Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • انڈیگو طیارے میں پاور بینک سے آگ بھڑک اٹھی

    انڈیگو طیارے میں پاور بینک سے آگ بھڑک اٹھی

    دہلی ایئرپورٹ پر ایک خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دِماپور جانے والی انڈیگو کی پرواز میں ایک مسافر کے پاور بینک سے اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ خوش قسمتی سے طیارے کے کیبن عملے نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    یہ واقعہ انڈیگو کی پرواز 6E-2107 میں پیش آیا جو دہلی سے ناگالینڈ کے شہر دِماپور جا رہی تھی۔ جہاز ابھی ٹیکسی وے پر تھا کہ اچانک ایک مسافر کی ذاتی الیکٹرانک ڈیوائس پاور بینک سے دھواں اٹھنے لگا اور چند لمحوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق، “عملے نے صورتحال کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر پر عمل کرتے ہوئے چند سیکنڈز میں آگ بجھا دی۔” آگ جہاز کی سیٹ بیک پاکٹ میں رکھی گئی ذاتی الیکٹرانک اشیاء سے لگی تھی۔ پرواز کو حفاظتی تقاضوں کے مطابق فوراً واپس گیٹ پر لایا گیا، اور مکمل معائنہ کے بعد جہاز کو دوبارہ کلیئر کر دیا گیا۔

    فائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24.com کے مطابق، ایئربس A320 نیو ماڈل پر مشتمل یہ پرواز دوپہر 2:33 بجے دہلی سے روانہ ہوئی اور 4:45 بجے دِماپور پہنچی۔ طے شدہ وقت کے مطابق اسے 12:25 بجے اڑان بھرنا تھی، لیکن حفاظتی چیک کی وجہ سے تاخیر پیش آئی۔اگرچہ پرواز میں سوار مسافروں کی درست تعداد جاری نہیں کی گئی، لیکن تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔

    قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی اسی ہفتے ایک ایئر چائنا کی پرواز میں لیتھیئم بیٹری سے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جو سیول جا رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق، لیتھیئم آئن بیٹریوں سے پیدا ہونے والی آگ جہاز میں سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اسی لیے ائیرلائنز نے پاور بینکس اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے حوالے سے سخت حفاظتی اصول نافذ کر رکھے ہیں۔

  • یونائیٹڈ ایئر لائن،36 ہزار فٹ کی بلندی پر ونڈ شیلڈ ٹوٹ گئی، پائلٹ زخمی

    یونائیٹڈ ایئر لائن،36 ہزار فٹ کی بلندی پر ونڈ شیلڈ ٹوٹ گئی، پائلٹ زخمی

    یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز UA1093 میں ایک غیر معمولی اور خوفناک واقعہ پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ پرواز بوئنگ 737 میکس 8 طیارے پر مشتمل تھی جو معمول کے مطابق 36,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہی تھی، جب اچانک جہاز کے سامنے کا ونڈ شیلڈ (شیشہ) زور دار آواز کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ اس اچانک حادثے کے باعث ایک پائلٹ زخمی ہوگیا جبکہ جہاز میں موجود 140 مسافروں اور عملے کے ارکان میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی۔

    واقعے کے فوراً بعد طیارہ 10,000 فٹ نیچے آگیا تاکہ کیبن پریشر کو متوازن کیا جا سکے۔ پائلٹوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ ہنگامی طریقہ کار اپناتے ہوئے جہاز کو سالٹ لیک سٹی ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا۔ اترنے کے بعد مسافروں کو دوسری پرواز بوئنگ 737 میکس 9 میں منتقل کیا گیا، جس نے انہیں لاس اینجلس پہنچایا۔ تاہم اس غیر معمولی واقعے کے باعث پرواز تقریباً چھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔ خوش قسمتی سے کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔بعد ازاں، آن لائن گردش کرنے والی تصاویر میں ٹوٹے ہوئے شیشے پر جلنے کے نشانات اور زخمی پائلٹ کے ہاتھ پر کٹ کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جہاز اُس وقت سالٹ لیک سٹی سے تقریباً 322 کلومیٹر جنوب مشرق میں موجود تھا جب عملے نے ونڈ شیلڈ کے ٹوٹنے کی اطلاع دی۔

    ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ونڈ شیلڈ ٹوٹنے کی وجہ خلائی ملبہ (space debris) یا کسی چھوٹے شہابِ ثاقب (meteorite) کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہوائی جہاز کی ونڈ شیلڈ عام طور پر انتہائی مضبوط شیشے سے بنائی جاتی ہے جو پرندوں کے ٹکراؤ یا دباؤ میں اچانک تبدیلی جیسے عوامل کو برداشت کر سکتی ہے، تاہم بعض اوقات فضا میں تیز رفتاری کے باعث خرد اجسام کا اثر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پائلٹ کو معمولی چوٹیں آئی ہیں جبکہ تمام مسافر محفوظ ہیں۔ کمپنی نے تاحال ونڈ شیلڈ شگاف کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

    ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق یہ واقعہ انتہائی نایاب ہے کیونکہ مسافر بردار طیاروں میں ونڈ شیلڈ کا ٹوٹ جانا ایک سنگین حفاظتی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر پائلٹ کی فوری حکمتِ عملی نہ ہوتی تو یہ واقعہ کسی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا تھا۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ساتھ یہ دوسرا واقعہ ہے جو رواں ہفتے پیش آیا۔ صرف دو روز قبل 18 اکتوبر کو شکاگو کے اوہیئر ایئرپورٹ پر یونائیٹڈ ایئرلائنز کے ایک اور طیارے نے غلطی سے دوسرے طیارے کی ٹیل سے ٹکر ماری تھی۔ خوش قسمتی سے اُس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور 113 مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

  • وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں،جسٹس شاہد بلال

    وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں،جسٹس شاہد بلال

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں‌پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے کیس کی سماعت کی جس دوران سینئر وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے،وکیل اکرم شیخ نے کہا میری درخواست ہے کہ 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے، مزید کسی جج کو شامل کرکے کورٹ مزید پیک نہ کیا جائے، مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ججز پر چھوڑتا ہوں، 26 ویں ترمیم نے پورے آئین کی بنیاد اور ریاست کا ایک عضو توڑ کر رکھ دیا ہے، امید ہے کہ اللہ ججز کو ہمت دے گا اور وہ 26 ویں ترمیم کو کالعدم قرار دیں گے، فل کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ 8 ججز یہ کیس نہیں سن سکتے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کہاجائے کہ فل کورٹ میں بیٹھیں توہم آئینی بینچ کی ٹوپی اتار کر دوسری پہن لیں گے،جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ آپ نےکہا کہ ہم 8ججز 26 ویں ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے کہ ہم بینیفشری ہیں، پھر وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں گے، اکرم شیخ نے کہا کہ اس تنازع کا واحد حل یہی ہے کہ پوری سپریم کورٹ بیٹھ کر اس کو حل کرے۔

    دوران سماعت جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ 26ویں ترمیم متنازع ہے، اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سر انگریزی میں یہی کہوں گا،انڈر چیلنج ہے، آپ کے دائیں بائیں اہل زبان بیٹھے ہیں، سر یہ انگریزی سے اردو ترجمہ کا معاملہ ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بس ٹھیک ہے مان لیا کہ 26 ویں ترمیم متنازع ہے آگے چلیں، جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ 24 کے 24 جج بیٹھ کر اس مقدمے کو سنیں، اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سر میرا یہ مؤقف ہے اگر کسی جج کا کوئی ضمیر خلش کرے یا ملامت ہو تو وہ نا سنے، میرا تو بس یہ مؤقف ہے کہ میری عدالت پر کوئی حرف نہ آئے۔جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ آپ نےکہا خواہش ہے 24 جج یہ کیس سنیں لیکن کوئی قانونی راستہ نہیں دکھایا، آپ کی خواہش تو ایسے ہے کہ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

  • ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ملزم بہادر علی سرکاری دفاتر میں فون کرکے خود کو آرمی کا بریگیڈیئر بتا کر فراڈ کرتا تھا،ملزم نے فروری میں ایس پی ورکشاپس دفتر کال کرکے خود کوحاضر سروس بریگیڈیئر ظاہر کیا،ملزم نے بذریعہ کال مغلپورہ کے صوفی شوکت قادری سے رابطہ کروانے کی درخواست کی،رابطہ کروانے پر ملزم نے شوکت قادری کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک لاکھ روپے بھتہ مانگا، ملزم نے مدرسے کے وضو خانے کے قریب دہشت گردی سے منسوب موبائل سمز موجود ہونے کا انکشاف کیا ،تصدیق کرنے پر ملزم نے جعلی بریگیڈیئر بن کر فرضی نام سے مدرسہ کی انتظامیہ کو بلیک میل کرکے بھتہ مانگا،جس پر ریلویز پولیس نے فروری کے مہینے میں ملزم کیخلاف ٹیلیگراف ایکٹ کے تحت تھانہ مغلپورہ ورکشاپس میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا تھا

    ملزم کی گرفتاری کے لئے ایس پی نے انسپکٹر راشد شاہ زمان اور ایس ایچ او ورکشاپس لیاقت علی سمیت دیگر اہلکاروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دی،ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی بریگیڈیئر ملزم بہادر علی کو گرفتار کرلیا، مزید تفتیش جاری ہے

  • ن لیگی رکن اسمبلی نعیم اعجاز پر دو بھائیوں سمیت مقدمہ درج

    ن لیگی رکن اسمبلی نعیم اعجاز پر دو بھائیوں سمیت مقدمہ درج

    راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود سہال اڈہ پر فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

    پولیس نے واقعے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نعیم اعجاز، ان کے بھائی وسیم اعجاز، ندیم اعجاز اور دیگر ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقتول محمد حسنین کے بھائی اور سابق کونسلر محمد ثقلین کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں قتل، اقدام قتل، اعانت جرم سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق، مقتول کے خاندان کی موضع سہال میں آبائی زمین ہے، جس پر ایم پی اے نعیم اعجاز کے کارندے مسلسل قبضے کی کوشش کرتے آ رہے تھے۔محمد ثقلین کے مطابق، بیس روز قبل انہوں نے دیگر دیہاتیوں کے ساتھ ایم پی اے کے خلاف زمینوں پر قبضے کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔بعدازاں معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور اسی سلسلے میں محمد ارشاد کے گھر مشاورت کے بعد مقتول اپنے چچا اور دیگر اہلِ علاقہ کے ہمراہ سہال چوک پہنچے۔ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران وسیم اعجاز، علی عمران، رمان عمران، وحید اور دیگر 10 سے 15 افراد اسلحہ، آہنی راڈ اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر ویگو ڈالوں میں وہاں پہنچے اور آتے ہی شدید فائرنگ اور حملہ کر دیا۔حملے میں محمد حسنین، تجمل اسرار اور چچا مشتاق زخمی ہو گئے۔ حسنین کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ ایم پی اے نعیم اعجاز اور ان کے بھائیوں کی ایما پر کیا گیا اور اس کا مقصد زمین پر قبضہ کرنا تھا۔واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین اور مقامی افراد نے سہال روڈ پر شدید احتجاج کیا۔پولیس حکام اور اے ایس پی صدر زینب ایوب نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرایا، جس کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کا میڈیکل کروا کر مقدمہ درج کیا گیا۔

  • اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک

    اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک

    اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک ہوگئے، 14 کو ریسکیو کرلیا گیا، باقی کی تلاش جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اٹلی کے قریب تارکین وطن کی دو کشتیاں ڈوب گئیں، ایک کشتی میں پاکستانی، اریٹیریا اور صومالیہ کے 85 باشندے سوار تھے، 2 افراد ہلاک جبکہ 14 کو ریسکیو کرلیا گیا، باقی کی تلاش جاری ہے۔دوسری کشتی میں 35 افراد سوار تھے۔ اطالوی حکام نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 24 تاحال لاپتہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014ء سے اب تک 32 ہزار 700 افراد یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • علیمہ خان کے تیسری بار وارنٹ گرفتاری جاری

    علیمہ خان کے تیسری بار وارنٹ گرفتاری جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے مسلسل عدم پیشی پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی،علیمہ خان کے علاوہ مقدمے میں نامزد 10 ملزمان عدالت پیش ہوئے جبکہ استغاثہ کے پانچ گواہان بھی مال مقدمہ سمیت عدالت پیش ہوئے،عدالت نے علیمہ خان کی عدم حاضری پر تیسری مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے،عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 22 اکتوبر کو پیش کریں،انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کی جائیداد کی دستاویزات کی تصدیق کیلئے ڈی سی راولپنڈی کو ہدایات جاری کر دیں۔

  • را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے لگے

    را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے لگے

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے کی سازش بے نقاب ہو گئی

    راسے منسلک ایک ہندوستانی اکاؤنٹ نے پہلی بار یہی ویڈیو 21 مارچ 2024 کو پوسٹ کی تھی ،جس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹی ٹی پی کے حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسی اکاؤنٹ نے اب 20 اکتوبر 2025 کو ایک نئی من گھڑت کہانی کے ساتھ ایک جیسی فوٹیج کو ری سائیکل کیا ہے۔ کم از کم پروپیگنڈے اور پرانی فوٹیج کو دوبارہ استعمال کرنے کا کوئی معیار ہونا چاہیے لیکن ان بھارتی را کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس کے پاس واضح طور پر کوئی نہیں ہے۔

    https://x.com/fcheckmaster/status/1980150897381380564

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر بازیابی کیس،پولیس کو 3 دن کی مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر بازیابی کیس،پولیس کو 3 دن کی مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی بازیابی کیلئے پولیس کو 3 دن کی مہلت دے دی۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ افسر بازیاب نہ ہوسکا تو آئی جی اور ڈی جی این سی سی آئی اے ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔دوسری جانب مغوی کی درخواست گزار اہلیہ روزینہ عثمان کے بھی لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کا فون بند جارہا ہے، ان سے کوئی رابطہ نہیں، درخواست گزار نے فون پر بتایا تھا کہ پٹیشن واپس لینے کیلئے دباؤ ہے، مغوی افسر اہم کیسز پر کام کررہے تھے، سفید کار میں اغواء کیا گیا۔وکیل نے بتایا کہ اغواء میں استعمال کی گئی گاڑی کی نمبر پلیٹ ہی جعلی ہے۔ جسٹس اعظم خان نے سوال کیا کہ مشکوک نمبر پلیٹ والی گاڑی اسلام آباد میں کیسے چل رہی تھی؟، درخواست گزار کو جو کالز آئیں، ان کا بھی پتہ کرائیں۔

    پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کوشش ہے کہ آج شام تک ہی مغوی کو بازیاب کرائیں لیکن 7 دن کی مہلت دے دیں۔ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ بازیاب کرائیں ورنہ ہم بھی وہی شروع کردیں گے جو باقی بینچ کررہے تھے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ درج ہوچکا، استدعا ہے پولیس کو تفتیش کیلئے کچھ وقت دے دیں۔

    واضح رہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عثمان کو 14 اکتوبر کو اپارٹمنٹ کی پارکنگ سے اغواء کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ شمس کالونی میں درج ہے۔

  • فیصل مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ ویڈیو،درخواست پر نوٹس جاری

    فیصل مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ ویڈیو،درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل مسجد کی حرمت سے متعلق درخواست پر انچارج مسجد کو نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک شہری کی درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں،عدالت کی جانب سے ڈی سی اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے اور وزارت مذہبی امور کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی پولیس کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ ہم اس متعلق کس کو ہدایات دیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انچارج فیصل مسجد سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، وکیل نے استدعا کی کہ مسجد کی حرمت کے منافی فوٹوز اور ویڈیوز بنانے پر پابندی لگائی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز سے مشاہدے میں آیا کہ کچھ لوگ مسجد کے احاطے میں غیر شائستہ وڈیوز بناتے ہیں، موسیقی اور رقص کے ساتھ بنائی گئی وڈیوز سے مسجد کی حرمت اور وقار مجروح ہوتا ہے،مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ بنائی گئی وڈیوز مسجد کے تقدس کے خلاف ہیں، مسجد کی بے حرمتی آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے،مسجد کے انچارج ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کو تحریری شکایات بھجوائیں، کوئی کاروائی نہیں ہوئی، وزیر مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد کو بھی تحریری شکایات بھجوائی جا چکی ہیں،فحش یا نامناسب لباس میں مسجد میں داخلے اور رقص و موسیقی کے ساتھ وڈیوز بنانے پر پابندی عائد کی جائے،