Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عدالتی فیصلہ آنے تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی کو جواب مل گیا

    عدالتی فیصلہ آنے تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی کو جواب مل گیا

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر قانونی موڑ لے گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے چیف وہپ پاکستان تحریک انصاف عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق فیصلہ ابھی نہیں کیا جاسکتا۔

    ترجمان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ جب تک عدالتِ عظمیٰ اور پشاور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت معاملات طے نہیں ہوتے، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ممکن نہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پشاور ہائی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے پی ٹی آئی رہنما اور نامزد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔ عدالت کی جانب سے یہ تعین کیے بغیر اسمبلی کے اندر قائدِ حزب اختلاف کی تقرری آگے نہیں بڑھ سکتی۔سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ پٹیشن کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ آنے تک کسی نئے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی یا منظوری نہیں دی جا سکتی۔

    مزید برآں، اسپیکر قومی اسمبلی نے تاحال قواعدِ کار کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے رول 39 کے مطابق تاریخ، وقت اور مقام کا اعلان بھی نہیں کیا، جس کے باعث ایوان میں قائدِ حزب اختلاف کی سیٹ عملاً خالی ہے۔

  • معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب

    معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب

    معرکہ حق پر امریکی کمیشن کی رپورٹ اور بھارت کا حقائق کے منافی پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

    بھارتی حکومت گودی میڈیا کے ذریعے امریکی کمیشن رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرنے لگی،بھارت اپنی ہتک آمیز شکست کو چھپانے کیلئے پاکستان کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے،امریکی کمیشن کی رپورٹ میں بھارت کی شکست کا اعتراف مودی حکومت کیلئے سبکی کا باعث بن گیا ہے،
    امریکی کانگریس میں پیش کی گئی امریکہ- چین اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن رپورٹ میں پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کی ہے

    امریکی کانگریس رپورٹ کے مطابق 7سے10مئی کی چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت پر فتح حاصل کی،بھارتی رافیل طیارے گرنے کے باوجود بھارت نے جھوٹا بیانیہ گھڑا مگر امریکی رپورٹ نے من گھڑت پروپیگنڈا کا پول کھول دیا،معرکہ حق میں پاکستان نے بہترین عسکری حکمت عملی سے بھارت کا غرور خاک میں ملا کر واضح برتری حاصل کی،شواہد، رپورٹس اور عالمی میڈیا معرکہ حق پر پاکستانی مؤقف کو سچ ثابت کر رہا ہے

    عالمی جریدہ ” ٹی آر ٹی ” کے مطابق؛امریکی کمیشن کی رپورٹ نے مئی میں ہونے والی جھڑپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی عسکری فتح کا اعتراف کیا ہے ،امریکی رپورٹ نے اعتراف کیا کہ7 سے 10مئی کی چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت پر فتح حاصل کی ،

    امریکی صدر ٹرمپ بھی بارہا معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اور بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا برملا اعتراف کرچکے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان نے ہتھیاروں کے موثر استعمال سے بھارت کو شکست دی ،شکست خوردہ مودی پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈا کے باعث پہلے بھی عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرچکا ہے،

  • ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے،علیمہ کی پیشی پر عدالت کے ریمارکس

    ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے،علیمہ کی پیشی پر عدالت کے ریمارکس

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان 11 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو گئیں۔

    علیمہ خان 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے میں پیشی کے لیے عدالت پہنچیں۔ مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک اور اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے،دورانِ سماعت عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانونی طور پر علیمہ خان اس وقت گرفتار ہیں، علیمہ خان نے ہر عدالتی حکم کو نظر انداز کیا، علیمہ خان ضمانتی مچلکے خارج ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئیں،عدالت نے استفسار کیا کہ علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے خارج ہوئے تو نئے مچلکے داخل کیوں نہیں کروائے گئے؟ ایک ماہ گزر گیا ملزمہ علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہو رہی تھیں،اس پر وکیلِ صفائی نے کہا کہ ہمیں عدالتی آرڈر کی کاپی دی جائے، آج ہی نئے مچلکے داخل کروا دیں گے، ہم بھاگ نہیں رہے مناسب تاریخ اور وقت کی استدعا کر رہے ہیں، ملزمہ علیمہ خان بیمار ہونے کے باوجود آج عدالت کے احترام میں پیش ہوئیں۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزمہ بیمار ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو قانون موجود ہے، استثنیٰ کی درخواست دے دیں، آپ نے عدم پیشی، فرد جرم، عدالتی نوٹسز اور تفتیش کو کسی بھی اسٹیج پر کیوں چیلنج نہیں کیا،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ اور وکیل صفائی عدالت میں موجود ہیں، لکھ کر دیں کہ وہ 26 نومبر کو پیش ہوں گے، سماعت کے دوران علیمہ خان نے عدالت کو یقین دلایا وہ آئندہ سماعت پر عدالت پیش ہوں گی،علیمہ خان نے دورانِ سماعت نمل یونیورسٹی میانوالی کا اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی بھی استدعا کی۔

    دوران سماعت وکیل صفائی فیصل ملک اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ علیمہ خان پر فرد جرم ہوئے ایک ماہ سے زائد گزر چکا ہے لیکن وہ مسلسل غیرحاضر ہیں، 11سماعتوں سے غیر حاضری پر استثنیٰ کی کوئی درخواست بھی نہیں آئی، 11سماعتوں سے وکیل صفائی بھی غائب ہیں، علیمہ خان نے عدالتی احکامات کے باوجود جان بوجھ کر ضمانت کا غلط استعمال کیا، علیمہ خان اور ان کے وکلاء نے جان بوجھ کر قانون کا مذاق بنایا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مزید کہا کہ وکلاء صفائی نے 15 اکتوبر کو عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، عدالت کے موقع دینے کے باوجود وکلاء صفائی نے اپنی درخواست پر دلائل نہیں دیے، وکلاء صفائی میڈیا پر عدالتی دائرہ اختیار کو ہائی لائٹ کرتے رہے لیکن عدالت نہیں آئے، علیمہ خان وارنٹ گرفتاری پر دستخط کرنے کے باوجود پیش نہ ہوئیں، اگر علیمہ خان عدالتی کارروائی اور تفتیش سے مطمئن نہیں تو متعلقہ فورم پر چیلنج کریں، علیمہ خان نے آج تک کسی بھی عدالت میں ٹرائل اور تفتیش کو چیلنج نہیں کیا،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دورانِ سماعت کہا کہ ایک سال سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے، رکاوٹ صرف علیمہ خان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، علیمہ خان اور وکلاء صفائی میڈیا کے بجائے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں، علیمہ خان کہتی ہیں بانی کا پیغام میڈیا کو دیا اور میڈیا نے چلایا لہٰذا اسے بھی شامل مقدمہ کیا جائے، کیا میڈیا نے علیمہ خان کو دعوت دی تھی کہ وہ کیمروں پر آکر کر بات کریں۔

    وکیلِ صفائی محمد فیصل ملک نے عدالت میں اپنے مؤقف میں کہا کہ ملزمہ علیمہ خان کے خلاف ہر شہر میں مقدمات درج ہیں، ملزمہ لاہور، راولپنڈی اور کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں، اتنے مقدمات ہیں کہ ہر عدالت پیش ہونا ممکن نہیں، عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہمیں مناسب تاریخ اور مناسب وقت دیا جائے،سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل تابش فاروق نے فیض احمد فیض کا شعر پڑھا۔ اس پر عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی وکلاء نے فیض احمد فیض کی ساری شاعری پڑھی ہے،دورانِ سماعت وکلاء صفائی نے عدالتی دائرہ اختیار اور ملزمہ کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی درخواستیں دائر کی ہیں جس پر عدالت نے وکلاء صفائی کی دونوں درخواستوں پر فریقین سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے،عدالت نے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے علیمہ خان کی پراپرٹی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کر لیں۔

    واضح رہے کہ مسلسل غیرحاضری پر عدالت نے علیمہ خان کے 37 بینک اکاؤنٹ منجمد اور ضمانتی مچلکے خارج کر دیے تھے،علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔ان پر کارکنان کو پُرتشدد احتجاج پر اکسانے، جلاؤ گھیراؤ اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام ہے۔

  • الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں

    الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ جناب سہیل آفریدی کےحویلیاں جلسے کے خطا ب کے دوران دیئے گئے بیان جس میں اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن میں تعینات عملہ کو دھمکایا اور جلسے میں موجود پبلک اور عمومی طور پرعوام کو اُکسانے پر نوٹس لیا ہے، اس موقع پر اُن کے ساتھ ایک مفرور مجر م بھی کھڑاتھا جس کی زوجہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ صوبے کے چیف ایگزیٹو کے اس غیر ذمہ دارانہ اور رویہ کی وجہ سے نہ صرف این اے 18 ہری پور میں پُرامن ضمنی ا نتخاب کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے ، بلکہ ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملہ اورووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہواہے۔ کمیشن نے حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختو نخوا کو حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر چیف سیکرٹری اور آئی جی سے میٹنگ کریں اورضروری حفاظتی اقدامات کرنے کے بعد ا پنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کریں۔الیکشن کمیشن نے معاملے کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا کہ فوری طور پر سیکرٹری وزارت داخلہ کو چِٹھی ارسال کی جائے کہ حلقہ میں وفاقی سیکورٹی اداروں کی مدد سے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیئے جائیں،تاکہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ، ریٹرننگ ، دیگر انتخابی اہلکاروں ، ووٹروں اور پبلک کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اور Presiding Officers کی پولنگ سٹیشنز کی طرف اور الیکشن کے بعد ROآفس کی طرف اُنکی اور الیکشن مٹیریل کی Movement کو تحفظ دیا جاسکے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران کسی فرد، شخصیت یا پبلک آفس ہولڈر نے الیکشن کے پُرامن انعقاد میں مداخلت یا خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اُنکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائے جائے گی۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو بھی اسی طرح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ اگر فیڈرل یا صوبائی حکومت کا کو ئی بھی عہدیدار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے یا ضمنی الیکشن کوInfluence کرنے کی کوشش کرےتو آئین اور قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔

  • بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار،قومی اسمبلی سے بل منظور

    بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار،قومی اسمبلی سے بل منظور

    قومی اسمبلی میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم قانون ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا گیا۔

    نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی اسمبلی سے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کی منظوری کے بعد اب بل کا مسودہ سینیٹ میں پیش ہوگا، بل میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار دیا گیا،متن کے مطابق بیوی، بچے یا گھر میں موجوددیگر افراد کو جذباتی، نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا، مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا، بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہوگا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا، بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی بھی قابل سزا جرم ہوگا، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے پر بھی سزا ہوگی، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والی دیگر فریق کا خیال نہ کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔

    قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے ڈومیسٹک وائلنس بل میں جنسی اور معاشی استحصال کو بھی کور کیا گیا ہے، بل کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر جو ایک ساتھ رہتے ہوں ان پر ہوگا،واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

  • ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا،عدالت کا اظہار برہمی

    ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا،عدالت کا اظہار برہمی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی،دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا، اگر نادرا میں بچوں کا ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے، والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے آگاہ کیا کہ ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے علاقوں میں ٹیمیں بھیجی ہیں، ہیومن ٹریفکنگ کے اینگل سے بھی کیس پر تفتیش کی ہے، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ کی ٹیم تفتیش کر رہی ہے؟ڈی آئی جی نے بتایا کہ تین مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمز موجود ہیں، جن پولیس افسران نے پہلے رسپانڈ کیا ان سے بھی دوبارہ پوچھ گچھ کی، عدالت نے پوچھا کہ آپ کی ٹیم جو جامشورو گئی ہوئی ہے اس کے لیے کتنا ٹائم چاہئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں کسی نے بھی اس خاتون کو دیکھا نہ ہو۔

    ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک ٹک ٹاک اکاونٹ کو دیکھا جس پر اس خاتون کی تصویر لگی ہوئی تھی، یہ ایک کانسٹیبل کا اکاونٹ تھا جس نے بطور مزاح یہ تصویر وہاں اپلوڈ کی تھی،عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ یہ اکاونٹ کب بنا اور یہ تصویر اس پر کب لگی، یہ پولیس اہلکار ہے تو اس سے تفتیش کا طریقہ کار بھی مختلف ہی ہو گا، میں نے صرف یہ پوچھا کہ ٹک ٹاک اکاونٹ کب بنا، آپ نے کہا چھ ماہ پہلے، ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا ، یہ تصویر سوشل میڈیا پر کیسے موجود تھی؟ کیا آپ لوگوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں ہے؟ کیا حساس ریکارڈ ہر ایک کی رسائی میں ہوتا ہے؟ آپ خواتین کا مذاق بناتے ہیں اور پھر ریکارڈ کو استعمال کرتے ہیں؟ آپ جنرل پبلک کی طرف ڈھونڈ رہے ہیں کبھی اپنی طرف بھی دیکھ لیا کریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سارے کیس کی فائل میرے حوالے کریں، پہلے میں کیس کی ساری فائل دیکھوں گی پھر تاریخ دوں گی۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  • ڈمپر جلانے کا کیس،آفاق احمد کو عدالت نے بری  کر دیا

    ڈمپر جلانے کا کیس،آفاق احمد کو عدالت نے بری کر دیا

    کراچی: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد کو ڈمپر جلانے اور اشتعال انگیزی کے مقدمے سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

    کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا آفاق احمد کو مقدمے سے بری کیا جاتا ہے،یہ مقدمہ لانڈھی پولیس کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہر میں ڈمپر اور ٹرک حادثات میں اضافے کے بعد مختلف علاقوں میں ڈمپرز اور ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کے مطابق آفاق احمد کے بعض بیانات کو بنیاد بنا کر ان پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کے بیانات سے عوام میں اشتعال پھیلا اور املاک کو نقصان پہنچا۔

    واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں کراچی میں بھاری گاڑیوں سے متعلق حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے بعد شہر میں مختلف مقامات پر ڈمپرز اور ٹرکوں کو آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہی واقعات کے تناظر میں آفاق احمد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔

  • دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان طالبان رجیم نے ملک کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا

    دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان طالبان رجیم نے ملک کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا

    دنیا کے بیشتر ممالک کا افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کے غاصب افغان طالبان پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار ۔ عالمی برادری افغان طالبان رجیم کو عالمی فورمز میں بلانےاور تعلقات قائم کرنے سے مکمل طور پر گریزاں ہیں۔

    افغان جریدے ” طلوع نیوز” کے مطابق ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم( ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں افغانستان کو ایک بار پھر مدعو نہ کیا گیا ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں افغانستان کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ روسی سربراہی میں ایس سی او اجلاس میں پاکستان ،چین ،بھارت اور دیگر ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون جیسےموضوعات شامل تھے۔اقتصادی امور کے ماہر عبدالظہور مدبر نے کہا کہ افغانستان کو ٹرانزٹ کوریڈور کی اہمیت کے باوجود شدت پسندانہ پالیسیوں کے باعث اجلاس میں شریک نہیں کیا گیا ۔ افغان طالبان کے افغان عوام پر ظلم و جبر اور جبر و استبداد کے بعد ان پر سخت ترین عالمی پابندیاں ناگزیر ہو گئی ہیں۔

  • پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے کیس کی سماعت ملتوی

    پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے کیس کی سماعت ملتوی

    وفاقی آئینی عدالت نے پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کیے،یاد رہے کہ 2016 میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد نشر نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، لائسنس کی ابتدائی شرائط کے تحت چینلز کو 10 فیصد بھارتی مواد نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی،2017 میں جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے پیمرا کا یہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ آئینی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

  • دفعہ 144 میں نرمی،جماعت اسلامی کو مینار پاکستان اجتماع کی اجازت مل گئی

    دفعہ 144 میں نرمی،جماعت اسلامی کو مینار پاکستان اجتماع کی اجازت مل گئی

    مینار پاکستان پر دینی، دعوتی اور اصلاحی اجتماع کی اجازت کا معاملہ ،محکمہ داخلہ نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر دینی اجتماع کی اجازت دے دی

    ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی نے دفعہ 144 کے حکمنامے میں مخصوص نرمی کی سفارش کی تھی،جماعت اسلامی نے 21 سے 23 نومبر تک دینی، دعوتی، اصلاحی اجتماع کیلئے این او سی کی درخواست کی تھی،ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر دفعہ 144 میں مخصوص نرمی کا فیصلہ کیا گیا،مخصوص اور محدود اجازت کو دفعہ 144 کے حکم نامے کا حصہ بنا دیا گیا،ضلعی انتظامیہ نے اصلاحی اجتماع کیلئے 20 اکتوبر کو این او سی جاری کیا تھا جس کی توثیق کیلئے درخواست کی گئی ،اجتماع کی اجازت سخت شرائط و ضوابط کے ساتھ مشروط قرار دی گئی ہے،منتظمین کو ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد کرنا ہوگا،اجتماع کی اجازت منتظمین کے حلف نامے اور ذمہ داری قبول کرنے کی بنیاد پر دی گئی،انتظامیہ سٹیج سکیورٹی، خواتین و حضرات کیلئے علیحدہ انکلوژرز اور ہنگامی راستوں کی ذمہ دار ہوگی،انتظامیہ ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کیلئے مناسب پارکنگ اور رضاکار فراہم کرے گی ،تمام سکیورٹی ضروریات اسپیشل برانچ کے آڈٹ کے مطابق پوری کی جائیں گی،اجتماع کے دوران ساؤنڈ سسٹم صرف گراؤنڈ کے اندر اور کم والیوم پر استعمال ہوگا،کم عمر بچوں کو اجتماع میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی دکاندار کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی قسم کا جلوس یا ریلی سڑکوں پر نہیں نکالی جائے گی،آئینی اداروں، عدلیہ یا افواج کے خلاف تقاریر مکمل طور پر ممنوع ہیں ،کسی قسم کے اسلحے یا لاٹھی کی اجازت نہیں دی جائے گی،کسی مذہبی گروہ یا فرقے کی توہین پر مبنی گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی ،اجتماع کے اعلان کیلئے موبائل وین یا کسی بھی گاڑی کا استعمال نہیں ہوگا،شہر میں کہیں بھی وال چاکنگ کی اجازت نہیں ہوگی،اجتماع کے دوران مکمل پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا،قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعروں پر پابندی ہوگی،منتظمین کسی بھی ناگہانی واقعے کی تمام ذمہ داری خود اٹھائیں گے،پولیس عام شہریوں اور شرکاء کی مکمل سکیورٹی یقینی بنائے گی،