Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نواز شریف کے پوتے کی شادی،جاتی امرا میں تیاریاں

    نواز شریف کے پوتے کی شادی،جاتی امرا میں تیاریاں

    لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کے پوتے، حسین نواز کے صاحبزادے زید حسین نواز کی شادی خانہ آبادی کی تقریبات،ولیمہ 29 دسمبر کو لاہور میں ہوگا۔

    شادی کی تقریبات کی تیاریوں کے سلسلے میں جاتی امرا جانے والے راستوں کو دلکش انداز میں سجایا جا رہا ہے تاکہ اس خوشی کے موقع پر اہم راستوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہو۔زید حسین کا نکاح اور رسم حنا آج، 25 دسمبر کو ہوگی۔ نکاح کی تقریب میں تقریباً 500 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے، جبکہ ولیمہ کی تقریب میں 700 افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان تقریبات میں بین الاقوامی مہمانوں کی بھی بھرپور شرکت ہوگی، جن میں امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات سے لوگ آئیں گے۔شادی کی اہم تقریبات میں حسین نواز اور ان کی فیملی کے ساتھ ساتھ ان کی بہن عاصمہ نواز بھی پاکستان پہنچ چکی ہیں تاکہ یہ یادگار لمحے اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکیں۔ ان شادیوں کی سیکیورٹی کا انتظام پنجاب پولیس کے ذمے ہوگا تاکہ مہمانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

    رائے ونڈ کے علاقے میں جاتی عمرہ جانے والے راستوں کی آرائش کا کام بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ سڑکوں کے اطراف درختوں کو خوبصورت لائٹس سے سجایا جا رہا ہے تاکہ رات کے وقت یہ راستے اور بھی زیادہ دلکش نظر آئیں۔ اس کے علاوہ، پھولوں کے گملے بھی مختلف مقامات پر رکھے گئے ہیں تاکہ جشن کی خوشبو اور رنگت کو اجاگر کیا جا سکے۔اس تقریب کے دوران، سیکیورٹی کی مکمل نگرانی پنجاب پولیس کے سپرد کی گئی ہے، جو مہمانوں کی حفاظت اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

  • جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹو جج کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اس لیے ان سے متعلق تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کسی اور جج کو سونپی جائے۔اس معذرت کے بعد، سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کس وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ قدم اٹھایا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے اور اس کا عدالت کے اندرونی انتظامی معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو جج مقرر کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹو جج کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدالت کی انتظامیہ، فائلوں کی نگرانی، اور دیگر انتظامی امور کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

  • تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکرسمس 2024 کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ کرسمس کے پر مسرت موقع پر، میں پاکستان اور دنیا بھر میں اپنے مسیحی بہنوں اور بھائیوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کرسمس کے موقع پر ہمیں اس کے پیغام پر بھی غور کرنا چاہیے: تمام انسانیت کے لیے امن، بھائی چارے اور محبت کا پیغام, جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں سکھایا۔ حضرت عیسیٰ نے ہمدردی، مہربانی، رحم، اور حکمت جیسی پائیدار اقدار کی تبلیغ کی، لوگوں کی نیک زندگی کی جانب رہنمائی کی اور انہیں رب العزت کی قربت حاصل کرنے کی ترغیب دی۔آج کے دن ہم اپنے مسیحی بہنوں اور بھائیوں کی طرف سے ملک کی ترقی اور استحکام، خاص طور پر تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور قوم کی تعمیر کے شعبوں میں کیے گئے مثالی تعاون کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور احترام کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے رہیں گے کہ تمام مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اپنے عقائد پر عمل کر سکیں اور پاکستانی قوم کی اجتماعی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اس پر مسرت موقع پر میری یہ دعا ہے کہ یہ کرسمس ہر گھر میں خوشیاں اور برکتیں لائے، اور آنے والا سال ہمارے پیارے ملک اور اس کے لوگوں کے لیے امید، امن اور کامیابیوں سے بھرا ہو۔ کرسمس کی خوشیاں مبارک!

  • آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

    قائداعظم محمد علی جناح کے 148 ویں یوم پیدائش پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم بانیء پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا 148 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں اور ان کی غیر معمولی بصیرت، غیر متزلزل ہمت اور بے مثال عزم کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ قائد اعظم نے وہ کر دکھایا جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے اور ان کی انتھک محنت کی بدولت ہمیں ہمارا وطن پاکستان معارض وجود میں آیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائداعظم نادر صلاحیتوں کے رہنما تھے جو اتحاد، انصاف اور مساوات پر گہرا یقین رکھتے تھے۔ ان کی زندگی ان گنت لوگوں کو ایک روشن خیال استاد، بصیرت رکھنے والے وکیل، اصولی اور ثابت قدم سیاست دان اور کرشماتی رہنما کے طور پر متاثر کرتی آئی ہے۔ قائد اعظم کی جدو جہد کا سفر یقین کی طاقت اور محنت اور لگن کے ذریعے خوابوں کی تعبیر کا ثبوت ہے۔ قائداعظم نے ایک بار کہا تھا کہ "ناکامی میرے لیے نامعلوم لفظ ہے۔” اپنے الفاظ کے مطابق، انہوں نے اپنے عزم کی پیروی کی اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو ایک قوم بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے لیے، ان کے حتمی مقصد کے حصول کے سامنے عنوانات اور تعریفوں کی حیثیت ثانوی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظم نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں بلا لحاظ مذہب و نسل ہر شہری عزت، آزادی اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔ پاکستان کے لیے ان کا وژن شمولیت، اتحاد اور خوشحالی کا تھا۔ جب ہم آج کے دن انکی سالگرہ منا رہے ہیں، تو آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں اور ان اقدار کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جن کے لیے انہوں نے جہدوجہد کی۔ بطور پاکستانی یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی قوم کی ترقی، خوشحالی اور اتحاد کے لیے انتھک محنت کریں۔

  • سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    بھارت میں مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی ایک مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ایک قیدی نے مقدمے کی کارروائی ملتوی ہونے پر جج پر چپل پھینک دی۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ملزم کرن سنتوش بھرم، جو 2012 میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت میں پیش ہوا۔ملزم کرن سنتوش بھرم کے خلاف قتل کا مقدمہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔ گزشتہ روز جب عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو ملزم شدید غصے میں آ گیا۔ جج کی طرف سے مقدمے کی تاریخ ملتوی ہونے کے بعد ملزم نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر دروازے کے قریب کھڑے ہو کر اپنی چپل اٹھائی اور جج پر پھینک دی۔ چپل کمرہ عدالت میں ایک میز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں سنسنی پھیل گئی۔

    واقعے کے فوراً بعد عدالت کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی اور ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا اور اس کی پولیس تحویل حاصل کر لی۔ عدالت کے حکام نے اس کارروائی کو سنگین توہین عدالت قرار دیا اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس نے عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ عدلیہ میں ہونے والی کارروائیوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

  • آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع  کی ایئر چیف سے ملاقات

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

    اسلام آباد: آذربائیجان جمہوریہ کے نائب وزیر دفاع و ڈائریکٹر جنرل اگِل گربانوف، کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے آذربائیجان ایئر فورس کے ڈپٹی وزیر دفاع اور کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل نمگ اسلام زادہ کے ہمراہ پاکستان ایئر فورس کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظاہر احمد بابر سدھو سے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران، ایئر چیف مارشل ظاہر احمد بابر سدھو نے پاکستان ایئر فورس کی حالیہ کامیابیوں کا ذکر کیا، جو موجودہ جنگی میدانوں میں آپریشنل مہارت کے حوالے سے ان کے ویژن کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایئر چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایئر فورس اپنی موجودہ دفاعی اور تربیتی تعاون کو مزید مستحکم کرے گی، خاص طور پر آذربائیجان ایئر فورس کے ساتھ۔انہوں نے تربیتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، جس میں اس وقت آذربائیجان کے ایئر اور گراؤنڈ عملے کا ایک بڑا گروپ پاکستان ایئر فورس کے ایک آپریشنل بیس پر تربیت حاصل کر رہا ہے۔ ایئر چیف نے بتایا کہ تربیتی پروگرام اپنے شیڈول کے مطابق جاری ہے، اور اس کے 50 فیصد سے زائد مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایک ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گا، جو پاکستان ایئر فورس کے آذربائیجان ایئر فورس کی آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے عزم کا عکاس ہے۔

    وفد نے پاکستان ایئر فورس کے اہلکاروں کی تاریخی اور مثالی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور پاکستان ایئر فورس کی فضائی صنعت میں مختصر وقت میں ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ وفد نے 70 ایئرکرو اور تکنیکی ماہرین کی تربیت پر اطمینان کا اظہار کیا جو پاکستان ایئر فورس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے ایئر فورسز کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔

    آذربائیجان کے فوجی رہنماؤں نے جدید جنگی میدان میں آنے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید جامع تربیتی پروگرام تشکیل دینے کی تجویز پیش کی، جس میں نیش اور ڈسٹرپٹیو ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ سائبر اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیتوں پر بھی توجہ دی جائے۔بعد ازاں، وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز میں قائم پاکستان ایئر فورس کے سائبر کمانڈ کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان ایئر فورس کی آپریشنل صلاحیتوں اور جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔آذربائیجان کے اس اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کا ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے، تعاون کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے۔

  • روس کا کارگو جہاز بیڑھ میں دھماکے کے بعد غرق ،دو افراد لاپتہ

    روس کا کارگو جہاز بیڑھ میں دھماکے کے بعد غرق ،دو افراد لاپتہ

    روس کا کارگو جہاز بیڑھ میں دھماکے کے بعد غرق ہو گیا

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق، ایک دھماکے کے نتیجے میں روس کا ایک کارگو جہاز "ارسا میجر” بیڑھ کے پانیوں میں ڈوب گیا، جو اسپین اور الجیریا کے درمیان واقع ہے۔ دھماکے سے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں جہاز غرق ہو گیا۔ اس حادثے میں جہاز کے دو عملے کے ارکان ابھی تک لاپتہ ہیں۔”ارسا میجر” 2009 میں بنایا گیا تھا اور اسے روسی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے "اوبرن لاجسٹیکا” کی نگرانی میں چلایا جا رہا تھا۔ یہ جہاز روسی شہر ولادیوستوک کی جانب جا رہا تھا، جہاں اس پر موجود دو بڑے پورٹ کرینوں کو نصب کیا جانا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ کے کرائسز سینٹر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جہاز کے 16 عملے کے ارکان میں سے 14 کو بچا لیا گیا اور انہیں اسپین منتقل کر دیا گیا، تاہم دو ارکان ابھی تک لاپتہ ہیں۔ بیان میں دھماکے کی وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ جہاز کا اگلا حصہ پانی میں بہت نیچے ڈوبا ہوا تھا اور جہاز کا اسٹار بورڈ (دائیں) حصہ بہت زیادہ جھکا ہوا تھا۔ یہ ویڈیو فوٹیج پیر کو ایک گزرنے والے جہاز نے فلمائی تھی اور اسے روسی نیوز ویب سائٹ "لائف ڈاٹ آر یو” پر منگل کو شائع کیا گیا تھا۔

    ویڈیو میں جہاز کی ڈیک پر دو بڑے پورٹ کرینیں دکھائی دے رہی ہیں جو اس کے سفر کے مقصد کو واضح کرتی ہیں۔ "اوبرن لاجسٹیکا” کی جانب سے 20 دسمبر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جہاز پر ولادیوستوک پورٹ کے لئے خصوصی کرینیں اور نئے آئس بریکرز کے حصے تھے۔”ارسا میجر” نے 11 دسمبر کو روسی بندرگاہ سینٹ پیٹرزبرگ سے روانہ ہوا تھا۔ LSEG شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، یہ جہاز 15 دسمبر کو اسپین اور الجزائر کے درمیان آخری بار سگنل بھیجتے ہوئے دکھا گیا تھا۔ سینٹ پیٹرزبرگ سے روانگی کے وقت جہاز نے ولادیوستوک کو اپنا اگلا مقام بتایا تھا، نہ کہ شام کی بندرگاہ طرطوس کو، جہاں یہ پہلے جا چکا تھا۔”اوبرن لاجسٹیکا” اور اس کے ذیلی ادارے "ایس کے-یوگ” نے اس حادثے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

    ہسپانوی نیوز ویب سائٹ "ایل ایسپانول” نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کے عملے کے ارکان کو ہسپانوی بندرگاہ کارٹیجینا منتقل کیا گیا ہے۔ اس امدادی کارروائی میں ہسپانوی نیوی کے جہاز سمیت متعدد دیگر جہازوں نے حصہ لیا تھا۔رپورٹس کے مطابق، یہ جہاز 22 جنوری کو ولادیوستوک پہنچنے والا تھا، لیکن اب اس کی منزل ایک بڑی قدرتی آفت بن چکی ہے۔یہ حادثہ روس کے تجارتی اور دفاعی جہازوں کے لئے ایک سنگین سانحہ ہے اور اس کی وجہ سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    آئندہ برس 8 طیارے پی آئی اے میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے ،شاہد خاقان عباسی

  • آئندہ برس  8 طیارے پی آئی اے  میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    آئندہ برس 8 طیارے پی آئی اے میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    سی ای او پی آئی اے خرم مشتاق نے کہا ہے کہ آئندہ سال 8 طیارےقومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس میں ممبران شریک ہوئے جبکہ سی ای او قومی ائیرلائن نے بریفنگ دی،اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین نے ارکان سے کہا کہ سی ای او قومی ائیرلائن نئے آئے ہیں، ان کے سامنے سوالات رکھ دیں،بیرسٹر عقیل ملک نے سوال کیا کہ قومی ائیرلائن اگلےمہینےنئے جہاز خرید رہا ہےتو کیا لانگ رینج جہاز خریدےجائیں گے؟ پچھلےتین سال میں قومی ائیرلائن کے کتنے ملازمین بیرون ملک فرار ہوئے ہیں؟ ملازمین بیرون ملک پناہ نہ لیں، اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟سی ای او قومی ائیرلائن نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک 8 نئے 777 طیارے قومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے، 4 سال بعد یورپی یونین کی پابندی ختم ہوگئی ہے، پیرس میں ہمیں ٹرمینل 3 ملا ہے، یورپ جانے والےٹرمینل تک قومی ائیرلائن کو رسائی ملے گی توکنکٹنگ فلائٹ بھی جاسکے گی، اسلام آباد سے پیرس کے لیے ہفتہ وار 2 پروازیں چلائی جائیں گی، ائیر فرانس کے معاہدےکی وجہ سے یورپی مسافروں کوبھی سہولت ملے گی، ایس پی ایس معاہدےکے تحت پیرس کے ساتھ دیگریورپی ممالک کےسفرکی سہولت بھی ملے گی۔

    ممبر کمیٹی مہرین بھٹو نے اجلاس میں کہا کہ قومی ائیرلائن کی فوڈ کوالٹی پر تو الگ سے کمیٹی ایجنڈا ہوگا ، ممبر شریف خان نے کہا کہ قومی ائیر لائن میں فلائٹ اسٹاف کا رویہ بہت تضحیک آمیز ہوتا ہے، اس موقع پر سی ای او نے جواب دیا کہ قومی ائیرلائن کی فلائٹس میں فوڈ کوالٹی بہتر بنا دی ہے،چیئرمین کمیٹی نے ائیرپورٹ ڈویلپمنٹس پر 4 رکنی ذیلی کمیٹی بناتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی ائیرپورٹس کی ڈویلپمنٹ اور جاری کام پر پیشرفت رپورٹ دے گی۔

    ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا،تفصیلات طلب
    اجلاس میں قومی ائیرلائن کے ملازمین کی تعداد، پروموشن اورپوسٹنگ سے متعلق تفصیلات ممبران کوپیش کی گئی،کمیٹی ممبر رمیش لال نے بتایا کہ قومی ائیرلائن کےکچھ ملازمین کی 10سال سے پروموشن نہیں ہوئی، مکمل بریفنگ دی جائے تاکہ معلوم ہو کیا کیا جا رہا ہے،اجلاس میں اراکین نے سوال کیےکہ قومی ائیرلائن کے ایئرمارشل (ر) سی ای او تھےتو کتنی پروازیں تھیں اور اب کتنی ہیں؟ ایک ممبر نے کہا کہ ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا، تفصیلات آئندہ میٹنگ میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں اس پر دوبارہ بریفنگ دی جائے۔

    قائمہ کمیٹی ایوی ایشن نے ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا
    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے چیئرمین نوابزادہ افتخار نے اگلے اجلاس میں ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا،کمیٹی اجلاس میں ملتان فلائنگ کلب کے آڈٹ سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث لایا گیا،ممبر کمیٹی رمیش لال نے اس دوران کہا کہ فلائنگ کلب ملتان کے ڈی جی کے پیش نہ ہونے پر کیا کارروائی ہونی چاہیے،ممبر کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے اجلاس کے دوران سوال اٹھایا کہ فلائنگ کلب ملتان کے آڈٹ کو بغیر ضوابط کیوں کرایا گیا؟ فلائنگ کلب میں تربیت پانے والے بچے اب متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سروس نہیں دی جا رہی، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہر کام نیب اور ایف آئی اے کے حوالے ہو جائے۔

    سیکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ فلائنگ کلب وزارت ہوا بازی کے تحت کام کرتے ہیں، فلائنگ اسکولز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،ہ بچوں نے لاکھوں روپے فیس بھری تو ان کو ٹریننگ کیوں نہیں مل رہی، یہ دیکھنا ہو گا، ابھی بھی آپ کے پاس حل نہیں ہے، آج تو ذیلی کمیٹی کی سفارشات آنا تھیں، میرا مدعا ہے کہ بچوں کو فیس واپس کرنے کے بجائے ٹریننگ مکمل کرائی جائے،ہم ایک ماہ میں فلائنگ اسکولز کے نئے رولز بنا کر کمیٹی کو پیش کریں گے، مریدکے میں ایئرپورٹ اتھارٹی نے اپنی فنڈنگ سے فلائنگ اسکول بنایا جو 15 جنوری کو فعال ہو جائے گا، ملک کو نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے، ملتان فلائنگ کلب ٹرسٹ ہے تو اس پر ٹرسٹیز کا معاملہ بھی دیکھنا ہو گا۔

    اجلاس کے دوران ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے ایئر لائنز کے لیے پائلٹ ٹریننگ اور فراہمی کی نئی پالیسی بنائی ہے جو پیش کی جائے گی،چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار نے کہا کہ اگلا اجلاس ملتان میں ہوگا اور وہاں فلائنگ کلب کے عہدیدار پیش ہوں۔

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

  • اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے ،شاہد خاقان عباسی

    اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے ،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بند کمروں میں نہیں ہوتے ، کیا مزاکرات ہونے جا رہے ہیں ، کسی کو علم نہیں ، نہ حکومت کی نیت ٹھیک ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی ،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ چھوڑنے پر ن لیگ سے الگ ہوا ، میاں نواز شریف کو باہر نکل کر ملک کے مسائل حل کرنے چاہئیں ، جس ملک کے دارالحکومت میں گولی چل جائے ، اس کا اللہ ہی حافظ ہے ،جیل جانا وزیر اعظم کے عہدے کا حصہ ہے ، جیل میں اچھی تربیت ہوتی ہے ، ہم نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا ہے ، سیاست میں راستہ افہام و تفہیم کے ذریعے ہی نکلتا ہے ، کسی کے خلاف جھوٹے کیسز نہیں بنائے جانے چاہیئں ، پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی کی بات کر رہی ہے ، میرے خلاف نیب میں 9 سالہ جھوٹا کیس چلتا رہا ، یہاں سابق وزراء اعظم جھوٹے مقدمات سے محفوظ نہیں ،ملک مشکل میں ہے ، مگر یہ لوگ بیٹھ کر ملک کی بات نہیں کرتے ، جھوٹے بیانیے سے کچھ نہیں ہوتا ، ہیومن رائٹس کے حوالے سے دباؤ آ رہا ہے ، مقدمات کے ٹرائل میں احتیاط ہونی چاہیے ، ہم اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے ، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے ،ہم سیاسی شیئرز والے لوگ نہیں ہیں ، میں امیر ترین آدمی نہیں ہوں ، ٹیکس ادا کرنے کا جرم کرتا ہوں ، ملک مشکل میں ہے ، ہمیں گھر نہیں بیٹھنا چاہیے ، اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے ،

    دبئی،18 سالہ لڑکے کا 17 سالہ لڑکی سے رضامندی سے جنسی تعلق مہنگا پڑ گیا

    امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

  • دبئی،18 سالہ لڑکے کا 17 سالہ لڑکی سے رضامندی سے جنسی تعلق مہنگا پڑ گیا

    دبئی،18 سالہ لڑکے کا 17 سالہ لڑکی سے رضامندی سے جنسی تعلق مہنگا پڑ گیا

    تعطیلات میں رومانی کی کہانیاں عام طور پر رومانوی فلموں اور کتابوں میں ملتی ہیں، لیکن 18 سالہ مارکس فاکانا کے لیے یہ ایک حقیقت بن گئی جو دبئی میں اپنے چھٹیاں گزارنے کے دوران ایک سنگین قانونی مسئلے میں پھنس گیا۔ فاکانا، نے ستمبر میں دبئی میں اپنے خاندان کے ساتھ تعطیلات گزاریں اور ایک برطانوی لڑکی سے ملاقات کی جس کے ساتھ اس کا رشتہ جنسی تعلقات تک پہنچ گیا۔ اس پر دبئی کی عدالت نے ایک سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔

    دبئی میں عمر کی رضا مندی کی حد 18 سال ہے، اور فاکانا کے ساتھ تعلق میں مبتلا 17 سالہ لڑکی اس عمر کے قریب تھی۔ جب لڑکی نے اپنے وطن واپس جا کر اپنی والدہ کو اس رشتہ کے بارے میں بتایا، تو اس کی والدہ نے دبئی پولیس کو رپورٹ کر دیا۔ اس رپورٹ کے نتیجے میں فاکانا کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
    فاکانا نے اپنے بیان میں کہا، "یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ مجھے ہوٹل سے بلا کسی وضاحت کے لے جایا گیا۔ مجھے کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، بشمول اپنے والدین کے۔ سب کچھ عربی میں ہو رہا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ کب مجھے آزاد کیا جائے گا۔ مجھے وکیل، سفارت خانہ یا اپنے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔”

    فاکانا نے مزید کہا کہ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ لڑکی قانونی عمر سے ایک ماہ کم تھی۔ "مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ 18 سال کی عمر سے صرف ایک ماہ دور ہے۔ میں نے عمر کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھا کیونکہ ہم دونوں ایک ہی اسکول کے سال میں تھے۔”

    دبئی کو ایک "جدید” اور "لبرل” سیاحتی منزل کے طور پر مارکیٹ کیا گیا ہے، لیکن سیاح اکثر وہاں کے قوانین سے ناواقف ہوتے ہیں، جو کہ شریعت اور سول قوانین کا مرکب ہیں۔ اس نوعیت کے قوانین کا اطلاق غیر ملکی سیاحوں کے لیے پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ "ڈیٹینڈ ان دبئی” نامی ادارے کی چیف ایگزیکٹو، رادھا اسٹرلنگ، نے کہا کہ دبئی میں آنے والے سیاح اکثر ان قوانین سے بے خبر ہوتے ہیں جو اُنہیں مختلف قانونی مسائل میں ڈال سکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، دبئی میں الکحل صرف لائسنس یافتہ مقامات پر پینے کی اجازت ہے، لیکن اگر آپ پبلک میں الکحل کی حالت میں ہوں تو آپ کو عوامی طور پر شراب پینے یا شراب نوشی کے جرم میں سزا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، دبئی کے سائبر کرائم قوانین بھی انتہائی سخت ہیں اور کسی بھی آن لائن سرگرمی کو جو حکومتی نظر میں قابل اعتراض ہو، قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔دبئی میں غیر ملکیوں کے خلاف قانون کی سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور اس کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق فاکانا کے کیس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے کیونکہ لڑکی واضح طور پر قانونی عمر سے کم تھی اور اس کے والدین نے اس کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

    دبئی میں غیر ملکی قیدیوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، لیکن زیادہ تر غیر ملکی قیدیوں کو جیل کی سزا نہیں ملتی۔ لیکن اگر کسی پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، تو وہ اس کے لیے شدید نتائج کی صورت میں آ سکتی ہے۔
    فاکانا نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی ہے اور دبئی کے وزیر اعظم اور حکمران، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کی ایک سالہ قید کی سزا کو معاف کر دیں تاکہ وہ کرسمس اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکے۔

    امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا