Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 4 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ڈیوٹی جج شبیر بھٹی نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اپنے وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 13 جنوری تک منظور کرلی۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کے لیے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کوئی فوری گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور تھانہ رمنا میں تین مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاجی دھرنے کے دوران بشریٰ بی بی کے مبینہ کردار سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔اس عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کسی بھی طرح کی قانونی پریشانی سے بچت حاصل ہوئی ہے، اور ان کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

  • آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان کا مسافر طیارہ قازقستان میں حادثے کا شکار، 38 افراد ہلاک، 29 زخمی

    باکو: آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ بدھ کے روز قازقستان کے ایک ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 29 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ طیارے میں 67 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور روس سے تعلق رکھتے تھے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق آذربائیجان کا مسافر طیارہ باکو سے چیچنیا کی جانب جا رہا تھا کہ وہ قازقستان کے ایک ایئرپورٹ کے قریب ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ طیارے کو ایک پرندہ ٹکرانے کے بعد ہنگامی طور پر لینڈنگ کرنا پڑی تھی، جس کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔تاہم میڈیا رپورٹس کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان کا یہ طیارہ مبینہ طور پر ایک میزائل حملے کا نشانہ بنا تھا۔ ذرائع کے مطابق، یہ میزائل حملہ روسی یا چیچن فورسز کی جانب سے کیا گیا تھا، اور یہ حملہ غلطی سے کیا گیا تھا۔ طیارہ سطح سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل کا نشانہ بنا تھا۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی بھی قسم کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، میزائل کے پھٹنے سے اس کے ٹکڑے طیارے کے پچھلے حصے میں جا کر لگے، جس کے نتیجے میں طیارے میں شدید نقصان پہنچا۔ پائلٹ نے گروزنی میں دوبار لینڈ کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ناکام رہی۔ اس کے بعد، تیسری کوشش کے دوران، مسافروں نے طیارے کی پرواز کے دوران ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی۔

    آذربائیجان کے حکام نے اس افسوسناک حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آذربائیجان کے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی تمام ممکنہ وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے، اور وہ تمام ضروری اقدامات کریں گے تاکہ اس واقعہ کی حقیقت سامنے آ سکے۔حادثے میں زخمی ہونے والے 29 افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق کچھ زخمیوں کی حالت نازک ہے، جبکہ دیگر کی حالت نسبتاً بہتر ہے۔

    آذربائیجان اور قازقستان کے علاوہ روس اور دیگر ممالک نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے کے بعد تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے ہیں تاکہ اس حادثے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔اس حادثے نے ایک مرتبہ پھر فضائی سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور اس پر مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ آذربائیجان کی حکومت نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے تاکہ حادثے کے اسباب اور اس سے جڑے دیگر عوامل کا پتا چلایا جا سکے۔

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

  • جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

    جاپان کی معروف ایئرلائنز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اسے ایک سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔

    یہ سائبر حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور کمپنی کے داخلی و بیرونی سسٹمز کو متاثر کیا۔ ایئرلائنز کے ترجمان نے کہا کہ حملے کے باعث سسٹم میں سنگین خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے کمپنی نے ایک راؤٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا۔اس حملے کے نتیجے میں جمعرات کو روانہ ہونے والی پروازوں کے ٹکٹوں کی فروخت بھی معطل کر دی گئی، جس سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئرلائنز کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے سسٹمز کی بحالی کے لیے کام جاری ہے اور پروازوں کے شیڈول کی دوبارہ ترتیب دی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب جاپان کی دوسری بڑی ایئرلائنز، آل نیپون ایئر ویز ( کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی کمپنی نے اپنے سسٹمز پر سائبر حملے کے کوئی آثار نہیں دیکھے اور ان کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    یہ سائبر حملہ جاپانی ایئرلائنز کے لیے کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی ایئرلائنز، امریکن ایئرلائنز نے بھی ایک گھنٹے کے لیے اپنی تمام پروازوں کو گراؤنڈ کیا تھا۔ اس کی وجہ نیٹ ورک ہارڈویئر میں فنی خرابی تھی، جس کے باعث کرسمس کے موقع پر ہزاروں مسافروں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ان ایئرلائنز کے لیے ایک یاد دہانی بن گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے معاملے میں مسلسل احتیاط ضروری ہے۔

    سائبر حملے دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کا نشانہ اکثر بڑی کمپنیاں اور ادارے بنتے ہیں۔ عالمی سطح پر سائبر حملے کسی بھی ملک کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور ان میں اکثر ہیکرز عالمی طاقتوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک کو بھی ایسے حملوں کا سامنا ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے مختلف بڑے ایئرپورٹس پر بھی سائبر حملے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں ایئرپورٹس کی ویب سائٹس متاثر ہو گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں کے ذریعے بڑی ایئرلائنز کی سروسز متاثر ہوئیں اور ان کی ویب سائٹس پر غیر معمولی بوجھ پڑا تھا۔سائبر حملے اب ایک عالمی مسئلہ بن چکے ہیں اور ان کا اثر نہ صرف ایئرلائنز بلکہ دیگر شعبوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایئرلائنز اور دیگر کمپنیاں اپنی سائبر سیکیورٹی کی پالیسیوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ ایسے حملوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

  • پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان کی فضائی کارروائی، پکتیکا میں خوارج کے 71 دہشت گردجہنم واصل

    پاکستان نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں خوارج کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کی، جس میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں کئی اہم کمانڈرز شامل ہیں۔ اس کارروائی کے دوران خوارج کے 4 اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک خودکش جیکٹ بنانے والی فیکٹری اور ‘عمر میڈیا سیل’ بھی شامل ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں، جس سے مقامی آبادی یا شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، دہشت گردوں کے درمیان مایوسی اور بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ خوارج ایک دوسرے کو بھاگنے کی ہدایات دے رہے تھے اور شکایت کر رہے تھے کہ مقامی لوگ ان کی مدد کے لیے نہیں آ رہے۔ یہ ویڈیوز اور آڈیوز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے غیر متنازعہ اور درست کارروائیاں کیں۔

    پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قیمت پر کارروائی کرے گا۔ ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں کی ہوں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ڈرون حملے کرکے دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم، افغان طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی روک تھام میں ناکام رہے۔ افسر نے کہا کہ اگر افغان طالبان پاکستان اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے اور خوارج کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    افغان وزارت دفاع نے پاکستانی کارروائی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس حملے میں 46 سویلین ہلاک ہوئے ہیں اور افغانستان اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کو اپنا ناقابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود کی خلاف ورزی کی اور افغان عوام کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔

    پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا کہ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے 2023 کے افغانستان کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کی کارروائی کو غلط طریقے سے پیش کیا جا سکے۔ یہ اکاؤنٹس اس مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر اس کارروائی کو بدنام کیا جا سکے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے یہ واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا، اور شہریوں یا دوسرے غیر فوجی مقامات کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

    پاکستانی فضائی حملوں میں جن چار اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں شیر زمان، اختر محمد، اظہار اور شعیب چیمہ جیسے مشہور دہشت گرد کمانڈرز کے مراکز شامل ہیں۔ یہ مراکز خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کی انتظامی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھے۔ ان مراکز کی تباہی نے دہشت گردوں کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    پاکستان کے موقف میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور اس کا مقصد پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اس کے حملوں کا مقصد افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جو دونوں ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    پاکستان نے اپنی فضائی کارروائیوں کے ذریعے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے وہ کہاں بھی چھپے ہوں۔

    افغان حکومت نے ایک اہم اجلاس کے بعد حالیہ پاکستانی حملے پر لاتعلقی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلاس میں افغان حکام نے واضح کیا کہ حملے میں مارے جانے والے تمام افراد پاکستانی شہری ہیں اور ان میں کوئی افغان شامل نہیں تھا۔ اسی بناء پر افغان حکومت نے اس واقعے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کسی قسم کے ردعمل سے اجتناب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، افغان حکومت کے اس موقف کے پیچھے خطے میں غیر جانبداری کی پالیسی کو مضبوط کرنے کا مقصد ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایران نے بھی پاکستان کے ایک حملے پر اسی قسم کا موقف اپنایا تھا، جب انہوں نے کہا تھا کہ حملے میں مارے جانے والوں میں کوئی ایرانی شہری شامل نہیں، لہذا وہ اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیں گے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔

    پاک فوج: تحفظ، قربانی اور قومی فخر کی داستان

    پاک فوج تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے ملک کی حفاظت کرتی رہےگی، آرمی چیف

    پاک فوج قومی یکجہتی کی علامت،پاس آؤٹ نوجوان افسران کے جذبات

  • پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

    پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

    پاکستان کی معروف مصنفہ اور ادبی دنیا کی مشہور شخصیت، بیپسی سدھوا، 86 سال کی عمر میں امریکا کے شہر ہیوسٹن میں انتقال کر گئیں۔ بیپسی سدھوا 11 اگست 1938 کو بھارت کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں، اور وہ کئی دہائیوں تک ادبی دنیا میں اپنی منفرد تحریروں کی وجہ سے نمایاں رہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے ان اہم ترین مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب میں نئی جہتیں متعارف کرائیں۔

    بیپسی سدھوا نے کئی اہم ناول، کہانیاں اور افسانے لکھے، جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔ ان کا سب سے مشہور اور اہم ناول Ice Candy Man (جو بعد میں Cracking India کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوا) کو عالمی سطح پر بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بی بی سی کی جانب سے اس ناول کو "نئی دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے 100 بہترین ناولوں” کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔بیپسی سدھوا کی تحریروں میں پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت کے انسانی المیے، ثقافتی تناؤ اور جنگوں کی تلخ حقیقتوں کو سچائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی کہانیاں انسانی تعلقات، نسلی اور مذہبی اختلافات، اور سماجی انصاف کے مسائل پر گہری نظر ڈالتی ہیں۔

    بیپسی سدھوا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تھا، جو پاکستان کا ایک اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہے۔ ان کی زندگی اور تحریریں ادب کی دنیا میں ہمیشہ ایک رہنمائی کی حیثیت رکھیں گی۔بیپسی سدھوا کے اہل خانہ کے مطابق، ان کی آخری رسومات تین دن بعد ہیوسٹن میں ادا کی جائیں گی۔ ان کی موت ادبی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے اور ان کے مداحوں اور شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    ان کے انتقال پر پاکستانی ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی تخلیقات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے کام کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے گا۔

  • سائبر فراڈ،غریبوں کے نام پر بنے بینک اکاؤنٹ فروخت کرنے والا گرفتار

    سائبر فراڈ،غریبوں کے نام پر بنے بینک اکاؤنٹ فروخت کرنے والا گرفتار

    بھارت میں بھوپال کی کولار پولیس نے ایک بڑے سائبر فراڈ اور اکاؤنٹ بیچنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے، جس میں ایک مرکزی ملزم راہل سریواستو عرف ببلو، جو کہ محض ساتویں کلاس تک پڑھا لکھا ہے، نے غریب مزدوروں کے کاغذات استعمال کر کے فرضی بینک اکاؤنٹس کھولے اور انہیں سائبر فراڈ کرنے والوں کو فروخت کیا۔

    ملزمین کے قبضے سے پولیس نے بڑی تعداد میں مشتبہ اشیاء برآمد کی ہیں، جن میں 3 کارڈ سوائپ مشینیں، 6 موبائل فون، 34 کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز، 20 چیک، 24 چیک بک، 6 پاس بک، 77 سم کارڈز، 2 ڈائریاں، 12 اے ٹی ایم کارڈز، 1 لیپ ٹاپ، 2 وائی فائی راؤٹرز اور 8 لاکھ روپے نقدی شامل ہیں۔ملزمان کا گروہ آدھار اور پین کارڈ بنوانے کے بہانے غریب مزدوروں کے کاغذات حاصل کرتا تھا اور ان سے فرضی بینک اکاؤنٹس کھلواتے تھے۔ پھر یہ اکاؤنٹ سائبر فراڈ کرنے والوں کو فروخت کیے جاتے تھے۔ مرکزی ملزم راہل سریواستو نے اعتراف کیا کہ وہ 45 ہزار روپے میں دو اکاؤنٹس فروخت کرتا تھا، جس میں ایک اکاؤنٹ خود اس کا تھا اور دوسرا اس کی بیوی کا۔

    پولیس تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ راہل سریواستو کو اس کاروبار کا آئیڈیا گھنشیام سنگرولے نے دیا تھا، جو ایک اور ملزم ہے۔ گھنشیام نے راہل کو باگسیونیا کے علاقے میں رہنے والے لیو ان پارٹنرز، نکیتا پرجاپتی اور نتیش پرجاپتی سے ملوایا، جنہوں نے فرضی اکاؤنٹس کھولنے کا کام شروع کیا تھا۔ ان افراد نے مزدوروں اور غریبوں کو لالچ دے کر ان کے دستاویزات حاصل کیے اور ان سے اکاؤنٹس کھلوائے، جو بعد میں بیچ دیے گئے۔پولیس نے 19 دسمبر 2024 کو بینک آف مہاراشٹر کی کولار روڈ برانچ سے ایک ای میل موصول ہونے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھی۔ ای میل میں بتایا گیا تھا کہ راہل سریواستو کے دو بینک اکاؤنٹس میں تین مہینے کے دوران تقریباً تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔ پولیس نے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کیں اور ملزم سے تفتیش کی، جس کے بعد اس نے اس سارے گروہ کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا۔

    ایڈیشنل ڈی سی پی ملکیت سنگھ کے مطابق، پولیس نے ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم، اس کی بیوی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی، جو لیو ان پارٹنرز تھے، کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ سینکڑوں اکاؤنٹس بیچ چکا تھا، اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس گروہ کے مزید افراد تک پہنچا جا سکے۔اس انکشاف کے بعد پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آدھار اور دیگر اہم دستاویزات کی حفاظت کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

  • 13 ہزار تنخواہ پر سرکاری ملازم،لگژری کار،شاندار طرز زندگی،گرل فرینڈ کوتحفہ میں فلیٹ

    13 ہزار تنخواہ پر سرکاری ملازم،لگژری کار،شاندار طرز زندگی،گرل فرینڈ کوتحفہ میں فلیٹ

    بھارتی مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک سرکاری ملازم جس کی تنخواہ صرف 13 ہزار تھی ،کے شاندار طرزِ زندگی نے لوگوں کو حیران کن حد تک چونکا دیا۔ ہرش کمار کشرساگر، جو صرف 13,000 روپے ماہانہ کی تنخواہ پر کام کر رہا تھا، اچانک لگژری گاڑیوں کی سواری کرتے ہوئے اور ایک شاندار فلیٹ خرید کر اپنی گرل فرینڈ کو تحفے میں دے رہا تھا، جس نے اُس کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔یہ حیران کن کہانی اس وقت سامنے آئی جب یہ معلوم ہوا کہ ہرش کمار کشرساگر اور اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر حکومت کو 21 کروڑ 59 لاکھ 38 ہزار روپے کا دھوکہ دیا تھا۔ ان دونوں نے انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے چھترپتی سمبھاجی نگر کے محکمہ جاتی اسپورٹس کمپلیکس سے یہ رقم چوری کی تھی۔

    مذکورہ ملزم نے چوری کی رقم سے نہ صرف ایک مہنگی بی ایم ڈبلیو کار اور ایک بی ایم ڈبلیو موٹر سائیکل خریدی، بلکہ اپنی گرل فرینڈ کے لیے ایئرپورٹ کے قریب ایک 4 بی ایچ کے فلیٹ بھی خریدا۔ اس کے علاوہ، اس نے شہر کے ایک مشہور جیولر سے ہیروں سے جڑی ہوئی عینک بھی خریدی تھی۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس اسکیم میں ایک خاتون کنٹریکٹ ورکر کے شوہر نے بھی 35 لاکھ روپے کی ایس یو وی خریدی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ہرش کمار انل کشرساگر ایس یو وی لے کر فرار ہو چکا ہے۔

    دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ملزمان نے انڈین بینک میں اسپورٹس کمپلیکس کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ کھولا تھا جس کا مقصد سرکاری فنڈز کو ہڑپنا تھا۔ اس اکاؤنٹ میں لین دین کرنے کے لیے ڈپٹی اسپورٹس ڈائریکٹر کے دستخط شدہ چیک درکار تھے۔ تاہم، ہرش کمار کشرساگر، یشودا شیٹی، اور اس کے شوہر بی کے جیون، جو کہ اس کمپلیکس کے کنٹریکٹ ملازمین تھے، نے بینک کو فراہم کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں۔اس کے بعد، ان دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت کو فعال کیا اور اس اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر رقوم منتقل کرنا شروع کر دیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو چھ ماہ بعد اس دھوکہ دہی کا علم ہوا،

    اب اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے ہرش کمار کشرساگر اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ محکمہ اسپورٹس کمپلیکس کے اندر ہونے والی اس دھوکہ دہی کے پیچھے تمام ملزمان کے کردار کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    ڈپٹی وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی داتا دربار آمد

    فوجی عدالتیں ، پاکستان نے کبھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، عطا تارڑ

  • عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایک اہم موقع پر سامنے آیا ہے، جب امریکا نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تنقید شروع کی ہے اور اس سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔رچرڈ گرینل کا کہنا تھا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک سے امریکا مختلف انداز میں ڈیل کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام کے حوالے سے بات چیت کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موجودہ بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو کام گزشتہ چار سالوں میں نہ کر سکے، وہ اب بائیڈن انتظامیہ کے آخری 45 دنوں میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    امریکا نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون کرنے کے الزام میں چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان اداروں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس اور کراچی میں قائم تین کمپنیاں اختر اینڈ سنز، ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل اور روک سائیڈ انٹرپرائیزز شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ان پابندیوں کو ان اداروں کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے معاونت فراہم کرنے کے باعث عائد کیا۔

    قبل ازیں امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان فائنر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ امریکا جیسے دور دراز کے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں پر پاکستان نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی فیصلے کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ان کی میزائل صلاحیت کا استعمال دفاعی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے۔پاکستانی حکومت نے مزید کہا کہ یہ امریکی پابندیاں کسی بھی طرح پاکستان کے دفاعی پروگرامز کو محدود نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ان کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی اثر ڈال سکتی ہیں۔

    رچرڈ گرینل نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ ان الزامات سے مماثلت رکھتے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی عائد کیے گئے تھے۔ گرینل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے، کیونکہ ان کے کیس میں سیاسی پہلو بہت نمایاں ہے۔

    حوثیوں کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملہ،بھگدڑ سے 24 زخمی

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • ڈپٹی وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی داتا دربار آمد

    ڈپٹی وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی داتا دربار آمد

    ڈپٹی وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج لاہور میں واقع معروف مذہبی مقام داتا دربار کی زیارت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے ڈپٹی وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈپٹی وزیر اعظم نے مزار شریف پر حاضری دی اور وہاں فاتحہ خوانی کی۔ اس کے بعد انہوں نے دعا بھی کی اور دربار کے روحانی ماحول میں سکونت حاصل کی۔ اس موقع پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے ڈپٹی وزیر اعظم کو مزار شریف پر جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ڈپٹی وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ داتا دربار کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین کے لیے جدید سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں متعدد ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے دربار کے صحن میں خود کار چھتریوں کی تنصیب کے منصوبے کی منظوری کی اہمیت پر زور دیا، جس پر 650 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ یہ چھتریاں زائرین کے لیے موسم کی شدت سے بچاؤ کے لیے نصب کی جائیں گی۔

    ڈپٹی وزیر اعظم نے اس منصوبے کی منظوری پر زائرین کا شکریہ ادا کیا اور اس ترقیاتی کام کو کامیاب بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر ڈپٹی وزیر اعظم نے دربار شریف کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی رفتار اور معیار پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت داتا دربار کی تعمیر و ترقی کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے گی تاکہ یہاں آنے والے زائرین کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    خیرپور سے سکھر تک پہلی لوک سھائتا میراتھن،سہیل عامر،نتاشہ کی جیت

    فوجی عدالتیں ، پاکستان نے کبھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، عطا تارڑ

  • خیرپور سے سکھر تک پہلی لوک سھائتا میراتھن،سہیل عامر،نتاشہ کی جیت

    خیرپور سے سکھر تک پہلی لوک سھائتا میراتھن،سہیل عامر،نتاشہ کی جیت

    خیرپور سے سکھر تک پہلی لوک سھائتا میراتھن، سہیل عامر کی شاندار جیت

    خیرپور: خیرپور سے سکھر تک ہونے والی پہلی لوک سھائتا میراتھن میں مردوں اور خواتین دونوں کی دوڑ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس میراتھن کی افتتاحی تقریب خیرپور کوٹ کے ڈیجی قلعہ میں ہوئی، جہاں پر محفل کا آغاز کیا گیا۔ افتتاح کے بعد عالمی معیار کے مطابق 42.192 کلو میٹر کی مردوں کی میراتھن کا آغاز ہوا۔ اس دوڑ میں 2 ہزار سے زائد مرد ایتھلیٹس نے حصہ لیا، جنہوں نے اپنی بھرپور دوڑ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    مردوں کی میراتھن کا آغاز خیرپور سے ہوا، جہاں پر شائقین کی بڑی تعداد نے ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس دوڑ میں سہیل عامر نے اپنی شاندار دوڑ سے سب کو حیران کن انداز میں پیچھے چھوڑا اور 2 گھنٹے 30 منٹ میں فنیشنگ لائن عبور کی۔ سہیل عامر کی جیت نے نہ صرف اس ایونٹ کو یادگار بنایا بلکہ انہوں نے اپنی تیز دوڑ کے ساتھ میراتھن کے ٹاپ پر جگہ بنائی۔ دوسری پوزیشن پر محمد شہباز اور تیسری پوزیشن پر ذوالفقار احمد رہے۔

    خواتین کی 10 کلو میٹر دوڑ قومی شاہراہ ابڑی سے شروع ہوئی، جس میں 300 سے زائد خواتین ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔ خواتین کی دوڑ میں نتاشہ نے 42 منٹ میں فنیشنگ لائن کو عبور کیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ممتاز دوسری پوزیشن پر رہیں، جبکہ ماریہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    اس میراتھن کے دوران راستے بھر شائقین نے ایتھلیٹس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ان کی محنت کا اعتراف کیا۔ اختتامی تقریب آئی بی اے پبلک اسکول سکھر میں ہوئی، جہاں ایونٹ کے ٹاپ 20 ایتھلیٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس ایونٹ میں انعامات حاصل کرنے والے ایتھلیٹس کو شیلڈز اور نقد انعامات دیے گئے۔اس میراتھن کے کامیاب انعقاد نے خیرپور اور سکھر کے علاقے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے پاکستان میں اس نوعیت کے ایونٹس کے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف مقامی ایتھلیٹس کے لیے ایک موقع تھا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی کھیلوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا۔

    یہ ایونٹ نہ صرف ایک سپورٹس ایونٹ کے طور پر بلکہ پاکستان کے معاشرتی، ثقافتی اور قومی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ پہلی لوک سھائتا میراتھن نے سب کو ایک ساتھ اکٹھا کرنے کی اہمیت کو واضح کیا اور مستقبل میں اس طرح کے ایونٹس کی مزید ضرورت کا احساس دلایا۔

    فوجی عدالتیں ، پاکستان نے کبھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، عطا تارڑ
    جنوبی افریقہ میں دنیا کی سب سے گہری سونے کی کان،درجہ حرارت 150 ڈگری

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟