Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی،  بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

    مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی، بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

    مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی، بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکارہو گئے

    مودی حکومت کی غیر واضح پالیسیوں پر امریکہ نے اظہار تشویش کیا ہے ، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے،مودی سرکار کا "وشو گرو” بیانیہ معاشی میدان میں ناکام ہو چکا ہے، ٹیرف سے خوفزدہ مودی نے پالیسی یوٹرن لیا ہے،بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق آٹو، اسٹیل اور زرعی اشیاء پر محصولات کا تنازع شدت اختیار کر گیا،بھارت کا دوہرا معیار، خود 68فیصد درآمدی ٹیرف لیکن امریکا سے رعایت کا مطالبہ کیا ہے،معرکہ حق کے دوران امریکا کی پاکستان سے رغبت پر بھی بھارت تذبذب کا شکار ہےبھارتی سفارتی ناکامی سے معیشت کو دھچکا لگا ہے،

    صدر ٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ، پاکستان سے ٹرمپ کی قربت پر بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے،بھارت امریکا کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے پر خوفزدہ ہے،مودی کی جانب سے باہمی رعایت نہ ملنے پر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی وارننگ دی گئی ہے،نام نہاد خود مختار بھارت کی اقتصادی دیواریں ہلنے لگیں ، تجارتی محاذ پر پسپائی کا سامناکر رہا ہے

  • علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود

    علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود

    علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود، زمینی حقیقت مالی بحران اور بدحالی کا شکار ہے،

    سائنسی تحقیق اور ترقی کے لیے مخصوص اسکیم وِگیان دھارا مودی سرکار کےسیاسی ڈرامے سے بڑھ کر کچھ نہیں،حکومتی اسکیم INSPIRE کے تحت محققین 9 ماہ تک وظائف سے محروم، کئی قرض لینے یا تحقیق چھوڑنے پر مجبور ہیں،الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "تحقیق کیلئے 70 فیصد بجٹ سود سے پاک قرضوں کی شکل میں نجی اداروں کو بانٹ دیا گیا”INSPIRE جیسے تحقیقی منصوبوں پر 22 فیصد بجٹ کٹوتی، وگیان دھارا کی آڑ میں اصل کٹوتی کو چھپایا گیا، نئی اسکیم وگیان دھارا نے وظائف کی ادائیگی کو بحران اور بدنظمی میں دھکیل دیا، حکومتی فنڈز کی عدم ادائیگی سے محققین لیپ ٹاپ تک خریدنے سے قاصر، بچتیں بھی ختم ہو گئیں، IITs اور IISERs کے محققین بیوروکریسی کی بے حسی، مبہم جوابات اور حکومتی نظراندازی کا شکار ہیں،تمام محققین تین مہینے سے لے کر نو مہینے تک بغیر وظائف کے گزارا کر رہے ہیں، وِگْیان دھارا کے بجٹ میں 67.5 فیصد کمی، 2016-17کے 43.89 ارب سے کم ہو کر 2025-26 میں 14.25 ارب روپے رہ گیا،

    بھارتی محقیقین نے وظائف کی عدم ادائیگی کے بارے میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "وظیفہ نہ ملنے کے خدشے پر سالانہ کانفرنس میں شرکت نہ کر سکا”ستمبر 2024 سے اب تک انہیں ادائیگیاں موصول نہیں ہوئیں، پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں،پی ایچ ڈی سکالر کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کالز اور ای میلز کیں، لیکن اکثر کا کوئی جواب نہیں آیا یا صرف مبہم اور بعض اوقات بدتمیز جوابات ملے، سرکاری بے حسی نے سائنسدانوں کی زندگی اجیرن بنا دی، کوئی سننے والا نہیں،

  • افغان طالبان کے  دور میں  افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

    افغان طالبان کے دور میں افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

    افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے

    داعش خراسان ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد گروپ افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں،اس حوالے سے امریکی امور خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بل ہائزنگا نے حقائق پیش کردیئے،بل ہائزنگا کے مطابق "طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے”افغان طالبان دوحہ معاہدے کے مطابق دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کے وعدے پر قائم نہ رہ سکے،طالبان حکومت میں داعش خراسان اور فتنہ الخوارج جیسی تنظیموں کی دہشتگردانہ کارروائیاں سرگرم ہیں،طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2024ء میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین دہشتگردانہ حملوں کا سامنا رہا، افغان طالبان کی سہولت کاری میں ہونے والی دہشتگردی کے باعث معصوم پاکستانی اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے،طالبان کے زیر اقتدار،بی ایل اے اور فتنہ الخوارج جیسے گروہ پاکستان میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں،خطے میں عسکریت پسندی کا خطرہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی شدید حد تک بڑھ گیا،طالبان حکومت کی دہشتگردی کے خلاف غیر سنجیدہ حکمت عملی پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے ،

    بل ہائزنگا کے شواہد تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان کی ناکامیوں کے باعث افغانستان دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا ہے

  • اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے تہران میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، نیوکلیئر سائنسدانوں اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں ہزاروں شہری شریک ہوئے

    تہران میں آج ایک عظیم الشان جنازے کا اہتمام کیا گیا جہاں ہزاروں افراد نے ملک کے 60 افراد کو خراج عقیدت پیش کیا، جن میں اعلیٰ فوجی افسران اور نیوکلیئر سائنسدان شامل تھے، جو اس مہینے کے شروع میں اسرائیل کے ساتھ ایران کے 12 روزہ تصادم میں شہید ہوئے۔ایرانی سرکاری میڈیا ادارے نے اس موقع پر حب الوطنی کے نغمات چلائے جبکہ جنازے کی ویڈیو میں سوگوار افراد کو ایران کے سرخ، سفید اور سبز پرچم میں لپٹے تابوتوں کو ہاتھ لگاتے دیکھا جا سکتا تھا۔صدر مسعود پزشکیان بھی اس موقع پر موجود تھے، جن کے ہمراہ سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

    جنازے کے مرکزی اسٹیج پر شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی تصاویر لگائی گئی تھیں جن میں بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی اور جنرل محمد باقری کی تصاویر نمایاں تھیں۔کچھ شرکاء کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی تھیں اور لوگوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی، جیسا کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا۔

    حسین سلامی اسلامی انقلاب کی گارڈ کور کے سربراہ تھے اور ایران کے سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔محمد باقری ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف تھے، جن کی قیادت میں ایرانی فوج تقریباً 500,000 فعال جوانوں پر مشتمل ہے، جیسا کہ برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کا اندازہ ہے۔

    اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ سلامی، باقری اور کئی نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل اس کی ان حملوں کی بڑی کامیابیاں تھیں جو اس نے ایران کے خلاف کی تھیں۔گزشتہ ہفتوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، سائنسدانوں اور عام شہریوں کی شہادت پر تہران میں سوگواروں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں ایک سرکاری جنازے کا انعقاد کیا گیا۔ ایران کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی جنازے منعقد کیے جائیں گے۔

    امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جس کے بعد دونوں ممالک نے 12 روز کے میزائل حملے تبادلہ کیے، اب بھی برقرار ہے۔ لیکن نیوکلیئر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں میں خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اگر انہیں ایران کے یورینیم افزودگی پر مزید رپورٹس میں خطرہ نظر آیا تو وہ ایران کے نیوکلیئر مقامات پر دوبارہ بمباری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں، حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے افراد کے اہل خانہ تل ابیب میں احتجاج کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔ وہ اسے “تاریخی موقع” قرار دے رہے ہیں تاکہ جنگ ختم ہو اور اغوا شدگان کو واپس لایا جا سکے۔ غزہ میں کم از کم 50 افراد اغوا ہیں، جن میں سے 20 کی زندگی کی اطلاعات موصول ہیں۔

  • پنجاب اسمبلی،26 اپوزیشن اراکین کی رکنیت 15 اجلاسوں کیلیے معطل

    پنجاب اسمبلی،26 اپوزیشن اراکین کی رکنیت 15 اجلاسوں کیلیے معطل

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کی خلاف ورزی پر 26 اپوزیشن ارکان 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیئے گئے

    ایوان میں ہنگامہ آرائی، نعرے بازی، دھکم پیل اور دستاویزات پھاڑنے پر کارروائی کی گئی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ایوان کی حرمت اور نظم و ضبط ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا،احتجاج کا حق تسلیم شدہ لیکن اس کی حدود آئین، قانون اور قواعد کے تابع ہیں

    اسپیکر نے عالمی پارلیمانی روایات کا حوالہ دے کر ہنگامہ آرائی کو غیرپارلیمانی قرار دیا اور کہا کہ رولنگ کے باوجود اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ، قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے، قواعد 223 اور 210 کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کی گئی

    معطل ارکان کے نام اور حلقہ نمبر

    ملک فہد مسعود (PP-13)
    محمد تنویر اسلم (PP-19)
    سید رفعت محمود (PP-24)
    یاسر محمود قریشی (PP-25)
    کلیم اللہ خان (PP-60)
    محمد انصر اقبال (PP-73)
    علی آصف (PP-75)
    ذوالفقار علی (PP-76)
    احمد مجتبیٰ چودھری (PP-99)
    شاہد جاوید (PP-115)
    محمد اسماعیل (PP-116)
    خیال احمد (PP-118)
    شہباز احمد (PP-130)
    طیب رشید (PP-141)
    امتیاز محمود (PP-155)
    علی امتیاز (PP-156)
    راشد طفیل (PP-175)
    رائے محمد مرتضیٰ اقبال (PP-203)
    خالد زبیر نثار (PP-231)
    چوہدری محمد اعجاز شفیع (PP-258)
    محترمہ صاٸمہ کنول (PP-260)
    محمد نعیم (PP-263)
    سجاد احمد (PP-265)
    رانا اورنگ زیب (PP-276)
    شعیب امیر (PP-281)
    اسامہ اصغر علی گجر (PP-282)

  • 3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

    3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

    بھارت کی پونے پولیس نے آسٹریلیا میں مقیم بھارتی نژاد شخص کو ایک شادی کے ویب سائٹ پر جعلی پروفائل بنا کر دہلی کی ایک خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے خود کو ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کے نام سے ظاہر کیا اور خاتون کو شادی کا وعدہ کرکے قریبی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد خاتون سے بھاری رقم ایک مبینہ کاروباری منصوبے کے نام پر لے لی۔ایڈیشنل کمشنر کرائم پونے، پانکج دیشمکھ نے بتایا کہ گرفتار شخص کا اصل نام ابھشیک شکلا ہے، جو لکھنؤ کا رہائشی ہے مگر آسٹریلوی پاسپورٹ رکھتا ہے۔ پولیس نے بدھ کے روز اسے ممبئی ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ سنگاپور سے واپس آیا۔متاثرہ خاتون دہلی کی رہائشی اور فی الحال پونے میں مقیم ہے۔ اس نے شادی کی تلاش کے لیے ایک میٹرومونیل ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا تھا جہاں سے 2023 میں ابھشیک شکلا عرف ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ نے اس سے رابطہ کیا۔

    دونوں نے مختلف شہروں میں ساتھ وقت گزارا۔ خاتون کو اپنے سابق شوہر سے 5 کروڑ روپے بطور خلع ملے تھے اور وہ بچوں کے لیے ذہنی سکون و روحانی تربیت پر مبنی ایک کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ملزم نے خاتون کو بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور کاروبار کو عالمی سطح پر لے جانے کا جھانسہ دے کر دو فرضی افراد ’یوان ہینڈایانی‘ اور ’وینسنٹ کوان‘ سے بھی متعارف کروایا، جنہیں اس نے سنگاپور کے شہری بتایا۔پولیس کے مطابق خاتون نے مختلف بھارتی اور سنگاپورین بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ 18 ہزار 540 روپے منتقل کیے۔بعدازاں ملزم نے خاتون کو بتایا کہ وہ منہ کے کینسر کا شکار ہو چکا ہے اور پھر اس سے رابطہ ختم کر دیا۔ ستمبر 2024 میں خاتون کو وینسنٹ کوان کی جانب سے ای میل موصول ہوئی کہ ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کا انتقال ہو گیا ہے۔یہ جان کر خاتون کو شبہ ہوا اور اس نے ایک دوست کو اطلاع دی، جس پر دوست نے پولیس کو الرٹ کیا۔ نومبر 2024 میں متاثرہ خاتون نے پونے سائبر پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم دراصل ابھشیک شکلا ہے اور آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں مقیم ہے۔ پولیس نے اس کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کیا اور ملک بھر میں لوک آؤٹ سرکلر جاری کر دیا۔پولیس کو اطلاع ملی کہ وہ سنگاپور سے ممبئی آ رہا ہے، جس پر سب انسپکٹر سشیل دامرے کی سربراہی میں ٹیم نے ایئرپورٹ سے اسے گرفتار کر لیا۔

    ایڈیشنل کمشنر دیشمکھ کے مطابق "ٹیکنیکل تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے جعلی شناخت ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کے ذریعے شادی کی ویب سائٹ پر 3,194 خواتین کو پیغام بھیجے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فراڈ کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔”

  • محبت کی شادی،تیونس سے لڑکی آئی کراچی،چند ماہ کی شادی کے بعدطلاق

    محبت کی شادی،تیونس سے لڑکی آئی کراچی،چند ماہ کی شادی کے بعدطلاق

    کراچی میں ایک اور محبت کی کہانی جو خوشگوار انجام نہ پا سکی، سامنے آئی ہے۔ جنوبی افریقی ملک تیونس کی 19 سالہ سندا ایاری نے وومن تھانے میں پناہ کی درخواست دی ہے، جہاں اس نے اپنے پاکستانی شوہر کی جانب سے طلاق اور دیگر مشکلات کا ذکر کیا۔

    سندا ایاری تیونس کے دارالحکومت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے 28 نومبر 2024 کو پاکستان کا سفر کیا، جہاں اس کی سوشل میڈیا پر محمد عامر نامی نوجوان سے ملاقات ہوئی جو لیاری کے علاقے نیا آباد کھڈا مارکیٹ کا رہائشی ہے۔ محبت میں گرفتار دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور سندا نے پاکستانی ویزا حاصل کر کے کراچی پہنچنے کا فیصلہ کیا۔سندا کو عامر اور اس کے اہلخانہ نے کراچی ائیرپورٹ سے وصول کیا، اور اگلے دن ہی ایک تقریب میں دونوں کی شادی کی گئی۔ نکاح کا رجسٹریشن 6 مارچ کو لیاری کی یونین کونسل بغدادی میں قانونی طور پر مکمل ہوا۔ شادی کے ابتدا میں دونوں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔

    چند ماہ بعد معمولی باتوں پر دونوں کے درمیان تلخیوں کا آغاز ہوا، جو بڑھتی گئیں۔ آخرکار محمد عامر نے سندا کو طلاق دے دی۔ سندا کا کہنا ہے کہ اب وہ پاکستان میں مزید نہیں رہنا چاہتی بلکہ اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا پاکستانی ویزا 18 فروری کو ختم ہو چکا ہے۔ ویزا کی تجدید یا ایگزٹ پرمٹ کے بغیر وہ ملک چھوڑنے کی صورت میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ویزہ تجدید کے اخراجات تقریباً 400 امریکی ڈالر ہیں، جبکہ واپسی کی فلائٹ کا کرایہ دو لاکھ پاکستانی روپے سے بھی زائد ہے، جو سندا کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ وومن پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنے شوہر کے خلاف بدسلوکی کی شکایت نہیں کی، اور انہیں اس کی حفاظت کے لیے پناہ دی گئی ہے۔ پولیس نے محمد عامر کو تھانے طلب کیا تھا، جہاں اس نے بیوی کو طلاق دینے کی بات تسلیم کی اور واپس چلا گیا۔ بعد ازاں جب پولیس نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا موبائل فون بند تھا۔

    یہ واقعہ امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کی ناکام محبت کی کہانی کے بعد سامنے آیا ہے، جو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر چکی ہے۔ کراچی میں محبت کی کہانیاں اکثر سماجی، معاشرتی اور قانونی پیچیدگیوں کی زد میں آتی ہیں، اور سندا ایاری کی کہانی اس کا ایک اور دردناک ثبوت ہے۔سوشل میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ ایسے کیسز میں جلد اور موثر مدد فراہم کی جائے تاکہ محبت میں گرفتار افراد کو قانونی اور معاشرتی تحفظ حاصل ہو۔

  • ایرانی سپریم لیڈر کو بچایا، مگر انہوں نے شکریہ تک ادا نہیں کیا،ٹرمپ

    ایرانی سپریم لیڈر کو بچایا، مگر انہوں نے شکریہ تک ادا نہیں کیا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کو ایک نازک موقع پر بچایا، لیکن ان کی جانب سے نہ تو شکرگزاری کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی کوئی مثبت ردعمل ملا۔

    اپنے ایک حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جنگ میں فتح کا دعویٰ کرنے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "آیت اللہ خامنہ ای نے اتنی بے وقوفی سے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔ وہ خود جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اور ایک ایماندار شخص کے لیے جھوٹ بولنا مناسب نہیں۔”ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کہاں پناہ لیے ہوئے تھے اور انہوں نے واضح کیا کہ "میں اسرائیل یا امریکی فوج کو خامنہ ای کو مارنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ میں نے ایرانی سپریم لیڈر کو بچایا، مگر انہوں نے میرا شکریہ تک ادا نہیں کیا۔”

    صدر ٹرمپ نے ایران کے عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اس راہ پر قدم نہ بڑھایا تو حالات ان کے لیے مزید خراب ہو جائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "میں گزشتہ دنوں پابندیاں ہٹانے اور دیگر اقتصادی اصلاحات پر کام کر رہا تھا تاکہ ایران کو ایک مستحکم بحالی کا موقع ملے، مگر ایرانی رہنماؤں کے غصے، نفرت اور بیزاری بھرے بیانات نے میرے اقدامات کو فوراً روک دیا۔”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی یہ باتیں ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر اس بیان کے بعد جب وہ خامنہ ای کو بچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور سیاسی محاذ آرائی نے خطے میں بے چینی پیدا کی ہے۔ایران کی جانب سے ابھی تک صدر ٹرمپ کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، مگر سفارتی حلقوں میں اس بیان کو "حساس اور متنازعہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کراچی ایئرپورٹ پر بین الاقوامی کارگو کمپنی کے طیارے سے گاڑی ٹکراگئی

    کراچی ایئرپورٹ پر بین الاقوامی کارگو کمپنی کے طیارے سے گاڑی ٹکراگئی

    کراچی: کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک بین الاقوامی کارگو کمپنی کے طیارے سے گاڑی ٹکرا گئی۔

    ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ پارکنگ ایریا میں کھڑا تھا۔ ایک لوڈر ٹرک اچانک طیارے سے جا ٹکرایا، جس کے باعث طیارے کو نقصان پہنچا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق لوڈر ٹرک کے بریک فیل ہونے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے وہ کنٹرول سے باہر ہو گیا اور طیارے سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے فوراً بعد طیارے کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

    ائیرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مرمت اور نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ ایوی ایشن حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

  • سانحہ سوات،سول سوسائٹی کی جانب سے ذمہ داران کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    سانحہ سوات،سول سوسائٹی کی جانب سے ذمہ داران کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    سوات سول سوسائٹی کی جانب سے واقعہ دریائے سوات پر ایف آئی آر کے لیے درخواست دینا، سوات کے عوام کی جانب سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانے کے مترادف ہے،

    سوات میں حالیہ دلخراش واقعے، جس میں 18 افراد دریائے سوات میں بہہ گئے، پر سوات سیول سوسائٹی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سول سوسائٹی کے صدر عزیز الحق کی سربراہی میں ایک تحریری درخواست تھانے میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں اس سانحے کے تمام ممکنہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے. درخواست میں واضح طور پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ محض قدرتی حادثہ نہیں، بلکہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے؛ سیول سوسائٹی کے مطابق، یہ صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں، بلکہ پورے سوات کے عوام کا مقدمہ ہے اگر اس بار خاموشی اختیار کی گئی، تو کل ہر شہری خطرے میں ہوگا۔

    یہ واقعہ ایک سنگین سانحہ ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے، لیکن سیاحوں کے جانی و مالی نقصانات کو روکنے اور انہیں مناسب سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔ سوات جیسی خوبصورت وادیوں میں سیاحت کا فروغ بہت ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی حفاظت، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہترین انتظامات بھی انتہائی لازم ہیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دریاؤں کے کنارے یا دیگر خطرناک مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ سائنز، ریسکیو ٹیموں کی دستیابی، اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کتنی اہم ہے۔دریائے سوات میں پیش آنے والے دلخراش واقعے پر ایف آئی آر کے لیے درخواست دینا، سوات کے عوام کی جانب سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانے کے مترادف ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں۔

    اب گیند انتظامیہ کے کورٹ میں ہے، اور ان کا کردار درج ذیل نکات پر مشتمل ہونا چاہیے،سول سوسائٹی کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے تاکہ باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔ایک غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو واقعے کی ہر پہلو سے چھان بین کرے۔ تحقیقات میں نہ صرف فوری وجوہات بلکہ دیرینہ مسائل، جیسے غیر قانونی تعمیرات، حفاظتی اقدامات کی کمی، اور ضلعی انتظامیہ کے کردار کو بھی شامل کیا جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی افراد یا محکمے ذمہ دار پائے جائیں، چاہے وہ سرکاری اہلکار ہوں، ہوٹل مالکان ہوں، یا غیر قانونی قابضین، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ کسی بھی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔سانحے کے متاثرین (متوفین کے لواحقین اور زخمیوں) کو مناسب معاوضہ اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔۔ان کے غم میں شریک ہو کر ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔ دریاؤں اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ سائنز، اور ہنگامی صورتحال میں ریسکیو کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ سیاحوں کے لیے معلوماتی اور حفاظتی ہدایات جاری کی جائیں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی صلاحیت کو بڑھایا جائے تاکہ وہ ایسے حالات سے مؤثر طریقے سے نمٹ سکیں۔انتظامیہ پر یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہ کرے، بلکہ اسے ایک موقع سمجھے تاکہ سوات میں سیاحت کو محفوظ بنایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔