Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

    9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    آج، 18 جنوری 2025 کو کولکتہ کی سیالڈا سیشن کورٹ اس عصمت دری اور قتل کے کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔یہ کیس اس بات کی گواہی ہے کہ عدلیہ، پولیس، اور عوامی احتجاج نے اس گھناؤنے جرم کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا اور اس ہولناک جرم کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر ہفتہ کے روز 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    لاہور کی نجی ہوٹل میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا

    سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے لیے سخت سزا کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جانوروں کے حقوق اور بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے لاہور میں جانوروں کے حقوق اور ماحولیات پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ویلفیئر اسٹیٹ بننے کی ضرورت ہے جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ کیا جائے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ "جانوروں کے حقوق کا تحفظ اسی طرح ضروری ہے جیسے انسانوں کے حقوق کی اہمیت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرت نے جانوروں اور انسانوں کے درمیان تعلق بنایا ہے اور ان دونوں کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ جانوروں کے کھانے اور پینے کا انتظام ہونا چاہیے ، انہوں نے ٹولنٹن مارکیٹ میں جانوروں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔ہر جاندار چیز کو بغیر خوف اور آزادی سے زندگی گزارنے کا حق ہے ،پاکستان کے آئین میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے کچھ نہیں ہے جانوروں کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود نہیں ہیں،کرونا کے دنوں میں انسانوں کو سب نے یاد رکھا مگر جانوروں کو سب بھول گئے ۔میرے پاس بہت سی بلیاں ہیں اور کرونا کے دنوں میں بلیوں کو لیکر بہت پریشان تھی ،بہت سے بلیوں کو بچایا بھی ہے،پاکستان کو جانوروں کے حوالے سے فوری ریفارمز اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    جسٹس عائشہ اے ملک نے جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ "جہاں انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، وہاں جانوروں کے حقوق کی بھی اہمیت بنتی ہے اور ان کی حالت پر مزید دھیان دینے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے لائیو اسٹاک کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اس کا مقصد ہی جانوروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب ہر طبقے کے حقوق کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ جانوروں کے حقوق کے لیے ایسی کانفرنسز کا انعقاد خوش آئند ہے کیونکہ اس سے معاشرتی سطح پر ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس عائشہ اے ملک کو حال ہی میں دنیا کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جس سے ان کی عالمی سطح پر مقبولیت اور اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے مزید قانون سازی اور شعور کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

  • پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ،وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کوشش ہے کہ کوئی ٹرمپ کارڈ کام آجائے لیکن پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف کا نظام کسی کے ذاتی مفادات کے تابع نہیں ہوتا اور وہ اس پر اثرانداز ہونے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ شرجیل میمن نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا، وہ خود اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں کے لیے گڑھے کھود رہا تھا، اب خود رسوائی کا شکار ہو رہا ہے۔ہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے سہولت کار بین الاقوامی فورمز پر سرگرم ہیں اور ان کی کوششیں ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک فرد نے ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اس کی جانب سے کیے گئے اقدامات ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

    شرجیل میمن نے واضح کیا کہ پاکستانی عدالتیں آزاد اور خودمختار ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی سیاست سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر قاتلانہ حملے کا معاملہ، پولیس تحقیقات میں نئی تفصیلات

    ممبئی: بالی ووڈ کے مشہور اداکار سیف علی خان پر قاتلانہ حملے کے معاملے میں ممبئی پولیس دن رات مصروف ہے، لیکن حملہ آور اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ اس دوران تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے پکڑے جانے سے بچنے کے لیے اپنے کپڑے تبدیل کیے تھے۔

    سیف علی خان کے گھر اور ممبئی کے باندرہ میں واقع لکی ہوٹل کے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے حملے کے بعد اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔ اس وقت ممبئی پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کے لیے 20 سے زائد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مشتبہ حملہ آور کو ممبئی کے باندرہ پولیس اسٹیشن اور ریلوے اسٹیشن کے درمیان دیکھا گیا تھا۔ صبح 8 بجے تک وہ باندرہ کے علاقے میں گھوم رہا تھا، مگر پولیس ابھی تک اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پولیس حکام حیران ہیں کہ دونوں اہم داخلی مقامات پر سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی کے باوجود مشتبہ شخص سیف علی خان کی عمارت میں کیسے داخل ہوا اور پھر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔

    حملے کے وقت، ملزم نے ماسک اور ٹوپی پہن رکھی تھی لیکن عمارت سے باہر نکلتے ہوئے اس نے یہ دونوں اشیاء ہٹا دیں، جس سے پولیس کے ذہن میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔اب تک پولیس نے سیف علی خان پر حملے کے حوالے سے 40 سے 50 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ ان لوگوں میں زیادہ تر سیف کے جاننے والے ہیں۔ پولیس نے سیف کے عملے سے بھی تفصیلی پوچھ گچھ کی ہے۔

    نئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں کچھ اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیف پر حملہ کرنے والا شخص ننگے پاؤں سیف کے گھر میں داخل ہوا، لیکن جب وہ واپس بھاگ رہا تھا تو اس نے جوتے پہن رکھے تھے۔ اس کے علاوہ، جب وہ اوپر جا رہا تھا تو اس کا بیگ بھرا ہوا دکھائی دیا تھا، لیکن جب وہ نیچے آ رہا تھا، اس کا بیگ خالی نظر آیا۔ یہ تمام تفصیلات پولیس کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔پولیس کی تفتیش میں سیف علی خان پر حملے کے دوران استعمال ہونے والے چاقو کا ایک ٹکڑا بھی اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ سیف کی کمر میں پھنسا چاقو کا ٹکڑا پولیس نے اپنی تفتیش میں شامل کیا ہے، لیکن ابھی تک چاقو کا وہ دوسرا ٹکڑا برآمد نہیں ہو سکا جس سے حملہ آور نے حملہ کیا تھا۔یہ تمام تفصیلات اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ سیف علی خان پر حملہ ایک منصوبہ بند اقدام تھا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی تفتیش مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

    جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

    لاہور: جامعہ نعیمیہ کے دارالافتاء نے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والوں کے لیے فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "ڈنکی” یعنی غیر قانونی راستے اختیار کر کے بیرون ملک جانا نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ شرعی لحاظ سے بھی جائز نہیں۔

    دارالافتاء نے بیرون ملک جانے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قانونی طریقوں اور محفوظ راستوں کو اپنائیں تاکہ ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق نہ ہو۔دارالافتاء کی جانب سے جاری کیے گئے فتویٰ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ غیر قانونی طریقے سے پیسے وصول کرنا ایجنٹوں کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔ مزید برآں، فتویٰ میں کہا گیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ایجنٹوں کے خلاف سخت قانون سازی کرے جو انسانی جانوں کے دشمن بن کر غیر قانونی طور پر افراد کو بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعرات کو افریقی ملک موریطانیہ سے اسپین جانے والی غیر قانونی کشتی حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ خبرایجنسی کے مطابق یہ کشتی 2 جنوری کو موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی جس میں کل 86 تارکین وطن سوار تھے، جن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ حادثے کے دوران 36 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 44 پاکستانیوں میں سے 12 افراد گجرات کے رہائشی تھے جبکہ دیگر افراد سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھتے تھے۔ اس واقعے نے غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے والوں کی مشکلات اور انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایک سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

    دارالافتاء نے اس فتویٰ کے ذریعے عوامی آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ایسے ایجنٹوں اور غیر قانونی راستوں کے ذریعے زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے بچا جا سکے۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

  • عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    امریکہ میں قید پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ "نئے شواہد” کی بنیاد پر آزاد ہو جائیں گی جو ان کی بے گناہی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، 52 سالہ، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ مطلوب خواتین میں شامل تھیں، پر الزام تھا کہ ان کا القاعدہ کی قیادت سے تعلق تھا اور 2010 میں انہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے ناقدین "لیڈی القاعدہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدلنے کی امید ہے۔ "مجھے امید ہے کہ مجھے بھلا نہیں دیا جائے گا اور میں انشاء اللہ جلد ہی رہائی پاوں گی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں… ظلم کا شکار ہوں، صاف اور سادہ بات ہے۔ ہر دن اذیت ہے… یہ آسان نہیں ہے۔”

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلف اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے کیس پر صدارتی معافی جاری کریں اور انہوں نے بائیڈن کو 76,500 الفاظ پر مشتمل ایک رپورٹ بھیجی ہے۔اس رپورٹ کو اسکائی نیوز نے دیکھا ہے، لیکن اس میں دی گئی تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔بائیڈن کے پاس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اس درخواست پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اب تک بائیڈن نے 39 افراد کو معافی دی ہے اور 3,989 سزاؤں میں کمی کی ہے۔
    aafia

    کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا تھا، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمے کے دوران وہ گواہیاں دستیاب نہیں تھیں جو ان کی بے گناہی کو ثابت کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان آئی تھیں، تو انہیں اغوا کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے انہیں افغانستان کے بگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا۔

    سی آئی اے نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور وہ واحد خاتون تھیں جنہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں "ایکسٹراورڈنری رینڈیشن” کے پروگرام کے تحت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ایکسٹراورڈنری رینڈیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کسی گرفتار شخص کو خفیہ حراست میں منتقل کیا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک بھیجا جاتا ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے دوران، 2010 میں جج نے کہا تھا: "ریکارڈ میں کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ امریکی حکام یا ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کی 2008 میں گرفتاری سے پہلے حراست میں لے کر آئی تھیں،” اور یہ کہا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شروع میں "غلط مفہوم” نکالا تھا کیونکہ ایجنسیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک نیوکلیئر فزکس کی ماہر ہیں جو تابکاری بم پر کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی پی ایچ ڈی تعلیم میں تھی۔

    سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار جان کریاکو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں "دہشت گردی کے رجحانات” تھے۔ جان کریاکو نے سی آئی اے میں 2004 تک انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کیا اور کہا کہ سی آئی اے ڈاکٹر صدیقی کو "قابل اور خطرناک” سمجھتی تھی۔کریاکو نے دعویٰ کیا کہ جب وہ سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے، تب انہوں نے ڈاکٹر صدیقی پر تشدد کرنے کی تردید کی۔ "اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں گرفتار کر کے کسی خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہوتا، تو مجھے اس کا علم ہوتا۔”

    ڈاکٹر صدیقی کی بہن فوزیہ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتی ہوں کہ وہ بے گناہ ہیں۔ اگر میں جانتی کہ ان میں کوئی گناہ ہے تو میں اپنی ساری زندگی اس کے لیے وقف نہ کرتی۔ وہ جہاں ہیں وہ وہاں نہیں ہونی چاہیے۔”

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

    تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

    لندن میں آٹھ سال پہلے لاوارث چھوڑے گئے تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔

    میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ 450 گھنٹوں سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے باوجود، تین بچوں، جن کے نام ایلسا، رومن اور ہیری ہیں، کے والدین کی شناخت نہیں ہو سکی۔ تاہم، یہ مانا جا رہا ہے کہ ان کی والدہ نے گزشتہ چھ سالوں میں لندن کے مشرقی علاقے میں رہائش اختیار کی ہے۔ایلسا، جو ایک سال سے کم عمر کی تھی، 18 جنوری 2024 کو مشرقی لندن کے ایست ہم علاقے میں ایک کتے کے ساتھ چلنے والے شخص نے دریافت کیا تھا۔چند مہینوں بعد یہ پتہ چلا کہ ایلسا کے دو مزید بہن بھائی بھی اسی طرح کے حالات میں لندن کے اسی علاقے میں 2017 اور 2019 میں چھوڑے گئے تھے۔ہفتے کو پولیس نے بتایا کہ کرائم سٹاپرز نامی آزاد تنظیم نے ایک £20,000 انعام کا اعلان کیا ہے جو 18 اپریل 2025 تک دستیاب رہے گا، اور یہ انعام صرف اس معلومات کے لیے ہے ،

    پولیس کی بچوں کے استحصال کی تفتیشی ٹیم کے ڈیٹیکٹو انسپکٹر جیمی ہم نے کہا: "ہم نے ایلسا کے والدین کو تلاش کرنے کے لیے گزشتہ ایک سال میں بھرپور تحقیقات کی ہیں۔ اس میں 450 گھنٹے سے زیادہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا اور والدہ کا مکمل ڈی این اے ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم والدین کے، خصوصاً والدہ کے، خیریت کے حوالے سے گہری تشویش رکھتے ہیں اور ہم نیوہم کونسل کے ساتھ مل کر عوام سے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔”

    ایلسا کو ایک تولیہ میں لپیٹ کر ریوز ایبل شاپنگ بیگ میں رکھا گیا تھا، جس کی پولیس نے نئی تصویر بھی جاری کی ہے،پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ یہ "انتہائی ممکن” ہے کہ ایلسا کو "چھپ کر ہونے والی حمل” کے بعد پیدا کیا گیا تھا۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی عدالت کی سماعت میں، ایسٹ لندن فیملی کورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹروں کو ایلسا کا درجہ حرارت ریکارڈ کرنے میں تین گھنٹے لگے کیونکہ وہ بہت سرد تھی، اور میٹ آفس نے بتایا کہ جب ایلسا کو پایا گیا، تو رات کے وقت درجہ حرارت -4C تک گر چکا تھا۔ہسپتال کے عملے نے ایلسا کا نام فلم "فروزن” کے کردار کے حوالے سے رکھا۔

    پولیس اس تفتیشی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بچوں کے والدین کی شناخت کی جا سکے، اور جو بھی شخص اس بارے میں معلومات رکھتا ہو، اسے 101 پر پولیس سے رابطہ کرنے یا @MetCC ریفرنس آپریشن وولکوٹ کے تحت ٹویٹ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔عوام کو کرائم سٹاپرز سے 0800 555 111 پر انعام کے طور پر گمنام طور پر بھی رابطہ کرنے کی سہولت دی گئی ہے، یا کرائم سٹاپرز کی ویب سائٹ Crimestoppers-uk.org کے ذریعے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

  • ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو "ڈارک” ہو سکتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس کے ذریعے اس نے ایک ممکنہ پابندی سے بچنے کی کوشش کی تھی جو ایپ کو امریکہ میں بند کر سکتی ہے۔

    یہ پابندی 2024 کے اس قانون کا نتیجہ ہے جو قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر منظور کیا گیا، جس کے تحت ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو مشہور شارٹ ویڈیو ایپ کو بیچنے یا 19 جنوری کو امریکہ میں بند کر دینے کا کہا گیا تھا۔ اسی دوران، ڈونلڈ ٹرمپ، جو پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا "سیاسی حل” تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے اس بارے میں چینی رہنما شی جن پنگ سے بات کی ہے۔

    ٹک ٹاک کے اندازاً 170 ملین امریکی صارفین ابھی بھی ایپ استعمال کر سکیں گے کیونکہ یہ پہلے ہی ان کے فونز میں ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، سافٹ ویئر اور سیکیورٹی اپڈیٹس نہ ملنے کی وجہ سے ایپ کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق، ایپ کا ایک ویب ورژن دستیاب ہو سکتا ہے جس میں ایپ کے مقابلے میں کم خصوصیات ہوں گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کام نہ کرے۔ بعض صارفین وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کا استعمال کرکے ٹک ٹاک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی لوکیشن اور انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کو چھپاسکیں۔

    ٹک ٹاک پر اپنا کاروبار بنانے والے ،مواد تخلیق کرنے والے اس ایپ کی ممکنہ بندش کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو متبادل ایپس جیسے انسٹاگرام اور یوٹیوب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

    ٹفنی سیانسی، جو ایک مواد تخلیق کرنے والی شخصیت ہیں، نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تجویز کردہ پابندی سے "ہمارے منتخب نمائندوں نے امریکی عوام کو ناکام کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ٹک ٹاک کے اصل اثرات کو نہیں سمجھا”۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے جس نے امریکی معیشت کا ایک بڑا حصہ تخلیق کیا ہے”۔اسی طرح، مواد تخلیق کرنے والی شخصیت جینیٹ اوک نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے انہیں برانڈ ڈیلز حاصل کرنے اور اپنی موسیقی کو فروغ دینے میں مدد دی، جس سے "ایسی مواقع ملیں جو میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں سوچا تھا”۔

    مشتہرین اس پابندی کے اثرات سے بچنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے اشتہاری مہمات کو متاثر کرے گا۔ ٹک ٹاک نے مشتہرین کو نئے فیچرز کی پیشکش کی ہے، جیسے ایک نیا ٹول جس کی مدد سے اشتہارات کو بڑے پیمانے پر تخلیق، ترمیم اور شامل کرنا آسان ہوگا۔اگر پابندی عائد ہو جاتی ہے تو امریکہ میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کی اشتہاری سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان آ جائے گا۔

    اس پابندی سے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر چینی حکومت پر امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندی کے بعد۔ٹرمپ اس مسئلے کے حل کے لئے ایگزیکٹو آرڈر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ چین سے کچھ اہم چیزیں حاصل کرنے کے لئے اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ امریکہ میں پابندی کا براہ راست اثر برطانیہ کے صارفین پر نہیں پڑے گا کیونکہ وہاں ٹیکنالوجی کی نگرانی برطانوی قوانین کے تحت کی جاتی ہے، تاہم برطانیہ کے ٹک ٹاک صارفین نے اس پابندی کے اثرات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ایڈن ہیلننگ، جو ٹک ٹاک پر @etherealgames کے نام سے کام کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں اپنے کاروبار کے حوالے سے تشویش ہے کیونکہ پابندی کی صورت میں انہیں ایپ کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "بہت سے تخلیق کار اس ایپ پر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور یہ ایپ ان کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔”یہ پابندی نہ صرف ٹک ٹاک کے صارفین بلکہ مواد تخلیق کرنے والوں اور مشتہرین کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

    امریکا میں چین کی معروف سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر 19 جنوری 2025 سے پابندی کا نفاذ ہونے والا ہے، کیونکہ کمپنی نے اس ایپ کے امریکی آپریشنز کو فروخت کرنے کا عمل ابھی تک مکمل نہیں کیا۔صدر جو بائیڈن نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے کہ کیا ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو نافذ کیا جائے یا نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، حکام نے بتایا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے اس پابندی کے نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اب 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپریل 2024 میں اس قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 19 جنوری تک اپنی سوشل میڈیا ایپ کو امریکا میں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر بائیٹ ڈانس اس ایپ کو فروخت نہیں کرتا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو "بچانے” کے لیے اقدامات کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ اس قانون پر عملدرآمد کو 90 دن تک موخر کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ مائیک والٹز، جو کہ ٹرمپ کے نامزد قومی سلامتی کے مشیر ہیں، نے 16 جنوری کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہم ٹک ٹاک کو بند ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے”۔

    ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو، شاؤ زی چیو نے دسمبر 2024 میں فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا تاکہ وہ اس ایپ پر پابندی کے خلاف ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔ شاؤ زی چیو اب ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    امریکا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف جوابی مہم شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل نعروں سے مزین ٹرکوں کی گشت کی مہم کے بعد واشنگٹن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف اس مہم کو امریکا میں سیاست کا نیا میدان کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی سڑکوں پر احتجاجی ٹرکوں کی صورت میں نکلے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے بھی اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ حلف برداری کی تقریب کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ڈیجیٹل نعروں اور تصاویر کے ساتھ احتجاجی ٹرکوں کے ذریعے اپنے مطالبات کی آواز بلند کی۔

    اسی دوران، پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے کرایہ پر ٹرک حاصل کر کے ان پر مخالفانہ نعرے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر آویزاں کر دیں۔ ان ٹرکوں پر اسامہ بن لادن، طالبان کی حمایت اور عمران خان کے ان بیانات کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے طالبان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔پی ٹی آئی کے مخالفین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر ان ٹرکوں کے ذریعے ان بیانات کو عوامی سطح پر پیش کیا تاکہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے حامی ہیں اور ان کے بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان ٹرکوں پر درج نعرے "اسامہ بن لادن کو شہید” اور "طالبان کی افغان جنگ کو جائز” جیسے نعرے شامل ہیں، جو کہ امریکی عوام کی نظر میں انتہائی متنازعہ ہیں۔

    اس طرح، پاکستان کی داخلی سیاست کی جنگ اب واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک نئی نوعیت کی سیاسی کشمکش کا آغاز کیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا