Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے حلقہ رتوڈیرو میں 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے جس میں 503 بچے اور 114 بڑے افراد شامل ہیں، پیپلز پارٹی کے آبائی حلقہ لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کےبعد سکریننگ کے لیے کیمپ تاحال جاری ہیں، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے انچارج ڈاکٹر سکندر میمن کا کہنا ہے کہ رتو ڈیرو میں 20880 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے ، سکریننگ کے بعد رپورٹ سے معلوم ہوا کہ رتوڈیرو کے 617 افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہو گئی جن میں 503 بچے اور 114 بڑے شامل ہیں۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ 503 میں سے 100 بچوں کا علاج شروع کیا جا چکا ہے.

    100 سے زائد بچوں کا علاج بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

     

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، سندھ بھر سے ساڑھے 10 ہزار ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کے علاوہ سندھ میں ہزاروں کیسز ایسے ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہوئے.

  • مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں، فردوس عاشق اعوان

    مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں، فردوس عاشق اعوان

    وزیر اعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسلام کو نگاہ میں رکھیں اسلام آباد کو نہیں۔قوم کے معصوم بچوں کو کرپٹ مافیا کے دفاع کیلئے سیاسی قوت بنانا نہ اسلام ہے اور نہ ہی جمہوریت ۔آپ عمران خان کی عداوت میں مبتلا ہیں۔عالم دین ہونے کی حیثیت سے آپ امن و اخوت کو فروغ دیں عداوت کو نہیں۔

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آبادکی جناب مارچ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ عید کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے جس میں تمام جماعتون کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے.

  • اسلام آباد کی جانب مارچ کب ہو گا، مولانا فضل الرحمان نے سب کو دعوت دے دی

    اسلام آباد کی جانب مارچ کب ہو گا، مولانا فضل الرحمان نے سب کو دعوت دے دی

    جمعیت علماء اسلام کےامیر مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ رمضان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے فیصلہ کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس ہو تی ،جس میں آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اے پی سی کے علاوہ قومی سطح کا مارچ ہماری جماعت کرے گی جس میں دیگر تمام پارٹیوں کو خوش آمدید کہا جائے گا. مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی نظریاتی شناخت، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ،مہنگائی کے طوفان کے خلاف ماضی میں کئے گئے ملک گیر ملین مارچ کاسلسلہ جاری رہے گا .

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

  • کولگام میں دو کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

    کولگام میں دو کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

    بھارتی فوج نے کولگام کے علاقہ میں سرچ آپریشن کے دوران دو کشمیریوں کو شہید کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے. مقبوضہ کشمیر کے علاقے کولگام میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے دو کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے. بھارتی فوج نے گوپالپورہ گائوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر سرچ آپریشن کیا اور کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کے بعد دو کشمیریوں کو شہید کر دیا. واقعہ کے بعد علاقہ میں فون و انترنیٹ کی سروس بند کر دی گئی،

  • حمزہ شہباز کے اکاونٹس میں کتنے ملین کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، نیب نے عدالت میں بتا دیا

    حمزہ شہباز کے اکاونٹس میں کتنے ملین کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، نیب نے عدالت میں بتا دیا

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے کہا ، حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ نیب کی جانب سے گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائی جارہیں ، جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ گرفتاری کی وجوہات بتا چکے ہیں، نیب وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کے حمزہ شہباز پر الزامات درست ہیں،ضمانت خارج کی جائے ،جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کےخلاف نیب کی انکوائری اختیارات سے تجاوز ہے،انکوائری شروع کرنے کےحوالے سے چیئرمین نیب کی اجازت سےمتعلق تحریری حکم نہیں دیاجارہا،اگرچیئرمین نیب کا ایسا اجازت نامہ موجود نہیں تو تمام کارروائی جعلی ہے،جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری کی اجازت اور گرفتاری کی وجوہات حمزہ شہباز کو فراہم کر دی گئی ہیں،بہت ساری دستاویزات قانون کےتحت دفتری رکارڈ کا حصہ ہیں جسے فراہم نہیں کیاجاسکتا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ حمزہ شہباز کے اکاؤنٹس میں 5 سو ملین کی مشکوک ٹرانزیکشنز پائی گئی ہیں، حمزہ شہباز نے بے نامی جائیدادیں بنائی ہیں. نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے معاملے پر تفتیش کیلیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں. سال 2000 میں حمزہ شہبازکےاثاثے 5سے 6 کروڑروپے کے تھے .

  • ڈالر کی قدر میں کمی، سٹاک مارکیٹ میں‌ تیزی

    ڈالر کی قدر میں کمی، سٹاک مارکیٹ میں‌ تیزی

    کئی دنوں بعد ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی تو سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو کاروبار کا آغاز ہو تو ڈالر کی قمیت میں معمولی اضافہ ہوا تا ہم اس کے بعد ڈالر کی قمیت میں 32 پیسے کی کمی ہوئی ، 32 پیسے کی کمی کے بعد انٹربینک میں ڈالر 151 روپے ساٹھ پیسے پر آ گیا ہے. ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی اور 100 انڈکس 835 پوائنٹس کے اضافے کے بعد33 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر تے ہوئے 34 ہزار 442 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہاہے ۔ آج صبح سے کاروبار کے آغاز میں ہی 100 انڈکس میں 835 پوائنٹس تیزی دیکھنے میں آئی. جس کے بعد 100 انڈیکس 34 ہزار 277 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہے.

  • زینب کے واقعہ کے بعد کمسن بچوں سے زیادتی کے دو ہزار واقعات، افسوسناک خبر

    امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ قصور میں زینب سے زیادتی کے واقعہ کے بعد سے اب تک کمسن بچوں سے دو ہزار زیادتی کے واقعات ہو چکے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ قتل کیس میں اس کے گھر کا دورہ کیا اورلواحقین سے ملاقات کی . سراج الحق نے کمسن فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے دعویٰ کیا کہ زینب کے واقعہ کے بعد دو ہزار واقعات ہو چکے ہیں مگر عزت کی وجہ سے کوئی بولتا نہیں، افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی آر کے لئے بھی دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے .

    اسلام آباد میں دس سالہ بچی فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، بچی کی گمشدگی کی اطلاع جب پولیس کو دی گئی تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا ،بچی کی لاش ملنے کے بعد ورثاء کے احتجاج کے بعد ایس ایچ شہزاد ٹاؤن و دیگراہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے. ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کےاندراج کیلیے تھانے کے کئی چکر لگائے، ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے کہا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ،ایف آئی آر کے بجائے پولیس اہلکارتھانے کی صفائیاں کرواتے رہے ،ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کیخلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے .

    ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 15 مئی کو کمسن فرشتہ لاپتہ ہوئی تھی جسے قتل کر کے جنگل میں پھینک دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ نعش کو جنگل سے برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے جس میں کمسن فرشتہ کے ساتھ زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے. پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر نے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں.فرشتہ کا تعلق خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے ضلع مہمند سے تعلق تھا.مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ علی پورفراش کے علاقے میں رہائش پذیر مقتولہ (ف) کے والد نے مقامی پولیس تھانے شہزاد ٹاون میں پانچ روز قبل بچی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی۔ فرشتہ کے والد نے کمسن بیٹی کی لاش کو دھوپ میں رکھ کر احتجاج کیا ، وفاقی دارالحکومت ہونے کے باوجود کیس بھی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا.

    واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کمسن فرشتہ کی زیادتی کے بعد سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر #JusticeForFarishta ٹاپ ٹرینڈ رہا. شہریوں نے فرشتہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.

  • فرشتہ قتل کیس، قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں سزا دی جائے، سراج الحق

    فرشتہ قتل کیس، قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں سزا دی جائے، سراج الحق

    جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ فرشتہ قتل کیس میں قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں ایسی سزا دی جائے تا کہ کل کوئی درندہ ایسا کرنے کا نہ سوچے ، اتنا بڑا واقعہ ہوا لیکن افسوس یہاں کوئی نہیں آیا، اسمبلی اراکین کو ،حکومتی نمائندوں کو یہاں‌ ہونا چاہئے تھا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ قتل کیس میں اس کے گھر کا دورہ کیا اورلواحقین سے ملاقات کی . سراج الحق نے کمسن فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آج میں یہاں اس لئے آٰیا ہوں کہ پوری قوم کی طرف سے گل نبی سے معافی مانگنے آیا ہوں ،تعزیت کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا کہ انسا ن نے ترقی تو کی ہے لیکن ہمارے ہاں انسانیت مظلوم ہے. میں حکومت سے پوچھنا چاپتا ہوں کہ تمہارے دعوے کہاں ہیں کہ پولیس کو بہتر بنائیں گے. جس طرح بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پوری پاکستانی قوم جاگ رہی تھی، ملک میں ایمرجنسی تھی، تمام ادارے حرکت میں تھے. ایک انسانیت کا قتل انسانیت کا قتل ہے اس پر مشنری کو حرکت میں آنا چاہئے، یہ ریاست پر حملہ ہے اور اسلام آباد کی عزت کا مسئلہ ہے. انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں معصوم بچیاں ہیں، والدین خوف کا شکار ہو چکے ہیں کہ ان کے بچے بھی سکول جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ زینب کے واقعہ کے بعد دو ہزار واقعات ہو چکے ہیں مگر عزت کی وجہ سے کوئی بولتا نہیں، افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی آر کے لئے بھی دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے،.والدین نے پوسٹمارٹم کا کہا تو اس پر بھی انتظامیہ نے دیر کی،انہوں نے کہا کہ یہ وزیرستان یا کراچی کا مسئلہ نہیں، چند قدم پر وزیر اعظم ہاوس ہے، ایوان صدر ہے، پوری حکومت موجود ہے، کاش ملک کے حکمران اس بچی کو اپنی بچی سمجھتے اور یہاں آ کر بیٹھتے، انہوں نے کہا کہ یہاں کراچی، لاہور، پشاور سے لوگ پہنچے ہیں لیکن اندھے گونگے بہرے حکمران نہیں پہنچے.

  • وزیراعظم کے خلاف کیس کی سماعت نہیں کرنا چاہتا، جج نے انکار کر دیا

    وزیراعظم کے خلاف کیس کی سماعت نہیں کرنا چاہتا، جج نے انکار کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان کے خلاف درخواست کی سماعت سے لاہور ہائیکورٹ کے جج نے معذرت کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لائرز فاﺅنڈیشن فارجسٹس کے سربراہ اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ جو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھی سابق وکیل ہیں نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خصوصی طیاروں میں سفر نہ کریں گے .آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے اور اگر لینا پڑا تو خود کشی کو ترجیح دیں گے. درخواست گزار اے کے ڈوگر نے مزید کہا کہ اسلام میں بھیک مانگنا منع اور وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب سے تین بلین ڈالر مانگے، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم کے نو ممالک کے سفر پر آنے والے تمام اخراجات کی تفصیلات طلب کی جائیں، درخواست گزار کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت سے معذرت کر لی اور کہا کہ میں وزیر اعظم کے خلاف کیس کی سماعت نہیں کرنا چاہتا.

  • فرشتہ زیادتی و قتل کیس، ایس ایچ او کے خلاف بھی مقدمہ درج

    فرشتہ زیادتی و قتل کیس، ایس ایچ او کے خلاف بھی مقدمہ درج

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ زیادتی و قتل کیس سے قبل گمشدگی کا مقدمہ درج نہ کرنے کہ وجہ سے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں دس سالہ بچی فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، بچی کی گمشدگی کی اطلاع جب پولیس کو دی گئی تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا ،بچی کی لاش ملنے کے بعد ورثاء کے احتجاج کے بعد ایس ایچ شہزاد ٹاؤن و دیگراہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے. ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کےاندراج کیلیے تھانے کے کئی چکر لگائے، ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے کہا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ،ایف آئی آر کے بجائے پولیس اہلکارتھانے کی صفائیاں کرواتے رہے ،ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کیخلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے .

    ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 15 مئی کو کمسن فرشتہ لاپتہ ہوئی تھی جسے قتل کر کے جنگل میں پھینک دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ نعش کو جنگل سے برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے جس میں کمسن فرشتہ کے ساتھ زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے. پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر نے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں.فرشتہ کا تعلق خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے ضلع مہمند سے تعلق تھا.مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ علی پورفراش کے علاقے میں رہائش پذیر مقتولہ (ف) کے والد نے مقامی پولیس تھانے شہزاد ٹاون میں پانچ روز قبل بچی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی۔ فرشتہ کے والد نے کمسن بیٹی کی لاش کو دھوپ میں رکھ کر احتجاج کیا ، وفاقی دارالحکومت ہونے کے باوجود کیس بھی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا.

    واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کمسن فرشتہ کی زیادتی کے بعد سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر #JusticeForFarishta ٹاپ ٹرینڈ رہا. شہریوں نے فرشتہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.