Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بینظیر کی 17 ویں برسی،گڑھی خدا بخش میں کارکنان کی آمد

    بینظیر کی 17 ویں برسی،گڑھی خدا بخش میں کارکنان کی آمد

    لاڑکانہ: سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی 17 ویں برسی کی مناسبت سے گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عوام کا آنا جاری ہے۔ 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں استقبالیہ کیمپس بھی لگائے گئے ہیں، جہاں کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے گڑھی خدا بخش میں 50 سے زائد کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عوام کو بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ ان کیمپس میں کھانے پینے کی اشیاء، پانی اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جائے گا تاکہ کارکنوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ اس کے علاوہ محکمۂ صحت نے ہنگامی طبی امداد کے لیے 3 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے ہیں، تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں فوری علاج معالجہ کی سہولت دستیاب ہو سکے۔

    بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ گڑھی خدا بخش کے پنڈال اور مزار کے ارد گرد 8500 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں مزار کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈی آئی جی، کمشنر اور ایس ایس پی گڑھی خدا بخش نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر چیز مناسب طریقے سے چل رہی ہو۔

    صدر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف 27 دسمبر بی بی شہید کی برسی میں شرکت کے لٸے سفر پہ روانہ ہو گئے ہیں،

    پیپلز پارٹی کی رہنما ناہید خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان میں قیادت کا خلا پیدا ہو چکا ہے، اور ملک لیڈر لیس ہو گیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "بینظیر بھٹو شہید نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر عوام کی خدمت کی اور دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ عوام کی امیدوں کا مرکز تھیں اور ان کی شہادت سے جو نقصان پاکستان کو پہنچا ہے، وہ ناقابلِ تلافی ہے۔”

    ناہید خان اور پیپلز پارٹی کے رہنما صفدر عباسی نے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ ناہید خان نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے عوامی حقوق کے لیے ہمیشہ لڑائی لڑی اور اپنی جان کی قربانی دی۔ ان کے قتل کے بعد پاکستان میں جو سیاسی بحران آیا، وہ آج تک برقرار ہے۔

    بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 17 برس گزر جانے کے باوجود عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور احترام قائم ہے۔ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ہزاروں افراد آ کر ان کی رہنمائی اور قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان کی تعلیمات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور پارٹی کارکنوں کو ان کے مشن پر چلنے کی ترغیب دی ہے۔بینظیر بھٹو شہید کی برسی ایک اہم موقع ہے جس پر پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے مشن کو پورا کریں گے۔

  • سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔بریگیڈیئر رجاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں، سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملہ
    • حسان خان نیازی: 10 سال قید بامشقت
    • میاں عباد فاروق: 2 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 6 سال قید بامشقت
    • ارزم جنید: 6 سال قید بامشقت
    • علی رضا: 6 سال قید بامشقت
    • بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم: 6 سال قید بامشقت
    • محمد ارسلان: 7 سال قید بامشقت
    • محمد عمیر: 6 سال قید بامشقت
    • نعمان شاہ: 4 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملہ
    • راجہ دانش: 4 سال قید بامشقت
    • سید حسن شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • محمد عبداللہ: 4 سال قید بامشقت

    اے آئی ایم ایچ، راولپنڈی حملہ
    • علی حسین: 7 سال قید بامشقت
    • فرہاد خان: 7 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان حملہ
    • زاہد خان: 2 سال قید بامشقت

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس، تیمرگرہ حملہ
    • سہراب خان: 4 سال قید بامشقت
    • محمد سلیمان: 2 سال قید بامشقت
    • اسد اللہ درانی: 4 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملہ
    • خرم لیاقت: 4 سال قید بامشقت
    • پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ: 3 سال قید بامشقت

    قلعہ چکدرہ حملہ
    • ذاکر حسین: 7 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 4 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 4 سال قید بامشقت
    • گوہر رحمان: 7 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملہ
    • امین شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • ثقلین حیدر: 9 سال قید بامشقت
    • عزت گل: 9 سال قید بامشقت
    • نیک محمد: 9 سال قید بامشقت
    • رحیم اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • خالد نواز: 9 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملہ
    • فہیم ساجد: 8 سال قید بامشقت
    • احسان اللہ خان: 10 سال قید بامشقت
    • محمد بلال: 4 سال قید بامشقت

    فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملہ
    • حمزہ شریف: 2 سال قید بامشقت
    • امجد علی: 2 سال قید بامشقت
    • محمد فرخ: 5 سال قید بامشقت
    • محمد سلمان: 2 سال قید بامشقت
    • فہد عمران: 9 سال قید بامشقت

    دیگر حملے
    • راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملہ: محمد احمد (2 سال قید بامشقت)، منیب احمد (2 سال قید بامشقت)
    • گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملہ: محمد ایاز (2 سال قید بامشقت)
    • تمام مقدمات آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے۔
    • مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    • مسلح افواج، حکومت، اور عوام انصاف کے قیام اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

    ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں ،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کے مطابق اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر
    چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے،تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے،قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں

    سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں

    1۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت
    2۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت
    3۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    4۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت
    5۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت
    6۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت
    7۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت
    8۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت
    9۔ پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت
    10۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو4 سال قید مشقت
    11۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت
    12۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت
    13۔قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت
    14۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت
    15۔پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت
    16۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت
    17۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت
    18۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت
    19۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت
    20۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    21۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت
    22۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت
    23۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت
    24۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    25۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت
    26۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت
    27۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    28۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت
    29۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت
    30۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت
    31۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    32۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال قید بامشقت
    33۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال قید بامشقت
    34۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال قید بامشقت
    35۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت
    36۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت
    37۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت
    38۔چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت
    39۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت
    40۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت
    41۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت
    42۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال قید بامشقت
    43۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال قید بامشقت
    44۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    45۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    46۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت
    47۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت
    48۔ راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت
    49۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت
    50۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت
    51۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت
    52۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت
    53۔گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    54۔چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت
    55۔ چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت
    56۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت
    57۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت
    58۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت
    59۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت
    60۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

  • وزیراعظم  سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم   کی ملاقات

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں چیئرمین ماؤ زے تنگ کی بھتیجی مادام ماؤ شیاؤ چنگ بھی موجود تھیں،ماسٹر یوآن کے بنائے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح اور چیئرمین ماؤ زے تنگ کے اسکلپچرز کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی،یہ تقریب 25 دسمبر کو قائد اعظم اور 26 دسمبر کو ماؤ زے تنگ کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی،وزیراعظم نے پاکستان آمد پر ماسٹر یوآن کو خوش آمدید کہا،وزیراعظم نے قائد اعظم اور چیئرمین ماؤ کا شاندار اسکلپچرز بنانے پر ماسٹر یوآن کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی یہ تقریب تاریخی ہے،دونوں لیڈرز کے اسکلپچرز ماسٹر یوآن کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی،جدید چین کی بنیاد رکھنے میں چئیرمین ماؤ کا کلیدی کردار تھا،چیئرمین ماؤ زے تنگ کی عزت و احترام ہر پاکستانی کے دل میں ہے ،پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنیاد مشترکہ عزت و احترام اور بھروسے پر مبنی ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ چین اور پاکستان دونوں قدیم تاریخی ورثوں کے امین ہیں،اس سال جون میں اپنے دورہء چین کے دوران شیان میں ٹیرا کوٹا واریئرز میوزیم جانے کا اتفاق ہوا جو کہ انتہائی متاثر کن تاریخی ورثہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ،پاکستان وادیء سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا مسکن ہے ؛ موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ پنہاں ہے ،اس سال چین کے وزیراعظم عزت مآب لی کی چیانگ کے پاکستان کے دورہ سے دونوں ممالک کے مثالی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ،پاکستان اور چین کی آل -ویدر اسٹریٹجک پارٹنر شپ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے لے کر دفاع اور دفاعی پیداوار اور زراعت کے شعبوں میں تعاون میں مزید بہتری آ رہی ہے،پاکستان سے زراعت کے شعبے کے گریجوئیٹ کا پہلا بیچ چینی زرعی یونیورسٹیوں میں تربیت اور تحقیق کی غرض سے جلد چین روانہ ہو گا ،

    تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ، نشریات و ثقافت عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ،پاکستان میں تعینات چینی سفیر عزت مآب جیانگ زی ڈونگ ، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور سرکاری افسران موجود تھے۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

  • ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے لئے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے.

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ محاصل میں اضافہ ترجیح ہے، ٹیکس کی شرح کو مجموعی قومی پیداوار کے 13فیصد پر لانا ہے۔ایف بی آر میں سٹرکچرل ریفارمز اور ڈیجیٹائزیشن کا عمل آگے بڑھا رہے ہیں۔ نظام میں خامیوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔ٹیکسز کی وصولی بہتر بنانے کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا آغاز کر دیا۔ٹیکسز کی ادائیگی کے حوالے سے ٹیکس بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے،ڈیجیٹلائزیش کے ذریعے شفافیت لانے اور انسانی مداخلت کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو مکمل کیا جائے گا آئی ایم ایف کے ساتھ ٹھوس اقدامات کی بنا پر بات کی جاتی ہے،جی ڈی پی میں ٹیکس کا تناسب 9 سے 10 فیصد کے درمیان ہے، ترمیمی بل کا مقصد ٹیکسوں کو ساڑھے 13 فیصد تک لانا ہے،ہ ٹیکسوں سے متعلق یہ ہدف ہم نے 3 سال میں حاصل کرنا ہے، ٹیکس وصولی میں ٹیکنالوجی بہت اہم ہے، قوم کے ساتھ نئے اقدامات شیئر کرتے رہیں گے ٹیکس چوری روکنی ہے، اِن فارمل سیکٹر کو فارمل سیکٹر میں لانا ہے، ٹیکس نظام میں شفافیت لانی ہے،ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، مجموعی طور پر 71 ارب روپے کا مزید ٹیکس کا پوٹینشل ہے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ کوئی چیز ماورائے آئین و قانون نہیں ہے، کسی بھی عدالتی حکم میں عالمی قوانین اور مقامی قوانین و آئین کے مطابق ہوتا ہے، کوئی چیز ماورائے آئین و قانون نہیں ہے، پی آئی اے کی یورپ کے لئے فلائیٹس بھی اسی لئے بحال ہوئی ہیں کہ عالمی معیارات پر عمل درآمد ہوا ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل میں وکیل کا حق دیا گیا ہے، ریکارڈ تک رسائی دی گئی ہے، فیملی تک رسائی موجود ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل میں کسی بھی عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    انسانی سمگلنگ سنگین مسئلہ،فوری اقدامات کی ضرورت ہے، عظمیٰ کاردار

  • ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور قائم مقام انٹیلی جنس ڈائریکٹر ایک مشرقی یورپی آلیگارک کے لیے مشاورتی خدمات فراہم کی تھیں، جس پر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رچرڈ گرنیل نے 2016 میں وادی میر سے تعلق رکھنے والے مولڈووا کے سیاستدان ولادیمیر پلاہوتنیوک کے حق میں کئی مضامین لکھے تھے، لیکن انہوں نے یہ انکشاف نہیں کیا کہ انہیں اس کام کے لیے ادائیگی کی جا رہی تھی۔ دستاویزات اور انٹرویوز کے مطابق، گرنیل نے امریکی قانون "فارین ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ” کے تحت اس کام کی اطلاع بھی نہیں دی تھی، جو کہ غیر ملکی سیاستدانوں کی طرف سے کی جانے والی سرگرمیوں کا انکشاف کرنے کی ضرورت رکھتا ہے۔FARA وہی قانون ہے جس کی خلاف ورزی پر ٹرمپ کے سابق انتخابی مینیجر پال مینایفورٹ اور ان کے نائب ریک گیٹس کو سزا ہوئی تھی۔ مینایفورٹ نے مقدمے کا سامنا کیا، جبکہ گیٹس نے جرم تسلیم کیا۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا گرنیل کے لکھے گئے مضامین ان کی پلاہوتنیوک کے لیے کی جانے والی مشاورتی خدمات کا حصہ تھے یا نہیں۔ اگرچہ غیر ادا شدہ کام بھی FARA کے تحت انکشاف کے لیے ضروری ہو سکتا ہے، اگر وہ کام کسی غیر ملکی سیاستدان کی ہدایت پر کیا جائے یا اس سے براہ راست فائدہ پہنچے۔ میتھیو سینڈرسن، جو ایک وکیل ہیں اور FARA کے حوالے سے مشورے دیتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "یہ واقعی ایسا موقع ہے جس کی تحقیقات امریکی محکمہ انصاف کو مزید کرنی چاہیے۔”

    گرنیل کے وکیل کریگ اینگل نے پرو پبلیکا کی جانب سے گرنیل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گرنیل کو FARA کے تحت رجسٹر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کی ہدایت پر کام نہیں کر رہے تھے۔ اینگل کے مطابق، "گرنیل نے یہ مضامین اپنی ذاتی رائے کے طور پر لکھے اور یہ ان کی ذاتی کوششیں تھیں، نہ کہ کسی فرد کے لیے کام کرنا۔”تاہم، اگر کسی فرد نے غیر ملکی سیاستدان کے لیے کام کیا ہو اور وہ اس کا انکشاف نہ کرے، تو یہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی میں نوکری کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے میں مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ بات اہم ہے کہ کسی فرد کے غیر ملکی تعلقات، کاروبار یا مالی مفادات کی بنا پر اس کے خلاف غیر ملکی اثرورسوخ یا دھمکیوں کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

    رچرڈ گرنیل نے اپنے کیریئر کا آغاز امریکی اقوام متحدہ میں ترجمان کے طور پر کیا تھا ،وہ جرمنی میں امریکی سفیر اور کوسوو اور سربیا کے درمیان مذاکرات کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر کام کر چکے۔ انہوں نے ٹرمپ کے سامنے اپنی وفاداری اور جارحانہ ٹویٹس کی وجہ سے صدر کا اعتماد حاصل کیا۔ گرنیل نے برلن میں جرمن سیاست میں مداخلت کر کے مقامی سیاست میں بھی ہلچل مچائی تھی، جو کہ عام سفارتی پروٹوکول سے ہٹ کر تھا۔رچرڈ گرنیل کا انٹیلی جنس میں کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ اس سے قبل بھی امریکی حکومت میں مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں، لیکن ان کا براہ راست انٹیلی جنس یا سیکیورٹی سے تعلق نہیں رہا۔

    ولادیمیر پلاہوتنیوک مولڈووا کے سب سے امیر ترین شخص تھے، جو اس وقت کے حکومتی اتحاد کے اہم رکن بھی تھے۔ 2016 میں، گرنیل نے پلاہوتنیوک کے حق میں مختلف مضامین لکھے اور ان کے مخالفین کو روسی مفادات کا حامی قرار دیا تھا، جب کہ پلاہوتنیوک اور ان کے اتحادی ایک ارب ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔پلاہوتنیوک نے خود کو مغربی مفادات کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ مغربی حکومتیں ان کی حمایت کریں۔ تاہم، امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پلاہوتنیوک اور ان کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات کی تصدیق کی اور ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، "پلاہوتنیوک نے اپنے سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھا کر قانون کی حکمرانی کو کمزور کیا اور جمہوری اداروں کی آزادی کو نقصان پہنچایا۔”

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • انسانی سمگلنگ سنگین مسئلہ،فوری اقدامات کی ضرورت ہے، عظمیٰ کاردار

    انسانی سمگلنگ سنگین مسئلہ،فوری اقدامات کی ضرورت ہے، عظمیٰ کاردار

    مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ کاردار نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور یہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔

    لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اس معاملے پر تفصیل سے گفتگو کی،عظمیٰ کاردار نے کہا کہ 15 دسمبر کو ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی جس میں 80 پاکستانی سوار تھے۔ اس حادثے میں 5 پاکستانی جاں بحق ہوئے، جبکہ 47 افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انسانی اسمگلنگ کے مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس سنگین مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا اور پارلیمنٹیرینز کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر قوانین بنائے جا سکیں۔ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ اس کمیٹی کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایک ایسا قانون تشکیل دے جو انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کو روک سکے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    ن لیگ کی رہنما نے مزید کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے ان کی پارٹی نے عملی اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں منڈی بہاؤ الدین سے 2 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا ہے، جو اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے مزید اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ اس کے شکار افراد کی جانوں کو بچایا جا سکے۔عظمیٰ کاردار نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا ہے اور اسے اجتماعی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے لیے پاکستان میں فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی، اقتصادی اور معاشرتی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ لوگ اس چکر میں نہ پھنسیں۔

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ کی روک تھام، رانا ثناء اللہ کی ترک ہم منصب سے بات چیت

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

  • اڈیالہ  کا قیدی این آر او   کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ کا قیدی این آر او کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پنجاب صوبائی وزیر اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے واضح طور پر ‘ابسلوٹلی ناٹ’ (بالکل نہیں) کہہ کر امریکہ کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہ پالیسی کبھی بھی تبدیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور آزادی کے لیے پُرعزم ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات کا ڈرامہ کھیل رہی ہے اور دوسری طرف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک ہی مقصد اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل ہے، اور ان کا یہ طرز عمل عوامی مفاد سے کوسوں دور ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے رہنما جیسے ذلفی بخاری، شہباز گل اور شہزاد اکبر اس مہم میں پیش پیش ہیں۔ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو مالی طور پر پاکستان کی مدد نہ کرنے پر اکسا رہے ہیں، جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کام کیا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ رواں سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کی فتنہ سازی اور ملک دشمنی کو مسترد کر دیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں، نے ڈیڑھ سال تک قوم کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو آزاد کرائیں گے، لیکن اب وہ خود امریکی لابی سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کریں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستانی عوام کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ملک کو امریکی اثر سے آزاد کرائیں گے، آج وہ خود امریکی مداخلت کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی بددیانتی ہے اور ان کی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کا قیدی این آر او (قومی مفاہمت آرڈیننس) مانگنے کے لیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اب تک کی سیاست میں ان کا کردار صرف ذاتی مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اس قسم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اب ملک کی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

  • سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سال 2024 کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2024 تک بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.05 ارب ڈالر رہا، جو کہ سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینوں میں 1.84 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح، 2024 کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں تقریباً 21.34 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری میں 23 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ نجی شعبے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی صورت میں ہوا ہے، جو 31 فیصد بڑھ کر 3.41 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اس کے علاوہ، نجی شعبے سے براہ راست سرمایہ کاری کے اخراج میں بھی 93.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 1.04 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل ہوئے۔

    اسٹاک مارکیٹ اور حکومتی شعبے میں سرمایہ کاری کا تجزیہ
    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سال 2024 کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ سے 10.77 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔ اوسطاً، اس دوران ہر ماہ 98 لاکھ ڈالر کی رقم نکالی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی شعبے میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ سرکاری شعبے سے 19.86 کروڑ ڈالر نکالے گئے، جبکہ سرکاری شعبے سے ماہانہ اوسط اخراج 1.8 کروڑ ڈالر رہا۔

    اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، خصوصاً نجی شعبے میں براہ راست سرمایہ کاری کی شکل میں۔ تاہم، حکومتی اور اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ کاری کا اخراج تشویش کا باعث بنا ہے، جو ملک کی اقتصادی صورتحال اور بیرونی سرمایہ کاروں کی مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور نجی شعبے کو بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج کی وجوہات کا جائزہ لے کر اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے ان کے خلاف اشتہار جاری کر دیا ہے۔

    اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے 21 جنوری 2024 کو علی امین گنڈا پور کے خلاف اشتہار جاری کرنے کی منظوری دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ حسن ابدال پولیس علی امین گنڈا پور کی گرفتاری کے حوالے سے کارروائی کرے اور 21 جنوری تک اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور کوعدالت میں پیش ہونے کے لیے متعدد بار طلب کیا گیا تھا، تاہم وہ مسلسل عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے عدالت نے ان کے خلاف اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اقدام ایک قانونی ضرورت کے طور پر لیا گیا ہے تاکہ علی امین گنڈا پور کو عدالت میں پیش ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے حسن ابدال پولیس کو ان کی گرفتاری کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

    علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی میں تیزی آئے گی، اور پولیس کو ان کی گرفتاری کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔اس پیش رفت کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت اور علی امین گنڈا پور کے سیاسی مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں،

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ،پہلا ٹیسٹ میچ،جنوبی افریقا کا بولنگ کا فیصلہ