Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا ابوظہبی آرٹ 2025 کا دورہ

    خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا ابوظہبی آرٹ 2025 کا دورہ

    خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ابوظہبی آرٹ 2025 کا دورہ کیا اور محکمہ ثقافت و سیاحت کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

    دورے کے دوران خاتونِ اوّل نے عالمی معیار کی نمائشوں اور گیلریوں کا معائنہ کیا اور فنکاروں، کیوریٹرز، اور نمائش کنندگان سے تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ "فنونِ لطیفہ کا تبادلہ معاشروں کے درمیان مفاہمت اور ثقافتی روابط کو مستحکم کرتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ابوظہبی آرٹ سال بھر بصری فنون کی نمائش فراہم کرتا ہے اور جدید و معاصر فنون کو اجاگر کرتا ہے، جس میں بین الاقوامی اور مقامی آرٹسٹوں کے فن پارے پیش کیے جاتے ہیں۔

  • قلعہ عبداللہ،لیویز پوسٹ پر حملہ،پوسٹ انچارج شہید

    قلعہ عبداللہ،لیویز پوسٹ پر حملہ،پوسٹ انچارج شہید

    قلعہ عبداللہ میں جرائم پیشہ افراد کے لیویز پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں پوسٹ انچارج شہید ہوگئے۔

    ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کے مطابق جرائم پیشہ افراد کوئٹہ چمن شاہراہ پر لوٹ مار کررہے تھے، اس دوران وین چھیننے کی کوشش ناکام بنائی گئی تو ملزمان نے لیویزپوسٹ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں لیویز پوسٹ انچارج شہید ہوگئے،ڈی سی نے بتایا کہ حملے کے بعد ملزمان اپنی ایک گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے جسے کو مقامی لوگوں نے آگ لگادی،ڈی پی او قلعہ عبداللہ کا کہنا ہےکہ جرائم پیشہ افراد کی قریبی پہاڑوں میں واقع پناہ گاہ کا محاصرہ کرلیاگیا ہے، ان کے سرغنہ فقیر محمد کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے،ڈی پی او کے مطابق سرغنہ فقیر محمد قتل کے 15مختلف واقعات میں لیویز اور پولیس کو مطلوب ہے۔

  • ہینگور کلاس آبدوز، پاکستان کی سمندری طاقت میں نیا اضافہ

    ہینگور کلاس آبدوز، پاکستان کی سمندری طاقت میں نیا اضافہ

    پاکستان کی بحری قوت میں اہم اضافہ اس وقت سامنے آیا جب چین نے اگست 2025 کے وسط میں پاکستان کو تیسری ہینگور کلاس آبدوز فراہم کر دی۔ پاکستانی بحریہ کے مطابق جدید سینسرز اور ہتھیاروں سے لیس یہ آبدوزیں ’’علاقائی توازن‘‘ برقرار رکھنے اور بحرِ ہند کے بحری راستوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    دوسری جانب چین کے فوجی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ ہینگور کلاس اپنی جدید زیرِ آب جنگی صلاحیتوں، بہتر اسٹیلتھ، طاقتور فائر پاور اور طویل آپریشنل برداشت کے باعث علاقے میں ایک مؤثر ڈیٹرنس ثابت ہو گی۔ہینگور کلاس آبدوزیں دراصل چین کی ٹائپ 039B یوآن کلاس آبدوزوں کا برآمدی ورژن ہیں، تاہم پاکستان نے ان کے مکمل ذیلی نظام (سب سسٹمز) اور اسلحے کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ ان آبدوزوں میں اسٹرلنگ ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) نظام شامل ہو سکتا ہے، جو طویل مدت تک بغیر ابھرے سمندر میں رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

    کل وزن: 2800 ٹن
    لمبائی: 76 میٹر (چینی S26 ڈیزائن سے قدرے کم مگر زیادہ وزنی)
    رفتار: زیرِ آب 17–20 ناٹ
    گہرائی: تقریباً 300 میٹر تک آپریشنل غوطہ
    آبدوز میں 533 ملی میٹر کے 6 ٹارپیڈو ٹیوبز موجود ہیں، جن سے بظاہر چینی YJ-82 اینٹی شپ میزائل،پاکستانی بابر SLCM (450 کلومیٹر رینج)داغے جاسکتے ہیں۔AIP ٹیکنالوجی آبدوز کی پانی کے نیچے رہنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، جس سے اسے ڈھونڈنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

    ان آبدوزوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بہتر اسٹیلتھ سسٹم، کم شور، اور جدید سونار سسٹم کی بدولت دشمن کے لیے پکڑنا مشکل ہوں گی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ہینگور کلاس پاکستان کی A2/AD (Anti-Access/Area Denial) صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جس سے بحرِ ہند میں دشمن جہازوں اور آبدوزوں پر دباؤ بڑھے گا۔جبکہ چینی Yu-6 جیسے جدید ٹارپیڈو بھی اس کے ہتھیاروں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

  • ٹرمپ کی سعودی عرب کے ساتھ بڑے دفاعی پیکج کی منظوری

    ٹرمپ کی سعودی عرب کے ساتھ بڑے دفاعی پیکج کی منظوری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کےلیے بڑے دفاعی پیکج کی منظوری دیدی، سعودی عرب کے ساتھ توانائی، مصنوعی ذہانت اور دیگر اہم شعبوں میں مفاہمت کی یاد داشتوں پر بھی دستخط کردیے گیے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے پراتفاق ہوگیا،وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کےلیے بڑے دفاعی پیکیج کی منظوری دیدی جس کے تحت سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیارے فراہم کیے جائیں گے، سعودی عرب امریکا سےتقریبا 300 ٹینک بھی خریدے گا،امریکا اور سعودی عرب نے کریٹیکل منرلز فریم ورک پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے تحت اہم معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون مزید گہرا کیا جائے گا۔

    یہ ڈیل اُن معاہدوں کا تسلسل ہے جو صدر ٹرمپ نے اس سے قبل دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ کیے تھے، جن کا مقصد امریکا کی سپلائی چین کو مضبوط اور عالمی سطح پر مستحکم بنانا ہے تاکہ اہم معدنیات تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے،وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فریم ورک دونوں ممالک کی اسٹریٹجک پالیسیوں کو ہم آہنگ کرتا ہے تاکہ مستقبل میں ضروری معدنی وسائل کی کمی سے بچا جا سکے،امریکا اور سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے تاریخی ایم او یو پر دستخط کیے، اس کے تحت سعودی عرب کو دنیا کے بہترین امریکی اے آئی سسٹمز تک رسائی فراہم کرے گا، سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا میں ایک کھرب ڈالر تک سرمایہ کاری بڑھانے کا بھی اعلان کر دیا۔

  • افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    ایک افغان انٹیلی جنس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ال مرصاد‘ نے حال ہی میں ایک من گھڑت اور مسخ شدہ خبر پھیلانا شروع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ داعش خراسان کا ایک دہشت گرد پاکستان میں مارا گیا ہے۔ اس بے بنیاد دعوے کو نہ صرف بعض افغان حکومتی بیانیے سے جڑے افراد نے آگے بڑھایا بلکہ سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی اسے غیر ذمہ داری سے تقویت دی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق زلمے خلیل زاد کی جانب سے اس طرح کے غیر مصدقہ اور یکطرفہ پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغانیوں کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کا غیر رسمی ترجمان بن رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ خلیل زاد اس مخصوص بیانیے کو آگے بڑھانے میں کیوں پیش پیش ہیں،پاکستان کے خلاف اس طرح کی منفی مہم کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے بلکہ ان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کامیابیوں کو بھی مشکوک بنانا ہے جو پاکستان نے داعش کے خلاف گزشتہ برسوں میں حاصل کی ہیں،،وہ کامیابیاں جن کی بدولت دنیا متعدد بڑے دہشت گرد حملوں سے بچی۔

    ال مرصاد کی جانب سے گھڑی گئی یہ کہانی دراصل مختلف بے بنیاد رپورٹس کو جوڑ کر ایک ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے جس سے پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔پاکستانی حکام کے مطابق یہ خبر مکمل طور پر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے، جسے دوٹوک طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

    یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس جعلی خبر کو پھیلانے میں ایک مربوط سوشل میڈیا نیٹ ورک شامل ہے، جس کے اہم عناصر میں ال مرصاد، GDI سے منسلک اکاؤنٹس، اور اُن کے بیانیے کو آگے بڑھانے والے مخصوص حلقے شامل ہیں۔ اس نیٹ ورک کا مقصد جھوٹ کو فروغ دینا، حقائق کو مسخ کرنا، اور اقوام متحدہ کی ان رپورٹس سے توجہ ہٹانا ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ داعش خراسان کی اصل موجودگی اور آپریشنز افغانستان کے اندر ہیں، نہ کہ پاکستان میں۔

    پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں میں داعش سمیت دہشت گردی کی مختلف جہتوں کے خلاف مؤثر اور کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔بین الاقوامی ادارے، اقوام متحدہ کے ماہرین، اور عالمی سکیورٹی فورمز بارہا تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان نے داعش کے نیٹ ورکس کو توڑنے، ان کی پاکستان کے اندر موجودگی کو روکتے ہوئے، اور ان کے عالمی سطح پر بڑے حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    گمراہ کن معلومات کے ذریعے پاکستان کے خلاف بیانیہ سازی ایک منظم پروپیگنڈا ہے، جسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ نہ صرف داعش کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا بلکہ خطے اور دنیا کی سکیورٹی کیلئے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا،بلوچستان میں‌بھرپور کاروائیاں جاری

    دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا،بلوچستان میں‌بھرپور کاروائیاں جاری

    جعفرآباد کے شاہی چوک میں واقع قانون نافذ کرنے والے ادارے کے چیک پوسٹ پر دستی بم حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے ایک غیر مصدقہ بیان میں قبول کرلی ہے۔ تنظیم کے مطابق حملے میں ایک اہلکار شدید زخمی ہوا، تاہم کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس واقعے کی نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری بیان جاری ہوا ہے۔

    کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر مصدقہ میڈیا بیان میں پاک چین اقتصادی راہداری روٹ کے ساتھ راہی ناگور کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دعوے کے مطابق حملے سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم حکومتی یا سیکیورٹی ذرائع نے اس واقعہ کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بولیدہ کے علاقے زردان میں موٹر سائیکل سوار اہلکاروں پر مسلح حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو اب تک کسی سرکاری ادارے سے تصدیق شدہ نہیں۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چار اہلکار دو موٹر سائیکلوں پر ایک قافلے کی حفاظت پر مامور تھے۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ سرکاری سطح پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    تحصیل ہیڈکوارٹر مستونگ کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم حملہ کیا گیا جو خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کا سبب نہیں بنا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    جنوبی وزیرستان،خیسورہ کے علاقے تیارزہ میں موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے مقامی قبائلی عمائدین پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ملک رابوٹ خان شہید جبکہ عبد اللہ جان زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک اور دوسرے کو زندہ گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے جس کا مقامی کمانڈر اسلام الدین بتایا جاتا ہے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید مشتبہ عناصر کی تلاش جاری ہے۔

    تیراہ وادی کے ذاخہ خیل کارپا میگان گاؤں میں کالعدم لشکرِ اسلام اور جماعت الاحرار کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تصادم مبینہ طور پر شہریوں کے اغوا کے معاملے پر دونوں گروہوں کے کمانڈروں گلا مین اور عادل بادشاہ کے درمیان تنازع کے بعد شروع ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شدت پسند زخمی ہوا۔ علاقے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔

    گندی خانہ خیل کے علاقے نصیر کالا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار فرید اللہ شہید ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    باسی خیل تھانے کی حدود میں دھماکے میں ہلاک ہونے والے دہشتگرد کی شناخت زیاد عرف حمزہ کے نام سے ہوئی ہے، جو لالوزئی سورانی کا رہائشی تھا۔ پولیس کے مطابق وہ پولیس اور سی ٹی ڈی پر ٹارگٹ کلنگ کا ماسٹر مائنڈ اور بم بنانے کا ماہر تھا۔ وہ خود ہی بم نصب کرتے ہوئے دھماکے میں مارا گیا۔ اس کے زخمی ساتھی کی تلاش جاری ہے۔ موقع سے پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔

    بیٹنی علاقے میں مقامی آبادی نے کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر طور بیٹنی اور اس کے ساتھی شہزیب بیٹنی کے گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ حکام کے مطابق عوام میں دونوں کے دہشتگردانہ سرگرمیوں پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    مامند خیل میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں سپاہی رومان شہید جبکہ سپاہی عتیق زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکار کو سی ایم ایچ بنوں منتقل کیا گیا ہے۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔سی ٹی ڈی، الیٹ فورس اور باجوڑ پولیس کی مشترکہ کارروائی میں ایک افغان خودکش حملہ آور اور اس کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افغان شہری کی شناخت قیص ولد شاہ خان جبکہ سہولت کار رفیع اللہ ولد نور محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران تین ہینڈ گرینیڈ، نیلا بیگ میں موجود خودکش جیکٹ کا IED، فیوز اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ حکام کے مطابق دونوں ایک بڑی دہشتگرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    شاہپور تھانے کی حدود میں بھتہ خور سرگرم ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک پراپرٹی ڈیلر سے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دے دی

    کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دے دی

    سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ نے اعلان کیا کہ کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دے دی۔

    گرپتونت سنگھ نے بتایا کہ کینیڈا کی حکومت کی اجازت کے مطابق 23 نومبر کو بلنگز اسٹیٹ، اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کاانعقادکیا جائےگا،گرپتونت سنگھ نے کہا کہ حکومتی اجازت کینیڈا کی آزادیٔ اظہار اور جمہوری عمل کے عزم کی تصدیق ہے، ریفرنڈم گولی کے مقابلے میں ووٹ کے ذریعے پُرامن جدوجہد ہے،انہوں نے سکھ برادری سےپنجاب کو بھارتی قبضے سے آزادکرانےکے لیے حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیل کردی،خالصتان تحریک کے حق میں کینیڈا کے مؤقف نے مودی کی داخلی اور خارجی ناکامیوں کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا۔

    گرپتونت سنگھ نے پوری سکھ برادری کو ریفرنڈم میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ موقع سکھوں کے لیے ایک جمہوری اور پرامن پلیٹ فارم ہے، جہاں وہ اپنے سیاسی مستقبل کا اظہار ووٹ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ یہ ریفرنڈم “سکھ قوم کے حق خود ارادیت کے حصول کا ایک اہم مرحلہ” ہے،اس ریفرنڈم کی اجازت سکھ تحریک (خالصتان موومنٹ) کو قانونی اور جمہوری جائزیت فراہم کرتی ہے۔اگر بڑی تعداد میں سکھ برادری اس ریفرنڈم میں حصہ لے، تو یہ تحریک کو مزید طاقت دے سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی پوزیشن مضبوط کر سکتی ہے۔

  • کالعدم تحریک لبیک کے مقدمات کی تفتیش کے لیے 12 جے آئی ٹیز تشکیل

    کالعدم تحریک لبیک کے مقدمات کی تفتیش کے لیے 12 جے آئی ٹیز تشکیل

    لاہور: پنجاب کے محکمہ داخلہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف درج متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات کی تفتیش کو مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے 12 مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں (جے آئی ٹیز) قائم کر دی ہیں۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 7 جے آئی ٹیز لاہور میں درج مقدمات کی تفتیش کریں گی جبکہ 5 جے آئی ٹیز شیخوپورہ میں قائم کیے گئے مقدمات پر کام کریں گی۔ یہ تمام مقدمات دہشتگردی اور دیگر سنگین قانونی دفعات کے تحت درج کیے گئے تھے۔محکمہ داخلہ کے مطابق تشکیل دی گئی جے آئی ٹیز میں پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور حساس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ تحقیقات کو جامع، شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ان جے آئی ٹیز کی تشکیل کی درخواست پنجاب پولیس نے دی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی کے خلاف 75 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں 2 ہزار سے زائد نامزد شرپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ جے آئی ٹیز کی تشکیل سے مقدمات کی پیش رفت مزید تیز اور مربوط ہو سکے گی۔

    محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جے آئی ٹیز تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اپنی رپورٹس متعلقہ حکام کو پیش کریں گی، جس کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • تعلیمی اداروں میں ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز

    تعلیمی اداروں میں ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ رکھنے کی تجویز

    تعلیمی اداروں میں بھرتی ہونے پر ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ دیکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے تعلیمی اداروں میں بھرتی ہونے پر ملازمین کے سیکس آفینڈرز رجسٹرسے ویریفکیشن کے لیے سیکرٹری پراسیکیوشن کو 2 صفحات کا مراسلہ بھجوایا ہے،پراسیکیوٹر جنرل نے مراسلے میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھرتی پرسیکس آفینڈر ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے، نادرا سیکس آفینڈرز رجسٹر تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ ہے، بچوں کی حفاظت کے لیے موجودہ بھرتی نظام میں بڑا خلا موجود ہے، موجودہ بیک گراؤنڈ چیکس سے جنسی جرائم کا سابقہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا، جنسی مجرموں کی بھرتی پورے تعلیمی ادارےکے لیے خطرہ بن سکتی ہے، محکمہ قانون و انصاف سیکس آفینڈر رجسٹرتک رسائی کے لیے میکینزم بنائے،پراسیکیوٹر جنرل نے مراسلے میں درخواست کی کہ تمام تعلیمی اداروں کے لیے سیکس آفینڈر ویریفکیشن لازمی قراردی جائے، موجودہ ملازمین کی بھی نادرا سیکس آفینڈر رجسٹر سے تصدیق کی جائے، اس پالیسی سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کویقینی بنایاجاسکےگا۔

  • ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی،مجرم کی گرفتاری،فیصل کامران کی فرض شناسی

    ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، جس نے ہمیں انسانیت کے درد اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تلخ یاد دلائی۔ مگر ایسے ہی لمحوں میں ایک روشنی بھی نمودار ہوتی ہے، انصاف کی راہ پر قدم بڑھانے والے پولیس افسران، اور وہ ادارہ جو غنڈہ گردی اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ آج ہم اسی دو جہتی منظرنامے پر چراغ ڈالیں گے ایک طرف ظلم کی وحشت، دوسری طرف پولیس کی زمینی اور ضمیری کامیابی ملے گی

    بدقسمتی کی انتہا تب ہوتی ہے، جب کوئی ایسا دل زخمی ہوتا ہے جو خود اپنی پوری حفاظت کرنے سے قاصر ہو۔لاہور میں ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ اس زیادتی کا واقعہ محض ایک جرم نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی دھڑکنوں میں باس مل جانے والی چوٹ ہے۔ ایک معصوم، کمزور وجود کو بہانے سے ورغلا کر، کرایہ کے کوارٹر میں زندگی کا ایک ایسا سبھا کر دینا ، یہ انسانی کمزوری کا استحصال ہے، طاقت اور اعتماد کی زیادتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک معاشرتی سانحہ ہے۔یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زیادتی صرف جسمانی حدوں کو عبور نہیں کرتی، بلکہ روح کو بھی زخمی کرتی ہے۔ یہ ظلم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اس کی آواز سنیں، بلکہ اسے یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے، اور وہ تنہا نہیں ہے۔

    اسی اندوہناک تصویر میں ایک تابناک کردار سامنے آتا ہے ، لاہور پولیس، اور خاص کر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ان کا فوری نوٹس لینا اور اس واقعہ پر خصوصی ٹیم تشکیل دینا، ایک عزمِ بیدار انسانیت کا مظہر ہے۔ ایسے افسران کی موجودگی بتاتی ہے کہ پولیس صرف طاقت کا زرخریدہ ہتھیار نہیں، بلکہ ایک ضمیر دار ادارہ بھی ہو سکتی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی قسم کھا چکا ہے۔اس واقعہ میں، کوٹ لکھپت ٹیم کی قیادت ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت دکھائی بلکہ ہمت اور عزم کا مظاہرہ بھی کیا۔ ملزم کی گرفتاری،جو کرایہ کے کوارٹر میں لڑکی کو ورغلانے اور زیادتی کرنے والا تھایہ بتاتی ہے کہ پولیس نے کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال، ملزم کے ہسپتال آنے اور فرار ہونے کے مناظر کی شناخت، سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ تفتیش نہ صرف سنجیدہ تھی بلکہ جدید انداز میں کی گئی۔اور پھر، ملزم کو جنڈر کرائم سیل کے حوالے کرنا یہ ایک سنجیدہ اور درست اقدام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس محض گرفتاری پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ قانونی، ماہر اور حساس انداز سے انصاف کے راستے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔


    ایسی گھمبیر اور تکلیف دہ داستانوں میں ہمیں وہ روشنی تلاش کرنی چاہیے جو ناامیدی کے اندھیرے کو چیر دے۔ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی اور قانونی تقاضوں کا احترام کرنا، ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشرتی نظام نے اپنی ذمہ داری نبھانی شروع کردی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اور معاشرہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ظلم کے خلاف صرف انصاف کی نہیں، بلکہ انسانی وقار کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ جب پولیس ایک معذور لڑکی کی حفاظت میں قدم اٹھاتی ہے، تو وہ اعلان کرتی ہے کہ ہر انسان کی عزت مقدس ہے، اور کوئی جرم چھوٹے درجے کا تصور نہیں کیا جائے گا۔بچیوں اور معذور افراد پر ہونے والی زیادتی ہماری معاشرتی وجدان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ یہ جرم صرف ایک فرد کی بربادی نہیں، بلکہ پوری آبادی کی اخلاقی تشویش ہے ، یہ سوال ہے کہ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں کمزوروں کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں۔ ایسے میں پولیس کا ٹھوس اور بروقت کارنامہ، ہمیں بتاتا ہے کہ جرم کے خلاف ہمارا موقف کمزور نہیں، بلکہ پختہ اور پرعزم ہے۔ہمیں اپنے طور پر بھی ذمہ دار رہنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کی حفاظت کے طور پر سبق سکھانا ہے، معذور اور کمزور افراد کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے، اور معاشرتی شعور کو بلند کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم پر پردہ نہ چُھپا رہے، بلکہ وہ فوری طور پر منظرِ عام پر آئیں اور ان کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر پیش کیا جائے۔

    فیصل کامران جیسے افسران ہماری امید کا ستون
    انسانی داستانوں میں ایسے روشن کردار کم ہی ملتے ہیں جو انصاف کی راہوں پر نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ خود وہی روشنی بن جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کردار اس سانحہ میں ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ پولیس صرف طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ انصاف کی ضمانت بھی بن سکتی ہے۔ ان کی فعالیت، عزم، اور حساسیت ، یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ ایک ضمیری آواز ہیں۔ان کی قیادت میں بنائی گئی ٹیم نے ہمیں یہ محسوس کروایا ہے کہ انصاف ایک خواب نہیں، حقیقت ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں اور پولیس افسران اپنا فرض نبھائیں، تو وہ سنگین جرائم کا سدِ باب کر سکتے ہیں اور معاشرے کو ایک بہتر سمت پر گامزن کر سکتے ہیں۔


    یہ واقعہ ایک زخم ہے جو ہماری انسانیّت پر گرا ہے، مگر پولیس کی کارکردگی نے وہ مرہم فراہم کیا ہے جو دل کو کچھ سکون دے سکتا ہے۔ ہمیں اس سکون کو صرف محسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک تحریک میں بدلنا چاہیے۔ ہمیں چاہیئے
    آگاہی بڑھائیں ، معذور افراد کی حفاظت اور ان کے حقوق کے بارے میں شعور پھیلائیں۔شکایات کی راہ ہموار کریں ، ایسے واقعات کی اطلاع دینے والے ہر فرد کو یہ یقین دلائیں کہ انصاف ممکن ہے۔ ان افسران کی حوصلہ افزائی کریں جو ضمیری اور پیشہ ورانہ طور پر انصاف کی راہ پر چلتے ہیں، جیسے فیصل کامران اور ان کی ٹیم، ہر گھر، ہر سکول، اور ہر محلہ ایک ایسا کلچر بنائے جہاں کمزوروں کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔