Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور، 5 اکتوبر اور نومئی کو پولیس پر تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس توڑ پھوڑ کا مقدمہ ،عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دونوں بہنوں کی حاضری کے لیے کیس انتظار میں رکھ لیا ،عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی ضمانتوں میں 15 فروری تک توسیع کر دی ،سلمان اکرم راجہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر تفتیش مکمل کر کے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کریں عدالت ،پی ٹی آئی رہنما علی امتیاز ،ندیم نے عباس بارا عدالت پیش ہو کر حاضری لگائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ اسلام پورہ ،لاری اڈا اور تھانہ مستی گیٹ میں مقدمات درج ہیں

    بعد ازاں علیمہ خان اور عظمی خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے،علیمہ خان نے کہا کہ ہم لوگ 22 ماہ سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں،اسلام آباد سے صبح صبح عدالت میں پیش ہونے کے لیے آتے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ کیس میں بحث کریں میں آج ہی فیصلہ کر کے جاؤں گا، ریکارڈ آیا ہے کہ نہیں آیا یہ آپکا مسئلہ ہے میں اسکو آج ہر حال میں سن کر فیصلہ کروں گا،وکیل علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں 10 منٹ دیں، تیاری کر کے دلائل مکمل کر لیتے ہیں، عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا

    بانی پی ٹی کی بہنوں کے خلاف پانچ اکتوبر اور نو مئی کے دو مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے وکیل نے درخواست ضمانتوں پر دلائل مکمل کر لیے،عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے 12 فروری کو طلب کر لیا ،جج نے کہاکہ 12 فروری کو دلائل سن کر اور ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا۔علیمہ کے وکیل نے کہا کہ دونوں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہیں اس وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا ، عدالت ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے ، پراسیکیوشن نے دلائل کے لیے مہلت طلب کر لی ،عدالت نے کہا کہ ہم نے کیس صبح سے انتظار میں رکھا ہوا اب آپ تاریخ کی بات کر رہے ہیں ،پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے ،انسداد دہشت گردی عدالت نے کاروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی

    نظام کے اوپر ہمیں افسوس،ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے،علیمہ خان
    عدالت پیشی کے موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جب فیصلہ سنا تو ہنس پڑے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اچھا 14 سال ہے ۔ اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے کیا۔تو انھوں نے کہا کہ نہیں زیادہ سے زیادہ 14 سال ہی ہوتی ہے،عمران خان اتنے بڑے لیڈر ہیں، ہم پریشان ہو رہے تھے، نظام کے اوپرہمیں افسوس ہو رہا تھا،عمران پر اس لئے کیس بنا رہے کہ باہر آ کر لوگوں سے نہ ملے، ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے، اللہ کا نظام سب سے بڑا نظام ہے،اینکرز نے 2 روز پہلے ہی فیصلہ بتا دیا تھا، ایسا کرتے جج کی جگہ اُنہیں ہی بٹھا دیتے

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

  • سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیوندرا فدنویس نے ممبئی میں بھارتی اداکار سیف علی خان پر ہونے والے چاقو حملے کے بارے میں کہا ہے کہ پولیس کو اس معاملے میں کچھ اہم سراغ ملے ہیں اور وہ اس پر کارروائی کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کیس میں جلد بریک تھرو حاصل ہوگا۔

    ممبئی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کے دوران بتایا کہ حملہ آور چوری کی نیت سے سیف علی خان کے گھر میں داخل ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق، سیف علی خان کو اپنے اہل خانہ کو بچاتے ہوئے چھ جگہوں پر چاقو کے وار ہوئے، تاہم اس وقت تک کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور نے پولیس سے بچنے کے لیے اپنا لباس تبدیل کر لیا تھا، اور ان کے پاس حملہ آور کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ تحقیقات میں اس ملزم کی تلاش جاری ہے۔

    اداکار سیف علی خان، جنہیں ان کے ممبئی کے پوش علاقے میں واقع اپارٹمنٹ میں چوری کی نیت سے حملہ کیا گیا تھا، ریڑھ کی ہڈی کی سنگین چوٹ سے بچنے میں کامیاب ہوئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، حملے میں سیف علی خان کے گردن اور کندھے سمیت دیگر حصوں پر 6 زخم آئے تھے، جن میں سے ایک زخم اتنا گہرا تھا کہ اگر چاقو مزید 2 ملی میٹر اندر چلا جاتا تو ان کی حالت بہت سنگین ہو سکتی تھی۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ سیف علی خان کی ریڑھ کی ہڈی پر 5 گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا اور ان کے جسم سے 2.5 انچ کا چاقو نکال لیا گیا۔ خوش قسمتی سے، وہ فالج سے بچ گئے ہیں اور اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔ ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور درد میں کمی آئی ہے۔ ڈاکٹروں نے مزید کہا کہ انہیں آئی سی یو سے منتقل کر کے ایک خاص کمرے میں رکھا گیا ہے، جہاں ایک ہفتے تک ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    سیف علی خان کی حالت بہتر ہونے کی خبریں سن کر ان کے مداحوں اور بالی ووڈ انڈسٹری کے افراد نے راحت کی سانس لی ہے، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے حملہ آور کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • کراچی،ٹریفک حادثہ ، شادی پر جانے والے خاندان کے 17افراد زخمی

    کراچی،ٹریفک حادثہ ، شادی پر جانے والے خاندان کے 17افراد زخمی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس موڑ پر دو گاڑیوں میں ہونے والے تصادم میں ایک شخص جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور یہ تمام افراد شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

    حادثہ ڈیفینس موڑ کے قریب ایک پک اپ وین اور کار کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا۔ زخمیوں کی تعداد 18 تھی، جن میں سے وین کا 25 سالہ ڈرائیور حماد دوران علاج دم توڑ گیا۔ باقی زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جو لائنز ایریا سے کورنگی میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران بتایا کہ تصادم ممکنہ طور پر کار کی تیز رفتاری کی وجہ سے ہوا۔ حادثے کے فوراً بعد کار کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے حادثے کی جگہ سے دونوں گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا ہے اور فرار ہونے والے کار کے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    لوگوں کی جاگیروں کے جعلی کاغذات بنانے والا پراپرٹی ڈیلر گرفتار

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

  • مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ 20 افراد فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے سینیگال گئے تھے، جن میں سے 8 جاں بحق ہوگئے جبکہ 12 کو بچایا گیا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) حکام نے اس سانحے کے متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ان افراد کا تعلق مختلف شہروں سے ہے، اور ان میں سے کچھ افراد وزٹرز اور ٹورسٹ ویزا پر سفر کر رہے تھے، جبکہ کچھ عارضی رہائشی ویزا پر سینیگال گئے تھے۔ 7 افراد فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جن میں 1 فرد عارضی رہائشی ویزا پر تھا، جبکہ 6 افراد ٹورسٹ ویزا پر ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے کراچی سے سینیگال روانہ ہوئے۔ علاوہ ازیں، 2 افراد نے عمرہ ویزا پر 18 ستمبر کو لاہور سے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ 9 افراد کا تعلق گجرات سے تھا، جن میں سے 5 کو بچا لیا گیا جبکہ 4 افراد حادثے کا شکار ہوئے۔ منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی اس حادثے میں شامل تھے، جن میں سے 3 جاں بحق ہوگئے جبکہ 3 کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح، شیخوپورہ کے 3 افراد اور سیالکوٹ کا ایک شخص بھی بچا لیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ کے ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔

    یہ تمام افراد مئی سے ستمبر کے دوران سینیگال اور سعودی عرب کا سفر کر رہے تھے۔ ان مسافروں میں سفیان، غلام مصطفی، مہتاب الحسن، رئیس افضل جیسے افراد شامل ہیں، جو فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جبکہ علی حسن اور حامد شبیر بھی اسی سفر پر فیصل آباد سے روانہ ہوئے تھے۔

    حکومت نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی میں 4 ارکان شامل ہوں گے، جو اس حادثے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور اس پر رپورٹ مرتب کریں گے۔

    یاد رہے کہ یہ کشتی حادثہ جمعرات کو موریطانیہ کے ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جب غیرقانونی طور پر اسپین جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور کشتی میں سوار 86 تارکین وطن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ مراکشی حکام کے مطابق، اس حادثے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔یہ سانحہ ایک اور سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

  • دنیا کو  پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اور چینی صدر شی جن پنگ دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اچھا ہوگا اور دونوں ممالک کی قیادت مستقبل میں مزید مثبت تعاون کے لیے مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عالمی طاقتیں ہیں اور ان کے تعلقات دنیا کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    بعد ازاں، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ اور شی جن پنگ مل کر مختلف مسائل جیسے تجارت، فینٹانل، ٹک ٹاک اور دیگر عالمی امور پر بات چیت کریں گے اور ان کا حل نکالیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہ عزم ہے کہ وہ اس کام کا آغاز فوری طور پر کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کے لیے بہترین حل تلاش کیا جا سکے۔

    دریں اثناء، نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ تاہم، شدید سردی کی پیشگوئی کی وجہ سے اس بار ان کی حلف برداری کی تقریب انڈور یعنی اندرونِ عمارت منعقد ہونے کا امکان ہے۔ حکام سرد موسم کے باعث مہمانوں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ تقریب حلف برداری کا انڈور ہونا اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل، 1985 میں صدر رونلڈ ریگن کی حلف برداری کے دوران بھی شدید سردی کے باعث یہی فیصلہ کیا گیا تھا۔

    طلاق کی افواہیں، اوباما کی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ بھری تصویرجاری

    کراچی کے تین نوجوانوں کا گھوٹکی سے اغوا، سندھ حکومت کی فوری کارروائی کی یقین دہانی

  • طلاق کی افواہیں، اوباما کی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ بھری تصویرجاری

    طلاق کی افواہیں، اوباما کی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ بھری تصویرجاری

    امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے اپنی اہلیہ مشعل اوباما کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر جاری کر کے طلاق کی افواہوں پر قدغن لگا دی ہے۔ یہ تصویر مشعل اوباما کی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر شیئر کی گئی، جس میں باراک اوباما نے انہیں اپنی زندگی کی محبت قرار دیا۔

    باراک اوباما (63 سال) اور مشعل اوباما (61 سال) گزشتہ 30 برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں، اور ان کے تعلقات ہمیشہ عوامی نظر میں مثالی رہے ہیں۔ تاہم، پچھلے کچھ ماہ سے، باراک اوباما کئی اہم موقعوں پر تنہا نظر آئے تھے، جس کے بعد طلاق کی افواہیں زور پکڑنے لگیں۔مثال کے طور پر، سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی آخری رسومات میں بھی مشعل اوباما نے شرکت نہیں کی تھی، اور اسی طرح نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں بھی مشعل اوباما کا نام نہ تھا۔ ان تمام واقعات نے افواہوں کو مزید تقویت دی۔تاہم، باراک اوباما نے ان افواہوں کا جواب دینے کے لیے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک مسکراہٹ بھری تصویر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا کہ "مشعل جس جگہ بھی ہوں گی، وہ کمرہ گرمجوشی، ذہانت، مسکراہٹوں اور شائستگی کی عبارت ہوگا۔”

    مشعل اوباما نے بھی جوابی پیغام میں اپنے شوہر کے لیے محبت کا اظہار کیا، اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے رشتہ کی مضبوطی اور محبت کا یقین دلا کر تمام افواہوں کو ختم کر دیا۔یہ تصویر اور پیغام دونوں کے درمیان ایک مضبوط پیغام تھا کہ ان کا رشتہ اب بھی مضبوط اور پائیدار ہے، اور ان افواہوں کا کوئی حقیقت سے تعلق نہیں۔

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

    پی آئی اے نے پیرس پرواز کے اشتہار پر معافی مانگ لی

  • گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

    پاکستان میں گیس کی خریداری اور فروخت کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی ہوئی ہے۔ سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہو گئی ہے اور یہ گیس کا سیکٹر باضابطہ طور پر کھول دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اس تبدیلی کے نفاذ کا فریم ورک جاری کر دیا ہے، جس کے تحت نجی شعبے کو گیس کی فروخت کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    اس نئے فریم ورک کے مطابق، نجی کمپنیاں اب گیس کی فروخت کر سکیں گی، اور ایلنک نے اس کی ایک حد بھی مقرر کی ہے۔ اس کے تحت، نجی کمپنیاں ہر سال 100 ملین مکعب فٹ گیس فروخت کر سکیں گی۔ اس اقدام سے گیس کے شعبے میں مسابقتی ماحول پیدا ہوگا اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔نئی پالیسی کے تحت، تلاش اور پیداوار کمپنیوں کی پالیسی کو سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس شعبے میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کونسل آف کامن انٹرسٹ (CCI) نے 26 جنوری 2024 کو 2012 کی پالیسی میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس ترمیم کے تحت تلاش و پیداوار کی کمپنیوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی پائپ لائن کا 35 فیصد حصہ تھرڈ پارٹی (نجی شعبہ) کو فروخت کر سکیں، بشرطیکہ اس تھرڈ پارٹی کے پاس اوگرا لائسنس موجود ہو۔اس نئی پالیسی کے مطابق، گیس کی قیمتوں میں مسابقتی عمل شروع ہوگا، اور نجی کمپنیوں کو حکومت کی منظوری کے بغیر اپنی قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ یہ قیمتیں کنوئیں کے کنارے پر آنے والی قیمت سے کم نہ ہوں۔

    یہ فیصلہ تمام موجودہ لائسنس یافتہ اور لیز یافتہ کمپنیوں کے لیے ہے جو کہ 1998، 2001، 2009، اور 2013 کی پالیسی کے تحت لائسنس یافتہ ہیں اور جنہیں ابھی تک گیس کی فروخت کا علاقہ نہیں دیا گیا۔ یہ علاقے سی سی آئی کی منظوری کے بعد مختص کیے جائیں گے۔یہ اقدام پاکستان کے گیس سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور گیس کی خریداری اور فروخت میں مسابقتی ماحول پیدا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔

    کراچی کے تین نوجوانوں کا گھوٹکی سے اغوا، سندھ حکومت کی فوری کارروائی کی یقین دہانی

    اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی غزہ سیز فائر معاہدے کی توثیق

  • نیازی کا عوام کے سامنے ایمانداری کا ڈھونگ مزید نہیں چل سکتا، شرجیل میمن

    نیازی کا عوام کے سامنے ایمانداری کا ڈھونگ مزید نہیں چل سکتا، شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کا منصوبہ نیب کے ذریعے ملک پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کا تھا۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نیب کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا اور ملک میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کی۔شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات ایک بہت بڑی چارج شیٹ ہیں، اور وہ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا، "آپ چور ہو، عوام کو اب مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔” شرجیل میمن نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کے رہنما فرح گوگی، مالم جبہ، اور کے پی بی آر ٹی کیسز کا دفاع کر سکتے ہیں؟ ان کیسز میں سنگین الزامات ہیں اور عوام کو ان کی حقیقت سمجھنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ عوام کو آنکھیں کھولنی ہوںگی کیونکہ ایمانداری کا جو ڈھونگ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے رچایا ہے، وہ مزید نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کے حامیوں کے جھوٹ اور کرپشن کا پردہ فاش ہوچکا ہے اور اب عوام کی آگاہی کی ضرورت ہے۔

    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کرپشن کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی ترقی میں ان کا کردار اور ایمانداری ثابت ہوچکی ہے۔

    44 تارکین وطن کی شہادت حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ڈاکٹر مزمل ہاشمی

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

  • 44 تارکین وطن کی شہادت  حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ڈاکٹر مزمل ہاشمی

    44 تارکین وطن کی شہادت حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ڈاکٹر مزمل ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے موریطانیہ سے اسپین جانے والی کشتی کے المناک حادثے میں 44 پاکستانیوں کی شہادت پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم نہ کرنے کی وجہ سے سینکڑوں ماؤں کے لال ہر سال جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ حکومت کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دینی چاہیے جو بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر ٹاؤن میں تنظیمی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ اللہ پاک جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور متاثرہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں