Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن ،جسٹس (ر) ارشد حسین نے 70 کیس نمٹا دیئے

    جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن ،جسٹس (ر) ارشد حسین نے 70 کیس نمٹا دیئے

    وفاقی حکومت نے جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کو کمیشن کا چیئرمین تعینات کر دیا۔

    جبری گمشدگیوں پر قائم انکوائری کمیشن کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی تشکیل نو کرتے ہوئے جسٹس (ر) نذر اکبر ممبر سندھ، ریٹائرڈ جج محمد بشیر ممبر اسلام آباد اور جسٹس (ر) سید افسر شاہ کو ممبر خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا ہے، جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے اور چیئرمین نے لاہور اور کراچی میں 50 سے زائد کیسز کی سماعت بھی کی ہے، جسٹس (ر) ارشدحسین کے عہدہ سنبھالنے کے بعد جولائی میں کمیشن نے 70 کیسز نمٹائے اور 15 نئی شکایات رجسٹرڈ کیں جبکہ کمیشن نے گمشدہ افرادکے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے 50 لاکھ روپےکے پیکج پر عمل درآمد بھی شروع کردیا ہے،اعلامیہ کے مطابق کمیشن کو اب تک مبینہ جبری گمشدگیوں سے متعلق 10ہزار607 کیسز موصول ہوئے اور 31 جولائی 2025 تک کمیشن نے 8770 کیسز (82 فیصد) کیسز نمٹا دیے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین کمیشن کی پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، سندھ کے داخلہ سیکرٹریز، آئی جیز پولیس سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جس میں چیئرمین کمیشن نے تمام صوبوں کی مشترکہ تفتیشی ٹیمز اورصوبائی ٹاسک فورسز پر رپورٹس بروقت جمع کرانے پر زور دیا۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت  انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے اقدامات بارے جائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات بارے جائزہ اجلاس

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت این آئی ٹی بی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم پر پیش رفت اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں وزارت کے اقدامات کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی شعبے کی برآمدات نے 19 فیصد نمو کے ساتھ 3.8 ارب ڈالر کا ہدف عبور کیا جبکہ ملک میں فری لانسرز کی تعداد میں 91 فیصد اضافہ ہوا.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تحت 386 نئے اسٹارٹ-اَپس کو معاونت فراہم کی گئی، 14 کو عالمی سطح پر بھیجا گیا جبکہ ملک کے 26 شہروں میں 40 ای-روزگار مراکز قائم کئے گئے. 4 پاکستانی ٹیمز بلیک-ہیٹ ایم ای اے (Black Hat MEA) میں دنیا کی 50 بہترین ٹمیز میں شمار ہوئیں، جبکہ 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی جس میں خواتین کو شعبہ انفارمیںشن ٹیکنالوجی میں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے تقریباِ 1 لاکھ 15 ہزار خواتین بھی شامل ہیں. نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں 130 خواتین کی سربراہی میں قائم اسٹارٹ-اَپس کو معاونت فراہم کی گئی جبکہ ملک بھر میں خواتین کیلئے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کئے گئے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 2200 وفاقی سرکاری افسران و اہلکاروں کو تربیت فراہم کی گئی. اسی طرح تقریباً 3 ہزار طلباء و طالبات کو سائیبر سیکیورٹی میں تربیت دی گئی.

    گورننس کی بہتری کیلئے وزیرِ اعظم کے ویژن کے مطابق ڈیجیٹائیزیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاک-ایپ (Pak-App) کے ذریعے 6.2 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا. وفاقی سرکاری دفاتر میں 98 فیصد ای-آفس کا اطلاق اور 51 ایسے نئے سسٹمز متعارف کروائے گئے جس سے گورننس کی بہتری میں معاونت ملے گی.ٹیلی کام سیکٹر کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت کے اقدامات کی بدولت گزشتہ برس میں 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد لوگوں کی 4G تک رسائی کے ہدف کو عبور کیا گیا. گزشتہ مالی سال میں ٹیلی کام کنیکشنز نے 20 کروڑ کی حد کو عبور کیا، 10 لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا.اجلاس کو این آئی ٹی بی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نئے نظام کی تشکیل پر کام تیزی سے جاری اور حتمی مراحل میں ہے. اس وقت این آئی ٹی بی 179 سے زائد ویب سائٹس، 31 سے زائد موبائل ایپلیکیشنز، 113 سے زائد پوٹلز اور 57 کنسلٹینسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے. این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم میں صارف کے تجربے کو بہترین، مستقبل کی تبدیلیوں کو ملحوظ خاطر، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر، گورننس و سروس ڈیلیوری کی بہتری، سائبر سیکیورٹی، رسک مینجمنٹ، تحقیق، جدت اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کو مد نظر رکھا جا رہا ہے.

    وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور ملکی آئی ٹی برآمدات کو آئندہ برسوں میں 30 ارب ڈالر پر پہنچانے کیلئے بتدریج سالانہ اضافے پر مبنی اہداف کا لائحہ پیش کرنے کی ہدایت کی.

  • باجوڑ میں خارجیوں کا جھوٹ بے نقاب

    باجوڑ میں خارجیوں کا جھوٹ بے نقاب

    باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں کے بارے میں بات چیت میں جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

    زمینی حقائق کچھ اس طرح ہیں;
    (1)خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشتگردانہ اور مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں
    (2)خیبرپختونخوا کی حکومت بشمول وزیر اعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے وہاں کے قبائل کے سامنے تین نکات رکھے
    اول۔ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانیوں پر مشتمل ہے، کو باہر نکالیں
    دوئم ۔ اگر قبائل خوارجین خود نہیں نکال سکتے تو ایک یا دو دن کے لئے علاقہ خالی کردیں تاکہ سکیورٹی فورسز ان خوارجین کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں
    سوئم ۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کئے جاسکتے تو حتی الامکان حد تک Collateral Damageسے بچیں کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی ہر صورت جاری رہے گی۔

    خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کے وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم نہ کردیں۔ جاری شدہ قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کاروائی سے پہلے حتی الامکان حد تک عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم اسلام اور ریاست کے ننگ دشمن خوارج کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی نہ دین اجازت دیتا ہے نہ ریاست اور نہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کی اقدار، کسی بھی طرح کی مسلح کاروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے،

  • قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی

    قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی قانونی اجازت سے متعلق اہم تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہیں۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسلام آباد کے پانچ ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔جن میں میریٹ، سرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک ہوٹل شامل ہیں ،وزارت داخلہ نے بتایا کہ ان ہوٹلوں کو "L-2 لائسنس” جاری کیے گئے ہیں، جو غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی مہمانوں کو شراب کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس لائسنس کے تحت ہوٹلوں کو مخصوص شرائط کے ساتھ شراب فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے۔تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ L-2 لائسنس کے حصول کے لیے فیس 5 لاکھ روپے مقرر ہے، جبکہ اس لائسنس کی سالانہ تجدید کے لیے 1 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرنا ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق یہ لائسنس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی منظوری سے جاری کیے جاتے ہیں، اور ہر ہوٹل کو مخصوص کوٹے کے تحت شراب کی فروخت کی اجازت دی جاتی ہے۔

    وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ لائسنس صرف اُن ہوٹلوں کو جاری کیے جاتے ہیں جو قانونی طور پر رجسٹرڈ اور حکومتی قواعد و ضوابط پر پورا اترتے ہیں۔ ان ہوٹلوں میں شراب کی فروخت غیر مسلم صارفین اور غیر ملکی سیاحوں تک محدود ہوتی ہے۔قومی اسمبلی میں بعض اراکین نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت شراب کی فروخت کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس سہولت کا غلط استعمال نہ ہو۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف کا عہدہ خالی ہوگیا ۔قومی اسمبلی سیکرٹیرٹ عہدہ خالی ہونے کا جلد نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔ قائد حذب اختلاف کا عہدہ پی ٹی آئی کے عمر ایوب کے نا اہل ہونے پر خالی ہوا ہے۔

    معرکہ حق کے بعد فضائی حدود کی بندش، پاکستان کو کتنا نقصان ہوا؟ وزیر دفاع نے تفصیلات پیش کردیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریری طور پر قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش سے پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کو 401 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ 2019 میں فضائی حدود کی بندش کے نتیجے میں 7.6 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ قومی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کا معاملہ ہو تو کوئی قیمت زیادہ نہیں ہوتی،

    تحریک انصاف کے عمر ایوب جمشید دستی، احمد چٹھہ ،لطیف چترالی ،صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، رائے حسن نواز، اور رائے حیدر علی سابق اراکین قومی اسمبلی ہوگئے ، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے باضابطہ ایوان کو آگاہ کر دیا۔

  • فیصل مسجد سمیت 50 سے زائد مساجد کو  تحفظ قدرتی مناظر آرڈیننس کے تحت نوٹسز جاری

    فیصل مسجد سمیت 50 سے زائد مساجد کو تحفظ قدرتی مناظر آرڈیننس کے تحت نوٹسز جاری

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پچاس سے زائد مساجد کو تحفظ قدرتی مناظر آرڈیننس 1966ء کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، فیصل مسجد سمیت کئی قدیمی و سرکاری سطح پر قائم مساجد بھی ان نوٹسز کی زد میں آ گئی ہیں،

    ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور نواحی علاقوں میں قائم درجنوں مساجد کو تحریری نوٹسز موصول ہوئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ان مساجد کی تعمیرات نے قدرتی مناظر کو نقصان پہنچایا ہے اور یہ 1966ء کے تحفظِ قدرتی مناظر آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔جن مساجد کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں ان میں اسلام آباد کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد بھی شامل ہے اسی طرح راول ٹاؤن اسلام آباد کی مسجد جسے کروڑوں کا بجٹ لگا کر سی ڈی اے نے خود تعمیر کیا اسے بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے ،ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے نہ صرف نوٹسز جاری کئے ہیں بلکہ مختلف سرکلز کے مجسٹریٹس نے مساجد کی انتظامیہ کو بلا کر تحریری جواب بھی جمع کرنے کا کہا ہے ،

    ادھر دوسری طرف ان نوٹسز کے اجراء کے بعد دینی حلقوں میں شدید تشویش اور اشتعال پایا جا رہا ہے ۔ متعدد علمائے کرام، مدارس و مساجد کے منتظمین، اور دینی جماعتوں کے نمائندوں نے اس اقدام کو اسلام آباد انتظامیہ کی نااھلی اور مساجد و مدارس کو بے جا تنگ کرنے کا اقدام قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور تمام مکاتب فکر کے مشترکہ فورم تحریک تحفظ مساجد و مدارس کے قائدین نے اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے سرجوڑ لئے ہیں،تحریک کے ایک ذمہ دار نے ہمیں بتایا کہ اس سلسلے میں جلد اجلاس بلا کر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ،تاھم اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

  • بیہودہ مواد،شاہ رخ اور سلمان کے ساتھ کام کرنیوالی اداکارہ پر مقدمہ درج

    بیہودہ مواد،شاہ رخ اور سلمان کے ساتھ کام کرنیوالی اداکارہ پر مقدمہ درج

    ماضی میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان اور سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والی بھارتی اداکارہ کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 51 سالہ شویتا مینن کے خلاف بھارتی شہر ایرناکولم کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے جس کے بعد عدالت نے مقامی پولیس کو ضروری کارروائی کرنے کا کہا ہے، عدالت کے حکم کے بعد شویتا مینن کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے،اداکارہ کے خلاف ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی فلموں اور اشتہارات میں بیہودہ اور نامناسب مواد ہوتا ہے،شویتا مینن کے خلاف ایف آئی آر ایک سماجی کارکن کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی۔

    یاد رہے کہ شویتا مینن نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’اشوکا‘ جبکہ سلمان خان کے ساتھ فلم ’بندھن‘ اور عامر خان کے ساتھ فلم ’عشق‘ میں کام کیا تھا،واضح رہے کہ اداکارہ نے زیادہ تر ملیالم اور ہندی فلموں میں اداکاری کی ہے۔

  • ڈائریکٹر مانیٹرنگ سپیشلایزڈ ہیلتھ کیئر عتیق الرحمان کی عملے سے بدتمیزی،ویڈیو بھی وائرل کر دی

    ڈائریکٹر مانیٹرنگ سپیشلایزڈ ہیلتھ کیئر عتیق الرحمان کی عملے سے بدتمیزی،ویڈیو بھی وائرل کر دی

    اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ڈائریکٹر مانیٹرنگ عتیق الرحمان کی سیالکوٹ میں ہسپتال عملے کے ساتھ بدتمیزی اور گالیوں کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عتیق الرحمان عملے کے ساتھ انتہائی نامناسب رویئے کے ساتھ پیش آ رہے ہیں ، یہ ویڈیو بنا کر انہوں نے ٹک ٹاک پر بھی اپنے اکاؤنٹ پر اپلوڈ کر دی،

    عتیق الرحمان نے علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ کے عملے کے ساتھ انتہائی بدتمیزی اور بدسلوکی کی، حتیٰ کہ ایک موقع پر وہ عملے کو تھپڑ مارنے کی کوشش بھی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔عتیق الرحمان نے ہسپتال کے عملے پر نازیبا زبان استعمال کی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی، جس سے ہسپتال کے اندر ایک ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو گئی۔

    مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عتیق الرحمان نے اس بدسلوکی کے مناظر کو اپنی ذاتی ٹک ٹاک ویڈیو پر بھی پوسٹ کیا، جس کا مقصد مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنا تھا۔ اس ویڈیو میں ان کا عملے کے ساتھ رویہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ بلکہ غیر اخلاقی بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے آفیسر کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے جو عملے کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کرتے ہیں، اگر افسران کو ٹک ٹاک بنانے کا شوق ہے تو ایسے افراد کو سرکاری ملازمتوں سے نکالا جائے

  • مناواں میں ڈرون گر گیا،پولیس پہنچ گئی

    مناواں میں ڈرون گر گیا،پولیس پہنچ گئی

    لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں جنڈیالہ روڈ پر ایک مشتبہ ڈرون گرنے کا واقعہ پیش آیا۔

    مقامی افراد کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور ڈرون کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ڈرون ممکنہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق، گرنے والا ڈرون جدید نوعیت کا ہے .ماہرین کی مدد سے ڈرون کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کس مقام سے اڑایا گیا اور اس کے ذریعے کیا منتقل کیا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ڈرون بھارتی تھا جس کو سیکورٹی فورسز نے گرایا ہے، ڈرون کی پاکستانی حدود میں نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جس پر فوری کارروائی کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں ڈرون کو سرویلنس کے لیے استعمال ہونے والا قرار دیا گیا ہے، اور اس میں کوئی بارودی مواد موجود نہیں تھا۔ حساس اداروں نے ڈرون کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ڈرون کا اس طرح رہائشی علاقے میں آنا اور پھر گر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، مقامی افراد میں اس واقعے کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے، اور حکام کو چاہیے کہ فضائی نگرانی کے ایسے واقعات پر نظر رکھیں تاکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔پولیس نے ڈرون قبضے میں لے کر سیف سٹی اتھارٹی اور حساس اداروں کو بھی اطلاع دے دی ہے، تاکہ ڈرون کی پرواز کی سمت اور کنٹرول کرنے والے مقام کا سراغ لگایا جا سکے۔

  • بنوں،ایف سی کی چیک پوسٹ پر ڈرون حملہ، ایک اہلکار شہید، تین زخمی

    بنوں،ایف سی کی چیک پوسٹ پر ڈرون حملہ، ایک اہلکار شہید، تین زخمی

    بنوں کے علاقے تختی خیل میں فرینٹیئر کور کی چیک پوسٹ پر ایک کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔

    ڈی پی او سلیم عباس کلاچی نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں شہید ہونے والے اہلکار کی شہادت سے اہلکاروں میں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔واقعے کے فوراً بعد فرینٹیئر کور اور پولیس نے مل کر علاقے میں وسیع سرچ آپریشن کا آغاز کیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے اور مزید حملوں کو روکا جا سکے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

  • مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کے حکم امتناع میں 12 ستمبر تک توسیع

    مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کے حکم امتناع میں 12 ستمبر تک توسیع

    سندھ ہائیکورٹ نے سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کے حکم امتناع میں 12 ستمبر تک توسیع کردی۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اقبال نے سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کی صوبائی محتسب کی سزا کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی جس دوران صوبائی محتسب اور خاتون فریق نے تحریری جواب جمع کرایا،سماعت کے دوران صوبائی محتسب نے کہا کہ مونس علوی کی درخواست ناقابل سماعت ہے اسے مسترد کیا جائے، دائرہ اختیار سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور دائرہ اختیار سے متعلق درخواست سندھ ہائیکورٹ سننے کا مجاز نہیں،سماعت کے دوران وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ان کے موکل مونس علوی نےگورنر سندھ کے پاس اپیل دائر کردی ہے،گورنر سندھ نے مونس علوی کی اپیل کو پیر کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔

    جسٹس محمد اقبال نے کہا کہ جب تک اپیل پر فیصلہ نہیں ہوجاتا ہے، عہدے سے کیسے ہٹایا جاسکتا ہے ؟ جب تک اپیل پر فیصلہ نہیں ہوجاتا ہم کیس نمٹا دیتے ہیں، گورنر اپیل سن رہے ہیں تو وہیں پیروی کی جائے، اتنی بڑی سزا ہے، کیسے دے سکتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس کیس میں بہت سی چیزیں پہلی بار دیکھ رہے ہیں، اس پر جسٹس محمد اقبال نے کہا کہ آپ بہت سی چیزیں پہلی بار دیکھ رہے ہوں گے، 26 ویں ترمیم کے بعد تو اور بھی بہت سی چیزیں دیکھنی پڑرہی ہیں۔

    بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے مونس علوی کے وکیل کو جواب الجواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او کے الیکٹرک کو عہدے سے ہٹانے کے حکم امتناع میں 12 ستمبر تک توسیع کردی۔