Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حج کوٹہ،سعودی حکومت سے درخواست کی ہے، وزیر مذہبی امور

    حج کوٹہ،سعودی حکومت سے درخواست کی ہے، وزیر مذہبی امور

    وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام حج 2025 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور مجھے ایک ماہ قبل ہی ملی ہے۔ ، وزیر اعظم نے مجھے اچھا حج کرانے کی ذمہ داری دی ہے ، میں نے خود سعودی عرب جا کر انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے پتہ چلا کہ کافی بڑی تعداد میں عازمین کا اس مرتبہ حج کی سعادت سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، میں نے اور علامہ طاہر اشرفی نے اپنی بساط کے مطابق 67 ہزار عازمین کا حج کوٹہ بحال کرانے کی کوشش کی، وزیر خارجہ اسحق ڈار نے بھی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر حج سعودی عرب ڈاکٹر توفیق الربیعہ کی کوششوں سے پاکستان کو دس ہزار کا حج کوٹہ مل گیا ہے ، سعودی عرب نے ایک لاکھ دو ہزار حج کوٹہ کا بتایا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے سعودی حکومت کو درخواست کی ہے کہ ہمدردی سے تمام پاکستانیوں کے لیے غور کریں ، سعودی حکومت نے دس ہزار عازمین کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دس ہزار کا کوٹہ اسی پرائیویٹ حج سکیم سے ہوا ہے ، کچھ لوگ اضافی حج کوٹہ کی بات کررہے ہیں جو درست نہیں ہے ۔سعودی حکومت نے دیگر مسلم ممالک کو ڈیڈ لائن سے رہ جانے والے عازمین کو موقع دیا تو پاکستانیوں کو بھی ضرور ملے گا، جو پالیسی بنے گی وہ پاکستان سمیت سب ممالک کے لئے ہوگی، اگر رہ جانے والے دیگر ممالک کے عازمین، حج پرگئے تو پاکستان کے بھی ضرور جائیں گے ، پاکستانی عازمین کا جو پیسہ سعودی عرب منتقل ہوا ہے وہ ضرور واپس ملے گا ۔

    قبل ازیں حاجی کیمپ اسلام آباد میں حج 2025 کے معاونین کے تربیتی سیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج معاونین کی تربیت انتہائی اہم معاملہ ہے۔ عازمین حج کی خدمت کس طرح کرنی ہے اس سے آپ بخوبی آگاہ ہیں ،اس میں مشکلات آ سکتی ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ آپ کی تربیت کوضرور ی سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ مناسک حج کی ادائیگی کے حوالے سے حاجیوں کی بہترین انداز میں معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی سلیکشن این ٹی ایس کے ذریعے ہوئی ہے تاکہ اس کام کے لئے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا جاسکے۔ سب اپنے ذہن میں یہ بات رکھیں کہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت آپ نے کرنی ہے۔
    انہوں نے کہاکہ جیسی نیت ہوتی ہے اسی حساب سے اجر بھی ملتا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ حج معاونین اپنی خدمات بہتر طریقے سے سرانجام دیں گے کیونکہ حاجیوں کی خدمت حج معاونین کے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔ حج معاونین نے حجاز مقدس میں ملک کے سفیر کےطور پر بھی کام کرنا ہے اور ملک اور حکومت کی نیک نامی کا بھی خیال رکھنا ہے۔کسی حاجی کو بھی حج معاونین سے شکایت نہیں ہونی چاہیے ۔ میں خود بھی وہا ں موجود ہوںگا۔ ہمارے لئے اللہ کے مہمان سب سے بڑے وی آئی پی ہیں ۔ میں نے بطور مذہبی امور پہلے بھی حج کے موقع پر کوئی پروٹوکول نہیں لیا اور اس مرتبہ بھی کوئی پروٹوکول نہیں لوں گا۔

  • حیدرآباد اسٹیڈیم سے نام ہٹائے جانے پر اظہرالدین برہم

    حیدرآباد اسٹیڈیم سے نام ہٹائے جانے پر اظہرالدین برہم

    حیدرآباد – بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین ان دنوں شدید غصے اور افسوس میں مبتلا ہیں، جب حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے نارتھ پویلین اسٹینڈ سے ان کا نام ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    یہ فیصلہ جسٹس وی ایشوریا کی ہدایت پر لیا گیا، جو حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے ایتھکس آفیسر اور امبڈزمن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ کارروائی ایک پٹیشن کے جواب میں کی گئی جو لارڈز کرکٹ کلب نامی مقامی ادارے کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔پٹیشن میں الزام لگایا گیا کہ اظہرالدین نے حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے جانبداری اور ذاتی مفاد پر مبنی فیصلے کیے، جو شفافیت اور اصولوں کے منافی تھے۔

    عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اظہرالدین نے کہا”دل دکھتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے کہ میں نے کرکٹ کھیلی۔ آج کھیل کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جنہیں کرکٹ کی سوجھ بوجھ ہی نہیں۔ یہ کھیل کے ساتھ بدتمیزی ہے۔”انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں اور بی سی سی آئی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔اظہرالدین نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے انتخابات میں صرف اس لیے حصہ لینے سے روکا گیا کیونکہ انہوں نے تنظیم میں موجود کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔ان کا کہنا تھا”یہ مسئلہ تنہا نہیں، سن رائزرز حیدرآباد کو بھی ایسوسی ایشن کے ساتھ پاسز کے معاملے میں مسائل درپیش آئے، جو ناقص گورننس کی نشانی ہے۔”

    حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئی پی ایل 2025 کے دوران کسی بھی ٹکٹ، بورڈ یا میچ مواد میں محمد اظہرالدین کا نام استعمال نہ کرے۔راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں سن رائزرز حیدرآباد کے تین ہوم میچز کے علاوہ کوالیفائر 1 اور ایلیمینیٹر میچز بھی شیڈول ہیں، جن میں یہ ہدایت لاگو ہوگی۔پٹیشن میں صرف اظہرالدین کا نام ہٹانے کی درخواست نہیں کی گئی، بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ نارتھ پویلین اسٹینڈ کو وی وی ایس لکشمن کے نام سے منسوب کیا جائے، جو حیدرآباد کے لیجنڈری بلے باز رہ چکے ہیں۔اس تجویز کے تحت نہ صرف اسٹیڈیم میں بورڈ بدلا جائے بلکہ ٹکٹس اور دیگر تمام مواد میں بھی نیا نام شامل کیا جائے۔درخواست گزار نے زور دیا کہ امبڈزمن مزید احکامات جاری کرے تاکہ انصاف اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • فلسطینیوں پر  ظلم انسانیت سوز ،عالمی برادری نوٹس لے، میاں غلام مصطفی

    فلسطینیوں پر ظلم انسانیت سوز ،عالمی برادری نوٹس لے، میاں غلام مصطفی

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے صدر میاں غلام مصطفی نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام پر ہونے والا ظلم انسانیت سوز اور عالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا فوری نوٹس لیں اور مظلوم فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کریں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجن شیڈکے علاقہ میں ہونے والی عظیم الشان یکجہتی فلسطین ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی میں ملی لیبر فیڈریشن کے چیف کوآرڈینیٹر اسلم خان، ملی ٹرانسپورٹرز و ڈرائیورز فیڈریشن کے صدر سلیم خلجی ، ملی لیبر فیڈریشن لاہور کے سینئر نائب صدر اصغر گجر، ریلوے ورکرز یونین سی بی اے کے قائد رضوان ستی، صدر سید زاہد جاوید شاہ، سیکرٹری جنرل سید زاہد حسین شاہ ،مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، تاجر برادری، مزدور، سماجی کارکنان اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے مظلوم فلسطینی عوام سے یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی عوام کے حق میں اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

    ریلی سے میاں غلام مصطفی، سلیم خلجی ، اصغر گجر و دیگر نے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور یہ رشتہ صرف اسلامی بھائی چارے کا نہیں بلکہ انسانیت کا رشتہ ہے۔ اسرائیل کی طرف سے نہتے فلسطینیوں پر بمباری، خواتین و بچوں کے قتل عام اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مقررین نے بین الاقوامی برادری، او آئی سی، اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ظلم سے باز رکھنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کریں۔

  • انسداد پولیو مہم،پولیس اہلکار پر حملہ قابل مذمت، حکومت ٹیموں کا تحفظ یقینی بنائے، حافظ خالد نیک

    انسداد پولیو مہم،پولیس اہلکار پر حملہ قابل مذمت، حکومت ٹیموں کا تحفظ یقینی بنائے، حافظ خالد نیک

    قوم کا مستقبل محفوظ بنانے کیلیے جان دینے والے پاکستانی قوم کے ہیرو ہیں،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے جنوبی وزیرستان میں انسداد پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکار کی دہشت گردی کے واقعہ میں شہادت پر کہا ہے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم پر مامور اہلکاروں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ پولیو جیسا موذی مرض ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں،پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لئے امن دشمنوں کے خلاف سب کو ایک ہونا ہو گا،والدین بھی انسدادِ پولیو مہم میں تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں .

    حافظ خالد نیک کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بہادر کانسٹیبل کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی، ایسے جوان ہمارے ہیرو ہیں، جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمارے بچوں کو بیماریوں سے بچانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم شہید کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں صبرِ جمیل عطا فرمائے،آمین

  • ہدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام قومی مجلس مشاورت،اہم فیصلے،اعلامیہ جاری

    ہدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام قومی مجلس مشاورت،اہم فیصلے،اعلامیہ جاری

    ہدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں قومی مجلس مشاورت اجلاس کا انعقاد ہوا۔اجلاس میں جوائنٹ سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ قاری محمد یعقوب شیخ نے خصوصی شرکت کی،قومی مجلس مشاورت کی صدارت و میزبانی امیر ہدیۃ الہادی پاکستان پیر سید ہارون گیلانی نے کی ،قومی مجلس مشاورت میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے، قاری محمد یعقوب شیخ نے پروگرام کی نقابت کے فرائض بھی سرانجام دیے۔اجلاس میں ملک کو درپیش سیاسی، معاشی، سماجی اور نظریاتی بحرانوں کے ہر پہلو کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ تمام شرکاء نے اتفاق رائے سے ایک جامع مشترکہ قومی اعلامیہ جاری کیا۔

    اعلامیہ میں غزہ فلسطین کے نہتے، مظلوم اور بہادر عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ واضح کیا گیا کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل کا وجود ناجائز اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔فلسطین میں اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری نسل کشی، معصوم مرد، خواتین اور بچوں کا قتل عام بدترین جنگی جرائم ہیں۔ عالمی اداروں کی مسلم دشمنی اور بےحسی اس ظلم پر مجرمانہ خاموشی ہے۔ عالم اسلام کی غفلت اور بےحسی نے امت کو شرمندہ کر دیا ہے۔اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی حکومت اور پالیسی ساز حلقے صرف معاشی مفادات کے لیے قومی وقار اور عوامی جذبات کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔قومی مجلس مشاورت نے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور شہید لیاقت علی خان کی مستقل اور جرات مندانہ پالیسیوں کے مطابق فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ پر دو ٹوک اور مؤثر سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری حکمت عملی اپنائی جائے۔

    اجلاس میں ملک کو درپیش ہمہ گیر بحرانوں، بالخصوص اعتماد کے بحران، سماجی انتشار، عوامی بےچینی، مہنگائی، دہشتگردی اور ریاستی بے عملی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ واریت کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔قومی مجلس مشاورت نے ایک سٹیرنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جو قومی قیادت و سفارتکاروں سے ملاقاتوں کے ذریعے فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کی ترجمانی کرے گی۔ جلد ہی اسلام آباد میں قومی کنونشن منعقد کیا جائے گا جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی قومی ترجیحات پر مبنی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔

  • وزیراعظم کا ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں اضافے کا خیرمقدم

    وزیراعظم کا ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں اضافے کا خیرمقدم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں 9.38 فیصد اضافے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 13.613 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جو کہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مارچ 2025 میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 6.27 فیصد اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی معیشت کی ترقی اور حکومتی پالیسیوں کی سمت درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ پاکستان کی معاشی استحکام اور عالمی سطح پر ہمارے تجارتی شعبے کی پائیداری کا آئینہ دار ہے۔محمد شہباز شریف نے اس ترقی کو حکومت پاکستان اور نجی شعبے کے درمیان تعاون اور مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہونے والا یہ مثبت اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت اور کاروباری ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی ٹیم ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر سمیت تمام برآمدی شعبوں کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پاکستان کا کاروبار دوست ماحول مزید بہتر ہو تاکہ ملکی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو۔

    وزیراعظم نے نجی شعبے کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر ملکی معیشت کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک میں ایک مضبوط اقتصادی بنیاد قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر اپنی اقتصادی پوزیشن مزید مستحکم کر سکے۔اس کے ساتھ ہی، وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ترقی کے اس سفر کو مزید تیز کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔

  • او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کا آزاد کشمیر کا دورہ

    او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کا آزاد کشمیر کا دورہ

    او آئی سی کے نمائندہ خصوصی برائے جموں و کشمیر، یوسف محمد صالح الدوبی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہے

    وفد میں او آئی سی اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام کے ساتھ ساتھ نمل یونیورسٹی کے نمائندے بھی شامل تھے،دورے کے دوران وفد نے مری میں اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وفد نے مظفرآباد میں مہاجر کیمپوں اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کشمیری مہاجرین سے ملاقات کی،وفد نے کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا،یوسف الدوبی نے حکومتِ پاکستان اور عسکری حکام دورۂ آزاد کشمیر کو منظم طریقے سے منعقد کروانے پر شکریہ ادا کیا۔کشمیری اور فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وفد نے مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

  • بنگلور، بھارتی فضائیہ کے افسر پر حملہ

    بنگلور، بھارتی فضائیہ کے افسر پر حملہ

    بھارتی فضائیہ کے ایک افسر پر بنگلور کے علاقے سی وی رامان نگر میں ایک گروہ کے ہاتھوں حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی اہلیہ، جو کہ خود بھی فضائیہ کی افسر ہیں، کے ہمراہ ایئرپورٹ جا رہے تھے۔ ونگ کمانڈر کو چہرے اور سر پر شدید چوٹیں آئیں۔

    افسر نے واقعہ کے بعد خون آلود چہرے اور گردن کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اس واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ ونگ کمانڈر بوس کی اہلیہ اسکواڈرن لیڈر مدھومیٹا انہیں ڈی آرڈ ی او کالونی سے ایئرپورٹ لے جا رہی تھیں جب یہ واقعہ پیش آیا۔افسر نے ویڈیو میں کہا، "ایک بائیک ہمارے پیچھے آئی اور ہماری گاڑی روک لی۔ پھر اس شخص نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب انہوں نے میری گاڑی پر DRDO کا اسٹیکر دیکھا تو کہا ‘تم DRDO والے ہو’، اور پھر مجھے اور میری بیوی کو گالیاں دیں۔ میں برداشت نہیں کر سکا اور گاڑی سے باہر نکلا، تو بائیک والے نے میرے ماتھے پر چابی سے وار کیا اور خون بہنے لگا۔”

    افسر نے مزید کہا، "میں وہاں کھڑا ہو کر چیخ رہا تھا، ‘ہم ان لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ ہم سے اس طرح سلوک کر رہے ہیں؟’ اس پر مزید لوگ آ گئے اور ہمیں گالیاں دینے لگے۔ پھر ایک شخص نے پتھر اٹھایا اور ہماری گاڑی پر مارنے کی کوشش کی، جو میرے سر پر لگا… یہ میری حالت ہے۔”انہوں نے کہا، "خوش قسمتی سے میری بیوی وہاں موجود تھی، اس نے مجھے وہاں سے نکالا اور ہم پولیس اسٹیشن گئے تاکہ شکایت درج کروا سکیں، مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔” انہوں نے مزید کہا، "یہ کیا بن گیا ہے کرناٹک، حقیقت دیکھ کر یقین نہیں آ رہا۔ خدا ہماری مدد کرے، اور مجھے طاقت دے کہ میں جوابی کارروائی نہ کروں۔ کل اگر قانون اور انتظامیہ ہماری مدد نہیں کرتے، تو میں جواب دوں گا۔”

    پولیس نے کہا کہ وہ ابھی تک اس افسر کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کی طرف سے کوئی رسمی شکایت نہیں آئی۔ تاہم، انہوں نے افسر کی اہلیہ کو شناخت کر لیا ہے اور معاملے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس واقعے کے بعد بھارتی فضائیہ نے ابھی تک کسی بھی قسم کا ردعمل نہیں دیا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،پرویز الہیٰ کے بیٹوں کیخلاف کیس،جج کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائیکورٹ،پرویز الہیٰ کے بیٹوں کیخلاف کیس،جج کی سماعت سے معذرت

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نےسابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الٰہی، بہو سائرہ راسخ اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کے اخراج کی درخواست پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔عدالت نے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دی ہے تاکہ مقدمہ کسی اور بنچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکے،دوران سماعت راسخ الٰہی اور دیگر شریک ملزمان کے وکیل، ایڈووکیٹ عامر سعید راں نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دینے کی کوشش کی، تاہم سماعت ملتوی ہونے کے باعث وہ مؤقف مکمل طور پر پیش نہ کر سکے۔

    درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ان کے خلاف بلاجواز اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا، جو سراسر سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ مؤقف میں کہا گیا کہ ایف آئی اے آج تک مقدمہ میں الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے.درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی مقدمہ کو خارج کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں

  • انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گولیاں چل گئیں،طالبہ قتل

    انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گولیاں چل گئیں،طالبہ قتل

    اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں 22 سالہ طالبہ کو فائرنگ کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی عمر 22 سال تھی اور وہ ہاسٹل میں اپنی دو روم میٹس کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے وقت مقتولہ اپنی دو روم میٹس کے ساتھ موجود تھی اور اسی دوران ایک نامعلوم شخص نے فائرنگ کر کے طالبہ کی جان لے لی۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مقتولہ کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا اور مقدمہ درج کر لیا ہے۔پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی یا کسی اور تنازعے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقتولہ کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ پولیس نے یونیورسٹی کے دیگر طلباء اور عملے سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ ملزمان کا پتہ چلایا جا سکے۔اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے ہاسٹل میں سکیورٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور طلباء کی جانب سے سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قتل کے پیچھے کون سی وجوہات کارفرما ہیں۔