Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بیٹے موسیٰ مانیکا اور سابق شوہر خاور مانیکا کی جانب سے ناچ گانے کی محفل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، خاور مانیکا اور موسیٰ مانیکا نہ صرف محفل میں شریک ہیں بلکہ رقص کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں

    بشریٰ بی بی، جو اب عمران خان کی اہلیہ ہیں، اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد عمران خان کی رہائی کے لئے پی ٹی آئی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئیں اور کارکنان سے کئی بار خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی کہے کہ بشریٰ اپنے میاں کو چھوڑ کر بھاگ گئی تو یہ جھوٹ ہو گا، لیکن ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی بشریٰ بی بی اپنے کارکنان کو رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر ڈی چوک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں، بشریٰ بی بی اپنے خطابات میں مذہبی ٹچ دیتی رہیں،ایک ویڈیو پیغام میں بھی بشریٰ بی بی نے مذہبی ٹچ دیا اور سعودی عرب پر تنقید کی،عمران خان اور بشریٰ بی بی پاکستان میں ریاست مدینہ کا نظام لانا چاہتے تھے تا ہم ان کی زندگی اس کے برعکس ہے، گھڑی چوری سے لے کر قومی خزانے سے پتہ نہیں کیا کیا لوٹ مار کی گئی، یہی وجہ ہے کہ عمران خان جیل میں اور بشریٰ بی بی رہائی کے بعد ضمانتوں پر ہیں

    حالیہ دنوں میں بشریٰ بی بی کے بیٹے موسیٰ مانیکا اور ان کے سابق شوہر خاور مانیکا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں دونوں ناچ گانے کی محفل میں شریک ہیں، جس پر عوامی سطح پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ موسیٰ مانیکا کی یہ محفلیں محض تفریح یا کسی اور مقصد کے لئے منعقد کی گئی ہوں گی جن میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی ان محافل میں جو موسیقی اور رقص کا انعقاد ہوتا ہے، وہ اسلامی اقدار اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے پریشان کن ہے جو بشریٰ بی بی اور ان کے خاندان کو اسلامی اقدار کا علمبردار مانتے ہیں۔مذہبی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بشریٰ بی بی، جو کہ ریاست مدینہ کے نعرے کے تحت سعودی عرب اپنے شوہر عمران خان اور سابق شوہر خاور مانیکا کے ساتھ گئی تھیں، اپنے خاندان کے افراد کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب کیوں نہیں دے رہیں۔ اگر وہ ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کر رہی ہیں تو پھر ان کے اپنے گھر میں یہ بے ضابطگیاں کیوں ہو رہی ہیں؟اگر بشریٰ بی بی واقعی شریعت کی ترویج پر یقین رکھتی ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنے گھر سے اس کی ابتدا کرنی چاہیے۔ ان کے بیٹے موسیٰ مانیکا کا سرعام اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ان کے پیغام کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔

     

    ریاست مدینہ کا تصور ایک ایسی ریاست کی نمائندگی کرتا ہے جہاں عدلیہ، انصاف اور اسلامی قوانین کی پیروی کی جاتی ہے۔ اس تصور کو عوامی سطح پر ایک مثالی نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن جب بشریٰ بی بی کے اپنے خاندان کے افراد اس نظام کے خلاف سرگرم نظر آتے ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا ان کا اپنا خاندان اس ریاست کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہا ہے یا نہیں۔شریعت اور اسلامی تعلیمات کی بات کرنے والی بشریٰ بی بی کے خاندان کی اس قسم کی سرگرمیاں انہیں ایک مشکل پوزیشن میں ڈال رہی ہیں، جہاں عوام ان کے پیغام اور عمل کے درمیان تضاد دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان کی اپنی ساکھ اور ان کے خاندان کے افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسلامی اقدار کو محض نعرے یا دکھاوے کے طور پر نہیں اپنایا جا سکتا، بلکہ ان کی عملی پیروی ضروری ہے، خاص طور پر جب آپ اپنے پیغام کو عوامی سطح پر بلند کریں۔ بشریٰ بی بی کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کی ترغیب دیں، خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو حکومت وقت کے خلاف جہاد پر اکسانے کی بجائے بشریٰ بی بی اپنے بیٹے موسیٰ مانیکا کی تربیت کریں جو رقص و سرور کی محفلوں کا انعقاد کروا رہا ہے

    ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

  • بھارتی فریدآباد کی 12 لڑکیوں کے گروپ کا شادی نہ کرنے کا اعلان

    بھارتی فریدآباد کی 12 لڑکیوں کے گروپ کا شادی نہ کرنے کا اعلان

    بھارتی فرید آباد کے علاقے سرائے میں 12 لڑکیاں ایسی ہیں جنہوں نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب کبھی شادی نہیں کریں گی۔

    ان لڑکیوں کا ماننا ہے کہ شادی سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کریں۔ ان لڑکیوں میں سے ایک رکن، مینو گوئل، نے بھارتی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ تمام لڑکیاں ایک سماجی خدمت میں مشغول ہیں اور ان کا مقصد معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔مینو گوئل، جو اس گروپ کی ایک اہم رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اب کبھی شادی نہیں کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ "ہم 12 لڑکیاں مل کر معاشرے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا الگ کام ہے اور ہم سب نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔” مینو کا یہ بھی کہنا ہے کہ شادی کرنا اتنا ضروری نہیں ہے جتنا کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اور سماج کی خدمت کرنا۔

    مینو کی عمر 30 سال ہے اور وہ یقین رکھتی ہیں کہ اس عمر میں شادی کے بجائے اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنا زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انسان خود کو معاشرتی سطح پر مضبوط کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔

    مینو گوئل کے خاندان میں چار بہنیں، ایک بھائی اور ایک بھتیجا شامل ہیں۔ مینو تیسرے نمبر کی بیٹی ہیں اور ان کی دو بڑی بہنیں پہلے ہی شادی شدہ ہیں۔ مینو کے مطابق، والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے کی شادی ہو، مگر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی سماج کے لیے کام کر رہی ہے تو انہیں اس پر فخر ہوتا ہے۔ مینو نے بتایا کہ ان کے والدین ہمیشہ ان کے فیصلوں میں ان کے ساتھ ہیں اور وہ ان کی سماجی خدمات پر خوش ہیں۔

    مینو گوئل کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف سماج کی خدمت کرنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی محنت سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے اور معاشرتی مسائل حل ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب کوئی شخص خود اپنی جدوجہد سے کسی مقصد کو حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے معاشرتی خدمت کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ مینو اور ان کی ساتھی لڑکیاں سماج میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر رہی ہیں، جو دوسری لڑکیوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کر رہی ہیں۔

    مینو گوئل اور ان جیسی دیگر لڑکیاں اپنے فیصلوں کے ذریعے نہ صرف سماج میں موجود روایات کو چیلنج کر رہی ہیں، بلکہ وہ لڑکیوں کے لیے ایک نیا تصور پیش کر رہی ہیں۔ یہ لڑکیاں ثابت کر رہی ہیں کہ لڑکیوں کے لیے صرف شادی ہی نہیں، بلکہ معاشرتی ترقی اور خدمت کا راستہ بھی اتنا ہی اہم اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہیں، بلکہ دوسروں کی مدد بھی کر رہی ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • بھارت،رواں برس 28 ہزار سے زائد سوشل میڈیا یوآرایل بلاک

    بھارت،رواں برس 28 ہزار سے زائد سوشل میڈیا یوآرایل بلاک

    بھارتی حکومت نے 2024 میں اب تک 28,000 سے زیادہ سوشل میڈیا یو آر ایل کو بلاک کر دیا ہے، جو ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اقدامات قومی سلامتی اور امن عامہ کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں، اور ان میں زیادہ تر مواد خالصتان کی حامی علیحدگی پسند تحریکوں، نفرت انگیز تقریر اور ہندوستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ بننے والے مواد پر مبنی تھا۔

    یہ کارروائیاں بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت کی گئیں، جو حکومت کو قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ بننے والے مواد کو بلاک کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد بھارت کی خودمختاری اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔

    جن پلیٹ فارمز پر زیادہ تر مواد بلاک کیا گیا، ان میں فیس بک (اب میٹا)، ایکس (پہلے ٹویٹر)، یوٹیوب، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر 10,000 سے زیادہ URLs کو ہٹا دیا گیا۔

    فیس بک (میٹا): 2022 میں 1,743، 2023 میں 6,074، اور 2024 میں 3,159 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔
    ایکس (سابقہ ٹویٹر): 2022 میں 3,417، 2023 میں 3,772، اور 2024 میں 2,950 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔
    یوٹیوب: 2022 میں 809، 2023 میں 862، اور 2024 میں 540 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔
    انسٹاگرام: 2022 میں 355، 2023 میں 814، اور 2024 میں 1,029 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔
    ٹیلیگرام: 225 یو آر ایل بلاک کیے گئے۔
    واٹس ایپ پر کارروائی:
    واٹس ایپ نے بھی 138 اکاؤنٹس کو بلاک کیا جن پر قابل اعتراض مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔ ان اکاؤنٹس میں زیادہ تر وہ تھے جو خالصتان تحریک سے جڑے ہوئے تھے۔

    بھارتی حکومت کا ان یو آر ایل کو بلاک کرنے کا مقصد خالصتان ریفرنڈم کا فروغ، فرضی سرمایہ کاری اسکیموں سے متعلق فراڈ پیشکش کو روکنا تھا۔ خالصتان کے حامی مواد سے متعلق 10,500 سے زیادہ یو آر ایل کو بلاک کیا گیا، جب کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق 2,100 سے زائد یو آر ایل پر کارروائی کی گئی۔

    بھارتی حکومت نے ان موبائل ایپس کے خلاف بھی کارروائی کی جو ملک دشمن سرگرمیوں اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، سابقہ سیکریٹریز خارجہ کی شرکت

    اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، سابقہ سیکریٹریز خارجہ کی شرکت

    وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سابقہ سیکریٹریز خارجہ سے مشاورت کی اجلاس کی صدارت

    اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سابقہ سیکریٹریز خارجہ کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس کا مقصد عالمی اور خطے کی صورتحال پر غور کرنا اور ان کی تجاویز کی بنیاد پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    اس اجلاس میں اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں سابق سیکریٹریز خارجہ شامل تھے،اجلاس میں انعام الحق،
    سلمان بشیر،جلیل عباس جیلانی،مسعود خان، اعزاز چوہدری،محترمہ تہمنہ جنجوعہ،سہیل محمود، سائرَس قاضی شریک ہوئے،یہ مشاورتی اجلاس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی اور خطے کی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے خارجہ تعلقات کو مستحکم اور مربوط بنانے کے لیے سابقہ تجربہ کار حکام سے مشورے لے رہی ہے۔

    اجلاس میں عالمی سطح پر جاری مسائل جیسے کہ علاقائی تنازعات، عالمی طاقتوں کے تعلقات، اقتصادی چیلنجز اور سکیورٹی کے امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے ممکنہ پالیسیوں پر بھی مشورے دیے گئے جن کی مدد سے پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر سابقہ سیکریٹریز خارجہ کی پیش کردہ تجاویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کی مشاورت حکومت کے لیے نہایت قیمتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس قسم کی مشاورت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی مزید مؤثر اور کامیاب ہو گی۔اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل کی روشنی میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا گیا، جس میں خصوصاً بھارت، افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

  • لکی مروت،آپریشن کے دوران 5 خارجی جہنم واصل

    لکی مروت،آپریشن کے دوران 5 خارجی جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نےلکی مروت میں خوارج کی موجودگی کی اطلاعات پرخفیہ آپریشن کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران 5خارجی جہنم واصل ،2زخمی ہو گئے ہیں،آپریشن کے بعد علاقے سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کیلئے آپریشن جاری ہے،سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،

    صدر مملکت آصف علی زرداری نےلکی مروت میں خوارج کیخلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا، صدر مملکت نے خوارج دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو سراہا،صدر مملکت نے5 خوارج جہنم واصل اور2 زخمی کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بہادری کی تعریف کی،صدر مملکت نےدہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے قومی عزم کا اظہارکیا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےضلع لکی مروت میں 5 خوارج کو جہنم واصل کرنے اور 2 کو زخمی کر کے گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے ،حکومت ملک سے خوارج اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے،

  • ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے امداد موصول ہوئی ہے، بنگلہ دیش ،بھارت سے پیسے ملنے کے بعد پی ٹی آئی پانچ دسمبر کو ہالینڈ میں احتجاج کرنے جا رہی ہے،

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی،گولڈ اسمتھ فیملی سے رابطہ کر کے پی ٹی آئی نے مدد مانگی، اسلام آباد پر خیبر پختونخوا حکومت نے یلغار کی، ایک بار پھر نومئی کو دوہرایا گیا مگر عمران خان جیل سے پھر بھی باہر نہ آ سکے، بشریٰ بی بی نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی، نوجوانوں کو اکسایا،پولیس پر پی ٹی آئی شرپسندوں نے گولیاں برسائیں اور پھر ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی بشریٰ بی بی کارکنان کو رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر خود علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہو گئیں، عمران خان کی رہائی پھر بھی نہ ہو سکی.

    اب پی ٹی آئی کی جانب سے بیرون ملک احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری متحرک ہیں، زلفی بخاری کی کوشش ہے کہ بیرون ممالک مؤثر احتجاج کیا جائے،اسی سلسلہ میں پی ٹی آئی کل پانچ دسمبر کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کر رہی ہے،پی ٹی آئی کارکنان بینرز،پوسٹر لے کر آرہے ہیں، کارکنان جمع ہوں گے، ریاست پاکستان، حکومت پاکستان،افواج پاکستان کے خلاف پی ٹی آئی احتجاج کرے گی،تاہم فلسطین کے حق اور اسرائیل کے خلاف پی ٹی آئی کو کہیں بھی احتجاج کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،پی ٹی آئی جو ہمیشہ سے فارن فنڈز سے ہی چلتی آ رہی ہے، پاکستان کی عدالتوں میں بھی فارن فنڈز کے کیس زیر سماعت ہیں، اب عمران خان کی رہائی اور ذاتی مفادات کے لئے پی ٹی آئی نے ایک بار پھر فنڈز جمع کئے ہیں جس میں سے سب سے زیادہ فنڈز پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے ملے ہیں، پی ٹی آئی ان فنڈز کی وصولی کے بعد ہالینڈ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کرنے جا رہی ہے، کل 5 دسمبر کو پی ٹی آئی احتجاج کرے گی جس کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے اور مختلف مقدمات میں سزایافتہ پاکستانی مجرم کو بے قصور ثابت کرنا ہے،پی ٹی آئی اس سے پہلے بھی کئی ممالک میں احتجاج کر چکی ہے تا ہم پی ٹی آئی والے یہ نہیں بتاتے کہ عمران خان پر ایک نہیں درجنوں مقدمات ہیں اور ان مقدمات کی وجہ سے ہی عمران خان جیل میں ہیں، گھڑی چوری کا مقدمہ بھی عمران خان نے بنایا تھا، کیا کبھی پی ٹی آئی نے سعودی ولی عہد کے گھر کے باہر جا کر احتجاج کیا کہ عمران خان نے سعودی ولی عہد کی تحفہ دی ہوئی گھڑی خود رکھ لی تو ان پر مقدمہ درج کر لیا گیا، وہ کبھی نہیں کریں گے، کیونکہ پاکستان کے قوانین کو عمران خان نے توڑا اور اسی لئے ان پر مقدمے بنے،

    پی ٹی آئی کی حالیہ سرگرمیاں،اندرون و بیرون ملک جو ریاست اور افواج پاکستان کے خلاف ہ مہم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی عمران خان کے لئے تو احتجاج کرتی ہے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت فلسطین کے حق میں کھل کر آواز نہیں اٹھا پائی، اور نہ ہی اسرائیل کے خلاف کوئی مؤثر اور مضبوط موقف اپنانے کی توفیق حاصل کر سکی۔

    ملک دشمنی پر مبنی اقدامات کرکے پی ٹی آئی کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ پی ٹی آئی نے کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھے، کبھی امریکہ،کبھی برطانیہ،غرض جہاں ان کو موقع ملا انہوں نے ملک دشمنی کے لئے تمام حدیں پار کر لی ہیں،پی ٹی آئی کو پاکستان میں اسرائیل کے خلاف کبھی جلوس نکالنے کی توفیق نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ملکی تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ان کے اسرائیل کے مظالم کی کھل کر مذمت نہ کرنے کی وجہ سے ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، اب اوورسیز پاکستانی عمران خان کا ہدف ہیں، تحریک انصاف جو بھی کر رہی ہے یہ اکیلے پی ٹی آئی نہیں کر رہی ،یہ ایک بیرونی سازش ہے، بھارت سے پیسے آ رہے تو اسرائیل بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے،یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی والےاسرائیل کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتے،

  • وہ بھارتی اداکارہ ،جس نے شادی کے چھ ماہ بعد بچے کو دیا تھا جنم

    وہ بھارتی اداکارہ ،جس نے شادی کے چھ ماہ بعد بچے کو دیا تھا جنم

    فلم انڈسٹری میں کچھ اداکارائیں اپنی بہترین اداکاری اور ذاتی زندگی کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے نہ صرف اپنی فلموں سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ اپنی ذاتی زندگی کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہیں۔ آج ہم بات کر رہے ہیں اداکارہ کونکنا سین شرما کی، جنہوں نے اپنے کیرئیر میں بے شمار کامیاب فلموں میں کام کیا، مگر ان کی ذاتی زندگی کا ایک واقعہ خاص طور پر عوامی توجہ کا مرکز بنا۔

    کونکنا سین شرما، جو کہ 3 دسمبر کو اپنی 45ویں سالگرہ منا رہی ہیں، کی زندگی میں ایک ایسا موقع آیا تھا جب ان کے حاملہ ہونے کی خبر اور اس کے بعد ان کے بیٹے کی پیدائش نے میڈیا میں ہلچل مچا دی تھی۔ اداکارہ نے شادی کے صرف چھ ماہ بعد بیٹے کو جنم دیا تھا، اور ان کے بیبی بمپ کی تصویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا تھا۔

    کونکنا سین شرما ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر میں کئی کامیاب فلموں میں اہم کردار ادا کیے ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں "پیج تھری”, "مسٹر اینڈ مسز آئر” اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں جن میں ان کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ ان کی اداکاری میں ایک خاص قسم کی گہرائی اور حقیقت پسندی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے مداحوں میں بے حد مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ، کونکنا نے کئی نیشنل فلم ایوارڈز بھی جیتے ہیں۔

    Konkana
    کونکنا سین شرما کی ذاتی زندگی بھی کافی دلچسپ رہی ہے۔ ان کی ملاقات اداکار رنویر شوری سے 2007 میں فلم "نچ بلیے” کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی، اور پھر دونوں کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں۔ اس کے بعد 3 ستمبر 2010 کو دونوں نے شادی کر لی۔ تاہم، ان کی شادی کے بعد جو سب سے زیادہ توجہ حاصل ہوئی وہ تھی ان کے بیٹے ہارون کی پیدائش،کونکنا نے اپنی شادی کے صرف چھ ماہ بعد بیٹے کو جنم دیا، جس کی خبر نے میڈیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کی حاملہ ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور لوگوں نے اس پر مختلف ردعمل ظاہر کیے۔ تاہم، خوشیوں کا یہ لمحہ زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا اور دونوں کی شادی 2015 میں طلاق پر ختم ہو گئی۔

    کونکنا اور رنویر کی طلاق کے باوجود دونوں اب بھی اپنے بیٹے کی مشترکہ تحویل میں ہیں اور ایک دوسرے سے اچھے دوست ہیں۔ دونوں کے درمیان محبت اور احترام کی کوئی کمی نہیں آئی، اور وہ اپنے بیٹے کی پرورش میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ ان کی طلاق کے بعد بھی ان کی ذاتی زندگی اور بچوں کی پرورش کے بارے میں میڈیا میں مثبت خبریں آئیں، جو ان کی بالغ ذہنیت اور سلیقے کو ظاہر کرتی ہیں۔

    کونکنا سین شرما نے اپنی ذاتی زندگی میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنے کیرئیر میں کامیابی حاصل کی اور فلم انڈسٹری میں اپنا ایک مضبوط مقام بنایا۔ وہ آج بھی مختلف فلموں اور پروجیکٹس میں کام کر رہی ہیں اور اپنے مداحوں کے درمیان اپنی منفرد اداکاری کے لیے جانی جاتی ہیں۔

    کونکنا سین شرما ان چند اداکاراؤں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بے خوفی سے اختیار کیا اور ہر حال میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی زندگی کا یہ دلچسپ پہلو ہمیشہ انہیں فلم انڈسٹری کی نمایاں شخصیات میں شمار کرنے کا سبب بنے گا۔

  • سری لیلا،  بہت کم وقت میں بنائی شوبز کی دنیا میں اپنی شناخت

    سری لیلا، بہت کم وقت میں بنائی شوبز کی دنیا میں اپنی شناخت

    سری لیلا، جنہیں حالیہ دنوں میں "پشپا 2: دی رول” کے گانے ‘کسک’ کے لیے خبروں میں دیکھا گیا ہے، ایک ایسی اداکارہ ہیں جنہوں نے بہت کم وقت میں شوبز کی دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو سالوں میں انہوں نے تین میگا بجٹ پین انڈیا فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا، لیکن بدقسمتی سے یہ تینوں فلمیں باکس آفس پر فلاپ ہو گئیں۔ باوجود اس کے، سری لیلا کی اداکاری اور کام کا جادو اب بھی برقرار ہے اور ان کے مداحوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔

    سری لیلا کا فلمی سفر
    سری لیلا نے 2023 میں "گنٹور کرم” اور "بھگوان کیسری” جیسی پین انڈیا فلموں میں کام کیا، جن کا بجٹ 200 کروڑ روپے سے زائد تھا، لیکن دونوں فلمیں باکس آفس پر ناکام رہیں۔ "گنٹور کرم” کی ریلیز اس سال مکر سنکرانتی کے موقع پر ہوئی، جس میں مہیش بابو مرکزی کردار میں تھے، لیکن یہ فلم صرف 150 کروڑ روپے کا کل بزنس کر سکی۔ اس کے بعد "بھگوان کیسری” میں سری لیلا نے تمل سپر اسٹار ننداموری بال کرشن (این بی کے) کے ساتھ کام کیا، مگر اس فلم کی قسمت بھی بہتر نہ تھی، اور وہ صرف 100 کروڑ روپے تک محدود رہی۔ ان ناکامیوں کے باوجود سری لیلا کی پروفیشنلزم اور اداکاری میں کمی نہیں آئی ہے۔

    سری لیلا صرف ایک اداکارہ ہی نہیں، بلکہ ایک دل رکھنے والی انسان بھی ہیں۔ 2022 میں، انہوں نے دو معذور بچوں کو گود لے کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ انسانیت اور محبت سب سے بڑھ کر ہیں۔ سری لیلا نے 18 فروری 2022 کو ان بچوں کو گود لے لیا تھا، جن کی حالت دیکھ کر وہ جذباتی ہو گئیں۔ یہ عمل ان کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو تھا جس نے انہیں مداحوں کے درمیان اور بھی مقبول کر دیا۔

    سری لیلا کی ذاتی زندگی اور تعلیم
    سری لیلا کا تعلق امریکہ کے شہر مشی گن سے ہے، جہاں وہ 14 جون 2001 کو پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ سورن لتا بنگلور میں ڈاکٹر ہیں اور والد کاروباری شخصیت ہیں۔ بچپن میں سری لیلا نے بھرتناٹیم کی تربیت لی تھی اور وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔ 2021 میں، وہ ایم بی بی ایس کے آخری سال کی طالبہ تھیں، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی یا نہیں۔

    سری لیلا ان دنوں فلم "پشپا 2: دی رول” کے گانے ‘کسک’ کے لیے آئٹم نمبر کر رہی ہیں، جو کہ ایک پین انڈیا فلم ہے جس میں وہ اداکار اللوراجن کے ساتھ دکھائی دیں گی۔ سری لیلا کے اس آئٹم نمبر کو دیکھنے کے لیے ان کے مداح بے تاب ہیں اور اس فلم کے ساتھ ان کی شہرت اور بڑھنے کا امکان ہے۔

    سری لیلا کی فلموں کی ناکامی کے باوجود ان کا اسٹار پاور کم نہیں ہوا۔ ان کی اداکاری اور کیمسٹری میں جو دلکشی ہے، وہ آج بھی ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور انسانیت کے ساتھ محبت نے ان کو فلم انڈسٹری میں ایک اہم مقام دیا ہے، اور ان کی کامیابی کا وقت آئے گا، اس میں کوئی شک نہیں۔

  • ساہیوال میں وفاقی محتسب کے دفتر کے قیام کی عوامی درخواست مسترد

    ساہیوال میں وفاقی محتسب کے دفتر کے قیام کی عوامی درخواست مسترد

    سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت ہوا۔

    اجلاس میں ساہیوال میں وفاقی محتسب کے الگ علاقائی دفتر کے قیام کے لیے جمع کرائی گئی عوامی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔قانون و انصاف ڈویژن کے سیکرٹری نے وفاقی محتسب کے نمائندے کے طور پر کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ساہیوال سے صرف 300 شکایات موصول ہوئیں، جو کہ ایک علیحدہ دفتر کے قیام کی ضرورت کو ثابت نہیں کرتیں۔ مزید یہ کہ لاہور اور ملتان میں پہلے ہی مکمل طور پر فعال وفاقی محتسب کے دفاتر موجود ہیں جو اس علاقے کے تمام معاملات کو دیکھتے ہیں۔کمیٹی نے اس درخواست پر غور کرنے کے بعد اس کو مسترد کر دیا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ ساہیوال میں وفاقی محتسب کا دفتر قائم کرنے کا معاملہ وفاقی محتسب کی موجودہ پالیسی کے تحت ہی طے ہوگا۔

    کمیٹی نے آئین میں ترمیم کے حوالے سے آئینی ترمیمی بل 2024 پر بھی بحث کی، جو سینیٹر منظور احمد اور سینیٹر دانش کمار کی جانب سے 1 جنوری 2024 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔یہ بل آئین کے آرٹیکل 51 میں ترمیم کا خواہاں ہے، جس کا مقصد ہر صوبے میں غیر مسلموں کے لیے کم از کم ایک نشست مختص کرنا ہے تاکہ موجودہ فرق کو دور کیا جا سکے۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اس ترمیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کے آراء حاصل کی جا سکیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وزارت مذہبی امور کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ اس معاملے پر جامع فیصلہ سازی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر زمیر حسین گھمرو، سینیٹر شہادت عوان، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر حمید خان، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، سیکرٹری قانون و انصاف اور وزارت کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

  • خواتین کے لیے سب سے خطرناک جگہ گھر ہے،شیری رحمان

    خواتین کے لیے سب سے خطرناک جگہ گھر ہے،شیری رحمان

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ "دنیا بھر میں خواتین کے لیے سب سے خطرناک جگہ گھر ہے۔”

    شیری رحمان نے اپنے اس بیان کو جدید دور کی شرمناک حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کے خلاف خواتین کے حقوق کی جنگ میں ہم بہت پیچھے جا رہے ہیں، اور اس مسئلے کو حل کرنے میں غیر معمولی سست روی دیکھنے کو مل رہی ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ "یہ وہ شرمناک اعداد و شمار ہیں جن کے ساتھ ہم 21ویں صدی میں جیتے ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کی صورت میں جو واقعات سامنے آ رہے ہیں وہ عام ہو گئے ہیں، اور یہ سلسلہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔”انہوں نے پاکستان میں جینڈر بیسڈ تشدد یعنی صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں اضافہ اور ان کے حل نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ شیری رحمٰان نے حکومت سے سوال کیا کہ "پاکستان میں اتنے زیادہ کیسز زیر التوا کیوں ہیں؟ اور کیوں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح اتنی کم ہے؟”

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے حوالے سے شیری رحمان نے کہا کہ "ہم نے قانون سازوں کے طور پر ملک بھر میں 480 خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ عدالتیں کیا کر رہی ہیں؟” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو اس سنگین مسئلے کے حل میں تیز تر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ہ "یہ حقیقت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے باوجود ہم نے اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنے میں تاخیر کی ہے۔”انہوں نے اس موقع پر حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، تاکہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے اتنے کیس کیوں زیرِ التواء ہیں، ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ خواتین کو تحفظ فراہم کرے،میں نے غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کے خلاف بل پیش کیے، زیادتی اور تیزاب پھینکنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں خواتین مختلف اقسام کے تشدد کا شکار ہو رہی ہیں، جن میں گھریلو تشدد، جنسی زیادتی، قتل اور دیگر کئی واقعات شامل ہیں۔ اس کے باوجود عدلیہ اور پولیس کے نظام میں کمزوریاں اور عدلیہ کی سست روی کی وجہ سے ان کیسز کا جلد از جلد حل ممکن نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل پاتا۔شیری رحمٰان کا یہ بیان خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی ہے یا نہیں؟

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی