Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ریڈ زون میں احتجاج روکنے کے اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع

    ریڈ زون میں احتجاج روکنے کے اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع

    اسلام آباد کے ریڈ زون میں احتجاج روکنے کے حوالے سے ہونے والے اخراجات کی تفصیلات وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہیں۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ پانچ سال کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں، جس میں مختلف سالوں کے اخراجات کی تفصیل بیان کی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق، 2019-2020 کے دوران مجموعی طور پر 15 کروڑ 77 لاکھ 61 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ ان اخراجات میں وی آئی پی سکیورٹی، ناکوں کی تعداد اور ڈیوٹی منتقلی پر 10 کروڑ 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ ایف سی اور پولیس اہلکاروں کی خوراک پر 5 کروڑ 22 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021-2022 میں احتجاج روکنے پر کل اخراجات 27 کروڑ 79 لاکھ 48 ہزار روپے رہے۔ پولیس اہلکاروں کے لیے آںسو گیس اور دیگر ضروری اشیاء پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اسی طرح 2022-2023 میں احتجاج کو روکنے کی کارروائیوں پر 72 کروڑ 40 لاکھ 31 ہزار روپے خرچ ہوئے، جو کہ گزشتہ سالوں کے اخراجات سے کہیں زیادہ تھے۔ اس کے علاوہ، 2023-2024 کے دوران احتجاج کے روکنے پر اخراجات 10 کروڑ روپے کی حد تک پہنچے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان اخراجات کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اور حکومتی اقدامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

  • 190 ملین پاؤنڈکیس، عمران، بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست دائر

    190 ملین پاؤنڈکیس، عمران، بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست دائر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں اپنی سزا معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    یہ درخواستیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دائر کیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے بدنیتی سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر دونوں افراد کے خلاف جلد بازی میں فیصلہ سنایا گیا۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) سے معاہدے کا متن حاصل نہ کرنا، تفتیشی ایجنسی کی ہچکچاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل بھی نہیں کیا گیا، اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔دائر کردہ درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ 17 جنوری کو سنائی جانے والی سزا معطل کی جائے اور عمران خان و بشریٰ بی بی کو ضمانت پر رہائی دی جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے تک فیصلہ اور سزا معطل کی جائے۔ دونوں کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سزا معطلی کے بعد وہ اپیل کی ہر سماعت میں عدالت میں موجود ہوں گے۔

    یہ درخواست اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ دونوں کی سزا کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی ضرورت ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اب اس درخواست پر فیصلہ دینے کے لیے کارروائی کرے گی۔

  • عید کی صرف تین سرکاری چھٹیاں

    عید کی صرف تین سرکاری چھٹیاں

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عید الفطر کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔ یہ تعطیلات پیر 31 مارچ سے بدھ 2 اپریل تک ہوں گی۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے سرکاری تعطیلات کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تعطیلات تمام وفاقی حکومت کے دفاتر، اداروں اور اداروں کے ملازمین کے لیے ہوں گی۔ تاہم، صوبوں کی جانب سے عید کی تعطیلات کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔عید الفطر کی تعطیلات کے حوالے سے مزید تفصیلات اور صوبوں کی جانب سے ممکنہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس سال عید کی تعطیلات میں اضافہ اور سرکاری دفاتر کی بندش کی وجہ سے عوام کے لیے تعطیلات کا فائدہ بڑھ جائے گا۔ عید الفطر کی خوشیوں کے موقع پر ملک بھر میں مذہبی تقریبات، اجتماعات اور عید کی خریداری کی بھرپور تیاریاں بھی جاری ہیں۔

    امید کی جارہی ہے کہ عید کے موقع پر ملک بھر میں لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں منائیں گے۔

  • امریکی عدالت نے ایلون مسک کو یو ایس ایڈ کے خاتمے سے روک دیا

    امریکی عدالت نے ایلون مسک کو یو ایس ایڈ کے خاتمے سے روک دیا

    امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹیسلا کے سی ای او اور امریکا کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOGE) کے رکن ایلون مسک کو یو ایس ایڈ کو ختم کرنے سے روک دیا۔ یہ فیصلہ میری لینڈ کی وفاقی عدالت نے دیا ہے، جس کے مطابق ایلون مسک اور محکمہ ڈوج کو مزید اقدامات کرنے سے روکا گیا ہے تاکہ یو ایس ایڈ کو ختم نہ کیا جا سکے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت آیا جب یو ایس ایڈ کے 2 درجن سے زائد ملازمین نے اس معاملے پر ایک مقدمہ دائر کیا۔ ان ملازمین کی جانب سے اسٹیٹ ڈیموکریسی ڈیفنڈرز گروپ نے یہ مقدمہ دائر کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایلون مسک نے وفاقی ایجنسیوں پر غیر معمولی اتھارٹی حاصل کر لی ہے جو امریکی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ مقدمے میں کہا گیا کہ آئین کے مطابق یہ اتھارٹی صرف اس شخص کو حاصل ہو سکتی ہے جسے صدر نے نامزد کیا ہو اور سینیٹ نے اس کی بطور افسر توثیق کی ہو۔عدالت نے حکم دیا کہ اگر حتمی فیصلے میں مدعی کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کو یو ایس ایڈ کے ہیڈکوارٹر کو دوبارہ واشنگٹن میں رونالڈ ریگن عمارت میں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ مقدمہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ایلون مسک نے امریکی حکومتی اداروں پر اپنی اثر و رسوخ کا بہت زیادہ استعمال کیا ہے، جو آئینی طور پر ایک متنازعہ معاملہ بن چکا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ حکومت کی مختلف کوششوں کے خلاف ایک اہم قانونی چیلنج بن چکا ہے۔

  • سابق کمشنر کی بیٹی کا سیرین ایئر کی پرواز میں ہنگامہ، کیبن کرو ممبر پر حملہ

    سابق کمشنر کی بیٹی کا سیرین ایئر کی پرواز میں ہنگامہ، کیبن کرو ممبر پر حملہ

    سیریں ایئر کی پرواز UET-ISB میں شرمناک واقعہ پیش آیا، جس میں سابق کمشنر افتخار جوگیزئی اور ان کی بیٹی سائمہ جوگیزئی نے ایئرلائن کے عملے کے ساتھ بدسلوکی کی اور ایک کیبن کرو ممبر پر حملہ کر دیا۔یہ واقعہ 18 مارچ کو پیش آیا

    دورانِ چیک ان، سائمہ جوگیزئی نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ایئرلائن کے کاؤنٹر اسٹاف سے بدتمیزی کی اور دیگر مسافروں کو اپنے قریب آنے سے روکا۔ پرواز میں سوار ہونے کے بعد، دونوں نے کیبن کرو کے عملے کے ساتھ گالم گلوچ کی اور ان کی جانب سے سیٹ کے حوالے سے کی جانے والی رہنمائی کو مسترد کر دیا۔جہاز کے ٹیک آف کے قریب پہنچنے پر، سائمہ جوگیزئی نے اپنی نشست سے اٹھ کر کیبن کرو کے عملے کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور ان کو دھمکیاں دینے لگیں، جس کی وجہ سے دیگر مسافر بھی پریشان ہو گئے۔ ان کی بے جا حرکتوں کے پیش نظر، کپتان نے فوری طور پر طیارہ واپس موڑنے کا فیصلہ کیا اور ہدایت دی کہ دونوں مسافروں کو طیارے سے اتار لیا جائے۔

    افتخار جوگیزئی نے طیارے سے اترنے کا فیصلہ کیا، لیکن سائمہ جوگیزئی نے انکار کر دیا۔ کچھ وقت بعد، جب سائمہ جوگیزئی نے طیارہ چھوڑا، تو جاتے ہوئے انہوں نے ایک خاتون کیبن کرو ممبر پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کی ناک اور دانت ٹوٹ گئے۔ سائمہ جوگیزئی نے جاتے ہوئے اپنے پی ڈی ایم اے ڈائریکٹر، کاشف نامی شخص کو فون کیا اور دھمکیاں دیں کہ وہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑیں گی۔ ان کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت نے ایئرلائن کے عملے اور دیگر مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

    واقعہ کے بعد، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس نے دونوں مسافروں کو تحویل میں لے لیا، جبکہ زخمی کیبن کرو ممبر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعہ نے فضائی سفر میں عملے کی عزت اور تحفظ پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس غیر اخلاقی اور مجرمانہ رویے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔یہ واقعہ ایئرلائن، ایئرپورٹ اتھارٹی اور اے ایس ایف پر ایک بڑے دباؤ کا باعث بن رہا ہے، اور مختلف ذرائع سے خبریں ہیں کہ ان مسافروں کو رہا کرنے کے لیے سرکاری دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس واقعے کے بعد کیا اقدامات اٹھاتے ہیں اور آیا ان مسافروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی فضائی سفر میں عملے کے تحفظ کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

    air

  • ٹرمپ کے حکم پر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری

    ٹرمپ کے حکم پر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری

    امریکا کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بارے میں تمام خفیہ دستاویزات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر جاری کر دی گئیں۔ یہ دستاویزات 1963 میں صدر کینیڈی کے قتل کے متعلق تحقیقات کے دوران جمع کی گئی تھیں اور ان پر طویل عرصے تک پابندی رہی تھی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نیشنل آرکائیوز نے 17 مارچ 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر مقتول صدر جان ایف کینیڈی کے نومبر 1963 کے قتل سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات عوامی سطح پر جاری کر دیں۔امریکی نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈز ایڈمنسٹریشن نے یہ دستاویزات اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کر دی ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد فائلز اور 31 ہزار سے زائد صفحات شامل ہیں۔ ان دستاویزات میں قاتل کے بارے میں مختلف مفروضے، تحقیقات کے دوران کیے گئے سوالات، اور مختلف حکومتوں کے درمیان تبادلہ خیالات شامل ہیں۔یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا تھا، جس کے مطابق ان دستاویزات کو عوامی سطح پر جاری کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ورجینیا کے سینٹر فار پالیٹکس کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن ان کی مکمل اہمیت اور اس میں موجود معلومات کو سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو جان ایف کینیڈی کے قتل کے بارے میں اہم انکشافات کی توقع ہے، انہیں مایوسی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دستاویزات جان ایف کینیڈی کے قتل کے بارے میں نئی حقیقتوں کو سامنے نہیں لائیں گی، لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ اہم معلومات ہو سکتی ہیں جو اس قتل کی گتھیاں سلجھانے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ 22 نومبر 1963 کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں صدر جان ایف کینیڈی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اس قتل نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا تھا۔ اس قتل کے بعد مختلف تحقیقات اور تفتیشیں کی گئیں، لیکن اس کا راز اب تک مکمل طور پر نہیں کھلا۔

  • عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض کی منظوری

    عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض کی منظوری

    عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کے قرض کی منظوری دے دی ہے، جو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ غریب کاشتکاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس قرضے کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں متاثرہ افراد کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

    عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کی آمدن بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ یہ قرض عالمی بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے دیہی علاقوں میں مالیاتی شمولیت کو بڑھانا اور چھوٹے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مائیکرو فنانس غریب طبقے کی مالی مدد کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان میں تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار افراد مستفید ہوں گے، جن میں 10 لاکھ خواتین بھی شامل ہوں گی۔عالمی بینک نے مزید کہا کہ اس کی سرمایہ کاری پاکستان میں بڑھتی جا رہی ہے اور اس وقت 54 مختلف منصوبے جاری ہیں جن میں عالمی بینک کی کل سرمایہ کاری 15.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    پاکستان کے لیے اس مالی امداد کی فراہمی عالمی بینک کی جانب سے ملک میں دیہی علاقوں اور غریب طبقے کی معاشی حالت بہتر بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کو مدد ملے گی بلکہ اس سے ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی طرف بھی قدم بڑھایا جائے گا۔

  • دہشت گرد حملے سے متاثرہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں سے 3 دستی بم برآمد

    دہشت گرد حملے سے متاثرہ جعفر ایکسپریس کی بوگیوں سے 3 دستی بم برآمد

    کوئٹہ: ریلوے پولیس نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں سے تین دستی بم برآمد کیے گئے ہیں۔ یہ بم کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن کے قریب لوکوشیڈ پر کھڑی ٹرین کی بوگیوں سے برآمد ہوئے۔ دھماکا خیز مواد کو فوراً ناکارہ بنا دیا گیا تاکہ کسی قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    جعفر ایکسپریس، جو دہشت گردوں کے حملے کا شکار ہوئی تھی، کی پانچ بوگیاں متاثر ہو گئی تھیں۔ حکام کے مطابق، ٹرین کی تمام متاثرہ بوگیاں گزشتہ رات کوئٹہ ریلوے اسٹیشن لائی گئی تھیں، جنہیں کچھی کے علاقے مشکاف سے منتقل کیا گیا تھا۔ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں کی مرمت کا کام جاری ہے، اور جلد ہی ان کو دوبارہ آپریشنل بنا دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے کے دوران ریلوے اسٹیشن یا اس کے ارد گرد کسی قسم کے بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس نوعیت کے حملے نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    دہشت گردوں کا یہ حملہ ایک اہم واقعہ ہے جس پر حکام نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور ریلوے انتظامیہ کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے حملوں سے بچا جا سکے۔

  • یہ کرنے کی بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

    یہ کرنے کی بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات میں وکیل مشال یوسفزئی کو اڈیالہ جیل کے اندر داخلہ نہ دینے پر توہینِ عدالت کیس،ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اسلام آباد ہائیکورٹ سلطان محمود عدالت میں پیش ہو گئے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ جو کچھ ہوا ہے کیا آپ اس میں ملوث ہیں؟ کیس منتقلی کیلئے یہ متفرق درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی؟کیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بنچ کو منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہے؟یہ کرنے کی بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے، ایک چیز کو انا کا مسئلہ بنایا ہے عدالت کے بخیے ادھیڑنے کا سوچ رہے ہیں اگر ریاست نے سوچ لیا ہے کہ ہائیکورٹ کو بے وقعت کرنا ہے تو میرے یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں آپ نے اس ادارے میں چھوڑا کیا ہےیہ بھلا جج آفس کے مرہون منت ہے،جج نے یہ کیس سنننا ہے یا نہیں سننایہ کاز لسٹ فیصلہ کرے گی کہ عدالت انصاف دے گی،ہم بنیادی سوالات ہی طے نہیں کرپاتے ہیں ،ہر دس سال بعد بنیادی اصولوں پر اسی مقام پر کھڑے ہو جاتے ہیں ہم نے ترقی کیا کرتے ہیں،اس سے بڑی حماقت نہیں کہ قانون کی عملداری کے بغیر معیشت ترقی کرے،

    سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سے کیس کی کازلسٹ منسوخ کرنے کی چیف جسٹس آفس سے Correspondence و دیگر کی Series of Events کل طلب کر لی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مشال یوسفزئی کی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر جواب طلب کر لیا گیا۔

    عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کے کیس میں وکیل مشال یوسفزئی کی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف کیس کی کازلسٹ منسوخ کر دی گئی۔ ہائیکورٹ نے جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستیں یکجا کر کے 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا تھا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے 20 سے زائد کیسز لارجر بینچ سنے گا جس کے سربراہ قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر سربراہ ہوں گے جبکہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    مشال یوسفزئی کی جیل سپرنٹنڈنٹ کےخلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو آج ہی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔عدالت نے کہا کہ وضاحت دیں کہ کیس آج عدالت میں مقرر تھا تو کاز لسٹ کیسے منسوخ کی

  • اداروں کے خلاف بے بنیاد معلومات سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والا گرفتار

    اداروں کے خلاف بے بنیاد معلومات سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والا گرفتار

    راولپنڈی پولیس نے اداروں کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی معلومات سوشل میڈیا پر پھیلانے پر ملزم محمد ریحان کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ (پیکا ایکٹ) کے تحت کی گئی، اور تھانہ وارث خان میں پہلا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    16 مارچ 2025 کو، تھانہ وارث خان کے اہلکاروں نے ایک رپورٹ درج کی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ ملزم محمد ریحان ولد محمد نعیم سکنہ رسول نگر صادق آباد راولپنڈی نے اپنی فیس بک اور ٹک ٹاک آئی ڈی کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان کے عسکری اداروں کے سربراہوں کے خلاف توہین آمیز اور نفرت انگیز مواد شیئر کیا۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب مستغیث شہزاد احمد اور ان کے ساتھی دلدار حسین کمیٹی چوک پر اپنے موبائل فون پر سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے، جہاں انھوں نے ملزم کی فیس بک پوسٹس اور ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھی۔ ان ویڈیوز میں حکومت پاکستان اور اس کے عسکری اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد موجود تھا، جو واضح طور پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش ظاہر کرتا تھا۔پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کا موبائل فون ضبط کر لیا اور اس کے خلاف دفعہ 505 ت پ اور 20 پی ای سی اے ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،تھانہ وارث خان کے تفتیشی افسر محمد اویس افضل نے اس مقدمے کی رپورٹ تیار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس قسم کی نفرت انگیز سرگرمیاں ملک کی امن و امان کے لیے خطرہ ہیں اور اس کا سختی سے سدباب کیا جائے گا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم نے سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹی معلومات پر مبنی پوسٹ کی تھی، جس کی شکایت کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ ان معلومات کی بنیاد پر پولیس نے تحقیقات کی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ملزم محمد ریحان کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر کسی بھی قسم کی قانون شکنی اور منفی پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون کے مطابق ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو سوشل میڈیا پر جھوٹ یا منفی معلومات پھیلانے میں ملوث ہوں۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال احتیاط سے کریں اور کسی بھی قسم کی غلط یا منفی پروپیگنڈے پر مبنی مواد شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی شہری نے مس انفارمیشن یا منفی مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی جھوٹی یا اشتعال انگیز معلومات پھیلانا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، اور اس پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

    غزہ پراسرائیلی فضائی حملے،پاکستان کی مذمت،جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار

    رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ