Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے علاقے مچھ  میں فتنہ الہندوستان کیخلاف بڑی کارروائی

    سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے علاقے مچھ میں فتنہ الہندوستان کیخلاف بڑی کارروائی

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے مچھ میں فتنہ الہندوستان کیخلاف بڑی کارروائی کی ہے

    مچھ کے علاقے میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی پہاڑوں میں موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا،سکیورٹی فورسز نے مچھ کے پہاڑوں میں چھپے دہشتگردوں کیخلاف سٹرائیکس کیں،سکیورٹی فورسز کی ان سٹرائیکس میں اب تک 25 سے 30 دہشتگرد جہنم واصل ہوچکے ہیں،دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر سٹرائیکس کے نتیجے میں بھاری نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کی عفریت کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں،پاکستان سے آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا

  • او آئی سی اجلاس، پاکستان کی صیہونی "گریٹر اسرائیل” منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت

    او آئی سی اجلاس، پاکستان کی صیہونی "گریٹر اسرائیل” منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت

    سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں فلسطین اور غزہ کی تازہ ترین تشویشناک صورت حال زیر بحث آئی۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی، جنہوں نے صیہونی "گریٹر اسرائیل” منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی "گریٹر اسرائیل” منصوبہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کرے تاکہ فلسطینی عوام کو انصاف اور سلامتی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد پر ترکی، ایران اور فلسطین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، اور گزشتہ دو سالوں سے بچوں سمیت ہزاروں معصوم فلسطینیان اس ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ تقریباً 60 ہزار بچوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور فلسطین میں شدید قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے فوری حل کے لیے عالمی برادری کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی مکمل اور محفوظ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے عالمی برادری کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غیر قانونی قبضے اور جبری بے دخلی کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے 1967 کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جو کہ دیرپا امن کی ضمانت ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں سعودی عرب نے بھی صیہونی "گریٹر اسرائیل” منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی ہی ہے اور اسرائیل کی غزہ میں یکطرفہ کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے توسیع پسندانہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "گریٹر اسرائیل” وژن کسی صورت قابل قبول نہیں اور غزہ میں اسرائیل کی کاروائیاں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی غزہ پر اسرائیلی قبضے اور "گریٹر اسرائیل” کے قیام کے اعلان کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور تمام فریقین سے امن قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اجلاس سے قبل نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے ملاقات کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اسے "اپنے بھائی سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ملاقات” قرار دیا۔ملاقات میں غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی، اور پاک سعودی دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  • عمران خان نے مریم نواز کیخلاف درخواست دے دی

    عمران خان نے مریم نواز کیخلاف درخواست دے دی

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر اعلیٰ پنجاب پر مقدمے کیلئے کیپیٹل پولیس آفیسر (سی پی او) کو درخواست دے دی۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل تابش فاروق نے درخواست کوریئر سروس کے ذریعے سی پی او آفس بھیجی، وکیل نے وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 8 ارکان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ہے۔درخواست میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) زینب، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اعزاز کو بھی فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں سپرنٹنڈنٹ جیل سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمے کے لیے نام شامل ہیں۔درخواست میں بانی پی ٹی آئی کو قید میں سہولیات نہ ملنے کا نقطہ اٹھایا گیا اور کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو وزیراعلیٰ کی ہدایت پر جیل میں قیدی کے حقوق تک نہیں دیے جا رہے، بانی پی ٹی آئی کے سیل میں روشنی تک نہیں۔متن میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات تک کی اجازت نہیں، ان کے خلاف یہ تمام اقدامات مریم نواز کی ایماء پر کیے جارہے ہیں، اڈیالہ جیل پنجاب کی حدود میں آتا ہے، مریم نواز ماضی میں دھمکیاں دے چکی ہیں، مریم نواز نے دھمکیاں دیں کہ بانی پی ٹی آئی ایک فتنہ ہیں جسے ختم کیا جا رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ اے ایس پی اور ایس ایچ او سمیت چوکی انچارج باہم مشورے سے اہل خانہ کو ہراساں کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات اور بہنوں سے نہ ملنے پر ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، مریم نواز سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

  • سلمان اکرم راجہ کا پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ

    سلمان اکرم راجہ کا پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھاکہ پچھلے منگل میں نے علی بخاری ایڈووکیٹ کے ذریعے عمران خان صاحب کو درخواست بھیجی تھی کہ پارٹی ممبران کو بے تحاشہ ناحق سزاؤں کے پیش نظر مجھے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹ کر قانونی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے دی جائے۔ خان صاحب نے میری درخواست منظور نہ کی۔ میں انکے اعتماد پر شکر گزار ہوں۔میری تمام وکالتی اور فکری زندگی ان اصولوں کے تابع رہی ہے جو میری سرشت کا حصہ ہیں: انسان کی عزت جو جمہوریت کی اساس ہے، خواتین اور اقلیتوں پر معاشرتی اور ریاستی جبر کیخلاف مزاحمت ، معاشی انصاف اور قانون و آئین کی بالادستی۔مزدوروں اور پنشنروں کے حقوق کی قانونی جنگ، NRO کیخلاف ڈاکٹر مبشر کی وکالت، جمہوری عمل میں عسکری مداخلت کیخلاف ائر مارشل اصغر خان کی وکالت سے لے کر مقدموں کی طویل فہرست ہے جن میں مجھے اپنے اصولوں کا ساتھ دینے کا موقع ملا۔پی ٹی آئی کے ابتلا کے دور میں میں نے خان صاحب کی ہدایت پر قانونی معاونت کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ میرا مقصد آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کی جد و جہد میں حصہ ڈالنا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے تن، من، دھن سے اس مقصد کے حصول میں حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔خان صاحب نے حساس ترین مقدمات میرے سپرد کیے۔ ٹیریان، عدت، سائفر میں کھلی عدالت کا حصول، فوجی عدالتوں کیخلاف آئینی جنگ، مخصوص نشستوں کا مقدمہ اور دیگر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی ہوئی۔ جبر کو ۲۶ ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں اور مخصوص نشستوں کے فیصلوں کو الٹانا پڑا۔سیاسی میدان میں میں نے اپنے آپ کو عمران خان کے آئینی و جمہوری نظرئے کا امین سمجھا ہے۔ ہر فورم پر اس نظریے کے دفاع اور ترویج کیلئے اپنے وجود کو وقف کئے رکھا۔ اس پاداش میں مجھے دہشتگردی کے بیس جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیا گیا ہے۔ کوئی غم نہیں۔ جیل سے نہیں ڈرتا۔میں کوئی روایتی سیاست دان نہیں، نہ جاگیردار نہ مل اونر۔ تاہم میرا مختصر خاندان میرے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم نے پارٹی کے اندر اور باہر سے ہر قسم کے رقیق حملوں کو سہا ہے۔ کوئی ملال نہیں۔ اپنی بھرپور وکالت کو پس پشت ڈال کر معاشی بے یقینی کو بخوشی قبول کیا۔آج ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو اب مجھ سے دو ٹوک فیصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ میری زندگی کھلی کتاب ہے۔ میرا کوئی عمل کسی اصول سے متصادم نہیں۔ فکری و معاشی دیانت پر سمجھوتہ مجھے قبول نہیں۔ کل میں خان صاحب سے گزارش کر کے عہدے سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔ میری وکالتی خدمات بلامعاوضہ حاضر رہیں گی۔

  • پی آئی اےنجکاری، چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی،وزارت نجکاری

    پی آئی اےنجکاری، چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی،وزارت نجکاری

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی نجکاری کا ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں قومی ایئر لائن کی نجکاری کا معاملہ زیر غور لایا گیا۔

    وزارت نجکاری کے حکام کا کہنا ہے کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم نے اپنی اسٹیٹمنٹ جمع کروائی، ان کمپنیوں کو ڈیٹا روم تک رسائی دی ہے، انہیں سائٹ ویزٹ کروائے جا رہے ہیں۔حکام وزارت نجکاری کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ سال کی آخری سہ ماہی میں قومی ایئر لائن کی بولی کر لیں، کسی بھی اعتراض کو دیکھا جائے گا، بڈنگ کی لائیو ٹیلی کاسٹ ہوگی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وزارت بھی حلف دے کہ کسی ایک کمپنی کی طرف داری نہیں کی جائے گی،حکام نے کہا کہ کسی کی طرف داری کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس سے سارے نجکاری عمل پر سمجھوتا ہو جائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف ہواہے ،جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہواہے ،پی آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے باجود جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف ایکشن نہیں لیا،جعلی ڈگری کے 7 پائلٹس عدالت سے اسٹے آرڈر لے کر کام کر رہے ہیں،جعلی ڈگری والے 52 انجینئرنگ عملہ/افسران میں سے36اب بھی سروس میں ہیں،آڈٹ نے جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی ۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ2024-25 کے مطابق پی آئی اے کوجعلی ڈگریوں پر افسران / عہدیداروں کی تقرری سے 9کروڑ72لاکھ روپے نقصان ہواہے ۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے 8 مارچ 2011 کو ہدایت دی کہ تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کی ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ان کے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے کی جائے اور غیر ملکی ڈگریوں کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے کی جائے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے (2009 SCR 1492)میں جعلی ڈگری کے مقدمات کی سنگینی پر زور دیا گیا تھا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کے پرسنل پالیسی مینول کے پیرا 75 (aj) اور پیرا 76 (h) کے مطابق، غلط معلومات فراہم کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کے نام، عمر، والد کے نام، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کوائف، پچھلی خدمات یا تجربے کی غلط تفصیلات دینا شامل ہے۔ یہ misconduct ہے، چاہے یہ کارپوریشن میں شمولیت کے وقت ہو یا دورانِ ملازمت، اور اس کی سزا برطرفی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL)، اسلام آباد اسٹیشن کے 2021-2023 کے سالانہ آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انتظامیہ نے مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر 27ملازمین کو جعلی ڈگریوں پر تقرری کی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL) کی 2008-2017 کی خصوصی آڈٹ کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی کہ 458 ملازمین کی ڈگریاں / اسناد جعلی تھیں، جن میں سے 208 ملازمین کو برطرف / ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔458 جعلی ڈگر ی والے ملازمین 16 پائلٹس بھی شامل تھے جس میں سے7 پائلٹس اب بھی عدالت کے اسٹے آرڈر کی وجہ سے کام کر رہے ہیں، 52 انجینئرنگ عملہ/افسران شامل تھے جن میں سے 36 اب بھی کام کررہے ہیں ۔67افسران (AM سے DGM تک)اور 33 ایئرہوسٹسز بھی جعلی ڈگری والوں میں شامل تھیں۔ آڈٹ کاکہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کو تعینات کیا گیا اور ان کی اسناد کو بروقت انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نہیں کروایا گیا۔ مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق جعلی ڈگریوں والے 42 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔آڈٹ کا کہناہے کہ جعلی ڈگریوں پر تقرریوں کی جاری رکھنے سے انتظامیہ کی غفلت ظاہر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں 97.200 ملین روپے کی غیر قانونی تنخواہ کی ادائیگی ہوئی۔ انتظامیہ نے ان ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے جعلی ڈگریاں / اسناد فراہم کیں۔آڈٹ نے سفارش ہے کہ انتظامیہ جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرے۔ترجمان پی آئی اے کاکہناہے کہ جعلی ڈگریوں والے پائلٹ جہاز نہیں چلارہے اور نہ ہی نوکری پر ہیں ۔

  • سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات کے علاقے شانگلہ میں شدید سیلابی ریلے نے گاؤں شائی درہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سیلابی ریلے نے نہ صرف مکانات اور مقامی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ گاؤں کا واحد لڑکیوں کا پرائمری اسکول بھی مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے۔ رابطہ سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان متاثرہ علاقے تک پہنچنے میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جس سے مقامی باشندوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زاہد آباد میں سیلاب کے 10 روز گزرنے کے باوجود کئی مکانات اور گلیاں ابھی تک صاف نہیں کی جا سکیں۔ مقامی حکومتی ادارے اور رضاکار مل کر صفائی کے کام میں مصروف ہیں لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب ضلع غذر میں بھی سیلابی تباہی کی لپیٹ میں آ کر چٹورکھنڈ اور گاؤں دائن کو ملانے والا اہم پل گر گیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کا گلگت اور گاہکوچ سے دو ہفتے سے رابطہ منقطع ہے۔ اس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث تالی داس، راوشن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم گلگت شندور روڈ بند ہونے کی وجہ سے بالائی علاقوں کے لیے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

    اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ تالی داس گاؤں کے مکینوں کی آباد کاری کے لیے متبادل گاؤں کے قیام کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی اور نئے گاؤں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ مزید برآں، دائن اور چٹورکھنڈ کے درمیان آر سی سی پل کی تعمیر کے لیے بھی وفاقی تعاون درکار ہے تاکہ رابطہ دوبارہ بحال ہو سکے۔

  • پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ آمد

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ آمد

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ پہنچ گئے،مرکزی مسلم لیگ خدمت خلق لاہور کے صدر عمار حنیف نے بیرسٹر گوہر کو خوش آمدید کہا،بیرسٹر گوہر نے امدادی کیمپ کا دورہ کیا، ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا، رضاکاروں سے ملاقات کی،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ پر کھانا بھی کھایا،بیرسٹر گوہر نے بہترین امدادی سرگرمیوں پر مرکزی مسلم لیگ کےکردار کو سراہا

    اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ سیلاب اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، ابھی تک 14 افراد مسنگ ہیں،خیبر پختونخوا میں 10 ضلعے متاثر ، 236 اموات، 120 زخمی ہیں،470 دکانیں، 875 گھر تباہ، 55 ہزار ایکڑ پر فیصلیں تباہ ہوئی ہیں،صرف ضلع بونیر میں 29 سکول تباہ ،14 صحت کے سنٹر تباہ ہوئے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ایک ایک لمحے کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بھی مرکزی مسلم لیگ کا مشکور ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کھانا ،راشن ،عزت دے رہے،بااخلاق رضاکار ہیں،یہاں ہوٹلوں میں ایسا کھانا نہیں ملتا جو مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کھلا رہے ہیں،جو اموات ہوئیں ،انکے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں

  • سیلاب کی پیشگی اطلاع، بھارت کا 24 گھنٹوں میں پاکستان سے دوسری بار رابطہ

    سیلاب کی پیشگی اطلاع، بھارت کا 24 گھنٹوں میں پاکستان سے دوسری بار رابطہ

    اسلام آباد: بھارت نے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان سے دوبارہ رابطہ کر کے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے پیشگی اطلاعات فراہم کی ہیں۔ یہ اطلاعات سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے وزارت خارجہ پاکستان کو دی گئی ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی طرف سے ماضی میں بھی سیلابی پانی کی معلومات دی جاتی رہی ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس بار یہ رابطہ سندھ طاس معاہدے کے بجائے سفارتی چینلز کے ذریعے کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے تصدیق کی کہ بھارت نے 24 اگست کو دریائے ستلج میں سیلاب کی وارننگز سندھ طاس کمیشن کی بجائے براہ راست سفارتی رابطوں سے پاکستان کو دی ہیں۔ اس موقع پر پاکستان نے بھارت کو واضح کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔

    شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل قرار دینا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کا خواہاں ہے، لیکن تمام فریقین کو قانونی معاہدوں کا احترام کرنا ہوگا۔

    یہ رابطہ بھارت کی جانب سے گزشتہ رات بھی کیا گیا تھا، جب پاکستان کو دریائے طوی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان سے پہلا بڑا رابطہ تھا۔

    مئی میں ہوئی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کے تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم قانونی فریم ورک ہے جس کا احترام لازم ہے۔

  • مودی بھی عمران خان کے نقش  قدم پر،امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے فرم ہائر کر لی

    مودی بھی عمران خان کے نقش قدم پر،امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے فرم ہائر کر لی

    مودی بھی عمران خان کے نقش قدم پر ،بھارت نے امریکی صدر کی بے رخی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات کی بہتری کے لیے لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں

    غیر ملکی خبر ایجنسی بلوم برگ کے مطابق امریکا سے ناخوشگوار تعلقات اور 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھارت نے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات کی بہتری کے لیے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں،واشنگٹن میں موجود بھارتی سفارت خانے نے ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات رکھنے والی فرم کی خدمات حاصل کی ہیں جو ماضی میں بھی امریکا کی طرف سے نشانہ بنائے جانے والے غیر ملکی اداروں کے لیے بھی لابنگ کرتی رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی سفارتخانے اس حوالے سے 18 اگست کو ایک معاہدہ کیا جس کے تحت حکومتی تعلقات، میڈیا تعلقات اور دیگر خدمات فراہم کرنے کے بدلے بھارتی سفارتخانہ لابنگ فرم Mercury Public Affairs LLC کو ماہانہ 75 ہزار ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ہے، بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ کرنے کا بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پرٹیرف 50 فیصد کردیا تھا جب کہ ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت جنگ میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت انکاری ہے

  • ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی غیرآئینی ہے۔شہلا رضا

    ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی غیرآئینی ہے۔شہلا رضا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر اگلے اجلاس میں رانا ثناء اللّٰہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ثناء اللّٰہ مستی خیل کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی ممبران نے وزیر بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللّٰہ کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا،اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللّٰہ کے ساتھ میرا بہت پیار والا تعلق ہے، میں ان کی بھائیوں کی طرح عزت کرتا ہوں۔ رانا ثناءاللّٰہ کمیٹی میں نہیں آتے، اگلی بار وہ نہ آئے تو کمیٹی اجلاس نہیں ہوگا،ثناءاللّٰہ مستی خیل کا کہنا تھا کہ اگست کا مہینہ مقدس ہے، عوام متحد ہیں، سب نے مل کر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔ ملک سب سے پہلے ہے سیاست بعد میں ہوتی رہے گی۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا خیرمقدم کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے کہا کہ پاکستان کا نام بلند کرنے پر کمیٹی آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ سیکریٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے ہاکی فیڈریشن کے آئین سے متعلق کمیٹی ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 10 سال قومی ہاکی ٹیم کی خدمت کی، ورلڈ چیمپئن ٹیم کا حصہ رہا، ایک طویل کیریئر کے بعد میں ہاکی فیڈریشن میں بطور سیکریٹری جنرل تعینات ہوا ہوں۔رانا مجاہد نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کو ایک کروڑ 30 لاکھ روپے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے دیا گیا، ہم فیلڈ مارشل کی زیر نگرانی پاکستان ہاکی لیگ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں، پاکستان سپر لیگ طرز کی پاکستان ہاکی لیگ ہونے جا رہی ہیں، ایسی لیگ 20 سال میں کبھی نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ پرو لیگ بہت بڑا ایونٹ ہے، جس میں دنیا کی 10 بہترین ٹیمیں حصہ لیتی ہیں، پرو لیگ میں شرکت کے لیے 35 کروڑ روپے درکار ہیں۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اثاثے نہیں ہیں جس سے ہاکی فیڈریشن منافع کما سکے، دو سال قبل تک پاکستان اسپورٹس بورڈ 35 لاکھ ماہانہ دیا کرتا تھا، اب نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے گرانٹ دی، 2024 میں وزیراعظم شہباز شریف نے 5 کروڑ گرانٹ دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم 17ویں اور 18ویں نمبر کی ٹیموں سے جیت کر 15ویں نمبر پر آئی ہے، ٹاپ ٹین والی پرو ہاکی لیگ شرکت کرنے جا رہی ہے، ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد کی تعیناتی بھی غیرآئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے 2 قومی کھلاڑی بیرونِ ملک جا کر غائب ہو گئے ہیں۔

    قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آفتاب احمد ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ذیلی کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے جبکہ خواجہ اظہار، شہلا رضا، یوسف خان، وسیم قادر، مہرین رزاق ذیلی ممبران کمیٹی ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی ہاکی فیڈریشن کی باڈی کی قانونی حیثیت اور مالی معاملات کا جائزہ لے گی، ذیلی کمیٹی ایک ہفتے میں ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔