Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سوشل میڈیا کی لت،انفلوئنسر خاتون نے ساتھی کے ساتھ ملکر کیا شوہر کو قتل

    سوشل میڈیا کی لت،انفلوئنسر خاتون نے ساتھی کے ساتھ ملکر کیا شوہر کو قتل

    سوشل میڈیا پر ہونے والی دوستی نے نوجوان جوڑے کو قاتل بنا دیا، واقعہ بھارت کا ہے

    سوشل میڈیا انفلوئنسر روینا اور سریش کی انسٹاگرام پر ملاقات ڈیڑھ سال قبل ہوئی۔ وقت کے ساتھ دونوں میں گہری دوستی ہوگئی اور وہ اکٹھے ویڈیوز بنانے لگے۔ روینا کی سوشل میڈیا پر مصروفیت اس کے شوہر پروین کو کھٹکنے لگی۔ وہ اکثر اس پر شک کرتا کہ روینا کا سریش کے ساتھ ناجائز تعلق ہے۔ ان کے درمیان اس بات پر اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔پچیس مارچ کی شام پروین جب گھر پہنچا تو اس کا سب سے بڑا ڈر حقیقت بن چکا تھا۔ اس نے اپنی بیوی روینا اور سریش کو ایک قابل اعتراض حالت میں دیکھا۔ غصے میں آکر پروین نے دونوں کو جھڑکا جس پر تلخ کلامی شروع ہوئی۔ اسی دوران، پولیس کے مطابق روینا نے اپنے دوپٹے سے پروین کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا۔ روینا نے سارا دن ایسے ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جب رشتہ داروں نے پروین کے بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی ظاہر کی۔ رات کے وقت سریش موٹر سائیکل پر آیا اور دونوں نے مل کر پروین کی لاش کو موٹر سائیکل کے درمیان رکھا اور اسے 6 کلومیٹر دور ایک نالے میں پھینک دیا۔

    تین دن بعد، پولیس کو نالے سے پروین کی سڑی گلی لاش ملی۔ علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل شدہ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ رات 2:30 بجے ایک موٹر سائیکل پر تین افراد سوار ہیں، مگر واپسی پر صرف دو۔ تحقیقات نے روینا اور سریش کو بے نقاب کر دیا اور دونوں نے جرم کا اعتراف کر لیا۔

    روینا کے انسٹاگرام پر 34 ہزار سے زائد فالوورز ہیں جبکہ یوٹیوب پر اس کے پانچ ہزار سبسکرائبرز ہیں۔ اس کی ویڈیوز عموماً مزاحیہ اور خاندانی مسائل پر مبنی ہوتی تھیں، مگر افسوس کہ یہی مواد اس کو اپنے اصل خاندان سے دور لے جا رہا تھا۔ پروین اور خاندان کے دیگر افراد کئی بار اس سے سوشل میڈیا کی حد سے زیادہ دلچسپی پر اعتراض کرتے، لیکن روینا ان کی بات نہیں مانتی تھی۔اب روینا اور سریش دونوں پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف قتل اور لاش کو چھپانے کے الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کی 2 درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری

    بانی پی ٹی آئی کی 2 درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری

    اسپیشل عدالت سنٹرل ایف آئی اے: بانی پی ٹی آئی کی 2 درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    سینئر اسپیشل جج سنڑل ایف آئی اے شاہ رخ ارجمند خان نے تحریری فیصلہ جاری کیا ،بانی پی ٹی آئی نے بچوں سے واٹس ایپ پر بات اور ذاتی معالج سے چیک اپ کیلئے درخواست دی تھی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالت 10 جنوری اور 28 جنوری کو بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کا حکم دے چکی ہے، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی احکامات پر من و عن عملدرآمد کرے، بانی پی ٹی آئی کا 3 ڈاکٹرز عاصم یوسف ، ڈاکٹر فیصل سلطان، اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی سے میڈیکل چیک اپ کروایا جائے، جیل میں تعینات ڈاکٹرز کی زیر نگرانی تینوں ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کریں گے،اڈیالہ جیل سپریڈنٹ تینوں ڈاکٹرز کو میڈیکل چیک اپ کی اجازت دیگا، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل آڈر کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ 28 اپریل کو جمع کروائے گا،

  • سی ٹی ڈی سندھ کی کارروائی، دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی سندھ کی کارروائی، دہشت گرد گرفتار

    کراچی: سی ٹی ڈی سندھ نے ضلع ملیر، کراچی کے قریب گاگھر پھاٹک کے علاقے میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گرد سجاد شار ببلو کو گرفتار کر لیا۔ وہ غلام عباس کا بیٹا ہے۔

    ابتدائی تفتیش کے دوران سجاد شار نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں ،سجاد شار نے بتایا کہ وہ ایس آر اے ے کمانڈرز اصغر علی شاہ اور نور احمد چانڈیو کا قریبی ساتھی ہے۔ وہ ان سے حکم لیتا ہے اور ان کے احکامات دوسرے ایس آر اے کارکنوں تک پہنچاتا ہے جن میں غلام شبیر ملاح، بشیر احمد، سرنگ علی اور بشیر شار شامل ہیں۔سجاد شار نوجوان لڑکوں کو ایس آر اے میں شمولیت کے لئے ترغیب دیتا تھا اور انہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے اجتماعات میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا تھا۔اس نے مزید بتایا کہ ایس آر اے کے دہشت گرد ارباب بھیل کو مرکزی جیل حیدرآباد میں قید کیا گیا ہے۔ وہ جیل میں ارباب بھیل سے باقاعدگی سے ملاقات کرتا تھا اور اس کی خاندان کی مدد کے لیے راشن وغیرہ فراہم کرتا تھا۔

    سجاد شار کی منصوبہ بندی تھی کہ وہ حیدرآباد کے علاقے بوہڑ کے قریب اپ ریلویز ٹریک پر آئی ای ڈی (مبینہ بم) دھماکہ کرے گا۔ وہ چند دنوں میں آئی ای ڈی کی فراہمی کا انتظار کر رہا تھا، تاہم سی ٹی ڈی کی بروقت کارروائی کی بدولت وہ گرفتار ہو گیا۔مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور منصوبوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

  • نوعمر خواتین کے مقابلے میں40 سال سے زائد عمر کی خواتین زیادہ بچے پیدا کرنے لگیں

    نوعمر خواتین کے مقابلے میں40 سال سے زائد عمر کی خواتین زیادہ بچے پیدا کرنے لگیں

    امریکا کی تاریخ میں پہلی بار 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے بچوں کی پیدائش کی شرح نوعمر خواتین سے زیادہ ہو گئی

    امریکا میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کی خواتین بچوں کی پیدائش کے معاملے میں نوعمر ماؤں سے آگے نکل گئی ہیں، اور یہ ایک اہم تبدیلی ہے جو سی ڈی سی (Centers for Disease Control and Prevention) کے نئے اعداد و شمار کے مطابق سامنے آئی ہے۔

    سی ڈی سی کی مارچ 2025 کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2023 کے درمیان امریکہ میں مجموعی طور پر پیدائش کی شرح میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔ اس دوران، 20 سال سے کم عمر خواتین میں پیدائش کی شرح میں 73 فیصد کمی ہوئی، جو تمام عمروں میں سب سے زیادہ کمی ہے۔1990 میں ہر آٹھ نوعمر لڑکیوں میں ایک حاملہ تھی، لیکن 2023 تک یہ تعداد ایک میں سے 25 ہو گئی۔ 20 سے 24 سال کی خواتین میں 44 فیصد اور 25 سے 29 سال کی خواتین میں 23 فیصد کمی آئی۔ تاہم، 30 سے 34 سال کی خواتین میں پیدائش کی شرح میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ سب سے نمایاں تبدیلی 35 سے 39 سال کی خواتین میں دیکھنے کو ملی، جہاں پیدائشوں میں 90 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    40 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین میں پیدائش کی شرح میں 193 فیصد کا اضافہ ہوا۔ 1990 میں 40 سال سے زائد عمر کی خواتین نے کل پیدائشوں کا صرف 1.2 فیصد حصہ ڈالا، لیکن 2023 میں یہ شرح بڑھ کر 4.1 فیصد ہو گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس عمر کی خواتین کی جانب سے بچوں کی پیدائش کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

    2023 میں 30 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین نے کل پیدائشوں کا 51.4 فیصد حصہ ڈالا، جو 1990 میں صرف 30 فیصد تھا۔ اسی دوران، 1990 میں 30 سال سے کم عمر خواتین 69.8 فیصد پیدائشوں کی ذمہ دار تھیں، لیکن 2023 میں یہ تناسب کم ہو کر 48.6 فیصد ہو گیا۔

    سی ڈی سی کے مطابق، ان تبدیلیوں کے باعث امریکہ میں حمل کی مجموعی شرح میں کمی آئی ہے۔ "30 سال سے کم عمر خواتین میں پیدائش کی شرح میں کمی نے عمر رسیدہ خواتین میں پیدائش کی شرح میں معمولی اضافے کے باوجود مجموعی طور پر پیدائشی شرح میں کمی کا سبب بنی ہے۔”

    کولمبیا یونیورسٹی کی فرٹیلیٹی سینٹر کی ڈاکٹر ایشلے وِلٹشائر نے اس تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تبدیلی زیادہ تر حمل سے بچاؤ کے طریقوں اور معاون تولیدی ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقیوں کا نتیجہ ہے۔ ان دونوں کا مقصد خواتین کو تولیدی آزادی فراہم کرنا ہے، چاہے وہ بچے پیدا نہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں یا بچے پیدا کرنے کی خواہش رکھتی ہوں۔”

    یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی معاشرہ میں تولیدی رجحانات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، جہاں خواتین نے بچے پیدا کرنے کے لیے اپنی عمر کو ترجیح دینی شروع کی ہے اور نوعمری کے حملوں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

  • معافی مانگیں، ورنہ،ٹرمپ انتظامیہ کا  ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اشارہ

    معافی مانگیں، ورنہ،ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اشارہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنے رویے پر معافی مانگے اور وفاقی قوانین کی مکمل پابندی کرے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات کو تسلیم کرے بلکہ وہ اپنے کیمپس میں یہودی امریکی طلبہ کے خلاف کسی بھی قسم کی یہود دشمنی کے لیے بھی معافی مانگے۔

    یاد رہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد مطالبات کو رد کر دیا تھا جس کے بعد امریکی حکومت نے یونیورسٹی کی وفاقی امداد کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق، یونیورسٹی کو یہ فیصلہ تب تک واپس لینے کا موقع دیا جائے گا جب تک وہ انتظامیہ کے مطالبات کو پورا نہیں کرتی۔ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، یونیورسٹی نے پہلے بھی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے تعلیمی آزادی کو تسلیم کرانے کے لیے حکومت کے دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔

    اس تمام صورتحال میں ہارورڈ یونیورسٹی کی فلاحی امداد اور اس کی آئینی آزادیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور یہ تنازعہ امریکی تعلیم اور سیاست کے درمیان ایک نئے تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

  • جو بائیڈن کی ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید

    جو بائیڈن کی ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید

    امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن نے حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ نئی ٹرمپ انتظامیہ نے اتنے کم عرصے میں اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

    بائیڈن نے شکاگو میں ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی حکومت نے معاشی طور پر لوگوں کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے ہیں۔بائیڈن نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی حکومت اب تک 7 ہزار ملازمین کو نوکریوں سے نکال چکی ہے، اور ان اقدامات کا مقصد متوسط طبقے اور ملازمت پیشہ افراد کو نقصان پہنچانا ہے تاکہ ٹرمپ کے امیر دوست اور بھی زیادہ امیر ہو سکیں۔ بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی حکومت سماجی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اس کے اثرات عمر رسیدہ امریکیوں پر بہت منفی ہوں گے۔

    جو بائیڈن نے کٹوتیوں کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبوں پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ ان اقدامات سے عمر رسیدہ امریکیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا، جس سے ان کی زندگیوں میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ بائیڈن نے کہا کہ اس سے امریکہ میں غریب اور متوسط طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

    اس تقریر سے پہلے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک مزاحیہ تبصرہ کیا اور کہا تھا کہ جو بائیڈن رات کو خطاب کریں گے، کیونکہ اس وقت تک تو بائیڈن کا سونے کا وقت ہوتا ہے۔ تاہم، بائیڈن نے اس تنقید کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔

  • چین کا امریکی کمپنیوں سے طیارے خریدنے سے انکار

    چین کا امریکی کمپنیوں سے طیارے خریدنے سے انکار

    چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت، چین نے امریکی کمپنیوں سے طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

    چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ چین نے اپنے ایئرلائنز کو امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے طیارے نہ خریدنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے امریکی کمپنیوں سے آلات اور اسپیئر پارٹس خریدنے سے بھی منع کر دیا ہے۔چین کا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی اشیاء پر 145 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت چین نے امریکی مصنوعات کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ چین کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہیں، لیکن فیصلہ چین کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس معاہدے کے لیے آمادہ ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق، اس وقت معاملہ چین کی طرف ہے کہ وہ اس تجارتی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر آتا ہے یا نہیں۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکا چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے ٹیرف مذاکرات کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالے گا تاکہ وہ چین کے ساتھ تجارت کو محدود کریں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا 70 سے زائد ممالک کو متنبہ کرے گا کہ وہ چین کو اپنے علاقے سے سامان کی ترسیل کی اجازت نہ دیں۔ اس کے علاوہ، ان ممالک سے کہا جائے گا کہ اگر وہ امریکی ٹیرف سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے علاقوں میں چینی کمپنیوں کی موجودگی کو ختم کر دیں۔چین اور امریکا کے درمیان یہ تجارتی جنگ عالمی اقتصادیات پر بھی گہرا اثر ڈال رہی ہے، اور دونوں ممالک کی جانب سے آنے والے فیصلے عالمی تجارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

  • فلسطین بارےاقوام متحدہ قرارداد پر سوشل میڈیا پوسٹ گمراہ کن قرار

    فلسطین بارےاقوام متحدہ قرارداد پر سوشل میڈیا پوسٹ گمراہ کن قرار

    پاکستان نے فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ قرارداد پر سوشل میڈیا پوسٹس کو گمراہ کن قرار دے دیا۔

    دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ قرارداد پر بعض سوشل میڈیا تبصروں کی بنیاد غلط میڈیا رپورٹس پر ہے، پاکستان نے قرارداد او آئی سی کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے پیش کی، قرارداد پاکستان کی نہیں بلکہ جینیوا میں او آئی سی گروپ کی سالانہ مشترکہ پیشکش تھی، قرارداد کا متن فلسطینی وفد کی منظوری اور او آئی سی کی تائید سے پیش کیا گیا، پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر قرارداد کے متن میں یکطرفہ ترمیم نہیں کی، قرارداد کا مقصد تجویز کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سپرد کرنا ہے۔

    دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی مفادات کو تسلیم کرنے کی قیاس آرائیاں بےبنیاد ہیں، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر رابطے بھی نہیں کرتا، پاکستان نے فلسطینی وفد کی درخواست پر او آئی سی کی مزید 2 قراردادیں بھی پیش کیں، پاکستان کا فلسطینی کاز سے تاریخی اور غیرمتزلزل عزم برقرار ہے۔

  • سندھ کے پانی کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،سحر کامران

    سندھ کے پانی کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ میں 31 وزراء، 11 وزرائے مملکت، 24 پارلیمانی سیکریٹریز، مسلم لیگ (ن) کے 5 قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین، اتحادی جماعتوں کے 18 سے زائد قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین، حکومتی مشیر، معاونین خصوصی، اور وزیراعظم سمیت 90 سے زائد افراد پر مشتمل حکومتی ڈھانچہ ملک کی اصل مسائل سے منہ موڑنے کا سبب بن رہا ہے۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یومِ دستور کے موقع پر بھی حکومتی وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کی غیر موجودگی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کو کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہونے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر قومی اسمبلی میں کورم پورا نہیں ہو سکتا۔

    سحر کامران نے پی آئی اے کی نجکاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے عمل میں مکمل شفافیت ضروری ہے اور اس کے دوران پی آئی اے کی فروخت کی قیمت انتہائی کم رکھی گئی، جو افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس دوسری ایئرلائنز کو دینے کے بعد اس کا مارکیٹ شیئر 50 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گیا۔ انہوں نے سابق وزیر غلام سرور خان کے متنازعہ بیانات کو بھی پی آئی اے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے اور سندھ میں بہترین صحت کی سہولتیں، مفت علاج، ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتیں، خواتین کے لیے پنک بس، اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے الیکٹرک بس متعارف کرائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی جیت عوام کے اعتماد اور محبت کا نتیجہ ہے۔

    سحر کامران نے مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ سندھ میں کنالوں کے مسئلے پر کشیدگی پیدا کر کے صوبہ سندھ میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی سندھ کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے، اور سندھ کے پانی کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سحر کامران نے حکومت کی کسان دشمن زرعی پالیسیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ان پالیسیوں نے زراعت کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور کسانوں و ہاریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • بھارت اور پاکستان میں شدید گرمی کی لہر، انسانی بقا کی حدوں کو چیلنج کرنے والا موسم

    بھارت اور پاکستان میں شدید گرمی کی لہر، انسانی بقا کی حدوں کو چیلنج کرنے والا موسم

    بھارت اور پاکستان میں شدید گرمی کی لہر نے مقامی لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں، جہاں درجہ حرارت کے خطرناک سطحوں تک پہنچنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک میں گرمی کی لہریں مئی اور جون کے مہینوں میں آتی ہیں، لیکن اس سال یہ لہر پہلے ہی آغاز کر چکی ہے اور طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    پاکستان اور بھارت دونوں میں اس ہفتے درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، 14 اپریل سے 18 اپریل کے درمیان ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ بلوچستان میں درجہ حرارت 49 ڈگری سیلسیس (120 فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ امریکہ کے ڈیٹھ ویلی کے درجہ حرارت کے برابر ہے۔

    بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی کے رہائشی ایوب کھوسہ نے کہا کہ یہ گرمی کی لہر اس شدت کے ساتھ آئی ہے کہ اس نے بہت سے لوگوں کو غیر متوقع طور پر متاثر کیا ہے۔ "سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی مستقل لوڈشیڈنگ ہے، جو کہ 16 گھنٹے تک چل سکتی ہے۔ یہ گرمی کی شدت کو مزید بڑھا دیتی ہے اور لوگوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل بنا دیتی ہے۔”

    دریں اثنا، بھارت میں بھی انتہائی گرمی کا سامنا کیا جا رہا ہے، جو معمول سے پہلے آچکی ہے۔ دہلی جیسے شہر میں درجہ حرارت پہلے ہی 40 ڈگری سیلسیس (104 فارن ہائیٹ) کو عبور کر چکا ہے اور اس مہینے کم از کم تین بار یہ درجہ حرارت پہنچ چکا ہے۔ راجستھان میں کسانوں اور مزدوروں کو شدید گرمی کا سامنا ہے اور بیماریوں کی اطلاعات بھی سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔راجستھان کے کسان بالو لال نے بتایا کہ "ہم اس گرمی میں کام کرنے سے قاصر ہیں، اور جب ہم باہر نکلتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ جل کر مر جائیں گے۔”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت انسانی بقا کی حدوں کو آزما رہے ہیں۔ پچھلے دہائیوں میں بھارت اور پاکستان میں گرمی کی لہروں نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک بھارت ان پہلے ممالک میں شامل ہو گا جہاں درجہ حرارت انسانوں کی بقا کی حدوں کو عبور کر جائے گا۔گرمی کی شدت کے دوران حاملہ خواتین اور ان کے نوزائیدہ بچے خاص طور پر خطرے میں ہیں۔ کراچی میں عالمی تنظیم برائے دایہ کے مشیر نہا مانکانی نے کہا کہ "گرمیوں میں 80 فیصد بچے پیشاب کی مشکلات اور قبل از وقت پیدائش کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔”

    پاکستان اور بھارت دونوں میں زرعی شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا براہ راست اثر فصلوں کی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔ کسانوں کو اپنے کام کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور کئی جگہوں پر فصلوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔پاکستان کے ماہر ماحولیات، اور کراچی کے کسان توفیق پاشا نے کہا کہ "گرمی کی لہر فصلوں کی پیداوار کو تباہ کر رہی ہے۔” سندھ اور بلوچستان میں قحط سالی نے پانی کی کمی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے کھیتوں میں فصلوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔

    گرمی کی لہریں بجلی کی طلب میں اضافہ کرتی ہیں، جس سے کوئلے کی کمی اور بجلی کی بندش جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سکولوں کی بندش اور ٹرینوں کی منسوخی بھی اس صورتحال کا حصہ ہیں، جس سے تعلیم اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت میں شدید گرمی کی لہر نہ صرف انسانی بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہے، بلکہ زرعی پیداوار، توانائی کی کمی، اور معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا نتیجہ ہے، اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔