Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    سپین کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تین روز پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے ، ان طوفانی بارشوں کی وجہ سے202 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتہ ہیں ۔

    سپین میں ان طوفانی بارشوں سےکئی علاقے زیرِ آب، سڑکیں، موٹروے، ریلوے کی پٹڑیاں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں،خصوصاً مشرقی شہر بالینسیا کے مضافاتی علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں،سپین کی افواج کی ایمرجنسی یونٹ اور دیگر امدادی اداروں کے ہزاروں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔سپین کے شہر والینسیا میں حالیہ مہلک طوفان کے نتیجے میں تقریباً 2,000 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ طوفان، جسے مقامی زبان میں "مونسترو طوفان” کا نام دیا گیا ہے، شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید نقصانات کا باعث بنا ہے۔جزیرہ بھر میں طوفان کی پیشگوئی کے پیش نظر لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔مقامی افراد اور سیاحوں کو اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ شہر طوفان کی شدت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ ہسپانیہ کی قومی موسمیاتی سروس نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسم کے نظام کی وجہ سے بڑے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    اب تک ہسپانیہ بھر میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔پالما میں شہر کی مرکزی سڑکوں کو ریڈ ٹیپ سے بند کیا گیا ہے، اور سڑکیں تقریباً سنسان نظر آ رہی ہیں۔ عوامی پارک، باغات اور قبرستان اتوار تک بند رہیں گے، جبکہ بے گھر افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالا جا رہا ہے۔پالما کے پہلے نائب میئر، خاویر بونٹ نے کہا کہ لوگوں کو صرف اسی صورت میں اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے جب یہ "بہت ضروری” ہو۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم ریڈ الرٹ پر نہیں ہیں، لیکن آبادی کو مزید خطرات سے بچانے کے لیے آگاہ کرنا ضروری ہے۔”

    پالما میں حکام نے شدید موسمی انتباہات جاری کیے ہیں جو آج صبح 10 بجے سے نافذ ہو چکے ہیں اور یہ پورے ہفتے کے آخر تک جاری رہیں گے۔ اس دوران کئی عوامی مقامات بند رہیں گے۔اسی دوران، والنسیا میں بچاؤ کی ٹیمیں پھنسے ہوئے گاڑیوں اور متاثرہ عمارتوں میں لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی رہائشی اپنی برباد شدہ گھروں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں، بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،منگل کے روز آنے والے خوفناک طوفانی سیلابوں نے کم از کم 205 جانیں لے لی ہیں، جن میں سے 155 ہلاکتیں مشرقی والنسیا کے علاقے میں ہوئی ہیں۔آج کوسٹا ڈی لا لوز کے تفریحی مقام آئسلا کریسٹینا میں ایک خوفناک پانی کی مہیب لہریں ساحل پر آئی ہیں۔ اس موسمی مظہر نے چھوٹی کشتیوں کو ہوا میں پھینک دیا اور درختوں کو اکھاڑ دیا۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے آج کہا کہ برطانیہ "ہسپانیہ کے ساتھ ہے”، انہوں نے اپنے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے رابطہ کرکے تعزیت پیش کی۔سر کیئر نے کہا: "میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ان کے خاندانوں کے ساتھ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ جو ہسپانیہ میں شدید سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ برطانیہ اس مشکل وقت میں ہسپانیہ کے ساتھ ہے۔”

    جمعہ کی رات آنے والے اس طوفان نے زوردار ہواؤں اور شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ شہر کی سڑکیں زیر آب آ گئیں، اور کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو طوفان کے دوران اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکلے تھے۔ریسکیو ٹیمیں اور امدادی ادارے تیزی سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی معلومات فراہم کریں تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد مل سکے۔ ریسکیو عملے نے بتایا کہ متعدد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، مگر نقصانات کی شدت کے باعث مزید مدد کی ضرورت ہے۔سپین کی حکومت نے طوفان کے بعد ایمرجنسی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے لئے ہنگامی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

  • لاہور میں اسموگ کا راج،گرین لاک ڈاؤن ہوا "بیکار”73 گرفتار

    لاہور میں اسموگ کا راج،گرین لاک ڈاؤن ہوا "بیکار”73 گرفتار

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گرین لاک ڈاؤن بھی اسموگ میں کمی نہ لا سکا
    لاہور شہر میں لگنے والے 11 علاقوں کے گرین لاک ڈاؤن بھی اسموگ میں کمی نہ لا سکے، شہر میں فضائی آلودگی کا گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے،ائیر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور شہر میں انڈیکس 1067 ہوگیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں حد نگاہ صفر ہو گئی ہے،ماہرین ماحولیات نے موجودہ فضا میں شہریوں کو باہر نکلنے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے، بزرگ اور بیمار افراد گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں,

    دوسری جانب اسموگ کی روک تھام کیلئےصوبے بھر میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں اور ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال ایس او پیزکی خلاف ورزی کرنے والے 1035افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور 1330 کے مقدمات درج ہو چکے ہیں،لاہور میں انسداد اسموگ کارروائیوں میں 73 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 184 مقدمات درج کیے گئے،زہریلادھواں چھوڑنے پر 6 لاکھ گاڑیوں کے چالان کیے گئے اور غیر معیاری فٹنس پر ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں بند کی گئیں، زہریلادھواں چھوڑنے پر 10ہزارگاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل اور کروڑوں روپےکے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

    خیال رہے کہ اسموگ اور فضائی آلودگی کے باعث لاہور کا فضائی معیار انتہائی مضر صحت ہے اور لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے۔

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: بھٹوں اور دھان کی فصلوں کی باقیات جلانے سے سموگ، شہری بیماریوں کا شکار

    سموگ فری پنجاب،دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، مریم اورنگزیب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

  • پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟ بلیو ورلڈ سٹی نے کم بولی کیوں لگائی؟چیئرمین بلیو ورلڈ سٹی سعد نذیر نے نجی ٹی وی 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کے جوابات دئے ہیں

    مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سعد نذیر کاکہنا تھا کہ ہم مختلف ایئر لائنزکے ساتھ رابطے میں تھے، ہم شیئرنگ کر سکتے ہیں، ایئر کرافٹ پروڈیوسر کے ساتھ بھی ہماری بات ہو رہی تھی،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا سب سے بڑا مسئلہ سات ہزار ملازمین کا ہے،سعد نذیر کا کہنا تھاکہ اس وقت پی آئی اے کا مسئلہ ریونیو نقصان کا تھا اضافی انکم شروع کر دیتے تو سرمایہ آ جاتا، اپنے ایئر کرافٹ یا لیزز پر، سرمایہ آنے سے وہ کھڑے ہو سکتے تھے,مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو سسٹم کو امپروو کرنا ہے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اگر ایئرلائن مجھے ملتی تو ہم آپ کوکنسلٹنٹ کے طور پر رکھتے، ہم جوائنٹ ویچر کے طور پر جو ہمیں ایئر کرافٹ آفر ہوتے ہم لیتے،آپریشنل فارمولے پر ہم سو جہاز کر سکتے ہیں، آہستہ آہستہ وہ شامل ہوجاتے، یہ کوئی مشکل کام نہیں،

    اسلام آباد ایئر پورٹ بھی ہمیں نہیں لینے دیا گیا،ہم عدالت جا رہے، سعد نذیر
    مبشر لقمان کا کہناتھا کہ آپ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ہیں،بلیو ایریا کی ایک بلڈنگ کی اتنی ویلیو نہیں جتنی آپ نے پی آئی اے کی لگائی، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیریس بڈ تھی،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ آپ کی ایوی ایشن میں کوئی تجربہ نہیں، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں پی آئی اے میں کام کرنے والے افراد ہیں اور موجود ہیں، نجکاری کمیشن کی شرط تھی کہ تین سال یا اٹھارہ ماہ کسی کو نہیں چھیڑنا، ہم نے انکو بھی سیلری دینی تھی،اسٹرکچر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے تو کہا حکومت یہ بھی ٹھیک کرے، حج اور عمرہ کے روٹس بہت چلتے ہیں، ہم اسلام آباد ایئر پورٹ لے رہے تھے، اس پر بھی ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، کہا گیا کہ پیپرا رولز کہتے ہیں کہ باقی بڈرز کو چانس دینا چاہئے لیکن وہاں ایک ہی بڈر آیا جو بڑا ہے اور آج کل ملک سے باہر گیا ہوا ہے، ہم اسکو چیلنج کر رہے ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ صدر پاکستان پر الزام لگا رہے ہین، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ صدرپاکستان پر نہیں لگا رہا الزام، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل اگر نجکاری ہوتی تو وہ بھی پیپرا رولز بائی پاس ہو رہے تھے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، اب کابینہ کمیٹی میں فیصلہ ہو گا، ہمیں ہماری قیمت کے ساتھ شاید قبول نہ کیا جائے، آدھے گھنٹے میں کنسلٹنٹ بیٹھے، وہاں بات چیت ہوئی ہم نے یقین دہانی کروائی کہ ہم حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی کو فارغ نہیں کریں گے،ایم کیو ایم کا سوال تھا کہ ہیڈ آفس کو کراچی ہی رکھیں گے یا اسلام آباد ، ہمارے ورکرز بہت سارے ہمارے ریفرنس سے ہائر ہوئے انکا خیال کرنا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم جیسی پارٹی پی آئی اے کے لئے نقصان کا باعث بن رہی ہے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ورکرز کے لئے بات کی تھی، بہت سارے ملازمین ہیں جنہوں نے جان دی ،انکے بچوں فیملی کا کیا بنا، اگر دیکھا جائے تو لوگوں کو بھی نکالا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہائرنگ کے وقت کیا جا سکتا ہے،ہمیں کہا گیا کہ بڈ تب قبول ہو گی جب ہماری قیمت مانیں گے، حکومت نے اپنی کیلکولیشن کی ہوئی تھی ،حیرانگی کی بات تھی کہ 85 ارب دس دن میں شو کروانا ہے، یہ نہیں ہو سکتا ، 85 ارب کس کے پاس ہے، بلیو ورلڈ ایک فرم ہے، پارٹنر شپ فرم ہے، دو پارٹنر ہیں اس میں،

    سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اب کابینہ فیصلہ کرے گی، ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خیر کا فیصلہ ہو، اگر مسترد کر دیں تو کوئی بات نہیں، ہمارے پاس کوئی ایسا پوائنٹ نہیں کہ ہم عدالت میں جائیں، ہاں ہم پبلک مہم ضرور کر سکتے ہیں ،

    سربراہ نجکاری کمیشن علیم خان پی آئی اے لینا چاہتے ہیں؟ سعد نذیر نے کیا دیا جواب
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سعد نذیر اور دوسری طرف علیم خان یا نجکاری کمیشن کا کوئی بندہ ہونا چاہیئے تھا تا کہ میں بتاتا کہ کیسے انہوں نے پاکستان کے ساتھ ظلم کر دیا،میں آن ایئر کہہ رہا ہوں کہ ایوی ایشن کا بزنس پلین سکیچی ہے، اس میں کافی کمزوریاں ہیں، آپ کو اللہ نے موقع دیا ہے کہ بزنس پلان پر کام کریں، جو آپ مجھے بتا رہے کہ اتنے جہاز لے لیں گے یا اور لوگوں کو لے آئیں گے، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ آپ کا ایوی ایشن کے ساتھ تعلق ہے،آپ جانتے ہیں،ہم معاملات کو ریویو کرتے، ماہرین کی رائے کو بھی ساتھ رکھتے، فنانسر ہم خود ہی ہیں، اگر اسکا جو اپنا ریونیو ہے جو کلیم کرتے ہیں وہ دو سو بلین کا ہے، اگر اتناریونیو ہے تو اس سے نیا بزنس سرکل کھڑا ہو سکتا ہے،اگر ہمیں موقع ملا تو ہم کچھ کر کے دکھائیں گے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو کام ایوی ایشن والے نہیں کر سکے وہ کام نجکاری کمیشن والے آپ سے ،گورمے والوں سے کروائیں گے، کیسے ہو گا یہ، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ چھ خریدار آئے جن میں سے 5 نے آمادگی کا اظہار نہیں کیا، اب ایک ہے تو کہتے کہ وہ ایکسپرٹ نہیں، آخری آپشن کوئی نہیں آئے گا تو ایئر لائن بند ہو جائے گی، ایک جو آیا اسکو تو دیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے جو بڈ کی وہ مذاق بن گئی ہے، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ میں ساری دنیا کو بتا رہا ہوں کہ ہمیں کنسلٹنٹ نے ایک ڈالر لگانے کا کہا، پھر دنیا ہمارا اور پی آئی اے کا مذاق اڑاتی، ہم نے نیشنل فلائٹ کیریئر کی عزت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رقم لگائی تا کہ وہاں نجکاری کمیشن والوں کے لئے سبکی کا باعث نہ بنے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے ایک پلازہ بیچ کر دس ارب کما لینا ہے، فائلیں ہی بیچنی ہیں جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس زمنیں بھی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی ایک پراپرٹی ٹائیکون کا ایک انٹرویو کیا تھا جس کے بعد چار ماہ آف ایئر ہو گیا تھا، سعد نذیر کہنا تھا کہ نجکاری کمیشن کا چیئرمین ایک ڈیولپر، پی آئی اے خریدنے والا ایک ڈیولپر ہے اور جو بیچنے والا ڈیولپر ہے اس کا ایک بیان گھوم رہا ہے کہ میں اسکو ہنڈرڈ بلین ڈالر کی خریدنا، شاید تین سو ارب ڈالر کی ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں زیرو بھی گن لیں، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اس طرح کی گفتگو سے کام خراب ہوا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسا تو نہیں کہ وہ علیم خان خود لینا چاہتے ہیں، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے،

    پی آئی اے نجکاری پر خیبر پختونخوا حکومت بھی اپنی مارکیٹنگ کرنے لگی ہے،سعد نذیر
    سعد نذیر نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے آفر پر کہا کہ شاید وہ بھی اپنی مارکیٹنگ کر رہے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ ویسے تو وہ رو رہے ہیں کہ وفاق ہمیں پیسے نہیں دیتا، سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ایک دو جہاز آپ کے پاس بھی ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ہیں، ایوی ایشن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو کرتا دھرتا ہیں انکو کمرشل ایوی ایشن کا کچھ نہیں پتہ، جس پر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کمرشل ایوی ایشن کے لوگ بھی ہیں،جو ایک آیا اس کے ساتھ ان پر بات کی جائے جو نہیں آئے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے ساتھ جو لوگ زیادتیاں کر رہے ہیں ان سب کا احتساب ہونا چاہئے

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • مجھے”امپورٹنٹ مال” کیوں کہا؟ خاتون بھڑک اٹھی،مقدمہ درج

    مجھے”امپورٹنٹ مال” کیوں کہا؟ خاتون بھڑک اٹھی،مقدمہ درج

    خاتون کو "امپورٹنٹ مال” کہنے پر خاتون بھڑک اٹھیں، مقدمہ درج کروا دیا

    ممبئی کی ممبادیوی سیٹ سے شیو سینا کی امیدوار شائنا این سی نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے،ارود ساونت نے شیو سینا کی امیدوار کے لیے "امپورٹنٹ مال” کا لفظ استعمال کیا تھا جس پر شائنا بھڑک اٹھیں اور بولیں "میں کوئی چیز نہیں، میں ایک عورت ہوں۔ ادھو ٹھاکرے خاموش ہیں، نانا پٹولے خاموش ہیں، لیکن ممبئی کی خواتین خاموش نہیں رہیں گی۔”

    ناگپاڑا پولیس اسٹیشن میں اندراج مقدمہ کے بعد شائنا کا کہنا تھا کہ "یہ ایف آئی آر سیکشن 79 اور سیکشن 356 (2) کے تحت درج کی گئی ہے۔ انہوں نے غلط الفاظ استعمال کیے ہیں۔ میں یہاں ایک کارکن کے طور پر کام کرنے آئی ہوں۔ اگر آپ میری عوامی خدمات یا سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن مجھے ‘امپورٹنٹ مال’ نہیں کہہ سکتے۔ قانون کو اپنا کام کرنے دیجئے، میں نے جو کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔” "ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مہاونا ش اگھاڑی خواتین کی عزت نہیں کرتی۔ آج لکشمی پوجن کا دن ہے، اور اروند ساونت کیا کہتے ہیں کہ آپ ‘امپورٹنٹ مال’ ہیں؟ مال کا مطلب ہے چیز۔ میں 20 سال سے عوامی زندگی میں ہوں، میں ایک عورت ہوں، لیکن گالی گلوچ کے خلاف قانون اپنا کام کرے گا۔”

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • ثالثی کونسل سے اجازت کے بغیر دوسری شادی پرسزا غیر شرعی ،علامہ راغب نعیمی

    ثالثی کونسل سے اجازت کے بغیر دوسری شادی پرسزا غیر شرعی ،علامہ راغب نعیمی

    عدالتی نظام اور نظام انصاف معتبر اور بااثر ہو نا چاہیے۔ نکاح ، طلاق ، خلع اور تنسیخ نکاح کے عدالتی فیصلے شریعت کے مطابق ہو نے چاہییں۔دوسرا نکاح ،ثالثی کونسل سے اجازت کے بغیر کئے جا نے پر ،سزا غیر شرعی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے شریعہ اکیڈمی کے زیر انتظام ججز کے تر بیتی کورس کے شرکاء سے کیا۔ زیر تر بیت ججز نے ڈاکٹر عطاء اللہ خلجی ، ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی کی سربراہی میں اسلامی نظر یاتی کونسل کا دورہ کیا۔ ڈاکٹرمحمد راغب حسین نعیمی نے مز ید کہا کہ کونسل ایک اجتہا دی ادارہ ہے جو قانون ساز اداروں کو قانون سازی کے مختلف مراحل میں سفارشات پیش کر تا ہے ۔ احوال شخصیہ کے اعتبار سے کونسل کی سفارشات پر مبنی قانون سازی تنسیخ نکاح، طلاق اور خلع جیسے معاملات پر عدالتی فیصلوں کو بمطابق شریعت بنا سکتی ہے ۔علامہ راغب نعیمی نے خصوصیت کےساتھ تین طلاقیں اکٹھی دینے پر تعزیری سزا کے نفاذ کا ذکر کر تے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں سے طلاق کی شرح یقینی طور پر کم ہو جائے گی ۔ ایسے ہی دوسرا نکاح ثالثی کونسل سے اجازت کے بغیر کئے جا نے پر سزا غیر شرعی ہے ۔ اس ملکی قانون کو شریعت کے مطابق تشکیل دیا جائے اور قرآنی حکم کے ما بین ازواج انصاف کیئےجانے کی تفصیلات متعین کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے عدالتی اصلاحات پراظہار کیا کہ عامتہ الناس کا یہ تاثر زائل ہونا چاہیے کہ تیز تر انصاف صرف سیاستدان اور امیرکو ہی ملتا ہے ۔ انصاف کی فراہمی تیزبنانی چاہیے ، نظام انصاف موثر اور معتبر بنا یا جائے ۔ اس ضمن میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں قابلیت اور کار کر دگی کو مد نظر رکھا جائے ۔ علامہ راغب نعیمی نے ججز کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کا منصب بہت حساس اور اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لیے آپ کا خوف خدا کو سامنے رکھ کراپنے فیصلوں میں میرٹ کا خیال رکھنا فرمان الہٰی کے مطابق اعلیٰ مقام کا تقٰوی ہے ۔

  • حکومت کی جیب میں کچھ نہیں ہوتا  جس کے بعد قرض لینا پڑتاہے،احسن اقبال

    حکومت کی جیب میں کچھ نہیں ہوتا جس کے بعد قرض لینا پڑتاہے،احسن اقبال

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت ہوا۔

    زرعی ترقیاتی بنک کی بلوچستان میں شاخیں نہ ہونے پر بلوچستان کے سینیٹرز نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوال کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔ڈپٹی چیئرمین نے سوال کمیٹی کو بھیج دیا ۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لیے کل 200 منصوبوں کے لیے 130ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ شاہراہوں کے حوالے سے شکایات پر وزارت مواصلات سے جواب لیا جائے ہم نے پیسے رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے منصوبوں کو تیزی کے ساتھ منظوری کرتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی حجم 4فیصد ہوگیا ہے ۔ ہمیں اپنے وسائل کو بڑھانا ہوگا ۔ وفاقی حکومت کے جیب میں 10ہزار ارب روپے آتے ہیں اور 10ہزار ارب روپے قرض میں چلاجاتا ہے اور حکومت کے جیب میں کچھ نہیں ہوتا ہے جس کے بعد قرض لینا پڑتا ہے ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10فیصد ہے جس کو 16فیصد تک لے کر جانا ہوگا جب پیسے نہیں ہوں گے تو منصوبے تاخیر کا شکار ہوں گے ۔ بلوچستان میں 10 ارب روپے پانی کی سکیم کے لیے دیئے مگر کوئٹہ میں کوئی چیز نہیں تھی اور 10ارب خرچ ہو گئے تھے ۔

    کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ تفریق کی جارہی ہے پنجاب کا منصوبہ مکمل ہوجاتا ہے مگر بلوچستان میں 29سال میں بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں ہوتا ہے ۔ ایمل ولی خان نے کہاکہ 18ویں ترمیم پر کتنا عمل ہوا ہے یہ بتایا جائے ۔ 18ویں ترمیم کے بعد پنجاب کے علاوہ دیگر صوبے رل رہے ہیں ۔وزیر احسن اقبال نے کہا کہ میں نے 18 ویں ترمیم پر تنقید نہیں کی میں نے صوبوں کی صلاحیت بہتر بنانے کا کہاہے ۔ صوبوں کے انتظامی صلاحیت کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ صوبوں نے ضلع کی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کئے ہیں اب اختیارات کا سارا مرکز صوبے بن گئے ہیں ۔ اختیارات کو ضلع کو منتقل کرنا ہوگا ۔

    وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہاکہ الیکٹرک ٹو اور تھری ویلیرز کے 51 لائسنس جاری کئے گئے ہیں ۔4پہیوں والی گاڑی کے لئے دو کمپنیوں نے لائسنس لیا ہے ۔ 30نومبر تک الیکٹرک پالیسی لارہے ہیں ۔ 40چارجنگ کی سائیٹ موٹروے پر منتخب کرلی ہیں ۔ چارجنگ سٹیشن کے لیے ٹرف بھی کم کردیا ہے ۔ 31کمپنیوں نے چار پہیوں کی گاڑی کے کیے لائسنس کے لیے درخواست دی ہے ۔

    سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمء آرڈینس 2024 ایوان میں پیش کردیا ۔آرڈینس کو متعلقہ کمیٹی میں بھیج دیا گیا-

    انڈسٹری کے لیے سستی بجلی دینی چاہیے ،شرح سود کم کیا جائے،سینیٹر ذیشان خانزادہ
    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں انڈسٹری کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔شرح سود بڑھانے سے مہنگائی کم ہوتی ہے اس لیے سود بڑھا دیا جاتا ہے. مہنگائی روپے کی قدر کم ہونے سے بڑتی ہے شرح سود بڑھانے سے مہنگائی کم نہیں ہوتی ہے ہم بہت زیادہ چیزیں درآمد کرتے ہیں۔ چین نے اپنے انڈسٹری کو 20سال فری بجلی دی جس سے انڈسٹری کھڑی ہوئی ہمارے پاس بھی کھپت ہے ہمیں بھی انڈسٹری کے لیے سستی بجلی دینی چاہیے ٹریف پالیسی ایکسپائر ہوگئی ہے مگر نئی پالیسی نہیں آئی ہے ۔ معاشی ایکٹیوٹی کو بڑھانے کے بعد غیر ملکی سرمایہ کار خود پاکستان آئیں گے ۔ شرح سود کو کم کیا جائے ۔ وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک نے کہاکہ شرح سود بڑھنے سے معاشی ایکٹیوٹی کم ہوتی ہے. شرح سود کا تعین سٹیٹ بینک کا کام ہے ۔ مہنگائی کم ہونے سے شرح سود بھی کم ہوگا ۔ مرحلہ وار شرح سود کم ہوگا۔ سٹیٹ بینک ہیر کو مانیٹرنگ پالیسی جاری کرئے ۔

    ڈپٹی چیئرمین نے ہندوں برادری کو دیوالی پر مبارک باد پیش کی ۔15 بلوں پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے میں 60دن کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ 4بلوں و رپورٹ پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کیں ۔ سینیٹر پلوشہ محمد زئی پر تحریک استحقاق پر رپورٹ اور بلوں میں فوجداری قوانین ترمیمی بل 2024, دستور ترمیمی بل 2021 (آرٹیکل 25ب) اور سروس ٹربیونلز ترمیمی بل 2024 پر رپورٹ پیش کردی ،

    گنڈا پور کو کہتا ہوں کہ کے پی میں بھی اقلیتیں ہیں ،دیوالی کا کیک کاٹ لیں ،سینیٹر دنیش کمار
    سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ باقی صوبوں میں بھی سرکاری سطح پر دیوالی کی تقریب منائی گئی ہے گنڈا پور کو کہتا ہوں کہ کے پی میں بھی اقلیتیں ہیں ۔دیوالی کا کیک کاٹ لیں پاکستان میں جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی ہے وہ آئیں اور دیکھیں وہ دیکھیں کہ اقلیتں اپنے مذہبی تہوار کا طرح مناتے ہیں قائدِ اعظم نے جیسا کہ کہا تھا کہ اقلیت اپنی مذہبی رسومات آزادانہ منا سکتے ہیں ۔کچھ پڑھ لکھے لوگ باتیں کرتے ہیں مجھے افسوس ہوتا ہے انڈیا اور پاکستان کا میچ ہوتا ہے میرا دوست کہتا ہے آپ تو انڈیا کی حمایت کریں گے میں کہتا ہوں یہ دیش پاکستان میری ماں ہے اور غیرت مند بیٹا ماں کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا میرے وطن کے لیے میرے جذبات ہے اگر کوئی میرے وطن پر میلی آنکھ سے دیکھے گا دنیش کمار آنکھیں نکال دے گا ۔

    سینیٹر طلال چوہدری نے کہاکہ علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد پر چڑھائی کے دوران گرفتار افراد کو وزیر اعلیٰ نے ضمانت کے بعد ہار پہنائے اس کی مذمت کرتا ہوں قاضی فائز عیسی ہر لندن میں حملہ کیا گیا اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔

    ایوان کی اجلاس پیر کو شام 4بج کر 30بجے تک ملتوی کردیا گیا

    سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ترمیمی آرڈیننس 2024،اہم ترامیم

    ترمیم سیکشن 2، ایکٹ 17.سپریم کورٹ میں ہر مقدمہ یا اپیل چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر نگرانی مخصوص بینچ کے سامنے پیش ہوگی جس کا تعین وقتاً فوقتاً کیا جائے گا۔
    ترمیم سیکشن 3، ایکٹ 17 .آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سماعت کرنے والے بینچ کو معاملے کی نوعیت کو واضح اور معقول بنیاد پر طے کرنا ہوگا کہ یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل ہے یا نہیں۔
    ترمیم سیکشن 5، ایکٹ 17 .سیکشن 5 کی شق (2) کو حذف کردیا گیا ہے، اور پہلی شق میں کچھ اضافے کیے گئے ہیں تاکہ بینچ کی تشکیل کو مزید واضح کیا جا سکے۔
    نئے سیکشنز 7A اور 7B کا اضافہ.سیکشن 7A میں سماعت کے معیار کو شفاف بنانے کے لیے فہرستوں کا تعین کیا گیا ہے کہ مقدمات کو "پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کے اصول پر نمٹایا جائے گا۔
    سیکشن 7B میں سپریم کورٹ کی کارروائیوں کا ریکارڈ اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، جسے عدالتی فیس کی ادائیگی کے بعد متعلقہ فریقین کو فراہم کیا جا سکے گا۔
    آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے یہ ترامیم کی گئی، آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت مقدمات کے فیصلے عوامی اہمیت کے اصول پر کیے جا سکیں،سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ترمیمی آرڈیننس 2024 کو صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا . یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا،

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • جنسی ہراسگی کیس،ایئر یونیورسٹی کا رجسٹرار ملازمت سے برخاست،جرمانہ

    جنسی ہراسگی کیس،ایئر یونیورسٹی کا رجسٹرار ملازمت سے برخاست،جرمانہ

    جنسی ہراسگی کے کیس میں ایئر یونیورسٹی کے رجسٹرار عبدالوہاب موتلہ کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے اور انہیں دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی نے وفاقی محتسب کی جانب سے اس فیصلے کی کاپی حاصل کر لی گئی ہے۔ یہ سزا ورک پلیس ہراسمنٹ قانون 2010 کے تحت دی گئی ہے، جس میں پانچ لاکھ روپے متاثرہ خاتون کو اور پانچ لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایئر یونیورسٹی کی مجاز اتھارٹی کو 14 دن کے اندر اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا کہا گیا ہے۔ یونیورسٹی کو سزا کے عمل درآمد کی رپورٹ بارہ نومبر کو وفاقی سیکریٹریٹ میں جمع کرانی ہوگی۔ایئر یونیورسٹی ذرائع کے مطابق اس وقت رجسٹرار عبدالوہاب موتلہ برطانیہ میں موجود ہیں،

    وفاقی محتسب سیکریٹریٹ ایک خودمختار نیم عدالتی قانونی ادارہ ہے جو خواتین کو کام کی جگہ پر ہرسانی سے بچانے کیلیے 2010 میں متعارف کرائے گئے قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس ادارے کا بنیادی مقصد افراد کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچانا ہے۔

    یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاتون کے لئے ایک مثبت قدم ہے بلکہ یہ کام کی جگہوں پر ہراسگی کے خلاف مضبوط پیغام بھی ہے۔ ورک پلیس ہراسمنٹ قانون 2010 کے تحت دی جانے والی یہ سزائیں اس بات کی نشانی ہیں کہ ادارے اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھ رہے ہیں اور خواتین کی حفاظت کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ اقدام دیگر اداروں کے لئے بھی ایک مثال قائم کرے گا، تاکہ وہ بھی ہراسگی کے معاملات میں سختی سے کارروائی کریں۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اے کی نجکاری ،خیبرپختونخوا حکومت نے پی آئی اے کی فروخت کے لیے بولی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کر دیا

    خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کو خط لکھا گیا ہے جس میں پی آئی اے کی فروخت کے لئے بولی میں حصہ بننے کی خواہش کی گئی ہے،خیبر پختونخوا کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر، بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ نے وفاقی وزارت نجکاری کو ایک خط بھیجا ہے جس میں حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت میں بولی لگانے کی خواہش کا ذکر کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے، پاکستان کی قومی ایئر لائن ہے،پی آئی اے قومی شناخت اور فخر کی علامت ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ پی آئی اے قومی کنٹرول میں رہے اور اسے کسی نجی یا غیر ملکی کمپنی کو منتقل نہ کیا جائے۔حکومت خیبر پختونخوا نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ سب سے بڑی بولی، جو کہ 10 ارب روپے ہے، سے زیادہ بولی دینے کو تیار ہے،

    بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے نائب چیئرمین حسن مسعود کنور نے کہا کہ ہم پی آئی اے کے حوالے سے اپنی تفصیلی پیشکش پیش کرنے کے لیے آپ کی ٹیم کے ساتھ فوری ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ اپنی حکمت عملی اور صلاحیتوں پر بات چیت کر سکیں۔حکومت خیبر پختونخوا کا یہ اقدام قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے، اور اس کے ذریعے وہ پی آئی اے کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔حسن مسعود کنور نے مزید کہا کہ ہم اس اہم قومی معاملے میں شمولیت کے لیے تیار ہیں اور مثبت جواب کے منتظر ہیں۔

    واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا ہے، جو کہ شہباز حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ واحد بولی لگانے والی کمپنی بلیو ورلڈ نے پی آئی اے کی قیمت صرف 10 ارب روپے لگائی، جو نجکاری کمیشن کی جانب سے کم سے کم قابل قبول 85 ارب روپوں کی مالیت سے 75 ارب روپے کم ہے۔پانچ دیگر منظور شدہ سرمایہ کاروں نے بولی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پی آئی اے کی تقسیم کے بعد، اس کے اثاثوں کی کل مالیت 165 ارب روپے ہے، جبکہ نجکاری کے لیے پیش کیے گئے 60 فیصد حصص کی مالیت 99 ارب روپے ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے کے نجکاری کے عمل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مایوس کیا، جو کہ غلط اعداد و شمار اور غلط بیانی کی وجہ سے نالاں رہے۔ایک سرمایہ کار کے مطابق، پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور قرضوں کے حجم کے بارے میں ابہام کی وجہ سے وہ بولی لگانے سے دور رہے۔ انہوں نے بتایا کہ "یہاں تک کہ واحد بولی بھی غیر سنجیدہ تھی، جو پی آئی اے کے ایک جہاز کی قیمت کے لیے بھی ناکافی تھی۔امید کی جا رہی ہے کہ اس ناکام بولی کے بعد حکومت پاکستان کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا، کیونکہ اس ناکامی سے نہ صرف قومی ایئر لائن کی مالی حیثیت متاثر ہوئی ہے بلکہ یہ شہباز حکومت کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    پی آئی اے کے کل 152ارب روپے کے اثاثہ جات ہیں، اثاثہ جات میں جہاز روٹس و دیگر اثاثے شامل ہیں ،پی آئی اےکی مجموعی رائلٹی 202 ارب روپے ہے،پی آئی اے نے مختلف مد میں 16 سے 17 ارب روپے وصول کرنا ہے،پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 7ہزار 100 ہے،

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • صحافی فراز نظام  مقدمے سے ڈسچارج ،ہتھکڑی کھل گئی

    صحافی فراز نظام مقدمے سے ڈسچارج ،ہتھکڑی کھل گئی

    ضلع کچہری لاہور ،اردوپوائنٹ کے کرائم رپورٹر فراز نظام کو عدالت نے ایف آئی اے کے مقدمے سے ڈسچارج کردیا

    عدالتی حکم پر صحافی فراز نظام کی ایف آئی اے نے ہتھکڑی کھول دی،گزشتہ روز فراز نظام کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم بخش نے دوران سماعت کہا کہ الزام مضحکہ خیز ہے،اگر پولیس کسٹڈی میں انٹرویو کیا کیا پولیس والوان کو گرفتار کیا، جو آپ نے سیکشن لگائے ہیں ان مین سے کوئی ایک تو ثابت کردیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے لاہور کے دو کرائم رپورٹرز فراز نظام، سلمان قریشی پر ڈیڑھ سال پرانی ویڈیوز پر مقدمات درج کرلیے تھے،جس کے بعد فراز نظام کو گرفتار کیا گیا تھا، فراز نظام کے مقدمہ میں ایڈوکیٹ زین علی قریشی نے دلائل دے کر مقدمہ خارج کروا دیا،

    فراز نظام کو ایک سال پہلے ہونے والے ایک قتل کے بارے میں دو بہن بھائیوں کے تعلقات پر رپورٹنگ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا،ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک وکیل کی جانب سے عوامی مفاد میں دائر کردہ درخواست پر کارروائی کی، ایف آئی اے کے سامنے فراز نظام نے اپنی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک معیاری انٹرویو اور رپورٹنگ تھی، جو ہمارے پیشے کے اخلاقی اصولوں اور رہنما خطوط کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے کی گئی۔”

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • کمزور کرنسی،مہنگائی،بے روزگاری،پاکستان میں ہنر مند افرادملک چھوڑنے لگے

    کمزور کرنسی،مہنگائی،بے روزگاری،پاکستان میں ہنر مند افرادملک چھوڑنے لگے

    پاکستان میں مہنگائی اور ہنر مند افراد کا ملک چھوڑنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے

    بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے اعلیٰ ہنر مند افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال موجودہ حکومت کی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے مواقع، تحفظ اور امید پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت آج ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، جہاں ہنر مند افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں جس کی وجہ ملک کا معاشی مستقبل خطرے کی جانب جا رہا ہے۔ اس صورتحال کی ایک مثال اسد اعجاز بٹ کی کہانی ہے، جو ایک ماہر معیشت ہیں۔ انہوں نے کینیڈا سے گریجویٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ لیکن دو وزرائے خزانہ کے ساتھ کام کرنے کے باوجود، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انہیں اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں مشکل میں ڈال دیا۔بلومبرگ کے مطابق اسد نے بتایا، ” پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ میری اقتصادی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب گیا۔” انہوں نے آخر کار اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر شمالی امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک اور اعلیٰ ڈگری حاصل کر سکیں۔

    حالیہ چند سالوں میں پاکستان کی مہنگائی نے اس کی تمام تر پڑوسی ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں، جیسا کہ گاڑیاں اور ایئر کنڈیشنر، عام لوگوں کی رسائی سے باہر ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر، کراچی میں دودھ کی قیمتیں پیرس کی قیمتوں سے بھی زیادہ ہیں۔اقوام متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں پاکستان نے کئی سالوں میں سب سے زیادہ ہجرت کا ریکارڈ قائم کیا، خاص طور پر تعلیم یافتہ اور امیر طبقے میں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے تین سالوں میں تقریباً ایک ملین ہنر مند افراد، جیسے کہ ڈاکٹر، انجینئر، اور منیجرز، پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔

    اس صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ملک میں غیر معیاری حکمرانی اور سیاسی ہلچل نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔بزنس لیڈرز کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کے اندر موجودہ صورتحال کی سنگینی پہلے کبھی نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی کمپنی جے بی ایس کے سی ای او، وقار اسلام نے بتایا کہ آج کل کی مایوسی پچھلے 40 سالوں کی سب سے بدترین ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، تقریباً 40 فیصد پاکستانی ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ نے حالیہ برسوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر پھر بھی زیادہ تر بینکر اور ٹریڈرز ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہر مالیات محمد حنین نے سعودی عرب میں ملازمت حاصل کی، حالانکہ ان کی تنخواہ پاکستان میں اوپر کے 5 فیصد میں آتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑھے لکھے پاکستانی شہریوں کے ملک چھوڑنے کی یہ لہر ملک کی معیشت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور حکومت کو اس مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگرچہ بھیجنے والی رقوم سے معیشت کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی قوم کی ترقی اس کی ہنر مند آبادی کی برآمد پر نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کے مستقبل کے لیے ہنر مند افراد کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کا مالیاتی شعبہ خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے۔ ہر اعلیٰ بروکریج ہاؤس نے ملازمین کو مستعفی ہوتے اور ملک چھوڑتے دیکھا ہے۔ متبادل کی خدمات حاصل کرنے والی کمپنیاں مہینوں سے صحیح ٹیلنٹ تلاش نہیں کر رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ گزشتہ سال کے دوران دنیا کی سب سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی رہی ہے – اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے قرضے حاصل کیے لیکن چند بینکرز اور تاجر رہنا چاہتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں، پاکستان میں صارفین کی قیمتیں علاقائی طاقتوں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے تین سے چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں۔

    پاکستان برطانیہ کے لیے فیملی ویزا کے درخواست دہندگان کی فہرست میں سرفہرست ہے – کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ ترسیلات زر سے ڈالر کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نقدی کی کمی کا شکار ملک ہے اور درآمدات کی ادائیگی کے لیے اتنا زرمبادلہ پیدا نہیں کرتا۔ غیر ملکی کارکن ہر سال تقریباً 30 ارب ڈالر پاکستان واپس بھیجتے ہیں،اس کے باوجود حکام صورتحال کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہیں – اور یہ کہ کوئی بھی عظیم قوم اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو برآمد کرنے کے ماڈل پر نہیں بنتی۔ جیسا کہ پاکستان کی معاشی بدحالی ہے۔

    https://login.baaghitv.com/saudi-mai-hunar-mand-pakistani/

    https://login.baaghitv.com/human-trafficking-rings-exposed/

    https://login.baaghitv.com/saudi-arab-qaid-pakistanio-passport/

    https://login.baaghitv.com/bartania-pakistani-mulazmeen-shadeed/

    رپورٹ کے مطابق، حکومت نے سیاسی دباؤ کو اہمیت دی ہے اور اس کے نتیجے میں قومی ترقی کی بنیادیں نظر انداز کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ہنر مند افراد بلکہ نوجوان نسل بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کر رہی ہے،ہنر مند پاکستانیوں کا بیرون ملک جانا صرف ایک عارضی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کے اثرات ہماری معیشت، جدیدیت، اور مستقبل کی مسابقت پر مرتب ہوں گے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہماری آنے والی نسلیں باصلاحیت افراد کی کمی کا شکار ہوں گی، جس سے معیشت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراََ ہنر مند افراد کی ضروریات اور مسائل پر توجہ دے، اور ایک ایسا ماحول بنائے جہاں نوجوان اپنا مستقبل محفوظ سمجھیں۔پاکستان کے ہنر مند افراد کا ملک چھوڑنا ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوں گی اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں نوجوانوں کو ترقی کے مواقع مل سکیں، تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کریں اور یہاں اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔

    یہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ملازمت کرنے والے ہماری کرنسی کی تباہی اور اچھے مواقع کی کمی کی وجہ سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور جو پہلے سے بیرون ملک ہیں ان کے واپس آنے کا بہت کم ارادہ ہے۔جہاں حکومت اور اپوزیشن سیاسی لڑائیوں میں مصروف ہیں، وہاں نوجوانوں کو روشن مستقبل کی یقین دہانی پر شاید ہی کوئی توجہ دی جا رہی ہو۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں،عطا تارڑ

    وزیر اعظم سے قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار

    شہباز شریف نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے  ملاقات کی

     شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان  ملاقات