Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ،بلاول

    کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخواہ کے ضلع کُرم میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر اظہارِ تشویش کیا ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخواہ کے گورنر سے ضلع کُرم کی صورتحال پر رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ ضلع کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ ہے،تین دنوں میں 80 شہری قتل ہوچکے، ضلع کُرم میں لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں،بدامنی کے دوران حکومت کا خاموش تماشائی بننا دہشتگردوں کا اتحادی بننے کے مترادف ہے،امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، پی ٹی آئی حکومت شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ثابت ہوچکی،ضلع کُرم میں پی ٹی آئی حکومت کی مجرمانہ غفلت کی مذمت کرتے ہیں،ہلاکتوں پر دل خون کے آنسو بہا رہا ہے، خیبرپختونخواہ کو یوں بدامنی کی آگ میں جلتا نہیں دیکھ سکتے،ضلع کُرم سمیت پورے خیبرپختونخواہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرے گی

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

  • پی ٹی آئی احتجاج، قافلے روانہ،منزل اسلام آباد، سینکڑوں گرفتار،حکومت بھی تیار

    پی ٹی آئی احتجاج، قافلے روانہ،منزل اسلام آباد، سینکڑوں گرفتار،حکومت بھی تیار

    پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال، اسلام آباد سیل، راستے بند، مختلف شہروں سے قافلے چل پڑے، علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی بھی قافلے کے ہمراہ، پنجاب میں رکاوٹیں، متعدد گرفتار کر لئے گئے.

    خیبرپختونخوا کے تینوں قافلے پنجاب کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ پختونخوا کے جنوبی اضلاع، میانوالی اور بلوچستان سے آئے ہوئے قافلے میانوالی موٹروے پر ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے اضلاع، کشمیر اور گلگت بلتستان کا قافلہ خان پور روڈ کے ذریعے ٹیکسلا کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پشاور اور سوات ریجن کا قافلہ اٹک کے قریب ایم ٹو موٹروے پر ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، کرک اور بلوچستان کے قافلوں کو لیڈ کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور پنجاب کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں،قافلے میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان شریک ہیں،

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب
    خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ہیں، بشریٰ بی بی ایک الگ گاڑی میں سوار ہیں جس کے چاروں اطراف سیکورٹی کی گاڑیاں ہیں، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ بشریٰ بی بی رابطے میں ہیں اور تمام احتجاجوں کی مانٹیرنگ کر رہی ہیں،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی رابطے کر رہی ہیں اور ہدایات دے رہی ہیں، بشریٰ نے قافلے کے دوران شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھیں، ہم تیز چلتے ہیں، ایسے ٹائم ضائع ہو رہا ہے، ہم نے خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا

    خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے میں کتنے ہزار افراد، اعدادوشمار سامنے آ گئے
    صحافی و تجزیہ کار حماد حسن ایکس پر کہتے ہیں کہ پشاور سے آنے والے جلوس میں 8 سے 10 ہزار تک لوگ ہیں ،
    ہزارہ انٹرچینج پر مزید 4 سے 5 ہزار تک لوگ ہونگے ، ہکلہ انٹرچینج پر جنوبی اضلاع کا جلوس بھی 4، 5 ہزار کا ھے،
    کل جلوس 20 ہزار کے آس پاس،93 صوبائی اور 30 سے زائد قومی ممبران پر تقسیم کریں تو فی ممبر تقریبا 150 افراد لے کر آئے

    تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کردیا ہے جب کہ تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    تحریک انصاف کی احتجاج سے متعلق حکمت عملی سامنے آگئی،آج پشاور سے قافلہ دیر سے روانہ ہوا، راستے میں صوابی میں پڑاؤ ہوگا، کل بھی ممکنہ طور پر اسلام آباد کا رخ نہیں کیاجائےگا،صوابی میں کل بھی قافلوں کا انتظار کیاجائےگا، تحریک انصاف کا پلان احتجاج کو ایک ہفتے تک لے کر جانے کا ہے، ممکنہ طور پر ڈی چوک بھی نہیں آئیں گے، حکومت کو سرپرائز دیں گے، اسلام آباد میں کسی اور مقام کا رخ کریں گے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بشریٰ بی بی کو صوابی سے واپس روانہ کردیں گے،

    بشریٰ بی بی بھی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو چکی ہیں، پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ احتجاج میں شرکت کیلئے بشریٰ بی بی بھی پشاور سے نکل گئی ہیں،بشریٰ بی بی الگ گاڑی میں روانہ ہوئی ہیں، صوبائی وزیر پختون یار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بشریٰ بی بی بھی قافلے میں موجود ہیں، روانگی سے قبل بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور میں لڑائی بھی ہوئی، علی امین گنڈا پور نے بشریٰ کو احتجاج میں آنے سے منع کیا لیکن بشریٰ بی بی بضد رہیں کہ وہ جائیں گی،مریم ریاض وٹو کا کہناتھا کہ سب کو بشریٰ بی بی کی فکر تھی، لوگ انہیں منارہے تھے کہ وہ نہ نکلیں،ان کی جان کو خطرہ ہے، رب کے راستے پر چلنے والوں کو ان چیزوں کی کہاں فکر ہوتی ہے ،بانی کی فیملی کا کوئی فرد بھی احتجاج میں ہو آپ نے ان کی حفاظت کرنی ہے،کوئی کچھ بھی کہے بانی پی ٹی آئی کو رہا کروائے بغیر واپس نہیں جانا۔

    جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہے،اسلام آباد میں 6 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں اور جگہ جگہ کنٹینر اور خار دار تاریں لگا کر راستے بند کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں اب تک پی ٹی آئی راکین صوبائی و قومی اسمبلی سمیت 500 کے قریب رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، اسلام آباد پولیس نے 300 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جبکہ ڈیرہ غازی خان سے 85 افراد پکڑ لیے، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی عامر ڈوگر، زین قریشی اور معین ریاض کو ملتان سے حراست میں لیا گیا، تینوں ایم این ایز کو نقصان امن کے خطرے کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے، پولیس نے چیچہ وطنی سے ایم این اے رائے حسن نواز کو بھی گرفتار کرلیا ہے، سابق ناظم رانا مبشر اور سابق سیکرٹری بار رانا جواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، گرفتار کارکنوں کو ساہیوال تھانہ فتح شیر منتقل کر دیا گیا ہے،سرگودھا روڈ سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے بشارت ڈوگر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، فیصل آباد میں ایم پی اے بشارت ڈوگر سمیت دو بسوں میں سوار پی ٹی آئی کے 32 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، کوٹلی سے اسلام آباداحتجاج میں شرکت کیلئے جانے والے صدر پی ٹی آئی اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،پولیس کے مطابق سینئر نائب صدر پی ٹی آئی آزادکشمیر رفیق احمد نیئر بھی زیرحراست ہیں۔ شاہدرہ میں علی اعجاز بٹر اور یاسر گیلانی کارکنوں کے ہمراہ نکل آئے،چیئرمین یو سی اعظم ورک سمیت 6 کارکنان گرفتار کر لئے گئے، پولیس ملحقہ گلیوں تک کارکنان کا پیچھا کرتی رہی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ کریک ڈاؤن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے کارکنوں کی تعداد 490 ہو گئی ہے جبکہ متعدد علاقوں سے 100 سے زائد کارکن لاپتا بھی ہیں،پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے انفارمیشن سیکرٹری حافظ ذیشان کو لاہور کے چوبرجی چوک سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ سرگودھا روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کارکنوں کی ریلی موٹر وے کمال پور انٹر چینج کی طرف روانہ ہوگئی،

    بارات کی شکل میں اسلام آباد جانے والے27 پی ٹی آئی کارکن گرفتار
    سرگودھا روڈ پر بارات کی شکل میں اسلام آباد جانے والے27 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، کارکنوں نے گاڑیوں کو سجایا ہوا تھا، ایک شخص کو دلہا بنا کر فرنٹ پر گاڑی رکھی ہوئی تھی، مشکوک جانتے ہوئے پولیس نے روک کر گرفتار کرلیا ،گرفتاری پر پتہ چلا کہ بارات کی شکل میں پی ٹی آئی کارکنان کا قافلہ اسلام آباد جا رہا تھا،پی ٹی آئی کارکنان پھولوں سے سجی گاڑیوں میں سوار سرگودھا روڈ کے راستے جارہے تھے۔ قافلے میں شامل 11 جیپ، 22 کاریں اور بسوں کو قابو کرلیاگیا۔گاڑیوں میں سوار درجنوں کارکنان کو بھی حراست میں لےلیاگیا

    صداقت عباسی فیض آباد پل سے گرفتار،بولے میں احتجاج کا حصہ نہیں
    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،صداقت عباسی کو پولیس نے فیض آباد پل سے گرفتار کیا اور انہیں قیدی وین میں بیٹھا کر روانہ ہوگئی،صداقت عباسی کا گرفتاری کے وقت کہنا تھا کہ میں تو گھر جارہا تھا، میرا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں کل تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے دو روز سے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، آج پی ٹی آئی نے اسلام آباد پہنچنا تھا مگر ابھی تک قافلے راستوں میں ہیں،احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کے لیے پنجاب اور کے پی سے مختلف قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جنہیں روکنے کے لیے حکومت نے مختلف مقامات پر کنٹینر کھڑے کر دیے ہیں۔

    ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ اڈیالہ میں ناحق قید قوم کے حقیقی قائد کی کال پر پوری قوم آج حقیقی آزادی کیلئے بیدار اور متحرک ہے، عوامی تائید و حمایت سے یکسر محروم کٹھ پتلی سرکار پورے ملک میں کرفیو لگا کر خود رکاوٹوں اور کنٹینرز کے پیچھے چھپ گئی ہے بدترین خوف میں مبتلا بےغیرت حکمران ہیسٹیریا اور ہیجان میں شہروں کو کاٹ کر، موٹرویز اور سڑکیں کھود کر، آبادیوں کو محصور کر کے، خندقیں کھود کر اور انٹرنیٹ بند کر کے خود کو محفوظ بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، لاقانونیت اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والا نظام سر سے لیکر پیر تک لرز رہا ہے، اور قوم اپنی حقیقی آزادی کی منزل آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہے، چوری چکاری پر مبنی اس نظام کی واحد امید ریاستی مشینری اور عوام کے مابین پرتشدد تصادم سے اپنے لئے زندگی کشید کرنے کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں،پوری ریاستی مشینری کیلئے ہمارا پیغام ہے کہ ریاست کے مالک عوام ہیں، آپ عوام کے خادم ہیں اور انہی کے ٹیکسوں سے تنخواہیں پاتے ہیں،عوام کے جان و مال کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے، عوام آپ اور آپ کے بچوں کے مستقبل کیلئے تمام تر قربانیاں دیتے ہوئے نکل رہے ہیں،عمران خان کی کال پر اور ان کی خصوصی ہدایات کے مطابق عوام مکمل طور پر نہتّے اور پرامن ہیں اور آپ کے خلاف کسی یلغار کیلئے نہیں قانون کی حکمرانی اور پاکستان کے مستقبل کیلئے نکل رہے ہیں، پرامن احتجاج کے شرکا کے خلاف کسی قسم کی طاقت، تشدد اور اشتعال انگیز کارروائی سے مکمل گریز کریں اور پرامن احتجاج میں رخنہ اندازی کی کسی کوشش کو کندھا نہ دیں، مینڈیٹ چوروں کے خلاف قوم کی پرامن سیاسی جدوجہد کو ذاتی لڑائی بنانے اور مجرموں کو کسی فالس فلیگ آپریشن کے غلاف میں لپیٹ کر سیاسی حیات سونپنے کی کوششوں سے گریز کریں،24 نومبر کا یہ دن ملکی تاریخ میں حقیقی آزادی کا عنوان بن کر طلوع ہوا ہے، کسی چیرہ دست کو اپنے آزادی اور مستقبل داغدار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،عوام اور کارکنان طے شدہ پروگرام کے تحت پرامن انداز میں آگے بڑھیں، کپتان اور پاکستان آپ کے منتظر ہیں،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    9مئی کے واقعہ کی اصل ذمہ دار مریم نواز اور نواز شریف ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا
    سنی اتحاد کونسل پاکستان اور قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مریم کی حکومت نے پولیس کو پرو پولیٹیکل فورس بنا دیا ہے۔وفاقی وزراء حکومت کے نہیں فسادیوں کے وزراء ہیں۔ پنجاب حکومت کے بدترین کریک ڈاؤن کے باوجود بہت بڑی تعداد اسلام آباد کی طرف روا ں دواں ہے۔ ایک گھنٹے میں چار، چار پریس کانفرنس کرنے والی حکومتی وزراء کے اوسان خطا ہوچکے ہیں۔ عطاء تارڑ کونسلر نہیں بن سکتے مگر فارم 47کی وجہ سے انہیں بھی وزیر بنا دیا گیا۔ کسی تحریک انصاف کے رہنما نے گرفتاری کی پیش کش نہیں کی بلکہ چیلنج کیا کہ گرفتار کرکے دکھائیں۔ بہت بڑی تعداد میں سنی اتحاد کونسل کا قافلہ فیصل آباد سے اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ مرکز اہلسنّت جامعہ رضویہ پر پولیس گردی فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ علماء و طلباء کو ہراساں کیا جارہا ہے۔میری گرفتاری کے لیے میرے دفتر اور رہائش گاہ پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد روانگی سے قبل اپنے حلقہ میں کارکنان سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ پنجا ب اور وفاق میں نااہل ٹولہ کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ تحریک انصاف میں کوئی گروپ نہیں صرف عمران خان گروپ ہے۔ مسلم لیگ ن کا وطیرہ ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کرتی ہے۔ پرتشدد سیاست اور انتقامی سیاست کے رویوں کی مذمت کرتا ہوں۔ ملک میں معیشت کا ستیاناس تحریک انصاف نہیں مسلم لیگ ن کی حکومت نے کیا ہے۔پنجاب بھر سے 10ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب میں شدید ترین کریک ڈاؤن کرکے بھی کہا جارہا ہے کہ احتجاج کے لیے لوگ نہیں نکلے۔ قوم اب جاگ چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کی چا ل بازیوں سے قوم واقف ہے۔ 9مئی کے واقعہ کی اصل ذمہ دار مریم نواز اور نواز شریف ہیں۔

    حکومتی کے منفی ہتھکنڈوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو خود ہی کامیاب بنا دیا’ مسرت جمشید چیمہ
    پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت کے منفی ہتھکنڈوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو خود ہی کامیاب بنا دیا ہے ،دنیا کے کسی مہذب ملک میں پر امن احتجاج کو روکنے کیلئے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے جاتے جو فارم 47مارکہ حکمران ٹولہ کر رہا ہے ،موٹرویز اورجی ٹی روڈ کو بند کر دینے سے عمران خان کی قیادت میں جاری جدوجہد کے آگے بندھ نہیں باندھا جا سکتا،ظلم اور جبر کی تاریک رات جلد ختم ہوگی ۔ گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ساری قوم عمران خان کی جدوجہد کے شانہ بشانہ ہے اس لئے جعلی حکمران حواس باختہ ہو چکے ہیں ، ان کے چہروں کے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں جو اصل حالات کی خبر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم عمران خان کے بیانیے کو اس لئے دل سے قبول کرتی ہے کیونکہ وہ ملک و قوم کی بات کرتا ہے ، وہ دہائیوں سے پسنے والے طبقات کو صرف اپنے اور اپنی اولادوں کیلئے سوچنے والے حکمرانوں سے چھٹکارا دلانا چاہتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی تمام اداروں کا دل سے احترام کرتی ہے ، ہم نے ہمیشہ یہ بات کی ہے کہ ادارے آ ئین میں متعین کردہ اپنے کردار کے مطابق چلیں۔

    ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں، شہادت، یا غازی ہو کر نکلیں گے،سیمابیہ طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سیمابیہ طاہر کا کہنا تھا کہ ہم ان سے ہار ماننے والے نہیں بھر پور مقابلہ کریں گے،اگر یہ سوچتے ہیں ہمیں ہرا دیں گے، ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں، یا شہادت، یا غازی ہو کر نکلیں گے،مطالبات منوائے بغیر نہیں جائیں گے، کتنی دیر شیلنگ کریں گے، ہم سب کی جیت ہو گی، مطالبات پورے ہوں گے، عمران خان کی رہائی ہو گا.

    پی ٹی آئی احتجاج،اٹک گاڑی کو آگ لگا دی گئی،میانوالی،خان پور میں جھڑپیں،پولیس سے شیل چھین لئے
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوابی انٹرچینج پار کر گئے ہیں،عمر ایوب کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، عمر ایوب کے اسلام آباد پہنچنے پر علی امین کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا، قافلے میں آئے لوگ اٹک کے مقام پر موٹروے کے اطراف گھنے درختوں میں چھپ گئے، اور علی امین گنڈا پور کے قافلے کا انتظار کر رہے ہیں،علی امین گنڈاپور صوابی ریسٹ ایریا پہنچے تو نعرے لگا کر کراؤڈ چارج کیا اور کہا کہ کارکن سب آگے چلیں، اپنی طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے، سب متحد ہو کر چلیں، ایک دوسرے کی طاقت بنو، پہلے مشینری کو راستہ دیں،اسد قیصر بھی قافلے کے ہمراہ رواں دواں ہیں

    پی ٹی آئی کے کارکنوں نے غازی ٹول پلازہ کے قریب آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے باعث غازی انٹرچینج پر کھڑی ایک گاڑی کو بھی آگ لگ گئی، گاڑی میں سوار 4 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی ورکرز نے ہی زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ایم 14 سی پیک داؤد خیل میپل لیف سیمنٹ کے قریب پل کے اوپر موجود پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کا تصادم ہوا، پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جبکہ ربڑ بلٹ سے بھی فائرنگ کی گئی، جس کے باعث کارکن واپس جانے لگے۔ کچھ کارکن شیلنگ ماسک اور غلیل اٹھائے آگے بڑھتے رہے،اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا،

    پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ہمارے قافلے صوابی سے بھی نکل چکے ہیں ہم بہت ساری جگہوں پر رکاوٹیں ہٹا رہے ہیں لیکن انشاء اللہ ہم منزل پر ضرور پہنچیں گے ۔

    خان پور کے قریب کارکنان او رپولیس میں جھڑپیں ہوئیں، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس سے ڈنڈے چھین لئے اور راستہ کلیئر کروا لیا،اس موقع پر پولیس سے پی ٹی آئی کارکنان نے شیل بھی چھین لئے،میانوالی میں بھی پی ٹی آئی کارکنان کی جھڑپیں ہوئی، اس دوران پولیس سے شیل چھین لئے گئے،جنوبی پنجاب سے زرتاج گل کی قیادت میں قافلہ روانہ ہوا،

    ایکس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ انکے بھائی خالد لطیف مروت کا قافلہ داؤد خیل میں روکا گیا ہے اور سخت ترین شیلنگ کر رہے ہیں، لیکن انشاءاللہ کچھ بھی کر کے ڈی چوک تک ہم پہنچ رہے ہیں۔آدھے گھنٹے تک قبیلے کے اور لوگ ا رہے ہیں مل کر یہ بند راستے ہم کھولیں گے اور ڈی چوک کی طرف روانہ ہوں گے انشاءاللہ”

  • آصف کرمانی کو فون پر ملی دھمکی،بولے کچھ ہواتو ن لیگ ذمہ دار

    آصف کرمانی کو فون پر ملی دھمکی،بولے کچھ ہواتو ن لیگ ذمہ دار

    سابق سینیٹر اور مسلم لیگ ن چھوڑنے والے سیاسی رہنما آصف کرمانی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک دھمکی آمیز کال موصول ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ کال فون نمبر 03325320375 سے کی گئی، اور کال کرنے والے شخص کا نام اویس ظاہر ہو رہا تھا۔

    آصف کرمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ کالر نے انہیں مسلم لیگ (ن) کے خلاف بیان بازی بند نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے مزید کہا:”اگر مجھے یا میرے خاندان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مذکورہ شخص ہوں گے۔”آصف کرمانی نے واضح طور پر کہا کہ وہ ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں اور ان کا مؤقف مضبوط ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کریں گے تاکہ قانون کے تحت ملوث افراد کو جوابدہ بنایا جا سکے۔

    رواں برس 21 جولائی کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔آصف کرمانی نے کہا کہ وہ ایک طویل عرصے سے نوازشریف کی قیادت والی پارٹی کے سیاسی معاملات سے خود کو دور کر رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ بجلی کے بلوں اور مہنگائی سے مر رہے ہیں، خوشامدی ٹولہ سب اچھا کی گردان کر رہا ہے، میاں صاحب، سب اچھا نہیں ہے۔

    آصف کرمانی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2013 میں اپنے دور حکومت میں اپنا پولیٹیکل سیکرٹری مقرر کیا تھا، وہ سابق وزیر اعظم کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور 2013 میں پارٹی کے اقتدار میں آنے سے پہلے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے فعال کردار ادا کیا تھا۔

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • سیاسی میدان  میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    سیاسی میدان میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کی احتجاجی کال سے ایک دن قبل اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی۔ یہ مہم آئی جی اسلام آباد علی رضا رضوی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور، اور ڈی آئی جی لیاقت ملک کے خلاف مختلف پلیٹ فارمز پر چلائی گئی۔ پی ٹی آئی کے تمام آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول واٹس ایپ، ٹوئٹر، فیس بک، تھریڈز، اور انسٹاگرام پر یہ مہم جاری رہی۔ اس مہم کا مقصد ان افسران کو تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے مبینہ تشدد کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا اور عوام کو ان کے خلاف اکسایا گیا۔

    پولیس افسران کے خلاف اس سوشل میڈیا مہم میں تحریک انصاف نے صرف اور صرف احتجاج کی کال اور سکیورٹی انتظامات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ان پولیس افسران پر تنقید کر کے کمزوری کا ثبوت دیا۔ تحریک انصاف نے ان افسران پر بے بنیاد الزامات لگائے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے، جو قانونی طور پر "ڈیفیمیشن” اور "انسائٹمنٹ ٹو وائلنس” کے زمرے میں آتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس مہم کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے۔ جب ایک سیاسی جماعت سرکاری افسران کو نشانہ بنا کر عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا ریاست اس مہم کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلا رہی ہے تو کیا ریاست ایسی سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ سے چلنے والی کمپین کے خلاف ایکشن لے گی یا نہیں؟ اگر ریاست ان مہمات کے خلاف ایکشن نہیں لیتی تو یہ آئندہ کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف ابوبکر نے لکھا کہ ریاستی ادارے کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟‼️پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بہادر پولیس افسران کی تصاویر اس طرح شیئر کی جا رہی ہیں جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔ یہ نہ صرف ان افسران بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ایک جماعت ملک کے محافظوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو مذاق بنا رہی ہے، اور اب تو افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    نعمان قیصر کا ایکس پر کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد ریاستی اداروں کے اعلی افسران و عہدیداران کے خلاف گھٹیا مہم اور ذاتی دشمنی جیسے حملے کر رہی ہے،زیر نظر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ پولیس افسران کی تصاویر پی ٹی آئی آفیشل سائٹ سے ایسے شئر کی جا رہی ہیں جیسے یہ دہشت گرد ہوں

    https://twitter.com/NomanqaiserS/status/1860390047545196722

    عدنان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل گینگ کی ایک اور سازش،پولیس کو بدنام کرنے کے لیے بہادر افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش۔

    بلوچستان کے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کہتے ہیں کہ ان پیغامات کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے ان پولیس افسران کے خلاف ایک منفی مہم چلائی۔
    ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ کیلے کی ریاست ہے جہاں کوئی بھی ریاستی اہلکاروں کو دھمکا سکتا ہے / ہراساں کر سکتا ہے اور اس کی کو ہی پکڑ نہیں۔ ریاست کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    تحریک انصاف باز نہ آئی،ملک دشمن اقدامات پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے پنجاب اور اسلام آباد کے سینئر پولیس افسران کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ان افسران کو دھمکیاں دینا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف مہم واٹس ایپ، فیس بک، ایکس،تھریڈز،پر چلائی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے آئی جی پنجاب عثمان انور،آئی جی اسلام آبادعلی رضا رضوی،ڈی آئی جی لیاقت ملک، سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن فورمز کے ذریعے پولیس افسران کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد پولیس افسران کی عزت کو مجروح کرنا اور ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان ایک "بنانا ریپبلک” بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی بغیر کسی خوف کے ریاستی اہلکاروں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکتا ہے؟ کیا اس گھناونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ریاست کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ریاستی افسران کو ہراساں کرنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلر اور مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں پولیس افسران کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں،پولیس افسران کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی یہ منظم مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے.

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف متعدد بار مہم چلائی جا چکی ہے اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں،کبھی عدالتوں کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف،کبھی پولیس کے خلاف، کبھی میڈیا کے خلاف، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ سے محفوظ نہیں ہے

  • پی ٹی آئی احتجاج،بنگلہ دیش ماڈل کا خواب،کیا 9 مئی بھول گئے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،بنگلہ دیش ماڈل کا خواب،کیا 9 مئی بھول گئے؟

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، بشریٰ بی بی احتجاج کے لیے متحرک تھیں، بندے اور پیسے جمع کرنے کے ٹاسک دیئے، اب احتجاج میں شمولیت کی باری آئی تو بشریٰ بی بی خود بھاگ گئیں ،اور احتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا گیا

    تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے،بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسفزئی کا کہنا تھاکہ بشریٰ بی بی خرابی طبیعت کے باعث احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی،اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان میں مایوسی پھیل گئی ہے،پی ٹی آئی نے اسلام آباد آنے کا اعلان کر رکھا ہے تا ہم پی ٹی آئی کی اس ضمن میں کوئی تیاری نہیں، لاہور، اسلام آباد بند ہے، سڑکیں بند ہیں، کینٹینر لگ گئے ہیں، ایسے میں پی ٹی آئی کیسے اسلام آباد پہنچ پائے گی؟

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حجاب رندھاوا کہتے ہیں کہ بشری بی بی نے یہ ہدایت تو جاری کی ہیں کہ ہر ایم این اے اور ایم پی اے 5،5ہزار بندہ لیکر ڈی چوک پہنچے، البتہ ڈی چوک میں کسی جلسے جلوس کی اجازت نہیں لی گئی اور نا ہی وہاں کسی 100 بندے کا ہی انتظام ہے،یعنی کسی جلسے یا طویل دھرنے کی کوئی تیاری نہیں پھر سوال یہ کہ پی ٹی آئی ڈی چوک پہنچ کر کیا چاہتی ہے،یقیناً پی ٹی آئی کے زہن میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کا ماڈل ہے جس کے وہ ہمیشہ سے خواب دیکھتی ہے ۔اس ماڈل میں شاہرا ہ دستور پر موجود اہم عمارتوں پر قبضہ کا منصوبہ ہے، جن میں قومی اسمبلی، ایوان وزیر اعظم اور سپریم کورٹ کی عمارتیں شامل ہیں۔
    (اگر آپ کو یاد ہو تو 2014میں بھی ایسی کوشش ہوئی تھی، پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ ہوا تھا) پی ٹی آئی جب اپنے افراد کو ان عمارتوں میں داخل کرکے قبضہ کروائے گی ،تو پھر اوورسیز یوتھیوں کا کام شروع ہو گا کہ دیکھو عوام نے اقتدار پر قبضہ کر لیا،لیکن یہ خواب ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی کال عوام نے ریجیکٹ کر دی کارکنان بھی چند ہی نکلیں گے، ایسے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ماڈل تو دور پی ٹی آئی کو 9مئی کے بعد اپنا حشر یاد رکھنا چاہیے

    https://twitter.com/Hijabrandhawa1/status/1860348328564658307

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ملک میں فساد چاہتی ہے،پی ٹی آئی ملک میں عد م استحکام چاہتی ہے،پی ٹی ا ٓئی انتشار کے ایجنڈے پرکام کررہی ہے،بشریٰ بی بی کا بیان مذموم مقاصد کیلئے ہے، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات ہیں،پی ٹی آئی کی کال پہلے کی طرح ناکام ہو گی،پی ٹی آئی خیبرپختونخو ا میں حکومت کو احتجاج کیلئے استعمال کرتی ہے، غلامی نامنظور کے نعرے لگانے والے اب امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ،تحریک انصاف کی سیاست دہرے معیار پر مبنی ہے،خیبرپختونخوا کے وسائل احتجاج کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں،علی امین گنڈاپور اسلام آباد پر لشکر کشی کرتے ہیں،عوام پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست کو مسترد کرچکے ہیں،خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے،علی امین گنڈا پور احتجاج کی بجائے صوبے میں قیام امن پر توجہ دیں.پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں،پی ٹی آئی والے لاشیں چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دینگے،کسی کو امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،بانی پی ٹی آئی اپنے دورحکومت میں دہشت گردوں کو واپس لے کرآئے

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی بھی "نازیبا” ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی بھی "نازیبا” ویڈیو لیک

    پاکستانی سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت اور ٹک ٹاک اسٹار کنول آفتاب ایک اور مبینہ ویڈیو لیک اسکینڈل کی زد میں آگئی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں میتھیرا خان، مناہل ملک ،امشا رحمان، مسکان چانڈیو و دیگر کی نجی ویڈیوز لیک ہونے کے بعد کنول آفتاب کی بھی مبینہ طور پر نازیبا ویڈیو لیک ہو گئی ہے

    تاہم، ابھی تک کنول آفتاب یا ان کے خاندان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اور ویڈیو کی صداقت کی تصدیق بھی نہیں ہوئی ہے۔کنول آفتاب کے مداح اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    26 سالہ کنول آفتاب 9 جنوری 1998 کو پیدا ہوئیں۔ وہ ایک مشہور پاکستانی سوشل میڈیا شخصیت ہیں جن کے انسٹاگرام پر 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ وہ اپنے شوہر ذوالقرنین سکندر اور بیٹی ایزال ذوالقرنین کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

    سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کی نجی ویڈیوز کا لیک ہونا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ نہ صرف سیلیبریٹیز بلکہ عام صارفین بھی اس غیر محفوظ ماحول میں اپنی پرائیویسی کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔نازیبا ویڈیوہونے کے واقعات نے نہ صرف متاثرہ افراد کی نجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ پاکستانی سوشل میڈیا کی دنیا میں صارفین کے درمیان اخلاقیات اور رازداری کے معاملات پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے،اسکینڈلز کے بار بار پیش آنے سے سوشل میڈیا پر رازداری کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    kanwal aftab

    قبل ازیں گزشتہ روز متنازع ماڈل اور میزبان متھیرا نے اپنی نازیبا ویڈیوز لیک کرنے والے شخص کے بارے میں اہم انکشاف کیا ہے۔2021 میں متھیرا کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تھیں، جس پر انہوں نے وضاحت دی تھی کہ یہ ویڈیوز جعلی ہیں اور ان میں ان کا چہرہ ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے شامل کیا گیا ہے،اب متھیرا نے بتایا ہے کہ ان کی یہ ویڈیوز جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایڈٹ کرکے بنائی تھیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ شخص نہ صرف ان کی بلکہ کئی اور لڑکیوں کی ویڈیوز کو ایڈٹ کرکے محض 2،000 روپے میں فروخت کرتا تھا۔ ویڈیوز کے لیک ہونے کے بعد متھیرا نے فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم سے رجوع کیا۔

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، بشریٰ بی بی احتجاج کے لیے متحرک تھیں، بندے اور پیسے جمع کرنے کے ٹاسک دیئے، اب احتجاج میں شمولیت کی باری آئی تو بشریٰ بی بی خود بھاگ گئیں ،

    تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے،بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسفزئی کا کہنا تھاکہ بشریٰ بی بی خرابی طبیعت کے باعث احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی،اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان میں مایوسی پھیل گئی ہے، گزشتہ روز علیمہ خان نے بھی کہا تھا کہ بشریٰ احتجاج میں شریک ہوں گی یا نہیں اس پر ان سے خود ہی سوال کیا جائے،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا بھی کہنا تھا کہ احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ہو گا، وہ کہیں گے تو احتجاج مؤخر ہو گا ہم کچھ نہیں کر سکتے،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ میں شریک نہیں ہوں گی،وہ گھریلو خاتون ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بشریٰ عمران کا پیٍغام پہنچا رہی تھی پارٹی تک، سیاست میں وہ ان نہیں ہیں،عمران اسکا شوہر جیل میں ہے ، پیغام بشریٰ ہی دے سکتی ہے، اسکا حق ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا، اسکو سیاست نہیں کہتے،

    بشریٰ بی بی اڈیالہ سے رہائی کے بعد پشاور گئیں اور وہیں مقیم ہیں، بشریٰ کی آڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو بندے لانے کا ٹاسک دیا ،اور پارٹی ٹکٹ نہ دینے کی دھمکی بھی دی، بشریٰ نے قوم سے ویڈیو خطاب بھی کیا جس میں سعودی عرب متنازعہ بات چیت کی، اس واقعہ کے بعد بشریٰ بی بی کے خلاف کئی شہروں میں مقدمے درج ہو چکے ہیں، بشریٰ بی بی کو گرفتاری کا ڈر ہے اسلئے وہ احتجاج میں شامل نہیں ہو رہیں،بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے گمبیلہ میں نامعلوم مسلح افراد نےپاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن مشال آزاد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

    نامعلوم موٹرسائیکل سوار واردات کے بعد آسانی سے فرارہو گئے،مشال آزاد پی پی پی کے ٹکٹ سے ڈسٹرکٹ کونسلر بھی منتخب ہوئے تھے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی لکی مروت کے رہنما مشال آزاد کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے، بلاول زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ مشال آزاد کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے،مشال آزاد کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،مجھ سمیت پوری پیپلز پارٹی اس مشکل گھڑی میں مشال آزاد کے خاندان کے ساتھ ہے،دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے.آمین

  • اسلام آباد،پولیس کا سرچ آپریشن، 200  شرپسند  گرفتار،اسلحہ برآمد

    اسلام آباد،پولیس کا سرچ آپریشن، 200 شرپسند گرفتار،اسلحہ برآمد

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے پی ٹی آئی احتجاج کو لے کر سرچ آپریشن کیا ہے

    اسلام آباد میں24 نومبر کا احتجاج کے لئے پہلے سے چھپے پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریاں جاری ہیں ۔گزشتہ شب اسلام آباد پولیس آفیسرز کی سربراہی میں 27 ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا، پی ٹی آئی کے 200 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار کارکنوں میں مرد اور خواتین بھی شامل ہیں، گرفتار شر پسندوں سے ہتھیار اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے،

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ پولیس دفعہ 144 کے نفاذ پر عملدرآمد کیلئے تمام تر اقدامات کرے گی۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔ شہریوں کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پولیس شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے موجود ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری