Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بحر ہند کے اوپر طیارے کا زبردستی دروازہ کھولنے کی کوشش ، طیارے کی واپسی

    بحر ہند کے اوپر طیارے کا زبردستی دروازہ کھولنے کی کوشش ، طیارے کی واپسی

    انڈونیشیا کے جزیرے بالی سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن جانے والی 200 سے زائد مسافروں والی پرواز کو اس وقت واپس لوٹنا پڑا جب ایک مسافر نے بحر ہند کے اوپر پرواز کے دوران طیارے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ کم لاگت ایئر لائن جیٹ اسٹار نے منگل کو ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔

    ایئر لائن نے 31 مارچ کی رات پیش آنے والے واقعے کے بارے میں کہا، "ہماری ایک پرواز گزشتہ رات ڈینپاسار (بالی کا ہوائی اڈہ) واپس لوٹ گئی کیونکہ ایک بدتمیز مسافر نے طیارے کے دروازوں میں سے ایک کو کھولنے کی کوشش کی اور ہمارے عملے کے ساتھ بدسلوکی کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسافر کو بالی میں مقامی حکام نے طیارے سے اتار دیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود ایک خاتون دروازے کا ہینڈل اٹھانے میں کامیاب ہو گئی، جس کے بعد ایک وارننگ سگنل نے عملے کو متنبہ کیا، جیسا کہ کپتان نے طیارے کے اسپیکروں پر بتایا۔

    فلائٹ ٹریکنگ سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ پرواز نے پرواز کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بحر ہند کے اوپر سے واپسی کا رخ کیا۔جیٹ اسٹار نے یہ واضح نہیں کیا کہ بالی سے میلبورن جانے والے طیارے میں کتنے مسافر اور عملہ موجود تھا۔ایئر لائن نے اپنے بیان میں کہا، "ہمارے صارفین اور عملے کی حفاظت اور فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ان کے ردعمل کے طریقے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔””ہماری پروازوں میں اس قسم کے ناقابل قبول رویے کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

    ماضی میں بدتمیز مسافروں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں مسافروں کا ایمرجنسی ایگزٹ کھولنا اور انخلاء سلائیڈ سے نیچے پھسلنا، فلائٹ اٹینڈنٹس کو مارنا اور کاٹنا، اور فلائٹ عملے پر گھونسے برسانا شامل ہے، جس کی وجہ سے طیاروں کو اپنی مطلوبہ منزل سے ہٹنا پڑا۔ لیکن ہوا بازی کے حکام سخت کارروائی کر رہے ہیں اور سخت اقدامات نافذ کر رہے ہیں۔

    گزشتہ سال، ایک مسافر پر وفاقی عدالت میں الزام عائد کیا گیا تھا جب اس نے پرواز کے دوران طیارے کا دروازہ زبردستی کھول دیا اور ایک اٹینڈنٹ کو زخمی کر دیا، جس کی وجہ سے ملواکی سے ڈلاس جانے والی امریکن ایئر لائنز کی پرواز کے ساتھی مسافروں نے اسے ڈکٹ ٹیپ سے باندھ دیا۔2023 میں، ایک شخص جس نے لینڈنگ سے ٹھیک پہلے ایشیانا ایئر لائنز کے طیارے کا ایمرجنسی دروازہ کھول دیا تھا، نے پولیس کو بتایا کہ اسے دم گھٹنے کا احساس ہوا اور وہ جلدی سے طیارے سے اترنا چاہتا تھا۔

  • آزادی کے دن امریکی صدر کریں گے”ٹیرف” کا نفاذ،ممالک کی جوابی ٹیرف کی دھمکی

    آزادی کے دن امریکی صدر کریں گے”ٹیرف” کا نفاذ،ممالک کی جوابی ٹیرف کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف کے خلاف عالمی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی ہے، خاص طور پر ان ممالک سے جو اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جیسے میکسیکو اور کینیڈا۔ ان ممالک نے جواباً ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے

    چین نے اس پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے اور امریکی مال پر مختلف اقسام کے ٹیرف عائد کیے ہیں۔ ان میں کوئلے اور مائع قدرتی گیس پر 15 فیصد ٹیرف، خام تیل پر 10 فیصد ٹیرف اور امریکی زرعی مصنوعات پر 15 فیصد تک کے ٹیرف شامل ہیں۔کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے ہیں جن میں امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد ٹیکس شامل ہے، اور اس کے علاوہ اورنج جوس، مکھن، شراب، کافی اور ملبوسات جیسے 29.8 بلین کینیڈین ڈالر کے محصولات عائد کیے ہیں۔

    یورپی یونین نے بھی امریکی مصنوعات پر retaliatory ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، لیکن ان کے نفاذ کی تاریخ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ یورپی کمیشن نے ابتدائی طور پر 1 اپریل سے امریکی مصنوعات پر 26 بلین یورو کے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم اس فیصلے کو اپریل کے وسط تک مؤخر کر دیا گیا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر اس لیے کی گئی ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔

    امریکی وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ تقریبا تمام درآمدات پر 20 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کو یہ انتباہ کیا تھا کہ "تمام ممالک” کو ٹیرف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اقدام ان ممالک کے خلاف ہو سکتا ہے جنہیں امریکہ نے تجارتی سودے میں اپنے مفادات کے خلاف سمجھا ہو۔وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے کہا ہے کہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس قسم کے ٹیرف امریکی معیشت پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ 20 فیصد ٹیرف سے امریکی معیشت میں فوری طور پر کساد بازاری شروع ہو سکتی ہے، جس کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑے گا۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹرمر نے کہا ہے کہ یہ امکان ہے کہ ٹرمپ کے ٹیرف برطانیہ کو متاثر کریں گے، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ "قومی مفاد” میں جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ برطانیہ بھی retaliatory ٹیرف عائد کرے، مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تجارتی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "تمام آپشنز میز پر ہیں”، اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کی مضبوطی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا امریکی ٹیرف کا مشترکہ طور پر جواب دیں گے،ادھر برطانونی وزیر تجارت کا کہنا ہے کہ امید ہے امریکا کی جانب سے عائد کوئی بھی ٹیرف ہفتوں یا مہینوں میں واپس لے لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل سے امریکا میں ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جوابی ٹیرف کی تفصیلات کل پیش کی جائیں گی، جوابی ٹیرف عائد کرتے ہوئے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اچھا برتاو کریں گے، ہم نے ہر کسی کی مدد کی اور کسی نے ہماری مدد نہیں کی، ہم دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت اچھے ہونے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری مدت کے حوالے سے بھی اشارہ دیا ہے، حالانکہ امریکی آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں تیسری مدت کے لیے کسی منصوبے کی پیشکش کی گئی ہے، تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے کچھ طریقے ہو سکتے ہیں۔

  • میانمار زلزلہ زدگان کے لیےپاکستان سے امداد سامان روانہ

    میانمار زلزلہ زدگان کے لیےپاکستان سے امداد سامان روانہ

    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان، میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر میانمار میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاکستان کی جانب سے امدادی سامان روانہ کیا گیا ہے۔ یہ امدادی سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے فراہم کیا گیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق، پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ میں 35 ٹن ضروری اشیاء شامل ہیں۔ امدادی سامان میں خیمے، ترپالیں، کمبل، تیار کھانا، ادویات اور واٹر ماڈیولز شامل ہیں تاکہ زلزلے کے متاثرین کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ امدادی سامان لے کر طیارہ میانمار کے شہر ینگون پہنچے گا، جہاں اس سامان کو زلزلہ زدگان تک پہنچایا جائے گا۔ میانمار میں زلزلے کے نتیجے میں اب تک 2719 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 4521 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    امدادی سامان کی روانگی کی تقریب میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، این ڈی ایم اے کے حکام، وزارتِ خارجہ کے اہلکار اور میانمار کے سفیر نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فوری امدادی سامان کے ترسیلی عمل پر این ڈی ایم اے کی کارکردگی کو سراہا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ "پاکستان کی حکومت اس مشکل وقت میں میانمار کے عوام کے ساتھ ہے اور ہم تمام تر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "مجموعی طور پر 70 ٹن امدادی سامان میانمار بھیجا جا رہا ہے تاکہ متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جا سکے۔”

    دوسری جانب، میانمار کے سفیر نے پاکستان کی امدادی کارروائیوں پر حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی امداد سے متاثرہ افراد کو بڑی مدد ملے گی اور پاکستانی عوام کی سخاوت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • سیف علی خان، کرینہ کپور کی عید کی دن کی تصویر سامنے آ گئی

    سیف علی خان، کرینہ کپور کی عید کی دن کی تصویر سامنے آ گئی

    بھارتی اداکارسیف علی خان اور کرینہ کپور نے عید کی خوشیوں کو اپنے خاندان کے ساتھ منایا، جس میں سوہا علی خان و دیگر شامل ہوئے۔ عید کی اس تقریب میں جہاں صبااور سوہا مختلف شیڈز آف گرین میں ملبوس تھیں، وہیں سیف علی خان نے سفید کرتا زیب تن کیا۔ کرینہ کپور نے میک اپ سے پرہیز کرتے ہوئے فلورل پرنٹڈ سوٹ میں نظر آئیں.

    صبا پٹودی نے اپنی انسٹاگرام پر عید کی تقریب کی تصاویر شیئر کیں اور ان تصاویر کے ساتھ کیپشن لکھا، "عید کے لمحے۔ خاندان سب سے اہم ہے… شکریہ بھائی اس خوبصورت لنچ کے لیے اور سوہا، بیبو اور کمل نے بھی اس لمحے کو خاص بنایا۔”

    عید کی تیاری میں سیویاں ایک لازمی جزو ہیں، اور سوہا علی خان نے اس موقع پر کمل کملو کا ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں وہ عید کے لیے سیویاں بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ سوہا نے ویڈیو اور فیملی جیم تصاویر کے ساتھ لکھا، "کیا عید سیویاں کے بغیر مکمل ہو سکتی ہے؟ ہماری طرف سے عید مبارک ہو۔”

    جمعرات کے روز، کرینہ کپور نے اپنے مداحوں کو ایک پرانی تصویر دکھائی جس میں سیف علی خان اور وہ دونوں کیمرے سے دور نظر آ رہے ہیں۔ اس تصویر میں سیف علی خان نے اپنے کیژول انداز میں لباس پہنا تھا جبکہ کرینہ کپور نے لیدر جیکٹ کے ساتھ اپنی منفرد شخصیت کو اجاگر کیا۔ دونوں صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور سامنے ایک لکڑی کی میز رکھی تھی۔ کرینہ نے اس تصویر کو "تھرو بیک تھرسڈے پارٹ 2” کے عنوان کے ساتھ شیئر کیا اور ایک سرخ دل کا ایموجی بھی ڈالا۔ �

    سیف علی خان اور کرینہ کپو ر میں طلاق کی پیشگوئی

    سیف علی خان کا سیکورٹی لینے سے انکار

    سیف علی خان چاقو حملے میں صحتیابی کے بعدپہلی بار تقریب میں شامل

  • عید کا دوسرا دن، وکلا عمران خان کو ملنےپہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،جیل حکام میں تکرار

    عید کا دوسرا دن، وکلا عمران خان کو ملنےپہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،جیل حکام میں تکرار

    راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے جیل حکام اور وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان دو بار تکرار ہوئی۔

    یہ تنازعہ اس وقت اٹھا جب جیل حکام نے بعض افراد کو ملاقات کی اجازت دے دی، تاہم سلمان اکرم راجہ اور ان کے ہمراہ دیگر وکلاء کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔جیل حکام نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں، اعظم سواتی، نادیہ خٹک اور وکیل مبشر اعوان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، جنہوں نے اڈیالہ جیل میں جا کر بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔ تاہم، سلمان اکرم راجہ، نیاز اللّٰہ نیازی، فیصل ملک اور شعیب شاہین جیسے اہم وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر انہوں نے جیل حکام سے احتجاج کیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے بیان دیا کہ "ہم نے جن افراد کے نام دیے تھے، ان کو ملاقات کے لیے کیوں نہیں بھیجا جا رہا؟ جیل حکام اپنی مرضی سے لوگوں کو منتخب کر کے ملاقات کی اجازت دے رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق ملاقات کرانے کی ضرورت ہے، اور یہ حکم واضح ہے کہ ملاقات کی فہرست وہی ہوگی جو ہمارے ذریعے دی جائے گی۔ "ہماری لسٹ کے مطابق صرف اعظم سواتی کو ملاقات کے لیے بھیجا گیا، باقی افراد کے نام کیوں نہیں لیے گئے؟” انہوں نے جیل انتظامیہ سے درخواست کی کہ "اگر ہمیں ملاقات کے لیے اندر نہیں بھجوایا جاتا تو پھر کسی کو بھی اندر نہ بھیجا جائے۔”

    جیل حکام نے متعدد بار انصر کیانی اور تابش فاروق ایڈووکیٹ کو اندر جانے کی اجازت دینے کی کوشش کی، لیکن سلمان اکرم راجہ نے دونوں وکلاء کو اندر جانے سے روکا۔ سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام سے مکالمے کے دوران کہا کہ "اگر آپ ہمیں اندر نہیں بھجواتے تو کوئی بھی اندر نہ جائے، اور اگر آپ ان کو ملاقات کے لیے بھجوائیں گے تو بانیٔ پی ٹی آئی ناراض ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات میں یہ واضح ہے کہ ملاقات کے لیے جو فہرست ہم دیں گے، ان ہی افراد کو اجازت دی جائے گی۔

    دوسری جانب بانیٔ پی ٹی آئی کے ترجمان نیاز اللّٰہ خان نیازی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے حکم پر ملاقات کے لیے آئے ہیں، لیکن بانیٔ پی ٹی آئی سے تاحال ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔” انہوں نے کہا کہ وہ جیل حکام سے رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر انتظار کریں گے۔نیاز اللّٰہ خان نیازی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "ہم اس سے ملنے جا رہے ہیں جو پوری قوم کی جنگ لڑ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ثابت کر دیا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔

  • صدر مملکت آصف زرداری عید پر بیمار،ہسپتال منتقل

    صدر مملکت آصف زرداری عید پر بیمار،ہسپتال منتقل

    صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبعیت خراب ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر نواب شاہ سے کراچی منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    اسپتال کے ذرائع کے مطابق صدر زرداری کو انفیکشن اور بخار کی شکایت تھی جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ ان کے میڈیکل ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں تاکہ ان کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر آصف زرداری کا علاج اسپتال میں ان کے معالج ڈاکٹر عاصم حسین کی نگرانی میں جاری ہے۔ ان کی صحت کی بہتری کے لیے تمام ضروری تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ اسپتال کے حکام نے صدر کی حالت کو مستحکم بتایا ہے،

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےصدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی بیماری پر رابطہ کیا،وزیرِ اعظم نے صدر مملکت کی مزاج پرسی کی،وزیرِ اعظم نے صدر مملکت کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالی آپکو جلد صحت کاملہ عطاء کریں.پوری قوم کی دعائیں آپکے ساتھ ہیں.

    دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق نے صدر مملکت آصف زرداری سے رابطہ کیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق نے صدر کی خیریت دریافت کی،اس موقع پر ایاز صادق نے صدر آصف علی زرداری کیلیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی.

  • پاکستانی پرچم کو جلانے کی کوشش کرنیوالے افغان شہری کو پختونوں نے "سبق”سکھا دیا

    پاکستانی پرچم کو جلانے کی کوشش کرنیوالے افغان شہری کو پختونوں نے "سبق”سکھا دیا

    پاکستان کے پختون علاقے تختی خیل، لکی مروت میں افغان باشندے ارشد علی نے پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی اور اسے جلانے کی کوشش کی۔ اس عمل کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی پختونوں نے فوراً مداخلت کی اور اس شخص کو ایسی سزا دی جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

    ارشد علی جو کہ افغانستان سے تعلق رکھتا ہے، نے علاقے میں پاکستانی پرچم کو دھاگوں میں الجھایا اور اسے جلانے کی کوشش کی۔ یہ عمل پختونوں کی غیرت اور وطن پرستی کے خلاف تھا، جس پر مقامی لوگ برہم ہو گئے۔ فوراً ہی علاقے کے نوجوانوں اور بزرگوں نے اکٹھا ہو کر اس شخص کا محاصرہ کیا اور اسے روکا۔پختونوں نے اس افغان باشندے کو نہ صرف روکا بلکہ اس کی ایسی سبق آموز دھلائی کی جس سے وہ دوبارہ ایسی حرکت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ اس واقعے کے بعد، مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی پاکستان کے قومی اعزازات اور پرچم کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پختون قوم ہمیشہ اپنی غیرت اور وطن پرستی کا دفاع کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی حکام نے اس واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے اور افغان باشندے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔پختونوں کا یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ کوئی بھی شخص پاکستانی سرزمین پر آئین و قانون سے بالاتر نہیں اور اس قسم کے غیرقانونی اور توہین آمیز عمل کو سختی سے روکا جائے گا۔

  • عید پر مناہل ملک کی ایک اور "نازیبا ویڈیو”لیک

    عید پر مناہل ملک کی ایک اور "نازیبا ویڈیو”لیک

    معروف پاکستانی ٹک ٹاکر مناہل ملک کی مزید نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس میں انہیں ایک بار پھر شرمناک حالات میں دیکھا گیا ہے۔

    ان ویڈیوز میں ٹک ٹاکر مناہل ملک انتہائی بے حیائی سے اپنے جسم کے پوشیدہ حصوں کی نمائش کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک ویڈیو میں وہ چشتیاں میں پول پارٹی کے حوالے سے بات کرتی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہیں۔ویڈیوز کے لیک ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی ہے۔ ان ویڈیوز میں مناہل ملک کا رویہ انتہائی غیر مہذب نظر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے مداحوں اور مخالفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ان ویڈیوز میں مناہل ملک کی عریانی اور غیر اخلاقی گفتگو نے نہ صرف ان کے اپنے فینز بلکہ پورے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    مناہل ملک پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا کی شخصیت ہیں۔ انہوں نے ٹک ٹاک پر اپنی تخلیقی اور منفرد ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں وہ کچھ تنازعات کا شکار بھی رہی ہیں۔ ان کی بعض نجی ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد ان کی ساکھ پر سوالات اٹھے، اور اس کے بعد انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔مناہل ملک نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کے رویوں سے تنگ آ چکی ہیں اور وہ اندر سے مر چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو ختم کرنے کا سوچ رہی ہیں کیونکہ ان کی نجی زندگی کا استحصال کیا جا رہا ہے۔تاہم بعد ازاں مناہل ملک نے دوبارہ سوشل میڈیا پر آنے کااعلان کر دیا تھا،مناہل ملک کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بعض لوگوں نے ان کی حمایت کی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے ان کے رویے اور لیک ہونے والی ویڈیوز پر شدید تنقید کی۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کئی ہیش ٹیگ چلائے جا رہے ہیں، جن میں ان کی ویڈیوز اور رویے کو غیر اخلاقی قرار دیا جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے کہا کہ پہلے عید پر سینماؤں میں فلمیں ریلیز ہوتی تھیں اور اب ہر عید پر مناہل ملک کے ٹوٹے

    https://x.com/gypsygalexy/status/1907024116382654911

    ٹک ٹاکرمناہل ملک کی پھر نازیبا ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    برہنہ ویڈیو لیک ہونے سے میرے فالورز بڑھے ۔ مناہل ملک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    مناہل ملک نے چند مختصر ویڈیوز کے ذریعے قوم کو یکجا کر دیا،صارفین کا تبصرہ

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • بھارتی ریاست گجرات میں پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ ،18 ہلاک

    بھارتی ریاست گجرات میں پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ ،18 ہلاک

    بھارتی ریاست گجرات کے ضلع بناس کانٹھا میں منگل کی صبح ایک پٹاخہ فیکٹری میں شدید دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 9 بجے پیش آیا۔ گجرات کے ڈیسا قصبے میں واقع یہ پٹاخہ فیکٹری ایک مشہور کاروباری مقام تھی جہاں روزانہ کی بنیاد پر بہت سے مزدور کام کرتے تھے۔دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ فیکٹری کی عمارت میں موجود دیواریں اور شیڈ بری طرح متاثر ہوئے اور فیکٹری کے ارد گرد دھوئیں کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دھماکہ فیکٹری کے بوائلر پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔ اس دھماکے نے پٹاخہ فیکٹری کے اندر کام کر رہے تقریباً 30 مزدوروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ کچھ افراد دھماکے کے نتیجے میں موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ہلاک شدگان کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

    دھماکے کے بعد فیکٹری کا مالک موقع سے فرار ہوگیا ہے، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات نہیں مل سکیں۔ پولیس نے فیکٹری کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس فیکٹری کے بارے میں یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا اسے پٹاخہ بنانے کا قانونی لائسنس حاصل تھا یا نہیں۔دھماکے کے فوراً بعد، مقامی ریسکیو ٹیموں اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر پہنچا دیا گیا تھا۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے فوری کارروائی شروع کی اور فیکٹری میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ جائے وقوع پر آگ کی شدت اور دھوئیں کے غبار نے امدادی کاموں کو مشکل بنا دیا، لیکن پھر بھی فائر بریگیڈ کی ٹیم نے کافی محنت سے آگ پر قابو پایا۔

    واقعہ کے فوراً بعد، مقامی افراد نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور فیکٹری کے قریب موجود دیگر افراد کو نکالنے میں مدد کی۔ مقامی افراد نے فائر بریگیڈ کو آگاہ کیا کہ فیکٹری سے آتشبازی کی آوازیں آ رہی ہیں اور آگ کی لپٹیں بلند ہو رہی ہیں۔ اس اطلاعات کے بعد فوراً ایس ڈی آر ایف (اسٹینڈنگ ڈیزاسٹر ریسکیو فورس) کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ڈیسا دیہی پولیس تھانہ کے انسپکٹر وجئے چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ فیکٹری کے ملبے میں ابھی بھی کچھ لوگ دبے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں ان افراد کی تلاش میں ہیں۔ انسپکٹر چودھری کے مطابق، حادثے کے بعد پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ دار افراد کو سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔

    ضلع مجسٹریٹ ماہر پٹیل نے اس حادثے کا فوری طور پر نوٹس لیا ہے اور فیکٹری کے مالکان کی ذمہ داری کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ آیا فیکٹری نے پٹاخہ بنانے کے لیے تمام قانونی اجازتیں حاصل کی تھیں یا نہیں۔ فیکٹری کے مالک کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق، دھماکے کے وقت فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں میں زیادہ تر مقامی افراد شامل تھے۔ کچھ مزدوروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ مقامی لوگ اس دھماکے کو اتنی شدت کا محسوس کر رہے تھے کہ قریبی علاقے میں کئی عمارتیں بھی ہل گئیں۔

    مجموعی طور پر، اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 تک پہنچ چکی ہے، اور اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے کو ہٹانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی اور شخص کی جان خطرے میں نہ آئے۔ اس دوران، گجرات حکومت اور دیگر حکام نے اس حادثے کی تحقیقات میں بھرپور مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس خوفناک واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، اور مقامی لوگوں کی جانب سے فیکٹری کے مالک کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ حکام نے اس واقعے کو لے کر سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ آئندہ ایسی وارداتیں نہ ہوں۔

  • انگلینڈ ، ساؤتھ ایسٹ میں تشدد کے واقعات ،ہرجانے کے ہزاروں پاؤنڈ ادا

    انگلینڈ ، ساؤتھ ایسٹ میں تشدد کے واقعات ،ہرجانے کے ہزاروں پاؤنڈ ادا

    انگلینڈ کے ساؤتھ ایسٹ میں واقع علاقوں کی کونسلوں نے اسکولوں میں تشدد کے واقعات میں زخمی ہونے والے عملے کو ہرجانے کے طور پر ہزاروں پاؤنڈ ادا کیے ہیں۔

    برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں تشدد کا شکار ٹیچرز اور ٹیچنگ اسسٹنٹس کو 64 ہزار 555 پاؤنڈ کی رقم ادا کی گئی ہے۔یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اسکولوں میں بالغ افراد پر حملوں کی وجہ سے طلبہ کو معطل کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی کام کی جگہ پر تشدد یا بدسلوکی کا سامنا کسی کو بھی نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً اسکول کے عملے کو جو بچوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، تحقیقات کے دوران ساؤتھ ایسٹ کی کونسلوں سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران حملوں میں زخمی ہونے والے عملے کو ادا کیے جانے والے معاوضوں کی تفصیل طلب کی گئی۔ اس تفصیل کے مطابق، کینٹ کاؤنٹی کونسل نے ایک طالبعلم کے ہاتھوں زخمی ہونے والے عملے کے رکن کو 25 ہزار پاؤنڈ ادا کیے، جبکہ سرے کونسل نے بھی ایک سوشل ورکر کو طالبعلم کے ہاتھوں زخمی ہونے پر 10 ہزار 375 پاؤنڈ ادا کیے۔اسی طرح، ایسٹ سسیکس کونسل نے طلبہ کے درمیان لڑائی روکنے پر عملے کو 22 ہزار پاؤنڈ ادا کیے، اور مڈ وے کونسل نے بھی اسی وجہ سے زخمی عملے کو 7 ہزار 180 پاؤنڈ ادا کیے۔

    محمکۂ تعلیم کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، کینٹ، سرے اور سسیکس میں بالغ افراد پر حملوں کے باعث 1 ہزار 997 طلبہ کو معطل کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکولوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ نہ صرف طلبہ کی معیاری تعلیم پر اثر انداز ہو رہا ہے بلکہ اس سے اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔