Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اداکارہ بلیک لائیولی کاساتھی اداکار  پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ، اداکاروں کی حمایت

    اداکارہ بلیک لائیولی کاساتھی اداکار پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ، اداکاروں کی حمایت

    ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ بلیک لائیولی نے اپنے ساتھی اداکار اور ہدایت کار جسٹن بیلڈونی پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ 37 سالہ بلیک لائیولی نے 40 سالہ جسٹن بیلڈونی کے خلاف یہ مقدمہ اسی سال ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ فلم It Ends with Us کی شوٹنگ کے دوران کی گئی مبینہ ہراسانی کی بنیاد پر دائر کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، اس مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا جب بلیک لائیولی اور جسٹن بیلڈونی کے درمیان تعلقات میں تناؤ آیا، اور اس کے کچھ ماہ بعد یہ الزامات سامنے آئے ہیں۔ دونوں اداکاروں کے درمیان فلم کی شوٹنگ کے دوران تعلقات خراب ہو گئے تھے، اور اب بلیک لائیولی نے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ جنسی ہراسانی کے بارے میں قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بلیک لائیولی کو اس مقدمے کے معاملے میں دیگر ہالی ووڈ اداکاروں کی جانب سے بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ It Ends with Us کے ساتھی اداکار برینڈن اسکیلنر اور جینی سلیٹ نے سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک لائیولی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

    برینڈن اسکیلنر نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ اس مقدمے کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور اس معاملے پر اپنی آواز اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ انصاف مل سکے۔اداکارہ جینی سلیٹ نے بھی بلیک لائیولی کی حمایت میں ایک پیغام جاری کیا اور ان کی بہادری کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ "میں بلیک لائیولی کے ساتھ کھڑی ہوں اور جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہوا وہ نہایت پریشان کن اور مکمل طور پر دھمکی آمیز ہے۔” جینی سلیٹ نے مزید کہا کہ ہر فرد کو اپنی حفاظت اور حقوق کے بارے میں آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے، اور وہ بلیک لائیولی کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑی ہیں۔

    مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جسٹن بیلڈونی نے بلیک لائیولی کو غیر مناسب طریقے سے چھوا اور جنسی طور پر ہراساں کیا، جس کے بعد بلیک لائیولی نے اس کی رپورٹ پولیس اور دیگر قانونی اداروں کو کی۔ یہ الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں اور ہالی ووڈ کے اندر ایک اہم بحث کو جنم دے رہے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ کیا صنعت میں اس قسم کی بدسلوکی کا سدباب کیا جا رہا ہے یا نہیں۔یہ مقدمہ ہالی ووڈ میں ایک اور تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں پچھلے کچھ سالوں میں مختلف اداکاراؤں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کئی اہم آوازیں اُٹھی ہیں۔ بلیک لائیولی کے مقدمے کے حوالے سے بھی کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ آیا ہالی ووڈ کی صنعت میں ایسی بدسلوکی کے واقعات اب بھی ہورہے ہیں یا یہ صرف ایک منفرد کیس ہے۔

    اداکارہ بلیک لائیولی نے جنسی ہراسانی کے الزامات کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان پر ذہنی اور جذباتی طور پر دباؤ ڈالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ہالی ووڈ کی ثقافت میں اس قسم کی بدسلوکی کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

    قائد کے پاکستان کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں، شیری رحمان

    قائد کے پاکستان کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں، شیری رحمان

  • قائد کے پاکستان کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں، شیری رحمان

    قائد کے پاکستان کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں، شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 148ویں یوم پیدائش پر اپنے پیغام میں کہا کہ "قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کی الگ شناخت اور سیاسی سمت کا تصور دیا۔”

    شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ قائد اعظم کی قیادت نے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا خواب حقیقت میں بدل دیا، جس کا قیام ممکن نہ ہوتا اگر قائد کی رہنمائی نہ ہوتی۔شیری رحمان نے مزید کہا کہ "آج کا دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ قائد اعظم کی انتھک جدوجہد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کے حقوق کے حصول کے لیے مضبوط بنایا اور آج ہم اُن کی جدوجہد کی بدولت ایک آزاد اور خود مختار ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "قائد اعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد، سیاسی بصیرت، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے زریں اصولوں کا عملی نمونہ تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "قائد کے پاکستان میں کسی کو لسانی، طبقاتی، مذہبی یا عددی بنیادوں پر فوقیت حاصل نہیں۔”شیری رحمان نے کہا کہ "آج کا دن ہمیں ایک مرتبہ پھر اپنے اختلافات کو ختم کر کے متحد ہونے کا عہد کرنے کا ہے، جیسے ہمارے آبا اجداد نے تحریک آزادی کے دوران متحد ہو کر پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی تھی۔” انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ "آئیے ہم ذات، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر اپنے اختلافات کو ختم کر کے متحد ہو کر کام کریں تاکہ ہم قائد اعظم کے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔”انہوں نے آخر میں دعا کی کہ "اللہ تعالیٰ بابائے قوم کے درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے بتائے ہوئے زریں اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!”

    شازیہ مری کا قائدِ اعظم محمد علی جناح کے 148ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت
    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بھی قائدِ اعظم محمد علی جناح کے 148ویں یوم پیدائش پر اپنے پیغام میں کہا کہ "قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد نے ہمیں ایک آزاد وطن دیا، اور ان کی قیادت نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی۔”شازیہ مری نے کہا کہ "قائدِ اعظم کی غیر معمولی قیادت نے مسلمانوں کے حقوق کی بھرپور وکالت کی اور بدولت ہم نے آزادی حاصل کی۔ قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے، اپنی ثقافت کا تحفظ کرنے اور اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کا موقع دیا۔”انہوں نے مزید کہا کہ "قائدِ اعظم کا ایک پُرامن اور اعتدال پسند پاکستان کا خواب تھا، اور اس خواب کی تکمیل کے لیے ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔”شازیہ مری نے کہا کہ "قائدِ اعظم کے فرمان کے مطابق ہمیں اپنی سرحدوں کے اندر اور باہر ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں۔”انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ "آئیں، ہم سب قائدِ اعظم کے نظریات کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگیوں میں مجسم کرنے کا عہد کریں اور ‘اتحاد، یقینِ محکم اور تنظیم’ کے اصولوں کو اپنانے کا عہد کریں تاکہ ہم اپنے وطن کو ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن کر سکیں۔”

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    پاراچنار،دھرنا جاری،ادویات نہ ملنے سے 100 سے زائد بچوں کی اموات

  • شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت میں دوسرے بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ 23 دسمبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فارغ التحصیل ہونے والی 64 لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت اور محنت کا شاندار مظاہرہ کیا۔

    پریڈ کی تقریب کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر 12 کور، لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان تھے، جنہوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور فلاح میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایسی تربیتی ادارے ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر مالک بلوچ، ممبر بلوچستان اسمبلی، آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور علاقے کے معززین کے علاوہ کیڈٹس کے والدین کی بڑی تعداد بھی اس تقریب میں شریک ہوئی۔

    پاسنگ آؤٹ پریڈ میں لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ کیڈٹس نے مارچ پاسٹ اور مارشل آرٹس کے مختلف فنون کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی محنت، عزم اور انضباط نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔پاس آؤٹ ہونے والی کیڈٹس میں سے 90 فیصد کا تعلق بلوچستان کے مختلف ڈویژنز جیسے مکران، قلات، رخشان، سبی، ژوب، لورالائی اور نصیرآباد سے ہے۔ یہ بات اس بات کا غماز ہے کہ شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج نہ صرف تربت بلکہ پورے بلوچستان کی بچیوں کی تربیت اور فلاح کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والی کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اوور آل بیسٹ کیڈٹ کا اعزاز آمنہ عثمان کو دیا گیا، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے کالج کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انعامات کی تقسیم کے دوران تمام کیڈٹس کی محنت کو سراہا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت، بلوچستان کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج ہے جس کا قیام 2021 میں عمل میں آیا۔ کالج میں 400 لیڈی کیڈٹس کی تربیت کی گنجائش ہے اور اب تک دو بیچز میں 131 لیڈی کیڈٹس کامیابی کے ساتھ فارغ التحصیل ہو چکی ہیں۔ یہ کالج نہ صرف بچیوں کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کر رہا ہے بلکہ بلوچستان میں خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت خواتین کی تعلیم اور تربیت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف لڑکیوں کو تعلیمی لحاظ سے مضبوط کرتا ہے بلکہ ان میں قائدانہ صلاحیتوں اور جسمانی قوت کو بھی بڑھاتا ہے، تاکہ وہ معاشرتی سطح پر مضبوط اور خودمختار خواتین کے طور پر اُبھر سکیں۔شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج کی کامیاب پاسنگ آؤٹ پریڈ ایک اور کامیاب قدم ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیم اور ان کی ترقی کے لئے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

  • پاراچنار،دھرنا جاری،ادویات نہ ملنے سے 100 سے زائد بچوں کی اموات

    پاراچنار،دھرنا جاری،ادویات نہ ملنے سے 100 سے زائد بچوں کی اموات

    پاراچنار میں ڈھائی ماہ سے راستوں کی بندش کے خلاف شہریوں کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے حکومت کی بے توجہی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

    پاراچنار میں راستوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور یہ صورتحال علاقے میں صحت، تعلیم اور روزمرہ کی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات پیدا کر رہی ہے۔پاراچنار کے عوام نے ان راستوں کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خوراک اور علاج کی سہولتوں کی کمی کے باعث حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ تحصیل چیئرمین اپرکرم آغا مزمل کا کہنا تھا کہ "راستوں کی بندش کے باعث شہری علاج کی سہولت سے محروم ہیں، اور اس کا اثر بچوں پر بہت زیادہ پڑا ہے، جن میں سے 100 سے زائد بچے علاج نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ چکے ہیں۔”

    دوسری جانب، ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و سکون قائم کرنے کے لیے گرینڈ جرگہ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "آج سے مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے، اور گرینڈ امن جرگہ ضلع کرم پہنچ چکا ہے۔” یہ جرگہ علاقے میں قیام امن کے لیے مختلف فریقین کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔

    خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے ضلع کرم میں ایف سی (فوجی فورسز) کی تعیناتی کی درخواست بھی کی ہے تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "پاراچنار روڈ کے لیے اسپیشل پولیس فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد علاقے میں صدیوں پرانے تنازعہ کا پائیدار اور مستقل حل تلاش کرنا ہے۔”

    پاراچنار کی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے مجلس وحدت مسلمین نے کراچی کی نمائش چورنگی اور لاہور پریس کلب پر بھی احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج میں شریک افراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر راستوں کی بندش ختم کرے اور پاراچنار کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔پاراچنار میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے قبائل کے درمیان تصادم جاری ہے، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تنازعہ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے، جس کے باعث تمام چھوٹے بڑے راستے بند ہو چکے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ علاقے میں معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں، اور عوام کی روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔پاراچنار کے عوام نے حکومت سے فوری طور پر راستوں کی بندش ختم کرنے اور علاقے میں امن و سکون کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں سنے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔

    ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

  • ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ

    ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ

    ملک کے مختلف حصوں میں سردی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شمالی بلوچستان میں شدید سردی نے ندی نالوں اور پائپ لائنوں میں پانی جمنے کی صورت میں مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ یہاں کی درجہ حرارت میں کمی کے باعث پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، اور لوگوں کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    زیارت، کوئٹہ اور قلات میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس پریشر میں کمی بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کی وجہ سے شہریوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، اور لوگ لکڑی اور دیگر متبادل ذرائع سے حرارت حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔کراچی میں بھی سرد ہواؤں کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں شہر بھر میں ٹھنڈ بڑھ گئی ہے۔ جنوبی پاکستان کے اس گرم شہر میں سردی کا یہ غیر معمولی احساس شہریوں کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ لوگوں کو گرم کپڑے اور ہیٹر کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ خاص طور پر رات کے اوقات میں درجہ حرارت منفی تک پہنچ رہا ہے، جس سے عوام کو خاصا دقت کا سامنا ہے۔مری میں برف باری کے بعد سردی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور سیاحوں کی بڑی تعداد برف باری کا لطف اٹھانے کے لیے وہاں پہنچ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے سردی کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے رواں سیزن میں بارش اور برف باری کی کم ہونے کی پیشگوئی کی ہے، اور بتایا ہے کہ جنوری کے دوسرے ہفتے کے بعد سردی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سیزن میں سردیوں کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پہلے سے شدید سردی موجود ہے۔مجموعی طور پر، ملک کے مختلف حصوں میں سردی کی شدت میں اضافے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق آئندہ ہفتوں میں سردی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے لیے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

  • انسانی سمگلنگ میں ملوث   گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی گینگ کو بے نقاب کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انسانی سمگلروں کے خلاف ایک خصوصی کریک ڈاؤن شروع کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ملزم کی شناخت محمد اشفاق کے نام سے ہوئی، جسے فیصل آباد کے علاقے کھڑیانوالہ سے گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم سے ایرانی کرنسی بھی برآمد کی۔ ملزم انسانی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا اہم رکن تھا، جو شہریوں سے بھاری رقوم لے کر انہیں ترکی کے راستے یورپ بھجواتا تھا۔ملزم محمد اشفاق اور اس کے دیگر ساتھی سادہ لوح شہریوں کو ملازمت کے جھانسے دے کر وزٹ ویزے پر آذربائیجان، ترکی اور دیگر ممالک بھجواتے تھے۔ بعدازاں، یہ شہری ترکی سے سمندر کے راستے یورپ پہنچائے جاتے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق، ملزم کا نیٹ ورک ترکی اور دیگر یورپی ممالک میں فعال تھا، جہاں اس کے دیگر ساتھی اس غیر قانونی کاروبار کو چلانے میں ملوث تھے۔ملزم کے موبائل فون سے اہم شواہد بھی حاصل کر لئے گئے ہیں، جن سے اس کے بین الاقوامی ایجنٹس سے روابط کا پتا چلتا ہے۔ ملزم شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کرتا تھا اور ان کی بیرون ملک منتقلی میں ناکامی کے بعد وہ روپوش ہو جاتا تھا۔ ایف آئی اے نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، اور دیگر ملزمان اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    ایف آئی اے کے حکام نے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ایف آئی اے کے مطابق، شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ان ملزمان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر گجرانوالہ زون عبدالقادر قمر نے کہا کہ "سادہ لوح شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی معافی کے مستحق نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "انسانی سمگلنگ میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔”

    ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے بھی انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک ایجنٹ کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت جاوید اشرف کے نام سے ہوئی، جسے ایمن آباد گجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم نے شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے لئے لاکھوں روپے بٹورے تھے، مگر وہ ان افراد کو باہر بھجوانے میں ناکام رہا۔ ملزم جاوید اشرف نے مجموعی طور پر 62 لاکھ 96 ہزار روپے ہتھیائے تھے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے انسانی سمگلنگ کے خلاف یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ادارہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے پرعزم ہے اور وہ کسی بھی فرد یا گینگ کو انسانوں کی اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایف آئی اے کے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے محتاط رہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں ادارے کو فوری اطلاع دیں۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

    افغانستان،را کا بدنام زمانہ ایجنٹ حملے میں زخمی،ساتھی ہلاک

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ‘پہلے براہِ راست شپنگ روٹ’ کے آغاز کے بعد سے 1,000 سے زائد کنٹینرز کا تبادلہ کیا جا چکا ہے، جیسا کہ پورٹ آپریٹر ڈی پی ورلڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے۔ اکتوبر میں اس روٹ کی شروعات کے بعد، اس نے نہ صرف ٹرانزٹ اوقات میں 50 فیصد سے زیادہ کمی کی ہے بلکہ ٹرانشپمنٹ کی ضرورت کو ختم کرکے کنیکٹیویٹی میں بھی بہتری لائی ہے۔

    یہ براہِ راست روٹ دبئی کی ہیڈکوارٹر رکھنے والی کمپنی ڈی پی ورلڈ اور نیشنل لاجسٹکس سیل کے مشترکہ منصوبے کے تحت فعال کیا گیا ہے۔ یہ نئی سروس چھ ممالک کے درمیان چلتی ہے، جن میں پورٹ کلانگ (ملائیشیا)، جبل علی (متحدہ عرب امارات)، کراچی (پاکستان)، چٹگاؤں (بنگلہ دیش)، بیلاوان (انڈونیشیا) اور منڈرا (بھارت) شامل ہیں۔ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو، سلطان بن سلیّم نے کہا، "یہ نیا روٹ ہماری متعدد علاقائی اور عالمی روٹس سے جڑتا ہے، جس سے کاروباری اداروں اور تاجروں کو ہمارے عالمی نیٹ ورک کے تمام حصوں تک رسائی ملتی ہے۔”

    یہ نیا روٹ 30 اکتوبر کو شروع ہوا، اور پہلے سفر میں کراچی سے چٹگاؤں کے درمیان 304 کنٹینرز براہِ راست بک کیے گئے۔ڈی پی ورلڈ کے ایک بیان کے مطابق، "ٹرانشپمنٹ کی ضرورت کو ختم کرنے کے بعد، یہ براہِ راست روٹ کراچی اور چٹگاؤں کے درمیان 11 دن کے اندر سامان پہنچانے کی قابلِ قدر سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے ترسیل کے اوقات تیز اور لاجسٹکس کی لاگت میں کمی آتی ہے۔””دوسری سروس میں کراچی اور چٹگاؤں کے درمیان کنٹینر لوڈ کی تعداد دوگنا ہو گئی، جس سے اس سروس کی بڑھتی ہوئی مانگ کا پتا چلتا ہے۔”

    اس نئے براہِ راست روٹ کا آغاز دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف سامان کی ترسیل میں تیزی آئے گی، بلکہ تجارتی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے دونوں ممالک کے بندرگاہوں کے درمیان روابط میں مزید اضافہ ہوگا، جو کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں اہم تجارتی تعلقات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ڈی پی ورلڈ کی اس نئی سروس کا مقصد نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے۔ اس کا اثر جنوبی ایشیا کی تجارت پر بھی پڑے گا، کیونکہ یہ سروس دیگر ممالک کے لیے بھی ایک نیا تجارتی راستہ فراہم کرے گی۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ براہِ راست شپنگ روٹ نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرے گا بلکہ جنوبی ایشیا کی تجارتی لاجسٹکس کے لیے ایک نیا ماڈل بھی فراہم کرے گا، جو کہ وقت کی کمی اور لاگت میں کمی کی صورت میں مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

    افغانستان،را کا بدنام زمانہ ایجنٹ حملے میں زخمی،ساتھی ہلاک

    برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن

    موزمبیق ، متنازع انتخابات ،پُرتشدد واقعات، 21 افراد ہلاک

  • افغانستان،را کا بدنام زمانہ ایجنٹ حملے میں زخمی،ساتھی ہلاک

    افغانستان،را کا بدنام زمانہ ایجنٹ حملے میں زخمی،ساتھی ہلاک

    افغانستان میں را کے ایجنٹ عبدالودود شیرزاد کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا

    افغانستان کے شہر جلال آباد کے علاقے منڈی میں نامعلوم افراد نے بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کے بدنام زمانہ ایجنٹ عبدالودود شیرزاد کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔ اس حملے میں عبدالودود کا ساتھی ہلاک ہوگیا۔

    عبدالودود شیرزاد افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے دور میں را کا اہم فرنٹ مین تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ہندوستانی سفارت خانے اور قونصل خانوں سے نقدی اور اسلحہ افغان انٹیلی جنس ایجنسی کو فراہم کرتا تھا۔عبدالودود شیرزاد کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب اس نے افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کیا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہا۔ وہ اپنے مخصوص تعلقات کی بنیاد پر اشرف غنی کے دور میں را کے لیے ایک کلیدی شخص تھا۔ شیرزاد نے افغانستان میں دہشت گردوں کو مالی اور اسلحہ جاتی مدد فراہم کی تاکہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

    اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد عبدالودود شیرزاد افغانستان چھوڑ کر دہلی، بھارت فرار ہو گیا۔ وہاں اس نے را کے سیف ہاؤسز میں قیام کیا اور بھارت کے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں، جن میں را کے سربراہ اجیت دوول کے مشیروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔نومبر 2023 میں اجیت دووال نے افغان عبوری حکومت سے عبدالودود شیرزاد کی حفاظت کی ذاتی یقین دہانی حاصل کی تھی۔ تاہم، کابل میں اپنی موجودگی کے دوران عبدالودود شیرزاد مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس نے افغانستان میں داعش کی خراسان شاخ (ISKP) کے ساتھ روابط قائم کر لیے تھے۔

    جب افغان حکام نے عبدالودود شیرزاد کی ISKP کے ساتھ بڑھتی ہوئی تعلقات پر اعتراض کیا، تو اس نے کہا کہ القاعدہ اور طالبان کے سابقہ ​​جنگجو اب ISKP میں شامل ہو چکے ہیں، اور اس کے کئی پرانے دوست بھی اسی تنظیم میں شامل ہیں۔ تاہم، باوجود افغان حکام کے انتباہ کے، عبدالودود نے ISKP کے ساتھ اپنے روابط کو ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    ان تمام واقعات کے تناظر میں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عبدالودود شیرزاد کو شاید افغان طالبان کی "ٹارگٹ کلنگ اسکواڈ” یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے "شارپ شوٹر اسکواڈ” نے نشانہ بنایا ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق، ان گروپوں نے شیرزاد کے ساتھ اپنے تعلقات کے سبب اسے خطرہ محسوس کیا اور اس پر حملہ کیا۔اب تک اس واقعے کے حوالے سے افغان حکام کی جانب سے کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن یہ حملہ افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہم نمائندے کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے والے واقعات میں سے ایک نیا اضافہ ہے۔

    برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن

    موزمبیق ، متنازع انتخابات ،پُرتشدد واقعات، 21 افراد ہلاک

  • برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف  کریک ڈاؤن

    برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن

    لندن: برطانیہ میں پناہ لیے ہوئے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن اور انہیں ملازمتیں دینے والے کاروباری افراد کے خلاف حکام نے ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

    برطانوی امیگریشن حکام نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کا پتہ چلایا جا سکے اور ان کے مالکان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے والے کاروباری مالکان پر ایک ملازم کے بدلے 60 ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکام نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ افراد غیر قانونی طور پر کم اجرتوں پر کام کر رہے تھے، جس کے باعث ان کا استحصال ہو رہا تھا۔ اس کریک ڈاؤن کا مقصد نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنا ہے بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کرنا ہے۔

    برطانوی حکام کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن اکثر کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور تھے، جس کا فائدہ کاروباری مالکان اٹھاتے تھے۔ یہ افراد عموماً ایسے حالات میں کام کرتے تھے جہاں ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوتا تھا اور انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا۔ برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے یہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور حالیہ کریک ڈاؤن میں حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر تارکین وطن کو ملازمت دینے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    برطانوی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس سلسلے میں کہا، "ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے سے نہ صرف ملک کے معاشی نظام پر اثر پڑتا ہے بلکہ یہ ان افراد کے حقوق کی پامالی بھی ہے جو خود کو بہتر زندگی کے لیے برطانیہ لاتے ہیں۔ ہم ان حالات کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔”یہ کریک ڈاؤن برطانوی حکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس میں نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے والے افراد کی شناخت ضروری ہے بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے کاروباروں کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کریک ڈاؤن سے دیگر غیر قانونی تارکین وطن کو بھی پیغام جائے گا کہ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنا یا رہنا غیر قانونی ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کا مقصد نہ صرف تارکین وطن کی زندگی کو بہتر بنانا ہے بلکہ برطانیہ کی معیشت کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔

    موزمبیق ، متنازع انتخابات ،پُرتشدد واقعات، 21 افراد ہلاک

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

  • موزمبیق ، متنازع انتخابات ،پُرتشدد واقعات، 21 افراد ہلاک

    موزمبیق ، متنازع انتخابات ،پُرتشدد واقعات، 21 افراد ہلاک

    موزمبیق میں حالیہ انتخابات کے نتائج کے بعد پُرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق موزمبیق کے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پُرتشدد واقعات کے دوران 2 پولیس افسران سمیت 21 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پُرتشدد واقعات صرف ایک دن میں پیش آئے، اور اس دوران مختلف حملوں میں مجموعی طور پر 70 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں مسلح گروہ مختلف تھانوں، حراستی مراکز اور دیگر حکومتی اداروں پر حملہ آور ہوئے، جس سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔

    دوسری جانب موزمبیق کی جلاوطن اپوزیشن رہنما، وینانسیو مونڈلین نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی، جس کے باعث ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مونڈلین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں اور بدعنوانی نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے، جس کا نتیجہ پُرتشدد احتجاج کی صورت میں سامنے آیا۔مظاہرین نے دکانوں، بینکوں اور سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ شہر کی سڑکوں پر حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے لوگوں نے مختلف عمارتوں کو نشانہ بنایا، حکومت نے پُرتشدد واقعات کو کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور پولیس و فوج کو مظاہروں کو دبانے کے لیے تعینات کر دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ مظاہروں کو روکنے اور امن بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    موزمبیق کے وزیرِ داخلہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ملک کی امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ملک میں بحران کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کے دباؤ کا سامنا بھی حکومت کو ہے۔موزمبیق میں ہونے والے اس سیاسی بحران کے بعد سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر انتخابات میں شفافیت اور امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔

    نواز شریف کے پوتے کی شادی،جاتی امرا میں تیاریاں

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت