Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں کون سی مشہور شخصیات شرکت کر رہی

    ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں کون سی مشہور شخصیات شرکت کر رہی

    20 جنوری کو واشنگٹن ڈی سی میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مرتبہ امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جو ان کے سیاسی کیریئر کا ایک نیا باب ہوگا۔ اس موقع پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا،

    2017 میں پہلی حلف برداری تقریب کے دوران، ٹرمپ کو مشہور شخصیات کو مدعو کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ تاہم، اس مرتبہ ان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے والے کچھ اہم افراد کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔حال ہی میں سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن، جو کہ 82 برس کے ہیں، اپنی جانشینی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ ایک رسمی روایت ہے جو ٹرمپ نے 2020 میں بائیڈن کی حلف برداری تقریب میں نہیں اپنائی تھی۔ اس وقت ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔تمام سابق صدور کا حلف برداری تقریب میں شرکت کرنا ایک روایت ہے، اس لئے باراک اوباما، جارج بش اور بل کلنٹن کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم، سابق خاتون اول مشیل اوباما اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔

    ٹرمپ نے اس سال پہلی بار عالمی رہنماؤں کو بھی مدعو کیا ہے۔ دنیا کے سب سے امیر شخص ایلون مسک بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے، جہاں وہ جف بیزوس اور مارک زکربرگ کے ہمراہ بیٹھیں گے۔موسیقی کے پروگرام اس تقریب کا لازمی حصہ ہیں، اور اس سال کاؤنٹری موسیقی کا رنگ غالب نظر آ رہا ہے۔ اس میں بڑے نام جیسے بلی رے سائرس اور کڈ راک کی شرکت متوقع ہے، جو 2024 میں ٹرمپ کے حامی تھے۔ کڈ راک، جن کا اصلی نام رابرٹ جیمز رچی ہے، کئی سالوں سے ریپبلکن پارٹی اور ٹرمپ کے حامی رہے ہیں۔اس کے علاوہ، جیسن ایلڈین، لی گرینووڈ، اور ویلیج پیپل جیسے مشہور کاؤنٹری سنگرز بھی اس تقریب کا حصہ ہوں گے۔

    امریکی ایڈل اسٹار کیری انڈر ووڈ اس تقریب میں "امریکا دی بیوٹیفل” گائیں گی۔ آٹھ بار گریمی ایوارڈز جیتنے والی انڈر ووڈ نے اس موقع پر اپنی شرکت کو ایک بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ، کلاسیکل سنگر کرسٹوفر میکچیو امریکی قومی ترانہ گائیں گے اور جے ڈی ونس کے ساتھ نائب صدر کا حلف بھی لیں گے۔ممکنہ طور پر اداکار جان وائٹ، جو ٹرمپ کے حامی ہیں اور ماضی میں حلف برداری تقریب میں خطاب کر چکے ہیں، بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ، گلوکار کینی ویسٹ، جو ٹرمپ کے کھلے حامی ہیں، بھی اس تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے پہلی حلف برداری تقریب میں کلاسیکل سنگر جیکی ایونچو نے قومی ترانہ گایا تھا۔ اس کے علاوہ، کاؤنٹری سنگر ٹوبی کیتھ اور دیگر فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

    2021 میں جو بائیڈن کی حلف برداری کے دوران ایک پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی میزبانی ٹام ہینکس نے کی تھی۔ اس پروگرام میں بروس اسپرنگسٹین، کیٹی پیری اور جسٹن تیمبرلیک جیسے فنکاروں نے پرفارم کیا تھا۔ اس بار یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد بھی ایسا کوئی پروگرام نشر کیا جائے گا یا نہیں۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

  • کشتی حادثہ، مرکزی مسلم لیگ کا ایف آئی اے سربراہ کے استعفیٰ کا مطالبہ

    کشتی حادثہ، مرکزی مسلم لیگ کا ایف آئی اے سربراہ کے استعفیٰ کا مطالبہ

    لاہور، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے موریطانیہ سے اسپین جانے والی کشتی کے المناک حادثے میں 44 پاکستانیوں کی ہلاکت پر شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سربراہ سے فوری استعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

    خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ یہ حادثہ نہ صرف حکومتی اداروں کی غفلت ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے کی ناکامی کو بھی عیاں کرتا ہے۔ کشتی میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 افراد سوار تھے، جن میں گجرات کے 12 نوجوان بھی شامل تھے۔ اہل خانہ کے مطابق یہ نوجوان چار ماہ قبل یورپ کے لیے روانہ ہوئے تھے اور انسانی اسمگلروں نے ان سے بھاری رقم وصول کرنے کے بعد انہیں غیر محفوظ راستوں پر ڈال دیا۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا کہ یہ حادثہ حکومتی اداروں اور ایف آئی اے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جب تک ایف آئی اے جیسے ادارے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہیں کریں گے، اس قسم کے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لہذا ہم ایف آئی اے کے سربراہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور آئے روز پیش آنے والے ان واقعات کی اعلٰی سطح پر شفاف تحقیقات کر کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے.

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    چوری شدہ کروڑوں مالیت کی موبائل اسیسریز مالکان کے حوالے کر دی،محمد نوید

  • سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں بڑی آ رہی ہیں، کچھ یہاں ہیں کچھ امریکہ کی ہے،کیلیفورنیا آگ بارے بھی عجیب چیز پتہ چلی ہے،کسی اگلے وی لاگ میں بتاؤں گا کہ آگ کے حوالے سے کیا کیا ہو رہا

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سیف علی خان کیس میں چیزیں سامنے نہیں آ رہیں، کرینہ کپور کے خاوند سیف پر کسی نے گھر آ کر چھری کے وار کر کے زخمی کر دیا اور وہ ممبئی کے ہسپتال میں ہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ سیف علی خان کی کمر میں اگر دو ملی میٹر اور آگے چاقو لگ جاتا تو وہ مفلوج ہو جاتے، اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے،لیکن یہ اوپن شٹ کیس نہیں ہے، انجری کا بھی اور ڈکیتی کا بھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جب پہلے ویڈیو کی تو مجھے انڈیا سے جاننے والوں کے بڑے میسج آئے کہ یہ کیا کہا، ملزم تو پکڑا گیا، میں نے کہا اگر اقبال جرم کر لے تو دوبارہ کنفرم کر دینا، اب تین دن بعد پتہ چل رہا کہ جو پکڑا تھا وہ ملزم نہیں تھا، انڈین میڈیا ایک بندے کی تصویر دکھا رہا اس نے مفلر لپیٹا ہوا منہ پر،ننگے پیر سیڑھیاں چڑھ رہا تا کہ آواز نہ آئے اور وہ جب واپس اتر رہا ہے تو اس کا مفلر اتر رہا ہے، جوتے پہنے ہوئے بیگ بھی پہنا ہوا، سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وہ جلدی میں منہ پر مفلر لگانا بھول گیا، جوتے اسکے بیگ میں ہوں گے وہ اس نے بھاگتے وقت پہن لئے، ممبئی پولیس کی تعریف کرتے رہتے ہیں ، کہ کیس حل کر لے گی، ایک آدمی جس کی تصویر بھی نظر آ گئی اس کا ڈیٹا بیس میں نام پتہ سامنے آنا چاہئے،اور وہ اسکو ڈھونڈ لیں گے لیکن ابھی تک پولیس کا یہ حال ہے وہ ملزم کا نام نہیں معلوم کر سکی،جو تصویر سامنے آ رہی وہ بھی کنفرم نہیں کہ آیا وہی ہے یا کوئی اور، اب یہ پتہ چلا ہے کہ بلڈنگ کی سیکورٹی بہت کمزور،ناکارہ ہے، گارڈ روم تک انٹرکام تک نہیں ہے، کہ اوپر سے پوچھ لیں کہ کوئی ملنے آیا ہے،وہ بھی نہیں ہے،باقی سیکورٹی کا اندازہ لگا لیں کیا ہو گا، وہ آدمی بلڈنگ کی پچھلی طرف سے آیا تو وہ تاریں کاٹ کر اوپر آیا،اندر گیا، باتھ روم میں چھپا ہوا تھا بچے کے باتھ روم میں ، اسکے بعد نرس نے اس کو دیکھا اور سو گئی، نرس پھر اٹھی تو اسکو سایہ نظر آیا وہ پوچھتی کہ کون ہو، تو وہ کہتا کہ چپ رہو، نرس شور مچاتی ہے تو وہ اس پر حملہ کرتا ہے یہ لمبی کہانی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک چینل پر ایف آئی آر دکھا رہے تھے، مجھے ہندی نہیں پڑنی آتی لیکن میں نے سنا کہ جس وقت یہ ہوا اس وقت کرینہ اور سیف اس وقت گھر کے اندر موجود تھے، تیمور بھی گھر کے اندر موجود تھا اور دیگر نوکر بھی،باقی میڈیا کہتا ہے کہ کرینہ بہنوں، دوستوں کے ساتھ تھی اور پارٹی کر رہی تھی،تھوڑی دیر کے بعد انکی فوٹیج آتی ہے کرینہ کی، وہ لگتا نہیں ہے کہ وہ پارٹی سے آ رہی ہیں، ایسے لگتا ہے کہ سونے کے کپڑے جو انسان نے پہنے ہوتے وہ پہنے ہوئے، گھر میں‌5 گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن سیف کو رکشے پر منتقل کیا گیا، الیکٹرک کار ڈرائیو کرنے کا بیٹے کو پتہ نہیں تھا،22 سال کا لڑکا ہو کر گھر کی گاڑی نہیں چلا سکتا، ایسا کیوں ہوا، سیف علی کے لئے رکشے کو روکا گیا اس کا بھی انٹرویو بھی آ گیا،سیف علی کا چھ سالہ بیٹا تیمور اپنے باپ کو ہسپتال لےکر گیا، کمال نہیں ہے،کہ ملزم گیا تو سب سو رہے تھے، ہاتھا پائی ہوئی،گالم گلوچ ہوا، چھریوں سے نرس کو زخمی کیا سب سو رہے تھے، دوسری میڈ پر حملہ ہوا، پھر سیف علی سے کروڑ روپیہ ڈیمانڈ کیا، سارے سو رہے تھے، پھر اس نے سیف پر حملہ کیا اور سات گھاؤ لگا دیئے،چھری مڑ کر ٹوٹ بھی گئی اور یہ سارے سو رہے تھے، سیف کو خون میں لت پت، چھ سالہ بچے نیچے لے کر آتا ہے، گھر میں 5 گاڑیاں، ڈرائیور کوئی نہیں، گھر میں چوکیدار ہیں، نوکرانیاں ہیں لیکن کسی نے سیف کو سہارا دے کر آٹو میں نہیں بٹھایا، رکشے والے نے کہا کہ یہ تھا اور اس کے ساتھ بچہ تھا، جب ہسپتال پہنچا تو اس وقت اس نے کہا کہ میں سیف علی خان ہوں،ڈاکٹر نے بھی یہی رپورٹ کیا کہ چھوٹا بیٹا تیمور باپ کو لے کر آیا،یہ کون لوگ ہیں کہ کوئی گھر والا نہیں آ رہا، بڑا بیٹا، نوکر،ملازمائیں نہیں آ رہیں،گارڈز نہیں آ رہے،کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں آیا،اگلے دن کی فوٹیج آتی ہے کہ کرینہ ہسپتال گئیں اور وہ پوری طرح تیار ہو کر گئیں جیسے کوئی شو ہو،پھر کچھ اور لوگ آتے اور وہ چند چند منٹ رکتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، بیوی کو وہیں کھڑے ہونا چاہئے تھا بہن کو بھی لیکن کوئی نہ رکا.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میڈ کے نام سے ایف آئی آر ہے،اور اب اسی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، پولیس نے دس اور سی بی آئی نے بھی دس ٹیمیں تشکیل دی ہیں،یعنی 20 تحقیقاتی ٹیمیں ملزم کو ڈھونڈ رہی لیکن وہ ان کو نہیں مل رہا، وہ کہ رہے کہ اس نے کپڑے اور رکھے ہوئے تھے اور بدلی کر لئے،…رکیں…سمجھ آ رہی آپ کو کچھ…سو کروڑ کا سیف نے یہ اپارٹمنٹ لیا، سو کروڑ کا مطلب پاکستانی تین سو کروڑ ہو گیا……نئی بلڈنگ ہے، سیکورٹی نہیں ہے، گارڈز کو ہوش نہیں ہے،نئی بلڈنگ میں کوئی آمدورفت کا چیک نہیں ہے، نئی بلڈنگ میں یہ ہی انکو پتہ نہیں چل رہا کہ اندر کیسے گیا اور باہر کیسے آیا،ملزم نے اگر کچھ لینا ہوتا تو بچے تک پہنچ گیا ہوتا تو اسکو یرغمال بنا لیتا لیکن اس نے نہیں کیا،وہ نکلتا ہے تو دروازے سے، دروازہ بھی کھل گیا، کیا اندر کا لاک ہے صرف؟ سیف کا گھر ہے دو تالے نہیں ہیں جس پر اس کے فنگر پرنٹ آئے ہوں، کوئی فرانزک ثبوت، کوئی تو چیز اس نے وہاں چھوڑی ہو گی، اتنا تو پکا نہیں ہو سکتا کہ کچھ نہ چھوڑے،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • چوری شدہ کروڑوں مالیت کی موبائل اسیسریز مالکان کے حوالے کر دی،محمد نوید

    چوری شدہ کروڑوں مالیت کی موبائل اسیسریز مالکان کے حوالے کر دی،محمد نوید

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو تقریباً اڑھائی کروڑ روپے مالیت کی موبائل اسیسریز کی چوری میں ملوث تھے۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں فضل عالم، ظاہر اسلام، ذاکر اللہ، اصغر علی اور زینور خان شامل ہیں۔ یہ ملزمان ایک گودام سے کروڑوں روپے مالیت کے موبائل اسیسریز کے 314 کارٹن چوری کر کے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں، ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کی شناخت اور گرفتاری کی کارروائی کو کامیاب بنایا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تمام چوری شدہ سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ برآمد ہونے والے سامان میں موبائل چارجر کے 100 کارٹن، چارجنگ کیبل کے 75 کارٹن، پاور بینک کے 100 کارٹن، 30 عدد ہینڈ فری اور 9 کارٹن موبائل کورز شامل ہیں۔ یہ سامان برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    مدعی مقدمہ نے اپنے سامان کی واپسی پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے مزید کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس کامیاب کارروائی پر انویسٹی گیشن پولیس سول لائنز کی ٹیم کو بہترین کارکردگی پر تعریفی اسناد بھی دیں۔

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

  • دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    معصوم معراج وہاب کی والدہ نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا،11جنوری 2025 کو بی ایل اے تنظیم نے تمپ میں دو بے گناہ معصوم شہریوں کو اپنی وحشت کا نشانہ بنایا،جمیل اور اس کے بھتیجے معراج وہاب کو مبینہ "ریاستی ڈیتھ اسکواڈ” سے وابستگی کے جھوٹے الزام میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا،معراج کی والدہ نے تربت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بی ایل اے کے اس وحشیانہ اقدام کی شدید مذمت کی،انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ پر کڑی تنقید کی اور اُس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ،معراج کی والدہ کا کہنا تھا کہ ماہ رنگ ریاستی ظلم پر تو آواز اٹھاتی ہیں، لیکن بی ایل اے کے وحشیانہ مظالم پر مکمل خاموشی اختیار کرتیں ہیں،

    معراج کی والدہ نے بی ایل اے کے "ریاستی ڈیتھ اسکواڈ” جیسے بے بنیاد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "معراج ایک معصوم بلوچ تھا جو ایک کالعدم تنظیم کی دہشت گردی کا شکار ہوا”پندرہ سال کی عمر میں اس نے کیا گناہ کیا تھا جو بی ایل اے نے اس کو اتنی بے دردی سے قتل کیا؟ جمیل پر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی لیکن میرے بچے کی ذمہ داری قبول کیوں نہیں کی؟، میرے بچے کا کیا قصور تھا؟ میرے بچے کا یہی قصور تھا کہ وہ سروس اسٹیشن میں گاڑی دھو کر مجھے کچھ پیسے دیتا تھا؟، میرے بچے کو بی ایل اے کے لوگوں نے قتل کیا اور قتل کرنے کے بعد ذمہ داری بھی نہیں لے رہے،بی ایل اے والے میرے بیٹے کے ہاتھ کی گھڑی اور اس کے پاؤں کے جوتے تک اتار کے لے گئے، میری ماہ رنگ بلوچ سے درخواست ہے، جو انصاف کی علمبردار بنتی ہیں، کہ مجھے بھی انصاف فراہم کیا جائے، "بی ایل اے والے مجھے بتائیں کہ میرے بیٹے نے کیا غلطی کی تھی؟ اگر وہ ایک غلطی بھی ثابت کر دیں، تو میں اپنے بیٹے کے قتل کو معاف کر دوں گی” میرا بیٹا انسان تھا، کوئی جانور نہیں جسے بے دردی سے مارا گیا، بی ایل اے نے اسے جانوروں کی طرح قتل کیا اور پھر اس کا ذمہ بھی نہیں لیا،بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جمیل ملک کے قتل کا اعتراف کیا، تو پھر وہ میرے بیٹے کی ہلاکت پر کیوں خاموش ہیں؟،

  • سندھ میں صنعتی ترقی اور معاشی بہتری کی جانب ایک اور قدم

    سندھ میں صنعتی ترقی اور معاشی بہتری کی جانب ایک اور قدم

    سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کو ایک نئی سمت دے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے سی پیک 2.0 کو فروغ ملے گا اور اس میں 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کی تکمیل سے نہ صرف معاشی ترقی ہوگی بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون منصوبے کے تحت ایک لاکھ سے زائد بلاواسطہ اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی، جو مقامی آبادی کے لیے معاشی ترقی کا باعث بنے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے مقامی افراد کو جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے کی ترقی بھی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنایا جا رہا ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سی پیک کے صنعتی تعاون کے مرحلے میں یہ مفاہمت کی یادداشت ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو پاکستان کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

    سینٹ پیٹرک ہائی اسکول میں ثقافتی دن کی مناسبت سے تقریب،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سینٹ پیٹرک ہائی اسکول آمد
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول میں ثقافتی دن کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار شاہ، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نوید انتھونی اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔اس ثقافتی دن کے پروگرام میں ملک کے مختلف صوبوں کی ثقافت کو نمایاں کیا گیا۔ بچوں نے مختلف ثقافتی ٹیبلوز پیش کیے اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی دن صرف ایک جشن نہیں ہے بلکہ یہ افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن رنگارنگی کے ورثے کو منانے اور روایات سے سیکھنے کا دن ہے، جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ متحد رکھتا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری اجتماعی شناخت کی ثقافت ہمیں ایک منفرد دھاگے میں پروئے رکھتی ہے اور ہم اسی ثقافت کے ذریعے اپنے وطن کی حقیقی تفہیم کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ورثہ صرف سندھ، پنجاب، بلوچستان یا خیبرپختونخوا تک محدود نہیں بلکہ پورا پاکستان ہمارا ورثہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منفرد شناختوں کا حامل ہمارا ملک ہم آہنگی کی ایک بڑی مثال ہے اور ہمیں اپنی مشترکہ ثقافت کو ہمیشہ اپنی شناخت کے طور پر اپنانا چاہیے۔

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

  • ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناشتے میں شرکت کریں گے۔ بلاول بھٹو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

    شہلا رضا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لیے سب سے اہم پاکستان کی سلامتی اور وقار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سیاسی اور سفارتی آداب سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔موجودہ پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو پاکستان کے معاشی اور اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا عالمی سطح پر اثرورسوخ اور ان کی سفارتی مہارت پاکستان کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اور دیگر متعلقہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ذاتی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب 20 جنوری کو ہوگی،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کا تقرر کردیا

  • ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کا ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا، تاہم سیف کی اہلیہ کرینہ کپور نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا ہے

    کرینہ کپور نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ سیف پر حملہ کرنے والے شخص کا رویہ جارحانہ تھا تا ہم ملزم نے گھر میں رکھے زیورات سمیت کسی بھی قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہیں لگایا،نہ ہی سامان کے بارے میں پوچھا، وہیں انکی ملازمہ نے انکشاف کیا کہ ملزم نے ایک کروڑ روپے مانگے تھے،کرینہ کپور نے پولیس کو بیان میں کہا کہ حملہ آور انتہائی پرتشدد تھا تاہم اس نے کسی بھی قیمتی چیز کو ہاتھ نہ لگایا،نہ ہی زیوارت کی طرف گیا،پولیس نے اس کیس میں اداکار سیف علی خان کا بیان ابھی تک ریکارڈ نہیں کیا،

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے سیف علی خان کی گردن اور دیگر حصوں پر متعدد بار چاقو کے وار کیے، جس سے انہیں شدید زخمی حالت میں لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی فوری طور پر سرجری کی گئی۔پولیس نے اس حملے کی تحقیقات کے لیے 20 سے زائد ٹیمیں تشکیل دی ہیں لیکن دو دن گزرنے کے باوجود ملزم گرفتار نہ ہو سکا، پولیس حملہ آور کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے، عینی شاہدین کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حملہ آور کی شناخت ممکن ہو سکے۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • کراچی میں کرونا نے پھر سر اٹھا لیا

    کراچی میں کرونا نے پھر سر اٹھا لیا

    شہر قائد میں نزلہ، کھانسی اور بخار کے مریضوں میں کورونا وائرس کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہر متعدی امراض، پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ کراچی میں بڑی تعداد میں لوگ نزلہ، کھانسی اور بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں، اور ان کے ٹیسٹ کرنے پر تقریباً 25 سے 30 فیصد مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے۔پروفیسر سعید خان نے مزید کہا کہ 10 سے 12 فیصد مریضوں میں انفلوئنزا ایچ 1 این 1 کی موجودگی بھی پائی جا رہی ہے، جب کہ 5 سے 10 فیصد بچوں میں سانس کی نالی کے انفیکشن کی تصدیق ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا، انفلوئنزا ایچ 1 این 1 اور سردیوں کے دیگر وائرل انفیکشن کی علامات بہت ملتی جلتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر مریض ٹیسٹ نہیں کرواتے اور بیماری کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔

    کراچی میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے سبب نزلہ، زکام اور کھانسی کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایڈیشنل ایم ایس ڈاکٹر نظام شیخ کے مطابق، سول اسپتال میں یومیہ 200 مریض وائرل انفیکشن کے سبب آ رہے ہیں، جبکہ جناح اسپتال میں بھی یومیہ 150 سے 200 مریض وائرل انفیکشن کے شکار ہو رہے ہیں۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کراچی میں اسموگ کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر انفیکشنز میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کے ترجمان نے بتایا کہ اس وقت کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، اور کورونا وبا کے بعد لوگوں نے ٹیسٹ کروانے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔

    طبی ماہرین نے شہریوں کو وائرل انفیکشنز اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننے، خود کو ڈھانپ کر رکھنے اور سینیٹائزر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے ہر سال انفلوئنزا کی ویکسین لگوانے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔مجموعی طور پر، ماہرین نے سردیوں میں وائرل انفیکشنز کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن