Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات پر سنجیدہ ہے تو ان کے نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صرف وقت ضائع کرنے کا عمل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور ان کی مذاکراتی کمیٹی صرف دو مطالبات پر بات کر رہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کو بتا دیے گئے ہیں۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ "میرے پاس میری مذاکراتی کمیٹی حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں لے کر آئی ہے، اور اگر حکومت انہیں ملاقات کی اجازت دیتی ہے، تو وہ مجھ سے بات کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو اپنی سنجیدگی دکھانی ہوگی اور ان کے مطالبات پر بات کرنی ہوگی تاکہ ایک نتیجے تک پہنچا جا سکے۔عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ "یہ مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت میں ڈیل نہیں کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ "یہ جب بھی فیصلہ سنائیں گے، انہیں بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی پر مذاکرات کرنے کا کوئی الزام درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی مذاکرات کا عمل ہوگا، وہ میری مذاکراتی ٹیم کے ذریعے ہوگا اور میں خود اس کے حتمی فیصلے کروں گا۔”عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ "ان کا مارشل لا اتنا بدترین نہیں تھا، اُس دور میں میڈیا کو آزادی تھی۔ میں خود بھی اُس دور میں جیل گیا تھا۔”

    دوسری جانب، تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اس بات سے آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کل عمران خان سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس ملاقات کے بعد آگے کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

    عمران خان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میں اب مکمل طور پر "لیٹ” چکے ہیں

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

  • حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا جو لاپتہ ہیں اُس پرآواز کیوں نہیں اُٹھا رہے؟ پارٹی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی تصاویر جاری کریں، لوگوں کو بتائیں، عمران خان نے کہا، 26 نومبر کا حساب دینا ہوگا، یہ نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایسا تاثر دیا جائے کہ عمران خان بھی حکومتی این آر او کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عمران خان بیک ڈور چینلز کے ذریعے حکومت سے معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغامات عمران خان تک براہ راست نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پہنچائے گئے ہیں۔ ان پیغامات میں حکومت نے کئی مرتبہ عمران خان سے کہا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر انہیں ہاؤس اریسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ علیمہ خان نے کہا کہ حکومت کے ان پیغامات کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان خاموش رہیں اور حکومت کو چلنے دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سے کسی بھی بیک ڈور مذاکرات میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے دو بنیادی مطالبات ہیں: پہلا، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن کا قیام، اور دوسرا، بے گناہ افراد کی رہائی۔ علیمہ خان کے مطابق، عمران خان کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہونا چاہیے وہ عدلیہ اور قانون کے ذریعے ہو، اور وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔علیمہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی این آر او یا بیک ڈور رابطے کی حمایت نہیں کرتے اور وہ عدالتوں سے سزا سنوانا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ ان کے خلاف الزامات کس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں فوری فیصلہ سنایا جائے تاکہ اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے۔

    علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کارکنان کے لاپتا ہونے کی صورتحال کا پتہ چلائیں اور اس معاملے کو میڈیا میں اُٹھائیں۔ بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے واقعات کا حساب لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اس دن ہونے والے آپریشن کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا خوف ختم ہو جائے اور وہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں سنجیدگی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی بھی اس پر تیزی سے عمل کرے گی، لیکن اگر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے سامنے پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، مگر ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے بانی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا، جس سے مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 26 نومبر کے آپریشن کے حوالے سے عمران خان نے کہا تھا کہ اس پر حکومت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے کارکنان اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اس معاملے پر آواز اُٹھائیں گے۔

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت اور مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے تنازعے کے بعد بالآخر صلح ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے اختلافات کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    شیرافضل مروت نے اس موقع پر کہا کہ "ہم سیاسی ورکر ہیں، اور ہمارے درمیان جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کے بعد ہم نے آذربائیجان میں بھی اکٹھے ہوئے۔ اس واقعہ سے ہمارے دلوں میں کوئی میل نہیں ہے، ہم ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ چھوٹے بھائی ہیں اور ہمارے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی یا بغض نہیں ہے۔”افنان اللہ خان نے بھی شیرافضل مروت کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "میں شیرافضل مروت کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، وہ میرے بھائی ہیں اور ہمیں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔”

    یاد رہے کہ ستمبر 2023 میں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران شیر افضل مروت اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان ایک تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں شیر افضل مروت نے افنان اللہ خان کو تھپڑ مارا تھا، جس کے بعد افنان اللہ خان نے بھی جوابی حملہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم اب دونوں نے اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

    اس صلح کو پی ٹی آئی میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پارٹی قیادت نے دونوں رہنماؤں کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صلح سیاسی ماحول میں بہتری کی علامت ہو سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب پارٹی میں اندرونی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

  • کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، اپنے مستقبل کو سنواریں،وزیراعلیٰ پنجاب

    کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، اپنے مستقبل کو سنواریں،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے طلبہ کے لئے ایک اہم خطاب کیا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف تعلیمی سکالرشپس کے حوالے سے اہم اعلان کیا بلکہ سیاسی اور سماجی شعور پر بھی روشنی ڈالی۔ یہ خطاب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ہونہار سکالرشپ پروگرام کی تقریب میں کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "طلبہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، کسی کا ایندھن مت بنیں۔ سیاسی پسند ناپسند بری بات نہیں، لیکن دوسروں کی عزت کریں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کوئی کہے آگ لگاؤ، میٹرو توڑ دو تو اس کی باتوں میں مت آنا۔” انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ "جب بچے معافی مانگ کر جیلوں سے باہر آتے ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے، ہمیں کبھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔”سیاسی بات نہیں، ماں بچوں سے بات کررہی ہے، میرے بچو، اگر کوئی کہے آگ لگاؤ، میٹرو توڑ دو، سڑکیں بلاک کردو، گولیاں چلا دو، تو اس کی باتوں میں مت آنا،اب وہ معافی مانگ کر باہر آئے،مجھے تکلیف ہوئی،

    مریم نواز نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا حصول آج کے دور میں بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ محنت اور ایمانداری سے کام کریں۔ "آج تعلیم مہنگی ہے اور اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، لیکن میں خوش ہوں کہ سکالرشپس کی مدد سے طلبہ نے اپنی محنت سے اپنے والدین کا بوجھ ہلکا کیا ہے۔”وزیراعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر سکالرشپس حاصل کرنے والے تمام طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ "آج میں بطور وزیراعلیٰ نہیں، بلکہ ایک ماں کے طور پر آپ سے مخاطب ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ سکالرشپس میرے پیسے نہیں، بلکہ پنجاب کے عوام کے پیسے ہیں، یہ پیسہ آپ کا تھا، اور پچھلے 75 سال میں آپ کو یہ کیوں نہیں ملا؟” مریم نواز کا کہنا تھا کہ انہوں نے سکالرشپس دینے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے تاکہ تعلیم کا راستہ سب کے لیے کھلا ہو اور کوئی بھی طالب علم میرٹ کی بنیاد پر فائدہ حاصل کرسکے۔

    مریم نواز نے یہ بھی بتایا کہ "ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر ذہین طالب علم کو تعلیم کے حصول کے لیے مالی مسائل کا سامنا نہ ہو۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سکالرشپس کی تعداد 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار تک کر دیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "انٹرنیشنل سکالرشپس پروگرام پر بھی کام ہو رہا ہے، جسے بہت جلد شروع کیا جائے گا، اور ہم طلبہ کے لیے جدید لیپ ٹاپس فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔”انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں تعلیمی اداروں میں بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی اور طلبہ کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ "ہم نے 30 ہزار الیکٹرک بائیکس دینے کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے، اور چینی کمپنیاں پنجاب میں الیکٹرک بائیکس کا یونٹ لگا رہی ہیں۔”مریم نواز نے مزید کہا کہ "ہم طالب علموں کے لیے بلا سود قرض پروگرام بھی شروع کر رہے ہیں جس میں 3 کروڑ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا۔ اس قرضے سے آپ اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں گے۔ اگلے ہفتے ہم اس قرض پروگرام کو لانچ کرنے جا رہے ہیں۔”

    آخر میں، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ "میرا مقصد یہ ہے کہ ہر بچہ اور بچی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور اس کے لئے ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنی ہے۔ آپ نے داخلہ لینا ہے تو فیس کی پوری ذمہ داری میری ہے۔”اس خطاب کے دوران مریم نواز نے طلبہ کو اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے محنت کی تلقین کی اور کہا کہ وہ ہمیشہ پنجاب کے عوام کے ساتھ ہیں تاکہ تعلیمی میدان میں ہر ایک کو برابر کے مواقع مل سکیں۔

    یہ تقریب ہونہار سکالرشپس کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پروگرام کے ذریعے نہ صرف تعلیمی میدان میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے بلکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے متعدد نئے اقدامات بھی کیے ہیں۔

    عامر خان کے بیٹے جنید خان بچپن میں کونسی بیماری میں مبتلا تھے؟

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ کارروائیوں اور قانون سازی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی حالیہ تادیبی کارروائیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ اقدام انتہائی اہم ہے اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کی ضرورت ہے۔”وزیراعظم نے انسانی سمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ان سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت تعزیری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس مکروہ کاروبار کا خاتمہ کیا جا سکے۔”انہوں نے تمام انسانی سمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت دی تاکہ ان سمگلرز کو نشان عبرت بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ "انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لیے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔”

    وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "وزارت قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلا کو تعینات کیا جائے تاکہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔”وزیراعظم نے دفتر خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک سے انسانی سمگلنگ میں ملوث پاکستانی شہریوں کے حوالے سے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستان حوالگی کے لیے جلد از جلد اقدامات اٹھائے۔وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ عوام میں بیرون ملک نوکریوں کے لیے صرف قانونی راستوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ غیر قانونی طریقوں سے بچا جا سکے۔وزیراعظم نے ملک میں ایسے تکنیکی تربیتی اداروں کی ترویج کی ضرورت پر زور دیا جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سرٹیفائیڈ پیشہ ور افراد بیرون ملک بھیج سکیں۔وزیراعظم نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی سکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔

    اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور وزیراعظم کو انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ اقدامات اور قانون سازی کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

  • یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    سکھر،یونان میں حالیہ کشتی حادثے میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایڈیشنل سیشن جج نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومتی لاپرواہی کے سبب بے روزگار پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں 75 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، اور اس حادثے کے ذمہ دار حکومتی افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ روہڑی تھانے میں حکومتی ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔اس معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج ٹو سکھر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایس ایس پی سکھر کو 15 جنوری 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا۔

    یونان کشتی حادثہ میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش میں کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے۔ اس حادثے میں 75 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور عوامی سطح پر حکومت کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے اس سنگین معاملے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اس فیصلے سے حکومتی سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوششیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

  • ڈپلومیٹک انکلیو میں  فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش

    ڈپلومیٹک انکلیو میں فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش

    اسلام آباد میں ڈپلو میٹک انکلیو کے فلیٹ سے جرمن سیکنڈ سیکرٹری تھامس فلڈر کی لاش برآمد ہوئی ہے

    اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع ایک فلیٹ سے غیر ملکی سفارت کار کی لاش ملی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، لاش کی شناخت جرمن سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری، تھامس فلڈر کے نام سے ہوئی ہے۔
    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ سفارت کار کی موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

    پولیس نے بتایا کہ تھامس فلڈر اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ معمولی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو چکے تھے، اور ممکنہ طور پر اس کی موت کا تعلق اس سے ہو سکتا ہے، تاہم اس بات کی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق، دو روز قبل جب تھامس فلڈر دفتر نہیں پہنچے تو جرمن سفارت خانے نے ان کے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر جھانکا۔ فلیٹ میں سفارت کار کو مردہ پایا گیا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    واقعہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پیش آیا، جو کہ غیر ملکی سفارت کاروں کے رہائشی علاقے کے طور پر معروف ہے اور یہاں کی سیکیورٹی اور حفاظت کا انتظام خاص طور پر سخت ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ان کی موت کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

    پولیس اور متعلقہ حکام اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ جرمن سفارت خانے کے اہلکاروں نے باقاعدہ طور پر واقعے کی اطلاع دینے کے بعد مکمل تعاون فراہم کیا ہے۔ تاحال کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمی یا غیر فطری عنصر کا انکشاف نہیں ہوا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    مریم نواز کے مصافحہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل،تبصرے

    شہید اعتزاز حسن کی بے لوث قربانی مشعل راہ ہے،وزیراعظم