Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، دہشت گرد حسن گرفتار

    اسلام آباد میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، دہشت گرد حسن گرفتار

    اسلام آباد: سی ٹی ڈی اسلام آباد نے ایک خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک اہم دہشت گرد حسن کو گرفتار کر لیا، جو حساس مقامات کی ویڈیوز بنا کر پھیلانے میں ملوث تھا۔ گرفتار دہشت گرد کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بتایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حسن اسلام آباد اور کراچی کے حساس علاقوں کی ویڈیوز بنا کر انہیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلانے میں مصروف تھا، جس کا مقصد ملک کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانا اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے معلومات فراہم کرنا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ حسن خیبر پختونخوا میں کئی دہشت گرد کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ ٹی ٹی پی کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے اور دیگر دہشت گردوں سے روابط قائم رکھنے جیسے اہم کاموں میں بھی سرگرم رہا ہے۔سی ٹی ڈی کی اس کارروائی میں ایک حساس ادارے کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلیجنس معلومات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ دونوں اداروں کے باہمی اشتراک سے کی گئی یہ کارروائی اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں عمل میں آئی، جہاں حسن کو انتہائی حکمتِ عملی سے گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش جاری ہے، اور اس سے اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے جو ممکنہ طور پر دیگر نیٹ ورکس تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ریاستی ادارے مکمل طور پر متحرک اور چوکنا ہیں، اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔

  • 5803 سکھ یاتری حسین یادوں کے ساتھ واہگہ بارڈر سےبھارت روانہ

    5803 سکھ یاتری حسین یادوں کے ساتھ واہگہ بارڈر سےبھارت روانہ

    بھارتی سکھ یاتریوں کی حسین یادوں کے ساتھ واپسی ہو گئی ہے،5803 سکھ یاتری واہگہ بارڈر سے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے

    صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے یاتریوں کو رخصت کیا،ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر موجود تھے،ممبران پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی بھی موجود تھے،سکھ یاتیروں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسان اور انسانیت کی تعظیم دیکھی ہے ۔ دہلی گوردوراہ مینیجمینٹ کمیٹی کے جتھہ لیڈر سردار دلجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ یہاں سے ملنے والے پیار سے بھارتی سرزمین کو مہکانے کی کوشش کریں گے ۔ حکومت پاکستان ، حکومت پنجاب اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے شکر گزار ہیں ۔

    شرومنی گوردوراہ پربندھک کمیٹی کے جتھہ لیڈر سردار رویندر سنگھ کا کہناتھا کہ پاکستان حقیقت میں اقلیت نواز ملک ہے۔پاکستانیوں کی طرف سے ملنے والا مان کبھی بھلا نہیں پائیں گے ۔

    سردار رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ دعاگو ہیں کہ بہت جلد آپ لوگ واپس آئیں اور ہم ملکر محبتیں بانٹیں ۔ ہم نے خدمت میں کوئی کمی نہی چھوڑ ی۔کوشش ہے کہ اگلی مرتبہ ویزوں کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے ۔کوشش کی کہ ایک بہترین ٹیم ورک سے تمام مراحل ادا کیے جائیں ۔جو کمیاں رہ گئیں ، انکو اگلی مرتبہ لازمی درست کریں گے ۔امید ہے ہم آپ کی مہمان نوازی میں پورے اترے ہوں گے ۔

  • شہدا غزہ کانفرنس ، پیغام دیںگے اہل پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،خالد مسعود سندھو

    شہدا غزہ کانفرنس ، پیغام دیںگے اہل پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے قابض اسرائیلی فورسز کی مسلسل 560 دنوں سے جاری وحشیانہ جارحیت پر کہا ہے کہ انسانیت کی تاریخ میں ظلم و بربریت کی ایسی بھیانک مثالیں کم ہی ملتی ہیں، اسرائیلی درندگی نے سفاکی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں، شہر قائد میں آج شہدا غزہ کانفرنس سے دنیا کو پیغام دیں گے کہ اہل پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے،

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کارکنان و مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ فلسطین میں ڈیڑھ برس میں 12 ہزار اجتماعی قتل عام، 51 ہزار معصوم جانوں کا ضیاع، جن میں 18 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں، یہ اعداد نہیں، انسانیت کے ضمیر پر طمانچے ہیں۔ طبی عملہ، صحافی، طلبا، سیکیورٹی اہلکار، اور شہری دفاع کے کارکنان بھی اس ظلم کا شکار بنے، جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اسرائیل نے پورے خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دیے، اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا گیا ، یہ ایک منظم نسل کشی ہے۔یہ حملہ صرف غزہ پر نہیں انسانیت پر حملہ تھا، یہ ظلم فلسطینیوں کے گھروں پر نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی چھاتی پر کیا گیا ،ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اہل غزہ کے ساتھ کھڑی ہے، غزہ لہو لہو مہم کے تحت آج اتوار کو کراچی میں شہدا غزہ کانفرنس منعقد ہو گی،یہ صرف فلسطین کی جنگ نہیں، شہدائے غزہ کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دینا، ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ امت مسلمہ بیدار ہے،آج اگر عالمی ادارے، اقوامِ متحدہ اور مسلم اُمہ کی اکثریت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، تو کل ان کی اپنی نسلیں بھی اس خاموشی کی قیمت چکائیں گی، ظلم کے خلاف بولنا صرف فلسطینیوں کا حق نہیں، ہماری بھی شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے.

  • 26 نومبر احتجاج، صنم جاوید،مشال یوسفزئی و دیگر کی ضمانت خارج

    26 نومبر احتجاج، صنم جاوید،مشال یوسفزئی و دیگر کی ضمانت خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمات میں پی ٹی آئی کے متعدد ملزمان کی ضمانتیں خارج کر دیں۔

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے متعدد ملزمان کی ضمانتیں خارج کر دیں۔عدالت نے صنم جاوید، مشال یوسفزئی، جاوید کوثر، راجہ بشارت، سمابیہ طاہر، تیمور مسعود اور سمیع ابراہیم سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں عدم پیروی کی بنیاد پر منسوخ کر دیں،ملزمان کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی،جس کی پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سخت مخالفت کی۔ استغاثہ کے دلائل کے بعد عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کی ضمانتیں خارج کرنے کا حکم دیا۔

    یاد رہے کہ 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں پی ٹی آئی سے وابستہ شخصیات اور کارکنان کو شامل تفتیش کیا گیا تھا،

  • کپڑے وقت پر کیوں نہیں دیئے، شہری درزی کیخلاف عدالت پہنچ گیا

    کپڑے وقت پر کیوں نہیں دیئے، شہری درزی کیخلاف عدالت پہنچ گیا

    کپڑے وقت پر نہ دینے پر ایک شہری نے دکاندار کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا لیا ہے۔ شہری نے دکاندار سے تنگ آ کر کنزیومر پروٹیکشن کورٹ ساؤتھ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے دکان کے مالک کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    درخواست گزار نے اپنے بیان میں کہا کہ دکان کے مالک نے 20 فروری کو کپڑے تیار کرکے دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم متعدد بار دکان پر جانے کے باوجود وہ کپڑے تیار نہیں کیے گئے۔ شہری کا کہنا تھا کہ بار بار پیچھے کی جانے والی تاریخوں کے باعث اس کی پریشانی بڑھتی گئی اور بالآخر اسے اپنے بھائی کی منگنی کے لیے دوسرا لباس خریدنا پڑا۔درخواست گزار نے عدالت میں استدعا کی کہ دکاندار کا وعدہ پورا نہ کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے اور اس کے علاوہ ذہنی اذیت کی مد میں مزید 50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا جائے۔

    عدالت نے دکاندار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس درخواست پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور دکاندار کو اس معاملے میں کتنی سزا ملتی ہے۔

  • کینیڈا میں فائرنگ، بھارتی طالبہ ہلاک

    کینیڈا میں فائرنگ، بھارتی طالبہ ہلاک

    کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں بھارتی طالبہ ہرسمرت رندھاوا کو نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 21 سالہ ہرسمرت رندھاوا جو کہ موہاک کالج کی طالبہ تھی، ایک بس اسٹاپ پر بس کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک ایک کار سوار نے فائرنگ کر دی۔واقعے کی تفصیلات میں یہ سامنے آیا کہ بھارتی قونصلیٹ کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ دو کار سواروں کے درمیان ہوا تھا۔ اس دوران ایک گولی ہرسمرت کو سینے میں لگی اور وہ زخمی ہو گئی۔ فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔پولیس نے اس واقعے کو "اندھی گولی” کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہرسمرت رندھاوا بے گناہ راہ گیر تھی جو اس فائرنگ کا شکار ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی اس کی حقیقت سامنے آئے گی۔

    ہرسمرت رندھاوا کی ہلاکت سے متعلق بھارتی حکومت نے کینیڈا کی حکام سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ بھارتی قونصلیٹ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقتول طالبہ کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

  • 9 مئی کے 13 مقدمات، فرد جرم کی تاریخ طے

    9 مئی کے 13 مقدمات، فرد جرم کی تاریخ طے

    9 مئی کے 13 مقدمات میں ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردی گئیں، جس کے بعد عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے تاریخ مقرر کردی۔

    سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں جج امجد علی شاہ کے روبرو ہوئی، جس میں وکلائے صفائی، پراسیکیوٹرز اور ملزمان پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی،دورانِ سماعت بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی،سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی بھی حاضری لگائی گئی۔ شیخ رشید احمد اور عمران خان کے وکیل فیصل ملک بھی عدالت پہنچے،عدالت میں حاضر ہونے والے ملزمان میں مقدمات کی نقول تقسیم کی گئیں،عدالت نے 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر ان 13 کیسز میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

  • لاہور،اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    لاہور،اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں
    اسلام آباد، لاہور، پشاور، پنڈی، کوہاٹ، لوئر دیر، مانسہرہ، چترال اور باجوڑ،سرگودھا،چنیوٹ، شیخوپورہ، ہری پور، ایبٹ آباد،ساہیوال، پنڈی بھٹیاں، سمیت کئی شہروں میں آج زلزلے کے زور دار جھٹکے محسوس کئے گئے جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔

    زلزلہ تقریباً 11 بج کر پچاس منٹ پر آیا، زلزلہ محسوس ہوتے ہی لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر دوڑنے لگے۔ لاہور اور پشاور کے شہری بھی اسی طرح سڑکوں پر نکل آئے،چترال اور باجوڑ جیسے دور دراز علاقوں میں بھی زلزلے کے اثرات نمایاں تھے، جہاں مقامی افراد نے فوراً حفاظتی تدابیر اختیار کیں۔ تاہم، ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہو سکیں،

    زلزلے کے بعد متعلقہ اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ محکمہ موسمیات اور زلزلہ پیما ادارے نے بھی شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید جھٹکے محسوس ہو سکتے ہیں۔

    محکہ زلزلہ پیماء کے مطابق ریکٹراسکیل پرزلزلے کی شدت 5 عشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی،زلزلہ زیر زمین 94 کلومیٹر پرمحسوس کیا گیا ،زلزلے کے مرکز افغانستان اور تاجکستان سرحد تھا ،

  • اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم، وزیر خارجہ سے ملاقاتیں

    اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم، وزیر خارجہ سے ملاقاتیں

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہفتے کے روز ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے۔

    کابل ہوائی اڈے پر وزارت خارجہ کے حکام بشمول ڈاکٹر محمد نعیم وردگ، مفتی نور احمد، فیصل جلالی نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر کابل میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی اور سفارت خانے کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔اسحاق ڈار وزارت خارجہ بھی گئے، جہاں ان کی وزیر خارجہ افغانستان مولوی امیر خان متقی سے بھی ملاقات ہوئی،پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ ہیں۔

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں۔ افغان وزارت خارجہ میں پاک افغان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں سیکیورٹی، تجارت، رابطوں اور عوامی تعلقات سمیت تمام اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔اسحاق ڈار نے کابل پہنچنے کے بعد کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات برادرانہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

    کابل میں پاک افغان مذاکرات کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند زاد اور افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ملاقات کی جس میں سکیورٹی سمیت دیگر دو طرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوندزاد سے ملاقات کی جس میں سکیورٹی، تجارت، ٹرانزٹ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں عوامی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، ملاقات میں برادرانہ تعلقات مزید مضبوط کرنے کے لیے اعلیٰ سطح تبادلوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد نے افغان حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان ہم منصب امیر متقی سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    قبل ازیں نور خان ایئر بیس پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ "افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور ہمارے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی کوشش ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اس دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں مزید استحکام اور ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے یہ ان کا افغانستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

  • زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے . وزیراعظم

    زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے . وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی خودکفالت کے حصول کے لئے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے ،نوجوانوں کی صلاحیتوں اور تجربہ کار ماہرین سے رہنمائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے ، زرعی شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے متعلقہ فریقین کی آراء اور تجاویز کا جائزہ لے کر مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان سے استفادہ کیا جائے گا، زرعی گھریلو صنعتوں، چھوٹے و درمیانے حجم کے کاروبار اور سٹوریج کی سہولیات کو فروغ دے کر زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے .

    انہوں نے یہ بات ملک میں زرعی شعبے کی بحالی، جدت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت نوجوان زرعی ماہرین، سائنسدانوں، محققین، کاروباری شخصیات اور برآمدکنندگان پر مشتمل اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں قومی زرعی پالیسی کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نوجوان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، اور تجربہ کار ماہرین کی رہنمائی سے ایک مربوط لائحہ عمل کی تشکیل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ سمیت متعدد ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نےزراعت کو بہتر بنانے ترقی دینے کیلئے تجاویز کا جائزہ لینا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زمانے میں کپاس، گندم سمیت دیگر اجناس میں خود کفیل تھا لیکن اب گندم کی ہماری فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں کم ہے، ہم کپاس درآمد کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اس آبادی کے بہتر طرز زندگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیہی علاقوں میں بروئے کار لانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں نجی سطح پر زرعی مشینری بنانے کیلئے کچھ ادارے کام کر رہے ہیں ، ایک زمانے میں کامن ہارویسٹر ز باہر سے آتے تھےاور ایک دو اداروں نے ’’ڈیلیشن پروگرام‘‘ بھی شروع کیا، چھوٹے کاشتکاروں کی سہولت کیلئے سروسز کمپنیاں بنائی گئی تھیں تاہم ان کی منظم انداز میں سرپرستی نہیں کی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے پناہ مواقع اور صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن زراعت کے شعبہ میں جو ترقی کرنی چاہئے تھی وہ بالکل نہیں ہوئی، قرب و جوار اور دنیا کے دیگر ممالک نے اس حوالہ سے بہت ترقی کی اور آگے نکل گئے، ہم قوم کے قیمتی وقت کا ضیاع کرتے رہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ اس شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے متعلقہ فریقین کی آراء اور تجاویز کو بغور سنا جائے او ر ان سے استفادہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے حوالہ سے گھریلو صنعت اور ایس ایم ایز میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آف سیزن اجناس کی سٹوریج کا خاطر خواہ انتظام نہیں اور ان کی ویلیو ایڈیشن کیلئے چھوٹے پلانٹس نہیں لگائے گئے جہاں دیہی علاقوں میں ہمارے نوجوان کام شروع کرکے روزگار کے مواقع مہیا کرتے اور اسے برآمد کرتے ، اس شعبہ پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے زرعی ترقی کے لئے چند کلیدی شعبوں کی نشاندہی کی جن میں جامع اصلاحات اور سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔زرعی ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے تحت دیہی علاقوں میں سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی دستیابی بہتر بنانے، کسانوں کا مرکزی ڈیٹابیس تشکیل دینے، اور زرعی ان پٹس کی ترسیل کے لئے بلاک چین اور کیو آر کوڈ سسٹمز متعارف کرانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔تحقیق و ترقی کے میدان میں مٹی کی زرخیزی اور صحت پر توجہ مرکوز کرنے، جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے غذائیت سے بھرپور پیداوار کے فروغ، اور کسانوں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے نجی و سرکاری شراکت داری سے تربیتی پروگرامز کے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔زرعی بنیادی ڈھانچے اور مشینی زراعت کے فروغ کے ضمن میں موجودہ منڈیوں کی بہتری، نئی مارکیٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور جدید زرعی آلات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔زرعی مالیات تک مؤثر رسائی کے لئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، زرعی قرضہ جات کی آسان فراہمی، اور مالیاتی اداروں کے کردار کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔قانونی و انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں حکومت کے کردار کا ازسرنو تعین، شفاف ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل، اور پالیسی سازی میں ماہرین، کسانوں اور متعلقہ فریقین کی شمولیت پر زور دیا گیا تاکہ دیرپا اور مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔اجلاس میں اس اہم پہلو کا بھی جائزہ لیا گیا کہ پاکستان میں فی ایکڑ زرعی پیداوار دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ماہرین نے پانی کے غیر مؤثر استعمال، ناقص بیج، زمین کی غیر معیاری تیاری، اور کھادوں کے غیر سائنسی استعمال کو اس کمی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔شرکاء نے متفقہ طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ پانی کا مؤثر استعمال، معیاری بیجوں کی دستیابی، اور جدید زرعی تحقیق کی روشنی میں توسیعی خدمات کے فروغ سے زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو قومی زرعی ترقی کا حصہ بنانے، سائنسی تحقیق کو ترجیح دینے، اور مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو زرعی خودکفالت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔اجلاس کے اختتام پروزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پانچوں شعبوں پر ورکنگ کمیٹیاں فوری تشکیل دی جائیں اور دو ہفتوں میں قابلِ عمل سفارشات پیش کریں۔