Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حکومت پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرے، شاہد خاقان عباسی

    حکومت پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرے، شاہد خاقان عباسی

    فلسطینی عوام سے اظہاریکجہتی کے لیے یکجہتی فلسطین کانفرنس کا انعقاد
    یوم قدس کو سرکاری سطح پر منایا جائے ، شرکاء و مقررین کا مطالبہ

    فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بھرپور اور مؤثر یکجہتی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین میں سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر صابر ابومریم، معروف اینکرپرسن ہرمیت سنگھ، نوجوان رہنما شہیر حیدر سیالوی، حریت رہنما ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی، سماجی کارکن رضی طاہر، سینئر صحافی نادر بلوچ، اور پروفیسر شوذب عسکری شامل تھے۔ تمام مقررین نے یک زبان ہو کر فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد مقررین نے اپنے خطابات میں غزہ میں جاری ظلم و بربریت، فلسطینی عوام کی نسل کشی، اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور مسلم امہ کی بے عملی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ انسانیت کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ڈاکٹر صابر ابومریم نے مطالبہ کیا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر یوم القدس کو ریاستی سطح پر منایا جائے اور حکومت پاکستان عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرے۔رہنما تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ امتِ مسلمہ نے گزشتہ سال جو خاموشی اور بے عملی دکھائی ہے، وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ایک تاریخی المیہ ہے۔اس بے حسی میں پاکستان کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ فلسطین و کشمیر کے عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جس راستے پر حماس چل رہی ہے وہی راستہ آزادی کا راستہ ہے۔ رضی طاہر نے کہا کہ ہمیں غفلت سے بیدار ہوکر اپنے انسانی و ملی فریضے کو سمجھتے ہوئے ہر فورم پر فلسطین کی بات کرنی چاہیے، اینکر پرسن ہرمیت سنگھ نے کہا کہ دنیا بھر میں عوام الناس اہل غزہ کے ساتھ ہیں، غزہ کا المیہ انسانیت کا المیہ ہے اور ہر انسان جس کے اندر دل دھڑکتا ہے وہ اسرائیل کی ناجائز ریاست اور اس کے تسلط کو مسترد کرتا ہے۔اس موقع پر شرکاء نے قرارداد بھی منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کرائی جائے، انسانی امداد کو یقینی بنایا جائے، اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔مقررین نے یمن میں جاری امریکی اور برطانوی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نہ صرف فلسطین بلکہ یمن کے مظلوم عوام کے حق میں بھی آواز بلند کرے اور فوری طور پر جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرے۔کانفرنس میں شریک صحافی، سماجی کارکنان، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اور مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے اور اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھے۔کانفرنس کے اختتام پر شہداء فلسطین کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • غزہ پر اسرائیلی حملے، سعودی عرب،ایران کی مذمت،اسرائیل کو ہدف پورا نہیں ہو گا، حماس

    غزہ پر اسرائیلی حملے، سعودی عرب،ایران کی مذمت،اسرائیل کو ہدف پورا نہیں ہو گا، حماس

    حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زہری نے غزہ پر دوبارہ اسرائیلی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا غزہ میں کوئی ہدف پورا نہیں ہوگا۔ اسرائیل کا غزہ کی پٹی میں جنگ شروع کرنا یرغمالیوں کو سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے دفاتر اور عسکری بنیادی ڈھانچے کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے حماس کے اہداف اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔ اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ وہ غزہ میں مزید اہداف کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے میں مصروف ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے اسرائیل کے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے قابل مذمت ہیں اور عالمی برادری کو فلسطینیوں کے خلاف جرائم کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے رہائشی علاقوں پر براہ راست حملے ناقابل قبول ہیں اور غزہ کے شہریوں کو اسرائیلی جنگی جنون سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ مزید کہا گیا کہ فلسطینی عوام کی تکالیف کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ایران نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہونے پر شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فلسطینیوں کی نسل کشی مہم کے تسلسل کا ذمہ دار امریکا ہے۔ ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    عالمی سطح پر ان حملوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر ممالک بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے، اور عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرے۔

  • اسلام آباد ایئر پورٹ بھکاریوں کے نرغے میں

    اسلام آباد ایئر پورٹ بھکاریوں کے نرغے میں

    اسلام آباد: ملک میں پیشہ ور گداگروں کی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور اب انہوں نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو اپنا نیا ہدف بنا لیا ہے۔ مسافروں کو تنگ کرنے والے یہ گداگر مختلف حیلوں بہانوں سے ایئرپورٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق، گداگر خود کو وزیٹرز کا بھیس دے کر ایئرپورٹ میں داخل ہو رہے ہیں اور بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو تنگ کرنا معمول بنا لیا ہے۔ خاص طور پر ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا اور انٹرنیشنل ارائیول لاؤنج کے سامنے خواتین گداگروں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے، جو مسافروں سے مالی مدد طلب کرتی ہیں۔ایئرپورٹ انتظامیہ نے ان گداگروں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایئرپورٹ منیجر کے مطابق، ویجلنس ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر گداگروں کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں کا کام گداگروں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنا ہے تاکہ ایئرپورٹ پر مسافروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایئرپورٹ منیجر کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 30 سے زائد گداگروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ تاہم، اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

    انتظامیہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر کسی بھی گداگر کو رقم دینے سے گریز کریں اور اگر کسی کو اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث پائیں تو فوری طور پر انتظامیہ یا متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو اطلاع دیں۔ اس کے ساتھ ہی، ایئرپورٹ سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔یہ مسئلہ صرف ایئرپورٹ تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں گداگروں کے گروہ متحرک ہیں، جو منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کے خلاف سخت اقدامات کریں تاکہ عوام کو ان سے نجات مل سکے۔

  • اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ اہلیہ ،خاندان کے افراد سمیت شہید

    اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ اہلیہ ،خاندان کے افراد سمیت شہید

    اسرائیلی حملوں میں فلسطینی اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے علاقے النصیرات میں ابو حمزہ، ان کی اہلیہ اور ان کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوگئے۔اسرائیلی میڈیا نے بھی اس حملے میں ابو حمزہ اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسلامی جہاد نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔
    ابو حمزہ کی شناخت عرصے تک خفیہ رکھی گئی تھی۔ وہ اکثر فوجی یونیفارم میں ملبوس اور سیاہ کوفیہ سے چہرہ ڈھانپ کر منظرعام پر آتے تھے۔ تاہم، فلسطینی میڈیا نے ان کی اصل شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ القدس بریگیڈ کے اس ترجمان کا اصل نام ناجی ابو سیف تھا اور ‘ابو حمزہ’ ان کی کنیت تھی۔

    عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج کی غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس پر بمباری میں اسلامی جہاد کے رہنما حسن الناعم بھی شہید ہوگئے۔ حسن الناعم کو اسرائیل کے خلاف راکٹ حملوں کا منصوبہ ساز تصور کیا جاتا تھا۔

    خیال رہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کو توڑتے ہوئے غزہ میں فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 560 سے زائد زخمی ہوگئے۔فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس کے مطابق، اسرائیلی حملے سحری کے وقت شروع ہوئے اور دن بھر جاری رہے۔ ان حملوں میں رہائشی عمارتوں، مساجد اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

    اس تازہ جارحیت پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی اسلامی ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت پر سخت احتجاج کیا ہے اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے بھی جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ غزہ کے شہری اسرائیلی حملوں کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ طبی امداد کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور

    پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    پارلیمانی کمیٹی نے دہشتگردی کی حالیہ کاروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے اور متاثرہ خاندانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے،کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کیساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے متفقہ سیاسی عزم پر زور دیا،کمیٹی نےانسداد دہشتگردی کیلئے قومی اتفاق رائے پر زور دیا،

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملکی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ آج کے اس اجلاس میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کیا۔کمیٹی نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے انعقاد میں سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹجک اور ایک متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے ، لاجسٹک سپورٹ کے انسداد اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمت عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔

    کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے ، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گردگروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسکی روک تھام کیلئے اقدامات مرزور دیا ۔ کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس ،کے سد باب کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا .افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کمیٹی نے ان کی قربانیوں اور ملکی دفاع کے عزم کا اعتراف کیا اور کہا قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلحافواج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سے کام کرنے والے کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری رہے گا .

    قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر ، اہم وفاقی وزراء اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • قیام امن کیلیے خالد مسعود سندھو کا صدر مملکت  سے 23 مارچ کو کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

    قیام امن کیلیے خالد مسعود سندھو کا صدر مملکت سے 23 مارچ کو کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

    23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں یوم امن منانے کا اعلان کیا جائے.خط میں تجویز

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو قیام امن کے لئے 23 مارچ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کے لئے خط لکھ دیا ،خط میں تجویز دی گئی کہ یوم پاکستان کے موقع پر 23 مارچ کو ملک بھر میں یوم امن منانے کا اعلان کیا جائے.

    خالد مسعود سندھو نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ "یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان کی سیکورٹی فورسز، عام شہری اس جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں. ملک دشمن قوتیں پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    خالد مسعود سندھو کا صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں مزید کہنا تھا کہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی اسی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکی ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے سدباب کے لیے تمام سیاسی، مذہبی اور قومی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے تاکہ ایک مضبوط اور مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ23 مارچ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے، جس میں محب وطن جماعتوں کو مدعو کیا جائے۔خط میں تجویز دی گئی کہ 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں یوم امن منانے کا اعلان کیا جائے.

    صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کا صدر مملکت آصف علی زرداری کو لکھے گئے خط میں مزید کہنا تھا کہ آپ بحیثیت سربراہِ مملکت اس نازک صورتحال میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نظریہ پاکستان پر قوم متحد ہوئی تھی اب اسی ماہ میں دہشت گردی کے خلاف قوم کو ایک بار متحد کریں.پاکستان میں قیام امن کے لئے نیشنل ایکشن پلان کی طرز پر ایک جامع اور سخت گیر آپریشن کی اشد ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل صفایا کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بغیر پاکستان میں امن و استحکام ممکن نہیں، اور جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا، ترقی اور خوشحالی کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔ پاکستان کے عوام ایک مستحکم اور پرامن ملک کے خواہشمند ہیں، اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس اہم مسئلے پر تمام قیادت کو متحد کریں اور عملی اقدامات کی راہ ہموار کریں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس قومی مسئلے پر فوری توجہ دیں گے اور ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے

  • تنخواہ اس لیےملتی ہےکہ آپ معاشرےمیں انصاف کویقینی بنائیں۔عدالت

    تنخواہ اس لیےملتی ہےکہ آپ معاشرےمیں انصاف کویقینی بنائیں۔عدالت

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر سپرا نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس وقت تمام محکمےدیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں۔

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی ایم پی اےعلی شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس دوران کیس پراسیکیوٹر سمیت متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جج طاہر سپرا نے سوال کیا آج بھی پولیس نے ریکارڈ پیش نہیں کرنا اور ایسا ہی ہونا ہے؟ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا تفتیشی افسر منڈی بہاوالدین میں ہے، واپس نہیں آیا،عدالت کو ایکشن لینا چاہیے، عدالت کے پاس بہت پاور ہے اس کے باوجود پولیس رکارڈ پیش نہیں کررہی،جج طاہر سپرا نے کہا مجھےآج تک سمجھ نہیں آئی کہ پراسیکیوشن کی ذمہ داری کیا ہے؟ مقدمہ کاچالان عدالت میں پیش کرنا آپ کاکام ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیا جب تک چالان ہمارے پاس نہیں آتا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔

    جج اے ٹی سی نے سوال کیا تفتیشی افسر اگر عدالت نہیں آتا تو کس کی ذمہ داری ہے؟ اسلام آبادکے پراسیکیوٹر بہت ضدی ہیں، سمجھتےہیں کہ وہ ججز کےبرابر ہیں، اگر میں پولیس کو نوٹس کرسکتا ہوں تو کیا آپ کو نوٹس نہیں کر سکتا.ہم سب ایک غیرمعمولی صورتحال سےگزررہے ہیں، اس وقت تمام محکمے دیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں،کل صبح تک دیکھ لیتے ہیں ریکارڈ آجائے گا،آپ کو تنخواہ اس لیےملتی ہےکہ آپ معاشرےمیں انصاف کویقینی بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مربوط کوششوں پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کو ملک بھر میں وسعت دینےکے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    گلگت بلتستان میں وزیر اعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے قومی پروگرام کے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کے موقع پر منگل کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک میں اس بیماری کے وسیع اثرات سے نبردآزما ہونے کے لئے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اس ضمن میں آغا خان خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک اور عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) کی نمایاں معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہیپا ٹائٹس یونٹ ابتدائی طور پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں قائم کیا گیا تھا اور بعد میں اس کا دائرہ دوسرے سرکاری ہسپتالوں تک پھیلایا گیا جہاں مریضوں کو 100 فیصد مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2018 میں جب نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو یہ پروگرام بند کر دیا گیا تاہم میں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد یہ پروگرام دوبارہ شروع کیاجو اب وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں فعال ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر حصوں کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے پھیلائو کے پیش نظریہی وقت ہے کہ اس پر موثر انداز میں قابو پانے کے لئے کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں جناح میڈیکل سینٹر قائم کر رہی ہے

    قبل ازیں وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے پائلٹ پراجیکٹ میں تعاون کرنے والوں میں شیلڈز تقسیم کیں جن میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے صحت مختار بھرتھ ، نادرا کے چیئر مین ، پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے اور دیگرشامل تھے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہیپا ٹائٹس سی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی پروگرام کی کامیابی پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان کوارڈینیشن کا نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت 2029 تک اس مرض کے خاتمے کے لئے پر امید ہے۔ وزیراعظم کا ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا پروگرام نہ صرف لاکھوں جانیں بچائے گا بلکہ ملک کی معاشی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے وزیراعظم کے وژن کو سراہتے ہوئے انہیں 2030 تک ملک سے اس مرض کے کامیابی سے خاتمے کے لئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈپینگ نے کہا کہ ان کا ادارہ اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لئے اس پروگرام کی حمایت میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔انہوں نے پائلٹ پروگرام کے حوالے سے فوری اقدام اور شاندار قیادت پر گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی حکومتوں اور صحت کے محکموں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت دو یونین کونسلوں میں 14000 افراد کی سکریننگ قابل تحسین اقدام ہے ۔ انہوں نے ڈبلیوایچ او کی ٹیکنکل اور آپریشنل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا کہ اس پروگرام کے لئے 68 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں 7 دن کی توسیع

    مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں 7 دن کی توسیع

    مصطفی عامر کے قتل اور صحافی پر فائرنگ کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 دن کی توسیع کردی۔ یہ فیصلہ آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، ملزم ارمغان کو دونوں مقدمات میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ عدالت لایا گیا، جہاں پر وکیل صفائی نے اس کے والدین کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ وکیل صفائی نے عدالت کو یقین دلایا کہ کسی قسم کا شور شرابہ یا ہنگامہ نہیں ہوگا، مگر اس کے باوجود سماعت کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ملزم ارمغان کے والد کمرہ عدالت میں شور شرابہ کرنے لگے جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں نے انہیں باہر نکال دیا۔ اسی دوران ملزم ارمغان نے اپنے والد کی جانب سے نئے وکیل کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور صاف کہا کہ اسے اپنے والد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ وکیل نہیں چاہتا اور نہ ہی اپنے والد سے ملاقات کی کوئی خواہش رکھتا ہے۔ اس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی کی ہدایت کی۔

    اسی دوران اے ٹی سی کمپلکس میں صحافیوں کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا، جس پر سیکیورٹی حکام نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اعلیٰ افسران کی جانب سے صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس سے قبل ملزم ارمغان کے والد کو بھی عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ملزم کے والد نے عدالت میں درخواست دی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ وکیل کی تبدیلی کے بارے میں اس کو آگاہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور انہیں اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ فیئر ٹرائل کی سہولت حاصل کر سکیں۔آخرکار، عدالت نے ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں مزید 7 دن کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین

    قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت شریک ہے۔

    قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت شریک ہیں،تحریک انصاف کے اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے مگر وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں اپنے صوبے کی نمائندگی کی ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ چاروں صوبوں کے گورنرز، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی سمیت چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس شریک ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے 16 اراکین پارلیمنٹ بلاول بھٹو کی سربراہی میں اجلاس میں شریک ہیں اور ایم کیو ایم کے 4 اراکین پارلیمنٹ نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں اجلاس میں شرکت کی ،ے یو آئی (ف) کے وفد نے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اجلاس میں شرکت کی، سربراہ بی این پی مینگل سردار اختر مینگل کو بھی بلایا گیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پرغیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاوس کی چھت پر اسنائپرز بھی تعینات ہیں۔

    اچھا ہوتا کہ ہمارے اپوزیشن کے ساتھی بھی آج کے اجلاس میں آتے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تمام شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں،آج ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں,بلوچستان اور کے پی میں سیکیورٹی کی صورتحال آپ کے سامنے ہے،یہ اجلاس بلانے کا مقصد قوم کو پیغام دینا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں,اچھا ہوتا کہ ہمارے اپوزیشن کے ساتھی بھی آج کے اجلاس میں آتےہماری بہادر سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں,ہم افواج پاکستان کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں,حالات متقاضی ہیں کہ پارلیمنٹ، حکومت، ریاست سمیت سب اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں،وزیراعظم نے افواج پاکستان کی قیادت بالخصوص آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین کیا، اور کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں۔

    ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیے گئے،وزیراعلی خیبرپختونخوا
    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےقومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں فوج نے خیبرپختونخوا میں امن کیلئے بہت کام کیا ہے،ہمارے صوبے میں سیکیورٹی مسائل موجود ہیں،پولیس فورس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کا مورال بڑھا رہے ہیں، پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہےضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیے گئےہم بارہا وفاق سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں،

    کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان، سربراہ جے یو آئی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہمیں ملک کیلئے متحد ہونا ہوگا، سیاسی باتیں اور اختلافات چلتے رہتے ہیں، فوج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں اس وقت آپس کے اختلاف کو ختم کرتے ہوئے ملکی استحکام کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا، دہشت گردی کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں،سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا،

    خواجہ آصف کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب
    قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کی،بولے کہ آج کے دن بھی اپوزیشن نے ریاست کی بجائے ایک شخص کو ترجیح دی،عوام کو ان کا اصل چہرہ دیکھنا چاہیے، ہم نے سابق دور حکومت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا،پی ٹی آئی کے دور میں پھر افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر یہاں بسایا گیا،ان دہشت گردوں کے سبب آج ایک بار پھر پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے