Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاور مانیکا کے بیٹے نے ملازم پر گولی چلا دی،گرفتار

    خاور مانیکا کے بیٹے نے ملازم پر گولی چلا دی،گرفتار

    خاور مانیکا کے صاحبزادے موسی مانیکا نے اپنے ملازم علی بہادر کو گولی مار دی، جس کے نتیجے میں علی بہادر زخمی ہو گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاکپتن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موسی مانیکا کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، موسی مانیکا نے ملازم علی بہادر پر گولی چلائی، جس کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ زخمی علی بہادر کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے

    حکام نے بتایا ہے کہ گرفتار شدہ موسی مانیکا، بشریٰ بی بی کا بیٹا ہے، جو اس وقت عمران خان کے ہمراہ جیل میں قید ہے۔ بشریٰ بی بی کی خاور مانیکا سے علیحدگی کے بعد عمران خان سے شادی ہوئی تھی۔ پولیس نے واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور موسی مانیکا سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اصل محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔

  • چکری موٹروے ، پاک فوج کا آپریشن، خاندان کو سیلابی ریلے سے بچا لیا

    چکری موٹروے ، پاک فوج کا آپریشن، خاندان کو سیلابی ریلے سے بچا لیا

    راولپنڈی کے قریب چکری موٹروے انٹرچینج کے مقام پر شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں افواج پاکستان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک خاندان کو جان بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

    ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے غیر معمولی بارشوں نے راولپنڈی اور گردونواح میں تباہی مچائی ہوئی ہے، جہاں ندی نالے اوور فلو ہو چکے ہیں چکری موٹروے انٹرچینج کے قریب واقع ایک آبادی سیلابی ریلے کے باعث خطرے میں تھی، جس پر فورسز نے فوری طور پر آپریشن کا آغاز کیا۔آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر نے بروقت رسپانس دیتے ہوئے اس خاندان کو جو سیلابی پانیوں میں پھنس گیا تھا، اپنے ونگز میں اٹھایا اور محفوظ علاقے تک منتقل کیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کے اس مناظر کو مقامی افراد نے بڑے جوش و خروش اور خوشی سے دیکھا اور سیلابی ریلے کے کنارے کھڑے عوام نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے افواج پاکستان کو سراہا۔

    موسم کی خرابی کی وجہ سے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ بھی متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کاموں میں مصروف ہے۔سیلاب کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک مقامات سے دور رہیں اور ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

  • ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ضلع سانگھڑ ، ظلم و ستم کا شکار اونٹنی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ٹانگ لگانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اونٹنی گزشتہ سال اپنے مالک کے مطابق ایک وڈیرے کی زمین پر چلی گئی تھی جہاں اس پر سخت تشدد کیا گیا اور تیز دھار آلے سے اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔

    تقریباً ایک سال کی کوششوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد، مقامی کمپنی سی ڈی آر ایس بینجی پراجیکٹ شیلٹر کے ماہرین نے اس اونٹنی کا معائنہ کیا اور پاکستان میں ہی اس کے لیے مصنوعی ٹانگ تیار کی گئی۔ مصنوعی ٹانگ کاربن فائبر، اسٹیل اور ایئرکرافٹ ایلومینیم سے بنی ہے، جو نہ صرف ہلکی بلکہ مضبوط بھی ہے۔ اس مصنوعی ٹانگ کے بعد، کمپنی بائیونکس کے ماہرین نے نہ صرف اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا بلکہ اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اس کامیابی نے نہ صرف حیوانات کی دیکھ بھال میں ایک نیا باب کھولا ہے بلکہ پاکستان میں مصنوعی اعضا کی تیاری اور انسٹالیشن کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔

    اونٹنی کے مالک سومربھَن نے اس تجربے کو جانوروں کے حقوق اور ہمدردی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بات کے لیے شکرگزار ہیں کہ ان کی اونٹنی دوبارہ چل پھر سکتی ہے۔یہ کامیابی نہ صرف ضلع سانگھڑ بلکہ پورے پاکستان میں حیوانات کے لیے طبی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو کہ انسانیت اور جانوروں کے ساتھ ہمدردی کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

    ڈائریکٹر سی ڈی آر ایس بینجی پروجیکٹ سارہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد اونٹنی جب آئی تو وہ خوفزدہ اور شدید تکلیف میں تھی ، اونٹنی کیلئے خاص طور پر تیار کردہ مصنوعی ٹانگ بیرون ملک سے منگوائی گئی تھی۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ عطا مری نے بھی اونٹنی کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں، واضح رہے کہ اونٹنی کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جس میں سانگھڑ کے ایک زمیندار نے کھیتوں میں داخل ہونے پر طیش میں آکر تیز دھار آلے کی مدد سے اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی تھی جس کے بعد اونٹنی کو علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

  • وزیراعظم کی ہدایت،چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

    وزیراعظم کی ہدایت،چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور اس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی شوگر سیکٹر میں نجکاری اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے گی۔

    وزیر توانائی کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری اس کے کنوینر ہوں گے۔ کمیٹی میں وزیر خزانہ، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اور وزیر اقتصادی امور بھی بطور ارکان شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعتیں، سابق سیکریٹری رانا نسیم، اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمر بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔کمیٹی میں وزارت غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارت تجارت کے سیکریٹریز، چیئرمین ایف بی آر، پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز، لیمز یونیورسٹی سے ڈاکٹر اعجاز نبی اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور حسن بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    کمیٹی کو دیے گئے ضوابطِ کار (ٹی او آرز) کے مطابق وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر چینی کی پیداوار، درآمد، برآمد، قیمتوں کے تعین، سبسڈی اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق تمام قوانین، ضوابط اور پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ چینی کے ذخائر، رسد، اور قیمتوں سے متعلق ڈیٹا کی درستگی، کسانوں کے مفادات، صارفین کے حقوق، اور تجارتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

    کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ اور چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچاؤ کے لیے جامع پالیسی تیار کرے، اور نجکاری کے عمل کو شفاف اور مربوط بنانے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول صنعت کاروں، کسانوں اور ریگولیٹری اداروں سے مشاورت کو بھی یقینی بنایا جائے۔یہ کمیٹی آئندہ 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

  • امریکی صدر ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان نہیں آ رہے

    امریکی صدر ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان نہیں آ رہے

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے بادشاہ کی طرف سے دی گئی سرکاری دورے کی دعوت کو قبول کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ اور فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ 17 ستمبر سے 19 ستمبر 2025 تک برطانیہ کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    یہ دورہ بادشاہ کے دعوت نامے پر ہو رہا ہے اور اس دوران صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کو وِنڈزر کیسل میں شاہی مہمانوں کے طور پر میزبان کیا جائے گا۔ وِنڈزر کیسل، جو کہ برطانیہ کے بادشاہی خاندان کی تاریخی اور اہم رہائش گاہ ہے، میں انہیں شاہی انداز میں خوش آمدید کہا جائے گا۔اس حوالے سے مزید تفصیلات اور دورے کے پروگرام کے دیگر پہلوؤں کا اعلان آئندہ کیا جائے گا، جس میں ملاقاتیں، رسمی عشائے، اور ثقافتی تقریبات شامل ہو سکتی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے 2019 میں بھی ایک سرکاری دورہ برطانیہ کیا تھا، جس کے دوران اُنہیں اُس وقت کی ملکہ برطانیہ، ہیر میجسٹی کوئین الزبتھ دوم نے شرفِ میزبانی بخشا تھا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے مضبوط ہونے کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے۔یہ دورہ عالمی سطح پر امریکہ اور برطانیہ کے دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور متوقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاسی، اور ثقافتی روابط میں مزید ترقی ہوگی۔

    قبل ازیں یہ خبر آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم امریکی صدر کا برطانیہ کا دورہ شیڈولڈ ہے ،اس وجہ سے وہ پاکستان نہیں آئیں گے

  • ایئر انڈیا حادثہ، ذہنی مسائل کے شکار پائلٹ کو فلائٹ کلیئرنس دینے پر سنگین سوالات

    ایئر انڈیا حادثہ، ذہنی مسائل کے شکار پائلٹ کو فلائٹ کلیئرنس دینے پر سنگین سوالات

    حیدر آباد میں ہونے والے ایئر انڈیا حادثے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات، پائلٹس کی ذہنی صحت پر سوالات اٹھنے لگے،

    12جولائی کو حادثے کی شائع ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں پائلٹ کی ذہنی صحت پر کوئی بات نہیں کی گئی،مودی سرکار اور ایئر انڈیا نے اس رپورٹ کو شائع ہونے سے روکا مگر ٹیلی گراف اور نیویارک پوسٹ سچ سامنے لے آئے،ٹیلی گراف اور نیویارک پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق:ایئر انڈیا کے پائلٹس میں ڈپریشن اور ذہنی صحت کے مسائل موجود تھے،حادثے کے وقت بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا کنٹرول کیپٹن سمیت سبھروال کے پاس تھا، برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق؛’’پائلٹ سمیّت سبھروال کئی برسوں سے ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے تھے اور انہوں نے بارہا طبی رخصت لی‘‘ذہنی صحت کے مسائل کے باعث پروازوں سے طویل وقفے کے باوجود ایئر انڈیا نے انہیں دوبارہ پرواز کی اجازت دی، ذہنی مسائل کے شکار اور والدہ کی موت کے صدمے سے دوچار ایئر انڈیا نے 2023ء میں پائلٹ کو میڈیکل کلیئرنس دی، پائلٹ حالیہ دنوں میں والد کے بڑھاپے کی دیکھ بھال کے لیے ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے تھے،

    نیویارک پوسٹ کے مطابق حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ایندھن بند کرنے والے بٹن دبانے کو مرکزی سبب قرار دیا گیا،کمپنی کے ترجمان نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ: میڈیکل ریکارڈز تفتیش کاروں کو دے دیے گئے، نیویارک پوسٹ کے مطابق’’ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن نے اس خبر کو "افواہیں اور سنسنی” قرار دے کر فیکٹ فائنڈنگ کو مشکوک بنانے کی کوشش کی‘‘انڈین کمرشل پائلٹس ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کی ذاتی کیفیت کو ایئر انڈیا نے نظرانداز کیا، 12 جون کو احمد آباد میں ہونے والے ایئرانڈیا کے اس حادثے میں 270 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ایئر انڈیا نے ابھی تک پائلٹ کی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا،

    پائلٹ کی ذہنی حالت خراب ہونے کے باوجود اس کے ہاتھ میں جہاز کا کنٹرول دینا ایئر انڈیا کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،یہ حادثہ ثابت کرتا ہے کہ ایئر انڈیا کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں

  • بھارتی کمپنیوں کا عالمی سطح پر انسانی صحت سے منظم ، زہریلا اور مجرمانہ کھلواڑ

    بھارتی کمپنیوں کا عالمی سطح پر انسانی صحت سے منظم ، زہریلا اور مجرمانہ کھلواڑ

    معروف بھارتی مصالحہ جات کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے دوران ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں

    بھارتی مصالحہ جات کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر پابندی عائد کر دی گئی،بھارتی صحافی پالکی شرما کے مطابق؛ بھارت کی معروف مصالحہ ساز کمپنیوں، ایم ڈی ایچ اور ایوریسٹ، مصنوعات پر بیرونِ ملک پابندیاں عائد کی گئی”،ہانگ کانگ، سنگاپور اور دیگر ممالک نے بھارتی مصالحہ جات میں مضر صحت کیمیکل کی موجودگی پر ان کی فروخت روک دی، یورپی یونین فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے بھارتی مصالحہ جات میں کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل "ایتھیلین آکسائیڈ” دریافت ہونے پابندی لگا دی، صرف گزشتہ چار سالوں میں یورپی یونین نے 500 بھارتی خوراک کی مصنوعات کو مضرِ صحت قرار دیا، بھارتی مصالحہ جات میں سالمونیلا، کڈمیم اور خطرناک کیڑے مار ادویات کی موجودگی کی عالمی اداروں نے تصدیق کی، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام مصنوعات بھارت کے اندر معیار پر پورا اترنے کی سند حاصل کر چکی تھیں،

    صرف بھارتی مصالحہ جات ہی نہیں بلکہ بھارتی فارماسوٹیکل کمپنیاں بھی جان لیوا دوائیاں برآمد کر کے عالمی سطح پر بدنام ہو چکی ہیں،رائٹرز کے مطابق "افریقی ممالک میں بھارتی کھانسی کا شربت پینے سے 70 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں”بھارتی کھانسی کے شربت میں ایتھائلین گلائکول کی بڑی تعداد موجودگی بھی پائی گئی، مودی راج کی بدانتظامی، کرپشن اور ناقص نگرانی نے بھارتی برآمدات کو عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنا دیا،”میڈ اِن انڈیا” اب صرف ایک لیبل نہیں، بلکہ مودی راج کی ناکامیاں، زہریلی برآمدات اور عالمی بدنامی کی پہچان بن چکا ہے

  • بارشیں،سیلابی صورتحال،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،20 سے زائد افراد کو ہیلی پرریسکیو کر لیا

    بارشیں،سیلابی صورتحال،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،20 سے زائد افراد کو ہیلی پرریسکیو کر لیا

    پاک فوج نے جہلم کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ایک بھرپور فضائی ریسکیو آپریشن انجام دے کر 20 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ شدید بارشوں کے بعد درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    ریسکیو آپریشن کا آغاز اُس وقت ہوا جب دریاؤں اور نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے، خاص طور پر داراپور کے علاقے میں حالات نہایت سنگین ہو گئے تھے۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر مسلسل متاثرہ علاقوں پر پرواز کر رہے ہیں، جہاں نہ صرف لائف جیکٹس تقسیم کی جا رہی ہیں بلکہ فوری طبی امداد، خوراک اور پینے کا پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد نے پاک فوج کے فوری ردِ عمل اور بروقت ریسکیو کی کوششوں کو سراہا ہے۔

    فوجی حکام کے مطابق، "ہم زمینی راستے سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کی وجہ سے فضائی مدد اس وقت سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔”نکہ خلاصپور اور راجاروڈ جیسے قریبی علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی خراب ہے،محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیشِ نظر امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور فوجی اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائنز سے رابطہ کریں۔

    پاکستان آرمی اور ضلعی انتظامیہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور باہمی رابطے میں کام کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔

    انتظامیہ کی جانب سے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، اور تمام سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان آرمی اور دیگر متعلقہ ادارے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب پاک فوج کے دستوں کی بارش کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں،پاک فوج کے دستے حالیہ بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال سے متاثرہ مختلف علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،پاک فوج کے جوان ضلع جہلم کے علاقے ڈھوک بھیدر اور دارا پور میں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے پہنچ گئے ، پاک فوج کے دستے نے سیلاب متاثرین کو دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کیں

  • حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل میں واقع فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی مردہ حالت میں لاش ملنے کے بعد پولیس کی تفتیش تاحال جاری ہے۔ تفتیشی حکام نے اہم انکشافات کیے ہیں جن سے معاملے کی نوعیت واضح ہونے لگی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکارہ کے فلیٹ کی چابیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ فلیٹ کے مرکزی دروازے کی تین چابیاں اندر سے بھی مل چکی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس حوالے سے بلڈنگ انتظامیہ، چوکیدار اور حمیرا اصغر کی سابقہ گھریلو ملازمہ کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ تفتیشی عملے نے ان افراد سے مفصل پوچھ گچھ کی ہے۔تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد اکتوبر 2024 تک اداکارہ سے رابطے میں تھے، جبکہ اداکارہ کی سابقہ ملازمہ نے اسی سال اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ مزید برآں، حکام نے بتایا کہ حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں اور انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ مکمل کیا تھا۔ اکتوبر 2024 تک وہ کام سے متعلق دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

    دوسری جانب، تفتیشی حکام نے بتایا کہ فلیٹ کے باہر اور ارد گرد سی سی ٹی وی کیمروں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی ویڈیو ریکارڈنگ دستیاب نہیں ہے، جو تحقیقات میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب کرائے کی عدم ادائیگی کی بنا پر مالک مکان عدالت کے حکم پر عدالتی بیلف کے ہمراہ فلیٹ پر پہنچا۔ فلیٹ کا دروازہ نہ کھلنے پر دروازہ توڑا گیا، جہاں اداکارہ کی مردہ حالت میں موجود لاش ملی۔پولیس نے واقعے کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر رکھی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کا سراغ لگایا جا سکے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے مداحوں کو صدمے میں مبتلا کیا ہے بلکہ شوبز حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تفتیشی ٹیم جلد ہی مزید نتائج سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • شدید بارش، راولپنڈی میں ایک یوم کی چھٹی کا اعلان

    شدید بارش، راولپنڈی میں ایک یوم کی چھٹی کا اعلان

    راولپنڈی: موسلا دھار بارشوں اور بڑھتے ہوئے سیلابی حالات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ چھٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے جڑواں شہروں کو تقریباً جل تھل کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، دونوں شہروں میں 129 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں، راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    بارشوں کی شدت کے باعث راولپنڈی کے معروف نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے جو کہ سیلاب کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ خاص طور پر کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 16 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 14 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں جبکہ ریسکیو 1122، واسا، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ واسا کے ایم ڈی نے بھی فوری طور پر 911 بریگیڈ سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ صورتحال پر مکمل قابو پایا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، اگر حالات قابو سے باہر ہوئے تو ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کی مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریسکیو آپریشنز کو مزید موثر بنایا جا سکے۔محکمہ موسمیات نے بھی مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے محفوظ مقامات پر رہیں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔