Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری،3028 ارب پتی افراد

    دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری،3028 ارب پتی افراد

    امریکی جریدے فوربز نے 2025 کے لیے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں ایک بار پھر ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو دنیا کا امیر ترین شخص قرار دیا گیا ہے۔

    ایلون مسک کی دولت میں 2024 کے دوران 75 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بدولت وہ ایک بار پھر فوربز کی فہرست میں دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔اس سے قبل 2024 میں فرانس سے تعلق رکھنے والے برنارڈ آرنلٹ دنیا کے امیر ترین شخص قرار دیے گئے تھے، تاہم اب ایلون مسک نے 342 ارب ڈالرز کے ساتھ یہ اعزاز حاصل کیا ہے، اور یہ پہلی بار ہے جب کسی فرد کی دولت اتنی زیادہ ہو اور وہ دنیا کا امیر ترین شخص بنے۔

    فوربز کی 39 ویں سالانہ فہرست کے مطابق، دنیا بھر میں اس وقت 3028 ارب پتی افراد موجود ہیں، جو تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ایک سال کے دوران 247 افراد ارب پتی بنے، جبکہ عالمی ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں ایک سال کے دوران 2 ہزار ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، جس سے ان کی مجموعی دولت 16 ہزار ارب ڈالرز سے زیادہ ہو گئی۔

    دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل دیگر اہم شخصیات:

    ایلون مسک (342 ارب ڈالرز) – دنیا کے امیر ترین شخص

    مارک زکربرگ (2016 ارب ڈالرز) – میٹا کے چیف ایگزیکٹو، دوسرے نمبر پر

    جیف بیزوز (2015 ارب ڈالرز) – ایمازون کے بانی، تیسرے نمبر پر

    لیری ایلیسن (192 ارب ڈالرز) – اوریکل کے شریک بانی، چوتھے نمبر پر

    برنارڈ آرنلٹ (178 ارب ڈالرز) – فرانس کے کاروباری شخص، پانچویں نمبر پر

    وارن بفٹ (154 ارب ڈالرز) – سرمایہ کاری کے مشہور شخصیت، چھٹے نمبر پر

    لیری پیج (144 ارب ڈالرز) – گوگل کے شریک بانی، ساتویں نمبر پر

    سرگئی برن (138 ارب ڈالرز) – گوگل کے شریک بانی، آٹھویں نمبر پر

    ایمانسیو اورٹیگا (124 ارب ڈالرز) – اسپین کے کاروباری، نویں نمبر پر

    اسٹیو بالمر (118 ارب ڈالرز) – مائیکرو سافٹ کے سابق چیف ایگزیکٹو، دسویں نمبر پر

    دنیا کی امیر ترین خواتین:

    ایلس والٹن (101 ارب ڈالرز) – امریکہ کی امیر ترین خاتون، 15ویں نمبر پر

    فرانسس بیٹنکورٹ میئرز (81.6 ارب ڈالرز) – فرانس کی امیر ترین خاتون، 20ویں نمبر پر

    ایشیا کے امیر ترین فرد:

    بھارت کے مکیش امبانی 92.5 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے امیر ترین شخص قرار پائے اور دنیا کے 18 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

    بل گیٹس کی تنزلی:

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی اور ماضی میں دنیا کے امیر ترین شخص رہنے والے بل گیٹس اب کافی نیچے آگئے ہیں۔ وہ 108 ارب ڈالرز کے ساتھ 13ویں نمبر پر ہیں۔

  • اسرائیلی مذہبی رہنما کے قاتل تین افراد کو سزائے موت  ،ایک کو عمر قید

    اسرائیلی مذہبی رہنما کے قاتل تین افراد کو سزائے موت ،ایک کو عمر قید

    ابوظبی کی فیڈرل اپیل کورٹ نے اسرائیلی مذہبی رہنما زوی کوگان کے قتل میں ملوث تین افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔ اس کیس میں ایک اور ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ان تین مجرموں کا تعلق ازبکستان سے ہے، جبکہ چوتھے مجرم کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ تاہم، عمر قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد اس ملزم کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اسرائیلی مذہبی رہنما زوی کوگان کو نومبر 2024 میں قتل کیا گیا تھا۔ وہ مالڈوا کے پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے۔ اس قتل نے پورے خطے میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑادی تھی، اور اس واقعے کے بعد یو اے ای کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے اس کیس پر تیزی سے تحقیقات کی تھیں۔زوی کوگان کے قتل کے بعد ابوظبی کی عدالتوں میں اس کیس کی سماعت کی گئی اور تحقیقات کے دوران اس قتل میں ملوث مجرموں کو گرفتار کیا گیا۔ ان مجرموں پر الزام تھا کہ انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت کوگان کو قتل کیا، اور ان کے قتل کے پیچھے کچھ اور وجوہات بھی سامنے آئیں جن پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ابوظبی کی عدالت کی جانب سے دی جانے والی یہ سزائیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یو اے ای نے اس جرم کو سنجیدگی سے لیا ہے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔

  • نوشہرہ میں فائرنگ، خواجہ سرا کی موت

    نوشہرہ میں فائرنگ، خواجہ سرا کی موت

    نوشہرہ: نوشہرہ کے علاقے کاہی نظامپور میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں ایک خواجہ سرا جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق، مقتول خواجہ سرا شگفتہ ایک تقریب سے صبح کے وقت واپس آرہی تھی جب دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے اسے نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے اچانک شگفتہ پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔واقعے کے فوراً بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مقتول کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ مقتول خواجہ سرا کے ساتھی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • تین روزہ میچز کی سیریز،نیوزی لینڈ کے نام،پاکستان دوسرا میچ بھی ہارگیا

    تین روزہ میچز کی سیریز،نیوزی لینڈ کے نام،پاکستان دوسرا میچ بھی ہارگیا

    نیوزی لینڈ نے تین ایک روزہ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کو 84 رنز سے شکست دے دی اور سیریز میں 2-0 کی اہم برتری حاصل کر لی۔

    ہیملٹن کے سیڈون پارک میں کھیلے گئے اس میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 292 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر بیٹر مچل ہی نے 78 گیندوں پر 99 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں انہوں نے 7 چھکے اور 7 چوکے لگائے۔پاکستان کی ٹیم 292 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے 208 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ فہیم اشرف نے 73 رنز اور نسیم شاہ نے 51 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی، لیکن ان کی کوششیں ناکافی ثابت ہوئیں اور پوری ٹیم 208 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ نیوزی لینڈ کے اوپنرز نے 54 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا۔ پہلی وکٹ چھٹے اوور میں حارث رؤف کی گیند پر نک کیلی کے 31 رنز پر گری۔ اس کے بعد 10 ویں اوور میں ریز ماریو 18 رنز پر وسیم جونیئر کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا اسکور 71 رنز تھا۔

    نیوزی لینڈ کے مزید بیٹرز ڈیرل مچل (18) اور ہنری نکولس (22) بھی جلد آؤٹ ہوگئے، اور اس وقت نیوزی لینڈ کا اسکور 102 رنز تھا۔ پانچویں وکٹ پر مائیکل بریسویل اور محمد عباس نے 30 رنز کی شراکت داری کی، لیکن بریسویل 17 رنز پر وسیم جونیئر کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ مچل ہی اور محمد عباس نے چھٹی وکٹ پر 77 رنز کی شراکت داری قائم کی، اور جب عباس 40 ویں اوور میں 31 رنز کے ساتھ آؤٹ ہوئے، تو نیوزی لینڈ کا اسکور 209 رنز تھا۔مچل ہی نے اپنی جارحانہ بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور آخری اوور میں 24 رنز بنائے، جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ نے 292 رنز 8 کھلاڑیوں کے نقصان پر مکمل کیے۔

    پاکستان کی جانب سے محمد وسیم جونیئر اور سفیان مقیم نے 2،2 وکٹیں لیں، جبکہ فہیم اشرف، عاکف جاوید اور حارث رؤف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ نیوزی لینڈ کا ایک کھلاڑی رن آؤٹ بھی ہوا۔

    پاکستانی ٹیم میں اس میچ کے لیے چار تبدیلیاں کی گئیں تھی پاکستانی ٹیم میں امام الحق، عبداللہ شفیق، بابراعظم، محمد رضوان (کپتان)، سلمان علی آغا، طیب طاہر، فہیم اشرف، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف، سفیان مقیم اور عاکف جاوید شامل تھے۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے اہم بیٹر مارک چیپمین ہیم اسٹرنگ انجری کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔

    اب نیوزی لینڈ کو 3 میچز پر مشتمل اس ون ڈے سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل ہوچکی ہے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کے گھر پر گولیاں چل گئیں

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کے گھر پر گولیاں چل گئیں

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی جیل خانہ جات کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ یہ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی جیل خانہ جات ہمایون خان کے گھر پر نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ گھر میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہو گئے۔پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق، واقعے کے بعد علاقے میں بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔سیکیورٹی اداروں نے فائرنگ کے مقام سے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حملے کے بعد سے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے،شرجیل میمن

    صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر آصف زرداری کو دبئی منتقل کرنے کی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ صدر آصف زرداری جلد مکمل صحت یاب ہوں گے۔

    خیال رہے کہ صدر آصف زرداری کو گزشتہ دنوں نواب شاہ سے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری کو انفیکشن اور بخار کی شکایت تھی، جس کے باعث انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔

    دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر آصف زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ "پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، اللہ آپ کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔” وزیراعظم کے اس پیغام سے صدر زرداری کو عوام کی دعاؤں اور محبت کا احساس ہوا۔دوسری جانب، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے صدر آصف زرداری کے معالج ڈاکٹر عاصم کو ٹیلیفون کیا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ کامران ٹیسوری نے ڈاکٹر عاصم سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب آپ کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”

    اس تمام صورتحال میں سندھ کے سیاسی حلقوں اور عوام کی دعائیں صدر آصف زرداری کے ساتھ ہیں، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ جلد اپنی صحت بحال کر کے عوام کے درمیان واپس آئیں گے۔

  • یورپی پارلیمنٹ کے دو اراکین کی پاکستان میں مسیحی برادری پر مظالم کیخلاف یورپی یونین سے اپیل

    یورپی پارلیمنٹ کے دو اراکین کی پاکستان میں مسیحی برادری پر مظالم کیخلاف یورپی یونین سے اپیل

    یورپی پارلیمنٹ کے مذہبی آزادی کے بین الپارلیمانی گروپ کے مشترکہ چیئرمین برٹ جان رُوئسن اور میرِیام لیکسمن نے پاکستان میں عیسائی اقلیت کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر یورپی یونین کے انسانی حقوق کے نمائندے، اولوف اسکُوگ سے اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عیسائیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، اور ای یو نمائندے کو پاکستان کے اپنے دورے کے دوران اس مسئلے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

    ایم ای پی برٹ جان رُوئسن نے ای یو انسانی حقوق کے نمائندے اولوف اسکُوگ سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کے دورے کے دوران عیسائی اقلیت کی مشکلات پر خصوصی توجہ دیں۔ رُوئسن نے خاص طور پر شگفتہ کرن کے کیس کا ذکر کیا، جو ایک عیسائی خاتون اور چار بچوں کی ماں ہیں، جنہیں پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ رُوئسن کا کہنا تھا کہ "یہ انتہائی ضروری ہے کہ ای یو کا نمائندہ شگفتہ کرن سمیت دیگر افراد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔”

    پاکستان میں عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتی گروپوں کو شدید ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ اوپن ڈورز کی 2024 کی عیسائیوں کی ظلم و ستم کی درجہ بندی میں پاکستان کا شمار بلند ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت دی جا سکتی ہے، اور اکثر واقعات میں غصے سے بھرے ہوئے ہجوم عیسائیوں اور دیگر اقلیتی فرقوں پر حملہ کرتے ہیں، اور بعض اوقات انہیں قتل بھی کر دیتے ہیں۔

    رُوئسن نے مزید کہا کہ "یورپی یونین پاکستان کو ہر سال تقریباً 100 ملین یورو کی ترقیاتی امداد فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ فرداً فرداً رکن ممالک کی طرف سے بھی امداد دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یورپی یونین کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ای یو کا نمائندہ دباؤ ڈال سکتا ہے اور عیسائیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔”

    رُوئسن نے پاکستان میں عیسائی لڑکیوں کے اغوا اور جبراً اسلام قبول کرانے کے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان میں کئی عیسائی لڑکیاں اغوا کی جاتی ہیں، انہیں جبراً اسلام قبول کرایا جاتا ہے اور پھر انہیں بڑی عمر کے مردوں سے شادی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام اس مسئلے پر اکثر کارروائی نہیں کرتے، لیکن ان لڑکیوں کا دکھ انتہائی بڑا ہے۔ ای یو کو اس پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔”

    رُوئسن اور لیکسمن نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں فراہم کردہ 100 سے 150 ملین یورو کی رقم کا بھی ذکر کیا، جو حالیہ برسوں میں تعلیمی مواد اور تدریسی سامان پر خرچ کی گئی۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای یو کی مالی امداد سے فراہم کردہ تعلیمی مواد میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کے خلاف امتیاز بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ دونوں ایم ای پیز نے اس تعلیمی مواد کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

    برٹ جان رُوئسن اور میرِیام لیکسمن نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کو پاکستان میں عیسائیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی گروپوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ای یو کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ فرنٹ (HRWF) نے یورپی یونین سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کو ملنے والی تجارتی مراعات کو فوری طور پر معطل کرے۔ اس درخواست کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے، جن میں مذہبی آزادی کی پامالی، اقلیتی برادریوں کے خلاف ظلم و ستم، اور توہین مذہب کے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔پاکستان کو 2014 سے یورپی یونین کی جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (GSP+) کے تحت تجارتی مراعات حاصل ہیں، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات یورپی مارکیٹ میں کم ڈیوٹی کے ساتھ داخل ہوتی ہیں۔ اس سکیم کے تحت پاکستان نے 27 بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، اور گڈ گورننس کے معاہدے شامل ہیں۔ تاہم، HRWF کے مطابق پاکستان اس سکیم کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔پاکستان میں مذہبی اقلیتی برادریوں، خاص طور پر عیسائیوں، ہندؤوں اور احمدیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں احمدی کمیونٹی کے خلاف متعدد حملے اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، عیسائی اور ہندو خواتین کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے مذہبی اقلیتی گروپوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر جبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    HRWF کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو پاکستان پر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں، خاص طور پر GSP+ کی سکیم کو معطل کرنا چاہیے، جب تک کہ پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کرتا۔ یہ اقدام نہ صرف یورپی یونین کے ٹیکس دہندگان کے مفاد میں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی عوام کے حق میں بھی ہوگا تاکہ ان کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔

    کرسچن ڈیلی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستان پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں اور توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی 2024 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، اور اس میں مزید تنزلی کا خدشہ ہے۔پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک حالیہ مثال شیخوپورہ کے ایک علاقے میں پیش آئی، جہاں ایک عیسائی کارکن کو توہین مذہب کے جھوٹے الزامات پر شدید زخمی کیا گیا۔ اس کے علاوہ، احمدی کمیونٹی کے ارکان کو عبادت کرنے کے دوران حراست میں لے لیا گیا، اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے۔ ان واقعات نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں کی حالت زار کو مزید خراب کر دیا ہے۔

    HRWF کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور یورپی یونین کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان کے لئے GSP+ کی مراعات کو معطل کرنے کے بعد، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین کا یہ اقدام پاکستان کے عوام کے لئے ایک پیغام ہوگا کہ عالمی برادری ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے۔ہیومن رائٹس واچ فرنٹ نے عالمی برادری، خاص طور پر یورپی یونین اور امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہاں کی حکومت مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرے۔

    Message

  • امریکی ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

    امریکی ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

    لگ بھگ 2 درجن امریکی ریاستوں نے صحت کے شعبے میں اربوں ڈالرز کی فنڈز کی کٹوتی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ یہ مقدمہ 2 اپریل 2025 کو دائر کیا گیا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بھر میں متعدد طبی منصوبوں اور کووڈ-19 سے متعلق اقدامات کے لیے وفاقی فنڈز میں 11 ارب ڈالرز کی کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مقدمہ رہوڈ آئی لینڈ کی فیڈرل کورٹ میں دائر کیا گیا ہے جس میں 23 ریاستوں نے حصہ لیا ہے۔ ان ریاستوں میں نیویارک، کولوراڈو، کولمبیا، پنسلوانیا اور دیگر شامل ہیں۔ مقدمے میں کہا گیا کہ یہ کٹوتیاں غیرقانونی ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے ان کٹوتیوں کی کوئی مناسب وجہ پیش نہیں کی گئی۔

    ریاستوں کا کہنا ہے کہ اس کٹوتی سے عوامی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ریاستوں میں آئندہ وباؤں یا دیگر عام بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو فوری طور پر ان فنڈز میں کٹوتی کرنے سے روک دے جو ایوان نمائندگان کی جانب سے وبا کے دوران مختص کیے گئے تھے۔ ان فنڈز کا زیادہ تر حصہ کووڈ-19 سے متعلق اقدامات جیسے ٹیسٹنگ، ویکسینیشن اور ذہنی صحت کے پروگرامز پر خرچ کیا جا رہا تھا۔نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا کہ "یہ فنڈز میں کٹوتی سے افیون کے بحران پر قابو پانے کی پیشرفت متاثر ہوگی اور ذہنی صحت کے نظام کو نقصان پہنچے گا۔”

    دوسری جانب، امریکی وزارت صحت و انسانی خدمات (HHS) نے ملازمین کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ 10 ہزار افراد کو نوکریوں سے نکال دیا جائے گا۔ تاہم، وزارت کی جانب سے اس کٹوتی پر ہونے والے احتجاج پر کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا گیا۔گزشتہ ہفتے وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز اس وبا پر ضائع نہیں کیے جائیں گے جس کا اختتام ہو چکا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سی ڈی سی کے مارچ کے ڈیٹا سے یہ بات ثابت ہوئی کہ امریکہ میں اوسطاً ہر ہفتے 411 افراد کووڈ-19 سے ہلاک ہو رہے ہیں، جبکہ وفاقی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ختم کر دی گئی ہے۔

    ریاستی طبی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ فنڈز کی کمی سے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اور مقدمے میں کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی جبکہ وبائی امراض جیسے فلو اور خسرے کی روک تھام کے اقدامات کمزور پڑ جائیں گے۔

  • فیشن کی دنیا میں مصنوعی اعضاء کا بڑھتا ہوا رجحان

    فیشن کی دنیا میں مصنوعی اعضاء کا بڑھتا ہوا رجحان

    پیرس فیشن ویک میں ڈچ ڈیزائنر دوران لینٹینک نے اپنے خزاں-سرما 2025 کے شو میں منفرد ڈیزائنوں کے ساتھ روایات کو توڑنا جاری رکھا۔ سائنس فکشن تھرلر "سیورینس” سے ملتی جلتی ایک دفتری جگہ میں منعقدہ اس شو میں، غیر متوازن تناسب والی سلیوٹس، اور چمکدار اسٹائل شامل تھے جن میں جینیٹک پرنٹس اور بٹ ریویلنگ جینز شامل تھے۔

    لیکن اس شو کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز دو افراد تھے۔ سب سے پہلے، ماڈل میکا ارگناراز نے ایک چمکدار سکس پیک پیش کیا، اس کے بعد آیا ایک بکسوم (بڑی چھاتی والی) ماڈل چاندلر فرائے، جو بڑی اور باؤنس کرنے والی چھاتیوں کے ساتھ رن وے پر آئے۔لنٹینک کی ان غیر متوقع حرکتوں کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کیے، جہاں تبصرہ نگاروں نے بحث کی کہ کیا یہ صنف کی روانی کی حمایت کرتا ہے یا نسوانیت کا مذاق اڑاتا ہے۔ لینٹینک کے لیے، یہ انسانوں کو گڑیا کے طور پر تصور کرنے کے بارے میں تھا۔ انہوں نے شو کے نوٹس میں لکھا، "مجھے خواتین کو ایکشن فگرز کے طور پر تصور کرنا پسند ہے۔”

    شاید ایسا ہی ہے، لیکن یہ رن ویز پر بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی ظاہر کرتا ہے: مصنوعی اعضاء۔ حالیہ سیزنوں میں، مارٹین روز، کولینا سٹراڈا اور بالینسیاگا جیسے فیشن برانڈز نے ماڈلز کو جانوروں، اجنبیوں اور سائبرگس میں تبدیل کرنے کے لیے امپلانٹس، ماسک اور 3D میک اپ تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ سب سے یادگار، اسٹاک ہوم میں مقیم فیشن لیبل آواواو، جو اپنے جنونی لیٹیکس تخلیقات کے لیے جانا جاتا ہے، نے سلیکون سے بنی کم کارڈیشین کے کولہوں کا ایک پہننے کے قابل نمونہ بنایا۔

    لندن کالج آف فیشن میں پرفارمنس انڈرگریجویٹ پروگرام کے لیے ہیئر، میک اپ اور مصنوعی اعضاء کی کورس لیڈر تانیا نور نے ای میل کے ذریعے کہا، "(ڈیزائنرز) خوبصورتی کے معیارات کو چیلنج کرنے اور تبدیلی اور شناخت کو دریافت کرنے کے لیے مصنوعی اعضاء کا استعمال کر رہے ہیں، جو ایک وسیع ثقافتی بیانیہ تخلیق کر رہے ہیں۔”

    قدیم ترین معلوم طبی مصنوعی اعضاء (دو مصنوعی انگلیاں) قدیم مصر سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں انہیں چلنے کے لیے معاون آلات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ تقریباً 300 قبل مسیح میں، پہلی معلوم مصنوعی ٹانگ آئی؛ کانسی اور لکڑی سے بنی، خیال کیا جاتا ہے کہ اسے ایک رومن رئیس نے پہنا تھا۔ 1860 میں امریکی خانہ جنگی کے بعد، نئے معذوروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ربڑ کی کشننگ والے زیادہ جدید لکڑی کے اعضاء بنائے گئے۔پھر، مصنوعی اعضاء کو آرٹ اور تفریح کے مقصد کے لیے اپنایا گیا۔ سنیما کے آغاز میں، 1895 میں، گوند، کپاس اور موم سمیت مواد کے ایک خام مرکب کے ذریعے مصنوعی اعضاء بنائے گئے۔ 1930 کی دہائی تک، فوم لیٹیکس کی ایجاد نے ربڑ کے ماسک کو پہلی بار تجارتی طور پر دستیاب کرایا، جس کا سہرا پروپ بنانے والے ڈان پوسٹ کو جاتا ہے، جنہوں نے "دی گاڈ فادر آف ہالووین” کا لقب حاصل کیا۔ پہلی بار، اداکاروں اور تماشائیوں دونوں کے لیے حقیقی چہرے آسانی سے دستیاب تھے۔ مصنوعی اعضاء نے ڈریگ کی آرٹ کی شکل میں اہم کردار ادا کیا، جہاں اداکار نسوانیت کی مختلف شکلیں دکھانے کے لیے مصنوعی بریسٹ پلیٹس اور ہپ پیڈز کا استعمال کرتے ہیں۔

    2024 کی ہارر فلم "دی سبسٹینس” نے اداکارہ ڈیمی مور اور مارگریٹ کوالی کے ذریعے پہنے گئے مصنوعی اعضاء کے لیے آسکر جیتا تاکہ اندرونی نظارے حاصل کیے جاسکیں (حالانکہ کوالی نے بعد میں انکشاف کیا کہ مصنوعی اعضاء کی وجہ سے ان کی جلد کو نقصان پہنچا جس سے صحت یاب ہونے میں ایک سال لگا)۔

    2019 میں، بالینسیاگا نے میک اپ آرٹسٹ انجے گروگنارڈ کے ساتھ مل کر ان ماڈلز پر انتہائی نمایاں رخسار اور ہونٹ بنائے جنہوں نے اس کے شو میں واک کی۔ بصری فنکار اور فوٹوگرافر نادیہ لی کوہن نے 2022 کے اپنے "ہیلو مائی نیم از” پروجیکٹ کے لیے 33 کرداروں میں تبدیل ہونے کے لیے مصنوعی اعضاء، وِگز اور ملبوسات کی ایک صف کا استعمال کیا، کیونکہ اس نے ایک تھرفٹ شاپ میں پائے جانے والے ہر نام ٹیگ کے پیچھے موجود شخص کا دوبارہ تصور کیا۔ دریں اثنا، ڈریگ کوئین الیکسس اسٹون ہر سیزن میں ایک مختلف مشہور شخصیت کے ڈوپل گینجر کے طور پر باقاعدگی سے پیرس فیشن ویک میں شرکت کرتی ہیں (حال ہی میں، اس نے ایڈیلی میں تبدیل کیا، ایک ایسا عمل جس میں چھ ہفتے کی تحقیق، مجسمہ سازی اور میک اپ لگا)۔

    تیمور مصنوعی اعضاء کو فنکارانہ اظہار کے لیے ایک کینوس کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "فیشن ہمیشہ شناخت کے کھیل کے بارے میں رہا ہے، لیکن مصنوعی اعضاء اسے ایک اور سطح پر لے جاتے ہیں۔” "وہ ہمیں انسانی شکل کو مکمل طور پر دوبارہ لکھنے کی اجازت دیتے ہیں — جب آپ جسموں کو اسٹائل کر سکتے ہیں تو کپڑے اسٹائل کرنے پر کیوں رکیں؟”لندن میں مذکورہ بالا ہیئر، میک اپ اور مصنوعی اعضاء کے کورس کی لیکچرر مولی گِب نے اس جذبے کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی اعضاء ہیئر اور میک اپ آرٹسٹوں کے لیے "ان بیانات کے مطابق لک بنانے کا ایک طریقہ ہیں جو کپڑے دے رہے ہیں۔”

    رن وے پر کچھ عملی اور ترقی پسند حل سامنے آئے ہیں۔ الیگزینڈر میک کیوین کے خزاں-سرما 1999 کے شو میں ایک پیرا اولمپک ایتھلیٹ اور دوہرے معذور نے تراشی ہوئی مصنوعی ٹانگیں پہنی تھیں۔ حال ہی میں، ابھرتے ہوئے ڈیزائنر ژونگزی ڈنگ نے سپنج سے بنی ایک بلٹ ان عضو تناسل (ایک قابل عمل پیشاب کی نالی کے ساتھ مکمل) والی جینز بنائی۔ وہ ٹام آف فن لینڈ سے متاثر تھے، جو انتہائی مردانہ ہم جنس پرست آرٹ تخلیق کرنے کے لیے جانے جاتے تھے، اور ان کا مقصد ٹرانس جینڈر مردوں کے لیے تھا جو صنف کی تصدیق کرنے والے کپڑے پہننا چاہتے ہیں۔ ڈنگ نے جسم کی تصویر کی پریشانی سے مصنوعی اعضاء میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو جوڑا۔ ای میل کے ذریعے، انہوں نے اپنا یقین ظاہر کیا کہ "مستقبل میں، (مزید جسمانی اعضاء کو نشانہ بنانے والے مصنوعی اعضاء کی مانگ ہوگی۔” تاہم، زیادہ تر حصے کے لیے، فیشن میں مصنوعی اعضاء افادیت سے زیادہ فنتاسی کا کام رہتے ہیں۔

    اگرچہ مصنوعی اعضا فیشن کی دنیا میں یہ ایک نیا اور دلچسپ رجحان بن چکا ہے۔ آئندہ کے فیشن شوز میں، ان پروتھیٹکس کا استعمال اور بھی بڑھ سکتا ہے، جیسے کہ ڈائنامک موومنٹ کے ساتھ مکمل سلیوٹس کے ساتھ۔ ہلری ٹی مور نے اس بات کا ذکر کیا کہ پروتھیٹکس صرف چہرے یا ہاتھوں تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ یہ پورے جسم کو نئے انداز میں ڈھالنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔یقینی طور پر، فیشن اور پروتھیٹکس کا ملاپ نہ صرف ایک فنکارانہ اظہار ہے بلکہ مستقبل میں یہ ایک ثقافتی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کے دو قریبی ساتھی گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم کے دو قریبی ساتھی گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دو قریبی معاونین کو پولیس نے پیر کے روز گرفتار کرلیا تھا، اور انہیں تین دن کی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قطر کے ساتھ غیر قانونی روابط استوار کیے ہیں۔ اس تحقیقات کا نام "قطر گیٹ” رکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی عدالت نے منگل کے روز ان معاونین، یوناتان اورچ، جو نیتن یاہو کے قریبی مشیر ہیں، اور سابق معاون ایلی فیلڈسٹین کی ابتدائی حراست کی مدت تین دن کے لیے بڑھا دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی سے تحقیقات میں خلل پڑے گا۔ پولیس کی ابتدائی درخواست کے مطابق، ان کی حراست نو دن کے لیے کی جانی چاہیے تھی، لیکن جج نے اسے مسترد کر دیا۔عدالت میں جج نے کہا کہ جب خفیہ مواد کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ایک امریکی کمپنی نے ان میں سے ایک مشتبہ شخص سے مصر کے بارے میں منفی پیغامات پھیلانے اور اس کے کردار کو کم کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاکہ 7 اکتوبر کے یرغمالیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی کے لیے مصر کی ثالثی کی کوششوں کو کمزور کیا جا سکے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق، یوناتان اور فیلڈسٹین پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے رشوتیں لی تھیں اور قطر کے حق میں میڈیا میں ہمدردانہ مواد پھیلایا تھا، تاکہ مصر کے کردار کو کم کیا جا سکے۔

    نیتن یاہو نے اس کیس کے بارے میں پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ سیاسی طور پر متحرک تحقیقات ہیں اور اس کا مقصد انہیں "رونن بار” کو ہٹانے سے روکنا ہے، جو اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی سروس، شین بیت کے سربراہ ہیں۔نیتن یاہو نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ تحقیقات میں قطر کے ساتھ تعلقات کی بنا پر ان کے دفتر کے ارکان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور شین بیت نے حال ہی میں قطر کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھیں۔

    اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں، جیسے یائر لاپید اور بینی گینٹ نے نیتن یاہو پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ قطر گیٹ کی تحقیقات سے اسرائیل کی ساکھ اور قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ اسرائیل کی سیاست میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہیں۔