Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایکس، چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف ویب سائٹس کی سروس میں خرابی

    ایکس، چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف ویب سائٹس کی سروس میں خرابی

    ایکس، چیٹ جی پی ٹی اور مختلف ویب سائٹس اوپن نہیں ہو رہی، دنیا کے مختلف خطوں میں صارفین انٹرنیٹ صارفین ان سروسز تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

    اس کی وجہ کلاؤڈ فلیئر کے سسٹم میں مسائل کے باعث ایکس سمیت متعدد ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔کلاؤڈ فلیئر ایسی انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کمپنی ہے جو کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔یعنی ویب سائٹس کے مواد کو تیزی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہے اور اب اس کے سسٹم میں نامعلوم خرابی ہوئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہم مسئلے سے آگاہ ہیں اور اس کے بارے میں جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق کلاؤڈ فلیئر کے سسٹم میں خرابی کے باعث ایکس ٹریفک بھی متاثر ہوا ہے۔کلاؤڈ فلیئر کے باعث بیشتر ویب سائٹس لوڈ نہیں ہو رہیں مگر جو لوڈ ہو رہی ہیں ان میں بھی کانٹینٹ اور تازہ ڈیٹا غائب ہے۔زیادہ تر متاثرہ ویب سائٹس میں انٹرنل سرور ایرر نظر آرہا ہے۔

  • شادی کریں اور نقد انعام پائیں ،جوڑوں کو پیشکش

    شادی کریں اور نقد انعام پائیں ،جوڑوں کو پیشکش

    چین میں مسلسل کم ہوتی شادیوں کی شرح پر قابو پانے کے لیے حکومت ایک بار پھر فعال ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں مختلف شہروں میں نوجوان جوڑوں کے لیے خصوصی مراعاتی اسکیمیں شروع کر دی گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی چین کے صنعتی شہر نِنگبو میں شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے کیش انعام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو شادی اور خاندان بڑھانے کی طرف مائل کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وہ جوڑے جو 28 اکتوبر سے 31 دسمبر تک اپنی شادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ کرائیں گے، انہیں ایک ہزار یوآن مالیت کے کیش واؤچرز دیے جائیں گے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 40 ہزار روپے بنتے ہیں۔نِنگبو کے سول افیئرز ڈپارٹمنٹ نے اپنی آفیشل وی چیٹ پوسٹ میں تصدیق کی کہ واؤچرز کی تعداد محدود ہے اور انہیں ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔اس نوعیت کے مراعاتی پروگرام صرف نِنگبو تک محدود نہیں۔مشرقِ چین کے مزید دو شہروں ہانگژو (Hangzhou) اور پنگھو (Pinghu) میں بھی سال کے آخر تک شادی کرانے والے جوڑوں کو مختلف مالی ترغیبات دی جا رہی ہیں، جن میں نقد واؤچرز سرفہرست ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین میں شادیوں کی تعداد میں 20 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سالانہ کمی ہے۔یہ رجحان حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ نوجوان نسل شادی اور بچوں کی پیدائش میں دلچسپی کم دکھا رہی ہے،ملک کی آبادی 1.4 ارب ہونے کے باوجود تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے،افرادی قوت میں مستقبل میں ممکنہ کمی کا خطرہ بڑھ رہا ہے

    چینی حکام کے مطابق ملک میں خاندانوں کو بچوں کی پیدائش کی طرف مائل کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے لیے کیش واؤچرز، ٹیکس میں رعایت، رہائشی سہولیات اور بچوں کی دیکھ بھال پر سبسڈی جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ شادی کے رجحان میں دوبارہ اضافہ کیے بغیر پیدائش کی شرح بڑھانا ممکن نہیں، اس لیے مختلف سطحوں پر نئی پالیسیوں کی تیاری جاری ہے۔

  • کراچی میں آئندہ ہفتے سے ڈبل ڈیکر بسیں اور نئی ای وی بسیں چلیں گی،شرجیل میمن

    کراچی میں آئندہ ہفتے سے ڈبل ڈیکر بسیں اور نئی ای وی بسیں چلیں گی،شرجیل میمن

    حکومت سندھ کی جانب سے عوام کے لیے ایک اور خوشخبری ،کراچی میں آئندہ ہفتے سے ڈبل ڈیکر بسیں اور نئی ای وی بسیں چلانے کا فیصلہ کر لیا گیا،سندھ کے دیگر اضلاع میں پیپلز بس سروس کے نئے روٹس شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومر، یلو لائن بی آر ٹی کے پی ڈی ضمیر عباسی اجلاس میں شریک تھے،اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو یلو لائن بی آر ٹی اور ریڈ لائن بی آر ٹی کے ترقیاتی کام میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ،کراچی میں ای وی ٹیکسی سروس شروع کرنے اور پنک اسکوٹیز اسکیم کے دوسرے مرحلے پر سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو آگہی دی گئی ،شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ڈبل ڈیکر بسیں اور نئی ای وی بسیں آئندہ ہفتے تک کراچی میں پہنچ جائیں گی، کراچی کے عوام کے لئے ڈبل ڈیکر کا روٹ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ای وی بسز کے نئے روٹ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں،حکومت سندھ دسمبر تک ای وی ٹیکسی شروع کرنے اور حالیہ مالی سال مزید پانچ سو بسیں لانے کا ارادہ رکھتی ہے، سندھ کے دیگر اضلاع میں بہت جلد پیپلز بس سروس کے نئے روٹس بھی شروع کرنے جا رہے ہیں،

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ٹرانسپورٹ حکام کو نئے روٹس کے حوالے سے آپریشنل تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایات کی اور کہا کہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین اور طالبات کو اسکوٹیز چلانے کی تربیت دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا جارہا ہے،یلو لائن بی آر ٹی پر شب و روز کام جاری ہے, حکومت سندھ یلو لائن بی آر ٹی پر کام جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،یلو لائن بی آر ٹی کے ترقیاتی کام میں تیزی لائی جائے، ڈیپوز کا کام بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے،تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کا کام جلد شروع کیا جائے گا، تاج حیدر پل پر دو طرفہ ٹریفک آج سے چلائی جارہی ہے، یلو لائن بی آر ٹی میں حائل یوٹلٹیز کی منتقلی جلد یقینی بنائی جائے، تاکہ کام کی رفتار متاثر نہ ہو،

  • عالمی سطح پر رسوائی نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا

    عالمی سطح پر رسوائی نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا

    معرکۂ حق میں بدترین ناکامی اور عالمی سطح پر رسوائی نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا ہے۔عسکری کمزوریوں، بدترین آپریشنل کارکردگی اورآتم نربھر بھارت کی ناکامیاں دفاعی ڈھانچے کو لاغر ثابت کر چکی ہیں۔مودی سرکار کی ہندوتوا ،زدہ سیاسی ذہنیت نے عسکری قیادت پر غیرمعمولی سیاسی دباؤ مسلط کر رکھا ہے، جہاں وہ فلمی طرز کے بیانیے پیش کر کے اپنے آپ کو مہاتما ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

    ایسی کشمکش میں کبھی تین مہینے بعد سات طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔اسی سلسلے میں بھارتی آرمی چیف نے ایک اور متضاد اور کنفیوژن بھرا بیان دے کر صورتحال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیا۔ایک طرف دعویٰ ہے کہ “ہندوستان نے کچھ اسلحہ استعمال کر کے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا،،دوسری طرف اعتراف یہ ہے کہ “ایسی جنگ جیتنے کے لیے مزید اسلحہ خریدنا پڑے گا۔ یہ تضاد بھارتی عسکری قیادت کی بوکلاہٹ، غیرسمجھی اور عدم تیاری کا ثبوت ہے

    آپریشن سندور میں جھوٹی فتح کے ڈھول پیٹنے والے بھارتی آرمی چیف دراصل اپنی خفت مٹانے اور اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ میں جنرل اوپیندر دویدی کا دھمکی آمیز مگر کمزور بیانیہ بھی اسی پریشانی کا اظہار ہے، جس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ آپریشن سندور میں تو صرف ٹریلر دکھایا گیا، فلم تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی اور پھر بھارتی آرمی چیف اسی سانس میں اپنے دفاعی کمزوریاں کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

    بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ کیا ہمارے پاس طویل جنگ کے لیے کافی ساز و سامان اور ہتھیار ہیں ؟ اگر نہیں تو فوری تیاری کی ضرورت ہے۔یہ اعترافات بھارتی فوج کی کمزور پیشہ وارانہ صلاحیت، نااہل سیاسی قیادت، اور ناکام دفاعی منصوبہ بندی کے زندہ ثبوت ہیں، اور ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہار کہ بھارتی عسکری قیادت اس وقت پالیسی، حکمتِ عملی اور تیاری، تینوں محاذوں پر شدید ذہنی انتشار سے گزر رہی ہے۔

  • عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز بھی کیا اس میں کوئی دو رائے نہیں،بیرسٹر گوہر

    عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز بھی کیا اس میں کوئی دو رائے نہیں،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ٹرولنگ اور مہم چلانا افسوسناک ہے، دی اکانومسٹ میں الزامات پر مبنی رپورٹ ہے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ شریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اس وقت اس مضمون کا آنا افسوسناک ہے، ہم اس مضمون کی مذمت کرتے ہیں، بالکل بے بنیاد الزامات ہیں، بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد جو بھی قانونی کارروائی کرنی ہوگی ہم کریں گے، بشریٰ بی بی باپردہ خاتون اور سیاست میں نہیں ہیں۔ فیصل واؤڈا کی بشریٰ بی بی سے متعلق گفتگو انتہائی غلط ہے، 27ویں ترمیم سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت 28ویں ترمیم کی بازگشت کر رہی ہے، یہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، لوگوں کی نظروں میں گر چکے ہیں، عدلیہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہوتی ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہو تو یہ جمہوریت نہیں، کوئی جج سیاسی نہیں ہوتا، استعفیٰ ذاتی فیصلہ ہوتا ہے، اچھے ججز کو عدلیہ میں رہنا چاہیے، مستعفی نہیں ہونا چاہیے، ہم آئینی عدالت کے قیام کی ہرگز حمایت نہیں کرتے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 26ویں اور 27ویں ترمیم کی مخالف کی، کئی ممالک میں آئینی عدالتیں ہیں لیکن وہاں صرف آئین کی تشریح ہوتی ہے، حکومت نے تمام سیاسی و آئینی فیصلوں کا اختیار آئینی عدالت کو دے دیا ہے،عدلیہ تب آزاد ہوتی ہے جب ججز آئین و قانونی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، عدلیہ سے لوگوں کو شکایتیں ہوں گی یا ماضی میں رہی ہوں گی، عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز بھی کیا اس میں کوئی دو رائے نہیں، اصلاحات کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے لیکن 26ویں اور 27ویں ترمیم سے کوئی اتفاق نہیں کرتا۔

  • لاہور ہائیکورٹ کا بھارتی خاتون کوہراساں نہ کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا بھارتی خاتون کوہراساں نہ کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے اسلام قبول کرنے کے بعد شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے نکاح کرنے والی بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور (نور بی بی) کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی (سربجیت کور) اور اس کے شوہر کو ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مذہبی رسومات کےلیے آئی بھارتی سکھ خاتون نے قبول اسلام کے بعد ناصر سے نکاح کیا ہے۔درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ 8 نومبر کو پولیس نے درخواست گزار کے گھر پر غیرقانونی چھاپہ مارا اور خاتون پر شادی ختم کرنے کےلیے دباؤ ڈالا۔

    درخواست کے مطابق خاتون نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، پولیس حکام کے پاس درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں،سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو نور بی بی کو ہراساں کرنے سے روک دیا

  • امریکی سفارتخانے کے وفد کی اڈیالہ جیل آمد، قیدی سے ملاقات

    امریکی سفارتخانے کے وفد کی اڈیالہ جیل آمد، قیدی سے ملاقات

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قید امریکی شہری محمود احمد اعوان سے امریکی سفارتخانے کے تین رکنی وفد نے قونصلر رسائی کے تحت خصوصی ملاقات کی۔

    سفارتی سطح پر اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ یہ رسائی پاکستان میں زیرِ حراست غیر ملکی شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق باقاعدہ سفارتی طریقہ کار کا حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی سفارتخانے کا وفد چیف کونسل آفیسر ٹریسی زیپی، آمنہ بی بی اور سیکیورٹی آفیسر اسامہ حنیف پر مشتمل تھا، جو منگل کی صبح سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل پہنچا۔ وفد نے جیل حکام سے رسمی ملاقات کے بعد قیدی محمود احمد اعوان تک رسائی کی درخواست کی، جسے جیل انتظامیہ نے فوری طور پر منظور کیا۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ قونصلر رسائی کے تحت امریکی وفد نے محمود احمد اعوان سے مخصوص کمرے میں طویل ملاقات کی، جس میں قیدی کی قانونی حیثیت، اس کی صحت، سہولیات اور مقدمے کی پیش رفت سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات مکمل ہونے کے بعد وفد بغیر میڈیا سے بات کیے جیل سے روانہ ہوگیا۔ذرائع کے مطابق محمود احمد اعوان کے خلاف تھانہ روات میں ایک فوجداری مقدمہ درج ہے، جس کے تحت وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں جوڈیشل حراست میں ہے۔

  • آئی سی سی کا بابر اعظم پر جرمانہ

    آئی سی سی کا بابر اعظم پر جرمانہ

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی بیٹر بابراعظم پر جرمانہ عائد کردیا۔

    آئی سی سی کے مطابق بابراعظم نے سری لنکا کے خلاف تیسرے میچ میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی تھی،آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بابراعظم پر لیول ون خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور کرکٹر کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کیا گیا ہے،بابر اعظم نے آئی سی سی کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کو تسلیم کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی اسٹیڈیم میں 21 ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد بیٹ اسٹمپس کو مارا تھا۔

  • بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے،بلاول

    بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے،بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کا اسٹینڈرڈ سب کے سامنے ہے اور مودی دنیا سے منہ چھپا رہا ہے۔

    مظفر آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جب آپ کا نمائندہ آپ کی نمائندگی نہیں کرسکتا تو عوام کو خودجدوجہدکرنا پڑتی ہے، کشمیرکے عوام جب سراپا احتجاج تھے تو فیصل راٹھور اس کوبھی دیکھ رہے تھے، اب مظفرآباد میں آپ کا نمائندہ فیصل راٹھور ہے، فیصل راٹھور نے عوام سےجو وعدے کیے وہ میرےپاس آپ کی امانت ہیں، ہم بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے، پیپلزپارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر عمران خان کو اقتدار دیاگیا تھا، میں خود انتخابات میں آپ کے پاس آیا تھا، آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان نے مایوس نہیں کیا، جتنا سیاسی شعور کشمیر میں ہے اتنا کہیں نہیں ہے، بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کا اسٹینڈرڈ سب کے سامنے ہے، مودی دنیا سے منہ چھپارہا ہے، امریکا اور دیگر ممالک انہیں یاد دلائیں گے کہ 7 جہازگرے تھے، دنیا کا کوئی بھی فورم ہو بھارت وہاں سے بھاگ رہا ہے،بھارت پاکستان اور کشمیر کے بھائی چارے کونقصان پہنچاتاہے، مودی سرکار کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جنگیں بھی ہارےاور اب سازش بھی ہاروگے۔

  • ایس سی او نے خطے میں معاشی خوشحال کی بنیاد رکھی،اسحاق ڈار

    ایس سی او نے خطے میں معاشی خوشحال کی بنیاد رکھی،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ پائیدار ترقی کا انحصار امن و استحکام پر ہے اور خطے کی خوشحالی ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔

    ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او نے خطے میں معاشی خوشحال کی بنیاد رکھی، ایس سی او رکن ممالک کے درمیان منظم روابط انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی روابط کو عملی شکل دینے کے لیے پرعزم ہے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارنے اجلاس میں پاکستان کامؤقف پیش کیا، انہوں نے علاقائی روابط، بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی اہمیت پر زور دیا۔