Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • "کون بنے گا کروڑپتی” میں فوجی وردی میں ملبوس خواتین افسران کی شرکت،نئی بحث

    "کون بنے گا کروڑپتی” میں فوجی وردی میں ملبوس خواتین افسران کی شرکت،نئی بحث

    بھارت میں 15 اگست کی مناسبت سے گیم شو "کون بنے گا کروڑپتی” میں فوجی وردی میں ملبوس خواتین افسران کی شرکت نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی۔ شو میں تین خواتین فوجی افسران نے "آپریشن سندور” کے حوالے سے نام نہاد کامیابی سے متعلق گفتگو کی، جسے ناقدین نے سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔

    بھارتی عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پیشہ ور افسران کا تفریحی گیم شو میں جانا عسکری وقار کے منافی نہیں؟ مشہور بھارتی اداکار پرکاش راج نے طنز کرتے ہوئے کہا، "اب فوجی افسران بگ باس میں بھی آئیں گے، آگے کیا ہوگا؟”ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل فوج کو سیاسی اسٹیج ڈرامہ بنانے کے مترادف ہے۔ شو میں شرکت کے مقصد کو لے کر کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ، کیا یہ پیسہ کمانے، عوامی ہمدردی سمیٹنے یا "آپریشن سندور” کی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے،دنیا بھر سے اس اقدام پر تنقید سامنے آ رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق فوج جیسے ادارے کو اس قسم کے تفریحی مواد کا حصہ بنانا اس کے پیشہ ورانہ وقار کے خلاف ہے،

  • مودی سرکارفرانس سے مزید رافیل  کے معاہدے کی کوششوں میں مصروف

    مودی سرکارفرانس سے مزید رافیل کے معاہدے کی کوششوں میں مصروف

    آپریشن سندور میں رافیل اور SU-30 ایم کے آئی جیسے جدید بھارتی طیاروں کو پاکستانی جے-10C کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنے کے باوجود مودی حکومت ایک بار پھر فرانس سے مزید رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، بھارتی حکومت اسکواڈرن کی گرتی ہوئی تعداد کو مدِنظر رکھتے ہوئے فرانس سے نئے طیارے خریدنے کے لیے MRFA منصوبے کے تحت معاہدہ کرنے کی خواہاں ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ دو ماہ کے اندر دفاعی حصولیاتی کونسل سے منظوری لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور نے بھارتی فضائیہ کی پیشہ ورانہ کمزوری، سیاسی مداخلت اور ناقص حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں پاکستان کی فضائیہ نے بہتر تربیت اور حکمتِ عملی سے برتری حاصل کی، وہیں بھارت کی جانب سے مہنگے ہتھیاروں پر انحصار اور جنگی جنون نے اسے عالمی سطح پر سبکی سے دوچار کیا۔

    ناقدین نے رافیل منصوبے کو مہنگی "خود فریبی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی برتری صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ پیشہ ور پائلٹس، بہتر تربیت اور غیر سیاسی عسکری قیادت سے حاصل ہوتی ہے۔

    بھارتی افواج کی قیادت سیاسی سفارشات، ہندو توا کے نعروں اور رشوت کے کھیل میں الجھی ہوئی ہے۔مودی کا آر ایس ایس بیانیے پر مشتمل جنگی جنون حقیقت میں ہر بار بھارت کو شرمناک شکست سےدوچار کر تا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں اور خود بھارتی عوام کی جانب سے بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ رافیل جیسے ناکام تجربے کے بعد حکومت ایک بار پھر اس پر سرمایہ کیوں لگا رہی ہے؟ کیا یہ اقدام آپریشن سندور کی ہزیمت سے توجہ ہٹانے کی ایک اور ناکام کوشش ہے؟

  • بھارت چین کی5 برس بعد سرحدی تجارت شروع کرنے پر بات چیت

    بھارت چین کی5 برس بعد سرحدی تجارت شروع کرنے پر بات چیت

    بھارت اور چین 5 سال بعد سرحدی تجارت دوبارہ شروع کرنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے محصولات سے متاثرہ عالمی تجارتی نظام میں بھارت چین تعلقات میں نرمی لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ماضی میں برف پوش اور بلند و بالا ہمالیائی سرحدی راستوں سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت ہوتی تھی تاہم اس کا حجم کم ہوتا تھا لیکن پھر بھی اس کی بحالی کو علامتی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔دونوں بڑی اقتصادی طاقتیں طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرتی رہی ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کے نظام سے پیدا ہونے والے عالمی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی بحران کے تناظر میں دونوں ممالک تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گزشتہ روز بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت تمام نامزد تجارتی پوائنٹس یعنی اتراکھنڈ میں لیپولیکھ پاس، ہماچل پردیش میں شپکی لا پاس اور سکم میں ناتھو لا پاس کے ذریعے سرحدی تجارت کو دوبارہ شروع کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے چینی حکام کے ساتھ گفتگو کرراہ ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی مذاکرت کے لیے پیر کو نئی دہلی آمد متوقع ہے جب کہ اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر جولائی میں بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ براہِ راست پروازوں اور سیاحتی ویزوں کے اجرا پر ہونے والے معاہدوں کو بھی 2020 میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان ہونے والی مہلک سرحدی جھڑپ سے متاثرہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مانسہرہ ،کارسیلابی ریلے میں بہہ گئیم دو جاں بحق، ایک زخمی

    مانسہرہ ،کارسیلابی ریلے میں بہہ گئیم دو جاں بحق، ایک زخمی

    مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں شدید سیلابی ریلے کے باعث ایک گاڑی بہہ گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت گاڑی میں کل چھ افراد سوار تھے۔ سیلاب کی طاقت کے سامنے گاڑی قابو سے باہر ہو گئی اور تیز پانی کے بہاؤ میں بہہ گئی۔ حادثے میں دو افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دیگر تین افراد کو بچا لیا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور لاشوں کو نکال کر اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے کی وجہ سے علاقے میں صورتحال خراب ہے اور مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔

    مقامی انتظامیہ نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ خطرناک علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے تعاون کو یقینی بنائیں۔

  • لاہور جمخانہ کلب ، یوم آزادی پر برج ٹورنامنٹ،فاتحین میں مبشر لقمان نے انعامات تقسیم کئے

    لاہور جمخانہ کلب ، یوم آزادی پر برج ٹورنامنٹ،فاتحین میں مبشر لقمان نے انعامات تقسیم کئے

    پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر لاہور جمخانہ کلب میں 14 اگست کو منعقد ہونے والے اوپن پیئرز برج ٹورنامنٹ نے شائقین اور کھلاڑیوں کو ذہنی کھیل کا ایک شاندار نظارہ پیش کیا۔ دو مختلف سیکشنز میں کھیلا گیا یہ مقابلہ سنسنی خیز اور دلچسپ رہا، جہاں لاہور کے نمایاں برج کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    وقار الدین وکی اور ائیر کموڈور صدفر نے 263.55 پوائنٹس کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھائی اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کے بعد ضیاء حیدر اور احسن قریشی نے 257.95 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہ کر کڑا مقابلہ کیا۔ تیسرے نمبر پر ساجد نبی ملک اور رشید نبی ملک رہے جنہوں نے 239.95 پوائنٹس حاصل کیے۔

    حمزہ اور شانی نے 264.70 پوائنٹس کے ساتھ ٹورنامنٹ جیتا، جب کہ ارسلان ایم اور خالد ایم نے 249.70 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر جگہ بنائی۔ فرخ لیاقت اور جنید سعید نے 240.90 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کی حکمت عملی اور مہارت نے حاضرین کو محظوظ کیا، جبکہ کھلاڑیوں کے مابین بھائی چارہ اور دوستی کا ماحول بھی دیکھنے کو ملا۔ لاہور جمخانہ کلب کے شاندار انتظامات اور خوشگوار ماحول نے اس ایونٹ کو کامیاب اور یادگار بنایا۔فاتحین کو نقد انعام اور ٹرافیاں دی گئیں،برج ٹورنامنٹ کے اختتام پر پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے، اس موقع پر مبشر لقمان نے جیتنے والوں کو مبارکباد دی اور شرکا کا شکریہ بھی ادا کیا، اس موقع پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برج کو فروغ دینے کے لئے پاکستان برج فیڈریشن عملی کردار ادا کر رہی ہے،

  • باجوڑ،سیلاب،لینڈ سائیڈنگ،گھر تباہ،9 افراد کی موت،متعدد لاپتہ

    باجوڑ،سیلاب،لینڈ سائیڈنگ،گھر تباہ،9 افراد کی موت،متعدد لاپتہ

    باجوڑ میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد گھر تباہ ہو گئے جبکہ مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق باجوڑ میں جبراڑئی کے علاقے میں سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے، مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے جبکہ 17 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے،ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی اور اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی تحصیل سالارزئی کے علاقہ جبراڑئی میں امدادی کاموں کے نگرانی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں کلاؤ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی بارش کے بعد مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    علاوہ ازیں خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں مکان کی چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے،یہ افسوسناک حادثہ لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیش آیا جہاں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک بچی سمیت 5 افرادجاں بحق ہوگئے۔حادثے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

  • بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ

    بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ

    بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر وادی میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی کُل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے، جس کے باعث کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے خلاف اپنی یکجہتی اور احتجاج کے طور پر یہ دن منایا ہے۔

    دوسری جانب، مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بھاری نفری کے باوجود، عوام نے یومِ آزادی پاکستان پر دلی مبارکباد دی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی پرچم اور یومِ آزادی کی خوشیاں منانے والے پوسٹرز نظر آئے، جن پر قائدِاعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصاویر آویزاں کی گئیں۔مزید برآں، کئی مقامات پر یومِ تشکر کے پوسٹرز بھی لگائے گئے، جن پر آپریشن بنیان مرصوص کا ذکر بھی شامل تھا، جو کشمیری آزادی کی جدوجہد کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ آپریشن بھارتی فورسز کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت کی نمائندگی کرتا ہے۔

    کشمیری عوام کی اس تحریک نے بھارت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور فوجی محاصرے کے باوجود ان کی آزادی کی خواہش کو ظاہر کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر منایا جانا کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔یہ صورتحال کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی تحریک میں ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے، جس سے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • گلگت بلتستان میں سیلاب کا خدشہ

    گلگت بلتستان میں سیلاب کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان میں برف اور گلیشیئر پگھلنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطے میں درجہ حرارت معمول سے 7 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، غیر معمولی گرمی برف پگھلنے کی شرح میں نمایاں ا ضافہ کر رہی ہے جس سے گلیشیل لیک آٹ برسٹ فلڈز کا خطرہ بڑھ رہا ہے،فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت مسلسل اوسط سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پگھلتی برف ہے جس سے آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوتا ہے،
    اعداد و شمار کے مطابق اگست کے پہلے 10 دنوں تک موجودہ خریف سیزن کے دوران تربیلا کے ذخائر میں پانی کی آمد 41.8 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ گئی جو 36.16 ملین ایکڑ فٹ کی عام موسمی آمد سے 5.64 ملین ایکڑ فٹ زیادہ ہے،محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ برف کا تیزی سے پگھلنا برفانی جھیلوں کی تشکیل اور توسیع کا باعث بن سکتا ہے جس سے پہاڑوں کے نیچے یا میدانی سطح والے علاقوں میں سیلاب کا سنگین خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے متعلقہ حکام اور مقامی افراد پر زور دیا کہ موجودہ صورت حال میں چوکنا رہیں اور خاص طور پر زیادہ متاثرہ وادیوں میں، ممکنہ آفات کے اثرات کو کم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جائے،

  • یوم آزادی پر مرکزی مسلم لیگ کی تقریبات،ہر طرف سبزہلالی پرچموں کی بہار

    یوم آزادی پر مرکزی مسلم لیگ کی تقریبات،ہر طرف سبزہلالی پرچموں کی بہار

    لاہور ،چارسدہ،راولپنڈی میں پرچم کشائی،کوئٹہ میں ایک کلو میٹر طویل پرچم کے ہمراہ ریلی
    متحد قوم ہی فاتح پاکستان بنی،اسی اتحاد کو آگے بڑھانا ہے ،خالد مسعود سندھو کا خطاب

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر انتظام یوم آزادی کے موقع پر لاہور ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، جہلم، راولپنڈی، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور کراچی کی طرح ملک بھر میں آزادی کارواں، جلسوں اور استحکام پاکستان کانفرنسوں کا انعقادکیا گیا جن میں مذہبی ،سیاسی جماعتوں کے مرکزی وضلعی قائدین نے خطابات کئے۔ملک بھر میں ہونے والی متحد قوم فاتح پاکستان سلوگن کےتحت تقریبات میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔یوم آزادی پاکستان کے موقع پر کراچی سے پشاور تک بڑے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑاپروگرام لاہور میں آزادی کارواں مسجد شہداء سے لبرٹی چوک تک تھا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس سلسلہ میں مرکزی مسلم لیگ کے بیسیوں مقامات سے تحصیلی ذمہ داران کی قیادت میں قافلے ترتیب دیے گئے تھے جو طلبا، وکلا، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو لیکرآزادی کارواں میں شریک ہوئے۔مرکزی مسلم لیگ کے جلسوں،کانفرنسوں، کارواں، ریلیوں کے دوران شرکا نے پاکستان کے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ پاکستان زندہ باد، افواج پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے،راولپنڈی میں مری روڈ لیاقت باغ آزادی پاکستان ریلی کا انعقاد کیا گیا،اس موقع پر ایک کلومیٹر طویل پرچم لہرایا گیا، ریلی میں مرکزی ترجمان تابش قیوم نے بھی شرکت کی، فیصل آباد میں ضلع کونسل چوک میں استحکام پاکستان کانفرنس سے صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو ودیگر نے خطاب کیا،پتوکی میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کانفرنس میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے، مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ایک کلو میٹر طویل پرچم بردار ریلی کا انعقاد کیا گیا،ریلی جی پی او چوک سے شروع ہو کر تنظیم چوک پر اختتام پذیرہوئی،حافظ محمد ادریس کی قیادت میں شرکا نے پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے،ریلی میں سردار سعود، ڈاکٹر ہارون، شاہجہان لانگوم فائزہ مینگل،حافظ فیصل ، میر شکر خان رئیسانی، عبدالمالک و دیگر شریک ہوئے، مرکزی مسلم لیگ چارسدہ نے فاروق اعظم چوک میں طویل پرچم لہرا دیا، پرچم کشائی کی تقریب میں مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چارسدہ عظمت اللہ وزیر نے شرکت کی، پرچم کشائی تقریب کی صدارت مرکزی مسلم لیگ جنوبی خیبرپختونخوا کے صدر یاور آفتاب نے کی ،مرکزی مسلم لیگ براول کی آزادی ریلی میں عبدالغفارمنصور اور ضیاء الدین ربانی نے خطاب کیا،پشاور میں جناح پارک میں استحکام پاکستان کانفرنس سے عارف اللہ خٹک،یاور آفتاب،محمد عبداللہ و دیگر نے خطاب کیا.

    مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے شاہراہ فیصل سے شاہراہ قائدین تک آزادی مارچ کا انعقاد کیا گیا، آزادی مارچ کی قیادت سندھ کے صدر فیصل ندیم نے کی، گوجرانولہ میں متحد قوم فاتح پاکستان میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ،شیخوپورہ جناح پارک میں مرکزی مسلم لیگ کی کانفرنس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی،بہاولپور میں ون یونٹ چوک سے ختم نبوت چوک تک ریلی کا انعقاد کیا گیا،سکھر میں سیون الیون سے پریس کلب تک، حیدر آباد میں باغ مصطفیٰ گراؤنڈ‌میں یوم آزادی کی تقریب ہوئی،سیالکوٹ میں سرکلر روڈ پر مرکزی مسلم لیگ کی استحکام پاکستان کانفرنس سے ضلعی قائدین نے خطاب کیا،بنوں میں استحکام پاکستان کانفرنس ہوئی،سوات ،چترال،ہری پور ،چکدرہ میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے یوم آزادی کے پروگراموں میں بڑی تعداد میں‌شہری شریک ہوئے،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،ساہیوال ،چارسدہ،راجن پور،پاکپتن جہلم،بہاولنگر،لاہور سمیت متعدد شہروں میں‌پرچم کشائی کی تقریب ہوئی، جہلم پرچم کشائی کی تقریب میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ حارث ڈار بھی شریک ہوئے،لیاقت پور میں‌ بھی مرکزی مسلم لیگ کی ریلی شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی،بہاولنگر میں میں کمرشل کالج ،چیچہ وطنی میں ریلیاں نکالی گئیں،اسلام آباد میں شجر کاری کی تقریب کا انعقاد کیا گیا،راجن پور میں ایک کلومیٹر پرچم لہرایا گیا،بورے والا ،ڈیرہ غازی خان میں آزادی کارواں کا انعقاد کیا گیا،لودھراں میں خواتین نے آزادی پاکستان ریلی نکالی،چنیوٹ میں دریائے چناب پل تک ریلی نکالی گئی،گلیات ،شکار پور،منڈی بہاؤالدین،سرگودھا،چیچہ وطنی،گجرات، حافظ آباد،رحیم یار خان، نواب شاہ ،ننکانہ صاحب، وزیرآباد، نارووال، خوشاب،جھنگ،دادو،لیہ کوٹ ادو سمیت دیگر شہروں میں بھی آزادی تقریبات کا انعقاد کیا گیا.

    استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کونے کونے میں یوم آزادی کے موقع پر متحد قوم ،فاتح پاکستان سلوگن کے تحت پروگرام ہوئے،عوام کے جوش و جذبے سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستانی قوم متحد و بیدار ہے،فاتح پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، دشمنوں کی سازشیں دم توڑ رہی ہیں،قاری محمد یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ کلمے کے نام پر حاصل کئے گئے ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو رب بھی معاف نہیں کرے گا،متحد قوم، فاتح پاکستان،نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ہم ملک میں وسیع تر اتحاد قائم کریں گے، ہم نے پاکستان کا مطلب کیا ‘ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پورے ملک میں تحریک کھڑی کرنی ہے،حافظ خالد نیک،انجینئر حارث ڈار ،تابش قیوم کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست خدمت انسانیت کی ہے،ملک میں کرپشن، لوٹ مار کرنے والوں کا محاسبہ ضروری ہے،فیصل ندیم، عارف اللہ خٹک،محمد سرور،شیخ فیاض احمد،احسان اللہ منصور،حمید الحسن،عمران لیاقت بھٹی،یاور آفتاب،عبدالغفار منصور،محبوب الرحمان،محمد اجمل چانڈیہ و دیگر نے کہا کہ افواج پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر قوم کے دل جیتے ہیں،آج بلوچستان و خیبر پختونخوا میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کاحل نظریہ پاکستان پر امت کو متحد کرنا ہے۔

  • رانی پور: ملازمہ قتل کیس میں نامزد ملزمان کی ضمانت منظور

    رانی پور: ملازمہ قتل کیس میں نامزد ملزمان کی ضمانت منظور

    رانی پور کے علاقے حویلی میں کام کرنے والی ملازمہ 10 سالہ لڑکی فاطمہ کے ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے مرکزی ملزم اسد شاہ سمیت دیگر دو نامزد ملزمان فیاض شاہ اور حنا شاہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔

    14 اگست 2023 کو رانی پور کی ایک حویلی میں فاطمہ نامی 10 سالہ بچی کی مبینہ تشدد کے باعث ہلاکت ہوئی تھی۔ اس کیس کی حساسیت اس وقت بڑھ گئی تھی جب بچی کی موت سے پہلے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم اسد شاہ کو فوری گرفتار کرلیا تھا۔سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ نے عدالت میں پیش درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے تینوں ملزمان اسد شاہ، فیاض شاہ اور حنا شاہ کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کی منظوری دی ہے۔ عدالت نے ملزمان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔