Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    1980 کی دہائی میں ساحل پرلی گئی تصویر،40 برس بعد3 بہنوں نے دوبارہ بنا لی

    تین بہنوں کی ایک پرانی تصویر، جو 1980 کی دہائی میں ساحل پر خوشی خوشی ہنستی ہوئی لی گئی تھی، تقریباً 40 سال بعد دوبارہ تخلیق کی گئی۔ یہ تصویر ایک ایسے وقت کی یاد دلاتی ہے جب ان تینوں بہنوں نے انگلینڈ کے جنوبی ساحلی علاقے کیسل بیچ پر آلو کے چپس کھاتے ہوئے پکنک کا لطف اٹھایا تھا۔ آج جب وہ تینوں خواتین دوبارہ یہ تصویر تخلیق کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو یہ نہ صرف ایک یادگار لمحہ بنتی ہے، بلکہ ایک جذباتی اور دل کو چھو لینے والی کہانی بن جاتی ہے۔

    کیسل بیچ کی یادیں اور محبت بھرا رشتہ
    یہ تینوں بہنیں، پامیلا کک، ٹریسی ویگڈ اور ایلن میک کارٹی، بچپن میں انگلینڈ کے ساحلی علاقے فالموتھ کے کیسل بیچ پر سمر کی تعطیلات گزارتی تھیں۔ ان کی یادیں اس ساحل سے جڑی ہوئی ہیں جہاں وہ اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ ساحل پر کھیلتی، سوئمنگ کرتی اور خوش گپیوں میں وقت گزارتیں۔ ایک چھوٹے سے محنت کش خاندان میں پروان چڑھنے کے باوجود، ان بہنوں کی زندگی میں محبت، خوشی اور ایک دوسرے کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہی۔کک بتاتی ہیں، "ہم کبھی بھی غیر ملکی تعطیلات کے بارے میں نہیں سوچتے تھے۔ ہمارے لئے کیسل بیچ کی خوبصورتی اور یہاں کا ماحول ہی سب کچھ تھا۔ ہمیں اسپین یا فرانس کے ساحلوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔” ان کی زندگی کا ہر لمحہ، چاہے وہ ساحل پر ہوتا یا گھر میں، ان کے آپس کے رشتہ کی گہرائی اور محبت کو ظاہر کرتا تھا۔

    تصویر کا دوبارہ تخلیق کرنے کا ارادہ
    کک نے کئی سالوں تک اپنی بہنوں سے کہا کہ وہ اس یادگار تصویر کو دوبارہ تخلیق کریں جو 1980 کی دہائی کے قریب کیسل بیچ پر لی گئی تھی۔ اس تصویر میں تینوں بہنیں خوشی سے ہنستی ہوئی، ایک دوسرے کے گرد بازو ڈالتے ہوئے، پکنک کمبل پر بیٹھی ہوتی ہیں اور آلو کے چپس کھا رہی ہوتی ہیں۔ یہ تصویر نہ صرف ایک خوشگوار لمحہ تھی بلکہ ان کے آپس کے رشتہ کی پختگی کو بھی ظاہر کرتی تھی۔”ہم نے طے کیا تھا کہ یہ تصویر ہمیں دوبارہ بنانی چاہیے کیونکہ یہ ہماری بہنوں کے رشتہ کی عکاسی کرتی تھی، اور ہم چاہتے تھے کہ یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے,” کک نے کہا۔

    تصویر کی تخلیق: سرد موسم میں بھی محبت کا لمحہ
    آخرکار، ایک دن جب تینوں بہنیں دوبارہ کیسل بیچ پر پہنچیں، تو موسم قدرے ابر آلود تھا۔ اس کے باوجود، وہ سمندر میں ڈبکی لگانے کی خواہش رکھتے ہوئے پہلے پانی میں اتر گئیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے بچپن کے یادگار لمحوں کا لطف اٹھائیں۔ سرد موسم اور ابر آلود موسم کے باوجود، ان کا جذبہ غیر متزلزل تھا۔ساحل پر واپس آ کر، انہوں نے تصویر کی تخلیق کی تیاری شروع کی۔ تاہم، ان کے لیے یہ عمل اتنا آسان نہیں تھا۔ کچھ چھوٹی چھوٹی مشکلات تھیں جیسے کہ سوئمنگ سوٹس کا رنگ ایک جیسا نہ ہونا اور ساحل پر کچھ تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ لیکن ان بہنوں نے اس کے باوجود اس تصویر کو تخلیق کرنے کا عزم نہیں چھوڑا۔”میں نے اپنے سوئمنگ سوٹ کا رنگ غلط انتخاب کیا تھا، لیکن ہم نے پھر بھی اس تصویر کو دوبارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے یہ چاہا کہ یہ لمحہ دوبارہ جینا ممکن ہو،” کک نے کہا۔

    تصویر کے لیے ایک فوٹوگرافر کی تلاش میں، کک نے ساحل پر واقع کیفے کی کالج کی ایک طالبہ، جیس لوئڈل سے مدد کی درخواست کی۔ جیس نے نہ صرف ان کی تصویر کے لیے رہنمائی فراہم کی بلکہ ان کے مسکراہٹوں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا، جو اصل تصویر میں ظاہر ہو رہی تھیں۔ یہ لمحہ ان بہنوں کے لیے انتہائی جذباتی تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی یادوں کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے اس تصویر کو تخلیق کیا۔”ہم نے اس لمحے کو اس لیے دوبارہ تخلیق کیا تھا تاکہ ہم اپنے رشتہ کی اہمیت اور ایک دوسرے کے ساتھ گزارے گئے وقت کو ہمیشہ یاد رکھیں،” کک نے کہا۔

    جب تینوں بہنیں اپنی تخلیق کردہ تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں، تو نہ صرف ان کے دوستوں اور خاندان والوں نے اس تصویر کو پسند کیا، بلکہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر ایک وائرل ٹرینڈ بن گئی۔ ان کی تصاویر نے دوسروں کو بھی اپنے پسندیدہ لمحوں کو دوبارہ تخلیق کرنے کی ترغیب دی۔ویگڈ نے کہا، "ہم نے یہ تصویر اپنے لیے بنائی تھی، لیکن جب لوگوں نے اس پر اتنا مثبت ردعمل دیا، تو یہ ایک خوشگوار اور حیران کن تجربہ تھا۔”

    میک کارٹی کے ڈیمنشیا کی تشخیص نے اس بہنوں کے رشتہ کو اور بھی زیادہ قیمتی بنا دیا ہے۔ ویگڈ نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ نہیں رہتی، اور اسی لیے ہم نے اس لمحے کو قید کیا تاکہ جب بھی ہم اسے دیکھیں، ہمیں اپنی محبت اور خوشی یاد آئے۔”کک نے آخر میں کہا، "ہم نے اس تصویر کو صرف اپنے لیے تخلیق کیا تھا، لیکن جب ہم نے اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کیا، تو یہ ایک خوشگوار تجربہ بن گیا۔”

    یہ کہانی صرف تین بہنوں کی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پیغام ہے کہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔ ان بہنوں نے اپنی تصویر کو دوبارہ تخلیق کر کے ہمیں یہ سکھایا کہ یادیں کبھی نہیں مٹتیں، اور ہمیں اپنے رشتہ کی خوبصورتی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ ان کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ محبت، خوشی اور تعلقات کبھی پرانے نہیں ہوتے، اور ان کو دوبارہ تخلیق کرنا کبھی دیر نہیں ہوتی۔

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، کارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    عمران،بشریٰ کو سزا،ن لیگی کارکنان کا پنجاب میں جشن،مٹھائیاں تقسیم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز  کے ناموں کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی نامزدگی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے 4 ممکنہ امیدواروں میں سے دو کے ناموں کی منظوری دی۔ ان میں سے ایک نام سیشن جج اعظم خان کا ہے، جبکہ دوسرے نام سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، راجہ انعام امین منہاس کا ہے۔کمیشن کے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ان ناموں کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔

    یہ فیصلہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی عدلیہ میں مزید بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں سہولت حاصل ہو سکے۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

  • شاہد خاقان عباسی کے گھر اپوزیشن کی بیٹھک،مل کر چلنے کا فیصلہ

    شاہد خاقان عباسی کے گھر اپوزیشن کی بیٹھک،مل کر چلنے کا فیصلہ

    اپوزیشن رہنماؤں کی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے گھر بیٹھک ہوئی،عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تحریک تحفظ آئین کے قائدین کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس دوران شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے اسد قیصر، عمر ایوب، ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا کوآئین کی بالادستی کے حوالے سے مل کر چلنے کی دعوت دی۔

    شاہد خاقان عباسی نے اس بات کا اظہار کیا کہ تین بڑی سیاسی جماعتیں نئے نظریات دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی دعوت آئین کی بالادستی کے لیے بہت اہم ہے اور ہماری جماعت اس پر مشاورت کرے گی۔عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہیں یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر جماعتیں بھی اس تحریک میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین کی حفاظت اور اس کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں استحکام اور جمہوریت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔شاہد خاقان عباسی نے اپنی گفتگو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین کی حفاظت اور اس کے اصولوں کی پاسداری کے لئے ان کی جماعت بھرپور کوشش کرے گی اور آئین کو بالاتر سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس موقع پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے آج ون پوائنٹ ایجنڈا بنا لیا ہے ۔ اور ہماری خواہش یہ ہے کہ دو تین ہفتے میں تمام طبقات کی خاص طور پر پولیٹیکل پارٹیز کو اکٹھا کیا جائے اور ایک مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کیا جائے کہ کس طرح ہم نے اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے ۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

  • پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، کارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، کارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے اور کارگو کی ٹریکنگ کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیراعظم نے کراچی اور تجارت کے دیگر بڑے مراکز پر عالمی معیار کے کارگو سکیننگ کا نظام قائم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تجارتی مراکز سے ٹریکنگ، ٹریسنگ اور سکیننگ کے متروک نظام ختم کر کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل نظام کا نفاذ یقینی بنایا جائے، کارگو ٹریکنگ کی خدمات مہیا کرنے والے اداروں کی معیار کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، ٹریکنگ کے نظام میں بہتری سے سمگلنگ میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے، اسمگلنگ روکنے کی بدولت اس سال افغانستان کو 211 ملین ڈالر کی چینی کی برآمد ممکن ہوئی، مواصلات کے مربوط نظام اور کارگو کی بہتر ٹریکنگ سے پاکستان علاقے کے دیگر ممالک کیلئے راہداری تجارت کا مرکز بنے گا،

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، چیرمین ایف بی آر اور اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی.

    عمران،بشریٰ کو سزا،ن لیگی کارکنان کا پنجاب میں جشن،مٹھائیاں تقسیم

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

  • عمران،بشریٰ کو سزا،ن لیگی کارکنان کا پنجاب میں جشن،مٹھائیاں تقسیم

    عمران،بشریٰ کو سزا،ن لیگی کارکنان کا پنجاب میں جشن،مٹھائیاں تقسیم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے سزا سنا دی گئی ہے۔ عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سنایا۔

    پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کو سزا کے اعلان کے ساتھ ہی ن لیگ کے کارکنان کی جانب سے جشن منانے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ویڈیوز میں ن لیگ کے کارکنان ایک دوسرے کو ہار پہنا کر اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت گوجرانوالہ، قصور،اوکاڑہ،ساہیوال،جہلم سمیت کئی شہروں میں ن لیگی کارکنان نے جشن منایا اور نواز شریف، شہباز شریف کے حق میں نعرے بازی کی،لیگی ایم پی اے میاں عمران جاوید اور بی بی و ڈیری کی جانب سے باگڑیاں میں مٹھائی تقسیم کی گئی ،متوالوں نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے بازی کی،میاں عمران جاوید نے کارکنان کے ہمراہ گھڑی چور کے نعرے لگوائے اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی کرپشن کی حقیقت عوام کےسامنے آ چکی ہے ۔

    گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے کارکنان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد جشن منایا۔ مختار کالونی میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے۔کارکنان نے خوشی کے اظہار کے طور پر مٹھائیاں تقسیم کیں اور اس موقع پر نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں نعرے بازی کی۔ جشن کے دوران ن لیگی کارکنان نے "نواز شریف زندہ باد” اور "شہباز شریف زندہ باد” کے نعرے بلند کیے۔یہ جشن اس بات کا غماز تھا کہ مسلم لیگ ن کے کارکن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو اپنی سیاسی جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اس موقع پر حکومت کے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی اور اسے انصاف کا عمل قرار دیا۔اس موقع پر علاقے میں امن و امان کی صورت حال معمول پر رہی، تاہم جشن منانے والے کارکنوں کی بڑی تعداد کی موجودگی نے مختار کالونی کو ایک پرجوش اور سرگرم ماحول میں تبدیل کر دیا۔

    عدالتی فیصلے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا پر مزید قانونی مشاورت جاری ہے، اور ان کی جماعت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا.

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کل القادر یونیورسٹی کی طالبات کی ویڈیو میرے پاس آئی کہ ہمیں بھی اسکالر شپ دیں اور آج یونیورسٹی میرے پاس آ گئی، اب وہاں مذہب کی تعلیم بھی دی جائےگی، دنیاوی بھی، جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا،

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں تقریب کے دوران خصوصی طلبہ نےمریم نواز سے ہاتھ ہلا کر محبت کا اظہارکیا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی،آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی یہ پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی ہے، آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہے جس میں نوازشریف اور میں قید تھے،میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولتیں مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں

    ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی،مریم نواز
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کل میں فیصل آباد میں تھی، ایک بچے نے کہا کہ ہم نے سُنا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، آج ہم نے وزیراعلیٰ کے روپ میں یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جن بچوں کو پٹرول بم چلانا سکھایا ہے، وہ آج جیلوں میں سڑ رہے ہیں،اللہ کا فضل دیکھو، آج 190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ آیا، ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی ہے، القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی، نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیں، جنہیں آج ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اوکاڑہ یونیورسٹی میں بھی تصاویر لانے والی طالبات کو سٹیج پر بلا لیا،مریم نواز نے طالبات کو دیکھا اور کہا کہ کیا ہے بیٹا، آ جائو، ہائو نائس، آپ نے بنائی ہے، تھینک یو سو مچ، طالبہ نے سٹیج پر آ کر مریم نواز کو ہاتھوں میں گجرا پہنا دیا، مریم نواز بولیں اوہ سو سویٹ،

    دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

  • دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    دنیا بھر میں اسمارٹ فون اسکامز کے بڑھتے ہوئے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ عام شہری ہو یا عالمی رہنما، ان دھوکہ دہی کی کالز سے محفوظ نہیں ہے۔

    حال ہی میں تھائی لینڈ کی وزیرِاعظم پیتونگٹارن شیناوترا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں بھی ایک فون کال موصول ہوئی تھی، جو ایک مصنوعی ذہانت سسٹم سے تھی اور اس میں کسی مشہور عالمی رہنما کی آواز میں پیسوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔پیتونگٹارن شیناوترا نے کہا کہ انہیں یہ کال ایسی آواز میں آئی تھی جو کسی معروف عالمی رہنما کی آواز سے ملتی جلتی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ "آواز بہت واضح تھی، اور میں نے فوراً پہچان لیا۔ پہلے ایک وائس کلپ آیا جس میں کہا گیا، ‘آپ کیسے ہیں؟ میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہوں’، اور پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔”انہوں نے کہا کہ کچھ دیر بعد اسی نمبر سے ایک اور کال آئی جسے وہ اٹھا نہ سکیں، لیکن بعد میں ایک وائس میسج آیا جس میں کہا گیا، "آپ وہ واحد ملک ہیں جو ابھی تک (جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم) ASEAN میں سے کسی نے بھی عطیہ نہیں کیا،” اور اس پر زور دیا گیا۔ پیتونگٹارن نے کہا کہ انہیں کچھ وقت کے لئے یہ سمجھنے میں دیر لگی کہ کچھ تو غلط ہے۔پیتونگٹارن نے یہ بھی کہا کہ جو شخص یہ پیغام بھیج رہا تھا، وہ شاید کسی عالمی رہنما کی آواز کو نقل کرنے کے لئے اے آئی کا استعمال کر رہا تھا۔

    جنوب مشرقی ایشیا میں اسکام سینٹرز اور دھوکہ دہی کے واقعات نیا نہیں ہیں۔ حالیہ برسوں میں، تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی جرائم کے نیٹ ورک نے تکنیکی ترقیات اور میانمار کی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اربوں ڈالر کی انڈسٹری بنا لی ہے، جو دنیا بھر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔

    جنوری میں، ایک چینی اداکار کو بینکاک بلایا گیا تھا، جسے یہ گمان تھا کہ یہ کسی فلم کے لئے کاسٹنگ کال ہے، لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو اسے میانمار کے شہر میاواڈی میں موجود ایک اسکام سینٹر میں لے جایا گیا، جو تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب ایک بدنام زمانہ سائبر فراڈ ہب ہے۔یہ مسئلہ ہزاروں عام لوگوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے، جو تھائی لینڈ میں سفید کالر نوکریوں کے وعدے کے ساتھ آتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں میانمار کے مجرمانہ مراکز میں لے جایا جاتا ہے جہاں وہ زبردستی کرپٹو کرنسی چوری کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔

    زیادہ تر اسکامز فون کالز اور روایتی پیغامات کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لاکھوں لوگ ایسے اسکامز کا شکار ہو سکتے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت ان کی آواز کو نقل کرکے دھوکہ دہی کی جاتی ہے۔گذشتہ سال، OpenAI نے اپنی آواز کی نقل کرنے والی ٹول "Voice Engine” کا تعارف کیا تھا، تاہم اس نے اسے عوام کے لئے دستیاب نہیں کیا تھا کیونکہ اس میں "مصنوعی آواز کے غلط استعمال کا امکان” تھا۔

    پیتونگٹارن شیناوترا، جو 2021 میں Pheu Thai پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کی سربراہ کے طور پر سیاست میں آئیں، اگست 2024 میں وزیرِاعظم بنی۔ وہ اپنے خاندان کی سیاسی نسل کی تیسری فرد ہیں جو وزیرِاعظم کے عہدے پر فائز ہوئی ہیں، ان سے پہلے ان کے والد اور پھوپھی اس عہدے پر کام کر چکے ہیں۔

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    ایلون مسک کی زیرملکیت اسپیس ایکس نے ایک بار پھر اپنی نئی اور بہتر اسٹار شپ کو ایک آزمائشی پرواز پر روانہ کیا۔

    اس دوران، اسٹار شپ کے بوسٹر کو کامیابی سے فضا میں کیچ کر لیا گیا، تاہم اسپیس کرافٹ خود تباہ ہوگیا۔ کمپنی نے اس حادثے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اسٹار شپ کے 6 انجن ایک کے بعد ایک بند ہوتے گئے، جس کے نتیجے میں پرواز کے صرف 8 منٹ 30 سیکنڈ بعد اسٹار شپ سے رابطہ ٹوٹ گیا۔اسپیس ایکس کے مطابق، اسٹار شپ کی تباہی کے وقت انجنوں میں آکسیجن اور ایندھن کے لیک ہونے سے آگ بھڑک اُٹھی، جس کی وجہ سے اس کی پرواز ناکام ہوگئی۔ اسپیس ایکس نے مزید بتایا کہ اسٹار شپ سے رابطہ ٹوٹنے کے بعد وہ فضا میں تباہ ہوگیا۔

    اسٹار شپ کی اس نئی آزمائشی پرواز کا مقصد دنیا کے گرد چکر لگا کر خلیج میکسیکو کے اوپر سے گزرنا تھا۔ اس دوران 10 ڈمی سیٹلائیٹس بھی لوڈ کی گئی تھیں، جنہیں پرواز کے دوران ریلیز کیا جانا تھا۔ یہ پرواز اسپیس ایکس کے نئے اور بہتر اسٹار شپ کا حصہ تھی، جسے مختلف اپ گریڈز کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کے نتیجے میں فضائی ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔ میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کچھ طیاروں کو پرواز کی اجازت نہیں دی گئی اور درجنوں کمرشل پروازوں کا رخ دیگر ائیرپورٹس کی جانب بدل دیا گیا تاکہ وہ اسٹار شپ کے ملبے سے بچ سکیں۔

    اسٹار شپ کے تباہ ہونے سے صرف ایک منٹ پہلے، بوسٹر کو واپس لوٹتے ہوئے اسپیس ایکس کے مکینیکل ہاتھوں کے ذریعے کیچ کیا گیا تھا۔ یہ لمحہ انتہائی سنسنی خیز تھا، لیکن اس کے فوراً بعد اسٹار شپ کے تباہ ہونے نے جوش و خروش کو مایوسی میں بدل دیا۔

    ایلون مسک نے اس حادثے کے بعد ایکس (ٹوئٹر) پر اسٹار شپ کے ملبے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "کامیابی غیریقینی ہے مگر ہم تفریح کی ضمانت دیتے ہیں۔” کمپنی نے اس موقع پر کہا کہ بوسٹر کا کیچ کرنا ایک شاندار تجربہ تھا، لیکن اسٹار شپ کی تباہی انتہائی مایوس کن ہے۔ اب وہ اس ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر اس تباہی کی وجہ کیا تھی۔ایلون مسک کے مطابق، اسٹار شپ کی اس تباہی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگلی آزمائشی پرواز تاخیر کا شکار ہو جائے گی۔ اسپیس ایکس کی ٹیم اس حادثے سے سیکھ کر مزید بہتر اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایلون مسک نے بتایا کہ ان کا مقصد اصل اسٹار لنک سیٹلائیٹس کو اسٹار شپ کے ذریعے خلا میں پہنچانا ہے، اور اس کے بعد انسانی عملے کو بھی خلا میں بھیجا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اسٹار شپ دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور ترین راکٹ ہے، جس کے ذریعے امریکی خلائی ادارہ ناسا خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

    اس سے قبل نومبر 2024 میں بھی اسٹار شپ کی ایک آزمائشی پرواز کے دوران بوسٹر کی کیچنگ کی کوشش ناکام ہو گئی تھی، کیونکہ روبوٹیک ہاتھوں کے سنسرز کو نقصان پہنچا تھا۔ اس پرواز کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔اسٹار شپ کی نئی پرواز میں اس میں کیے گئے اپ گریڈز اور ڈمی سیٹلائیٹس کے سائز کو پہلے سے بہتر بنایا گیا تھا تاکہ مستقبل کی پروازوں میں مزید کامیابی حاصل کی جا سکے۔

  • پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) ایک تشہیری گرافک کی وجہ سے مشکل میں ہے، جو پیرس پر دہشت گرد حملے کے واقعے کی مشابہت پیدا کرتا ہے۔

    یہ گرافک 10 جنوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کیا گیا تھا، جس میں پی آئی اے کا ایک مسافر طیارہ ایفل ٹاور کی طرف بڑھتا دکھایا گیا ہے، اور اس کے ساتھ نعرہ تھا: "پیرس، ہم آج آ رہے ہیں۔” یہ اشتہار اسلام آباد اور پیرس کے درمیان نئی ہفتہ وار پروازوں کو پروموٹ کرنے کے لیے تھا، لیکن سوشل میڈیا کے صارفین نے فوراً اس گرافک کو 2001 میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے موازنہ کیا۔ایک صارف نے لکھا: "اپنے مارکیٹنگ منیجر کو برطرف کر دیں۔” جبکہ دوسرے نے پوچھا: "کیا کسی کو یہ اشتہار اچھا خیال آیا تھا؟”

    پاکستانی سیاستدان بلاول بھٹو زرداری کے سابق میڈیا مشیر، عمر قریشی نے بھی پی آئی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا: "کیا ایئرلائن کی انتظامیہ نے اس اشتہار کی جانچ پڑتال نہیں کی؟ کیا اس گرافک کو ڈیزائن کرنے والے احمق نے یہ نہیں دیکھا کہ پی آئی اے کا طیارہ ایفل ٹاور کی طرف بڑھ رہا ہے؟ یہ تو یورپ کے ایک مشہور تاریخی نشان کی طرف جا رہا ہے۔”عمر قریشی نے مزید لکھا: "بالکل بے زبان ہوں، اور یہ ابھی تک وہاں موجود ہے!”

    پاکستانی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اس اشتہار کی منظوری کے عمل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس تنازعے کے باوجود، پی آئی اے کی اسلام آباد سے پیرس تک پہلی پرواز 11 جنوری کو چار سال اور چھ ماہ بعد بحفاظت پیرس پہنچی۔ پی آئی اے نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ اس پرواز کے لیے ایک خاص طیارہ استعمال کیا گیا تھا، خبر رساں ادارے سی این این نے پی آئی اے سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پی آئی اے نے بین الاقوامی سطح پر سرخیاں حاصل کی ہوں۔ 2019 میں، پی آئی اے نے اپنے کیبن کریو کے "زیادہ وزن” پر قابو پانے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی، جس کے تحت 1,800 کیبن کریو کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا تاکہ وہ مطلوبہ وزن تک پہنچیں یا ان کی پروازیں روک دی جائیں۔2020 میں، پی آئی اے نے اپنے طیاروں کے پائلٹس میں سے تقریباً ایک تہائی کو گراؤنڈ کر دیا تھا جب حکومت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ملک بھر میں سینکڑوں پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس تھے اور وہ پروازوں کے لیے اہل نہیں تھے۔

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    پی آئی اے کی ناکام نجکاری،اخراجات کا ذمہ دار کون ہے ، سحر کامران

    ائیر وائس مارشل عامر حیات دوبارہ قائم مقام سی ای او پی آئی اے تعینات

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا