Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد میں پاکستان، گلف کوآپریشن کونسل انسداد منشیات کانفرنس کا انعقاد

    اسلام آباد میں پاکستان، گلف کوآپریشن کونسل انسداد منشیات کانفرنس کا انعقاد

    16-17 اپریل 2025 کو پاکستان کی میزبانی میں گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی انسداد منشیات کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں جی سی سی ممالک کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ یہ ایک اہم اور پُر وقار تقریب تھی، جس میں منشیات کی روک تھام اور اس کے خلاف علاقائی تعاون پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

    کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید نے اپنے خطاب میں معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس اہم مسئلے پر پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے انسداد منشیات کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل کوششوں اور کامیابیوں کو سراہا اور گلف کوآپریشن کونسل کے ممالک کے ساتھ مل کر اس چیلنج سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ منشیات کی روک تھام کے لیے علاقائی سطح پر تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی جغرافیائی قربت کی وجہ سے منشیات کی اسمگلنگ کے عفریت کا شکار ہے اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے خطے کا ہے۔ محسن نقوی نے جی سی سی ممالک سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس عالمی مسئلے کا موثر حل نکالا جا سکے۔

    کانفرنس کے دوران جی سی سی کے ممبر ممالک نے اپنی پریزنٹیشنز میں مشترکہ چیلنجز اور حاصل کردہ کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ ان پریزنٹیشنز میں انسداد منشیات کی مشترکہ حکمت عملیوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے کردار پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔کانفرنس میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور بارڈر کوآرڈینیشن کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر تعاون بڑھانا ہوگا۔کانفرنس میں ماہرین نے مشترکہ تحقیقات اور عوامی آگاہی کی مہمات کے ذریعے منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اس کے علاوہ، منشیات اسمگلنگ روکنے کے لیے عملی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا تاکہ مستقبل میں اس مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

    پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات مذہبی اور ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں۔ ان تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے انسداد منشیات کے حوالے سے خطے میں اپنے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان نے 2024 اور 2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 428.403 میٹرک ٹن منشیات ضبط کیں اور 29 اسمگلنگ نیٹ ورکس کو ختم کیا۔ اس دوران جی سی سی ممالک کے ساتھ بھی 48.431 میٹرک ٹن منشیات ضبط کی گئیں، جو کہ کل ضبط شدہ مقدار کا 11.30 فیصد بنتی ہے۔پاکستان کی افغانستان سے جغرافیائی قربت کی وجہ سے، یہ ملک منشیات اسمگلنگ کے عفریت کا شکار ہے۔ افغانستان میں منشیات اسمگلروں اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان مالی تعاون کا گٹھ جوڑ موجود ہے، جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔پاکستان نے اپنی "زیرو ٹالرنس” پالیسی کے تحت منشیات کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جی سی سی کے ممالک کے ساتھ مزید تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

    یہ کانفرنس پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان انسداد منشیات کے حوالے سے تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ علاقائی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے منشیات کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور پاکستان اس مقصد میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہا ہے۔پاکستان کی حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف "زیرو ٹالرنس” پالیسی اپنائی گئی ہے اور اس کے تحت عالمی سطح پر تعاون کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے استعمال کو روکا جا سکے۔

  • شہدا اور غازی ہمارا فخر ، شہدا کی عزت،احترام ہر پاکستانی پر فرض ہے، آرمی چیف

    شہدا اور غازی ہمارا فخر ، شہدا کی عزت،احترام ہر پاکستانی پر فرض ہے، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیومیں تقسیم اعزازات تقریب میں شرکت کی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نےجوانوں ، افسران کوانکی خدمات کےاعتراف میں اعزازات سےنوازا ،آرمی چیف نے شہداء کے لواحقین کو انکے بہادر شہید بیٹے ،باپ ،شوہر کو انکی شاندار بہادری اور ملک و قوم کی بے مثال خدمت کے اعتراف میں عسکری اعزازات سے نوازا۔

    شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا،“شہداء اور غازی ہمارا لازوال فخر ہیں۔ ان کا احترام اور عزت ہر پاکستانی پر مقدس امانت ہے۔ آج جو امن اور آزادی ہمیں حاصل ہے، وہ ان بہادر سپوتوں کی حتمی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔”آرمی چیف نے شہداء کے خاندانوں کے حوصلے اور استقامت کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی وطن کے لیے بے مثال قربانیوں کا اعتراف کیا۔

    پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر متزلزل عزم کو سراہتے ہوئے، آرمی چیف نے دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنانے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران اہم دہشت گردوں کو ختم کرنے میں ان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی

  • وزیراعظم سے برطانوی پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ واجد خان کی ملاقات

    وزیراعظم سے برطانوی پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ واجد خان کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری برائے مذاہب ، کمیونٹیز اور آبادکاری لارڈ واجد خان نے آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے لارڈ واجد خان کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور اوورسیز پاکستانیز کنونشن میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے تعاون کو سراہا جو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ہز میجسٹی کنگ چارلس سوم کے ساتھ ساتھ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی تبادلوں اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ ۔ وزیراعظم نے پاکستان اور برطانیہ تعلقات کو فروغ دینے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں لارڈ خان کی کوششوں کو سراہا۔

    ملاقات میں لارڈ واجد خان نے وزیراعظم کو اپنی حالیہ سرگرمیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد پاکستان-برطانیہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔

  • ایران میں قتل 8 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان پہنچ گئیں

    ایران میں قتل 8 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان پہنچ گئیں

    ایران کے سرحدی صوبے سیستان کے علاقے مہرستان میں 12 اپریل کو مسلح افراد کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو قتل کیے جانے کے واقعے کے بعد ان 8 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان پہنچا دی گئیں۔ یہ افراد ایک ورکشاپ میں کام کرتے تھے جہاں ان پر حملہ کیا گیا۔

    ایران کے صوبے سیستان کی مہرستان علاقے میں 12 اپریل کو مسلح حملہ آوروں نے ایک ورکشاپ میں موجود پاکستانی شہریوں پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں 8 پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔ ان میں سے 7 کا تعلق بہاولپور کے علاقے خانقاہ شریف سے تھا، جب کہ ایک پاکستانی شہری کا تعلق ملتان کے علاقے شجاع آباد سے تھا۔قتل کیے جانے والے ان 8 پاکستانیوں کی میتیں رات گئے خصوصی طیارے کے ذریعے ایران سے اسلام آباد اور پھر بہاولپور پہنچائی گئیں۔ اس کے بعد ایمبولینسز کے ذریعے ان کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کی گئیں، جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔پاکستانی سفیر نے بتایا تھا کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں محمد عامر، محمد دلشاد، محمد ناصر، ملک جمشید، محمد دانش، محمد نعیم، غلام جعفر اور محمد خالد شامل ہیں۔ ان افراد کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی ہے اور ان کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس قتل میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف پاکستانیوں کے لیے ایک سانحہ ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک مجرمانہ اقدام اور اسلامی تعلیمات، قانون اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اس جرم کے مرتکب افراد کی شناخت اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا حکم

    ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کو ہارورڈ یونیورسٹی کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے حوالے سے ایک سخت اقدام کرنے کا حکم دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے ہی ہارورڈ یونیورسٹی کی 2 ارب ڈالر سے زائد وفاقی گرانٹس منجمد کر رکھی تھیں۔ وائٹ ہاؤس نے مطالبہ کیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو کیمپس میں یہود دشمنی روکنے کے لیے کچھ ضروری تبدیلیاں کرنی ہوںگی، جیسے کہ ملازمتوں، داخلوں اور تدریس کے عمل میں رد و بدل لانا۔اس پر ہارورڈ یونیورسٹی نے وائٹ ہاؤس کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یونیورسٹی پر غیر ضروری طور پر کنٹرول کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی کے ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے ایک اور سخت قدم اٹھایا۔

    امریکا میں ٹیکس استثنیٰ کا درجہ خیراتی، مذہبی، تعلیمی تنظیموں اور سوشل ویلفیر گروپوں کو حاصل ہے، تاہم ان تنظیموں پر بعض سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے قوانین پر عمل درآمد لازم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ہارورڈ یونیورسٹی نے ان قوانین کی خلاف ورزی کی ہو، اور آئی آر ایس کو اس معاملے میں غیر جانبدار رہنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے آئی آر ایس میں کئی اہم عہدوں پر سیاسی تقرریاں کی ہیں اور بعض اہلکاروں کو ہٹا دیا ہے۔ اس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹرمپ کے اقدامات سیاسی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ہارورڈ یونیورسٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اب وفاقی فنڈنگ کا مستحق نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہارورڈ اب کسی معیاری تعلیمی ادارے کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا اور اسے دنیا کی عظیم یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہارورڈ ایک مذاق بن چکا ہے جو نفرت اور حماقت سکھاتا ہے، اور اسے مزید وفاقی فنڈز نہیں ملنے چاہئیں۔

  • عالمی بینک  کی پاکستان کے ٹیکس نظام پر تنقید،غیر منصفانہ کہہ دیا

    عالمی بینک کی پاکستان کے ٹیکس نظام پر تنقید،غیر منصفانہ کہہ دیا

    اسلام آباد: عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کو "انتہائی غیر منصفانہ اور بے ہودہ” قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے اور حکومت کو سفارش کی ہے کہ جائیداد کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ اس کا درست اندراج اور ٹیکس لگایا جا سکے۔

    عالمی بینک کے مطابق، پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بڑھتا ہوا بوجھ صرف اسی صورت میں کم ہو سکتا ہے جب ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور تمام ذرائع سے حاصل کی جانے والی آمدنی کو اس میں شامل کیا جائے۔ ادارے نے واضح کیا کہ موجودہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگرچہ قلیل مدتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر ملک کی آمدنی کے امکانات ضائع ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کی ترقیاتی پالیسیوں کے حوالے سے پائڈ کے وائس چانسلر، ندیم جاوید نے بھی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد کمیشن کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے، کیونکہ آڈیٹر جنرل پاکستان (AGPR) کے بغیر 5 سے 7 فیصد کمیشن کے بغیر کوئی بل کلیئر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ایک حقیقت ہے اور سب کو معلوم ہے”۔ورلڈ بینک کے لیڈ کنٹری اکنامسٹ، ٹوبیاس ہاک نے اسلام آباد میں پائڈ کے زیر اہتمام "پاکستان کا مالیاتی راستہ: شفافیت اور اعتماد کو فروغ دینا” کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ "زرعی آمدنی پر صوبائی سطح پر ٹیکس ایک مثبت قدم ہے، لیکن اب جائیداد کے شعبے کو بھی درست طریقے سے رجسٹر اور ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے”۔

    ٹوبیاس ہاک نے مزید کہا کہ "ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور تمام آمدنی کو اس میں شامل کرنا تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے”۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ کی آبادی میں صرف 50 لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں، اور زیادہ تر ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "پاکستان کا ٹیکس نظام انصاف کے اصولوں کے لحاظ سے غیر منصفانہ ہے، اگر ملک صرف 50 لاکھ فائلرز کے ساتھ چلتا رہا تو اس سے کوئی دیرپا حل ممکن نہیں”۔

    پرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر علی سلمان نے ٹیکس نظام میں وضاحت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "نظام میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے، اور ودہولڈنگ ٹیکس کی تعداد کو کم کیا جانا چاہیے”۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 88 ودہولڈنگ ٹیکسز ہیں، جن میں سے 45 ٹیکسز کی آمدنی ایک ارب روپے سے بھی کم ہے۔

  • "عورت” کی قانونی تعریف میں ٹرانس خواتین شامل نہیں،برطانوی سپریم کورٹ

    "عورت” کی قانونی تعریف میں ٹرانس خواتین شامل نہیں،برطانوی سپریم کورٹ

    برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ برابری سے متعلق قوانین میں "عورت” کی قانونی تعریف صرف "حیاتیاتی عورت” پر ہی لاگو ہوتی ہے، اور اس میں ٹرانس خواتین شامل نہیں ہوتیں۔ اس فیصلے کے اثرات پورے ملک میں صنفی مساوات کے قوانین پر مرتب ہوں گے۔

    یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب 2018 میں اسکاٹ لینڈ کی ایک تنظیم For Women Scotland (FWS) نے اسکاٹش حکومت کے اُس قانون کو چیلنج کیا جو خواتین کی نمائندگی کو فروغ دینے کے لیے بورڈز پر زیادہ خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہتا تھا۔ تنازعہ اس بات پر تھا کہ آیا ٹرانس خواتین، جن کے پاس Gender Recognition Certificate (GRC) ہو، قانونی طور پر عورت شمار ہوتی ہیں یا نہیں۔اسکاٹش حکومت کا مؤقف تھا کہ GRC رکھنے والی ٹرانس خواتین کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، لیکن مخالفین کا کہنا تھا کہ صرف وہی افراد جو پیدائش کے وقت عورت کے طور پر درج کیے گئے ہوں، ان قوانین کے تحت آتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کے پانچوں ججز نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا "Equality Act 2010 میں ’عورت‘ اور ’صنفی تفریق‘ کے حوالے سے جو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، وہ صرف حیاتیاتی عورت اور حیاتیاتی جنس پر لاگو ہوتی ہیں۔”لارڈ پیٹرک ہوج نے کہا کہ اگر ’صنفی شناخت‘ کو قانونی تعریف میں شامل کیا جائے تو یہ قانون کی بنیادی روح سے تضاد پیدا کرے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرانس خواتین کو بعض حالات میں مخصوص خواتین کے لیے مختص سہولیات جیسے کہ چینجنگ رومز یا ہاسٹلز میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ فیصلہ "تناسب کے اصول” کے تحت ہو۔عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ فیصلہ ٹرانس افراد کے تمام قانونی تحفظات کو ختم نہیں کرتا۔ ٹرانس خواتین کو "جینڈر ری اسائنمنٹ” کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ حاصل رہے گا۔

    فیصلے کے بعد برطانیہ میں سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ لیبر پارٹی نے اس فیصلے کو "وضاحت بخش اور اعتماد پیدا کرنے والا” قرار دیا، جبکہ کنزرویٹو پارٹی نے اسے "عام فہم کی جیت” کہا اور حکومت سے قانون میں رہنمائی کو مزید واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب، ٹرانس حقوق کے علمبرداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو "تشویشناک” قرار دیا۔ Stonewall نامی خیراتی ادارے نے اسے "ٹرانس کمیونٹی کے لیے انتہائی پریشان کن” قرار دیا۔برطانوی ٹرانس ایڈووکیٹ ایلا مورگن نے کہا کہ "آج پہلی بار، میں اپنے گھر سے باہر نکلتے ہوئے خوفزدہ ہوں۔”

    یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹرانس افراد کے حقوق کے حوالے سے بحث شدید ہو چکی ہے۔ امریکہ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے بعد ٹرانس افراد کے خلاف قوانین سخت کیے گئے۔ برطانیہ میں 2023 میں صنفی شناخت کی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم میں 112 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ برطانیہ میں صنفی شناخت اور برابری کے قوانین کی تفہیم میں ایک نیا موڑ ہے۔ یہ نہ صرف خواتین اور ٹرانس افراد کے قانونی حقوق پر اثرانداز ہوگا بلکہ سماجی، سیاسی اور ثقافتی سطح پر ایک گہری بحث کو بھی جنم دے گا۔

  • کوئی بھی منصوبہ جو دیگر صوبوں کا استحصال کرے، ہرگز قابل قبول نہیں،سحر کامران

    کوئی بھی منصوبہ جو دیگر صوبوں کا استحصال کرے، ہرگز قابل قبول نہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ حکومت تاخیری حربوں کے بجائے فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائے۔ حکومت کی تباہ کن زرعی پالیسی ملک میں غذائی قلت، بے روزگاری اور افلاس کو جنم دے گی۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ وہ کسان جو اپنی زرخیز زمین پر فخر کرتے تھے، آج حکومت نے انہیں سڑکوں پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ہم کسانوں کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، سندھ کے پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی منصوبہ جو دیگر صوبوں کا استحصال کرے، ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم پنجاب کے ریگستان سیراب کرنے کے لیے سندھ کی زرخیز زمین کو بالکل بنجر نہیں ہونے دیں گے۔یہ کیسے جائز ہے کہ قومی وسائل اور سی پیک کے تمام فنڈز صرف پنجاب کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں؟ اگر موٹر ویز گوادر کی پورٹ سٹی سے بنائی جاتیں، تو آج پورا پاکستان خوشحالی سے ہمکنار ہوتا،پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری نظام اور عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔ سندھ کے پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ بالکل نہیں ہوگا۔ نہ سندھ کے عوام کا استحصال ہونے دیں گے، نہ ہی کوئی منصوبہ قبول کریں گے جو سندھ کے کسانوں کے معاشی قتل کا باعث بنے۔

  • 5ہزار سے زائد چیونٹیاں اسمگل کرنے کے الزام میں نوجوان گرفتار

    5ہزار سے زائد چیونٹیاں اسمگل کرنے کے الزام میں نوجوان گرفتار

    کینیا کے حکام نے منگل کو بیلجیئم کے دو نوجوانوں پر جنگلی حیات کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا، جنہیں ہزاروں چیونٹیوں کے ساتھ ٹیسٹ ٹیوبوں میں پیک کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک نئی اسمگلنگ کی لہر کا حصہ تھا جس میں چھوٹے اور کم معروف نوع کی حیاتیات کی تجارت کی جا رہی تھی۔

    لورنائے ڈیوڈ اور سیپے لوڈی وِک، یہ دونوں 19 سال کے نوجوان ہیں، جنہیں 5 اپریل کو 5,000 چیونٹیوں کے ساتھ ایک گیسٹ ہاؤس سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں نوجوان نیروبی کی عدالت میں اپنے سامنے آنے پر افسردہ دکھائی دیے اور کمرہ عدالت میں اپنے رشتہ داروں کی جانب سے تسلی دی گئی۔ انہوں نے جج کو بتایا کہ وہ تفریح کے طور پر چیونٹیاں جمع کر رہے تھے اور انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ایک علیحدہ کیس میں کینیا کے ڈینس نگ’نگا اور ویتنام کے ڈوہ ہنگ نیوین پر بھی غیر قانونی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا، جب انہیں 400 چیونٹیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

    کینیا وائلڈ لائف سروس کے مطابق یہ چاروں افراد چیونٹیوں کو یورپ اور ایشیا کی مارکیٹوں میں اسمگل کر رہے تھے، جن میں مِسور سیفالیوٹس (Messor cephalotes) بھی شامل تھی، جو مشرقی افریقہ کی ایک بڑی اور سرخ رنگ کی ہارویسٹر چیونٹی ہے۔کینیا وائلڈ لائف سروس نے ایک بیان میں کہا، "چیونٹیوں کی غیر قانونی برآمد کینیا کے حیاتیاتی تنوع پر اس کے خود مختار حقوق کو متاثر کرتی ہے اور مقامی کمیونٹیز اور تحقیقی اداروں کو ممکنہ ماحولیاتی اور اقتصادی فوائد سے محروم کرتی ہے۔”

    کینیا نے ماضی میں بڑے جنگلی جانوروں جیسے ہاتھی، گینڈے اور پینگولن کے جسمانی حصوں کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ لڑی ہے، لیکن یہ مقدمے اسمگلنگ کے رجحانات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بیلجیئم کے دونوں نوجوان کینیا کے نیکورو کاؤنٹی میں گرفتار ہوئے تھے، جو مختلف قومی پارکوں کا گھر ہے۔ انہیں 5,000 چیونٹیاں 2,244 ٹیسٹ ٹیوبوں میں پیک کرکے رکھی گئی تھیں تاکہ چیونٹیاں مہینوں تک زندہ رہ سکیں۔دوسری طرف، دیگر دو افراد کو نیروبی میں گرفتار کیا گیا، جہاں ان کے پاس 400 چیونٹیاں تھیں۔کینیا کے حکام نے ان چیونٹیوں کی قیمت ایک ملین شلنگز (7,700 امریکی ڈالر) لگائی ہے، حالانکہ مختلف انواع کی چیونٹیوں کی قیمتیں مارکیٹ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔

    افریقہ وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے نائب صدر فلپ مروتھی نے کہا کہ چیونٹیاں مٹی کو زرخیز بنانے، پودوں کی نشوونما کو فروغ دینے اور پرندوں جیسے جانوروں کے لیے خوراک فراہم کرنے کا کام کرتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ نوعوں کی اسمگلنگ سے مختلف بیماریاں زرعی صنعتوں تک پہنچ سکتی ہیں اور اس سے مقامی ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔”اگر تجارت ہو بھی، تو اسے ریگولیٹ کرنا ضروری ہے اور کسی کو بھی ہمارے وسائل کو یوں نہیں لے جانا چاہیے،” ۔

  • بیٹی کے منگیتر کے ساتھ بھاگ جانے والی خاتون نے سنائی اپنی کہانی

    بیٹی کے منگیتر کے ساتھ بھاگ جانے والی خاتون نے سنائی اپنی کہانی

    اتر پردیش کے ضلع علیگڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک ماں سپنا گزشتہ ہفتے خبروں کی زینت بنی، لیکن افسوسناک وجوہات کی بنا پر۔ سپنا نے اپنی ہی بیٹی کے منگیتر راہول کمار کے ساتھ شادی سے صرف دس دن قبل گھر سے فرار ہو کر سب کو حیران کر دیا۔ اب، اس نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کئی انکشافات کیے ہیں۔

    سپنا نے پولیس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ گھریلو تشدد سے تنگ آ چکی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر شراب نوشی کرتا تھا اور اسے مارا پیٹا کرتا تھا، جب کہ بیٹی بھی اس کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتی تھی۔سپنا کاکہنا تھا کہ "میرے شوہر مجھے مارتے تھے، اور میری بیٹی بھی میرے ساتھ جھگڑتی تھی۔ میں بہت پریشان تھی، اس لیے یہ قدم اٹھایا،””میں راہول سے شادی کروں گی اور اسی کے ساتھ رہوں گی۔”

    راہول کمار، جو کہ دادون تھانے کے علاقے کا رہائشی ہے، نے بھی سپنا کے ساتھ پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ اس نے بتایا کہ سپنا نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ نہ آیا تو وہ خودکشی کر لے گی۔”اس نے کہا کہ اگر میں علیگڑھ بس اسٹاپ پر نہ آیا تو وہ مر جائے گی۔ میں ڈر گیا اور چلا گیا۔ ہم پہلے لکھنؤ گئے، پھر مظفرپور،”

    سپنا کی بیٹی شیوانی نے اس پر 3.5 لاکھ روپے نقدی اور 5 لاکھ روپے کے زیورات لے کر فرار ہونے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم، سپنا نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔اور کہا کہ "میرے پاس صرف ایک موبائل فون اور 200 روپے تھے جب میں گھر سے نکلی۔ میں نے کوئی رقم یا زیور نہیں لیا،”

    جب راہول سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی سپنا سے شادی کرے گا، تو وہ پہلے تو گڑبڑا گیا اور کہا، "ایسا کچھ نہیں ہے”۔ تاہم، مختصر توقف کے بعد اس نے کہا، "کر لوں گا”۔سپنا کے شوہر جتیندر کمار اور اس کے دیگر رشتہ داروں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب اسے اپنے گھر واپس نہیں لیں گے۔سپنا کے دیور دنیش نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں صرف وہ زیورات اور رقم چاہیے جو وہ لے کر گئی ہے، باقی ہم اسے کبھی واپس نہیں لیں گے،” انہوں نے سپنا کے گھریلو تشدد کے الزامات کی بھی سختی سے تردید کی۔دنیش کا کہنا تھا کہ "میں خود مہینوں ان کے گھر پر رہتا تھا۔ میں نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا،”

    پولیس نے دونوں کی خودسپردگی کے بعد معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ فی الحال سپنا اور راہول کے خلاف قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور خاندان کی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔