Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلامک سالیڈیریٹی گیمز ،ارشد ندیم گولڈ میڈل جیت گئے،وزیراعظم کی مبارکباد

    اسلامک سالیڈیریٹی گیمز ،ارشد ندیم گولڈ میڈل جیت گئے،وزیراعظم کی مبارکباد

    پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے اسلامک سالیڈیریٹی گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل جیت لیا۔

    ارشد ندیم نے 83.05 میٹر کی تھرو پھینک کر طلائی تمغہ جیتا، پاکستان ہی کے محمد یاسر سلطان نے 76.04 میٹر تھرو کے ساتھ سلور میڈل اپنے نام کیا جیکہ نائیجیریا کے سیموئل ایڈمز تیسرے نمبر پر رہے،اسلامک سالیڈریٹی گیمز کے جیولن تھرو مقابلے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 83.05 کی لمبی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا،پاکستان کے یاسر سلطان نے اپنی چھٹی باری میں 76.04 میٹر تھرو کرکے سلور میڈل جیتا۔ نائیجیریا کے سیموئل ایڈمز 76.01 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ریاض میں منعقدہ اسلامی یکجہتی کھیلوں (Islamic Solidarity Games) میں پاکستانی جیولن ٹیم کی شاندار کارکردگی پر کھلاڑیوں کو مبارکباد دی،وزیرِ اعظم نے ارشد ندیم کی گولڈ اور محمد یاسر کی سلور میڈل جیتنے پر پزیرائی کی اور کہا کہ پاکستانی جیولن کھلاڑی پوری دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں. ارشد ندیم اور محمد یاسر نے کمال محنت اور ہنر سے اسلامی یکجہتی کھیلوں میں کامیابی حاصل کی.کھلاڑیوں اور انکے کوچز کی محنت سے ملک و قوم کا نام روشن ہوا.خوش آئند ہے کہ مختلف فارمیٹس میں کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں.نوجوانوں کو کھیلوں کے بہترین مواقع فراہم کرنے کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے.

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں 22 ہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کرم میں 22 ہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی و سرحدی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کئی حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں نے قبول کی ہے، جبکہ کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب آپریشن کیے۔

    کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 نومبر کو ضلع کلات کے علاقے کوہ نگئی میں ڈرون حملہ ہوا، جس میں تنظیم کے چار افراد اور بلوچ لبریشن فرنٹ کا ایک رکن متاثر ہوا۔ترجمان مزار بلوچ کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض چٹانوں پر "کیمیکل مادوں کے نشانات” دیکھے گئے۔تاہم سرکاری سطح پر نہ حملے کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ کسی قسم کے جانی نقصان کی، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے مستونگ شہر میں ایک فوجی کیمپ پر گرینیڈ لانچر سے حملہ کیا۔حکومتی ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔کیچ کے علاقے بیلیدہ گلی میں سیکیورٹی قافلوں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری BLA نے قبول کی، مگر انتظامیہ نے بھی اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔کالعدم بی ایل ایف نے 18 نومبر کو دو مختلف کارروائیوں کا دعویٰ کیا،بلگتر، کیچ،سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، مگر کوئی سرکاری تصدیق نہیں۔بازداد، آواران،ایک نجی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو دھماکے سے نقصان پہنچانے کا دعویٰ۔ مقامی انتظامیہ نے نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔بیلیدہ کے ریکو ندی کے قریب سے ایک نامعلوم شخص کی شدید مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے، جسے پولیس نے شناخت کے لیے اسٹیشن منتقل کردیا ہے۔پولیس کے مطابق لاش کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہے۔

    قلعہ عبداللہ میں چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے راکٹ لانچر اور خودکار اسلحے سے حملہ کیا جس میں لیویز افسر سعد اللہ شہید ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکار چوری کی واردات روک رہے تھے کہ حملہ آور، مبینہ طور پر سردار فقیر محمد کی سربراہی میں، فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد شہریوں نے کوئٹہ-چمن شاہراہ پر احتجاج کیا اور حملہ آوروں کی چھوڑ کر بھاگ جانے والی گاڑی کو آگ لگا دی۔

    مہمند: سرحدی علاقے سے 5 مبینہ دہشتگردوں کی لاشیں برآمد
    سرحدی بیلٹ تورا ناؤ کے علاقوں سورانڈنڈہ اور بہادر کلے میں 5 مبینہ دہشتگردوں کی لاشیں ملیں جنہیں مقامی افراد نے دفنا دیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افراد افغانستان سے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کے دوران جھڑپ یا بارودی مواد کی زد میں آئے۔شناخت اور اصل وجۂ موت کی تحقیقات جاری ہیں۔

    وانا کے علاقے قلندرآباد ٹاور کے نزدیک سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 14 IEDs برآمد کرلیں، جن کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے کمانڈر مالنگ وزیر سے بتایا جاتا ہے۔
    تمام دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنادیا گیا۔

    دومیل سوداخیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے بعد فورسز کا آپریشن جاری ہے۔علاقہ مکمل محاصرے میں ہے اور مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔پولیس نے انٹیلی جنس اطلاعات پر شمشی خیل میں مختلف ٹھکانوں پر کارروائیاں کیں۔علاقہ جزوی طور پر گھیرے میں ہے۔توئی خلہ، شراکنی میں نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل سوار سے پیسے مانگے، انکار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کمسن بچہ عبیداللہ شہید،ایک شخص زخمی ہو گیا،علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔تیراہ وادی کے علاقے برجمبرخیل نرہاﺅ میں نامعلوم سمت سے داغا گیا مارٹر شیل ایک گھر کے قریب آکر پھٹ گیا، جس سے بچہ محمد جاں بحق،والد استن گل اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے،ایک بچی زخمی ہوئی،تحقیقات جاری ہیں۔

    سری ناؤرنگ میں سی ٹی ڈی بنوں اور مقامی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 2 خطرناک دہشتگرد ہو گئے،محمد سہیل عرف احمد،عظمت اللہ عرف حافظ ہلاک ہوگئے۔دونوں اہلکاروں کے قتل اور متعد کارروائیوں میں ملوث تھے۔برآمد ہونے والے سامان میں کلاشنکوف،9 ایم ایم پستول،موبائل فون،کالعدم تنظیم کا موادشامل ہے۔

    وسطی کرّم کے میناٹو اور مرزئی علاقوں میں کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے میں موجود بارودی مواد پھٹنے سے عمارت منہدم ہوگئی اور 22 دہشتگرد مارے گئے،کوٹ اعظم میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔حیدر خیل میں کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے خصوصی سوسائیڈ یونٹ کے کارندے ہیواد ابرار کو ہلاک کردیا گیا، جو متعدد حملوں میں مطلوب تھا۔

    بنوں کے علاقے نری مر عباس سے ارمان ولد شاہ قیاض خان کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا۔اغواکاروں نے 20 لاکھ روپے تاوان طلب کیا ہے۔فورسز نے مغوی کی بازیابی کیلئے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

  • آئی ایم ایف مطمئن نہ ہوا،پاکستان میں گورننس،بدعنوانی بارے رپورٹ جاری

    آئی ایم ایف مطمئن نہ ہوا،پاکستان میں گورننس،بدعنوانی بارے رپورٹ جاری

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے،رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

    آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے، گورننس بہتر بنانے سے نمایاں معاشی فائدے حاصل ہوں گے، ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام سرکاری خریداری 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کی ہے،ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنیٰ اور شفافیت پر آئی ایم ایف نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے، بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں، حکومتی اور بیورو کریسی کے زیر اثر اضلاع کو زیادہ ترقیاتی فنڈ ملے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 23 تا دسمبر 24 نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری معشیت کو پہنچے نقصان کا کم حصہ ہے، پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسوں پر قابض ہیں۔

  • چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن اجلاس 2 دسمبر کو طلب

    چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن اجلاس 2 دسمبر کو طلب

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اجلاس،چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن اجلاس 2 دسمبر کو ہوں گے

    دو دسمبر کو سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے تین اجلاس ہوں گے،جوڈیشل کمیشن کی جانب سے تینوں اجلاسوں کا ایجنڈا جاری کرُدیا گیا ،سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی،چیف جسٹس سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے ناموں کی منظوری دی جائے گی،دو دسمبر کو جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس 1:30،دوسرا اجلاس 2 بجے جبکہ تیسرا اجلاس 2:30 بجے دوپہر ہو گا، جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی تعیناتی پر غور ہوگا،سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پہلے تین سینئر ججز کے ناموں پر غور ہوگا،جوڈیشل کمیشن کے دوسرے اجلاس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی تعیناتی پر غور ہوگا، مستقل چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی تعیناتی کیلئے پہلے تین سینئر ججز کے ناموں پر غور ہوگا،جوڈیشل کمیشن کے تیسرے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایک جج کی سپریم کورٹ تقرری تعیناتی پر غور ہوگا،سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے تین سینئر ججز کے ناموں پر غور ہوگا ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین سینئر ججز میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں

  • امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر لورالائی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندو خیل ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ،آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، سابق گورنر بلوچستان گل محمد جوگیزئی، آئی جی پولیس، کمشنر لورالائی ڈویژن اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    جرگے کے دوران علاقے کی سلامتی، ہم آہنگی، قبائلی روابط اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقامی قبائل نے پاک فوج ،فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کی جانب سے امن کے قیام اور بحالی کے لیے کی گئی عملی کوششوں کو سراہا.گورنر بلوچستان نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے ریاستی اداروں کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

    وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور خطے میں پائیدار امن، سماجی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اور علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے ۔

    کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔

    جرگے کے اختتام پر تمام قبائلی عمائدین نے حکومت بلوچستان ,پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امن کے قیام بالخصوص دکی کول مائنز اور این 70 کی سیکیورٹی کو خوش ائند قرار دیا اور اس عزم کو دہرایا کہ وہ علاقائی امن، سماجی اتحاد اور ترقی کے سفر میں ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

  • سہیل آفریدی کی سرکاری ملازمین کو دھمکی،الیکشن کمیشن کا نوٹس

    سہیل آفریدی کی سرکاری ملازمین کو دھمکی،الیکشن کمیشن کا نوٹس

    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ضمنی انتخاب پر مامور سرکاری ملازمین کےخلاف دھمکی آمیز الفاظ کا نوٹس لے لیا

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے آج صبح ساڑھے 11 بجے اجلاس طلب کرلیا جس میں سہیل آفریدی کے معاملے پر مناسب قانونی کارروائی کرنے پر غور کیا جائےگا،دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ پختونخوا نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے،انہوں نے سہیل آفریدی کے بیان کو غلط رنگ دینے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا اور واضح کیاکہ وزیراعلیٰ نے کسی کو دھمکی نہیں دی بلکہ قانون کے نفاذ کی بات کی تھی، حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیرجانبدارانہ ضمنی انتخاب یقینی بنائےگی۔

    یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 23 نومبر کو ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ 2 لاکھ ووٹ لیکر کامیاب ہوں گی،انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے دن بدمزگی ہوئی تو آپ رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔

  • دبئی ایئر پورٹ،رواں برس آنے  والے مسافروں کے اعدادوشمار جاری

    دبئی ایئر پورٹ،رواں برس آنے والے مسافروں کے اعدادوشمار جاری

    دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ نے رواں سال آنے والے مسافروں کے اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں

    حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ نے رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 32 لاکھ پاکستانیوں کو خوش آمدید کہا،حکام کے مطابق سب سے زیادہ دبئی ائیرپورٹ استعمال کرنے والوں میں پاکستانی چوتھے نمبر پر رہے، پاکستانی مسافر دبئی کا رخ سیاحت، کاروبار، خاندانی ملاقاتیں، ملازمت کے مواقع، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے ٹرانزٹ کے طور پر کرتے ہیں،پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفر کرنے کے لیے دبئی ائیرپورٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران 2 کروڑ 42 لاکھ مسافر وں نے دبئی ائیرپورٹ کا استعمال کیا جو گزشتہ سال کی نسبت 1.9 فیصد زیادہ ہے اور مسافروں کے آمدو رفت کے لحاظ سے یہ 65 سالہ تاریخ کی بلند ترین تعداد ہے،دبئی ائیرپورٹ پر جنوری سے ستمبر تک 7 کروڑ 1 لاکھ مسافروں کی آمدورفت رہی جو گزشتہ سال سے 2.1 فیصد زیادہ ہے،دبئی ائیرپورٹ حکام نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 9 کروڑ 38 لاکھ مسافروں کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا،دبئی ائیرپورٹ استعمال کرنے والوں کا موازنہ ملکی سطح کیا جائے تو بھارت 88 لاکھ مسافروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، اس کے بعد سعودی عرب کے 55 لاکھ مسافروں نے دبئی ائیر پورٹ استعمال کیا جبکہ 46 لاکھ برطانوی شہری بھی دبئی ائیرپورٹ سے گزرے۔

    تازہ اعداد شمار کے مطابق، دبئی ائیرپورٹ کی کارکردگی شاندار رہی ہے، دبئی ائیر پورٹ سے روانہ ہونے والے 99.6 فیصد مسافروں کی امیگریشن 10 منٹ کے اندر مکمل ہوئی جبکہ دبئی پہنچنے والے 99.8 فیصد مسافروں کی امیگریشن میں15 منٹ کا وقت لگا،دبئی ائر پورٹ کے ٹرمینل ون اور ٹرمینل تھری میں نئی توسیع بھی جاری ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے مسافروں خصوصاً جنوبی ایشیائی مسافروں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔

  • بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کے نگہبان ، پاک بحریہ کی شاندار کامیابی

    بحیرۂ عرب کی نیلی وسعتیں ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور عالمی تجارت کی شہ رگ رہی ہیں۔ ان لہروں کے زیر و بم میں جہاں موسموں کا تغیر موجزن ہے، وہیں طاقت، سلامتی اور ذمہ داری کی ایک نا ختم ہونے والی کہانی بھی رقم ہوتی رہتی ہے،ایک ایسی کہانی جس میں پاکستان نیوی کا کردار ایک درخشاں ستارے کی مانند جہانِ آب و ہوا کو روشن کیے ہوئے ہے اور اسی روشن کردار کی تازہ ترین مثال وہ شاندار آپریشن ہے جو پاک بحریہ کے بہادر جوانوں اور پی این ایس تبوک نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت CTF-150 کی معاونت کرتے ہوئے انجام دیا اور دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلا دیا کہ پاکستان کے بحری محافظ نہ صرف چوکس ہیں بلکہ اپنے مشن، اپنی سرزمین اور سمندری قانونِ عالم UNCLOS کے اصولوں کے نگہبان بھی ہیں۔

    ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول کے دوران پی این ایس تبوک کی نگاہ ایک بے نامی، غیر رجسٹرڈ مشکوک ماہی گیر کشتی پر ٹھہری،یہ کاروائی دوراندیشی، پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی بحری ذمہ داری کا مظہر تھی۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد جب تبوک کے جوانوں نے اس کشتی کی تلاشی لی، تو 2000 کلوگرام سے زائد میتھم فیٹامائن (ICE) برآمد ہوئی،ایک ایسی مقدار جس کی خطے کی منڈی میں مالیت تقریباً 130 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔یقیناً یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس نے منشیات کی عالمی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کاری ضرب لگائی اور اسے ثابت کیا کہ پاک بحریہ نہ صرف اپنے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک مضبوط دیوار ہے جس پر غیر قانونی تجارت کی یلغار شکست و ریخت سے دوچار ہوتی ہے۔

    یہ آپریشن گزشتہ دو ماہ میں پاک بحریہ کی تیسری بڑی انسداد منشیات کارروائی ہے۔ تین کامیابیاں،دو ماہ، اور ہر کارروائی پہلے سے زیادہ بڑی، پہلے سے زیادہ کامیاب۔ یہ سلسلہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط تربیت، بے مثال نظم، جدید آلات سے لیس جہازوں اور سب سے بڑھ کر اس جذبے کی پیداوار ہے جو پاکستان نیوی کے ہر سپاہی، ہر افسر اور ہر کمانڈر کے دل میں روشن ہے۔یہ کامیابیاں بتاتی ہیں کہ پاک بحریہ کی آنکھ کبھی نہیں سوتی۔ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر افق کی آخری لکیر تک مسلسل نگاہ رکھتی ہے۔ یہ وہ عزم ہے جو پاکستان کی سمندری حدود کو محفوظ رکھنے کا اٹل وعدہ ہے۔

    اس آپریشن نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نیوی صرف ایک روایتی بحری قوت نہیں، بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال اور پیشہ ورانہ فورس ہے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز، تکنیکی ماہرین، اور انٹیلی جنس نیٹ ورک،یہ سب ایک مربوط نظام کی صورت میں کام کرتے ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کو نظر انداز نہیں ہونے دیتا۔پی این ایس تبوک کی کارروائی میں جو سرعت، دقتِ نظر اور غیر معمولی مہارت سامنے آئی، وہ اسی پیشہ ورانہ تربیت اور نظم و ضبط کا مظہر ہے۔ ایسے آپریشنز نہ صرف پاک بحریہ کی قابلیت کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت کردار اور امن کے لیے اُس کی کوششوں کو نمایاں بھی کرتے ہیں۔

    کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے پلیٹ فارم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ CTF-150 کے تحت ہونے والے اس آپریشن نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں سنجیدہ ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر سمندری امن کے لیے بھی پیش پیش ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں قومیں مل کر دنیا کو ایک محفوظ راستہ دیتی ہیں،تجارت کا، تعاون کا، ترقی کا۔ اور پاکستان اس تعاون میں ایک معتبر، ذمہ دار اور ثابت قدم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اسے یقیناً عالمی امن کے نقشے پر ایک سنجیدہ، مؤثر اور قابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستان نیوی کے یہ سپاہی نہ صرف وردی پہنے ہوئے افراد ہیں، بلکہ وہ قومی غیرت، پیشہ ورانہ سچائی اور انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کھڑی ایک مضبوط دیوار ہیں۔ ان کی ہر کامیابی پر قوم سر بلند ہوتی ہے، ان کی ہر قربانی پر ملک کی آنکھ نم ہوتی ہے، اور ان کی ہر کارروائی پر دنیا پاکستان کو مزید احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔پاکستان نیوی کا یہ آپریشن نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کی ایک مثال بھی ہے۔ UNCLOS کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں قانون کے نافذ کرنے والا ایک ذمہ دار ملک ہے۔
    قانون کی یہ پاسداری پاکستان کے امدادی مشن، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، اور انسداد اسمگلنگ اقدامات میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔یہی اصول پسندی دنیا کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کی بحری نگرانی صرف طاقت کے اظہار کے لیے نہیں، بلکہ اصول اور انصاف کے عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

    ہر کامیاب آپریشن کے بعد جب پی این ایس تبوک یا کوئی اور پاکستانی جہاز واپس اپنی بندرگاہ کی جانب بڑھتا ہے، تو اُس پر لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم صرف ایک نشان نہیں ہوتا یہ وہ نورانی علامت ہے جو بتاتی ہے کہ پاکستان کا فرض شناس بیٹا اپنا فریضہ ادا کر آیا ہے۔یہ پرچم سمندر کی لہروں سے باتیں کرتے ہوئے کہتا ہے “تم موجزن رہو، ہم تمہاری حفاظت کے لیے ہر دم حاضر ہیں۔”پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ سمندر کی گہرائیوں سے لے کر عالمی بحری شاہراہوں تک، ہر محاذ پر پاکستان کا وقار بلند رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پی این ایس تبوک کا یہ شاندار آپریشن نہ صرف ایک کامیابی بلکہ ایک پیغام ہے، کہ پاکستان سمندری امن کا محافظ ہے، منشیات کے خلاف جنگ میں مضبوط دیوار ہے، اور عالمی ہم آہنگی میں غیر متزلزل شراکت دار ہے۔آج پوری قوم پاکستان نیوی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ان محافظوں کو سلام جن کی بدولت ہمارے ساحل محفوظ ہیں، ہماری تجارت رواں ہے، ہمارا مستقبل روشن ہے۔

    پاک بحریہ زندہ باد۔
    پاکستان پائندہ باد۔

  • وزیر اعظم کا سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی  کرکٹ سیریز میں شریک ٹیموں کے اعزاز میں ظہرانہ

    وزیر اعظم کا سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سیریز میں شریک ٹیموں کے اعزاز میں ظہرانہ

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سیریز میں شریک ٹیموں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

    وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں سہ ملکی سیریز میں شریک پاکستان، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں کے اعزاز میں دیے جانے والے ظہرانے میں وزیر اعظم نے تینوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی،اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پا کستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا مسلسل انعقاد ملک میں امن و استحکام کا ثبوت ہے۔
    سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان میں ہونے والی سہ ملکی سیریز میں شرکت کر کےجس جذبے، مہارت اور لگن مظاہرہ کیا، وہ داد کے قابل ہے۔پی سی بی چیئر مین محسن نقوی کی سربراہی میں سیریز کے انتظامات مثالی ہیں۔

    ظہرانے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی، سری لنکن ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل فریڈ سینیویراتھنے اور زمبابوے کے ہائی کمشنر ٹائیٹس ابو بسوتو بھی شریک تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں زمبابوے کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی

  • گودی میڈیا کی طرف سے دہلی دھماکے میں ملوث مشتبہ شخص کی ویڈیو فرانزک تجزیہ میں جعلی ثابت

    گودی میڈیا کی طرف سے دہلی دھماکے میں ملوث مشتبہ شخص کی ویڈیو فرانزک تجزیہ میں جعلی ثابت

    بھارت کے گودی میڈیا نے حالیہ نئی دہلی بم دھماکہ میں مبینہ طور پر ملوث شخص کی ویڈیو نشر کی ہے جو بعدازاں فرانزک تجزیے سے جعلی ثابت ہوئی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جعلی ویڈیو میں مشتبہ شخص کو خودکش حملوں کی حمایت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔تاہم ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو مکمل طورپر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے ۔ ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کے ہونٹوں کی حرکات ، جسمانی پوزیشن اور ویڈیو کے حصے ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے ، جس سے بناوٹ اور جعلسازی ظاہر ہوتی ہے۔ویڈیو میں مبینہ طورپر دھماکے میں ملوث شخص کو خودکش حملے کی حمایت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے حالانکہ اسلام میں خودکشی کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے ، جو ویڈیو کی سچائی پر بڑا سوالیہ نشان ہے ، کیونکہ ایک مسلمان خودکشی کی کیسے حمایت کر سکتا ہے ۔

    فرانزک ماہرین ویڈیو کی صداقت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ کوئی بھی مشتبہ شخص خود کیوں اپنے خلاف ثبوت ویڈیو میں ریکارڈ کرائے گا؟ جو بعد میں اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہو سکے ۔ اس ویڈیو سے گودی میڈیا کی دانستہ طورپر مسلم مخالف مہم جوئی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بی جے پی ہندوتوا حکومت کے سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے حامی گودی میڈیا کی جعلی یا مبالغہ آمیز ویڈیوز کے استعمال کی ایک تاریخ ہے۔ بھارتی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے میڈیا کو صرف تصدیق شدہ مواد نشر کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے ، جس سے اس ویڈیو کے بارے میں خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے ۔اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ایسی جعلی ویڈیوز کا مقصد صرف مسلمانوں خصوصا کشمیریوں بدنام کرنا اور ان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جاری کریک ڈاؤن کو جائز قرار دینا ہے۔ کشمیری عوام اپنے مادر وطن پر قابض بھارتی فورسز کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں نہ کہ نئی دہلی کے معصوم شہریوں کے خلاف ۔ گودی میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی یہ مبینہ ویڈیو بے گناہ افراد کو دہشتگرد ظاہر کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہو سکتی ہے ، جس میں کشمیری مزاحمتی تحریک کو دہشتگردی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔یہ ویڈیوز کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد کے طورپر دکھا کر ، اسلاموفوبیا کو فروغ اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے مسئلے سے توجہ ہٹاتی ہیں۔ اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز سے ایک نئے اطلاعاتی جنگ کے محاذ کی نشاندہی ہوتی ہے ، جہاں گودی میڈیا حقیقت کے بجائے مودی حکومت کے بیانیہ کو پھیلانے کا آلہ کار بن گیا ہے۔

    ماہرین نے واضح کیاہے کہ ایسی جعلی ویڈیوز کی صداقت کی مکمل تصدیق کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے ۔ان جعلی ویڈیوز سے نہ صرف گودی میڈیا کہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ظاہر ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی میڈیا کی جانب سے معلومات کی درستگی اور حقیقت پسندی کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر ہوتی ہے