Baaghi TV

Author: News Editor

  • آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    لاہور:آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا دن عالمی طور پر منایا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہے‘

    تفصیلات کے مطابق آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے جاں بحق اور زخمی افراد کی یاد کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کے لئےآج لاہور ٹریفک پولیس بھی تقریباًت کا انعقاد کر رہی ہے۔

    اس دن کا مقصد نہ صرف ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے بلکہ اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے۔

    حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔حادثات قسمت میں نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کیوجہ سے رونماں ہوتے ہیں۔

    دہشت گردی سے زیادہ جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں اور70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پانچ سے دس فیصد حادثات دیگر روڈ یوزرز کی غلطی کی وجہ سے رونماں ہوتے ہیں تاہم گاڑی میں مکینکل خرابی، ٹائروں کا درست حالت میں نہ ہونا بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ نامناسب روڈ انفراسٹرکچر بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ حادثات میں سب سے زیادہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد شامل ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہےاور انہیں بتایا جارہا ہے کہ محفوظ سفر کےلئے قوانین کا احترام کتنا ضروری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال :مگرٹرمپ ابھی بھی دور

    ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال :مگرٹرمپ ابھی بھی دور

    واشنگٹن:ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر دیا لیکن اب سابق امریکی صدر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر واپسی سے مبہم انداز میں انکار کردیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر کی حیثیت سے ٹوئٹر پر انتہائی فعال تھے، وہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ کو اپنی رائے، اہم حکومتی فیصلوں کے اعلان اور مخالفین پر تنقید کے لئے باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹوئٹراکاؤنٹ کو اشتعال انگیز ٹوئٹ کی وجہ سے بلاک کیا گیا تھا، اس وقت ان کے فالوورز کی تعداد 8 کروڑ 80 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

    گزشتہ ماہ ٹوئٹر کو خریدنے والے ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی بحالی کے معاملے پر صارفین کی رائے معلوم کرنے کے لیے ایک سروے کرایا تھا۔

    24 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس سروے میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ صارفین نے اپنی رائے دی۔ 51.8 فیصد صارفین نے اکاؤنٹ کی بحالی جب کہ 48.2 فیصد صارفین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

    سروے ختم ہونے کے بعد ایلون مسک نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کردیا ہے جس کے تحت ٹرمپ کو بحال کر دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر واپسی کے حوالے سے مبہم جواب دیا ہے، انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ’میں سن رہا ہوں میری ٹوئٹر پر واپسی کے لیے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں لیکن مجھے اس پلیٹ فارم پر جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر رہ چکے ہیں اور وہ اپنی پارٹی (ری پبلکن پارٹی ) کی جانب سے 2024 کے صدارتی انتخاب میں امیدواروں کی دوڑ میں شامل ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    لاہور:پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ تھیں،حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

    حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

    ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

    انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

    حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

    ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

    اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    ڈراما سیریل کی فہرست
    حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

    حسینہ معین 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔ حسینہ معین کو ان کی وفات سے پہلے، 22 مارچ 2021ء کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • عمران خان کا جلد انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے: خواجہ سعد رفیق

    عمران خان کا جلد انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے: خواجہ سعد رفیق

    اسلام آباد:وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کا جلدی انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان کوچاہیے کہ وہ حکومت کومدت پوری کرنے دیں ،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں خواجہ سعد رفیق نے لکھا کہ عمران کی غیرقانونی حکومت کو برداشت کیا، قبل ازوقت انتخابات مانگنے والے سنجیدہ ہوتے تو لانگ مارچ کے بجائے اپنے استعفےمنظور کرواتے۔

     

     

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان صوبائی حکومتیں توڑتے الیکشن کا ماحول خود بخود بن جاتا، انتشار کا مقصد ملک چلنے نہ دینا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف کل سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے کارکنوں کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔

    روات میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک 7 ماہ پہلے شروع ہوئی، 25 مئی کے ظلم کو کبھی نہیں بھولوں گا، ہمیں ڈرانے کے لیے خوف کا ماحول بنایا گیا،میرے ملازمین کو خریدنے کی کوشش کی گئی۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اس کا مجھے پہلے سے پتا تھا، اس لئے میں نے پہلے ہی ایک ویڈیو بنالی تھی، راولپنڈی میں بھی میری جان کو خطرہ ہے کیونکہ یہ لوگ وہی بیٹھے ہوئے ہیں، غلامی کی زندگی سے بہتر مر جانا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ مان لیتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے کوئی سازش نہیں کی لیکن وہ انہیں روک تو سکتے تھے، کوئی بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی تھی جب تک اندر سے کوئی ان کی حمایت نہ کرے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی: قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی میں شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق پیرآباد کے علاقے قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی پراچہ اسپتال کے قریب گھر میں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک خاتون زخمی ہوگئی،

    اس حوالے سےپولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی خاتون کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون دوران علاج خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

    جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 50 سالہ یاسمین زوجہ صابری کے نام سے کی گئی۔ ورثا نے پولیس کارروائی کروانے سے انکار کر دیا اور لاش گھر لے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے کر کے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا، مقتولہ کی لاش کے ہمراہ آنے والے درجنوں افراد شدید مشتعل تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے لانڈھی مسلم آباد میں 8 سالہ بچی کے اغواء اور قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں تفیشی ٹیم نے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

    کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کا ڈی این اے کرایا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے ایک پھر جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے

    ایس ایس پی ملیر نے بچی کے والد کو ابتدائی تفیش سے آگاہ کیا ،اس کے ساتھ ساتھ فرانزک کرائم ٹیم نے شواہد جمع کرکے لیبارٹری روانہ کردئیے ،مقدمہ کے انداج اور غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت 3 افسران کو معطل کردیا گیا،

    ایس ایس پی ملیرعرفان بہادرکا کہنا تھا کہ لواحقین کی ہر ممکن مدد کرنے اور تفتیش میں کسی بھی صورت لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی،

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، یہ ہفتہ فیصلہ کن ہے:شیخ رشید

    حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، یہ ہفتہ فیصلہ کن ہے:شیخ رشید

    راولپنڈی: سربراہ پاکستان عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی معاشی اقتصادی اور تعیناتی بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد نے لکھا کہ حکمرانوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، یہ ہفتہ فیصلہ کُن ہے ، یہ زمینی حقائق سے بے خبر اور فضا میں معلق ہے نہ ہاتھ آسمان پر نہ پاؤں زمین پر لگ رہے ہیں۔

     

    حکومت سیاسی معاشی اقتصادی اورتعیناتی بحران میں پھنسی ہوئی ہے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے یہ ہفتہ فیصلہ کُن ہےیہ زمینی حقائق سےبےخبراورفضامیں معلق ہےنہ ہاتھ آسمان پر نہ پاؤں زمین پرلگ رہے ہیں گوٹی پھنس گئی ہےجی کاجاناٹھہرگیاہےعمران خان کا26نومبرکوکمیٹی چوک میں تاریخی استقبال کریں گے

    سربراہ عوامی مسلم لیگ کا مزید کہنا تھا کہ گوٹی پھنس گئی ہے جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، عمران خان کا 26 نومبر کو کمیٹی چوک میں تاریخی استقبال کریں گے۔

  • شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    کراچی:شہر قائد کے میدانی و مضافاتی علاقوں میں گہری دھند چھائی ہوئی ہے اور شہر میں تھر کی جانب سے ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے،تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس وقت شہر قائد میں دھند کا راج ہے جس کی وجہ سے حد نگاہ 5 کلو میٹرتک محدود رہے گی۔ کراچی کی راتیں خنک ہونا شروع ہوگئیں ہیں تاہم مطلع آج صاف رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 5.20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا ۔ کراچی میں شمال مشرق کی جانب سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوامیں نمی کا تناسب 91 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور اس وقت دوسرے جبکہ کراچی چھٹے نمبر پرآگیا ہے ۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہوراورکراچی دونوں کی فضا شدید مضر صحت قرار دی جارہی ہے لاہور کی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 214 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے تاہم کراچی کی فضا میں آلودگی کی مقدار 172 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ ہوئی ہے

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی شہر کا شمار اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں کہ فہرست میں سب سے اوپر آگیا ہے کیونکہ دہلی شہرکی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 266 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    ائیر کوالٹی انڈیکس کے اعدادو شمار کے بطابق 151 سے200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہوتی ہے،201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہوتی ہےجبکہ301 سےزائد درجہ خطرناک ترین آلودگی کوظاہر کرتا ہے جو انتہائی حد تک مضر صحت ہے۔

    اس حوالے سےایئر کوالٹی انڈیکس کےماہرین صحت نے کی شہریوں سے احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک ضرور پہنیں اور دمہ اور سانس کے مریض خصوصی طورپراحتیاط کریں

    تفصیلات کے مطابق موٹروے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہورموٹروے ایم ٹوکو شیخوپور تک دھند کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے ، روڈ یوزرز آگے اور پیچھےدھند والی لائٹس کا استعمال کریں اورغیر ضروری سفر سے گریز کریں انہوں نے مزید کہا کی تیز رفتاری سے پرہیزکرتے ہوئے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔

    روڈ یوزرز معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر کےموٹروے پولیس کی ہمسفر ایپ سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

    محکمہ تحفظ ماحولیات کے ترجمان کے مطابق لاہورمیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ائیر کوالٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹائون ہال، مال روڈ پر ائیر کوالٹی انڈیکس 115، ٹائون شپ میں 102 ائر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کرول گھاٹی میں اے کیو آئی 439 رہا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    لاہور:بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث تین ماہ سے تعطل کا شکار ٹرین سروس آج سے بحال کر دی جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے تین ماہ بعد آج پہلی ترین پشاور کیلئے روانہ ہوگی جوکہ جعفر ایکسپریس مچھ اسٹیشن سے پشاور تک جائے گی۔

    ریلوے حکام نے بتایا کہ مسافروں کو کوئٹہ اسٹیشن سے مچھ اسٹیشن ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے، 10 بوگیوں پر مشتمل ٹرین آج 11 بجے مچھ سے روانہ ہوگی، کوئٹہ تا مچھ ریلوے کا رابطہ منقطع ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بولان کے علاقے میں سیلاب کے باعث ریلوے ٹریک پل سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل کی تعمیر کا کام جنوری میں مکمل ہوگا۔

    خیال رہے کہ بارشوں کے باعث بولان ریلوے ٹریک پل بہہ جانے کی وجہ سے ریل سروس 3 ماہ سے معطل تھی۔ترجمان ریلوے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوام ایکسپریس آج بحال نہیں ہو رہی، آج 20 نومبر کو اب صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس بحال کی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پشاور سے مچھ کے درمیان چلے گی، مچھ سے کوئٹہ کے درمیان مسافروں کو بسوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ریلوے نے پہلے بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو 20 نومبر کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، اب بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کے بجائے جعفرایکسپریس کو بحال کیا جائے گا۔

    چند روز قبل چیف ایگزیکٹو ریلوے اور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی مختلف سیکشنز کی سالانہ انسپکشن کا نیا شیڈول جاری کر دیا تھا۔

    چیف ایگزیکٹو ریلوے سلمان صادق شیخ اور ایف جی آئی آر راولپنڈی، کراچی اور سکھر ڈویزن کی انسپکشن کریں گے، جس کا عمل تین مرحلوں میں 21 نومبر سے 21 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ نے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 21 نومبر کو لالہ موسیٰ سے راولپنڈی 157 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 22 نومبر کو کندیاں، خوشاب، سرگودھا 130 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں 5 دسمبر کو کھوکھرا پار سے میر پور خاص تک 126 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 6 دسمبر کو کراچی اور 7 دسمبر کو کراچی کینٹ سے حیدر آباد 173 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہو گی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ تیسرے مرحلے میں 20 دسمبر کو خانپور سے روہڑی تک 212 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 21 دسمبر کو سکھر سے جیکب آباد تک 80 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہوگی جبکہ معائنے کے دوران ٹریک، ریلوے اسٹیشنوں کی عمارات، پل سمیت دیگر تنصیبات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ انسپکشن کے دوران مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی آمدن اور وہاں مسافروں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ریلوے افسروں اور ملازمین کی ڈیوٹیوں اور ان کے کام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • فضائی آلودگی بچوں کو مستقبل میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے:ماہرین نے وارننگ جاری کردی

    فضائی آلودگی بچوں کو مستقبل میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے:ماہرین نے وارننگ جاری کردی

    لندن: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی بچوں کو ان کی بعد کی زندگی میں بلند فشار خون میں مبتلا کر سکتی ہے بالخصوص یہ حملہ اس وقت بڑھ سکتا ہے جب ان کا وزن بڑھنے لگے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کو اسکول سے گھر کم ٹریفک والے راستوں سے پیدل آنے جانے کی ترغیب دینی چاہیئے جبکہ اسکولوں میں موجود میدانوں میں درخت ہونے چاہیئں تاکہ وہ آلودگی کو جذب کرسکیں۔

    کنگز کالج لندن کے محققین کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں 10 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 15 ہزار بچوں پر کیے گئے آٹھ مطالعوں کا جائزہ لیا گیا۔
    محققین کی توجہ کا مرکز بچوں پر آلودگی کا افشا ہونا تھا۔ اس آلودگی میں باریک پی ایم 2.5 ذرات جو گاڑی کے دھوئیں میں پائے جاتے ہیں اور پی ایم 10 ذرات جو کار کے پہیوں کے ٹکڑوں اور لکڑی کے چولہوں سے خارج ہوتے ہیں شامل تھے۔

    12 سال کی عمر میں بچوں پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 طویل مدتی اعلیٰ سطحوں کے افشا ہونے سے بلڈ پریشر واضح طور پر بلند تھا۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے سیدھا پھیپھڑوں میں جاتے ہیں۔

    اس طرح بڑی عمر میں بلند فشار خون کا سبب بن سکتا ہے اور دل کے دوروں اور فالج کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

    محققین نے جب زیادہ وزن اور موٹاپے کے شکار بچوں کا معتدل وزن کے بچوں سے موازنہ کیا تو دیکھا کہ زیادہ وزنی اور فربہ بچے بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    اس سائنسی تجزیے کی رہنمائی کرنے والی پروفیسر سِیرومینی ہارڈنگ کا کہنا تھا کہ پچوں پر آلودگی زیادہ افشا ہوتی ہے کیوں کہ وہ کھیل کود سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    نئی دہلی:1947 میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کرنے والی بھارتی اداکارہ اور بھارتی ٹیلی ویژن کے پہلے ٹاک شو ’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ تبسم کے بیٹے ہوشانگ نے میڈیا کو بتایا کہ والدہ کو چند روز قبل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، انھیں معدے کے مسائل تھے اور ہم ان کے روٹین چیک اپ کے لیے اسپتال گئے تھے تاہم انھیں جمعے کے روز دو مرتبہ دل کا دورہ پڑا جس کے نتیجے میں وہ انتقال کرگئیں۔

    اداکارہ کے بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ والدہ بالکل صحت مند تھیں، ہم نے 10 دن قبل ہی پروگرام کی عکسبندی کی تھی اور اگلے ہفتے پھر شوٹنگ کا پلان تھا۔

    یاد رہے کہ اداکارہ تبسم نے 1947 میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا اور وہ بے بی تبسم کے نام سے مشہور تھیں، انہوں نے 1972 سے 1993 تک پھول کھلے ہیں گلشن گلشن کی میزبانی کی۔

    2006میں وہ پروگرام ’پیار کے دو نام، ایک رادھا، ایک شیام‘ سے ٹی وی اسکرین پر واپس آئی تھیں۔

    دلکش چہرے، خوبصورت آواز اور دوٹوک سوال کے سبب 78 سالہ تبسم آخری وقت تک اپنےشوزکے سبب مداحوں میں خوب مقبول رہیں جبکہ برصغیرکی پاپ کوئین نازیہ حسن کا خوبصورت انٹرویو بھی تبسم کے ساتھ یادوں کا حصہ بن گیا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا