Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پشاور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب احتجاج کے لیے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں حضرو انٹرچینج پہنچ گیا۔پشاور سے علی امین گنڈا پور کارواں کی قیادت کر رہے تھے تاہم اب بشریٰ بی بی نے قیادت سنبھال لی ہے اور کہا ہے کہ اب احتجاجی قافلے کی قیادت میں کروں گی،

    پی ٹی آئی کی کال پر آج لوگوں کی بڑی تعداد باہر نہیں نکل سکی اسلئے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے فیصلہ کیا کہ وہ خود باہر نکلیں گی اسطرح شاید لوگ نکل آئیں،علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کو علی امین گنڈاپور پر اعتبارنہیں ہےاسلئے وہ خود اسے مانیٹر کرنے آرہی ہیں۔کیونکہ گزشتہ احتجاج میں علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ کر غائب ہو گئے تھے،بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے مابین روانگی سے قبل لڑائی ہوئی تھی، بشریٰ بی بی نے کارواں کے شرکا سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جلدی چلیں خان کو لئے بغیر واپس نہیں آیا،

    احتجاجی قافلے کے دوران پی ٹی آئی کارکنان نے علی امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا کہ ڈی چوک کی بجائے اڈیالہ جائیں گے، جس پر علی امین گنڈا پور نے کہا پارٹی جو فیصلہ کرے گی اس کے مطابق عمل ہو گا،پارٹی حتمی فیصلہ کرے گی،علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جانے کے لئے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے، دوسری جانب اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے دارالحکومت جانے والے اکثر راستے بند کر دیے ہیں۔ متعدد راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ چھبیس نمبر چُنگی کنٹینر لگا کر مکمل سیل کر دی گئی، اور وہاں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔سری نگر ہائی وے، زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند کر دی گئی ہے۔ایکسپریس وے، کھنہ پل کے دونوں طرف سے بند کر دی گئی۔ائیرپورٹ جانے کا راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔فیض آباد سے اسلام آباد یہ راستہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    راولپنڈی پولیس نے فیض آباد اور آئی جے پی روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائی کی۔ لاٹھی چارج کے بعد تقریباً 60 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، وہاں 100 سے 150 کارکن موجود تھے جنہیں منشتر کر دیا گیا۔پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں سے 490 کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 100 کارکن لاپتہ ہیں۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری یہ تنازع سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔حکومت نے دارالحکومت کو بند کر کے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس اقدام سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے حکومت پر تنقید بڑھ سکتی ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت اس احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کریک ڈاؤن اور راستوں کی بندش عوامی حمایت کو کم کر سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ جب تک بیرونی قافلے اسلام آباد نہیں پہنچتے ہم احتیاط کریں گے اور ورکرز اپنی انرجی بچا کر رکھیں گے ہم سٹریٹجی کے تحت چلنا ہے،پی ٹی آئی رہنما شہر یار آفریدی کا کہنا ہے کہ ہم واپسی کے تمام راستے بند کرکے آئے ہیں اب عمران خان کی رہائی کے بغیر کسی صورت واپسی نہیں ہوگی، پوری قوم کی للکار ہے کہ عمران خان کو رہا کرو، لوگ بدترین ظلم کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں،پی ٹی آئی رہنما مومنہ باسط کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ٹیکسلا کے مقام پر ہزارہ کے قافلے پر شدید شیلنگ ہوئی۔ ہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے قافلے تک جلد پہنچ جائینگے۔ عوام نکلے عمران خان کے لیے ۔

    احتجاج کی کال پر وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستے سیل ہیں اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈی چوک کا دورہ کیا اور پولیس اہلکاروں کو شاباش دی، اسلام آباد میں احتجاج کے دوران چھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہو ئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر  سے غائب

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    تحریک انصاف کی احتجاج کی کال، بشریٰ بی بی قافلے کے ہمراہ، تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان کہیں نظر نہ آئیں،

    پی ٹی آئی کے احتجاج میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے، خیبر پختونخوا سے روانہ ہونے والے قافلے اسلام آباد کی حدود میں پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی جن کے بارے میں کل کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں،احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی وہ قافلے کے ہمراہ ہیں، تاہم علیمہ خان، جو عمران خان کی بہن ہیں، اس اہم موقع پر غیر موجود رہیں، دن بھر علیمہ خان کسی بھی شہر میں نظر نہ آئیں، نہ کسی قافلے کی قیادت کی نہ شریک ہوئیں، علیمہ خان کہاں ہیں ، عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان سے ہی 24 نومبر کے احتجاج کی کال دلوائی تھی تا ہم احتجاج کے روز علیمہ خان منظر عام سے غائب ہیں،علیمہ خان کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وہ پارٹی کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں، اور ان کی عدم شرکت نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ علیمہ خان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کی ہو اور وہ روپوش ہوں جب قافلہ اسلام آباد پہنچے تو علیمہ خان منظر عام پر آجائیں،

    سوشل میڈیا پر علیمہ خان کی غیر موجودگی موضوع بحث بن گئی۔ کچھ صارفین نے ان کی غیر موجودگی پر تنقید کی، ایک صارف نے سوال اٹھا یا کہ علیمہ خان کدھر ہیں،

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ابھی تک علیمہ خان کا قافلہ نہیں نظر آیا

    اب تک پی ٹی آئی کی قیادت نے علیمہ خان کی غیر موجودگی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔پی ٹی آئی قیادت علیمہ خان کی احتجاج میں عدم شرکت پر خاموش ہے،

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا پرامن احتجاج پر تشدد بن گیا، پتھراؤ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے

    پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی گئی جس پر پولیس نے مظاہرین کو روکا، فیض آباد، کھنہ پل و دیگر مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس سے متعددپولیس اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پی ٹی آئی مظاہرین نے اس موقع پر پولیس گاڑی کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا،پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی،

    پی ٹی آئی کے شرپسندوں کا پولیس پر پتھراؤ، متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے،ڈھوک کالا خان اسلام آباد ہائی وے کے قریب شرپسندوں نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا،پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے،زخمیوں میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے،شدید زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیاگیا، کانسٹیبل فیاض حسین کی حالت تشویش ناک ہے ، پولیس اہلکاروں کے سر اور آنکھوں پر شدید چوٹیں آئی ہیں،کھنہ پل کے قریب شر پسندوں نے پولیس کی گاڑی بھی تباہ کر دی،شر پسندوں میں اکثریت کی تعداد غیر قانونی افغانیوں کی ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ شرپسندوں کو کسی صورت قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا،عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،

    قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی پولیس، ایف سی اور رینجرز جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈی چوک ک پہنچ گئے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو جانفشانی سے ڈیوٹی کی ادائیگی پر شاباش دی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ،وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی تعریف کی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ آپ کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد پولیس ۔ایف سی اور رینجرز جوانوں کا مورال بہت بلند ہے۔اسلام آباد پولیس ۔ ایف سی اور رینجرز اہلکار ہمہ وقت الرٹ ہیں۔فرائض سرانجام دینے والے تمام اہلکاروں کو شاباش دیتا ہوں۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے پر آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔آپ فرض شناسی سے قومی فریضہ نبھا رہے ہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔وفاقی سیکرٹری داخلہ۔ چیف کمشنر اسلام آباد۔آئی جی اسلام آبادپولیس۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی ہمراہ تھے

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • اسلام آباد میں احتجاج،رکاوٹیں،جرمن سفارتخانے کا بندش کا اعلان

    اسلام آباد میں احتجاج،رکاوٹیں،جرمن سفارتخانے کا بندش کا اعلان

    جرمن سفارتخانے کے ویزا سیکشن کی بندش کا اعلان

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرمن سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد ریجن کی بندش کے باعث ویزا سیکشن پیر، 25 نومبر کو بند رہے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جرمن سفیر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں موجودہ بندش کی وجہ سے اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے ویزا سیکشنز پیر 25 نومبر کو بند رہے گا۔ درخواست دہندگان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی تقرری کے لیے حاضر نہ ہوں۔ تقرریوں کو دوبارہ ترتیب دیا جائے گا اور نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

    یہ اعلان جرمن سفارتخانے کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیا گیا ہے تاکہ درخواست گزاروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچایا جا سکے۔ درخواست گزاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مزید معلومات کے لیے سفارتخانے کی ویب سائٹ یا دیگر ذرائع کو دیکھیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد کو گزشتہ دو روز سے بند کیا گیا ہے، داخلی و خارجی راستے بند ہیں، پی ٹی آئی ابھی تک اسلام آباد نہیں پہنچی، جو کارکنان پہنچے وہ گرفتار کر لئے گئے،پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • 24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    چوبیس نومبر کو لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے کسی بڑے احتجاج یا "ڈو آر ڈائی” مظاہرے کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ شہر کے اندر نہ کوئی قافلہ نکلا اور نہ ہی کسی مقام پر کوئی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے قائدین، ماضی کی طرح اس بار بھی کارکنوں کو بلانے کے بعد خود منظر سے غائب رہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے۔سلمان اکرم راجہ ٹویٹس کرتے رہے لیکن کسی مظاہرے کی قیادت کرتے نظر نہ آئے، عالیہ حمزہ چند افراد کولے کر نکلی ہیں، شاہدرہ میں علی اعجاز بٹر اور یاسر گیلانی کارکنوں کے ہمراہ نکل آئے،چیئرمین یو سی اعظم ورک سمیت 6 کارکنان گرفتار کر لئے گئے، پولیس ملحقہ گلیوں تک کارکنان کا پیچھا کرتی رہی، ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے انفارمیشن سیکرٹری حافظ ذیشان کو لاہور کے چوبرجی چوک سے گرفتار کر لیا گیا

    23 نومبر کی شام کو پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد جانا ممکن نہیں، اس لیے لاہور میں بتی چوک پر احتجاج کیا جائے گا۔ تاہم، احتجاج کے لیے بتی چوک پہنچنے والوں کی تعداد نہایت کم رہی۔ صرف پانچ خواتین "ڈو آر ڈائی” مظاہرے کے لیے وہاں موجود تھیں، جنہیں پولیس نے گرفتار کر کے قیدیوں کی وین میں بٹھا دیا۔ اس کے علاوہ، تین نوجوان جو قریب ہی بیٹھے تھے، انہیں بھی احتجاجی قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔جین مندر کے قریب کچھ حامیوں نے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے ریلی نکالنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے لاٹھی چارج کر کے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ مظاہرین جلد منتشر ہو گئے اور پولیس نے کچھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ یوں لاہور میں پی ٹی آئی کا "ڈو آر ڈائی” احتجاج کسی بڑی کارروائی کے بغیر ختم ہو گیا۔

    بشریٰ بی بی اور علیمہ باجی دونوں نے بانی پی ٹی آئی کو بھی فارغ کر دیا، مریم اورنگزیب
    پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ”الجہاد” فساد اور فتنہ کی نذر ہو گیا ، نہ انقلاب آیا نہ خان چھُوٹا لیکن ایک بات ثابت ہو گئی کہ عوام نے فتنہ اور فساد چھوڑ دیا ہے،مریم اورنگزیب کی جانب سے پنجاب اور لاہور کے عوام کا شکریہ ادا کیا گیا اور کہا گیا کہ کہ فرنچائیز پی ٹی آئی کا آج دیوالیہ ہو گیا، عوام نے مسترد کر دیا ، پنجاب کی عوام پاکستان اور پنجاب کی ترقی کے ساتھ ہیں ،بشریٰ بی بی اور علیمہ باجی دونوں غائب جلد علی امین گنڈا پور کی بھی غائب ہونے کی خبر آئے گی، بشریٰ بی بی اور علیمہ باجی دونوں نے بانی پی ٹی آئی کو بھی فارغ کر دیا، فتنہ جیل میں بند ہے پہلے ملک لوٹنے پہ لگا ہوا تھا اب فساد پھیلانے پہ لگا ہوا ہے، ہمیشہ ملک بند کرنے کی بات کی اور ہمیشہ ملک بند کیا ، کہاتھا گھر کا معاملہ گھر میں ہی طے کرلیں، آدھا انقلاب انقلاب سے پہلے گرفتار اور آدھا انقلاب سے پہلے بھاگ گیا ۔

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل ترجیح ہے،حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں کمی آئی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،انتہا پسندی کیخلاف متحدہونا ہوگا،شرپسند عناصر کو ملک کی ترقی ہضم نہیں ہورہی،علی امین گنڈاپور اسلام آباد پر چڑھا ئی کرنا چاہتے ہیں،علی امین گنڈاپور احتجا ج کے بجائے صوبے پر توجہ دیں،پی ٹی آئی رہنما رضاکارانہ گرفتاریاں دے رہے ہیں،عوام نے پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست کو مسترد کردیا ،علی امین گنڈاپور کو صوبے کے عوام کا احساس نہیں،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہدایات دیتی ہیں،بشریٰ بی بی غیرسیاسی نہیں،دوسروں کو طعنے دینے والے خود موروثی سیاست کررہے ہیں،بشریٰ بی بی نے دوست ملک کے خلاف زہرآلود بیان دیا،دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،پی ٹی آئی کی سیاست تضادات کا مجموعہ ہے،خیبرپختونخو ا حکومت کے پاس اپنی کارکردگی بتانے کیلئے کچھ نہیں،بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردوں کوواپس لایا گیاسکیورٹی فورسز ملک میں امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں،خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کیخلاف کیااقدامات کیے؟

  • احتجاج،مزدور طبقے کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،رانا جبران

    احتجاج،مزدور طبقے کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،رانا جبران

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رانا جبران نے احتجاجی مظاہروں کے دوران ڈیلی ویجز والے مزدوروں کو درپیش مشکلات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    رانا جبران نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سڑکوں کی بندش اور ٹریفک جام کی وجہ سے ڈیلی ویجز پر جانے والے مزدوروں کا معاشی استحصال ہو رہا ہے۔ مزدوروں کو اپنی روزانہ کی کمائی کے لیے کام والی جگہ تک پہنچنا ہوتا ہے لیکن سڑکوں کی بندش کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنی روزانہ کی اجرت سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ ان کے خاندان بھی شدید مالی پریشانیوں کا شکار ہو گئے ہیں۔انہوں نے حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ایسی حکمت عملی تیار کریں جو احتجاجی مظاہروں کے دوران روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ رانا جبران نے مزید کہا کہ ملی لیبر فیڈریشن ہر سطح پر مزدوروں کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور مظاہرین اپنی حکمت عملی میں مزدور طبقے کے مفادات کو مقدم رکھیں اور یقینی بنائیں کہ احتجاج کے دوران بھی سڑکوں کی روانی برقرار رکھی جائے تاکہ کسی محنت کش کا روزگار متاثر نہ ہو۔

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • وزیر داخلہ کا موٹروے کا فضائی جائزہ،سختی سے نمٹا جائے گا، محسن نقوی

    وزیر داخلہ کا موٹروے کا فضائی جائزہ،سختی سے نمٹا جائے گا، محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ صورتحال اطمینان بخش ہے، شر پسندوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا،

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کا فضائی دورہ کیا اور تینوں شہروں کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی انتظامات کا فضائی جائزہ لیا۔ انہوں نے صوابی، پتھر گڑھ، موٹر وے پر بھی مجموعی صورتحال کا فضائی مشاہدہ کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر اظہار اطمینان کیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق امن عامہ یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں، پولیس، ایف سی اور رینجرز کے افسر اور جوان مستعدی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں، شر پسندوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی کاکہنا تھا کہ شر پسندوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ کسی کو دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،پورے پاکستان میں سکون ھے تکلیف صرف گنڈا پور کو ہے،پنجاب میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا، موبائل فون چل رہے ہیں، موبائل پر صرف انٹرنیٹ کو بند کیا گیا ہے۔ کوئی بھی احتجاج کے لیے اسلام آباد آئے گا تو اسے گرفتار کیا جائے گا۔عوام کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔غیر ملکی وفد کچھ دیر میں اسلام آباد آرہا ہے۔حکومت کسی صورت دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں،ہم نے اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھناہے،علی امین گنڈاپوراحتجاج کی بجائے صوبے میں قیام امن پرتوجہ دیں،خیبرپختونخواحکومت اسلام آبادپردھاوابولنے کی بجائےصوبے کے عوام کے مسائل حل کرے،احتجاج کی کالوں سے ملک کانقصان ہوتاہے،اسلام آبادسے شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے،

    اسلام آباد۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی پولیس، ایف سی اور رینجرز جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈی چوک ک پہنچ گئے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو جانفشانی سے ڈیوٹی کی ادائیگی پر شاباش دی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ،وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی تعریف کی،وزیرداخلہ محسن نقوی نے فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ آپ کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد پولیس ۔ایف سی اور رینجرز جوانوں کا مورال بہت بلند ہے۔اسلام آباد پولیس ۔ ایف سی اور رینجرز اہلکار ہمہ وقت الرٹ ہیں۔فرائض سرانجام دینے والے تمام اہلکاروں کو شاباش دیتا ہوں۔ قانون کی عملداری یقینی بنانے پر آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔آپ فرض شناسی سے قومی فریضہ نبھا رہے ہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔وفاقی سیکرٹری داخلہ۔ چیف کمشنر اسلام آباد۔آئی جی اسلام آبادپولیس۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی ہمراہ تھے

  • تحریک انصاف کے احتجاج سے زیادہ لوگ  لنڈے بازار میں ہیں: عظمیٰ بخاری

    تحریک انصاف کے احتجاج سے زیادہ لوگ لنڈے بازار میں ہیں: عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال، لاہوری نہ نکلے، بازار کھلے، اندرون شہر ٹرانسپورٹ چلتی رہی، اتوار کا دن شہریوں نے معمول کے مطابق زندگی گزاری

    عمران خان کی رہائی کے لئے لاہوری نہ نکلے، پی ٹی آئی قیادت بھی غائب رہی، حماد اظہر نظر نہ آئے تو وہیں سلمان اکرم راجہ بھی ٹویٹر پر پوسٹ کرتے رہے، چند علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنان نکلے تو انکو پولیس نے بھگا دیا یا گرفتار کر لیا، لاہور میں حالات زندگی معمول پر ہیں، کہیں بھی احتجاج نظر نہیں آیا،

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےلاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا،وزیراطلاعات نے لکشمی چوک،شملہ پہاڑی،حاجی کیمپ اور ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا، لاری اڈہ،مینار پاکستان اور آزادی فلائی آور کا وزٹ کیا، اندرون شہر ،مال روڈ ،جی پی او چوک ،چیئرنگ کراس چوک کے دورے کیے، لاہور میں ٹریفک کی روانگی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا،عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام نے فتنے اور فتنہ پارٹی کو ریجکٹ کردیا ہے،لاہور میں تمام شاہراہیں کھلی ہیں ،معمولات زندگی رواں دواں ہے،لاہور میں بیشتر جگہوں پر مارکیٹیں بھی کھلی ہیں،مجھے لاہور میں تحریک انصاف کا ایک بھی انقلابی نظر نہیں آیا،تحریک انصاف کی لاہور کی قیادت بھی غائب ہے،پنجاب میں بھی تحریک انصاف کے لوگوں کے نکلنے کی کوئی خیر خبر نہیں آئی

    دوسری جانب لاہور کے داخلی و خارجی راستے بند ہیں، کینیٹینر لگے ہوئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے،

  • خدارا پاکستان کو سیاست پر فوقیت دیں، اسحاق ڈار

    خدارا پاکستان کو سیاست پر فوقیت دیں، اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سیاسی احتجاج یا ملک کی عزت اور وقار کے ساتھ سوچی سمجھی سازش کی جا رہی ہے

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف احتجاج کی کال ایسے وقت پر دیتی ہیں جب اہم بین الاقوامی شخصیات پاکستان آ رہی ہوں، 14 اکتوبر کو چینی وزیرِ اعظم کا دورہ ہو، 15 – 16 اکتوبر کو SCO Summit کے لئے سربراہانِ مملکت کی آمد ہو،کل شروع ہونے والا بیلاروس کے صدر کا دورہ جس کے لئے ان کے وزراء اور اہم کاروباری شخصیات کی اسلام آباد آج آمد ہے،خدارا پاکستان کو سیاست پر فوقیت دیں،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی آج اسلام آباد احتجاج کر رہی ہے، ملک بھر سے قافلے روانہ ہو چکے ہیں،اسلام آباد سیل، راستے بند، مختلف شہروں سے قافلے چل پڑے، علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی بھی قافلے کے ہمراہ، پنجاب میں رکاوٹیں، متعدد گرفتار کر لئے گئے.تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کردیا ہے جب کہ تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔