Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو ڈی چوک پر دھرنا ہو گا، ہم ریاستی قوانین پر عمل کریں گے،

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیر افضل مروت سے سوال کیا اور کہا کہ مروت صاحب اچھا لگے یا برا لگے، آپ لوگ ایس ایچ او وغیرہ سے نہیں ڈرتے ہوں گے، ہم تو واپڈا کا لائن مین آ جائے تو اس کی بھی منت سماجت شروع کر دیتے ہیں،جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میرا خیال یہ ہے کہ آٹھ فروری کو ان حالات میں ووٹ ڈالنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے پنجاب کی سیاست کو دیکھیں 1947 سے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست رہی،پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ دیا، مبشر لقمان نے کہا کہ اب 24 کو کیا ہو گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم دھرنے پر پہنچ گئے اور دھرنا جما لیا تو توقع کریں گے کہ حکمران کن کن غلطیوں کا ارتکاب کریں گے، آنسو گیس ، لاٹھی چارج کریں گے، رینجرز یا فوج کو درمیان میں ڈالا، یہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس بار کتنے سرکاری ملازم ہوں گے، پچھلی بار ریسکیو والے بھی تھے، انکی ضمانتین بھی نہیں ہوئی جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ضمانتیں ہو گئی ہیں اور گاڑیاں بھی لے لی ہیں، سرکاری ملازمین پولیس والے پروٹوکول ہیں، یہ اسکے گارڈ ہیں، جو ساتھ ہوتے ہیں،یہ ہزاروں میں نہیں ہوتے چالیس پچاس ہوتے ہیں، 22 پولیس والے گرفتار ہوئے تھے، 1122 ایمرجنسی ایڈ کے لئے ہے تا کہ اگر کوئی واقعہ ہو تو وہ ساتھ ہوں اور ریسکیو کے کام کریں،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ 24 تاریخ کو کیا کرنا ہے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ڈی چوک پر بٹھا دیں، ہم نے اتنے لوگوں کو نکالنا ہے کہ دنیا کی توجہ حاصل کرنی ہے، ہمارے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، مبشر لقمان نے کہا کہ علی امین کہتا ہے کہ اڈیالہ کی دیواریں توڑ کر عمران کو نکال لوں گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں کریں گے ریاست کےقوانین پر عمل کریں گے، مبشر لقمان نے کہا کہ پھر آپ ڈی چوک میں دھرنا نہیں دے سکتے، شیر افضل مروت نے کہا کہ کس نے کہا ، احتجاج کا ہمیں حق ہے، ہم کر سکتے ہیں،مویشی منڈی میں ہمیں جگہ دینا ان کی بدمعاشی ہے،احتجاج سے محروم کرنا خلاف قانون ہے، ماضی میں کچھ ایسا ہوا تب بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا، ہم پہلے بھی ڈی چوک گئے، مظاہرے بھی کئے اور ہم پر مقدمے بھی ہوئے،

  • لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج،موٹروے بند،پروازیں متاثر

    لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج،موٹروے بند،پروازیں متاثر

    پاکستان میں سموگ اور دھند کا راج برقرار ہے،صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سموگ اور دھند کا راج برقرار ہے جبکہ آلودہ ترین شہروں میں لاہور آج بھی دنیا بھر کے شہروں میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔موٹروے سموگ کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے تو وہیں لاہور میں پروازوں کا عمل بھی متاثر ہوا ہے

    لاہور میں سموگ کی اوسط شرح 790 ریکارڈ کی گئی، ڈی ایچ اے کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1324 تک جا پہنچا، سید مراتب علی روڈ کے علاقے کا اے کیو آئی 1210 جبکہ غازی روڈ انٹرچینج کا ایئر کوالٹی انڈیکس 850 ریکارڈ کیا گیا، پاکستان میں سب سے آلودہ شہر رحیم یار خان رہا جہاں 822 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے، اسی طرح لودھراں میں 722 جبکہ فیصل آباد میں 605 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے۔

    سموگ اور دھند کے باعث موٹروے کو بھی مختلف مقامات سے بند کردیا گیا جس کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،موٹروے ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹروے کو مسافروں کی حفاظت کیلئے بند کیا گیا ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دوران سفر فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھند اور سموگ کے باعث حد نگاہ 200 میٹر پر پہنچ گئی ہےحد نگاہ کم ہونے کے باعث لاہور آنے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہو رہا ہے،کراچی سے لاہور آنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز 401 حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے لینڈ نہ ہو سکی، لاہور کی حدود میں 10 منٹ سے زائد چکر لگانے کے بعد پرواز کا رخ واپس موڑ دیا گیا، جدہ سے لاہور آنے والی غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز 738 رات 12 بجے کی بجائے تقریباً 10 گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچے گی،نجی ایئرلائن کی جدہ سے لاہور آنے والی پرواز 822 شام ساڑھے 7 جبکہ نجی ایئرلائن کی دبئی سے لاہور آنے والی پرواز 417 شام 6 بجے تک تاخیر کا شکار ہے،اسی طرح غیر ملکی ایئرلائن کی جدہ سے لاہور آنے والی پرواز 734 ساڑھے 10 کے بجائے ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچے گی جبکہ نجی ایئرلائن کی شارجہ سے لاہور آنے والی پرواز 501منسوخ کر دی گئی ہے

  • نیوزی لینڈ،سکھ فار جسٹس کو ٌخالصتان ریفرنڈم کی اجازت

    نیوزی لینڈ،سکھ فار جسٹس کو ٌخالصتان ریفرنڈم کی اجازت

    نیوزی لینڈ نے بھارت کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے سکھ فار جسٹس کو خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی اجازت دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، نیوزی لینڈ کی حکومت کی اجازت سے کل آکلینڈ میں خالصتان کے قیام پر ریفرنڈم ہوگا۔ اس سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، اور آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں بھی ایسے ریفرنڈم منعقد ہو چکے ہیں۔ آکلینڈ میں اتوار کے روز ہونے والے اس ریفرنڈم کے لیے مقامی حکومت اور پولیس نے سکھ کمیونٹی کو تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ریفرنڈم آکلینڈ کے مرکزی علاقے اوٹی اسکوائر میں منعقد ہوگا، جہاں تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    مبصرین کا خیال ہے کہ اس ریفرنڈم کے باعث بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی وزیر خارجہ نے اس معاملے پر نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو کی تصدیق کی ہے۔

  • وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی، مولانا طارق جمیل نے فتوی غلط قرار دے دیا

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے کو غلط قرار دیا، مبشر لقمان نے مولانا طارق جمیل سے سوال کیا کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے کیونکہ یہ برائی کی طرف لے جاتا ہے، کل کو موٹر سائیکل پر بھی پابندی لگا دیجیے گا کہ ایک شخص ہسپتال تو دوسرا فحش اڈے پر جاتا ہے اس لیے اس کو بھی حرام کر دو، کب تک ایسے فتوے آتے رہیں گے

    مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مجھے تو نہیں پتہ کہ کونسی شرعی کونسل نے فتویٰ دیا، پھر تو موبائل بھی حرام ہےکیونکہ اس میں بھی بہت سی چیزیں ہیں، یہ تنگ ذہنی ہے، فتویٰ درست نہیں ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے ہاتھ میں موبائل ہے یا پرنٹنگ پریس ہے میں اس میں غلط کاغذات بھی پرنٹ کر سکتا ہے، آج میں نے تلخ سوال کرنا ہے سب سے بڑا گناہ جو مجھے اپنی عقل کے مطابق سمجھ آتا ہے وہ ہے سود جو، اللہ سے اعلان جنگ ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ نہیں بتایا کہ سود سے پاک نظام کیسے بنانا اور چلانا ہے،اس پر مولانا طارق جمیل مسکرا دیئے اور کہا کہ میں نے تو فتویٰ نہیں دیا، مجھے نہیں پتہ کہ کس شرعی کونسل نے فتویٰ دیا، اللہ ہی جانتا ہے میں نے اپنی رائے بتا دی ہے، انکے پاس کوئی دلیل ہو گی،

    واضح رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی  کابینہ میں ردوبدل کر دی

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کر دی

    وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ نے کئی وزرا سے اضافی قلمدان واپس لے لیے جبکہ معاونین خصوصی کو بھی مختلف محکموں کے قلمدان تفویض کردیے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن سے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان واپس لے کر ان کی جگہ مکیش کمار چاؤلہ کو محکمے کا نیا وزیر مقرر کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کچی آبادی سید نجمی عالم سے محکمہ لائیو اسٹاک اور فشریز کا قلمدان واپس لیکر صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کو محکمہ فشریز اور لائیو اسٹاک کا قلمدان دیا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ سندھ کے 10 معاونین خصوصی کو بھی مختلف محکموں کے قلمدان تفویض کیے گئے ہیں جن میں معاون خصوصی سلیم بلوچ کو پبلک ہیلتھ، جبار خان کو خوراک اور لال چند اوکرانی کو اقلیتی امور کا قلمدان دیا گیا، عثمان ہنگورو کو محکمہ پرائس کنٹرول اور قاسم شاہ کو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا قلمدان دیا گیا ہے، معاون خصوصی وقار مہدی کو وزیراعلی سندھ کی انسپیکشن و انکوائری ٹیم کا قلمدان سپرد کیا گیا ہے ،دوست علی راہموں سے وزیر کا عہدہ لے کر وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا ہے،صوبائی وزیر زراعت محمد بخش مہر سے بیورو آف سپلائی کا شعبہ اور صوبائی وزیر محمد علی ملکانی سے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز کا قلمدان واپس لیا گیا ہے،صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی سے بھی پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کا قلمدان واپس لیا گیا ہے،بابل خان بھیو کو ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ سندھ کا مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔

  • اے این پی رہنما الیاس بلور وفات پا گئے

    اے این پی رہنما الیاس بلور وفات پا گئے

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر الیاس احمد بلوروفات پا گئے

    الیاس بلور کے بھائی اور سینئر رہنما اے این پی غلام بلور کے مطابق مرحوم الیاس احمد بلور کئی ماہ سے پشاور کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے اور گردوں کے مرض میں مبتلا تھے، آج ان کی وفات ہوئی ہے،الیاس بلور کی عمر 84 برس تھی،

    الیاس بلور 2012 میں اے این پی کے سنیٹر بنے تھے، مرحوم سیاست کے آغاز سے ہی اے این پی سے وابستہ تھے، الیاس بلور کے بیٹے غضنفر بلور نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد الیاس بلور نے اپنی سیاسی سرگرمیاں ختم کردی تھیں، الیاس بلور کی نماز جنازہ کل دوپہر 2 بجے وزیر باغ میں ادا کی جائے گی،مرحوم الیاس بلور اے این پی رہنما غلام احمد بلور اور شہید بشیر احمد بلور کے بھائی تھے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق سینیٹر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما الیاس احمد بلور کے اِنتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے،صدر مملکت نے مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت، اِظہار ہمدردی کیا ہے،صدر مملکت نے الیاس احمد بلور مرحوم کیلئے دعائے مغفرت، ورثاء کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • پاکستان کے ساتھ مذاکرات، آئی ایم ایف کا اعلامیہ جاری

    پاکستان کے ساتھ مذاکرات، آئی ایم ایف کا اعلامیہ جاری

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے 12 تا 15 نومبر تک مشن چیف نیتھن پورٹر کی سربراہی میں مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں وفاقی حکومت کے علاوہ صوبائی حکومتوں سے بھی بات چیت ہوئی،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں نجی شعبہ کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال ہوا،آئی ایم ایف کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معاشی امور پر پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت مثبت رہی۔

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات بارے جاری ہونے والا اعلامیہ خوش آئند ہے، آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور مذاکرات کئے تھے

  • پنجاب میں "اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم، 3 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول

    پنجاب میں "اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم، 3 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول

    اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین، ڈاکٹر امجد ثاقب نے وزیرِ ہاؤسنگ پنجاب، بلال یاسین سے ملاقات کی، جس میں پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز کی "اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔

    بلال یاسین نے بتایا کہ اب تک 3 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، اور توقع ہے کہ دسمبر تک یہ تعداد دگنی ہو جائے گی۔ وزیرِ ہاؤسنگ پنجاب نے اس بات کی تصدیق کی کہ "اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کے تحت 800 گھروں کی تعمیر کے لیے 64 کروڑ روپے کی پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے۔اس اسکیم کے تحت قرضے 100 فیصد میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ ہاؤسنگ بلال یاسین نے کہا کہ اسکیم کے تحت دیا جانے والا قرضہ بلا سوس ہو گا اور اس کی اقساط مناسب ماہانہ مقدار میں ادا کی جا سکیں گی۔

    بلال یاسین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری فرد کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ یہ قرضے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ وزیرِ ہاؤسنگ نے مزید کہا کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خواہش ہے کہ اس اسکیم کا دائرہ کار بڑھایا جائے تاکہ مزید مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    اس موقع پر، ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوات فاؤنڈیشن کے جاری منصوبوں اور ان کے تحت مستحق افراد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔ ڈاکٹر ثاقب نے یہ بھی واضح کیا کہ اس پروگرام کے تحت قرضے صرف ضرورت مند افراد کو دیے جائیں گے۔

  • ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    پاکستان کی فوج کے سینئر ذرائع نے گارڈین کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب عمران خان نے کہا کہ وہ جیل سے فوجی قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عمران خان، جو اس وقت پاکستان کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گارڈین نے ان کی قانونی ٹیم کے ذریعے سوالات ارسال کیے تھے۔جس کے عمران خان نے جواب دیئے، عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری اور اگست 2022 میں جیل جانے کے بعد سے فوج کے ساتھ کوئی ذاتی بات چیت نہیں کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے طاقتور فوجی ادارے کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کرنے سے انکار نہیں کرتے، حالانکہ ماضی میں انہوں نے فوج کو اپنی حکومت گرانے اور قید میں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    عمران خان نے گارڈین کو بتایا، "فوج کے ساتھ کسی ڈیل کا معاملہ اصولوں پر مبنی ہوگا اور عوام کے مفاد میں ہوگا، نہ کہ ذاتی فائدے یا ان سمجھوتوں پر جو پاکستان کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ "اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر جیل میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔”

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان، 2018 میں فوج کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے، کیونکہ پاکستانی سیاست میں فوج ہمیشہ سے ایک طاقتور کھلاڑی سمجھی جاتی ہے ،عمران خان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات 2022 میں ٹوٹ گئے تھے، جس کے بعد وہ اقتدار سے ہٹ گئے تھے اور پھر فوج پر اپنی حکومت کے خاتمے اور گرفتاری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ا

    عمران خان اس وقت درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں وہ فوج اور سیاسی حریفوں کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ جون میں اقوام متحدہ کی ورکنگ گروپ برائے غیرقانونی حراست نے کہا تھا کہ خان کی حراست غیرقانونی ہے۔

    تاہم، جیل میں اپنے وقت کے دوران عمران خان کا فوجی قیادت کے لئےلہجہ نرم پڑا ہے۔ جولائی میں عمران خان نے فوج کے ساتھ "مشروط” بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "صاف اور شفاف” انتخابات کرانے پر رضا مند ہوں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2023 کے فروری کے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے ان میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، اور یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عوامی ووٹ سے انتخابات جیتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں میں عمران خان نے فوج کے ساتھ بات چیت کے لیے اور اپنی رہائی کے لیے "غیر مشروط” مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا اور فوج کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    ایک فوجی ذرائع نے کہا، ” عمران خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، وہ فوج سے کسی قسم کی ڈیل کی توقع نہیں کر سکتے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ سب لوگ قانون کے تحت عمل کریں، لیکن وہ خود اس قانون کا اطلاق اپنے لیے نہیں چاہتے۔”

    موجودہ حکومت، جو کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت ہے، کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی توسیع اور سپریم کورٹ کے حوالے سے بعض آئینی ترامیم کی ہیں، جسے پی ٹی آئی نے فوج کے ایجنڈے کی تکمیل اور خان کی رہائی کی راہ روکنے کے لیے قرار دیا ہے۔

    اس دوران عمران خان نے حکومت کے اقدامات اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی ایک "آخری کال” دی ہے۔ پی ٹی آئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ایک مسلسل کریک ڈاؤن کا سامنا ہے اور پارٹی کی بیشتر قیادت جیل یا جلاوطن ہو چکی ہے۔حکومت ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ عمران خان کو کسی فوجی عدالت میں لے جایا جائے گا یا نہیں، جہاں ان پر رشوت ستانی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ عمران خان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سابق وزیر اعظم کو فوجی عدالت میں پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔

    عمران خان نے کہا، "کسی بھی سول فرد کو فوجی عدالت میں کیوں پیش کیا جائے، خاص طور پر ایک سابق وزیر اعظم کو؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔ فوجی عدالت میں کسی شہری کو مقدمہ چلانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ کوئی اور عدالت مجھے سزا نہیں دے سکتی۔”

    عمران خان کی جیل کی حالت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو انفرادی حراست میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے،تاہم عمران خان نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کوئی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے اور کہا کہ انہیں ان حالات میں رکھا جا رہا ہے جو انہیں ذہنی طور پر توڑنے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ 15 دن تک، میری کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی سیل میں بجلی نہیں تھی اور بغیر رسائی کے 24 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • پاور کمپنیوں کیخلاف انکوائری،نامور کاروباری شخص کو ایئر پورٹ پر روک لیا گیا

    پاور کمپنیوں کیخلاف انکوائری،نامور کاروباری شخص کو ایئر پورٹ پر روک لیا گیا

    پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت،Sapphire لمیٹڈ کے مالک شاہد عبداللہ کو لاہور ایئرپورٹ پر بیرون ملک روانگی سے روک لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، ایف آئی اے پاور کمپنیوں کے معاملات پر انکوائری کر رہی ہے اور شاہد عبداللہ کا نام اس فہرست میں شامل ہے۔اس لئے شاہد عبداللہ کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا ہے،شاہد عبداللہ کا نام ایف آئی اے کی اسٹاپ لسٹ میں شامل تھا، شاہد عبداللہ نے اپنے کاروباری معاملات کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور انکوائری میں تمام تفصیلات پیش کریں گے۔

    10 ارب کی تحقیقات،شاہد عبداللہ کا نام ای سی ایل میں،آئی پی پی مالکان پھنس گئے
    پاکستان کے سب سے بڑے آئی پی پی (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر) کے مالک، شاہد عبداللہ، جو سیفر پاور کے سی ای او بھی ہیں، کو حکام نے ایئرپورٹ پر روکا جب وہ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ شاہد عبداللہ کا نام ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں شامل تھا، اور انہیں بیرون ملک جانے سے روک لیا گیا۔سیفر پاور، سیفر الیکٹرک اور ٹریکن بوسٹن 1، 2، 3 جیسے بڑے پاور پلانٹس کی ملکیت شاہد عبداللہ اور ان کے بھائی ندیم عبداللہ کے پاس ہے۔ شاہد عبداللہ کو ایئرپورٹ پر روکے جانے کے بعد کچھ دیر تک حراست میں رکھا گیا، لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ذرائع کے مطابق، شاہد عبداللہ کو اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ایک طویل رات بھر تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا، جس دوران ان سے ان کے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سالوں تک بغیر کسی پیداواری کام کے اربوں روپے کے منافع کمانے کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ یہ معاملہ تقریباً 10 ارب روپے کا تھا۔

    ایک دوست نے شاہد عبداللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "میں نے ان سے کہا ہے کہ میرے آئی پی پی پلانٹس لے لیں، خرید لیں یا قبضہ کر لیں۔”دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تفتیش کے دوران جب شاہد عبداللہ کو سوالات کا سامنا تھا، انہیں یہ خبر ملی کہ وہ دادا بن گئے ہیں۔

    سیفر گروپ کو پاکستان کی پانچ سب سے امیر ترین خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور ان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نمایاں حیثیت ہے۔ دس پندرہ سال قبل تک، سیفر گروپ کو پاکستان میں میاں منشا کے بعد سب سے بڑا کاروباری گروپ سمجھا جاتا تھا۔اس وقت پاکستان کے آئی پی پی مالکان کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ کچھ مالکان اپنے معاہدے دوبارہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں گے، کچھ اپنا کاروبار بند کر دیں گے، جبکہ دیگر نیب کی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    پاکستان میں اب ایک نئے مرحلے کا آغاز ہونے والا ہے، جس میں ٹیکس چوروں اور ٹیکس سے بچنے والوں کے خلاف کارروائیاں ہوں گی۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ کیا اس معاملے میں ایس آئی ایف سی کا دائرہ اختیار لامحدود ہے یا نہیں۔

    پاکستان کی کاروباری برادری میں شاہد عبداللہ کا شمار ایک معتبر شخصیت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان کی کمپنی Sapphire Fibers Limited کئی سالوں سے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن ایف آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات اور اس کے نتیجے میں ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ملک میں کاروباری معاملات میں شفافیت کو مزید اہمیت دی جا رہی ہے۔یہ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں بڑے کاروباری افراد اور کمپنیوں کے خلاف انکوائریاں اب معمول کی بات بنتی جا رہی ہیں، خاص طور پر جب وہ توانائی کے شعبے یا پاور کمپنیاں جیسے حساس شعبوں سے متعلق ہوں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ انکوائریاں بغیر کسی دباؤ کے مکمل کی جائیں تاکہ انصاف کا عمل درست طور پر عمل میں لایا جا سکے۔ کاروباری افراد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے کاروباری معاملات میں مکمل طور پر شفاف رہیں تاکہ اس قسم کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔