Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور ہائیکورٹ،پرویز الہیٰ کے بیٹوں کیخلاف کیس،جج کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائیکورٹ،پرویز الہیٰ کے بیٹوں کیخلاف کیس،جج کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نےسابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الٰہی، بہو سائرہ راسخ اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کے اخراج کی درخواست پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔عدالت نے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دی ہے تاکہ مقدمہ کسی اور بنچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکے،دوران سماعت راسخ الٰہی اور دیگر شریک ملزمان کے وکیل، ایڈووکیٹ عامر سعید راں نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دینے کی کوشش کی، تاہم سماعت ملتوی ہونے کے باعث وہ مؤقف مکمل طور پر پیش نہ کر سکے۔

    درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ان کے خلاف بلاجواز اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا، جو سراسر سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ مؤقف میں کہا گیا کہ ایف آئی اے آج تک مقدمہ میں الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے.درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی مقدمہ کو خارج کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں

  • انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گولیاں چل گئیں،طالبہ قتل

    انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گولیاں چل گئیں،طالبہ قتل

    اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں 22 سالہ طالبہ کو فائرنگ کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی عمر 22 سال تھی اور وہ ہاسٹل میں اپنی دو روم میٹس کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے وقت مقتولہ اپنی دو روم میٹس کے ساتھ موجود تھی اور اسی دوران ایک نامعلوم شخص نے فائرنگ کر کے طالبہ کی جان لے لی۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مقتولہ کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا اور مقدمہ درج کر لیا ہے۔پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی یا کسی اور تنازعے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقتولہ کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ پولیس نے یونیورسٹی کے دیگر طلباء اور عملے سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ ملزمان کا پتہ چلایا جا سکے۔اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے ہاسٹل میں سکیورٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور طلباء کی جانب سے سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قتل کے پیچھے کون سی وجوہات کارفرما ہیں۔

  • گھر کے باہر کھیلنے والی سات سالہ بچی کی لاش زیر تعمیر مکان سے برآمد

    گھر کے باہر کھیلنے والی سات سالہ بچی کی لاش زیر تعمیر مکان سے برآمد

    راولپنڈی میں گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہونے والی سات سالہ بچی پُراسرار طور پر جاں بحق،سی پی او سید خالد ہمدانی کا واقعے پر نوٹس، ایس پی گوجر خان سے رپورٹ طلب کرلی

    راولپنڈی میں گھر کے باہر سے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہونے والی بچی کی پُراسرار ہلاکت ہوئی ہے،تھانہ مندرہ کے علاقے پانچ مرلہ اسکیم میں سات سالہ بچی پراسرار طور پر قتل ہوئی جس کی شناخت 7 سالہ شفق کے نام سے ہوئی،اہل خانہ کے مطابق بچی گھر کے باہر کھیل رہی تھی جس کی لاش گھر کے قریب زیر تعمیر مکان سے ملی ہے۔ بچی کی لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی۔

    تھانہ مندرہ کے علاقہ سے 7 سالہ بچی کی نعش ملنے کے واقعہ پر سی پی او سید خالد ہمدانی نےنوٹس لے لیا،اے ایس پی گوجرخان سے رپورٹ طلب، واقعہ کی فوری تحقیقات اور ملزم/ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا،اے ایس پی گوجرخان پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر موجود ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کئے جا رہے ہیں، بچی سہ پہر سے لاپتہ تھی، پولیس کو بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع رات 9/15 پر دی گئی،پولیس نے فوری طور پر فیملی کے ساتھ مل کر بچی کی تلاش شروع کی، بچی کی نعش ایک زیر تعمیر گھر سے ملی ہے جسے پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں وجہ موت کا حتمی تعین کیا جا سکے گا، واقعہ کی تمام زاویوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں، واقعہ کے حقائق کو سامنے لایا جائے گا،

  • بلوے کریں گے تو پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جا سکتے، وزیر قانون

    بلوے کریں گے تو پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جا سکتے، وزیر قانون

    وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذر تارڑ نے کہا ہے کہ نئی ترمیم لانے کی فی الحال کوئی تجویز نہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی بینچ بننے سے مقدمات کے فیصلے جلد ہو رہے ہیں، 26 ویں ترمیم ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے تھی، اس کے بعد کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،ہو سکتا ہے کل کوئی ضرورت پڑ جائے تو نئی ترمیم آ سکتی ہے، اس کے لیے ساری اتحادی جماعتیں مل کر فیصلہ کریں گی، الزام لگایا جاتا ہے کہ اس وقت قانون کی خلاف ورزی ہو رہی یے، سب کچھ سب کے سامنے ہے، ایک وقت میں ہم بھی اس کا سامنا کر رہے تھے،ہمارے کلائنٹ سابق وزرائے اعظم تھے مگر ان کی گاڑیاں عدالتوں کے اندر نہیں آتی تھیں، آج جھندے والی گاڑیوں میں لوگ آتے ہیں، تقریر کر کے چلے جاتے ہیں، آج عدالتوں کے دروازے ان کے لیے کھل جاتے ییں۔

    وزیر قانون نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ فوجی املاک پر حملے کریں گے، پولیس کی گاڑیاں جلائیں گے، بلوے کریں گے تو پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جا سکتے، ہم تو چاہتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی ہو۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہپندرہ سال پہلے محمد احمد نعیم صاحب سے گذارش کی تھی کہ سیکھنے کے عمل میںُ ہمارا ساتھ دیں،لاہور کا شکریہ کہ جو رسپانس ہے وہ خوش آئیند ہے،اے ڈے آر کی مصالحت کی بات ہو، کہا جائے کہ یہ جوڈیشل سسٹم کا حصہ نہیں یہ غلط ہے،یہ ایڈووکیسی کی ایک نئی شکل ہے،حکومت پاکستان نے وقت کی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے آئی میک کا سنگ بنیاد رکھا ،میرے پاس بہت وائبرینٹ ٹیم ہے ،بنیادی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہمارا کام ہے باقی آپکا کام ہے،پاکستان نے اپنے آپ کو عالمی کمیونیٹی میں رہنے کے لیئے اور اپنا رول پلے کرنے کے لیئے بل تیار کر لیا ہے ،صوبائی اسمبلیوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اس قراردادیں پیش کیں،تین لاکھ مقدمات ہائیکورٹس میں پینڈنگ ہیں،سپریم کورٹ میں بھی ایسے کیس ہزار ہا ہیں، جو مقدمات سپریم کورٹ میں نہیں آنے چاہیئیں انکے لیئے الگ سے بینچ اور ٹائم مختص کر دیا گیا ہے،جو نئے قانون میں شقیں ہیں اس میں آپکو زیادہ رول ملے گا،وکلا کا رول کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے،مستقبل کی وکالت کا آپکو حصہ ہونا ہے،نئی چیزوں کو نئے آئیڈیا کو لے کر چلیں گے تو بلندیوں تک جائیں گے،علم کا قانون کا یہ ایک اور آسمان ہے جس پر ہمیں پرواز کرنا ہے،امید کرتا ہوں کہ اگلے دو روز پوری دلچسپی کے ساتھ ہماری ٹیم کے ساتھ کام کریں گے،

  • دینی مدارس کے لیے گرانٹ بڑھا دی ہے، بیرسٹر سیف

    دینی مدارس کے لیے گرانٹ بڑھا دی ہے، بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے دینی مدارس کے لیے گرانٹ 3 کروڑ سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کر دی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ گرانٹ کی منظوری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں دی گئی، دینی مدارس کے طلبہ بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دینی و عصری تعلیم کا امتزاج وقت کی اہم ضرورت ہے، طلبہ کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلی علی امین گنڈا پور کی قیادت میں صوبے میں دینی وعصری تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں ۔

  • کوئی صوبہ دوسرے صوبے کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا،عظمیٰ بخاری

    کوئی صوبہ دوسرے صوبے کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا،عظمیٰ بخاری

    وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سندھ کا پانی پنجاب نہیں لے سکتا، جو پانی جس صوبےکا ہے اسی کا ہے۔

    وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پروگرام نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی صوبہ دوسرے صوبے کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا، پانی کے معاملے پر سیاست کی گئی ہے، پانی کے معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے اور ہمارےخلاف بیانات دیے جا رہے ہیں جس کا ردِ عمل نہیں دیتے، پنجاب میں فوڈ چین پر حملہ کرنے والے افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا ہے، میں نہیں کہتی کہ فوڈ چین پر حملہ کوئی انفرادی عمل ہے، یقیناً لوگوں کو اکسایا گیا ہے، اس طرح کے واقعات میں ملوث لوگ ملک میں استحکام نہیں چاہتے۔

    عظمیٰ بخاری نے پنجاب حکومت کے اس حوالے سے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان گروہوں کے خلاف ہر قسم کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، فوڈ چین پر حملے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

  • امریکی نائب صدر  کا دہلی پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    امریکی نائب صدر کا دہلی پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    امریکی نائب صدر جے ڈی ونس اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آج صبح دہلی پہنچے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ اوشا ونس اور تین بچے بھی ہیں۔ دہلی کے پام ٹیکنیکل ایئرپورٹ پر ان کا استقبال بھارتی وزیر، اشونی ویشنو نے کیا، جہاں ان کو تینوں مسلح افواج کی جانب سے باقاعدہ گارڈ آف آنر دیا گیا۔

    جے ڈی ونس اور اوشا کے تین بچے ہیں، ایون، بلیک اور بیٹی مرابیل ونس۔ ان کے دونوں بیٹے کردہ پاجامہ میں ملبوس تھے، جبکہ ان کی بیٹی مرابیل جو سب سے چھوٹی ہے، نے انارکلی سوٹ پہن رکھا تھا۔جے ڈی ونس کا بڑا بیٹا ایون، نیلے رنگ کا کردہ پہنے بھارت کے اس دورے پر پہنچا۔ طیارے سے اترنے کے بعد، ایون نے سیڑھیاں اترتے ہوئے اپنے والد کو گلے لگایا، پھر ان کے چھوٹے بھائی، وِویک، جو زرد کردہ میں ملبوس تھا، نے ان کے بعد سیڑھیاں اترنا شروع کیں۔ ان کی تین سالہ بیٹی مرابیل، جو ایک ساتھ عملے کے ممبر کے ساتھ چل رہی تھی، کو اس کے والد نے گود میں اٹھایا۔

    اس دورے کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات متوقع ہے۔ ان کی ملاقات کا مرکزی موضوع دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے بارے میں بات چیت ہو سکتا ہے۔ اس ملاقات میں نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی شریک ہوں گے۔دورے کے دوران، وزیر اعظم مودی نے جے ڈی ونس اور ان کے خاندان کے لیے ایک عشائیے کا انتظام کیا ہے، جس کے بعد نائب صدر کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنما بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بات کریں گے۔

    یہ جے ڈی ونس کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور ان کے ہمراہ ایک پانچ رکنی وفد بھی موجود ہے جس میں پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔دورے کے دوران، جے ڈی ونس اور ان کا خاندان بھارت کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے۔ منگل کے روز، امریکی نائب صدر جے ڈی ونس جے پور کے مشہور امیر قلعے کا دورہ کریں گے، جہاں وہ امریکی بھارت تجارتی سربراہی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اس کانفرنس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ جے ڈی ونس دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر روشنی ڈالیں گے۔بدھ کے روز جے ڈی ونس امریکی وفد کے ہمراہ آگرہ میں واقع عالمی شہرت یافتہ تاج محل کا دورہ کریں گے۔ وہ اس تاریخی مقام پر تقریباً تین گھنٹے گزاریں گے، اور اس کے بعد وہ جے پور واپس لوٹ کر شہر کے مشہور جے پور سٹی پیلس کا بھی دورہ کریں گے۔اس دورے کے دوران جے ڈی ونس کی ملاقات راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما اور گورنر ہری بھاؤ باگڑے سے بھی متوقع ہے۔ اس کے بعد وہ 23 اپریل کو واشنگٹن واپس روانہ ہو جائیں گے

  • فکری انتشار کی وجہ اقبال کے کلام سے دوری ہے۔احسن اقبال

    فکری انتشار کی وجہ اقبال کے کلام سے دوری ہے۔احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے شاعر مشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر انہوں نے مزار پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی ہے۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے، جس میں انہوں نے علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے افکار کو قومی رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیا،وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مزار اقبال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مفکر پاکستان کا 87 واں یوم وفات ہے۔پوری قوم کی طرف سے اُنکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آیا ہوں۔علامہ اقبال نے مردہ قوم کو شعور دیا اور پاکستان کا خواب دیکھا۔آج پاکستان میں جو فکری انتشار ہے اُسکی وجہ اقبال کے کلام سے دوری ہے۔حکومت اقبال کے فکر کو تعلیمی میدان کا حصہ بنائے گی۔جب 2027 میں علامہ اقبال کا 150 واں یوم پیدائش ہوگا تو بین الاقوامی سطح پر اقبال ڈے منائیں گے۔آج کے نوجوانوں کو اگر فکر اقبال سے روشناس کروائیں تو آج مذہبی انتہا پسندی سے دور ہوسکتے ہیں۔

  • بی ایل اے کی دہشت گردی کے خلاف کراچی میں خواتین کا احتجاج

    بی ایل اے کی دہشت گردی کے خلاف کراچی میں خواتین کا احتجاج

    بلوچستان میں جاری دہشتگردی کیخلاف کراچی کی خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا

    احتجاجی مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں شہید کئے جانے والے معصوم پاکستانیوں سے اظہار یکجہتی کرنا تھا
    احتجاجی خواتین نے کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جاری دہشتگردی کیخلاف بھی پرامن ریلی کا انعقاد کیا،ریلی مزار قائد سے شروع ہو کر کراچی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی،ریلی میں طالبات، مذہبی اسکالرز، ڈاکٹرز وکلاء اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی

    ریلی سے خطاب میں شرکاء نے کہا کہ ’’کراچی کثیر القومیتی شہر ہے جہاں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے افراد مل جل کر رہتے ہیں‘‘کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد محنت مزدوری، نوکریاں اور کاروبار کرکے عزت سے رہتی ہے،بلوچستان میں "را” کے ایجنٹ جن میں بی-ایل- اے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی شامل ہیں، دہشتگردوں نے گھناؤنی سازش کے تحت بلوچستان میں موجودصوبوں کے لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر بربریت کا نشانہ بنایا،اس کارروائی کا مقصد دوسرے صوبوں میں بھی نفرت پیدا کرنا اور صوبائی تعصب پیدا کرنا تھا،’’ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی اور پورے ملک کی عوام بلوچ عوام کیساتھ ان دہشت گردوں کے خلاف اکٹھی ہوگئی‘‘
    بلوچ ایک بہادر، غیرت مند اور محب وطن قوم ہے اور ان دہشت گردوں کی نہ تو کوئی قومیت ہے نہ کوئی مذہب،یہ دہشتگرد تو حیوان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ہوتی ترقی دشمن ملک کو ہضم نہیں ہو رہی،ایک منظم سازش کے تحت ماہرنگ بلوچ معصوم بلوچ خواتین کو ڈھال بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے،ماہ رنگ بلوچ ایک سازش کے تحت مسنگ پرسنز کا ڈرامہ رچا رہی ہے،یہ معصوم بلوچ لڑکیوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی کرکے دہشتگردی کی ٹریننگ کیلئے کیمپوں میں بھیجتی ہے،ان میں سے بعض افراد وہاں سے فرار ہوکر میڈیا کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں،سکیورٹی فورسزکے ہاتھوں کئی دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد ان کی شناخت مسنگ پرسنز کے طور پر ہوئی،حقیقت یہ ہے کہ بی ایل اے اور ماہ رنگ بلوچ کو بلوچستان کی ترقی روکنے کا ہدف دیا گیا ہے،

    ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے،پلے کارڈز پر یہ پیغام واضح طور پر درج تھا کہ’’پاکستان کے تمام صوبوں کے دل بلوچستان کیساتھ دھڑکتے ہیں”دہشتگردوں کیخلاف پوری قوم بلوچستان اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • حسینہ واجد کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست

    حسینہ واجد کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست

    بنگلہ دیشی پولیس نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں ان پر مظالم اور بین الاقوامی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی نیشنل سینٹرل بیورو (NCB) کی جانب سے انٹرپول کو یہ درخواست دی گئی ہے تاکہ شیخ حسینہ اور ان کے ساتھ 12 دیگر افراد کے خلاف عالمی سطح پر گرفتاری کی کارروائی کی جا سکے۔

    شیخ حسینہ واجد کے خلاف الزامات میں انسانی حقوق کی پامالی، سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد اور کرپشن جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے چیف پراسیکیوٹر نے نومبر 2024 میں انٹرپول سے مدد کی درخواست کی تھی، اور اب بنگلہ دیشی پولیس نے عدالت کے احکامات اور شواہد کی بنیاد پر اس معاملے میں عالمی سطح پر کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بنگلہ دیشی پولیس نے شیخ حسینہ اور ان کے دیگر 12 ساتھیوں کو "مفرور” قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے درخواست کی ہے۔ ان افراد کے خلاف عالمی سطح پر گرفتاری کے لیے ایک بین الاقوامی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی درخواست اور موجودہ شواہد کے مطابق، شیخ حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کو عالمی سطح پر پکڑنے کے لیے انٹرپول کی مدد ضروری ہے۔شیخ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں ان کا سیاسی پناہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بھارت نے انہیں پناہ دی ہوئی ہے، اور اس وجہ سے ان کی گرفتاری کے امکانات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر دباؤ ڈالا جائے گا تاکہ ان کی گرفتاری ممکن ہو سکے۔شیخ حسینہ اور ان کے دیگر 12 "مفرور ملزمان” کے خلاف انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی درخواست پر بنگلہ دیشی پولیس نے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے، اور اس بات کی توقع ہے کہ انٹرنیشنل سطح پر کارروائی میں تیزی آئے گی۔ بنگلہ دیشی حکومت عالمی سطح پر شیخ حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔