Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شاہد خاقان عباسی کا آج نیب میں پیش ہونے سے انکار

    شاہد خاقان عباسی کا آج نیب میں پیش ہونے سے انکار

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج نیب میں پیش نہیں ہوں گے، عباسی نے کہا کہ نیب میں پیش ہونے کے لئے کم از کم تین دن پہلے نوٹس دیا جائے

    نیب ایگزیکٹو باڈی اجلاس، شاہد خاقان عباسی کیخلاف انویسٹی گیشن کی منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نیب نے آج ایل این جی کیس میں طلب کر رکھا ہے، شاہد خاقان عباسی نے نیب میں پیش ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نیب کا نوٹس مجھے کل ملا ہے، ایک دن میں جواب دینے کی تیاری نہیں ہو سکتی، نوٹس کم از کم تین دن پہلے ملنا چاہئے،

    پی ٹی ایم کے اراکین کے پروڈکشن آرڈر کے لئے شاہد خاقان عباسی بھی بول پڑے

    شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارٹی مشاورت کے بعد نیب میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا.

    شاہد خاقان عباسی کو نیب نے ایل این جی کیس میں طلب کیا تھا، شاہد خاقان عباسی کو آج نیب راولپنڈی آفس میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی .

    واضح رہے کہ نیب نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف گزشتہ ماہ انکوائری کی منظوری دی تھی .

    شاہد خاقان عباسی کے گرد نیب کا گھیرا تنگ،نیب نے کس کو بلا لیا؟ اہم خبر

    شاہد خاقان عباسی نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد اپنی متوقع گرفتاری پر پہلے ہی خدشات کا اطہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈرتے نہیں .شاہد خاقان نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ چیزیں حکومت کو کھوکھلا اور سیاست کو کمزور کررہی ہیں. ہم حکومتی اقدامات پر احتجاج کرتے ہیں. اور اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے.

    واضح رہے کہ نیب نے سابق صدر آصف زرداری کو اسلام آباد سے گرفتار کیا ہوا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کو لاہور سے گرفتار کیا ہے، دونوں کی ضمانتوں میں توسیع عدالت نے مسترد کی تھی. تحریک انصاف کے رہنما سبطین خان کو بھی نیب نے گرفتار کیا ہے، وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،

  • نواز شریف سے جیل میں ملاقات کا دن، مریم… نوازسے کیا مشورہ کریں گی؟

    نواز شریف سے جیل میں ملاقات کا دن، مریم… نوازسے کیا مشورہ کریں گی؟

    سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں آج ملاقات کا دن ہے، نواز شریف سے صرف پانچ افراد ملاقات کر سکیں گے

    ویڈیو سیکنڈل، بری ہونیوالے کیس میں بھی نواز شریف کو ہو گی سزا، شیخ رشید کا دعویٰ

    قطری خط کے بعد قطری ڈیل، کتنے ارب ڈالر کے عوض رہا ہو گا نواز شریف؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج جیل میں ملاقات کا دن ہے، جمعرات کے روز نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، آج جمعرات کو جیل حکام نے نواز شریف سے‌صرف پانچ افراد کی ملاقات کی اجازت دی ہے.

    کس کس کی گرفتاری قریب ہے؟، شیخ رشید نے سب بتا دیا

    سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں مریم نواز اور شہباز شریف کے علاوہ 3 افراد ملاقات کریں گے، جیل حکام کے مطابق کسی بھی ن لیگی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، نواز شریف سے آج ان کی بیٹی مریم نواز ملاقات کریں گی ،مریم نواز کو کل جمعہ کو احتساب عدالت نے طلب کر رکھا ہے، مریم نواز پیشی سے قبل اپنے والد سے مشاورت کریں گی دوسری جانب شہباز شریف بھی نواز شریف سے ملاقات کریں گے، شہبازشریف موجودہ سیاسی صورتحال اوراپنی آج کی پریس کانفرنس پرمشاورت کریں گے.

    واضح رہےنواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ سنا دیا گیا

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    ڈاکٹرعدنان نواز شریف کا ذاتی معالج نہیں بلکہ…..شہباز گل نے کر دیا انکشاف

    واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

    نواز شریف کی بیماری کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر کا انکشاف

    میں پیر یا ولی نہیں لیکن عمران خان کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ نواز شریف نے کیا کہہ دیا

  • وزیراعظم سے ممکنہ این آر او کیلیے بلاول امریکا پہنچ گئے

    وزیراعظم سے ممکنہ این آر او کیلیے بلاول امریکا پہنچ گئے

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری امریکا پہنچ گئے وہ فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کریں گے ،عمران خان کے امریکا کے دورہ سے قبل بلاول امریکا میں این آر او کی کوشش کے لئے ملاقاتیں کریں گے

    وزیراعظم کے دورہ امریکا سے قبل بلاول زرداری اچانک امریکا روانہ

    باغٰی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری امریکا پہنچ گئے ہیں ،بلاول زرداری گزشتہ روز نیو یارک پہنچے ہیں وہ نیویار ک کے فورسیزن ہوٹل میں قیام کریں گے. بلاول زرداری فلائٹ EK203 کی فرسٹ کلاس میں نیو یارک پہنچے ہیں.

    عمران خان کے دورہ امریکا کو سبوتاژ کرنیکا بھارتی منصوبہ،حسین حقانی بھی متحرک

    باغی ذرائع کے مطابق بلاول زرداری وزیراعظم عمران خان کے دورہ سے قبل امریکا اس لئے گئے ہیں تا کہ اپنے والد سابق صدر آصف زرداری کو جیل سے نکلوائیں، بلاول این آر او کے لئے کوشش کریں گے، اس ضمن میں حسین حقانی نے بلاول کی امریکیوں سے ملاقاتیں طے کی ہیں،. بلاول زرداری ممکنہ این آر او کی کوشش کریں گے. پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اس لئے پہلے امریکا گئے و ہ چاہتے ہیں کہ امریکا میں کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے این آر او لینے کی کوشش کی جائے.

    وزیراعظم کے دورہ امریکا پر کتنے ہزار ڈالر خرچ ہوں گے؟ مراد سعید نے بتا دیا

    بلاول کے امریکا پہنچنے پر پیپلز پارٹی کے درجنوں کارکنان نے ان کا استقبال کیا. بلاول نیویارک کی ہوٹل میں قیام کریں گے،. ممکنہ این آر او کے حوالہ سے بلاول زرداری ملاقاتیں کریں گے تا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور سے کیسز ختم ہوں.

    دورہ امریکہ سے متعلق قیاس آرائیاں‌، وزیر اعظم عمران خان نے کس طرح کی حقیقت واضح؟ اہم خبر

    باغی‌ ذرائع کے مطابق این آر اوکے حوالہ سے امریکا میں مقیم پیپلز پارٹی کے کارکنان میں باز گشت سنائی دی ہے، پی پی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ بلاول این آر او کے لئے ہی امریکا آئے ہیں ، بلاول کو ایئر پورٹ سے ٹیکسی پر ہوٹل تک چھوڑنے والے ٹیکسی ڈرائیور نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول کو میں نے ہوٹل تک چھوڑا ہے بلاول زرداری کے استقبال کے لئے آنے والے کارکنا ن نے بھی مجھے بتایا کہ بلاول این آر او کے لئے امریکا آئے ہیں.

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری کو نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار کر رکھا ہے، آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی نیب نے گرفتار کر رکھا ہے دونوں نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، آصف زرداری پر اسوقت درجنوں کیسز چل رہے ہیں.

     

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بیس جولائی کو امریکا کا دورہ کرنا ہے، وزیراعظم عمران خان کے دورے کی امریکا نے بھی تصدیق کی، وزیراعظم عمران خان کی دورے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہو گی. اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ان کے ہمراہ ہوں‌ گے.

    وزیراعظم عمران خان سعودی عرب، ایران ،ترکی و دیگر ممالک کے دوروں کے بعد اب امریکہ جانے کا فیصلہ کیا. چند دن قبل وزیراعظم عمران خان سے پاکستان تحریک انصاف امریکہ کے سینئر رہنما سجاد برکی اور عاطف خان نے وزیراعظم چیمبر پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی تھی جس میں‌ وزیراعظم عمران خان کے آئندہ دورہ امریکہ سے متعلق تبادلہ خیال ہوا تھا.

  • ایڈز پھیلے، تھر میں بچے مریں،لیکن سندھ کے صوبائی وزیر بلاول کے بنے ذاتی خادم

    ایڈز پھیلے، تھر میں بچے مریں،لیکن سندھ کے صوبائی وزیر بلاول کے بنے ذاتی خادم

    پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر، اراکین اسمبلی بلاول زرداری کے ذاتی نوکر بن گئے، پاؤں میں جوتیاں تک پہنانا شروع کر دیں

    الیکشن کمیشن نے بلاول زرداری کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی بلاول زرداری کے ذاتی نوکر بن کر رہ گئے، بلاول زرداری کے علاقے لاڑکانہ رتو ڈیرو میں اٰیڈز کے مرٰیضوں مٰیں اضافہ ہو رہا ہے، کراچی میں پانی کی قلت ہے، تھر پارکر سندھ میں ادویات اورغذائی قلت کی وجہ سے بچے مر رہے ہیں جن کی پیپلز پارٹی کو کوئی پرواہ نہیں، وہ لوگ جو سندھ کے حلقوں سے منتخب ہوئے انہیں عوامی مسائل کی کوئی غرض نہیں وہ بلاول زرداری کی جوتیاں سیدھی کر رہے ہیں،

    باغی ٹی وی کو سندھ کے ایک رکن اسمبلی کی ایک تصویر ذرائع سے ملی ہے جو بلاول زرداری کے پاؤں میں جوتی پہنا رہے ہیں، رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی کا تعلق ٹنڈو الہہ یار سے ہے ان کے پاس ورکس اینڈ سروسز کی وزارت بھی ہے، وہ بلاول زرداری کے پاوں میں جوتی پہنا رہے ہیں. تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاول زرداری کرسی پر بیٹھے ہیں اور صوبائی وزیر امداد پتافی نیچے بیٹھ کر ان کے پاؤں میں جوتی پہنا رہے ہیں

    عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر کی جانب سے بلاول کو جوتی پہنانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی کے اراکین اسمبلی کو بلاول کی نوکری کی بجائے عوامی مسائل کے لئے کام کرنا چاہئے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی کی سندھ میں گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت ہے لیکن عوامی مسائل حل نہیں ہوئے کیونکہ اراکین اسمبلی کو اس میں دلچسپی نہیں ،اراکین اسمبلی بھی بلاول کی چاپلوسی میں لگے ہوئے ہیں.

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر روبینہ خالد نے باغی ٹی وی کو اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا کہ یہ خبر درست نہیں. ہر کوئی آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ تصویر کو جھوٹ پھیلانے کے لئے جوڑا گیا ہے، اگر کسی دوسرے کا جوتا اپنے پاوں میں پہن لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ یہ جوڑا گیا ہے،

  • وزیراعظم شکایت سیل کو کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کیا عمل ہوا؟ اہم خبر

    وزیراعظم شکایت سیل کو کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کیا عمل ہوا؟ اہم خبر

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کووزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمدخان نے کہا کہ وزیراعظم شکایت سیل کو 32016 وصول ہوئیں اور21450 حل کی گئیں زیادہ تر پولیس اورزمینوں کے حوالے سے تھیں،ہر دن تین گھنٹہ وزیراعظم شکایت سیل کی شکایات کاجائزہ لیاجاتاہے .کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی سطح پر زیادہ تر شکایات حل ہو جاتی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایاکہ سابق فاٹامیں آر ٹی ایس سسٹم 80 فیصد علاقوں میں قابل عمل نہیں، نتائج آر ایم ایس کے ذریعے دینے کی کوشش کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر سسی پلیجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر سسی پلیجو کے 29 اپریل2019 کو سینیٹ اجلاس میں پیش کیے گئے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات ترمیمی بل2019 ، سینیٹر چوہدری تنویر خان کے 28 اگست2018 کو ایرا کے حوالے سے اٹھائے گئے معاملہ ، وزیراعظم شکایت سیل میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے کم شکایت کی وصولی اورکم عملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ ،صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے فاٹا کے علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پاکستان کے انتظامات کے علاوہ الیکشن کمیشن میں صوبہ سندھ اور بلوچستان سے ریٹائرڈ ہونے والے کمیشن کے ممبران کی وجہ سے نامکمل کمیشن کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

    چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر سسی پلیجو کے ترمیمی بل کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ بل میں ایک چھوٹی سی ترمیم تجویز کی گئی ہے ۔ ادارہ برائے پارلیمانی خدمات میں پارلیمنٹرین کی تربیت کے ساتھ ساتھ وفاقی و صوبائی سرکاری ملازمین کی تربیت بھی کرائی جائے ۔کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کی منظوری دے دی تاہم وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان و ایڈیشنل سیکرٹری پارلیمانی امور نے کمیٹی کوبتایا کہ تمام وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے خطوط لکھے تھے 21 وزارتوں نے اتفاق کیا ہے کسی ادارے نے انکار نہیں کیا اور صوبوں کے چیف سیکرٹریزنے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ۔ علی محمد خان نے کہا کہ صوبائی ملازمین کو ٹی اے ڈی اے صوبوں نے دینا ہوتا ہے اس لئے ان سے رائے بھی ضروری ہے ۔ کمیٹی اس حوالے سے صوبوں کو خط لکھے تاکہ وہ جلد سے جلد جواب فراہم کریں ۔

    سینیٹر چوہدری تنویر خان کے ایجنڈے کے حوالے سے چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ آج کمیٹی کے اجلاس میں چوتھی دفعہ شامل کیا گیا مگر متعلقہ سینیٹر کی عدم شرکت کی وجہ سے ان کی رائے حاصل نہیں کی جا سکی ۔ ایرا نے اپنی رپورٹ فراہم کر دی ہے جس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سینیٹر چوہدری تنویر کو خط لکھا جائے کہ جب ان کی صحت ٹھیک ہو جائے تو ان کا ایجنڈا شامل کیا جائے ۔وزیراعظم شکایت سیل میں ملنے والی شکایت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب سے 15780 وصول ہوئیں جس میں سے 10012 حل کی گئیں جبکہ صوبہ سندھ سے 7530 وصول اور5820 حل کی گئیں ۔ صوبہ خیبرپختونخواہ سے 4364 وصول اور3091 حل ، صوبہ بلوچستان سے791 وصول 376 حل ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سے 3551 وصول اور 2151 حل کی گئیں ۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ روزانہ دو سے تین گھنٹے شکایت سیل میں شکایات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور موجود حکومت کے دور میں 32016 وصول ہوئیں اور21450 حل کی گئیں ۔ زیادہ تر شکایات زمین ، پولیس کیسز وغیرہ سے متعلق ہوتی ہیں ۔ زیادہ تر شکایات متعلقہ کمشنر کو بھیج کر15 دن میں جواب طلب کیا جاتا ہے ۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی سطح پر زیادہ تر شکایات حل ہو جاتی ہیں ۔جن مسائل کا حل نہیں نکلتا انہیں یاد دہانی نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں ۔

    جس پر رکن کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے چیف سیکرٹری کو طلب کر کے ڈیٹا سمیت بریفنگ حاصل کی جائے ۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے شکایات اور ان کے حل کی رپورٹ فراہم کی جائے ۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں90 فیصد مسائل قبائلی سسٹم کے ذریعے حل ہو جاتے ہیں ۔قائمہ کمیٹی کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے فاٹا کے علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے طرف سے کیے گئے انتظامات بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے بتایا گیا کہ ان علاقوں میں ہونے والے انتخابات میں 16 جنرل نشستیں ،4 خواتین کیلئے اور1 نان مسلم کیلئے مختص کی گئیں ہیں ۔اُمیدواروں کی فہرست شائع کر دی گئی ہے ۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان علاقوں میں ووٹرز کی تعداد 2.8 ملین ہے جو متعلقہ اضلاع کو فراہم کر دی گئیں ہیں ۔ووٹرز کوا پنا انداراج دیکھنے کیلئے 8300 پر ایس ایم ایس کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے ۔ رجسٹریشن آفسیر 13، اسسٹنٹ رجسٹریشن آفسیر 55 ،فارم جمع کرانے کے سینٹر309 اور تصدیق کیلئے 903 آفیشل تعینات کیے گئے ہیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1671365 مرد ووٹرز اور 1130529 خواتین ووٹرز ہیں ۔انتخابات کے حوالے سے تمام سامان روانہ کر دیا گیا ہے ۔458 امیدواروں میں سے313 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے ۔133 امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے ہیں ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل 1897 پولنگ اسٹیشن ہونگے جن میں سے مردوں کیلئے 482 اور خواتین کیلئے 366 ترتیب دیے گئے اور 1039 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہونگے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل پولنگ اسٹیشنز میں سے 464 حساس قرار دیے گئے ہیں ۔تمام پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وے کیمرے نصب ہونگے اور فوج کی موجودگی میں انتخابات منعقد ہونگے ۔کمیٹی کو نتائج کے حوالے سے بتایا گیا کہ آر ٹی ایس سسٹم (RTS)80 فیصد علاقوں میں قابل عمل نہیں ہوگا اس لئے نتائج آر ایم ایس (RMS)کے ذریعے دینے کی کوشش کی جائے گی۔انتخابات شفاف طریقے سے منعقد کرائے جائیں گے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے ۔

    جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ انتخابات والے علاقوں میں صحافیوں اور مشاہدہ کرنے والے کتنے افراد کو کوریج کیلئے اجازت دی گئی ہے اور جن سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے تھے وہ کتنے حل کیے گئے ہیں ۔جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ملکی و غیر ملکی میڈیا پر کسی قسم کی کو ئی پابندی نہیں ہے ۔ متعلقہ لوگوں کو ٹریننگ دے دی گئی ہے اور تربیت کے دوران جہاں خلاف ورزی کی گئی وہاں سخت ایکشن لیے گئے ۔4 جولائی سے تبادلوں پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔قانون کے مطابق انتخابات کے نتائج صبح 2 بجے تک جاری کر دینے چاہیں مگر دور دراز علاقے ہونے کی وجہ سے اور آر ٹی ایس سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ نتائج میں تاخیر سے خدشات پیدا ہوتے ہیں ۔مجھے دو دن تک کامیاب قرار دیا گیا بعد میں جیت ہار میں بدل گئی ۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا انتخاب اس علاقے میں ہونے جارہا ہے ۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں درجنوں انتخابات ہوئے ہیں لوگوںاور میڈیا کی خاصی دلچسپی رہی ہے مگر یہاں دلچسپی نظر نہیں آ رہی ۔ فاٹا کے علاقوں کی ایک سیاسی جماعت کو مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے اس جماعت کی کچھ باتوں سے اتفاق اور کچھ سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا ۔عام عوام تک اس جماعت کی باتیں درست طور پر نہیں پہنچ پاتی۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے نقطہ نظر سے بھی ہمیں آگاہ ہونا چاہیے ان کے دو منتخب نمائندے بھی گرفتار ہیں اور ان کو دیگر اراکین اسمبلی کی طرح آئینی حق نہیں دیا جارہا ۔

    سینیٹر انوارا لحق کاکڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بیان کے حوالے سے یہ سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اور انہوں نے پارلیمنٹری سسٹم کا حصہ بننے سے بھی انکار کیا ہے ۔سینیٹر گیان چند نے کہا کہ شفاف انتخابات اہم سوال ہے ۔ گھوٹکی میں ہونے والے انتخابات کو 5 دن آگے بڑھا دیا گیا ہے ۔جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی ایم نام کی کوئی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہے ۔شمالی وزیرستان میں سیکورٹی کا مسئلہ تھا اس کو حل کرنے کا کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ایک حلقے کی نشست کو گزشتہ پانچ سالوں سے سیکورٹی مسائل کی وجہ سے پر نہیں کیا جا سکا ۔میڈیا کے حوالے سے کمیٹی کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ آزادی سے انتخابات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔گھوٹکی کے حوالے سے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے دوپہر 16 جولائی کو اجازت دی ۔3.76 لاکھ بیلٹ پیپر کس طرح چھاپ اور تقسیم کر سکتے تھے ۔300 پولنگ اسٹیشنز ہیں اور عدالت کے فیصلے کے اگلے ہی دن انتخابات ہونے تھے اس لئے پانچ دن تاخیر کی گئی ہے ۔سینیٹر فارق حامد نائیک نے کہا کہ فارم45 کے حوالے سے اس دفعہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کی رپورٹ بھی کمیٹی کو پیش ہونی چاہیے جو ابھی تک پیش نہیں کی گئی ۔الیکشن کمیشن میں صوبہ سندھ اوربلوچستان کے ممبران کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد نامکمل کمیشن کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس حوالے سے قانون خاموش ہے کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق نہ ہونے کی صورت میں کمیشن کو کس طرح مکمل کیا جائے ۔ یہ کمیٹی رولز بنا سکتی ہے اور ان خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے یا الیکشن کمیشن کو آئینی ترمیم کے ذریعے اختیار دیا جائے کہ وہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے تجویز کر دہ ناموں میں سے ممبران منتخب کر سکے ۔ سینیٹر ڈاکٹر سکند رمیندرو نے کہا کہ کمیٹی میں ایک رائے آئی تھی کہ وزیراعظم اور قائد حزاب اختلاف نئے نام تجویز دیں اور اس حوالے سے وزارت قانون سے بھی رائے حاصل کی جائے ۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز فاروق ایچ نائیک،مصدق مسعود ملک ، پرویز رشید ، ڈاکٹر سکندر میندرو ، انوار الحق کاکڑ،میر محمد یوسف بادینی ، عابدہ محمد عظیم اور گیان چند کے علاوہ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان ،سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد ، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پارلیمانی امورشکیل ملک، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ عمر رسول ، ڈی جی الیکشن کیشن محمد خضر ، ڈائریکٹر ایرا ظفر اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    محمد اویس

  • 26 کاروائیوں میں اینٹی نار کوٹکس میں کتنی منشیات برآمد ہوئی؟ جان کر ہوں حیران

    26 کاروائیوں میں اینٹی نار کوٹکس میں کتنی منشیات برآمد ہوئی؟ جان کر ہوں حیران

    اینٹی نار کوٹکس نے ملک بھر میں 26 کاروائیوں کے دوران 1502 کلو منشیات بر آمد کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے این ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اے این ایف نے ملک بھرمیں منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں تیز کر دی ہیں،.26کارروائیاں کی گئیں جس میں 1502کلومنشیات برآمدکی گئی. منشیات اسمگلنگ میں استعمال کی جانیوالی12 گاڑیاں بھی قبضے میں لےلی گئیں

    اے این ایف کے ترجمان کے مطابق منشیات اسمگلنگ میں ملوث 3خواتین سمیت 39ملزمان گرفتار کئے گئے، برآمد منشیات میں842.55 کلوگرام چرس،500.465کلوایمفیٹامائن،115.11کلوافیون شامل ،ہے، برآمد منشیات میں 42.419 کلو ہیروئن ،800گرام میتھ ایمفیٹامائن،نشہ آور4ہزارگولیاں بھی شامل ہے.برآمدشدہ منشیات کی بین الاقوامی مالیت2ارب76کروڑروپے ہے

     

    پاک بحریہ نے مبارک ویلیج کے قریبی سمندر میں اینٹی نارکوٹکس آپریشن کیا، آپریشن کے دوران 300ملین روپے مالیت کی 675 کلوگرام حشیش اور 4 کلو گرام ہیروئن برآمد کر لی.

    سمندروں کا عالمی دن، پاکستان نیوی نے اہم پیغام جاری کر دیا

    ترجمان پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ نے آپریشن اینٹی نارکوٹکس فورس کے تعاون سے کیا، منشیات کو اینٹی نار کوٹکس فورس کے حوالے کر دیاگیا .

    پاکستان نیوی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن سمندری حدود کی حفاظت میں سر گرم رہنےکا مظہرہے، پاک بحریہ اپنی قومی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے

  • سندھ کے امن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، وفاقی وزیرداخلہ

    سندھ کے امن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، وفاقی وزیرداخلہ

    وفاقی وزیرداخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد بدھ کو ہیڈ کوارٹرز پاکستان رینجرز (سندھ) کا دورہ کیا اور ڈی جی رینجرز (سندھ) میجر جنرل عمر احمد بخاری سے ملاقات کی۔

    فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ ، حکومت کیا کر رہی ہے، وزیر داخلہ اسمبلی میں بول پڑے

    باغٰی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رینجرز ہیڈکوارٹرز پہنچنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادرچڑھائی اور دعا کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ کوپاکستان رینجرز(سندھ) کی آپریشنل تیاریوں، مشرقی سرحد، سندھ بھر اور بالخصوص کراچی میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    بلوچستان کے حالات خراب کئے جا رہے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ نے صوبے بھر میں دہشتگردی اور دیگر جرائم کے تدارک کے لیے اقدامات اور امن وامان کے قیام کے لیے رینجرز کے کردار کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبہ سندھ کے امن کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے .

     

    کسی کو حرام نہیں کھانے دوں گا، وفاقی وزیر داخلہ کا اعلان

     

    وزیر مذہبی امور پر قتل کا الزام، گرفتار کیا جائے، بڑی خبر آ گئی

  • ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک نے کہا ہے کہ ڈیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کامسئلہ ہے ،ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں ،کالاباغ ڈیم کے مخالفین نے کہا کہ اگر کالاباغ سونابھی ہوگا توہم نہیں خریدیں گے ،پاکستان کی ترقی روکنے کے لیے دشمنوں نے ڈیموں کے خلاف مہم شروع کرکے اس کوروکا ہے ،دریاسندھ کاضائع ہونے والے پانی میں سے اگرکچھ حصہ افعانستان کی طرف موڑدیں توکوئی پاک افغان تعلقات کوخراب نہیں کرسکتاہے ۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان کاپانی کامسئلہ چھوٹے ڈیموں سے حل نہیں ہوگا، کالاباغ ڈیم ہر صورت بنانا چاہیے پاکستان اپنے وسائل سے کالاباغ ڈیم بناسکتاہے اس کوجان بوجھ کرسیاسی مسئلہ بنایاگیاہے کچھ جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیاتوان کی سیاست ختم ہوجائے گی ،پاکستان کوپانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کالاباغ سمیت مزید ڈیموں کی اشدضرورت ہے،گنے کی کاشت سے صرف 40لوگوں کوفائدہ ہوتاہے ہمیںوہ فصل کاشت کرنی ہوگی جس پرپانی کم خرچ ہو۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہاراسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام موسیمیاتی تبدیلی اور پانی کے مسائل کے حوالے سے منعقدہ قومی گول میزسیریزسے سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس المالک،صدر اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ و سابق سفارتکارخان ہشام بن صدیق،سابق سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی سید ابو احمدعاکف ،ماہرآبی امورشفقت کاکاخیل ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    سابق نگران وزیراعلی ،گورنرکے پی کے وسابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس المالک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانی کا مسئلہ ہمارے ساتھ بڑے لمبے عرصے سے ہیں ہم اس پر باتیں زیادہ اور کام کم کرتے ہیںسندھ طاس معاہدہ ہواتو پاکستان کو صرف ایک دریااور ڈیم دیاگیا۔واپڈا کو اس معاملے پر اعتماد میں نہیں لیاگیا اس کی وجہ سے اسکے پاس کم معلومات تھیں ہم نے تین دریا چھوڑ دیے اور ہمیں ایک دریا دیاگیا۔غلام اسحاق خان پاکستان کے بڑا اثاثہ تھے وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی. غلام اسحاق خان نے کہاکہ پاکستان کے لیے ایک ڈیم کافی نہیں ہے ورلڈ بینک نے اس کی مخالفت کی.تربیلا ہم نے مانگا اور انہوں نے کہاکہ آپ کالا باغ ڈیم بنائیں کالا باغ ڈیم ہمیں پانی اتنا نہیں دے سکتا تھا جتنا تربیلا ڈیم سے ہمیں ملتا جس پر مزکرات کے بعد ورلڈ بینک نے راضامندی ظاہر کردی۔تربیلا ڈیم بین الاقوامی اداروں کی مدد کے بغیر ہم نہیں بنا سکتے تھے کالا باغ ہم خود بناسکتے ہیں. تربیلا کا ایک بڑے حصے میں کوئی پتھر نہیں لگایاگیا ہے تربیلا کی طرح کوئی ڈیم دنیا میں نہیں بنایاگیا تھا جب تعمیر کے دوران تریبلا ڈیم ٹھوٹ گیاتھا اور یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا ذولفقار علی بھٹو نے دوبارہ ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا. ڈیم کے دوران ہمارا پاور ہاوس کام کرتا رہا اور بجلی پیدا کرکے ہم پاکستان کی ضرورت پوری کرتے رہے۔

    غیر ملکی انجینئر نے کہاکہ واپڈا جو کام تربیلا پر کررہاہے وہ ناسا کے کام سے بہتر ہے ہمارے پاس پانی اور بجلی کی وافر مقدار موجود تھی. سستی بجلی کی موجودگی کی وجہ سے اس وقت پاکستان دس فیصدجی ڈی پی سے ترقی کررہاتھا اور بھارت 3%سے ترقی کررہاتھا . ڈیموں سے بہت سستی بجلی پیدا ہوتی ہے صدر ایوب خان نے دورہ واشنگٹن کے دوران دوبارہ ورلڈ بینک سے مطالبہ کیاکہ ہماری آبادی بڑ رہی ہے ہمیں مزید ڈیم کی ضرورت ہے. ورلڈ بینک نے کہاکہ جس طرح آپ ترقی کررہے ہیں آپ کو کالا باغ کے بعد بھاشا ڈیم کی ضرورت ہوگی. اور اس کے بعد پاکستان کے دشمنوں نے ڈیم بنانے نہیں دیے. پاکستان کے دشمنوں نے اس بات کا یقینی بنایا کہ ہم مزید ڈیم نہ بناسکیں ہم نے دوبارہ ڈیم بنانے شروع کردیے ہیں ڈیم شاہراہوں کی طرح نہیں ہوتے یہ زمین کو تبدیل کردیتے ہیں میری دعا پاکستان کے ساتھ ہیں پشاور کے لیے فلڈ منیجمنٹ کے طور پر میں نے ڈیم کی تجویز دی تھی اور اس ڈیم پر کام شروع ہوگیاہے۔دریاسندھ پاکستان اور افغانستان کو ملاسکتاہے جو دریاسندھ کاپانی سمندرمیں گرکرضائع ہورہاہے اس کا کچھ حصہ اگرہم افغانستان کی طرف موڑدیں تو پاک افغان تعلقات کوئی خراب نہیں کرسکتاہے ۔

    شمس المالک نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پن بجلی سب سے سستی ہے. جبکہ تیل سے 25سے 60روپے فی یونٹ میں بجلی بنائی جارہی ہے 22ہزار ڈیم چین بناچکاہے چین کا ایک ڈیم اتنی بجلی بناتاہے جو پاکستان کی ضرورت سے زیادہ ہے۔صدر اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ و سابق سفارتکارخان ہشام بن صدیق نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کاہی نہیں دنیا کا بڑا مسئلہ ہے دنیامیں2.5%پانی صرف لوگوں کے استعمال کے لیے موجود ہے مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گیںپاکستان میں غربت زیادہ ہے فوڈ سیکورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے موسمیاتی تبدیلی انسانوں کی وجہ سے ہوئی ہے گرین ہاؤس گیسوں میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر ہم دس ممالک میں شامل ہیں جو سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔لاہور میں حالیہ بارش ہوئی جس سے لاہور ڈوب کر وینس کا منظر پیش کررہاہے موسمیاتی تبدیلی کی کوئی سرحد نہیں ہے اللہ نے پاکستان کو صاف پانی کے گلیشیئر دیئے ہیںجبکہ سعودی عرب اپنے 50%پانی کی ضرورت صاف کرکے استعمال کرتاہے اس کے لیے پلانٹ لگائے گئے ہیں.پانی کی دستیابی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہورہاہے کہا جاتاہے کہ ہمارے ذخائر 2025تک زیادہ تر ختم ہوجائیں گے۔آبادی بھی تیزی کے ساتھ بڑرہی ہے۔ہمیں پانی کے ذخائر بنانے ہوں گے کاشتکاری کے جدید طریقہ اختیار کرنے ہوں گے تاکہ اس مسئلہ کو حل کیاجائے۔

    سابق سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی سید ابو احمدعاکف نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانی کی اہمیت کااندزہ ہمیں نہیں ہے اسلام آباد کے پوش علاقے ایف سکس میں ہر روز لوگ اپنے گھر کے سامنے سڑکیں صاف کرتے ہوئے پانی ضائع کررہے ہیں بھارت میں پانی کابحران اس قدرسنگین ہوگیاہے کہ چنائے شہر میں ٹرین کے ذریعے پانی پہنچایا جارہاہے۔کراچی میں ٹینکر مافیہ سرگرم ہے سابق جج ثاقب نثار نے اس کوروکنے کی کوشش کی ۔ جسٹس ثاقب نثار چلے گئے مگر کراچی میں ٹینکر مافیا موجود ہے موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے حوالے کوئی بھی سفارش کریں سیاسی طور پر اس پر عمل نہیں کیاجائے گا ہم پالیساں بناتے ہیں مگر اس پر کوئی عمل نہیں کرتے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد جو بھی کہوں اس کوکہاجاتاہے کہ یہ صوبوں کااختیارہے یہ صوبوں کا کام ہے.شوگر کی کاشت سے صرف 40لوگوں کوفائدہ ہوتاہے ہے تمام شوگر ملز کے انہی کی مالکیت ہیں جبکہ یہ کل زراعت میں استعمال ہونے والے پانی کا24فیصد خرچ کرتے ہیں ہمیں اب اس طرح کی فصلیں کاشت کرنی ہوں گی جوپانی کم استعمال کرتی ہوں اگر ہم اس کی جگہ خوردنی تیل کے پودے لگائیں تو اس سے پاکستان کوفائدہ ہوگا ۔شوگر کووفاقی حکومت 10ارب اور سندھ حکومت بھی سندھ کے شوگر ملوںکو10ارب الگ سے سبسڈی دیتی ہے ۔
    ماہرآبی امورشفقت کاکاخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں پانی کی دستیابی کم ہوئی ہے اوراس کے ساتھ پانی کی کو الٹی بھی خراب ہوئی ہے شہری آبادی میں اضافہ ہواہے پانی کا مسائل سنگین ہورہاہے اور صوبے پانی کی تقسیم پر لڑرپے ہیں ورلڈ بینک کی رپورٹ کو تفصیل سے پڑھیں زراعت اور پانی پر پاکستان کی کارکردگی بہت خراب ہے ۔ورلڈ بینک کے پاکستان میںنمائندے لی ژان گونے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم داسو اور تربیلا ڈیم کی توسیع کے لیے فنڈز فراہم کررہے ہیںپاکستان خوش قسمت ملک ہے جہاں پر پانی کے لیے گلئیشیرموجود ہیں

    ماہرآبی امورپرویزامین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ طاس معاہدے میں تین بڑی خامیاں ہیں ان میں ایک موسمیاتی تبدیلی کو اس میں شامل نہیں کیاگیاہے کابل دریا کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہے ہمیں درجہ حرارت کے بڑھنے اور گلیشیئر کے پگھلنے پر کوئی اختیار نہیں ہے ہم اس کوکنٹرول نہیں کرسکتے ہیں اس سے ہر ایک متاثر ہوگا. موجودہ دور کی بات کرنی ہوگی بھارت ایک ایک قطرے کو بچانے کے لیے ڈیم بنا رہا ہے 2ارب ڈالر بھارت پانی پر سرمایہ کاری کررہاہے ہمیں پانی کے مسئلے کوحل کرنے کے لیے تربیت یافتہ لوگوں کو لگاناہوگا۔کالا باغ ڈیم میں ٹیکنکل اور معاشی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہیبلکہ یہ سیاسی مسئلہ بنادیا گیا ہے چھوٹے ڈیموں سے پاکستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بڑے ڈیم سے ہی پاکستان کے مسائل حل ہوں گے۔سابق جنرل(ر) مشرف کے دور میں ڈیم پر کام روکا گیا وہ بھی اس کے برابر کے ذمہ دارہیں اگرکالاباغ ڈیم بن جاتاہے تو بہت سے لوگوں کی سیاست ختم ہوجائے گی اس لیے وہ اس کوبننے نہیں دے رہے ہیں ۔بھارت کے 5ہزار ڈیم ہیں جبکہ ہمارے پاس صرف دو ڈیم ہیں امریکہ بھارت کو پاکستان سے زیادہ اہمیت دیتاہے انہوں نے کہاکہ ڈیموں کے مخالفین کو بھارت 2ارب ڈالر سالانہ دیتاہے تاکہ ڈیم نہ بن سکیں ڈیم بناناپاکستان کے لیے زندگی اور موت کامسئلہ ہے پاکستان 35ملین کیوسک پانی سالانہ ضائع کرتا ہے تو بین الاقوامی برادری ہماری بات کیوں سنے گی۔پانی کے مزید ذخائر بنانے ہوں گے کالا باغ ڈیم ہمیں ہر صورت 2025سے پہلے بنانا ہوگا پانی کے اضافہ سے زراعت ترقی کرے گی اور ہم غربت سے نکل سکیں گے۔علی توقیر شیخ ،عمران خالد ودیگر نے بھی خطاب کیا.

    محمد اویس

  • ٹویٹر استعمال کرنے والوں کی لئے بری خبر، پاکستان میں ٹویٹر بند کرنیکی تجویز

    ٹویٹر استعمال کرنے والوں کی لئے بری خبر، پاکستان میں ٹویٹر بند کرنیکی تجویز

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں سابق وفاقی وزیر داخلہ نے تجویز دی ہے کہ ٹویٹر پاکستان کے لئے نمائندہ مقرر نہیں کرتا تو پاکستان میں ٹویٹر کو بند کر دیا جائے

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمشن کا سائبر کرائمز کیخلاف متعلقہ اداروں سے مشاورت کا فیصلہ

    باغٰ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس چیئرپرسن روبینہ خالد کی زیر صدارت ہوا،
    چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو بتایا کہ فیس بک ہماری بات سن لیتا ہے مگر ٹویٹر بالکل نہیں سنتا، جس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک کے نمائندے پاکستان میں ہیں مگر ٹویٹرکا کوئی نمائندہ پاکستان میں نہیں ہے۔ جس پر کمیٹی کے رکن رحمان ملک نے کہا کہ ٹویٹر کو فوری طور پر لکھا جائے کہ پاکستان کیلئے نمائندہ مقرر کریں ورنہ ملک میں سروس بند کر دی جائے گی .

    سائبر کرائم، حکومتی رکن نے درخواست دی تو کیا جواب ملا؟ کمیٹی میں انکشاف

    روبینہ خالد نے اراکین کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے کہ میرے گھر سے چودہ من سونا نکلا ہے،جس پر اجلاس میں موجود اراکین نے کہا کہ اگر اتنا سونا نکلتا ہے تو کھربوں روپے کی گیم بنتی ہے ،جس پر انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ حکومت ایمنسٹی ہی دے دیتی تو ٹیکس دیکر کچھ تو مجھے بچ جاتا۔ روبینہ خادل نے کہا کہ میں نے کیس سائبر ونگ کو دے دیا ہے. رحمان ملک نے کہا کہ ایف آئی اے سات دن میں اس حوالہ سے رپورٹ دے. اجلاس میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ معاملے پر فیس بک کو تحریری شکایت کردی ہے، جس کی سات ہفتوں میں رپورٹ ملے گی۔

    قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ ہمارے ادارے قومی و عوامی مخالف مواد فیس بک اور ٹویٹر سے ازخود کچھ نہیں ہٹاسکتے.

    آئی ٹی کی وزیر نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی پر وزارت آئی ٹی ایک پالیسی تیار کررہی ہے، حکومت کی رکن جویریہ ظفر نے کہا کہ میں نےاپنے فیس بک اکاؤنٹ سےمتعلق ایف آئی اےسائبرکرائم کوشکایت کی تھی ،پانچ ماہ گزر گئے ایف آئی اے نے شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی.

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایف آئی اے حکومتی رکن کی شکایت کا ازالہ نہیں کرسکتی تو عام آدمی کا کیا بنےگا، قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے وزارت داخلہ سے ایف آئی اے کی کارکردگی پر جواب طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا .

  • شاہد خاقان عباسی حاضر ہو، نیب نے کل بلا لیا

    شاہد خاقان عباسی حاضر ہو، نیب نے کل بلا لیا

    نیب نے سابق وزیراعظم مسلم لیگ نے کے رہنما شاہد خاقان عباسی کو طلب کر لیا

    نیب ایگزیکٹو باڈی اجلاس، شاہد خاقان عباسی کیخلاف انویسٹی گیشن کی منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو نیب نے ایل این جی کیس میں طلب کی ہے، شاہد خاقان عباسی کو کل نیب راولپنڈی آفس میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، نیب ٹیم سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان رکارڈ کرے گی .

    پی ٹی ایم کے اراکین کے پروڈکشن آرڈر کے لئے شاہد خاقان عباسی بھی بول پڑے

    واضح رہے کہ نیب نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف گزشتہ ماہ انکوائری کی منظوری دی تھی .

    شاہد خاقان عباسی کے گرد نیب کا گھیرا تنگ،نیب نے کس کو بلا لیا؟ اہم خبر

    شاہد خاقان عباسی نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد اپنی متوقع گرفتاری پر پہلے ہی خدشات کا اطہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈرتے نہیں .شاہد خاقان نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ چیزیں حکومت کو کھوکھلا اور سیاست کو کمزور کررہی ہیں. ہم حکومتی اقدامات پر احتجاج کرتے ہیں. اور اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے.

    واضح رہے کہ نیب نے سابق صدر آصف زرداری کو اسلام آباد سے گرفتار کیا ہوا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کو لاہور سے گرفتار کیا ہے، دونوں کی ضمانتوں میں توسیع عدالت نے مسترد کی تھی. تحریک انصاف کے رہنما سبطین خان کو بھی نیب نے گرفتار کیا ہے، وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،