Baaghi TV

Author: News Editor

  • معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    کراچی: معروف عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔اطلاعات کے مطابق مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ان کے بھائی مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی، مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مفتی رفیع عثمانی کی تدفین دارالعلوم کورنگی کے احاطے میں ہی کی جائے گی، مفتی رفیع عثمانی کی تدقین ان کے والد مفتی شفیع عثمانی اور والدہ کی قبر کے درمیان کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ مفتی محمد رفیع عثمانی دو روز قبل 86 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

    مفتی رفیع عثمانی ،مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے، مرحوم رفیع عثمانی مفتی اعظم پاکستان تھے، مرحوم مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

    مرحوم مفتی رفیع عثمانی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔ مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کورونا کے مزید 29 کیسز مثبت ، 42 مریضوں کی حالت تشویشناک

    کورونا کے مزید 29 کیسز مثبت ، 42 مریضوں کی حالت تشویشناک

    اسلام آباد” قومی ادارہ صحت ( این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 7 ہزار 561 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7 ہزار 561 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 29 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

     

    اس طرح گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئے گئے مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.38 فیصد رہی ہے، مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی بھی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 42 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • نئی نویلی دلہن نے بڑی مہارت سے اپنےشوہر کو قتل کردیا

    نئی نویلی دلہن نے بڑی مہارت سے اپنےشوہر کو قتل کردیا

    کوئٹہ:خضدار کے علاقے باغبانہ میں نئی نویلی دلہن نے شوہر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔اطلاعات کے مطابق لیویز فورس نے کارروائی کرکے ملزمہ کو سہولت کار سمیت گرفتارکرلیا اور انکے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے، مقتول اور ملزمہ دعوت پررشتہ داروں کے گھر جارہے تھے، ویرانے کے قریب ملزمہ نے شوہرکوفائرنگ کرکے قتل کردیا۔

    ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 16نومبر2022 کو ایک نوجوان عرفان زہری خضدار کے علاقہ باغبانہ میں فائرنگ سے پہلے زخمی اور بعد ازاں علاج کیلئے کراچی لیجاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا تھا۔

    لیویز انچارج نوراحمد زہری نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عرفان زہری ولد محمد ہاشم سکنہ علیزئی باغبانہ کی شادی 20 روز قبل باغبانہ علیزئی کے رہائشی عبدالرسول کی بیٹی نجمہ سے ہوئی تھی اور شادی کے بعد شوہر اپنی بیوی اور اس کی بہن کو لیکر باغبانہ کے قریبی علاقے میں دعوت کھانے جارہے تھے کہ اس دوران راستے میں عرفان پر فائر ہوا جس سے وہ زخمی ہوا جسے علاج کے لئے پہلے خضدار اور بعد ازاں کراچی منتقل کردیا گیا تاہم و ہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔

    شک ہونے پر لیویز فورس نے مقتول کی نئی نویلی بیوی کو حراست میں لیکر تفتیش کی تو اس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنے آشنا کے کہنے پر اپنے شوہر کو قتل کیا ہے تاکہ وہ اس سے شادی کرلے اورقتل کے بعد انہوں نے آلہ قتل اپنے گھر کے پاس کنویں میں پھیک دیا، ملزمہ کی نشاندہی پر اسکے آشنا سعید احمد ولد عبدالخالق قوم بارانزئی ساکن سنی خضدار کو بھی گرفتار اور کنویں سے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا۔

    لڑکی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسکا اپنے آشنا سعید احمد بارانزئی کیساتھ 4 سال سے افیئر چل رہا تھا اور میں اسکے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    شرم الشیخ:پاکستان کی کوششیں کے بعد موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے تحت کوپ 27 اجلاس میں ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا، مصر کے شہر شرم الشیخ میں دو ہفتے سے جاری کانفرنس میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک نے مالدار اور آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں پہنچنے والی تباہی کی تلافی کی جائے، دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد مطالبہ منظور کر لیا گیا۔

    اس سے پہلے خبر ایجنسی سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ کمزور لوگوں کے لیے ایک مثال ہو گا، کمزور متحد ہو جائیں تو ناممکنات کی رکاوٹیں بھی ختم کر سکتے ہیں۔

    مصرمیں ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے جاری کوپ27 کانفرنس میں یورپی یونین کی جانب سے ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق امور پراختلافات آخری وقت تک برقرار ہیں۔

    کانفرنس میں گلوبل وارمنگ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم گیسوں کے اخراج میں کمی کی یقین دہانی میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ہو پائی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ماحولیاتی سانحات کا شکار ترقی پذیرملکوں کو فنڈ دینے کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں، فنڈز کی کمی اور نقصان فنڈ پر بات طے ہوگئی مگر مندوبین نے تاحال اس کی توثیق نہیں کی۔ساتھ ہی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر رقم دینے والے امیر ممالک کا تعین کرنے کیلئے بھی شرائط طے نہیں ہوسکی ہیں۔

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ واحد فنڈ کے قیام کی تجویز نامناسب اور ناکافی ہے، جب مشکل درپیش ہو تو فنڈ قائم کیا جاتا ہے۔مصر میں جاری ماحولیاتی کانفرنس میں تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ فنڈ کی گورننس کون کرے گا اور رقم کون ادا کرے گا؟

    واضح رہے کہ مصرمیں 2 ہفتے سے جاری کوپ 27 کانفرنس میں تقریباً 2 سو ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچاہی نہیں:جوکوئےیارسے  نکلےتوسوئےدارچلے:فیض احمد فیض ایک شاعر،ایک تاریخ

    مقام فیض کوئی راہ میں جچاہی نہیں:جوکوئےیارسے نکلےتوسوئےدارچلے:فیض احمد فیض ایک شاعر،ایک تاریخ

    فیض احمد فیض

    اردو کےایک عظیم انقلابی شاعرفیض احمد فیض 13 فروری 1911 کوکالا قادر،ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ سیالکوٹ میں پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور میں ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (عربی)کےامتحانات پاس کیے۔ تعلیم سےفارغ ہونےکےبعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کےدوران فوج کےمحکمۂ نشرواشاعت سےمنسلک رہے۔جب لاہورسے’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور’’امروز‘‘ جاری ہوئے تو آپ ا ن کےایڈیٹرمقرر ہوئے۔

    عبداللہ ہارون کالج، کراچی کے پرنسپل اور نیشنل کونسل آف آرٹس کے صدر بھی رہے۔ فیض راول پنڈی سازش کیس میں ۱۹۵۱ء میں پاکستان سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے۔ وہ چار سال تک سرگودھا، منٹگمری، کراچی اور لاہور کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔۱۹۵۵ء میں قید سے رہا ہوئے۔ دسمبر۱۹۵۸ء میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور اپریل ۱۹۵۹ء میں قید سے رہائی ملی۔ فیض کو شعر وشاعری سے لگاؤ اوائل عمر سے تھا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی۔ادب کے لینن پرائز سے آپ کو نوازا گیا۔ فیض نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دے کر اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ وہ 20نومبر 1984 کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:

    ’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ صبا‘‘، ’’زنداں نامہ‘‘، ’’دستِ تہہ سنگ‘‘، ’’شام شہرِ یاراں‘‘، ’’متاعِ لوح وقلم‘‘، ’’سروادئ سینا‘‘، ’’مرے دل ، مرے مسافر‘‘ ۔ ان کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ گئی ہے۔ مضامین کا مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔ ’’مہ وسال آشنائی‘‘ (یادوں کا مجموعہ) بھی ان کی تصنیف ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:21

    فیض احمد فیضؔ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

    دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
    لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

    نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
    نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

    دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
    وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

    آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
    بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

    اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
    اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

    گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

    مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
    ”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
    چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

    یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
    وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں

    بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
    تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

    اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
    کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

    یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

    آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
    اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

    اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
    رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

    جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
    بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

    غمِ جہاں ہو رُخِ یار ہو کہ دستِ عدو
    سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

    ان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دل
    محفل میں کچھ چراغِ فروزاں ہوئے تو ہیں

    اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
    طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

    سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
    ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

    یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
    یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ

    مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
    بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

    ہم اہلِ قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیمِ صبحِ وطن
    یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

    جو طلب پہ عہدِ وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
    سرِ عام جب ہوئے مدعی تو ثوابِ صدق و وفا گیا

    حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
    تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں

    متاعِ لوح و قلم چھین گئی تو کیا غم ہے
    کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

    رقصِ مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
    سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں

    تیرےدستِ ستم کا عجز نہیں
    دل ہی کافر تھا جس نے آ ہ نہ کی

    دلِ عُشاق کی ۔۔۔۔۔۔خبر لینا
    پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں

    حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
    آج اِقرار کریں اور خلش مِٹ جائے

    تجھ کو دیکھا تو سیرِ چشم ہوئے
    تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی

    درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے
    ضُعف سے چاند سِتارے نہیں دیکھے جاتے

  • وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے، حکومت سے پیسے لیں گے تو آپ آزاد نہیں ہوں گے اور حکومت جو آپ کو پیسہ دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔

     

     

    تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید نہ کریں شخصیات پر تنقید کریں، جب ہم نے آئین کا دامن چھوڑا تو ملک دو لخت ہوا۔

     

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزا موت سنائی گئی، ججز کو کسی کے دباؤ میں آکر سزائے موت نہیں دینا چاہیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے، عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے، ہمیں سوال کرنے کا حق دیں ہھر آپ ہمارے فیصلے پر بھرپور تنقید کریں۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہ میں نے سوائے ایک کے توہین عدالت کا کوئی کیس نہیں سنا، آپ کو حق ہے آپ مجھ سے سوال جواب کرسکتے ہیں، میرے کیس کے بعد وومن ایکشن فورم کہا کہ ججز اثاثے ظاہر کریں، میں نے اور اہلیہ نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ججز ترقی پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کا پہلےاور بعد کا موقف مختلف تھا، اس کے متعلق دلائل نہیں دیے گئے، شاید کچھ پریشر ہو؟، افسران سے گاڑیاں واپس لی جائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ اچھی ہوجائے گی۔

     

    اس موقع پر جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی پر مبارکباد دینے کی خواہش ہے، ہم 75 برس سے ایسا نہیں کرسکے، یہ سب غیر سیاسی قوتوں کی نظام میں مداخلت ہے، اس کی ذمے داری سیاسی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ ہم خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں جمہوری عمل کو کبھی پنپنےنہیں دیا گیا،بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ بروقت نہیں ہوا اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    جامعہ کراچی میں گزشتہ 15 برس قبل سائنسی بنیادوں پر قائم کیا گیا پاکستان کا پہلا نباتاتی باغ ”بوٹینیکل گارڈن“حکام کی عدم توجہی اورفنڈز کی شدید قلت کے سبب اپنی سائنسی افادیت کھورہا ہے۔جامعہ کراچی کے مرکزی داخلی دروازے سے شروع ہوکر کیمپس گیٹ سے کئی ایکڑرقبے پر محیط اس بوٹینیکل گارڈن ’سائنسی پارک‘ کے داخلی اورسامنے کے حصے آرائش کے ساتھ دیکھ بھال کی کوششیں تو جاری رہتی ہیں تاہم گارڈن کاعقبی حصہ بنجر زمین یامستقبل کے کسی جنگل کی ابتدائی شکل پیش کررہاہے۔

    واضح رہے کہ یہ بوٹنیکل گارڈن کئی ملین روپے کی مالیت سے قائم کیا گیا۔ اسی طرح پلانٹ کنزرویشن ایریا میں اے وی پلانٹ خراب ہونے کے سبب برباد ہوگیا ہے یہاں محفوظ کیے گئے پودے اب مفقود ہیں جبکہ مذکورہ ایریا اوراس کااے سی پلانٹ کھنڈرات کامنظرپیش کررہا ہے۔

    کچھ عرصے قبل جب ان سے فون پر رابطہ کرکے نباتاتی باغ کی موجودہ صورتحال اوراس کے مختلف سیکشن کے بتدریج ختم ہونے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو ڈاکٹر روحی کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اسی سال 23 مئی کوجوائنگ دی یہاں فنڈنگ کامسئلہ رہا ہے‘۔ اس حوالے سے انتظامیہ کوایک تفصیلی خط بھی دیا ہے جس میں مسائل کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔

    ڈاکٹرروحی نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے آنے کے بعد نرسری ایریا کودوبارہ فعال کیا ہے جواس سے قبل بند پڑی تھی جبکہ ہم مزید میڈیسن پلانٹ لگوارہے ہیں“۔

    واضح رہے کہ بوٹنیکل گارڈن کے ایک مخصوص حصے میں ”پلانٹ کنزرویشن ایریا“ قائم کیاگیاتھا جس میں پاکستان کے دوردراز علاقوں سے ایسے پودے لاکریہاں محفوظ کیے گئے تھے جوایک مخصوص درجہ حرارت کے بغیرنشونما نہیں پاسکتے اوراس کے لیے پلانٹ کنزرویشن ایریا میں باقاعدہ طورپر اے سی پلانٹ لگائے اورمتعلقہ پودوں کومخصوص درجہ حرارت پررکھاجاتا تھا۔

    سابقہ وائس چانسلرزکے دورمیں اے سی پلانٹ کی ”مرمت“ نہ ہونے کے سبب یہ پلانٹ خراب ہوگیا۔ جس کی وجہ سے اے سی اور جنریٹرز ناکارہ ہوگئے اور کنزرویشن ایریا کوسایا فراہم کرنے والا نٹ بھی تارتارہوکراپنی جگہ چھوڑگیا جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے پودے بھی ختم ہوگئے اب وہاں ناکارہ اے سی پلانٹ اورکنزرویشن ایریا کا ٹوٹا پھوٹا آئرن اسٹریکچراس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کبھی وہاں کنزرویشن ایریا موجود تھا۔

    اس کنزرویشن ایریاسے آگے بڑھیں توگارڈن یکایک کسی اجاڑیا جنگل کانقشہ پیش کرنے لگتا ہے اورمزید آگے جاکریہ معلوم ہوتا ہے کہ مزید آئرن اسٹریکچراورنیٹ کی چھت کے ساتھ قائم کیے گئے حصے بھی بربادی کاشکارہیں وہاں ماضی میں رکھے گئے پودے موجودنہیں گھاس کی جگہ اب جھاڑیوں نے لے لی ہے۔

    یادرہے کہ جامعہ کراچی کے بوٹنیکل گارڈن کاپروجیکٹ ایچ ای سی کی جانب سے سن 2005میں منظورہواتھا اوراس کا باقاعدہ قیام سن 2007میں عمل میں آیاجب ستمبر2007کواس وقت کے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان نے اس کاافتتاح کیا۔یہ پروجیکٹ معروف نباتاتی محقق اورجامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر کا اقدام تھا جواس وقت پاکستان کے معروف بوٹنیکل جرنل کے مدیربھی ہیں۔

    واضح رہے کہ جامعہ کراچی کانباتاتی باغ ایچ ای سی کی جانب سے ملنے والے تقریباً 3 کروڑروپے کے فنڈزسے قائم کیا گیا تھا جس میں ”سلائن ایریا“ میں نشونما پانے والے پودوں کے ساتھ ساتھ ”الپائن پلانٹس،میڈیسن پلانٹ اورہیلوفائیٹ“ بھی محفوظ کیے گئے تھے جبکہ پھل داردرختوں کیلیے ایک علیحدہ حصہ مختص کیا گیا تھا۔ جس میں آم سمیت دیگرپھل داردرخت موجود تھے جس ختم ہوگئے۔ بتایاجارہاہے کہ آم کے پودوں کی ایک بارپھرکاشت کی گئی ہے۔

    ادھر وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عمومی طور پر سائنسی و تحقیقی منصوبوں کے لیے ہمارے لوگ ایچ ای سی گرانٹ تو لے آتے ہیں جس سے ایک بار منصوبہ شروع ہوجاتا ہے تاہم اسے جاری رکھنے اور مسلسل تحقیق کے لیے علیحدہ گرانٹ کا بھی ہیڈ ہونا چاہیے جسے پی ون میں شامل ہی نہیں کیا جاتا پھر ان منصوبوں کا بوجھ جامعات پر آجاتا ہے جیسا اس منصوبے میں ہوا ہے جبکہ موجودہ مالی صورتحال اور گرانٹ میں توسیع نہ ہونے سے ایسے منصوبے چلانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • تاریخ کے مہنگے ترین فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج سے ہوگا

    تاریخ کے مہنگے ترین فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج سے ہوگا

    دوحہ: قطر میں فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج سے ہوگا، ایونٹ میں 32 ٹیموں کے درمیان 64 میچز کھیلے جائیں گے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے 32 ٹیمیں فٹبال چیمپئن شپ کا تاج سجانے کے لیے مد مقابل ہوں گی۔

    ایونٹ کی افتتاحی تقریب میں موسیقی کا تڑکا بھی لگے گا جبکہ آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ تقریب کے بعد ایونٹ کا پہلا افتتاحی میچ میزبان ٹیم قطر اور ایکواڈور کی ٹیموں کے درمیان ہوگا۔

    فیفا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 42 ملین ڈالرز کی رقم دی جائے گی۔

    تاریخ کا سب سے مہنگا ورلڈکپ

    فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے مطابق رواں سال ہونے والے ایونٹ میں اخراجات کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، میگا ایونٹ کا تخمینہ 220 ارب ڈالرز سے زائد متوقع ہے۔ قطر میں 64 میچز کیلیے 6 سے 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے 8 شاندار اسٹیڈیمز تعمیر کیے گئے ہیں۔

    قطر انتظامیہ نے اسٹیڈیمز کے اندر شراب کی فروخت اور شائقین کے مختصر لباس پہننے پر بھی پابندی عائد کی ہے، جس کی خلاف ورزی پر جرمانہ یا جیل ہوگی جبکہ اسٹیڈیم میں گندگی پر 400 سے دو ہزار یورو تک جرمانہ ہوگا۔انتظامیہ نے شائقین کی نگرانی کے لیے 15 ہزار جدید خفیہ کیمرے نصب اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔

    پاکستان کا اعزاز

    فیفا ورلڈکپ میں پاکستان کی ٹیم رواں سال بھی حصہ نہیں مگر پاکستان کے لیے اعزاز کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے علاقے سیالکوٹ میں تیار کردہ فٹبال ’الریحلہ’ تمام میچز میں استعمال ہوگی۔

    ورلڈکپ کی میزبانی

    فیفا کے بینر تلے اب تک 20 ورلڈکپ کا انعقاد ہوچکا ہے جن میں سے 11 بار میزبانی یورپ نے کی جبکہ جنوبی امریکا پانچ، شمالی امریکا تین اور افریقا ایک بار میزبانی کا اعزاز حاصل کیا، رواں سال ہونے والا یہ اکیسواں ورلڈکپ ہے جس کی میزبانی پہلی بار مشرق وسطیٰ کے حصے میں آئی ہے۔

    رواں سال کا ورلڈکپ اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس بار ایونٹ کا انعقاد سردی کے موسم میں ہورہا ہے۔

  • کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار:کراچی میں بھی گرفتاریاں

    کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار:کراچی میں بھی گرفتاریاں

    کلرسیداں:کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار کر لیا۔اطلاعات کے مطابق ملزم اسد عرف اچھو سے 04 طلائی بالیاں، 10 ہزار روپے اور اسلحہ برآمد،ملزم خواتین سے پانی مانگتا اور اکیلا دیکھ کر انکے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار ہو جاتا تھا،سی پی او سید شہزاد ندیم بخاری نے ایس پی صدر کو ملزم کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا تھا۔

    کلر سیداں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا،ملزم سے تفتیش کے دوران 04 طلائی بالیاں، نقدی اور اسلحہ برآمد ہوا،صدر محمد نبیل کھوکھر کی کلر سیداں پولیس ٹیم کو شاباش،خواتین پر تشدد کسی صورت میں قابل برداشت نہیں۔

    سی پی سید شہزاد ندیم بخار کا کہنا تھا کہ یخواتین کے حوالے سے جرائم پر زیرو ٹالیرنس پالیسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    دوسری طرف کراچی کے علاقے کلفٹن بلاک 5 میں پولیس مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم خواتین سے زیورات چھیننے والے گروہ میں شامل ہے۔

    حکام نے بتایا کہ گشت پر مامور پولیس کلفٹن بلاک 5 گندا نالہ کے قریب پہنچی تو وہاں موجود 2 مشکوک افراد نے پولیس کو دیکھ کر فائرنگ شروع کردی۔پولیس کے مطابق جوابی فائرنگ سے ایک ملزم زخمی ہوا جسے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ملزم سے ایک پستول اور خواتین سے چھینی ہوئی 4 چوڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتار

    نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتار

    پشاور:نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتارکرلیا گیا ہے ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر واقعہ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار کئے۔ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے

    ایس ایچ او تھانہ نستہ بسم اللہ جان کا کہنا تھا کہ مقتول کے بھانجے کے ساتھ ملزم کے ناجائز تعلقات تھے، جن کی خوف سے ملزم نے مقتول کو قتل کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ نستہ کے رہائشی عدنان خان نے اپنے والد افتخار خان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ والد جوکہ شوگر کا مریض ہے، اج صبح واک کے لئے نکلے تھے اور واپس نہیں ائے۔ پولیس کو انکوائری کے دوران گمشدہ شخص کی نعش ڈھیری زرداد دریائے کابل میں ملی۔ تھانہ نستہ میں مقتول کے بیٹے کی مدعیت پر نامعلوم ملزم/ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے ایس پی انوسٹی گیشن سجاد خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی سرڈھیری صنوبر خان، ایس ایچ او تھانہ نستہ بسم اللہ جان، انوسٹی گیشن افیسر نستہ اور دیگر پولیس افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر واقعہ میں ملوث ملزم/ملزمان کی گرفتاری اور اصل حقائق منظر عام لانے کا ٹاسک حوالہ کیا۔

    پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش شروع کرتے ہوئے چند مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے تمام ملزمان تک رسائی حاصل کرتے ہوئے گرفتار کیا۔دوران انٹاروگیشن ملزمان تیموس ولد غفار خان سکنہ خویشکی نوشہرہ، سوئیدزادہ ولد مسلم زادہ سکنہ سردریاب، داؤد ولد کفایت اللہ سکنہ سردریاب نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم تیموس نے پولیس کو بتایا کہ مقتول کے بھانجے کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جن کی ڈر و خوف سے مقتول افتخار کو قتل کیا۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا