Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آسٹریلیا میں "قرطبہ ہومز” کے نام پر پاکستانی کا 200 ملین ڈالر کا فراڈ

    آسٹریلیا میں "قرطبہ ہومز” کے نام پر پاکستانی کا 200 ملین ڈالر کا فراڈ

    آسٹریلیا میں قرطبہ ہومز کے نام پر پاکستانی نے 100 سے زائد شہریوں سے فراڈ کر لیا

    قرطبہ ہومز،کے نام پر پاکستانی شہری نے آسٹریلیا میں شہریوں کو لوٹ لیا، متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہزاروں ڈالر ادا کئے لیکن ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا، 100 سے زئد شہری پاکستانی کے دھوکے کا شکار ہو گئے،شہریوں کو قرطبہ ہومز کا بتایا گیا اور انہیں کہا گیا کہ قرطبہ ہومز میں انویسمنٹ کریں جس پر شہریوں نے انویسمنٹ کی اور زندگی کی جمع بھر پونجی گنوا بیٹھے،آسٹریلوی شہریوں کے ساتھ 200 ملین ڈالرز کا فراڈ ہو گیا جس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،

    "قرطبہ ہومز” جو شریعت کے مطابق گھر خریدنے کی اسکیم فراہم کر رہی تھی، شہریوں سے دھوکہ کر چکی ہے، سینکڑوں خریدار لاکھوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہیں۔اسلامی قوانین کے مطابق قرضوں پر سود لینا منع ہے، اس لیے "قرطبہ ہومز” نے اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت افراد آسان قسطوں میں زمین خرید سکتے تھے۔ اس اسکیم کے ذریعے سینکڑوں خاندانوں کو زمین خریدنے کا موقع ملا، جو شریعت کے مطابق سود کے بغیر تھا۔تاہم، اب اطلاعات کے مطابق کمپنی کے مالک فرار ہو چکے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کے لاکھوں ڈوب چکے، ان میں سے کچھ خریداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قسطوں کی مد میں بڑی رقم ادا کی تھی، لیکن کمپنی نےان کی رقم واپس نہیں کی گئی۔

    قرطبہ ہومز کے دیوالیہ ہونے کے بعد، آسٹریلوی سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ کمپنی کے بند ہونے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور خریداروں کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔خریداروں کے مطابق، کمپنی نے انہیں وعدہ کیا تھا کہ وہ شریعت کے مطابق زمین کی فروخت کی سہولت فراہم کریں گے، لیکن اب ان کے لئے اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی۔

    یہ واقعہ ایک اور مثال ہے کہ کیسے مالیاتی اسکیموں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ذریعے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ صارفین کی شکایات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق تحقیقاتی ادارے یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا کمپنی نے قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کی یا اس کے کاروبار میں کسی قسم کی بدعنوانی ہوئی ہے۔

    خریداروں کی بڑی تعداد اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہے۔ کچھ خریداروں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی بچت اس منصوبے میں لگائی تھی، اور اب وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ ان کی رقم کہاں گئی۔ایک متاثرہ خریدار نے کہا، "ہم نے جو رقم ادا کی تھی، وہ ہماری زندگی کا سرمایہ تھا، اور اب ہم کچھ نہیں کر پا رہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ شریعت کے مطابق ہے، اور اب ہم اس پر بھروسہ کر کے برباد ہو گئے ہیں۔”

    آسٹریلین پولیس اور مالیاتی اداروں کی تحقیقات کے مطابق، اس گروپ نے شریعت کے مطابق مالیاتی منصوبوں کے ذریعے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری جمع کی۔ تاہم، ان سرمایہ کاریوں کے پیچھے جو کاروباری منصوبے تھے، وہ محض ایک دھوکہ تھا اور ان کی حقیقت کچھ اور ہی تھی۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس گروپ نے سرمایہ کاروں کو اسلامی مالیاتی اصولوں کے تحت "منافع” کا وعدہ کیا تھا، لیکن حقیقت میں اس نے ان پیسوں کا استعمال اپنے ذاتی مفادات کے لیے کیا۔ گروپ نے چند سرمایہ کاروں کو جعلی دستاویزات فراہم کیں اور بڑی رقم کے عوض انہیں شریعت کے مطابق "انویسٹمنٹ پلانز” میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔

    اس گروپ کے اہم افراد، حالیہ دنوں میں ملک چھوڑ کر لاہور فرار ہو گئے ہیں۔ اس گروپ کا تاثر تھا کہ ان کے کاروبار کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو مالی فوائد پہنچانا ہے، مگر حقیقت میں ان کا مقصد صرف پیسہ جمع کرنا تھا۔

    آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی میں اس خبر نے ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس دھوکہ دہی سے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، بلکہ وہ اب شریعت کے مطابق مالیات کے کاروبار کے حوالے سے بھی محتاط ہو گئے ہیں۔آسٹریلیا میں مقیم ایک پاکستانی شہری نے بتایا، "یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے اور ہمیں اپنے لوگوں کی جانب سے اس طرح کے فراڈ کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے کاروبار کو قانونی طریقے سے چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری کمیونٹی کی ساکھ کو مزید نقصان نہ پہنچے۔”

  • بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں تک ایسی جدید اور عالمی معیار کی رہائشی سکیم کا فقدان تھا جو ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی معیار کے ہم آہنگ ہو۔ پھر ملک کی معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی کے مالک، ملک ریاض کی بدولت ایک نیا معاشرتی تصور ابھرا، جس نے نہ صرف مقامی پاکستانیوں کو جدید سہولتوں والی زندگی فراہم کی بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین موقع بھی دیا۔ بحریہ ٹاؤن نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد عالمی معیار کا منصوبہ تھا بلکہ پورے ایشیا میں اس جیسی سکیم کا کوئی دوسرا منصوبہ نہیں تھا۔

    ملک ریاض نے 14 جنوری 1997 کو بحریہ ٹاؤن کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے پاکستان اور ایشیا میں کمیونٹی رہائش کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ملک ریاض نے پہلی بار اس نوعیت کا رہائشی منصوبہ متعارف کرایا۔ آج تک بحریہ ٹاؤن میں 160,000 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، جو خود پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم اثاثہ ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے وہ دو سب سے بڑے رہائشی منصوبے ہیں جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے سرمایہ کاری کی۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا راز ان کی جدید سہولتوں اور ملک ریاض کے ساتھ ہونے والے اعتماد میں تھا۔

    سال 2023 تک، بحریہ ٹاؤن پاکستان کا سب سے مستحکم اور بہترین منصوبہ بن چکا ہے، اور ملک ریاض دبئی میں مقیم ہیں۔ یہ سوال اب پیدا ہو رہا ہے کہ ملک ریاض دبئی میں کیوں ہیں اور وہاں ایک سال سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں؟ ذرائع کے مطابق ملک ریاض دبئی میں ایک وسیع رقبہ اراضی خریدچکے ہیں اور وہ دبئی میں بھی بحریہ ٹاؤن لانچ کرنے جا رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن پاکستان کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے اور اگر یہ دبئی منتقل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی معیشت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے ایک سنگین نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے دبئی میں ایک بڑا بین الاقوامی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،بحریہ ٹاؤن پراپرٹیز اور دبئی ساؤتھ کے درمیان دبئی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت دبئی ساؤتھ کے گالف ڈسٹرکٹ میں ایک عظیم الشان تعمیراتی و کمرشل ڈسٹرکٹ تعمیر کیا جائے گا،یہ معاہدہ دبئی ایوی ایشن سٹی کارپوریشن اور دبئی ساؤتھ کے ایگزیکٹو چیئرمین خلیفہ الزفین اور بحریہ ٹاؤن کے سی ای او احمد علی ریاض ملک کے درمیان ہوا، اس موقع پر دبئی ساؤتھ پراپرٹیز کے سی ای او نبیل الکِندی، بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض حسین اور دونوں اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    دبئی ساؤتھ امارات کا سب سے بڑا ماسٹر پلانڈ شہری منصوبہ ہے، جو ملے جلے استعمال اور رہائشی کمیونٹیز پر مشتمل ہے، یہ علاقہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے منسلک ہے جہاں پر دنیا کے سب سے بڑے ائیر پورٹ کی تعمیر جاری ہے،بی ٹی پراپرٹیز کے اس وسیع وعریض عظیم الشان منصوبے میں ولاز، ٹاؤن ہاؤسز، اپارٹمنٹس، تعلیمی سہولیات، اسپتال، کمرشل اسپیس، مساجد، اور تفریحی مقامات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس میں ہریالی، پانی کی نہریں، ایک مرکزی پارک، ڈانسنگ فاؤنٹینز، یادگار تعمیرات، کشادہ شاہراہیں اور دیگر پرکشش خصوصیات شامل ہوں گی، جو ایک مثالی پرسکون و جدید ترین زندگی فراہم کریں گی۔

    معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے دبئی ساؤتھ کے ایگریکیٹیو چئیرمین خلیفہ الزفین نے کہا، “ہم ایشیا کے ایک معتبر ترین ڈویلپر کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرنے پر بہت خوش ہیں دبئی ساؤتھ مستقبل کا شہر بننے کے لیے تیار ہے، اور اس علاقے میں جائیدادوں کی بڑھتی ہوئی طلب اس کی بے پناہ صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔”

    بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران کہا، “ دبئی کی تیز رفتار ترقی اور عالمی شہرت کے پیش نظر، یہ پراجیکٹ ہمارے بین الاقوامی توسیعی منصوبوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔ ہم دبئی ساؤتھ کے ساتھ مل کر ایک ایسا ماسٹر پروجیکٹ لانچ کرنے پر خوش ہیں جو جدید اور ترقی پسند کمیونٹی کے تصور کو زندہ حقیقت میں بدلے گا”

  • سرکاری ملازمین  کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔رانا جبران

    سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔رانا جبران

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رانا جبران نے پنجاب حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی پنشن میں سالانہ اضافہ کو ختم کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیکرٹری خزانہ پنجاب کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ کے مطابق پنجاب کے سرکاری ملازمین کے لیے سالانہ اضافہ ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ازخود ریٹائرمنٹ لینے والوں کی پنشن میں بھی کٹوتی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف پنجاب کے لاکھوں سرکاری ملازمین کے حقوق کے خلاف ہے بلکہ اس سے ان کے معاشی حالات پہلے سے مزید ابتر ہو جائیں گے۔ سرکاری ملازمین کی پنشن ایک قسم کی معاشی ضمانت ہوتی ہے، جو ان کی زندگی کے آخری حصے میں انہیں مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ حکومتی اقدام عوامی خدمات میں مصروف افراد کی محنت کی قدر کم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور سرکاری ملازمین کی پنشن میں سالانہ اضافے کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کرے۔ رانا جبران کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف سرکاری ملازمین متاثر ہوں گے بلکہ اس سے ان کے اہل خانہ اور پورے معاشرتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

  • بٹ کوائن کی قدر ایک لاکھ ڈالرز سے تجاوز کر گئی

    بٹ کوائن کی قدر ایک لاکھ ڈالرز سے تجاوز کر گئی

    دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قدر نے تاریخ کا ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے اور اس کی قیمت پہلی بار ایک لاکھ ڈالرز (تقریباً 2 کروڑ 77 لاکھ پاکستانی روپے) سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وقت بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ 2 ہزار ڈالرز (2 کروڑ 85 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) کے قریب ہے، جو اس کرنسی کی بے پناہ مقبولیت اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا غماز ہے۔

    سال 2024 کے آغاز سے اب تک بٹ کوائن کی قیمت میں 140 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد سے اس کرنسی کی قیمت میں تقریباً 48 فیصد کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافے عالمی مالیاتی منڈیوں میں کرپٹو کرنسیوں کی اہمیت اور ان کے حوالے سے موجود سیاسی اثرات کی وجہ سے ہیں۔بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی ایک اہم وجہ امریکی سیاست میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں۔ حالیہ امریکی انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے نرم پالیسیوں کا اشارہ دیا ہے۔ ٹرمپ نے پال ایٹکنز کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کا سربراہ مقرر کیا، جو کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے سخت پابندیوں کو نرم کرنے کے حامی ہیں۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ موجودہ SEC کے چیئرمین، گیری گنسلر کو ہٹا کر کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک زیادہ سازگار ماحول پیدا کریں گے۔ ان کے اس اقدام سے بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    4 دسمبر 2024 کو امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاؤل نے بٹ کوائن کو سونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بٹ کوائن ایک "ورچوئل یا ڈیجیٹل سونا” ہے۔ انہوں نے ایک کانفرنس کے دوران بتایا کہ اگرچہ لوگ اسے ادائیگیوں کے لیے استعمال نہیں کرتے، مگر یہ سونا کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے بٹ کوائن کی قانونی حیثیت اور سرمایہ کاری کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالی۔

    ماہرین کے مطابق، 2024 کے سیاسی اور اقتصادی حالات کی بنا پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کے حق میں کی جانے والی پالیسیاں اور اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کرنسیوں کو مرکزی مالیاتی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جو کبھی بٹ کوائن کو فراڈ قرار دیتے تھے، اب اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کرنسیوں کے پرجوش حامی بن چکے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو "دنیا کا کرپٹو دارالحکومت” بنائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک نیشنل اسٹرٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرے گی۔اس کے علاوہ، ٹرمپ نے کرپٹو کرنسیوں کی ٹرانزیکشنز کو ٹیکس فری قرار دینے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے، جو ان کرنسیوں کی مزید مقبولیت میں اضافے کا باعث بنے گا۔

    بٹ کوائن کا آغاز اور اس کی موجودہ حیثیت
    بٹ کوائن کو 2008 میں ایک گمنام فرد، ساتوشی ناکاamoto نے متعارف کرایا تھا، اور اس کا مقصد ایک ایسا مالیاتی نظام فراہم کرنا تھا جو حکومتی اور بینکوں کے کنٹرول سے آزاد ہو۔ آج بٹ کوائن نہ صرف دنیا بھر میں سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، بلکہ اس کی مقبولیت اور اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں بٹ کوائن کے حوالے سے قوانین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اور کرپٹو کرنسیوں کے مستقبل کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے اور ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • توشہ خانہ ٹو،عدم پیشی،بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری

    توشہ خانہ ٹو،عدم پیشی،بشریٰ بی بی کے وارنٹ جاری

    توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت میں عدالت نے بشریٰ بی بی کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے،

    بشریٰ بی بی کے ضامن کو نوٹس جاری، حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی گئی، اسپیشل جج سنٹرل نے سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی،،توشہ خانہ ٹو کیس میں آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی،وارنٹ گرفتاری مسلسل غیر حاضری پر جاری کیے گئے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ گزشتہ 10سماعتوں سے عدالت پیش نہیں ہوئیں.

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بشری بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ فرد جرم کو تاخیر کا شکار کرنے کے لیے حاضری سے استثنی کی درخواستیں دی جا رہی ہیں ۔

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہےواضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے خط26 آئینی ترمیم درخواستوں پر سماعت کیلئے تحریر کیا اور کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیں۔چیف جسٹس چیف جسٹس آفریدی رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے لگانے کا حکم دیں،خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس کے فیصلے میں کسی واضح معیار اور طریقہ کار کا فقدان ہے۔ ججز کی تقرری کا عمل صرف "ایگزیکٹو کی ووٹنگ طاقت” کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جو کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کمیشن کو دی گئی ہے۔ ا ان تقرریوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے اور کمیشن کی میٹنگز کے منٹس عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید کہا کہ کمیشن کا اصل مقصد آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری ہے، جو کہ عوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ تاہم، ان تقرریوں کے متعلق میٹنگز کے منٹس کو عوام کے ساتھ شیئر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کی آزادی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں معلومات کا شائع نہ کرنا عوام میں مشکوک اندازوں کو جنم دیتا ہے اور عدلیہ کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا یقین نہیں ہوتا۔ شفاف طریقے سے تقرریوں کی اطلاعات دینا عدلیہ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور ججز کو اپنے فیصلوں میں آزادی اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو اجلاس طلب کیا جائے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ پاکستان کے نئے عدالتی کمیشن کا اجلاس اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک وہ درخواستیں فل کورٹ کے سامنے نہیں آ جاتیں، اور کمیشن اپنے طریقہ کار کے اصول آئین کے آرٹیکل 175 اے (4) کے تحت وضع نہیں کرتا۔عدالتی کمیشن کے فیصلوں کی شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔”

    خط میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دو درجن سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقت ختم ہو جائے گی ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی،

  • مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراض اٹھا کر اسے واپس بھجوا دیا ہے،

    صدر آصف علی زرداری نے حالیہ دنوں میں مدارس رجسٹریشن بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حکومت نے اس بل کی دوبارہ منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر غور شروع کر دیا ہے، اور امکان ہے کہ یہ اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ اس اجلاس میں مدارس رجسٹریشن بل سمیت دیگر اہم بلز کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور صدر کے دستخط نہ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری میں رکاوٹ آئی تو ان کی پارٹی آئندہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کرے گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، جس میں مدارس رجسٹریشن بل کے علاوہ دیگر اہم قانون سازی بھی کی جا سکے۔

    مدارس رجسٹریشن بل کی منظوری پر حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف حکومت مدارس کی رجسٹریشن کے ذریعے ان کے نظام میں اصلاحات لانا چاہتی ہے، وہیں دوسری طرف مذہبی جماعتیں اس بل کو اپنے مدارس کی خودمختاری میں مداخلت کے طور پر دیکھتی ہیں اور اس پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • لطیف کھوسہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی،عدالت نے جواب کیا طلب

    لطیف کھوسہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی،عدالت نے جواب کیا طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سینئر قانون دان سردارلطیف کھوسہ کی بیرون ملک جانے کی پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں،عدالت نے کمرہ عدالت موجود اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ کو نوٹس وصول کروادیا،عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پرمکمل تفصیل دی جائے،کس کے کہنے پر اور کس لسٹ میں کیوں نام ڈالا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی،سردار لطیف کھوسہ، ریاست علی آزاد اور دیگر وکلاء عدالت پیش ہوئے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ لندن گیا اور واپس آنے پربتایاگیا کہ نام ای سی ایل میں ہے،5 جنوری کی ٹکٹ ہے بیرون ملک جانا ہے،پہلے بھی عدالتی حکم کے بعد بیرون ملک گیاتھا،عدالت نے سماعت ملتوی کردی

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سلو کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی پلوشہ خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی جو بھی اقدام اٹھاتی ہے ذمے داری وزارت داخلہ پر ڈال دیتی ہے، سمجھ نہیں آتی ہمارے پاس وزارت آئی ٹی کیوں ہے؟وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی تقاضے پورے کرتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں آئی ٹی انڈسٹری پر کم سے کم اثرات ہوں۔ پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ یکم جنوری سے وی پی این کی لائسنسنگ شروع کر دیں گے، وی پی این کی لائسنسنگ سے مسئلہ حل ہو جائے گا، انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔

    کمیٹی ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ مجموعی طور پر سلو ہے۔،سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ انٹرنیٹ فائر وال کی وجہ سے سست ہو سکتا ہے،سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کی جانب سے انٹرنیٹ کی سست روی کی شکایات آ رہی ہیں، نیشنل سیکیورٹی کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند کرتے ہیں،سینیٹر کامران نے سوال کیا کہ کیا نیشنل سیکیورٹی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ بھارت کو نہیں ہوتا کیا،سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ 2018ء میں ہم نے وی ہی این رجسٹر کیے لیکن انٹرنیٹ پر کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ہم نے بھی وائٹ لسٹنگ کی اور گرے ٹریفک روکنے کے لیے اقدامات کیے لیکن انٹرنیٹ متاثر نہیں ہوا۔

    چیئرمین پاکستان سافٹ وئیر ہاؤس ایسوسی ایشن (پاشا) سجاد سید کا کہنا کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا آئی ٹی انڈسٹری 30 فیصد کے حساب سے ترقی کر رہی ہے، نیشنل سیکورٹی کو خطرے کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند ہو سکتی ہے، تمام ممالک وی پی این کو مانیٹر کرتے ہیں،پاشا نے وی پی این سروس پروائیڈرز کی تجویز دی ہے، حکومت کو تجویز دی ہے کہ وی پی اینز کو مقامی سطح پر رجسٹر کرے کیونکہ فری وی پی اینز سے ڈیٹا سیکورٹی کے خطرات ہیں ، انٹرنیٹ آئی ٹی انڈسٹری کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ صورتحال میں 99 فیصد آئی ٹی کمپنیوں نے خلل کی نشاندہی کی ہے، وزارت آئی ٹی کے ساتھ انٹرنیٹ میں خلل کا معاملہ اٹھایا ہے، پی ٹی اے نے آئی ٹی انڈسٹری کے خدشات دور کرنے کیلئے سیل بنایا۔

    سینیٹر افنان اللہ نے وزارت داخلہ کے حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کے تحت پی ٹی اے کو نہیں لکھ سکتے، جس پر وقار خان نے بتایا کہ ہم نے ایسا کوئی لیٹر نہیں لکھا جس میں سخت ہدایت دی ہو اس میں واضح طور پر If it all لکھا ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا آپ کیسے وی پی این بند کرنے کیلئے ہدایات کر سکتے ہیں، پہلے آپ وی پی این کو غلط ثابت کریں پھر بند کریں۔ سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کروڑوں صارفین متاثر ہو رہے ہیں اس کا حل نکالنا ہو گا،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ وقار خان نے بتایا کہ پیکا کے تحت وی پی این کو بند کر سکتے ہیں، جس پر سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا آپ پیکا ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی بند نہیں کرسکتے، کسی سوشل ٹول کو بند نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل کو کمیٹی میں آنا چاہیے تھا،

    ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزا فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیکا قوانین میں ترمیم زیر غور ہیں، فیک نیوز کو ہمیں ہی ریگولیٹ کرنا ہے، انٹرنیٹ سست ہونے کی ٹیکنیکل وجوہات بھی ہیں، انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے، ہم نے 3 برس میں آئی ٹی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی، اپریل میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی ہو جائے گی،سینٹر افنان اللہ نے پوچھا کہ کس دہشت گرد نے وی پی این استعمال کیا ہے؟ جس پر وزیر مملکت شزا فاطمہ کا کہنا تھا میں سکیورٹی معاملات پر یہاں بات نہیں کر سکتی، کسی سکیورٹی وجوہات پر انٹرنیٹ بند کرنا پڑا تو بھاری دل سےکریں گے، آج انٹرنیٹ بالکل ٹھیک چل رہا ہے،چیئرمین پی ٹی اے سے دو دن پہلے بات کی کہ انٹرنیٹ میں کہاں کہاں چیلنج ہے لوکیشن کی نشاندہی کر دیں، ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • جیولری شاپ کی آڑ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج ،40 ہزار ڈالربرآمد

    جیولری شاپ کی آڑ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج ،40 ہزار ڈالربرآمد

    کراچی: جیولری شاپ کی آڑ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج پکڑی گئی، جہاں سے 40 ہزار ڈالر اور پاکستانی کرنسی برآمد کرلی گئی۔

    ترجمان کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جیولری شاپ کی آڑ میں غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزم کی شناخت ممتاز شوکت اور خالد ایوب کے نام سے ہوئی، جنہیں کلفٹن میں واقع جیولری شاپ سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان جیولری شاپ کی آڑ میں غیر ملکی کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہے تھے،چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے 40 ہزار امریکی ڈالر اور 23 لاکھ روپے بھی برآمد کیے گئے۔ ملزمان غیر ملکی کرنسی سے سونے کی خریدو فروخت کرتے تھے اور بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان