Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شہری سے لوٹ مار کرنے والے دو ڈاکوؤں میں سے ایک ہلاک

    شہری سے لوٹ مار کرنے والے دو ڈاکوؤں میں سے ایک ہلاک

    کراچی کے علاقے ڈیفنس ویو میں دو ملزمان نے شہری سے لوٹ مار کی کوشش کی، جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو موصول ہوئی۔ پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تو انہوں نے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور شہری کے مشترکہ رد عمل کے نتیجے میں ڈاکوؤں پر فائرنگ ہوئی۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو موقع پر ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ زخمی ملزم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک شدہ ڈاکو کی شناخت بھی پولیس نے کر لی ہے اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔پولیس نے شہری کی ہمت اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جرائم پیشہ افراد کو سخت پیغام جائے گا کہ وہ شہر میں امن و امان خراب نہیں کر سکتے۔پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ باقی ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔ علاقے میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

  • گلگت،18 میگا واٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا،بجلی معطل

    گلگت،18 میگا واٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا،بجلی معطل

    گلگت کے علاقے نلتر میں ایک بار پھر سیلاب آنے سے 18 میگاواٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا۔

    پاور ڈویژن کے مطابق نلتر نالے میں دوبارہ طغیانی آنے کے باعث پاور کمپلیکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، سیلاب کی وجہ سے ایکسکیویٹر کی رسائی بند ہوگئی ہے اور امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں،حکام کے مطابق پاور کمپلیکس کا ہیڈ ورکس سیلاب میں بہہ جانے کے بعد گلگت شہر کو بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہوگئی ہے، شہر میں بجلی کا مکمل بلیک آؤٹ ہے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پاور ہاؤس کی بحالی کا کام سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

  • مری اسلام آباد ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ

    مری اسلام آباد ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ

    مری: مری اسلام آباد ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پہاڑ سے گرنے والے بڑے پتھروں نے سڑک کے نصف حصے کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) مری نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے والے علاقے میں بڑے بڑے پتھر سڑک پر گرنے سے راستہ جزوی طور پر بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سڑک کے متاثرہ حصے کو حفاظتی وجوہات کی بناء پر مکمل طور پر ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    ڈی سی مری نے مزید کہا کہ ایکسپریس وے کے دیگر حصوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جس کی وجہ سے سڑک کی مکمل صفائی اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام فوری طور پر صفائی اور مرمت کے کاموں میں مصروف ہیں تاکہ مری اسلام آباد ایکسپریس وے کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔

    علاقائی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وقت اس راستے سے سفر کرنے سے گریز کریں اور متبادل راستے استعمال کریں تاکہ ٹریفک کا نظام متاثر نہ ہو۔مری اسلام آباد ایکسپریس وے کی بندش کے باعث سیاحوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جلد صورتحال بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی،فیصلہ

    عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی،فیصلہ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی، اجلاس میں ایس او پیز کی منظوری بھی دے دی گئی،اجلاس میں انصاف کی فراہمی میں تیزی اور اسے مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ عدالتی امور میں بیرونی مداخلت کی صورت میں جج کو 24 گھنٹے میں شکایت درج کرانا ہوگی، شکایت کرنے والے جج کے وقار کو ہر صورت میں ملحوظ رکھا جائے گا اور بیرونی مداخلت کی جج کی شکایت پر فیصلہ 14 روز میں کیا جائے گا،کمرشل مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کےلیے جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

    اجلاس میں مختلف نوعیت کےکیسز کی تکمیل کےلیے ٹائم لائن بھی طےکر لی گئی جس کے تحت کرایہ داری اور عائلی مقدمات 6 ماہ میں نمٹائے جائیں گے، قتل کےکیسز زیادہ سے زیادہ 2 سال میں نمٹانا ہوں گے جبکہ جائیداد اور وراثت کےکیسز 12 ماہ میں نمٹائے جائیں گے،اسی کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگی کےکیسز میں زیر حراست شخص کو 24گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے گا، اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو سراہا گیا،اجلاس میں فیصلہ ہواکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پالیسی فورم کے قیام اور ججز کی فلاح و بہبود کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی،اجلاس میں معلومات و شکایات کے ازالے کے لیے ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں فورمز قائم کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ اسپیشل کورٹس و ٹریبونلز کے ججز کی واپسی میں تاخیر کا معاملہ حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی، نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا اگلا اجلاس 17 اکتوبر 2025 کو ہوگا

  • اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور

    اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور

    سینیٹر فوزیہ ارشد کا اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور کرلیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر کے لڑکے کو ملازمت پر بھرتی نہیں کیا جائے گا جبکہ اس سے بڑی عمر کے لڑکے کوئی نقصان دہ کام کرنے نہیں دیا جائے گا، 14 سال سے بڑی عمر کے لڑکے سے 3 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا، لڑکے سے ایسا کام لیا جائے گا جس سے اُس کی تعلیم متاثر نہ ہو،14 سال سے بڑی عمر کے لڑکے سے شام 7 سے صبح 8 بجے تک کی ملازمت نہیں لی جائے گی،14 سال سے کم عمر بچے کو ملازم رکھنے پر 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگاجبکہ نقصان دہ کام کےلیے بھرتی کرنے پر1 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال تک سزا ہوگی،بچے کو غلامی، جبری مشقت یا مسلح تنازعات میں استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال قید ہوگی،بچے کو پورنوگرافی کےلیے استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال سزا جبکہ منشیات کے استعمال کرنے پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال سزا ہوگی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اہم اعلان کر دیا ہے۔

    انہوں نے اپنے اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں کا حصہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ خود ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دیں گے، جبکہ کابینہ کے دیگر ارکان اپنی 15 دن کی تنخواہ عطیہ کریں گے۔مزید برآں، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی 7 دن کی تنخواہ، اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی دو دن کی تنخواہ اور اسکیل 1 سے 16 تک کے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے مختص کی جائے گی۔ یہ اقدام متاثرین کی فوری مدد اور ریلیف کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے عطیات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے (پبلک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جس میں فنڈ کی ایک ایک پائی کا مکمل حساب رکھا جائے گا۔ عوام کو اس فنڈ کی تفصیلات سے مکمل آگاہ رکھا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔اسی سلسلے میں، وزیر اعلیٰ نے کمشنر مردان ڈویژن اور دیگر حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی خصوصی ہدایت بھی دی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر پشاور، مردان، صوابی اور ایبٹ آباد میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 15 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی راستے بند ہو چکے ہیں۔ کرنل شیر ندی میں دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

    مردان میں بارشوں کی وجہ سے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور سیلابی ریلے نے گاڑیاں بھی بہا لے جانے کے علاوہ گھروں میں پانی داخل کر دیا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    خیبر پختونخوا سیلاب،پاک فوج کا ہنگامی ریسکیو اور امدادی کام جاری

    پاک فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول بونیر، شانگلہ اور سوات میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو آپریشنز تیزی سے انجام دے کر متاثرین کی جان بچانے کے لیے انتھک محنت جاری رکھی ہوئی ہے۔

    خیبر پختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن کے تحت فوج کے دستے ٹوٹے ہوئے پلوں اور بند راستوں کو کھولنے میں مصروف ہیں تاکہ امدادی سامان اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔موسم کی خراب صورتحال کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے علاوہ ضروری اشیاء کی فراہمی بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے ڈاکٹرز کی ٹیمیں میڈیکل کیمپ لگا کر مفت ادویات فراہم کر رہی ہیں، تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد دی جا سکے۔

    پاک فوج ایک دن کے راشن کی اشیاء بھی ضرورت مند افراد تک پہنچا رہی ہے، جن میں خوراک، پانی، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، متاثرہ خاندانوں کو بستر، ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ عارضی طور پر محفوظ رہ سکیں۔ فوجی جوان ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں اور صورتحال کو قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔یہ امدادی کارروائیاں پاک فوج کی عوام کے لیے خدمت اور قربانی کے جذبے کی عکاس ہیں، جو مشکل وقت میں ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

  • راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں حادثات، 6 افراد جاں بحق

    راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں حادثات، 6 افراد جاں بحق

    راولا کوٹ اور دریائے نیلم کے علاقوں میں گاڑیوں کے دو افسوسناک حادثات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    پولیس کے مطابق راولا کوٹ کے قریب پونچھ یونیورسٹی کے تراڑ کیمپس کے پاس ایک کار نالے میں بہہ گئی۔ اس حادثے میں پونچھ یونیورسٹی کی ایک خاتون لیکچرار جان بحق ہوگئیں۔ متاثرہ خاتون کا نام گل لالہ بتایا گیا ہے جو راولا کوٹ کے نواحی علاقے کھڑک سے تعلق رکھتی تھیں۔پولیس نے بتایا کہ لیکچرار کی گاڑی تراڑ کیمپس کے قریب نالے سے گزر رہی تھی کہ اچانک گاڑی بند ہوگئی۔ اس دوران نالے میں پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی اور گاڑی بہہ گئی۔ حادثے کے بعد نالے میں بہہ جانے والی گاڑی میں موجود ڈاکٹر گل لالہ کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب گریس ویلی کے علاقے میں ایک اور گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں کہ گاڑی کیوں اور کیسے نیلم میں گری۔دونوں حادثات نے علاقے میں غم و الم کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں لاشوں کی بازیابی اور مزید تفتیش میں مصروف ہیں۔

  • کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ،فچ

    کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ،فچ

    عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے پاکستان کے بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    ریٹنگ ایجنسی کے مطابق معاشی دباؤ کم، کاروباری حالات بہتر اور پاکستان کا قرض منظر نامہ مضبوط ہوا ہے، پاکستان کی معاشی بحالی مشکل دور اور بلند افراط زر کے بعد آئی ہے، حقیقی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد ہو جائے گی،فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی شعبے کی قرضوں کی طلب بڑھے گی، بینکوں کی بڑی سرمایہ کاری حکومتی سکیورٹیز میں ہے، بینکوں نے ریاستی اداروں کو بڑے قرض فراہم کر رکھے ہیں، مشکل حالات میں بینکوں کی کارکردگی بہتر رہی ہے،ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بینکوں کے غیر فعال قرضوں کا تناسب 7.6 فیصد سے کم ہوکر 7.1 فیصد ہوا ہے، پاکستان کے بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    خیبرپختونخوا،متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس،400 ریسکیو آپریشن ،وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ تباہ کن بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی مدد و بحالی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس کو این ڈی ایم اے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے مدد کیلئے مقرر کردہ وفاقی وزراء کی جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج و دیگر اداروں کی جانب سے اب تک متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ 400 ریسکیو آپریشن کئے جاچکے. بشمول آج، متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پر مشتمل ٹرک پہنچائے جارہے ہیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے قافلوں کو ترجیحی بنیادوں پر پہلے بھیجا جائے. اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے. این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا. 6 بڑے اسپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے. اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چئیرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکریٹری موصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا. وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیرِ اعظم نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں و سیلاب سے متاثرین کی مدد میں وفاقی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت کر دی،کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں کوئی وفاقی، کوئی صوبائی حکومت نہیں، ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد و بحالی یقینی بنانی ہے. مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے. یہ سیاست کا نہیں، خدمت کا اور لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے.وفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت بھی امدادی رقوم فراہم کریں گے. متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے.متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، سڑکوں و دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وفاقی وزراء خود کریں گے.تمام متعلقہ وزراء خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود جائیں،این ایچ اے شاہراہوں کی بحالی میں صوبائی یا قومی شاہراہوں میں تخصیص نہ کرے، امداد کیلئے راستے کھولنا پہلی ترجیح رکھا جائے.وزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں و پُلّوں کی مرمت یقینی بنائے، وزیرِ موصلات ان علاقوں میں خود جاکر بحالی آپریشن کی نگرانی کریں. وزیرِ اعظم نے وزیر بجلی کو متاثرہ علاقوں میں خود جا کر معائنہ کرنے اور بجلی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروانے کی ہدایت کر دی،این ڈی ایم اے فوری طور پر نقصانات کا حتمی جائزہ پیش کرے.این ڈی ایم اے امدادی اشیاء کی خیبر پختونخوا کے متاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرے.جب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص تک مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں ہوجاتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں رہیں گے. وزرات صحت ادویات و ڈاکٹرز کی ٹیموں کو خیبر پختونخوا بھیجے اور طبی کیمپس قائم کئے جائیں.بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کیا جائے