Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سوات،سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ کا نوٹس،4 افسران معطل

    سوات،سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ کا نوٹس،4 افسران معطل

    سوات میں حالیہ سیلابی صورتحال میں سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق، عوامی شکایات، تاخیر سے ردعمل اور انتظامی غفلت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، ناقص کارکردگی پر معطل ہونے والے افسران میں اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اور ریسکیو 1122 کے ضلعی انچارج شامل ہیں،اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کو سست ردعمل اور بروقت عوامی مدد نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو پیشگی وارننگ جاری نہ کرنے پر معطل کیا گیا، جس سے نقصانات سے بچاؤ ممکن نہ ہو سکا۔اے ڈی سی ریلیف کو ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات نہ کرنے پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور فوری معطلی عمل میں لائی گئی۔ریسکیو 1122 سوات کے ضلعی انچارج کو بھی ایمرجنسی کے دوران غیر مؤثر کارکردگی اور ناقص کمانڈ کی بنیاد پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کو معاملے کی مکمل انکوائری کی باضابطہ ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ غفلت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    ترجمان نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور جو افسران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف سخت ترین اقدام اٹھائے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ آئندہ چند روز میں سوات کا دورہ بھی کر سکتے ہیں تاکہ حالات کا خود جائزہ لے سکیں اور عوام کو یقین دلایا جا سکے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق باقی سیاحوں کے لیے کسی بھی جگہ کوئی اقدامات نہیں ہے صوبائی حکومتیں مکمل طور پہ غفلت کا شکار ہیں ،صوبائی اورضلعی انتظامیہ کی نااہلی کا بولتا ثبوت یہ ہے کہ راول ڈیم سے لے کے خانپور ڈیم تک پچھلے دنوں کئی اموات واقع ہوئی جس میں سختی سے آرڈر تھے کہ کوئی یہاں نہا نہیں سکتا اس کے باوجود نوجوان سویمنگ کرنے گئے نہانے گئے سلفیاں لینے گئے ،جس میں تین سے چار لوگ راول ڈیم میں ڈوب کر اور چار سے پانچ لوگ خان پور ڈیم میں ڈوب کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر صوبائی حکومتیں اور خاص کر ضلع انتظامیہ پھر بھی بے انتہا غفلت کا شکار نظر آئیں،اس لیے لوگ احتیاط کریں اور خاص کر مون سون کے موسم میں پہاڑی ایریا سے ،کیونکہ وہاں اچانک پانی کے ریلے ا جاتے ہیں جس سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے

  • یہ ہے مودی کا بھارت،مالی مشکلات،جوڑے نے "لائیوسیکس”سے کمائی شروع کر دی

    یہ ہے مودی کا بھارت،مالی مشکلات،جوڑے نے "لائیوسیکس”سے کمائی شروع کر دی

    بھارتی حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعے میں ایک جوڑے کو موبائل ایپ کے ذریعے اپنے جنسی عمل کو براہِ راست نشر کرنے اور فحش ویڈیوز فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ جوڑا شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و شوہر کے علاج کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے یہ غیر قانونی راستہ اختیار کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ جوڑا امبرپیٹ کے علاقے ملیکرجنا نگر میں مقیم تھا، جہاں سے انہیں جمعرات کے روز ایسٹ زون ٹاسک فورس کی جانب سے ایک خفیہ اطلاع پر گرفتار کیا گیا۔ دورانِ کارروائی ان کے گھر سے کئی ہائی ڈیفینیشن کیمرے اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی برآمد کیے گئے۔ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ شوہر رکشہ چلاتا تھا مگر وہ شدید بیماری میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس کی آمدن محدود ہو چکی تھی۔ جوڑے کی دو بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جن میں ایک بی ٹیک کی طالبہ ہے جبکہ دوسری نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 470 میں سے 468 نمبر حاصل کیے ہیں اور کالج میں داخلے کی تیاری کر رہی تھی۔

    مالی دباؤ کے باعث اس جوڑے نے موبائل ایپ کے ذریعے اپنے فحش مناظر کی ویڈیوز اور لائیو اسٹریمز فروخت کرنا شروع کر دیں۔ پولیس کے مطابق لائیو ویڈیو کے لیے ناظرین سے 2000 روپے، جب کہ ریکارڈ شدہ کلپس کے لیے 500 روپے لیے جاتے تھے۔ صارفین کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ویڈیوز میں ماسک پہننا شروع کیے تھے۔ پولیس نے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمی سے حاصل ہونے والی آمدن کو رکشہ چلا کر حاصل ہونے والی آمدن سے کہیں زیادہ قرار دیا۔پولیس نے جوڑے کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے اُن افراد کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں جنہوں نے ان فحش ویڈیوز کو خریدا یا ڈاؤن لوڈ کیا تھا۔

  • پارٹی ویڈیو لیک ہونے پر ایئر انڈیا کے چار سینئر افسران سے استعفے طلب

    پارٹی ویڈیو لیک ہونے پر ایئر انڈیا کے چار سینئر افسران سے استعفے طلب

    ایئر انڈیا کی ایئرپورٹ گیٹ وے سروسز فراہم کرنے والی کمپنی AISATS کے گُڑگاؤں دفتر میں کام کے دوران پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کمپنی نے چار سینئر افسران سے فوری استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔

    یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب چند روز قبل ہی ایئر انڈیا کی پرواز AI 171 کا المناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں 259 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے فوراً بعد کمپنی کے دفتر میں جشن منانا سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنا۔AISATS کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا "ہم پرواز AI 171 کے سانحے سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقع پر جو ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، وہ بدقسمتی سے ہمارے ادارے کی قدروں کے خلاف ہے اور ہم اس پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔”ترجمان نے مزید کہا کہ یہ رویہ کمپنی کے اصولوں اور اخلاقی معیار کے منافی ہے، اور اس غیر سنجیدہ حرکت کے ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔”ہم پیشہ ورانہ رویے، ہمدردی، اور احتساب کے اصولوں پر کاربند ہیں، اور اسی لیے چار سینئر افسران سے استعفے لیے گئے ہیں جبکہ دیگر متعدد ملازمین کو وارننگ جاری کی گئی ہے،”

    واضح رہے کہ AISATS ایک مشترکہ منصوبہ ہے جو ایئر انڈیا لمیٹڈ (جو اب ٹاٹا گروپ کا حصہ ہے) اور SATS لمیٹڈ (گیٹ وے سروسز اور فوڈ سلوشنز فراہم کرنے والی کمپنی) کے درمیان 50-50 فیصد شراکت داری پر مبنی ہے۔

    یاد رہے کہ 12 جون کو لندن جانے والی ایئر انڈیا کی بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر پرواز نے احمد آباد ایئرپورٹ سے پرواز کے فوراً بعد قریبی علاقے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے رہائشی کمپلیکس سے جا ٹکرائی۔ المناک حادثے میں جہاز میں سوار 242 مسافروں میں سے صرف ایک مسافر ایک بھارتی نژاد برطانوی شہری معجزاتی طور پر زندہ بچا، جو سیٹ 11A پر موجود تھا۔

  • حج سے محروم  67 ہزار پاکستانیوں کو 36  ارب روپےواپسی کی ہدایت

    حج سے محروم 67 ہزار پاکستانیوں کو 36 ارب روپےواپسی کی ہدایت

    سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس آج مورخہ 27 جون 2025 کو سینیٹر عون عباس بپی کی زیر صدارت پپس ہال، پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    اجلاس میں سینیٹر بشری انجم بٹ اور سینیٹر دنیش کمار سمیت وزارتِ مذہبی امور کےوفاقی سیکرٹری ڈاکٹر عطاء الرحمن ، سعودی عرب میں تعینات ڈائریکٹر جنرل حج عبدالواہاب سومرو سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 67 ہزار حجاج کرام اور مشاہیر سروسز سے متعلق 3 نکاتی ایجنڈا زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس بپی نے وفاقی سیکرٹری سے سوال کیا کہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ کیوں 67 ہزار پاکستانی فریضہ حج سے محروم ہوئے اور انکے کتنے پیسے سعودی حکومت کے پاس موجود ہیں اور پرائیویٹ حج آپریٹرز سے وہ پیسے کیسے واپس انکو ملیں گے؟ اس پر وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر عطاء الرحمن نے نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو رواں سال سعودی حکومت کی جانب سے 179،210 حجاج کا کوٹہ میسر آیا۔ جس میں 90،830 حجاج کا کوٹہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے زمہ آیا۔سعودی حکومت نےحج سال 2024-25 کے لئے پالیسی واضح کی کہ اس بار حج منظمہ کا کوٹہ صرف اس حج آپریٹر کو ملے گا جو 500 سے 2000 لوگوں کے گروپ میں اپلائی کرے گا۔ پاکستان میں کل اس وقت 903 حج آپریٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ جس میں سے کسی بھی حج آپریٹر کی اہلیت 500 افراد کے انتظامات سنھبالنے کی نہ ہے ۔ اس حوالے سے پرائیویٹ حج آپریٹرز کو مختلف خطوط کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ نئی سعودی پالیسی کے تحت صرف وہی حج آپریٹر اپلائی کرسکتا ہے جو 500 سے 2000 افراد کا گروپ مینج کرسکے۔ اس بابت پرائیویٹ حج آپریٹرز کی تنظم حج آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ہوپ) نے سندھ ہائیکورٹ سے اس فیصلہ کے خلاف حکم امتناحی لے لیا۔ جس کو بعد از 7 جنوری 2025 میں قائمہ کمیٹی کی سفارش پر ہوپ نے واپس لیا۔ جب تک سب ممکن ہوا تب تک سعودی حکومت کی فراہم کردہ ڈیڈ لائن بھی قریب آ چکی تھی۔ لیکن حکم امتناحی کے درمیان ہوپ کی جانب سے 50 ملین ریال پاکستانی حج مشن کے اکاونٹ میں جمع کیا جائے چکے تھے۔ 7 جنوری کے حکم امتناحی واپس لینے کے بعد وزارت نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کو احکامات جاری کئے کہ جلد از جلد نئی سعودی حکومت پالیسی کے تحت اپنے پیسے مقررہ سعودی اکاونٹ میں جمع کروائیں اور اس ضمن نے حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کو 3 لاکھ ڈالر یومیہ کے حساب سے سعودی عرب پیسے بھیجنے کی منظوری بھی دے دی۔ ہوپ کی جانب سے 903 رجسٹرڈ حج آپریٹرز نے آپس میں مختلف آپریٹرز کا کلسٹرز بنا کر 41 آپریٹرز کی فہرست فراہم کی جس کو ہماری جانب سے کدانہ اور طوافہ سروسز کے حوالے سے کام کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی۔ لیکن 14 فروری 2025 تک ہوپ کی جانب سے صرف 187ملین ریال ہی اوپیپ کے اکاونٹ میں جمع کروائے گئے جبکہ سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ جس بھی حاجی کے 14 فروری تک مکمل 14 ہزار ریال جمع ہونگے صرف وہی شخص اس سال حج کرنے کا اہل ہوگا۔ مزید یہ کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کی جانب سے 90 ہزار سے زائد کوٹہ کے برعکس صرف 63،844 افراد نے رجسٹریشن کروائی جبکہ 26986 افراد کے مکمل پیسے جمع ہوئے تھے اور سعودی حکومت کے پالیسی کے مطابق یہی 26986 افراد ہی حج کرسکے۔ ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان حجاج پرائیویٹ حج آپریٹرز تنظیم ک جانب سے ابتک 667 ملین ریال سعودی اکاونٹ میں بھیجے گئے جو کہ اب 489 ملین ریال یعنی پاکستانی 36 ارب روپے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نے 14 فروری کی رات کو پیسے جمع کروانے کے لیے مزید 2 دن کی مہلت فراہم کی لیکن ہوپ کی جانب سے پیسے جمع نہیں کروائے گئے اور پھر 20 فروری کو 2 دن کی مزید مہلت فراہم کی گئی ۔ اور 22 فروری کو سعودی حکومت کی حجاج کرام کے حوالے سے پیسے جمع کروانے کی تاریخ کا اختتام ہو گیا۔

    سینیٹر دنیش کمار نے کہا اس طرح کی باتیں صرف وقت ضائع کرنے کے لیے ہیں ہمیں یہ بتایا جائے یہ اتنی بڑی غفلت ہوئی کیسے کہ 67 ہزار پاکستانی اپنا مذہبی فریضہ ادا ء کرنے سے محروم رہ گئے۔ جبکہ سینیٹر بشری انجم بٹ نے ہوپ کی جانب سے آج کے اجلاس میں عدم شرکت پر انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں بات بھی انکے بابت ہورہی ہے اور اصل فریق موجود ہی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ حج آپریٹز کے حوالے اوورسیز پاکستانی شدید شکایت کررہے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ انکو معلوم تھا کہ حج کوٹہ نہیں مل رہا پھر بھی انہوں نے جھوٹی امید دلوا ء کر دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان بلا لیا جس پر ان لوگوں کو لاکھوں روپے لاگت آئی اور یہاں آ کر مایوسی الگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غفلت چاہے وزارت کی جانب سےہوئی ہے یا پرائیویٹ حج آپریٹرز کی جانب سے اس سے ملک کا نقصا ن ہوا ہے اور لوگوں کا اس نظام سے اعتماد اٹھ گیا ہے اب لوگ حج کے بارے میں سوچنے سے پہلے تذذب کا شکار ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس بپی نے دیگر سینیٹرز کی مشاوارت سے وزارت کو ہدایت جاری کیں کہ15 اگست تک ہر حال میں سعودی عر ب میں موجود پاکستانی عوام کے 36.43 ارب روپے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کو واپس کیے جائیں اور یقینی بنایا جائے کہ پیسے بغیر کسی کٹوتی یا ایکسچینج ریٹ کی کٹوتی کے پورے واپس کیے جائیں۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ 41 پرائیویٹ حج آپریٹرز سے فہرست منگوائی جائے کہ کس افراد نے کتنے پیسے دیئے ہیں اور ان 40 ہزار افراد جن کے پیسے سعودی عرب میں موجود ہیں انکو انکے پیسے واپس کیے جائیں اور وہ فہرست کمیٹی کوبھی فراہم کی جائے۔

    سینیٹر عون عباس بپی نے وزارت کو ہدایایت جاری کیں کہ حج سال 2025-26 کے حوالے سے سعودی حج پالیسی بارے حکومت پاکستان کی رائے لینے کے بعد عوام الناس کو باقاعدہ آگاہی فراہم کی جائے تاکہ لوگ جلد از جلد اس فریضہ کے حوالے سے مقررہ طریقہ سے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرسکیں۔

    اجلاس کے دوسرے ایجنڈے مشاہیر سروز کے حوالے سے طریقہ کار کے حوالے سے ڈی جی حج نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت کی جانب سے نامزد کردہ افراد سعودی حکومت کی جانب سے منظور شدہ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں ، اور جو بہترین اور سروسز فراہم کرے یہ سروسز کا ٹھیکہ انکو دے دیا جاتا ہے۔ اس پر سینیٹر عون عباس بپی نے سابق وفاقی وزیر مذہبی امورچوہدری سالک حسین کے مارچ 2025 ایک خط کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشاہیر سروسز ، ہوٹلوں کی بکنگ، ٹرانسپورٹ اور خوراک اور کیٹرنگ کے ٹھیکوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں کمپنیوں کے مابین سہولیات اور ریٹس کا تقابلی جائزہ اور کمپنیوں کی شہرت اور انتظامات کے حوالے سےاہلیت بارے بہت سے سوال اٹھائے گئے ہیں جس پر ڈی جی حج نے بتایا کہ کل 14 کمپنیاں شارٹ لسٹ کی گئی جس میں سے 3 کمپنیوں نے سب سے کم ریٹ آفر کیے اس میں جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا اس نے 2870 ریال کدانہ و طوافہ کا ریٹ دیا ۔ جبکہ دوسرے نمبر والی کمپنی نے 3070 کا ریٹ دیا اس وجہ سے ٹھیکہ سب سے کم ریٹ والی کمپنی کو دیا ۔ سینیٹر عون عباس نے سینٹ میں پیش کی گئی پروکیورمینٹ کمیٹی کے منٹس کو پڑھتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کیسے ایک کمپنی کے 100 /100 نمبر ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی کمپنی کے 98 ، اور دوسرے نمبر والی کمپنی کے آگے ریمارکس میں لکھا ہوا ہے کہ اس کمپنی کی پریزیڈیشن اچھی نہیں تھی اس وجہ سے 2 نمبر کاٹے، جبکہ سابقہ وفاقی وزیر نے جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار پہلے ہی اپنے خط میں کر دیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس بپی نے وزارت کو ہدایت کی موجودہ ڈی جی حج اور موجودہ پروکیورمینٹ کمیٹی کو آئندہ کسی بھی ٹھیکہ ایوارڈ کرنے یا مالی خرید و فروخت میں شامل نہ کیا جائے اور مزید یہ کہ سروسز کے حوالے سے ٹھیکہ دینے کا شفافہ طریقہ کار واضح کیا جانا چاہیے جس میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو اور خفیہ طریقہ سے کوٹیشین جمع ہو اور ٹیکنالوجی کی مدد سے سب کم ایک اصول اور ضابطہ کے تحت ہوں۔ وفاقی حکومت کو درخواست کی جائے کے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس بات کا تعین کرے کہ مستقبل میں پرائیویٹ حج آپریٹرز کے لیے کس طرح قوانین لاگو کیے جائیں جس سے مستقبل میں ایسے معاملہ دوبارہ پیش نہ آئے۔

  • وزیراعظم سےویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر کی ملاقات

    وزیراعظم سےویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان اور ممتاز کرکٹر ثناء میر کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیر اعظم نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے ہال آف فیم میں ثناء میر کا نام شامل ہونے پر انہیں مبارکباد دی،وزیراعظم نے ثناء میر پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان کے طور پر ان کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ آپ کی زیر قیادت پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ،امید ہے آپ اپنے تجربے سے نئے ٹیلنٹ کو کرکٹ کے حوالے سے تربیت فراہم کرنے میں فعال کردار ادا کریں گی،حکومت کھیل کے ہر میدان میں میرٹ کی بنیاد پر ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے،کرکٹ سمیت کھیل کے ہر میدان میں مرد و خواتین کو یکساں مواقع اور سہولیات دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے

    ثناء میر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میری پوری کوشش ہے کہ ورلڈ کرکٹ ایسوسی ایشن اور آئی سی سی میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کروں،ثناء میر نے پاکستان میں کرکٹ بالخصوص خواتین کی کرکٹ کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے تجاویز دیں اور کہا کہ امید ہے کہ حکومت پاکستان میں کرکٹ کے میدانوں اور نئے ٹیلنٹ کے فروغ اور خصوصاً خواتین کی کرکٹ کے لئے مزید مواقع پیدا کرنے کے لئے اقدامات کرے گی

  • سانحہ سوات،17 افراد بہہ گئے،4 کو بچا لیا گیا،9 کی لاشیں مل گئیں

    سانحہ سوات،17 افراد بہہ گئے،4 کو بچا لیا گیا،9 کی لاشیں مل گئیں

    دریائے سوات میں بارش کے بعد پانی کا ریلہ 17 افراد کو بہا کر لے گیا، جن میں سے 4 افراد کو بچا لیا گیا۔

    سیلابی ریلے میں بہنے والے 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 4 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بہنے والے 17 افراد خشک ٹیلے پر کھڑے ہو کر ایک گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے، مقامی افراد نے اپنے طور پر کشتی سے کوشش کر کے 4 افراد کو بچایا ہے، بہنے والوں میں سے 10 کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان اور 1 کا سوات سے ہے، لواحقین نے کہا ہے کہ بہنے والے دریا کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے، اچانک ریلہ آیا جس کے بعد ان لوگوں نے ایک خشک ٹیلے پر پناہ لی تھی۔

    دوسری طرف سوات کی ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ افراد خود دریائے سوات کے بیڈ میں گئے، ضلعی انتظامیہ نے انہیں روکنے اور بچانے کی کوشش کی تھی،دریائے سوات میں لاپتہ ہونے والی ایک فمیلی نے ’جیو نیوز‘ کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کی 1 خاتون اور 9 بچے دریا میں تھے جو سب لاپتہ ہو گئے،انہوں نے کہا کہ خاتون کی لاش مل گئی ہے جبکہ 9 بچوں کی تلاش جاری ہے،متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ بچے دریا میں تصویر بنانے گئے تھے کہ اچانک ریلہ آ گیا۔

  • مخصوص نشستیں، پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    مخصوص نشستیں، پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی کیونکہ وہ پارلیمانی پارٹی نہیں

    سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہیں مل سکتی،مخصوص نشستیں PTI کو دینے کا منصور علی شاہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ سنادیا، نظرثانی اپیلیں منظورکر لی گئیں،7-5کے تناسب سے فیصلہ سنایاگیا،سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کردیا.

    مخصوص نشستیں ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو ملیں گی،7 ججز نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سنایا جن میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان، جسٹس شاہد بلال، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامرفاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں.فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی جبکہ جسٹس عائشہ ملک،جسٹس عقیل عباسی نے ابتدائی سماعت میں ہی ریویو درخواستیں خارج کر دی تھیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر نے مشروط نظر ثانی منظور کی جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے 39 نشستوں کی حد تک اپنے رائے برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے اقلیتی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن ریکارڑ دیکھ کر طے کرے کس کی کتنی مخصوص نشستیں بنتی ہیں۔

    سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں پر آج 17ویں سماعت تھی، سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے 12 جولائی 2024 کو 8 ججز کی اکثریت سے نشستیں پی ٹی آئی کو دیں،سپریم کورٹ میں جولائی 2024 میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور اگست میں الیکشن کمیشن نے نظر ثانی درخواستیں دائر کیں۔ سپریم کورٹ کے 13 رکنی آئینی بینچ میں 6 مئی کو نظرثانی درخواستیں مقرر کیں،آئینی بینچ سے جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی 6 مئی کو درخواستیں مسترد کر کے الگ ہوئے جبکہ 17ویں سماعت پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس سننے سے معذرت کی،الیکشن کمیشن، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اپنی تحریری معروضات بھی جمع کرائیں،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے فیصل صدیقی، حامد خان نے دلائل دیے اور پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

    فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، آئین کی غلط تشریح کی گئی،بیرسٹر گوہر
    پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے،جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور بہت ناانصافی ہوئی ہے، لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے قاضی فائز عیسیٰ کا سایہ آج بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے، فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، آئین کی غلط تشریح کی گئی ہے، یہ نشستیں پی ٹی آئی کی تھیں، اس فیصلے کے بعد کے پی میں 3 سیٹیں جیتنے والی جماعت کو 11 نشستیں ملیں گی، وقت بتائے گا یہ فیصلہ غلط ہے، امید ہے 26 ویں ترمیم ایک دن ختم ہوگی اور اس کے بعد جو سپریم کورٹ بنے گی وہ ضرور کہے گی یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے، اب نظرثانی فیصلے کے بعد کسی اورعدالت میں نہیں جاسکتے، ہم فیصلے کے خلاف اسمبلی اورعوامی سطح پراحتجاج کریں گے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں اسی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں کا آئینی استحقاق تسلیم کیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب عدالت نےآئین کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا، یہ نظرثانی کیس مہینوں عدالتوں میں چلتا رہا، پی ٹی آئی نے ہرقانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دلیل پیش کی، ہرآئینی نکتہ اٹھایا، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کو مالِ غنیمت کی طرح مسترد شدہ جماعتوں میں بانٹا گیا، یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے، پاکستان آج مکمل طور پربے آئین، بے انصاف اور ریاستی استبداد کا نمونہ بن چکا ہے، آج ایک بار پھرپی ٹی آئی کے آئینی حق پرڈاکا ڈالا گیا، آج کے فیصلے نے انصاف کی روح کو کچلا،عوام کے ووٹ،نمائندگی اوراعتماد روند ڈالا۔

  • سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ کا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا دورہ

    سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ کا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا دورہ

    پاکستان میں سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ خصوصی وایڈیشنل ڈائیریکٹر انٹر نیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر حافظ مسعودعبد الرشید اظہر نے وفد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر کامران سے ملاقات کی اور انھیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ، پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی عالمی رینکنگ تک پہنچے گی۔ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر نے ڈاکٹر کامران کو ماضی قریب میں المجلس الاسلامی باکستان، کلیة القرآن الکریم والتربیة الاسلامیة اور سعودی حکومت کے تعاون سے یونیورسٹی میں تعمیر کردہ تقریباََ چار کروڑ کی لاگت سے ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھنے والی پر شکوہ مسجد جامع ابن کثیر سمیت مختلف پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور وہ پراجیکٹس جو سعودی حکومت کی طرف سے منظور ہونے کے باوجود ابھی تک یونیورسٹی میں شروع نہیں کیے جاسکے ،ان پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر کامران نے رکے ہوئے پراجیکٹس از سر نو شروع کرنے پر زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید نے کہا میں ابنائے جامعہ میں سے ہوں میری شدید خواہش ہے کہ میں اپنی مادر علمی کی خدمت کروں۔ ڈاکٹر کامران نے اسلامیہ یونیورسٹی میں سیرت چیئر کی مستقل بلڈنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہم یونیورسٹی کو ڈیلیور کرنا چاھتے ہیں۔ڈاکٹر کامران نے سعودی حکومت کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی میں مکمل کئے گئے پراجیکٹس پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو آپ جیسے ہونہار طالب علم پر فخر ہے۔رئیس المجلس الاسلامی ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے ڈاکٹر کامران کو کنگ فہد قرآن کمپلکس کے طبع شدہ درجنوں اردو ترجمہ وتفاسیر والے قرآن مجید پیش کیے ۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے ہمراہ وفد میں معروف سکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبیدالرحمان ، حکیم احمد حسین اتحادی گولڈ میڈلسٹ ، حافظ عبداللہ بن مسعود اور دیگر بھی شامل تھے۔ وفد نے ڈاکٹر کامران کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف شہزاد احمد ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، رجسٹرار یونیورسٹی شجیع الرحمان اور خزانہ دار عبدالستارظہوری، عرفان غازی ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات غلام محمد سے بھی ملاقات کی ۔

  • سفارتی سطح پر بھارت کا تنہا رہ جانا پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے،عرفان صدیقی

    سفارتی سطح پر بھارت کا تنہا رہ جانا پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے،عرفان صدیقی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا ہے کہ پے درپے دو جنگوں کے تناظر میں پاکستان کا موقف واضح کرنے اور ایک متوازن بیانیہ دنیا کے سامنے لانے کے لئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی قیادت میں دفترِ خارجہ نے انتہائی شاندار کرداراداکیا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سینیٹ قائمہ کمیٹی امورِ خارجہ کے اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کمیٹی کے ا رکان شیری رحمان اور مصدق ملک کی خدمات کو سراہا جو پارلیمانی وفد کے ارکان کے طور پر انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں دنیا کو پاکستانی موقف سے آگاہی کے لئے سر انجام دیں۔ وزارتِ خارجہ کی سیکرٹری آمنہ بلوچ اور اعلیٰ عہدیداروں نے کمیٹی ارکان کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد کی صورتِ حال،اس ضمن میں پاکستان کے کردار اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔مختلف ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سیکرٹری امور ِ خارجہ نے کہا کہ ہماری تمام تر کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام پر مرکوز ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں مختلف ممالک کے اشتراک سے نہایت موثر کردار ادا کررہا ہے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ان ا قدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف عالمی فورمز پر بھارت کا تنہا رہ جانا اس کی شکست اور ہمارے بیانیے کی فتح ہے۔ کمیٹی کے اِن کیمرہ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان،سینیٹر انوار الحق کاکڑ،سینیٹر مصدق ملک، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر اور سینیٹر ذیشان خانزادہ نے شرکت کی۔ جب کہ وزارتِ خارجہ کی نمائندگی میڈم آمنہ بلوچ اور دیگر سینیئر عہدیداروں نے کی۔

  • سوات سیلاب،پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہنچ گئی

    سوات سیلاب،پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہنچ گئی

    سوات سیلاب،پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہنچ گئی

    پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف مشن میں ریسکیو 1122 کے ہمراہ حصہ لے رہے ہیں ،پاک فوج کے دستے ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں ،اب تک تین لوگوں کو زندہ بچایا جا چکا ہے جب کہ سات لاشیں نکالی جا چکی ہیں ،صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں مزید دستوں کو بھی روانہ کیا جائے گا،

    واضح رہے کہ دریائے سوات میں تیزبہاؤ کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے،سیاح دریا کے کنارے بیٹھا ناشتہ کررہا تھا تاہم اسی دوران بارش کی وجہ سے دریا میں تیز بہاؤ ہوا اور ایک ہی خاندان کے 18 افراد بہہ گئے،8 بجے کے قریب ان لوگوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملی، بائی پاس پر مہمان آئے ہوئے تھے جو دریا کے کنارے بیٹھے تھے، ان لوگوں کو پانی کے ریلے کا علم نہیں تھا۔