Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 9 مئی کے 13 مقدمات، فرد جرم کی تاریخ طے

    9 مئی کے 13 مقدمات، فرد جرم کی تاریخ طے

    9 مئی کے 13 مقدمات میں ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردی گئیں، جس کے بعد عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے تاریخ مقرر کردی۔

    سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں جج امجد علی شاہ کے روبرو ہوئی، جس میں وکلائے صفائی، پراسیکیوٹرز اور ملزمان پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی،دورانِ سماعت بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی،سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی بھی حاضری لگائی گئی۔ شیخ رشید احمد اور عمران خان کے وکیل فیصل ملک بھی عدالت پہنچے،عدالت میں حاضر ہونے والے ملزمان میں مقدمات کی نقول تقسیم کی گئیں،عدالت نے 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر ان 13 کیسز میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔

  • لاہور،اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    لاہور،اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں
    اسلام آباد، لاہور، پشاور، پنڈی، کوہاٹ، لوئر دیر، مانسہرہ، چترال اور باجوڑ،سرگودھا،چنیوٹ، شیخوپورہ، ہری پور، ایبٹ آباد،ساہیوال، پنڈی بھٹیاں، سمیت کئی شہروں میں آج زلزلے کے زور دار جھٹکے محسوس کئے گئے جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔

    زلزلہ تقریباً 11 بج کر پچاس منٹ پر آیا، زلزلہ محسوس ہوتے ہی لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر دوڑنے لگے۔ لاہور اور پشاور کے شہری بھی اسی طرح سڑکوں پر نکل آئے،چترال اور باجوڑ جیسے دور دراز علاقوں میں بھی زلزلے کے اثرات نمایاں تھے، جہاں مقامی افراد نے فوراً حفاظتی تدابیر اختیار کیں۔ تاہم، ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہو سکیں،

    زلزلے کے بعد متعلقہ اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ محکمہ موسمیات اور زلزلہ پیما ادارے نے بھی شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید جھٹکے محسوس ہو سکتے ہیں۔

    محکہ زلزلہ پیماء کے مطابق ریکٹراسکیل پرزلزلے کی شدت 5 عشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی،زلزلہ زیر زمین 94 کلومیٹر پرمحسوس کیا گیا ،زلزلے کے مرکز افغانستان اور تاجکستان سرحد تھا ،

  • اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم، وزیر خارجہ سے ملاقاتیں

    اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم، وزیر خارجہ سے ملاقاتیں

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہفتے کے روز ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے۔

    کابل ہوائی اڈے پر وزارت خارجہ کے حکام بشمول ڈاکٹر محمد نعیم وردگ، مفتی نور احمد، فیصل جلالی نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر کابل میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی اور سفارت خانے کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔اسحاق ڈار وزارت خارجہ بھی گئے، جہاں ان کی وزیر خارجہ افغانستان مولوی امیر خان متقی سے بھی ملاقات ہوئی،پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ ہیں۔

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے ہیں۔ افغان وزارت خارجہ میں پاک افغان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں سیکیورٹی، تجارت، رابطوں اور عوامی تعلقات سمیت تمام اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔اسحاق ڈار نے کابل پہنچنے کے بعد کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات برادرانہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

    کابل میں پاک افغان مذاکرات کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند زاد اور افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ملاقات کی جس میں سکیورٹی سمیت دیگر دو طرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوندزاد سے ملاقات کی جس میں سکیورٹی، تجارت، ٹرانزٹ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ملاقات میں عوامی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، ملاقات میں برادرانہ تعلقات مزید مضبوط کرنے کے لیے اعلیٰ سطح تبادلوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد نے افغان حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان ہم منصب امیر متقی سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    قبل ازیں نور خان ایئر بیس پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ "افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور ہمارے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی کوشش ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اس دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں مزید استحکام اور ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے یہ ان کا افغانستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

  • زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے . وزیراعظم

    زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے . وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی خودکفالت کے حصول کے لئے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے ،نوجوانوں کی صلاحیتوں اور تجربہ کار ماہرین سے رہنمائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے ، زرعی شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے متعلقہ فریقین کی آراء اور تجاویز کا جائزہ لے کر مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان سے استفادہ کیا جائے گا، زرعی گھریلو صنعتوں، چھوٹے و درمیانے حجم کے کاروبار اور سٹوریج کی سہولیات کو فروغ دے کر زرعی شعبہ کو بھرپور انداز میں ترقی دی جا سکتی ہے .

    انہوں نے یہ بات ملک میں زرعی شعبے کی بحالی، جدت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت نوجوان زرعی ماہرین، سائنسدانوں، محققین، کاروباری شخصیات اور برآمدکنندگان پر مشتمل اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں قومی زرعی پالیسی کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نوجوان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، اور تجربہ کار ماہرین کی رہنمائی سے ایک مربوط لائحہ عمل کی تشکیل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ سمیت متعدد ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نےزراعت کو بہتر بنانے ترقی دینے کیلئے تجاویز کا جائزہ لینا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زمانے میں کپاس، گندم سمیت دیگر اجناس میں خود کفیل تھا لیکن اب گندم کی ہماری فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں کم ہے، ہم کپاس درآمد کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اس آبادی کے بہتر طرز زندگی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیہی علاقوں میں بروئے کار لانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں نجی سطح پر زرعی مشینری بنانے کیلئے کچھ ادارے کام کر رہے ہیں ، ایک زمانے میں کامن ہارویسٹر ز باہر سے آتے تھےاور ایک دو اداروں نے ’’ڈیلیشن پروگرام‘‘ بھی شروع کیا، چھوٹے کاشتکاروں کی سہولت کیلئے سروسز کمپنیاں بنائی گئی تھیں تاہم ان کی منظم انداز میں سرپرستی نہیں کی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے پناہ مواقع اور صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن زراعت کے شعبہ میں جو ترقی کرنی چاہئے تھی وہ بالکل نہیں ہوئی، قرب و جوار اور دنیا کے دیگر ممالک نے اس حوالہ سے بہت ترقی کی اور آگے نکل گئے، ہم قوم کے قیمتی وقت کا ضیاع کرتے رہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ اس شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے متعلقہ فریقین کی آراء اور تجاویز کو بغور سنا جائے او ر ان سے استفادہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے حوالہ سے گھریلو صنعت اور ایس ایم ایز میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آف سیزن اجناس کی سٹوریج کا خاطر خواہ انتظام نہیں اور ان کی ویلیو ایڈیشن کیلئے چھوٹے پلانٹس نہیں لگائے گئے جہاں دیہی علاقوں میں ہمارے نوجوان کام شروع کرکے روزگار کے مواقع مہیا کرتے اور اسے برآمد کرتے ، اس شعبہ پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے زرعی ترقی کے لئے چند کلیدی شعبوں کی نشاندہی کی جن میں جامع اصلاحات اور سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔زرعی ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے تحت دیہی علاقوں میں سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی دستیابی بہتر بنانے، کسانوں کا مرکزی ڈیٹابیس تشکیل دینے، اور زرعی ان پٹس کی ترسیل کے لئے بلاک چین اور کیو آر کوڈ سسٹمز متعارف کرانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔تحقیق و ترقی کے میدان میں مٹی کی زرخیزی اور صحت پر توجہ مرکوز کرنے، جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے غذائیت سے بھرپور پیداوار کے فروغ، اور کسانوں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے نجی و سرکاری شراکت داری سے تربیتی پروگرامز کے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔زرعی بنیادی ڈھانچے اور مشینی زراعت کے فروغ کے ضمن میں موجودہ منڈیوں کی بہتری، نئی مارکیٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور جدید زرعی آلات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔زرعی مالیات تک مؤثر رسائی کے لئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، زرعی قرضہ جات کی آسان فراہمی، اور مالیاتی اداروں کے کردار کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔قانونی و انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں حکومت کے کردار کا ازسرنو تعین، شفاف ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل، اور پالیسی سازی میں ماہرین، کسانوں اور متعلقہ فریقین کی شمولیت پر زور دیا گیا تاکہ دیرپا اور مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔اجلاس میں اس اہم پہلو کا بھی جائزہ لیا گیا کہ پاکستان میں فی ایکڑ زرعی پیداوار دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ماہرین نے پانی کے غیر مؤثر استعمال، ناقص بیج، زمین کی غیر معیاری تیاری، اور کھادوں کے غیر سائنسی استعمال کو اس کمی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔شرکاء نے متفقہ طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ پانی کا مؤثر استعمال، معیاری بیجوں کی دستیابی، اور جدید زرعی تحقیق کی روشنی میں توسیعی خدمات کے فروغ سے زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو قومی زرعی ترقی کا حصہ بنانے، سائنسی تحقیق کو ترجیح دینے، اور مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو زرعی خودکفالت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔اجلاس کے اختتام پروزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پانچوں شعبوں پر ورکنگ کمیٹیاں فوری تشکیل دی جائیں اور دو ہفتوں میں قابلِ عمل سفارشات پیش کریں۔

  • پاکستان اور قطر کے درمیان انسداد منشیات تعاون پر اہم پیش رفت

    پاکستان اور قطر کے درمیان انسداد منشیات تعاون پر اہم پیش رفت

    پاکستان اور قطر کے درمیان انسداد منشیات کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت حالیہ جی سی سی کانفرنس کے تسلسل میں سامنے آئی ہے، جس کے دوران پاکستان کی جانب سے انسداد منشیات کی روک تھام کے لیے مزید تعاون کی راہیں کھولی گئیں۔

    پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور قطر کے درمیان اس اہم مسئلے پر بات چیت کی گئی۔ قطری جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگز کے اعلیٰ سطحی وفد کو اے این ایف ہیڈکوارٹرز میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ انسداد منشیات کے معاملات پر تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی مذاکرات کیے، جن میں انسداد منشیات کی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے، انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے، اور آپریشنل تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ، قطر نے پاکستان کی تکنیکی استعداد کو بڑھانے میں مدد دینے کا عہد کیا ہے، تاکہ پاکستان کو اس کے موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مزید معاونت مل سکے۔

    اس ضمن میں قطری وفد نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ بھی کیا، تاکہ پاکستان کی انسداد منشیات کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس دورے کے دوران قطری مندوبین نے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر مختلف آپریشنل اور تکنیکی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان کی جانب سے حالیہ کانفرنس کا انعقاد منشیات کی روک تھام کے لیے طویل المدتی شراکت داری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو رہا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان انسداد منشیات کے حوالے سے مستقبل میں مزید مضبوط روابط کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد برائے جنوبی ایشیا  کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد برائے جنوبی ایشیا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد برائے جنوبی ایشیا (DSAS) کی ملاقات ہوئی ہے.

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا،ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات، تجارت، تعلیم اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا، تعلیم، آئی ٹی، گرین انرجی اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیش کش کی گئی،تجارت، امن، ترقی اور مشترکہ اہداف کے لئے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پارلیمانی وفد کی آمددوطرفہ مضبوط، پُرامن اور دوستانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ قابل اعتماد دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یورپی یونین کو پاکستان کا شراکت دار ہی نہیں بلکہ دنیا میں استحکام کی آواز بھی ہے۔جی ایس پی پلس ملنے سے پاکستان کی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل کے شعبے میں بہت بہتری آئی ہے۔ انسانی حقوق اور لیبر ریفارمز سمیت تمام تقاضے پورے کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔پنجاب پاکستان کی معیشت کا دل ہے، سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول مہیا کر رہے ہیں۔زراعت، توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی منصوبوں میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔پاکستان کا نوجوان باصلاحیت اور متحرک ہیں، عالمی جاب مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لئے ٹریننگ کورسز کرا رہے ہیں۔ خوشی ہے کہ پاکستانی طلبہ تیسرے سال بھی Erasmus Mundusاسکالرشپ حاصل کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔پاکستان علاقائی و عالمی امن کے لئے پرعزم ہے۔یورپی یونین کے وفد نے حکومت پنجاب کے اختراعی اقدامات کو سراہا

  • کھاریاں گیریژن میں آٹھویں بین الاقوامی مشق،آرمی چیف مہمان خاص

    کھاریاں گیریژن میں آٹھویں بین الاقوامی مشق،آرمی چیف مہمان خاص

    کھاریاں گیریژن میں پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے ہوئے جس میں آرمی چیف نے مشق کے شرکا کو انفرادی اور ٹیم ایوارڈز سے نوازا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کھاریاں گیریژن میں آٹھویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے ہوئے جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ مشق میں پاک فوج کی 7 ٹیموں، پاک بحریہ کی ایک ٹیم اور دوست ممالک کی15 ٹیموں نے حصہ لیا، مشق میں بحرین، بیلاروس، چین، سعودی عرب، مالدیپ،مراکش،نیپال، قطر، سری لنکا، ترکی، امریکا اور ازبکستان شامل تھے۔اس کے علاوہ بنگلا دیش، مصر، جرمنی، کینیا، میانمار اور تھائی لینڈ کے نمائندوں نے بطور مبصر مشاہدہ کیا جب کہ تقریب میں بین الاقوامی مبصرین اوردفاعی اتاشیوں نے بھی شرکت کی اور تقریب کے انعقاد کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ 60 گھنٹے طویل پیٹرولنگ مشق کا مقصد جدید جنگی مہارتوں کو بڑھانا تھا، یہ مشق پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں کی گئی، آرمی چیف نے مشق کے شرکا کو انفرادی اور ٹیم ایوارڈز سے نوازا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ ایسی مشقیں پیشہ ورانہ فوجی مہارتوں اور حکمت عملی سیکھنے کا صحیح فورم ہیں، ایسی مشق جنگ کے بدلتے حالات میں ٹیم اسپرٹ کو فروغ دیتی ہے، اس مقصد کیلئے پاک فوج نے کردار، جرات اور قابلیت کی بھرپور صفات کو برقرار رکھا ہے۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی،دکی میں پانچ دہشتگرد ہلاک

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،دکی میں پانچ دہشتگرد ہلاک

    دکی،سیکورٹی فورسز نے سی ٹی ڈی کے ہمراہ بی ایریا میں ڈبر پہاڑ کے مقام پر کاروائی کی ہے،

    کاروائی کے دوران پانچ دہشتگرد ہلاک ہو گئے،کاروائی انٹلیجنس بنیاد پر کی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی لاشیں سول ہسپتال دکی منتق لکی گئیں بعد ازاں لاشیں ضروری کاروائی کے بعد کوئٹہ روانہ کردی گئی،ہلاک ہونے والے افراد کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی گئی ہےجبکہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کے حوالہ سے آپریشن جاری ہے

    سیکورٹی فورسز بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پرعزم ہیں، بلوچستان میں ملک دشمنوں‌کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے،دہشت گردوں و سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے.

  • کراچی، نارتھ ناظم آباد میں ہم نیوز کی صدر کے نام پر سلطانہ صدیقی روڈ کا افتتاح

    کراچی، نارتھ ناظم آباد میں ہم نیوز کی صدر کے نام پر سلطانہ صدیقی روڈ کا افتتاح

    کراچی: نارتھ ناظم آباد میں "ہم نیوز” کی صدر سلطانہ صدیقی کے نام پر ایک نئی سڑک کا افتتاح کر دیا گیا۔ اس اہم موقع پر ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم، معروف شخصیت ڈاکٹر سیف الرحمان، بشری انصاری، روبینہ اشرف، احمد شاہ، فرحان عیسی، اور ایس ایس پی زیشان صدیقی سمیت مختلف اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    افتتاحی تقریب میں ٹاؤن چیئرمین عاطف علی خان اور کئی دیگر معروف اداکاراؤں اور سیلیبریٹیز کی موجودگی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ ان میں خاص طور پر ڈان نیوز کے مالک حمید ہارون اور طارق مصطفی کی خصوصی شرکت بھی قابلِ ذکر تھی۔مومنہ اینڈ درید فاؤنڈیشن کے سربراہ درید قریشی اور شنید قریشی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شنید قریشی نے اپنی والدہ کی خدمات کے اعتراف میں سڑک کا نام سلطانہ صدیقی کے نام پر رکھنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا:”میری والدہ کی خدمات کے اعتراف میں سڑک کا نام رکھا گیا، اس پر میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔”درید قریشی نے اس بات پر بھی اظہار خیال کیا کہ "ہم جب بھی ضلع وسطی آتے ہیں تو یہاں کوئی نہ کوئی نیا کام ہورہا ہوتا ہے، جو اس علاقے کی ترقی اور خوشحالی کا عکاس ہے۔”

    ڈپٹی کمشنر طحہ سلیم نے سلطانہ صدیقی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا”سلطانہ صدیقی صاحبہ اس ملک کا فخر ہیں، اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔”تقریب کے دوران ایس ایس پی سینٹرل زیشان صدیقی نے سلطانہ صدیقی کو ایک شیلڈ بھی پیش کی، یہ تقریب اس بات کا عکاس ہے کہ سلطانہ صدیقی کی خدمات کو نہ صرف عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے بلکہ ان کی شخصیت کو قومی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

  • وفاقی حکومت ہمارے ووٹوں کی بدولت قائم  ہے،سحر کامران

    وفاقی حکومت ہمارے ووٹوں کی بدولت قائم ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ پنجاب میں‌گندم کی امداد صرف ان کسانوں کو دی جائے گی جن کے پاس کسان کارڈ ہیں۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 5 لاکھ 50 ہزار کسان کارڈز جاری کیے گئے ہیں۔اگر 15 ارب روپے کی کو ان کسانوں میں تقسیم کیا جائے، تو ہر کسان کو تقریباً 27,000 روپے حاصل ہوں گے

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہروں کے یک طرفہ اور متنازعہ منصوبوں کو مسترد کیا اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی تلقین کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔ ہم سندھ کے پانی کے حق پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت ہمارے ووٹوں کی بدولت قائم ہے۔ ہم نے جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی سربلندی کے لیے اسے سہارا دیا ہے، لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پانی ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ تین صوبوں میں خشک سالی کا خدشہ ہے، لیکن اشرافیہ کو نوازنے کے لیے حکومت کسان دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے۔ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی سے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے سندھ میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ریگستان کو آباد کرنے کے لیے زرخیز کھیتوں کو بنجر کرنا کاشتکاروں کا معاشی قتل ہے۔