراہمی سے مستفید ہو سکیں گے۔اس اقدام کے ذریعے ان افراد کو آن لائن کام کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کی کفالت کے ذرائع میں اضافہ ہوگا بلکہ انہیں اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    ایس سی او نے اس ہب میں لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے یہ خصوصی افراد آئی ٹی کے میدان میں اپنی مہارت کو مزید بہتر بنا سکیں گے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔یہ اقدام خصوصی افراد کے لیے ایک نئی امید اور روشنی کا پیغام ہے، جو ان کی خودمختاری اور معاشرتی انضمام کے لیے اہم قدم ہے۔

    شہداء کو خراجِ عقیدت، اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

  • شہداء کو خراجِ عقیدت، اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن

    شہداء کو خراجِ عقیدت، اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن

    اسلام آباد: اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کا تین روزہ کنونشن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ اس اہم موقع پر اوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظہیر اختر مہر اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا۔

    کنونشن سے قبل چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "میں چیئرمین ظہیر اختر مہر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان آ کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ارادہ کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اوورسیز پاکستانیوں کا کردار پاکستان کی معیشت اور ترقی میں بے حد اہمیت رکھتا ہے، اور ان کا کام قابلِ تعریف ہے۔”

    دریں اثناء، چیئرمین اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن ظہیر اختر مہر نے بھی اپنی گفتگو میں کہا: "ہم چیئرمین او پی ایف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس تین روزہ کنونشن کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔” انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کی وطن سے محبت اور شہداء کے لیے عزت و احترام کے عزم کو سراہا اور کہا کہ "اوورسیز پاکستانی اپنے وطن کی خدمت اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں، ہم اپنی دھرتی کی پکار پر حاضر ہیں۔”

    اوورسیز پاکستان گلوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے شہدائے پاکستان کو "ہوم لینڈ ہیرو” کا درجہ دینے کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس کنونشن میں شرکت کے لیے پاکستان آئی ہے۔کنونشن میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان کی ترقی، معیشت، اور قومی مسائل کے حل کے حوالے سے متعدد اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے خصوصی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

    اس کنونشن کا مقصد نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے، بلکہ پاکستان کے لیے ان کی خدمات اور وطن سے محبت کو اجاگر کرنا بھی ہے۔ اوورسیز پاکستانی اپنے وطن کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ متحرک رہتے ہیں اور اس کنونشن کے ذریعے ان کی کوششوں کو مزید تقویت دینے کا ارادہ کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

  • وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    پاکستان کے وزیراعظم، شہباز شریف نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان ہونے والے افسوسناک فضائی حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے اس حادثے کے نتیجے میں ہونے والی قیمتی جانوں کے نقصان پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس دُکھ کی گھڑی میں امریکی عوام اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔” وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ "ہماری دعائیں اور خیالات اس مشکل وقت میں امریکی عوام کے ساتھ ہیں۔ ہم ان خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے، اور ہم حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”

    یہ حادثہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب پیش آیا، جس میں مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی جانیں گئیں۔ اس حادثے کے حوالے سے امریکی حکام تحقیقات کر رہے ہیں، اور ابھی تک زخمیوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحہ پر پاکستانی عوام کی طرف سے بھی امریکی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنے دوست ملک امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

  • پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

    کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک امریکی خاتون نے 19 سالہ نوجوان ندال احمد میمن کی محبت میں کراچی آ کر ایک انوکھا منظر پیش کیا۔ خاتون نے جب لڑکے کے گھر پہنچنے کی کوشش کی، تو اس کے اہلخانہ گھر بند کرکے کہیں چلے گئے۔ تاہم، امریکی خاتون نے وہاں ہی دھرنا دے دیا اور واپس جانے سے انکار کر دیا۔

    امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ جب تک نوجوان سے شادی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، وہ واپس نہیں جائیں گی۔ خاتون عمارت کی پارکنگ میں بیٹھ گئی، جس پر عمارت کی انتظامیہ نے فلیٹ کے دروازے بند کر دیے۔ اس دوران ایک صحافی نے خاتون سے سوال کیا کہ آپ کس نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ "3 ہزار ڈالر دیں، پھر بتاؤں گی۔”نجی ٹی وی سے گفتگو میں امریکی خاتون نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ اسے پاکستانی شہریت دی جائے اور ہر ہفتے 3 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے جائیں۔ اس کے بعد، ایس ڈی پی او کلفٹن فائزہ سوڈھر نے خاتون سے ملاقات کی اور اسے ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون کو سکیورٹی کی ضرورت ہے اور بظاہر اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں۔

    بعد ازاں، خاتون کے اصرار پر اسے دوبارہ گارڈن کے علاقے میں پہنچا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق خاتون کا کہنا تھا کہ وہ جب چاہے اپنے وطن واپس جا سکتی ہے اور وہ فلاحی اداروں کی مدد لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، خاتون سے پیار ،محبت کے دعوے کے کر کے کراچی بلانے والے نوجوان ندال احمد کو 4 روز قبل حساس اداروں نے حراست میں لے لیا تھا، اور اس کے گھر والے بھی گھر خالی کر کے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل یہ خبر آئی تھی کہ خاتون ائیرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھ کر نامعلوم مقام پر چلی گئی تھی۔ائیرپورٹ حکام نے بتایا کہ امریکی قونصلیٹ نے خاتون کو واپس اپنے ملک بھیجنے کی کوشش کی، لیکن خاتون نے انکار کر دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون نے قونصلیٹ کی ٹیم سے مدد لینے سے بھی انکار کیا اور کسی کی مدد نہیں چاہی۔خاتون نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد، خلیجی ائیرلائن کی پرواز میں سوار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے نہ صرف امیگریشن کرانے سے انکار کیا بلکہ ڈیپارچر لاؤنج میں بھی بیٹھے رہنے کا فیصلہ کیا۔

    یہ انوکھا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی نوجوان ندال میمن سے محبت کرتی ہے، اور ان دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر کئی مہینوں سے رابطہ جاری تھا۔ خاتون 11 اکتوبر کو کراچی پہنچی تھی اور اس کا مقصد اپنے محبوب سے شادی کرنا تھا، لیکن نوجوان کے گھر والوں نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی خاتون کی واپسی کا ٹکٹ ختم ہو چکا تھا، اور اس کے وزٹ ویزے کی مدت بھی ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد اے ایس ایف نے خاتون کو ائیرپورٹ پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس دوران ایک این جی او نے خاتون کی مدد کرتے ہوئے اس کے امریکا واپسی کا ٹکٹ اور مالی امداد فراہم کی تھی۔ خاتون کو سردی اور فلو کے باعث ائیرپورٹ کے ایمرجنسی کلینک میں بھی داخل کیا گیا۔

    اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ خاتون نے نہ صرف اپنے وطن واپس جانے سے انکار کیا ہے بلکہ وہ مختلف طریقوں سے اس بات پر بضد ہیں کہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ رہیں اور محبوب خاتون کو چھوڑ کر فرار ہو چکے،

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

  • واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے قریب بدھ کی رات ایک المناک فضائی حادثہ پیش آیا، جس میں امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایک مسافر طیارے سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے چند سیکنڈ پہلے کی ایئر ٹریفک کنٹرولر اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کے درمیان گفتگو سامنے آئی ہے جس نے اس المناک واقعے کی تفصیلات مزید پیچیدہ بنا دی ہیں۔

    حادثے کے وقت ایئر ٹریفک کنٹرولر نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر "PAT25” سے سوال کیا، "PAT25، کیا آپ کی نظر میں CRJ طیارہ ہے؟” اس کے بعد بلیک ہاک ہیلی کاپٹر نے جواب دیا، "PAT25 CRJ کے پیچھے سے گزر رہا ہے۔” لیکن اس کے فوراً بعد ہی کسی جواب کی توقع کے باوجود ایئر ٹریفک کنٹرولر کو کچھ بھی موصول نہ ہوا، اور دونوں طیارے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔حادثے کے بعد کچھ سیکنڈز میں ایک اور پائلٹ کو ریڈیو پر پکارتے ہوئے سنا گیا، "ٹاور، کیا تم نے اسے دیکھا؟” جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تصادم کے بعد کسی بھی پائلٹ کی حالت سے بے خبر تھا۔

    رپورٹس کے مطابق، ایئر ٹریفک کنٹرولر نے فوری طور پر ریگن نیشنل ایئرپورٹ سے دوسرے طیاروں کے راستے تبدیل کر دینا شروع کر دیے تاکہ مزید کسی سانحے سے بچا جا سکے۔ ابتدائی پرواز کے ڈیٹا سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دونوں طیاروں کے راستے واشنگٹن ڈی سی کے جنوب میں ایک ہی وقت میں ملے، جس کی وجہ سے تصادم ہوا۔

    اس بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کی پرواز ایک تربیتی مشن کے طور پر جاری تھی۔ فوجی ذرائع کے مطابق، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا تعلق 12ویں ایوی ایشن بٹالین سے تھا، جو فورٹ بیلوائر سے آپریٹ کرتی ہے اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں ہیلی کاپٹر کی نقل و حمل اور تکنیکی ریسکیو سپورٹ فراہم کرتی ہے۔

    حادثے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر اور پائلٹ کے درمیان رابطہ کیوں منقطع ہوا اور اس کی وجہ سے یہ تباہ کن حادثہ پیش آیا۔ اس کے علاوہ، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے اڑان بھرنے والے اسٹیشن کا پتہ چلانا بھی ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا۔

    ایک نیا آڈیو ریکارڈنگ جاری کیا گیا ہے جس میں حادثے کے فوراً بعد کی صورتحال سنی جا سکتی ہے۔ اس ریکارڈنگ میں ایک شخص جو غالباً پائلٹ ہے، ایئر ٹریفک کنٹرول سے سوال کرتا ہے: "ٹاور، کیا آپ نے یہ دیکھا؟”جواب آتا ہے: "ہاں، ہم نے یہ دیکھا۔”پھر وہی کنٹرولر علاقے میں موجود طیاروں کو اپنی پوزیشنز برقرار رکھنے کی ہدایت دیتا ہے۔کنٹرولر نے کہا کہ "یہ شاید دریا کے درمیان میں تھا،””میں نے ابھی ایک آتشبازی دیکھی اور پھر وہ غائب ہو گیا۔ اس کے بعد سے کچھ نہیں دیکھا، جب تک وہ دریا میں نہیں گر گیا۔ لیکن یہ طیارہ تھا اور ایک ہیلی کاپٹر تھا جو تصادم کا شکار ہوئے، میں کہوں گا کہ یہ ایک آدھ میل دور تھا اس کی لینڈنگ کی سمت سے۔”

    ایئر ٹریفک کنٹرولر نے ایئر فیلڈ کو بند کر دیا، رن ویز کو بند کرتے ہوئے لینڈنگز اور دیگر تمام حرکات روک دیں۔چند منٹوں میں، کنٹرولرز نے علاقے میں موجود دیگر طیاروں کو دوبارہ ہدایت دی۔”مجھے آپ سے فوری طور پر لینڈنگ کی ضرورت ہے،” نزدیک ایئرپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انہوں نے سوال کیا: "کیا آپ کچھ دیر کے لیے ڈلِس جا سکتے ہیں؟”

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،شادی شدہ عالمی چمپئن فگر اسکیٹرز طیارے میں سوار تھے
    روسی نیوز ایجنسی تاس کے مطابق، دو فگر اسکیٹرز اس طیارے میں سوار تھے جو حادثے کا شکار ہوا ہے،ایوگینیہ ششکوا اور وادیوم ناؤموف، جو شادی شدہ تھے، 1994 میں جوڑے کی فگر اسکیٹنگ میں عالمی چمپئن بنے تھے۔ریاستی خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں ایک "ذرائع” کا حوالہ دیا۔

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کا اعلان

  • وزیرِ اعظم   سے وفاقی وزیرِ داخلہ وچیئرمین پی سی بی   کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے وفاقی وزیرِ داخلہ وچیئرمین پی سی بی کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سید محسن رضا نقوی نے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے وزیرِ اعظم کو اپنے حالیہ دورہِ امریکہ کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا، جس میں انہوں نے اہم امریکی حکام، کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں۔محسن نقوی نے وزیرِ اعظم کو چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کے حوالے سے کی جانے والی تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے محسن نقوی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے بڑی بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد سے پاکستان کی کرکٹ کی ساکھ میں مزید بہتری آئے گی اور عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔

    ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے ترقیاتی کاموں کی رفتار کو سراہا اور حکومت کی جانب سے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ، سید محسن نقوی نے وزیرِ اعظم کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروپوں کے خلاف جاری آپریشنز کی پیش رفت اور ان کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرِ داخلہ نے اس حوالے سے کی جانے والی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس غیر قانونی کاروبار کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    ملاقات کے دوران وزیرِ داخلہ نے وزیرِ اعظم کو ملکی امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے امن و امان کی صورتحال پر حکومت کی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ امن و سکون کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کا اعلان

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

  • امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کا اعلان

    امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کا اعلان

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرقانونی تارکین وطن کے حوالے سے ایک نیا اور متنازعہ اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے ہوم لینڈ سکیورٹی اور پنٹاگان کو ہدایت دی ہے کہ وہ گوانتانامو بے میں غیرقانونی تارکین وطن کے لیے خصوصی جگہ تیار کریں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، صدر ٹرمپ نے "Laken Riley” ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کرنا، حراست میں لینا اور جبری طور پر ملک بدر کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہ قانون صدر ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں قانونی حیثیت اختیار کرنے والا پہلا قانون ہے اور اسے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، کی متفقہ حمایت حاصل ہوئی۔صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے سیکڑوں امریکیوں کی زندگیاں محفوظ ہوں گی۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم بھی اس موقع پر موجود تھیں جب صدر نے اس اہم قانون پر دستخط کیے۔اس نئے قانون کے مطابق، وفاقی امیگریشن حکام اب امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم ایسے افراد کو بھی جبری طور پر ملک بدر کر سکیں گے جنہوں نے معمولی نوعیت کے جرائم جیسے چوری، دکان سے اشیاء چرانا، اہلکار پر تشدد کرنا، یا کسی شہری کو شدید زخمی کرنے میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کیا ہو۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ جو افراد امریکا میں غیرقانونی طور پر داخل ہوئے، وہ دراصل جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے جیل بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں ہوم لینڈ سکیورٹی اور پنٹاگان کو گوانتانامو بے میں 30 ہزار بستر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔گوانتانامو بے ایک امریکی بحری اڈہ اور جیل ہے جو کیوبا کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اسے عام طور پر گوانتانامو بے حراستی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں 2002 کے بعد سے دہشت گردی کے مشتبہ ملزمان کو قید کیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس سے غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا اور اس کا اثر امریکا کی بین الاقوامی شہرت پر کیا پڑے گا۔

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

  • واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    واشنگٹن: امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے قریب ایک سنگین فضائی حادثہ پیش آیا، جس میں ایک مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔

    یہ واقعہ واشنگٹن کے قریب دریائے پوٹومیک کے اوپر پیش آیا، جہاں ایک امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچ رہی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، حادثہ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا جب طیارے کی رفتار 166 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ فلائٹ ریڈار کی معلومات کے مطابق مسافر طیارہ بمبارڈیئر CRJ700 تھا جس میں 78 افراد بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ٹکر کے بعد، مسافر طیارہ دریائے پوٹومیک میں گر گیا، اور فوراً غوطہ خوروں کو جائے حادثہ پر روانہ کر دیا گیا تاکہ حادثے میں پھنسے افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، امریکی حکام نے تصدیق کی کہ طیارے میں 64 مسافر سوار تھے اور اب تک 18 افراد کی لاشیں دریا سے نکالی جا چکی ہیں۔ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

    امریکی فوجی حکام نے بتایا کہ مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایک تربیتی پرواز پر تھا جس میں 3 اہلکار سوار تھے۔ اس حادثے میں فوجی ہیلی کاپٹر کے اہلکار بھی شدید زخمی یا جاں بحق ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن کے ریگن نیشنل ائیرپورٹ پر اس حادثے کے بعد تمام پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس حادثے کی تمام تفصیلات سے آگاہ ہیں اور صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ مزید معلومات جیسے ہی دستیاب ہوں گی، وہ عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

    آسمان صاف تھا، طیارے کی روشنیاں چمک رہی تھیں، پھر ہیلی کاپٹر کیوں نہ اوپر یا نیچے گیا،ٹرمپ
    اس حادثے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ طیارہ ایئرپورٹ کی جانب "مکمل اور معمول کی سمت” پر آ رہا تھا، جبکہ ہیلی کاپٹر طیارے کی طرف "براہ راست” آ رہا تھا۔ ٹرمپ نے سوال کیا کہ "آسمان صاف تھا، طیارے کی روشنیاں چمک رہی تھیں، پھر ہیلی کاپٹر کیوں نہ اوپر یا نیچے گیا، یا کیوں نہ مڑ گیا؟”انہوں نے مزید کہا کہ "کنٹرول ٹاور کو ہیلی کاپٹر کو ہدایت دینی چاہیے تھی، بجائے اس کے کہ وہ یہ پوچھتے کہ آیا ہیلی کاپٹر نے طیارہ دیکھا ہے یا نہیں۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے جسے روکا جا سکتا تھا۔”

    این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ پٹومک دریا کے قریب پیش آیا اور طیارہ پانی میں 2 میٹر غرق ہو گیا ہے۔ طیارہ دو حصوں میں ٹوٹ چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ہیلی کاپٹر بھی الٹا ہو گیا ہے اور یہ پانی میں انتہائی غیر مستحکم حالت میں ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ڈائیورز پٹومک دریا میں غوطہ لگا کر ملبے کی تلاش کر رہے ہیں۔مقامی پولیس، فوج اور دیگر امدادی اداروں کے کئی ہیلی کاپٹر بھی اس حادثے کی جگہ پر پرواز کر رہے ہیں تاکہ امداد فراہم کی جا سکے۔

    امریکہ طیارہ حادثہ،42 برس قبل بھی بوئنگ طیارہ دریا میں گرنے سے 78 افراد کی ہوئی تھی موت
    یہ حادثہ ایک اور مشہور فضائی حادثے کی یاد دلاتا ہے جو 42 سال پہلے پٹومک دریا میں ہوا تھا۔ 13 جنوری 1982 کو ایئر فلاوریڈا کا بوئنگ 737-222 طیارہ منجمد دریا میں گر گیا تھا، جس کے نتیجے میں 78 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حادثے میں 14ویں اسٹریٹ پل پر سات گاڑیاں طیارے کی زد میں آ گئیں، اور اس کے نتیجے میں 4 ڈرائیورز کی موت واقع ہوئی۔ وہ حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا تھا اور یہ وائٹ ہاؤس سے صرف 2 میل دور ہوا تھا۔

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا حادثے میں ملوث ہونے کی اطلاع ہے، جس میں تین فوجی سوار تھے۔ تاہم، فوجی ذرائع نے بتایا کہ کوئی اعلیٰ افسر اس ہیلی کاپٹر میں سوار نہیں تھا۔

    تقریباً ایک گھنٹہ بعد، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اس واقعے پر ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان کے مطابق، "پی ایس اے ایئرلائنز کی بمبارڈیئر CRJ700 ریجنل جیٹ نے سِکورسکی H-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے ساتھ فضاء میں ٹکرا گیا۔ یہ تصادم ایئرپورٹ کے رن وے 33 کی جانب طیارے کی آمد کے دوران پیش آیا۔ پی ایس اے ایئرلائنز کا طیارہ امریکی ایئرلائنز کے لیے پرواز 5342 کے طور پر آپریٹ کر رہا تھا اور یہ ویچٹاہ، کنساس سے روانہ ہوا تھا۔”ایف اے اے نے مزید کہا کہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ تحقیقات کا آغاز کرے گا، اور وہ اس واقعے کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    اس حادثے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں تصادم کے بعد کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال، حکام اس معاملے کی تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس سانحے کی تفصیلات منظر عام پر آئیں۔اس واقعے پر عوامی ردعمل اور مزید معلومات کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    امریکی ایئرلائنز نے تصدیق کی ہے کہ پی ایس اے ایئرلائنز کا طیارہ جس میں 60 مسافر اور 4 عملہ کے ارکان موجود تھے، ویچٹا، کانساس سے واشنگٹن کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ آ رہا تھا۔ امدادی کارروائیاں تیز تر ہو گئی ہیں اور مقامی پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کی ٹیمیں اس وقت پٹومک دریا کے کنارے پر امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔یہ حادثہ ایک سنگین یاد دہانی ہے کہ فضائی حفاظتی تدابیر اور مربوط امدادی کارروائیوں کی کتنی اہمیت ہے تاکہ ایسے حادثات کو روکا جا سکے۔

  • عمران خان کی رہائی کی ٹویٹ کرنیوالے رچرڈ گرینل نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں

    عمران خان کی رہائی کی ٹویٹ کرنیوالے رچرڈ گرینل نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے رچرڈ گرینل حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سرخیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔

    انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے حق میں بیانات دیے جس پر پاکستانی سیاست دانوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ان کے سوشل میڈیا بیانات پر تبصرے کرتے نظر آئے ہیں اور ان بیانات کے ممکنہ اثرات پر گفتگو کی جارہی ہے۔رچرڈ گرینل کے بیانات کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی ری ٹوئٹ کیا، جس سے ایک نیا سیاسی ماحول پیدا ہوا۔ گرینل نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا، جس پر پاکستانی سیاست میں گرماگرمی دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی رہائی پاکستان کی سیاست کے لیے ضروری ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں، رچرڈ گرینل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پاکستان کے میزائل پروگرام پر پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ٹرمپ اور عمران خان کے دور میں زیادہ مضبوط تھے اور دونوں ممالک میں اس وقت زیادہ تعاون تھا۔

    تاہم حال ہی میں، رچرڈ گرینل نے 11 دسمبر 2024 سے پہلے کی اپنی تمام ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں، سوائے ایک ٹوئٹ کے جو انہوں نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کیا تھا۔ اس اقدام پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اہم شخصیات کے نیا عہدہ سنبھالنے پر ایک عام رواج ہے تاکہ ماضی کے تنازعات اور بیانات سے بچا جا سکے۔رچرڈ گرینل کی جانب سے اس قسم کے بیانات اور سوشل میڈیا پر سرگرمی نے پاکستانی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس سے پاکستانی سیاست میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سرمایہ کاروں کے وفد کے سربراہ، اور ٹرمپ خاندان کے قریبی بزنس پارٹنر جینٹری بیچ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ رچرڈ گرینل، جو پاکستان کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں، کو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے گمراہ کیا گیا تھا۔جینٹری بیچ نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ رچرڈ گرینل کو ڈیپ فیک اے آئی والی پرزینٹیشنز دکھائی گئیں، جس نے ان کی پاکستان کے بارے میں غلط سمجھ پیدا کی۔ جینٹری بیچ نے مزید کہا کہ رچرڈ گرینل نے خود انہیں بتایا تھا کہ ان کو یہ غلط معلومات دی گئی تھیں، جو ان کی پچھلی سوچ اور موقف میں تبدیلی کا باعث بنی۔انہوں نے کہا کہ رچرڈ گرینل کی اب پاکستان کے بارے میں پہلے سے بہتر اور حقیقت پسندانہ سمجھ موجود ہے، اور وہ اب اس حوالے سے زیادہ مستند اور حقیقت پر مبنی معلومات رکھتے ہیں۔

    دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    ایلچی رچرڈ گرینل کے بیان پر خواجہ سعد کا ردعمل

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر