Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر  فردِ جرم عائد

    ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد

    لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پر ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کے الزام میں نیب ریفرنس پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کر لیا ہے تاکہ ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    سماعت کے دوران، پرویز الہٰی عدالت میں پیش نہ ہو سکے، جس کے باعث ان کی حاضری عدالت کے اسٹاف نے گاڑی میں جا کر مکمل کی۔ اس کے باوجود، پرویز الہٰی نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے اپنے دفاع میں کوئی اعتراف نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کرنے کا تحریری حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ پرویز الہٰی کو فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 7 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ملزمان کی حاضری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    احتساب عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ اس کیس میں شامل دیگر ملزمان جیسے محمد خان بھٹی، خالد محمود چٹھہ، آصف محمود، نعیم اقبال، محمد اصغر اور اسد علی پر بھی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ان تمام ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

    اس کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخوں پر جاری رہے گی اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت اپنے فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

    کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

  • بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

    بھارتی فلم انڈسٹری میں ان دنوں ایک دلچسپ کہانی گردش کر رہی ہے جس میں تین مشہور اداکار و ں کا ذکر ہو رہا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں کے باوجود شادی کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا۔ 45 سالہ پربھاس کی بات ہو رہی ہے، جو نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ساؤتھ انڈسٹری کے بھی ایک بڑا نام بن چکے ہیں۔

    پربھاس کی شہرت کا آغاز 2002 میں ہوا تھا جب انہوں نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا، اور تب سے لے کر اب تک وہ ایک بے مثال اداکار کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ ان کی فلمیں، خاص طور پر باہوبلی اور باہوبلی 2، نے عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے کیریئر میں سالار اور کالکی 2898 اے ڈی جیسے سپر ہٹ پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔پربھاس کی فلموں نے جہاں ان کو دنیا بھر میں شہرت دی، وہیں ان کے ساتھ تعلقات کی خبریں بھی میڈیا میں عام ہوئیں۔ پربھاس کے تعلقات کی خبریں ہمیشہ ہی عوامی سطح پر زیر بحث رہیں، اور ان میں دو نام ایسے ہیں جو سب سے زیادہ سامنے آئے، انوشکا شیٹی اور تریشا کرشنن۔ دونوں ہی اداکارائیں نہ صرف پربھاس کے ساتھ فلموں میں دکھائی دی ہیں، بلکہ ان کے درمیان تعلقات کی خبریں بھی میڈیا میں اکثر زیر گردش رہیں۔

    انوشکا شیٹی اور تریشا کرشنن کے ساتھ پربھاس کے تعلقات
    انوشکا شیٹی، جو 43 سال کی عمر میں بھی اپنی خوبصورتی اور اداکاری کے حوالے سے معروف ہیں، نے پربھاس کے ساتھ باہوبلی اور باہوبلی 2 جیسی ہٹ فلموں میں کام کیا۔ ان دونوں کی جوڑی کو ناصرف سراہا گیا بلکہ دونوں کی کیمسٹری بھی مداحوں کے درمیان پسند کی گئی۔ اس کے علاوہ، تریشا کرشنن، جو 41 سال کی ہیں اور جنوبی ہندوستان کی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں، بھی پربھاس کے ساتھ متعدد کامیاب فلموں میں دکھائی دی ہیں۔

    پربھاس کی انوشکا اور تریشا کے ساتھ محبت کی خبریں کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکیں، مگر میڈیا میں یہ باتیں ہمیشہ چلتی رہیں۔ پربھاس، انوشکا، اور تریشا کو کئی عوامی تقریبات اور سوشل میڈیا پر ایک ساتھ دیکھا گیا ہے، جس سے ان کے مداحوں کے درمیان بے شمار سوالات اٹھے ہیں۔

    پربھاس کی نجی زندگی اور شادی نہ کرنے کا راز
    پربھاس کی شادی نہ کرنے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، مگر خود پربھاس نے کبھی بھی اس حوالے سے کوئی واضح بیان نہیں دیا۔ ان کے مداح یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر وہ 45 سال کی عمر میں بھی کیوں شادی نہیں کر رہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پربھاس اپنے کیریئر پر توجہ مرکوز رکھنے کی وجہ سے ذاتی زندگی میں کم دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ ان کی زندگی کا اہم ترین حصہ انوشکا یا تریشا کے ساتھ گزر رہا ہے، مگر دونوں اداکارائیں کبھی بھی ان تعلقات پر کھل کر بات نہیں کرتی ہیں۔پربھاس کی ازدواجی زندگی کے بارے میں جو بھی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، وہ ہمیشہ ہی ہلکی پھلکی خبروں تک محدود رہتی ہیں، کیونکہ نہ تو انوشکا شیٹی نے کبھی ان تعلقات کی تصدیق کی، نہ ہی تریشا کرشنن نے۔

    پربھاس کی فلمی کامیابیاں اور ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے گردش کرتی خبریں یقینا ایک دلچسپ موضوع ہیں، مگر ان کی زندگی کا یہ راز شاید ہمیشہ مداحوں کی تسلی کے بغیر ہی رہے گا۔ ان کے چاہنے والے یہی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن پربھاس خود اس معاملے پر کوئی واضح بات کریں گے اور ان کے مداحوں کو اس کا جواب ملے گا۔

    کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

  • کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

    کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

    سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کراچی کے مختلف علاقوں میں گٹر کے کھلے ڈھکنوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یونین کونسلز (یو سی) اور ٹاؤنز کی جانب سے گٹر کے ڈھکنوں کی فراہمی کی بار بار درخواستیں کی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا رہا۔ سعدیہ جاوید نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس معاملے میں الزام تراشی کی جاتی ہے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جو ادارے یا افراد ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    ترجمان سندھ حکومت نے وضاحت کی کہ اگر کسی ٹاؤن کی جانب سے واٹر بورڈ کو گٹر کے ڈھکنوں کی درخواست دی جائے اور واٹر بورڈ اس پر عمل درآمد نہ کرے تو اس صورتحال میں واٹر بورڈ کے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس طرح کے واقعات میں کمی آئے، کیونکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں مسائل بھی بڑے ہیں۔ انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    میئر کراچی کا موقف: گٹر کے ڈھکنوں کی حفاظت ان کا کام نہیں
    ادھر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گٹر کے کھلے ڈھکنوں کے حوالے سے جاری بحث میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ہر گلی میں گٹر کے ڈھکنوں کی حفاظت کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ کے ایم سی میں گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ نہ تو وہ اور نہ ہی ڈپٹی میئر سلمان مراد گٹر کے ڈھکن چراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو سیاست کا حصہ بنانا افسوسناک ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک 6 سالہ بچہ گٹر کے کھلے ڈھکن میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچہ گذشتہ روز اپنے رشتہ داروں کے ہاں عقیقہ کی دعوت میں آیا تھا، جہاں کھیلتے ہوئے وہ گٹر کے کھلے مین ہول میں گر گیا۔ دو گھنٹے کی تلاش کے بعد بچے کی لاش کورنگی پل کے نیچے بہتے نالے سے ملی۔ اس سانحے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    شاہ فیصل کالونی میں ہلاک ہونے والے 6 سالہ عباد کی تدفین
    بچے کی موت پر اہل علاقہ اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ 6 سالہ عباد کی نماز جنازہ میں رشتہ داروں، اہل محلہ اور سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ عباد کے والد دبئی میں ملازمت کرتے ہیں اور وہ اس سانحے کی اطلاع ملنے کے بعد کراچی پہنچے۔ بچے کی لاش تدفین کے لیے پہلوان گوٹھ قبرستان لے جائی گئی، جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔

    جماعت اسلامی کا الزام: میئر کراچی ذمہ دار ہیں
    جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہیے۔

    2024 میں 19 بچوں کی گٹر میں گر کر ہلاکت
    کراچی میں گٹر کے کھلے ڈھکنوں کی وجہ سے گزشتہ سال 2024 میں کم از کم 19 بچے گٹر یا نالوں میں گر کر جاں بحق ہو چکے ہیں، جس سے شہر میں رہائشیوں کی جان و مال کے حوالے سے سنگین مسائل اٹھ رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد شہر میں گٹر کے ڈھکنوں کی حفاظت اور ان کی مرمت کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے، جس پر شہریوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔کراچی میں گٹر کے کھلے ڈھکنوں کے حوالے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے متعدد بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

    محسن نقوی کی ہدایات،صائم ایوب علاج کے لئے لندن روانہ

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

  • محسن نقوی کی ہدایات،صائم ایوب علاج کے لئے لندن روانہ

    محسن نقوی کی ہدایات،صائم ایوب علاج کے لئے لندن روانہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چئیرمین محسن نقوی نے نوجوان بیٹر صائم ایوب کے علاج معالجے کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ صائم ایوب اور اسسٹنٹ کوچ اظہر محمود نے کیپ ٹاون سے لندن روانہ ہو گئے ہیں جہاں انگلینڈ کے ماہر سپورٹس آرتھوپیڈک ڈاکٹرز ان کا چیک اپ کریں گے۔

    محسن نقوی کی ہدایت پر پی سی بی نے صائم ایوب کے علاج کے لیے مکمل وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "صائم ایوب پاکستان کرکٹ کا قیمتی اثاثہ ہیں، اور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں گے۔”محسن نقوی نے مزید کہا کہ "صائم ایوب کی صحت کے حوالے سے مسلسل ڈاکٹرز کے ساتھ رابطے میں ہوں، اور میں دعا گو ہوں کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر کرکٹ میں اپنے جوہر دکھا سکیں۔”

    یاد رہے کہ صائم ایوب جنوبی آفریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ کے پہلے روز فیلڈنگ کرتے ہوئے انجری کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان کے علاج کے لیے پی سی بی نے فوری طور پر اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ وہ جلد کرکٹ میدان میں واپس آئیں۔

    صائم ایوب کو علاج کے لیے فوری لندن بھیجنے کا فیصلہ

    صدر آصف زرداری کا صائم ایوب کو فون،چوٹ کے بارے دریافت

    صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

    پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب انجری کا شکار

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    چین کے علاقے تبت میں آج صبح 7.1 شدت کے زلزلے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں گر گئیں اور 53 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس زلزلے نے نہ صرف چین بلکہ نیپال اور بھارت کے بعض حصوں میں بھی شدید اثرات مرتب کیے۔

    چین کے زلزلہ نیٹ ورک سینٹر کے مطابق، یہ زلزلہ چین کے تبت کے علاقے ٹنگری کاؤنٹی کے قریب آیا تھا، جس کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر بتائی گئی ہے، چینی وقت کے مطابق یہ زلزلہ صبح 9 بج کر 5 منٹ پر آیا اور اس کے فوراً بعد متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جنہوں نے مزید تباہی مچائی۔چینی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹنگری کاؤنٹی میں متعدد مکانات اور عمارتیں گرنے کے باعث کم از کم 53 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے سبب ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بھی اس زلزلے کے شدید اثرات محسوس کیے گئے اور عمارتیں لرزنے لگیں۔ نیپال میں زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں بھی شہر میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابھی تک نیپال میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی

    بھارت کے شمالی علاقے اور بہار ریاست میں بھی زلزلے کے اثرات محسوس کیے گئے۔ بھارت میں زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی ریاست بہار میں اس زلزلے کے دوران عمارتیں چند سیکنڈز تک لرزتی رہیں، تاہم وہاں بھی کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    چینی میڈیا کے مطابق یہ زلزلہ گزشتہ پانچ سالوں میں تبت میں آنے والا سب سے طاقتور اور خطرناک زلزلہ تھا۔ تبت کے پہاڑی علاقے میں اس طرح کے قدرتی آفات کا سامنا معمول کی بات ہے، لیکن اس بار زلزلے کی شدت اور اس کی تباہی نے تمام علاقے کو چونکا دیا ہے۔چینی حکام نے فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے اور فوج کو بھی ہنگامی طور پر روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو بچایا جا سکے اور امداد فراہم کی جا سکے۔

    زلزلے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے چین کے متاثرہ علاقوں کے لیے اظہار ہمدردی اور امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔ کئی ممالک نے چینی حکام سے رابطہ کیا اور ان کی مدد کے لیے تیار ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔تبت میں اس شدید زلزلے نے جہاں ایک طرف علاقے میں خوف و ہراس پیدا کیا، وہیں دوسری جانب حکومتی اور مقامی امدادی ٹیموں کی فوری کارروائی سے متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

    جمائما جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    پاکستان کاچین میں زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر تعزیت کا اظہار
    اسلام آباد: پاکستان نے چین کے علاقے ژیژانگ (Xizang) میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام نے چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے دعائیں کی ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم ژیژانگ میں زلزلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسردہ ہیں اور ہم چین کے عوام و حکومت کے ساتھ اس دردناک موقع پر کھڑے ہیں۔ ہم اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔”پاکستان نے چین کی حکومت کو مکمل حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم چین کے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہماری دعائیں زخمیوں کے ساتھ ہیں اور ہم ان کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لیے بھی دعاگو ہیں جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔”مزید برآں، پاکستان نے چین کی حکومت اور امدادی اداروں کو نیک تمناؤں کے ساتھ حوصلہ افزائی کی ہے، پاکستانی حکومت نے امدادی کوششوں کی کامیابی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا عہد کیا اور امید ظاہر کی کہ چین اس سانحے کے بعد جلد از جلد اپنے شہریوں کی بحالی کی طرف قدم اٹھائے گا۔پاکستان کے عوام نے بھی اس سانحے کے حوالے سے چین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے پیغامات جاری کیے ہیں۔

  • پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

    کراچی: پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے ایک خوشی کی خبر سامنے آئی ہے کہ 2025 میں ورلڈ سکواش چیمپئن شپ کی میزبانی پھر سے پاکستان کے حصے میں آئی ہے۔ اس مرتبہ یہ عالمی سطح کا ایونٹ انڈر 23 ورلڈ سکواش چیمپئن شپ کی صورت میں منعقد ہوگا، جس کا میدان 2025 میں پاکستان میں سجے گا۔

    اس اہم ایونٹ کی پری لانچنگ کی تقریب کراچی میں منعقد کی گئی، جس میں سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر کور کمانڈر کراچی نے بھی خطاب کیا اور حاضرین کو یقین دلایا کہ پاکستان کی مسلح افواج کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہیں گی۔پری لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر کراچی نے کہا کہ اس عالمی چیمپئن شپ کے پاکستان میں انعقاد کا سہرا پاکستان سکواش فیڈریشن، سندھ سکواش فیڈریشن اور ڈی ایچ اے کراچی کے سر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایونٹ پاکستان کے کھیلوں کی دنیا میں ایک نیا اور اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت سندھ اس چیمپئن شپ کے انعقاد میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت ہمیشہ کی طرح کھیلوں کے میدان میں اپنی بھرپور حمایت اور وسائل فراہم کرتی رہے گی تاکہ پاکستان میں کھیلوں کا معیار مزید بلند ہو سکے۔

    پری لانچنگ تقریب میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اس ایونٹ کی پذیرائی کی۔ تقریب میں شریک افراد نے اس اقدام کو پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک عظیم مقصد قرار دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ عالمی سطح کی یہ چیمپئن شپ پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔یہ چیمپئن شپ پاکستان کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی اور اس سے نہ صرف پاکستان میں سکواش کے کھیل کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی کھیلوں کی شناخت بھی مزید مستحکم ہو گی۔

    جمائما جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    سیالکوٹ: یونان کشتی حادثہ ،عبداللہ اور قاسم کے خاندانوں سے سیدہ نوشین افتخار کی تعزیت

  • جمائما  جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    جمائما جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ ایک ہائیکنگ کے دوران پہاڑی سے گر کر زخمی ہو گئیں۔

    جمائما گولڈ اسمتھ ہائیکنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوئیں اور انہیں فوری طور پر کیپ ٹاؤن کے ایک مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ اب بہتر محسوس کر رہی ہیں۔ تاہم، تازہ ترین تصاویر میں انہیں وہیل چیئر پر بیٹھا اور بیساکھیوں کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے ان کے زخموں کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جمائما گولڈ اسمتھ جنوبی افریقا میں تعطیلات گزارنے آئی ہوئی تھیں، وہ اپنے بیٹوں سلیمان اور قاسم کے ہمراہ سال نو کے موقع پر جنوبی افریقا میں موجود تھیں۔جمائما گولڈ اسمتھ کی اس حادثے میں زخمی ہونے کی خبر ان کے مداحوں اور اہل خانہ کے لئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمائما نے قدرتی مناظرات کے وسط میں ہائیکنگ کرنے کا ارادہ کیا تھا، جو جنوبی افریقا کی خوبصورت پہاڑیوں اور قدرتی ماحول کی وجہ سے مشہور ہیں۔

    جسپریت بمراہ کی انجری،رکی پونٹنگ کا انکشاف

    صاف ستھرا پروگرام ناکام ،قوم کے اربوں روپیہ برباد