Baaghi TV

Author: News Editor

  • اسلام آباد: کورنگ نالے میں ڈوبنے والے تین افراد کو بچالیا

    اسلام آباد: کورنگ نالے میں ڈوبنے والے تین افراد کو بچالیا

    اسلام آباد:وفاقی پولیس کی ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مارگلہ ٹاون کے علاقہ کورنگ نالے میں ڈوبنے والے تین افراد کو بچالیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی ریسکیو ٹیموں نے مارگلہ ٹاون کے علاقہ کورنگ نالے میں ڈوبنے والے تین افراد کو بچا لیا۔ایک نوجوان مچھلیوں کے شکار کے کئے نالہ میں گیا۔

    راول ڈیم کے سپیل ویز کھلنے کے باعث نوجوان پانی کے تیز بہاو کی زد میں آگیا۔قریب ہی ایک بزرگ اور ایک نوجوان نے اسے بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی پانی میں بہہ گئے۔پولیس کی تیراک ٹیموں اور تھانہ کھنہ کے جوانوں نے اطلاع ملتے ہی بروقت کارروائی کی۔اورتینوں افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

    آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے پولیس ٹیموں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کو آئندہ بھی اس طرح کی کارروائیوں میں حصہ لینے کی ہدایت کی

  • اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ پہلے جیسی نہ ہو: مفتاح اسماعیل

    اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ پہلے جیسی نہ ہو: مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سندھ میں چاول اور دیگر فصلیں خراب ہوگئیں اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ اس طرح نہ ہوجیسے پہلے ہوتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب اور فصلیں خراب ہونے سے امپورٹ بڑھا ہے، سیلاب سے لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کی وجہ سے غریب لوگوں پر خرچ کررہے ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے) کو مزید 5 بلین ڈالرز جاری کیے جائیں، سیلاب متاثرین کی جتنی مدد کرسکتے ہیں ضرور کریں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) سے پاکستان کو رواں ماہ ہی ڈیڑھ بلین ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ قطر، پاکستان میں ایل این جی پلانٹس اور سولر کے شعبوں سمیت اسٹاک ایکسچینج میں تین بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر جو 213 سے اوپر گیا ہے اس میں کچھ سیاسی وجوہات بھی ہیں، ڈالر نیچے آئے گا اور آجائے تو اچھا ہے ہم مداخلت نہیں کریں گے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بجلی اکتوبر تک سستی ہوجائے گی، بجلی کے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) ختم کیا گیا ہے، ایف پی اے اگست میں اور نہ ہی ستمبر میں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ایف پی اے نہیں لیا جا رہا لیکن آگے لیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی کابینہ عمران خان کی تھی لیکن میں ستر لوگوں کی کابینہ کا دفاع نہیں کروں گا، بطور وفاقی وزیر میں تو تنخواہ نہیں لے رہا۔

  • پی ٹی آئی کور کمیٹی  نےفی الفور انتخابات کرانے کا مطالبہ کیاہے:شیخ رشید

    پی ٹی آئی کور کمیٹی نےفی الفور انتخابات کرانے کا مطالبہ کیاہے:شیخ رشید

    اسلام آباد:شیخ رشید نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ فی الفور انتخابات کرائے جائیں۔تفصیلات کے مطابق بنی گالہ میں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج کور کمیٹی اجلاس میں معاشی حالت، لاء اینڈ آرڈر اور مہنگائی پر بات ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں نے عمران خان کو کہا کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، کور کمیٹی کے تمام ممبران کا فیصلہ یہ ہے کہ تیاری کی جائے، چوک اور چوراہوں پر احتجاج کی تیاری کی جائے۔

    شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ ملک اقتصادی بحران میں داخل ہوچکا ہے، میں مثبت حالات بھی دیکھ رہا ہوں، کور کمیٹی کا بھی مطالبہ ہے فی الفور انتخابات کی طرف جایا جائے۔سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے مزید کہا کہ الیکشن فوری کرایا جائے، 15 اکتوبر اہم ہے بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونگے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اتنخابات کے معاملے پر عوام کو احتجاج کی کال دینے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔

    کور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فوری انتخابات ہی ملک کے مفاد میں ہیں اس لیے فوری طور پر اتنخابات کی طرف جایا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ اگر حکومت نے الیکشن کی تاریخ نہ دی تو عوام کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔اجلاس میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔

  • پیناڈول کی قیمت میں اضافہ :مگراس کے باوجود ناپید

    پیناڈول کی قیمت میں اضافہ :مگراس کے باوجود ناپید

    اسلام آباد:پیناڈول کی فی گولی قیمت میں 35 پیسے کا اضافہ کردیا گیا، ڈریپ نے پیراسیٹامول کمپنیز کو ریٹیلرز کو ڈسکاؤنٹ دینے کی شرط ختم کردی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے پیناڈول کی فی گولی کی قیمت میں 35 پیسے کا اضافہ کردیا، جس کے بعد قیمت 1.35 روپے سے بڑھ کر 1.70 روپے ہوگئی۔

    ڈریپ نے مارکیٹ میں پیناڈول کی قلت ختم کرنے کیلئے اقدام اٹھاتے ہوئے پیراسیٹامول کمپنیز کو ریٹیلرز کو ڈسکاؤنٹ دینے کی شرط بھی ختم کردی۔فارمیسز اور میڈیکل اسٹورز کو کمپنیز کی جانب سے پیرا سیٹامول پر 15 فیصد تک ڈسکاؤنٹ دینا لازمی تھا، ڈریپ نے رعایت کی شرط کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ ملک میں پیناڈول کی شدید قلت پیدا ہونے کے بعد محکمہ صحت کی ہدایت پر متعلقہ افسران نے کئی گوداموں پر چھاپے مارے اور کروڑوں گولیاں برآمد کی تھیں۔

    یہ ایک درد کش دوا ہے جو عام طور پر لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اسے اکثر بخار، پٹھوں میں درد، سر درد وغیرہ کے علاج کے لیے لیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک کمزور اینٹی سوزش ایجنٹ ہے، اور اس طرح یہ بیماریوں کی قدرے وسیع رینج کا علاج کرسکتا ہے۔ یہ کیمیکلز کی پیداوار کو روک کر کام کرتا ہے جو جسم میں درد کا باعث بنتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوائیوں میں سے ایک ہے (ایسی دوا جس کے لیے نسخے کی ضرورت نہیں ہوتی)۔
    پیناڈول فارمولا۔
    نمایاں کیمیکل جو پیناڈول کو اس کی خاص خصوصیات دیتا ہے وہ پیراسیٹامول ہے۔
    پیناڈول بنانے والے۔
    پیناڈول بنانے والا پاکستان میں (جی ایس کے -سمتھ کیلائن) ہے اور اس کی علاوہ مختلف شکلوں میں مینوفیکچرر موجود ہیں

  • دیوالیہ ہوئےتو کیا ہو گا؟ حق سچ :خصوصی تحریر:-علی عمران شاہین

    دیوالیہ ہوئےتو کیا ہو گا؟ حق سچ :خصوصی تحریر:-علی عمران شاہین

    ہمارے ملک کو ایک عرصے سے "دیوالیہ، دیوالیہ "کا لفظ بول بول کو اتنا ڈرایا جا رہا ہے کہ جیسے دیوالیہ ہونے کے بعد ہم سب زندہ درگور ہو جائیں گے،حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم واقعی دیوالیہ ہو جائیں تو دو فائدے ہوں گے۔

    نمبر1: ہمیں اس کے بعد باہر سے کوئی قرض نہیں ملے گا، خاص طور پر عالمی مالیاتی ادارے جب کہ دوست ممالک کو کوئی نہیں روک سکتا،

    اب اگر بیرونی قرضے نہ ملیں تو یہ ملک خصوصاً نچلے عوام کے لیے بہت اچھا ہے کہ قرضوں کا انہیں تو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا اور لگ بھگ سارا قرضہ حکمران اور طاقتور ترین اشرافیہ کی عیاشی اور موج مستی میں اڑتا ہے جب کہ اس کا اصل اور سود عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے اور یہ سود اور قرضہ عوام و ملک دونوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔

    اگر ہم اپنی اوقات اور جیب کے مطابق خرچ کریں تو جیسے غریب آدمی چند ہزار میں بھی گزارہ کراور نظام چلالیتا تو ایسے ہی سب کچھ چل سکتا ہے، لیکن اس کے مقابل امیروں کا لاکھوں کی محض عیش اڑا کر بھی جی نہیں بھرتا۔

    (اگر 4 کروڑ کی امپورٹڈ گاڑی میں نہ بیٹھا جائے اور بے حساب پیسے سے کلبوں کی موج مستی نہ کی جائے تو انسان کتنا گھس کر کمزور ہو گا ؟ یہی سوچ کر حساب لگا لیں ، یہی فرق ہے۔)

    نمںر2: دیوالیہ ہونے کے بعد کسی دیوالیہ ملک پر یہ لازم نہیں رہتا کہ وہ بیرونی قرضے اور ان کا سود اس وقت تک ادا کرے کہ جب تک وہ خود یہ نہیں سمجھ لیتا اور اسکا اعلان کر نہیں دیتا کہ اب اس کے حالات مکمل ٹھیک ہو چکے ہیں اور اب وہ قرضہ اور اس کا سود ادا کر سکتا ہے۔

    شاید آپ کے علم میں ہو کہ پاکستان نے اس سال 80 کھرب کے سالانہ بجٹ میں سے 38 کھرب بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے رکھے ہیں

    اب اگر ہمارا ملک دیوالیہ ہو جائے تو یہ قرضہ اور سود دوبارہ مکمل بحالی تک معاف ہی رہے گا۔

    یوں ذرا سوچیں ،اگر ملک کم از کم ایک سال دیوالیہ رہتا ہے تو نہ اسے نئے قرض کا بوجھ اٹھانے کو ملے گا اور نہ پرانی ادائیگی کرنا پڑے گی،اگر ہم وہی 38 کھرب اپنے ملک پر خرچ کریں تو کتنا بڑا فائدہ ہو سکتاہے ؟ آپ خود تصور کر لیں۔

    دیوالیہ ہونے کا نقصان۔
    دیوالیہ ہونے کے بعد آپ باہر اپنا مال بھیج یعنی برآمدات کر سکتے ہیں لیکن درآمدات مشکل ہو جاتی ہیں کیونکہ خریداری کے لیے ڈالر موجود نہیں ہوتے،

    اب ایک ملک یہ کہہ دے کہ ہم دیوالیہ ہو چکے لہذا صرف انتہائی ضروری درآمدات ہی کریں گے تو اس پر کوئی پابندی نہیں رہتی جو اب ہم پر اس وقت لاگو ہے۔

    اس سب کا سراسر نقصان حکمران و طاقت ور ترین اشرافیہ کو ہوتا ہے کہ جن کے کتے اور بلیوں کی مہنگی ترین خوراک بھی باہر سے آتی ہے۔ ان کا اپنا تو نہ ہی پوچھیں جو پھل سبزیاں بھی غیر ملکی کھاتے ہیں،

    (دوسری طرف غریبوں کے کتے بلیاں گلیوں محلوں کا گند کچرا کھا کر بھی زندہ و صحت مند رہتے ہیں جب کہ یہ اسی اشرافیہ کے لیے زندگی موت کا مسلہ ہے )

    آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہفتے پہلے جب ہماری نئی حکومت نے درآمدات پر پابندی لگائی تھی تو اس میں کتوں بلیوں کی خوراک،ان کی ادویات اور ویکسین اور دیگر بیش قیمت انسانی غذائی اشیاء کو پہلے دن سے مستثنٰی رکھا گیا تھا۔ یہیں سے یہ سب کھیل سمجھ لیں۔

    اب آپ خود بتائیں کہ ہم عام شہری روزانہ کتنی ایسی چیزیں کھاتے ہیں؟ جو براہ راست باہر سے پیک شدہ آتی ہیں۔(یہ سب آپ کو وہاں ہی ملے گا جہاں آپ شاید کبھی کبھار سیر کے لئے ہی گئے ہوں گے )

    دیوالیہ ہونے کے نقصان کو سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے

    یہ بھی یاد رکھیں کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں چین روس جاپان امریکا میکسیکو کینیڈا ارجنٹائن تک کئی کئی بار دیوالیہ ہو چکی ہیں لیکن وہ آج بھی قائم و مضبوط ہیں۔

    دیوالیہ ہونا کسی ملک کی بنیاد یا عام عوام کا مسلہ قطعاً نہیں،یہ صرف اور صرف ایک خاص کلاس کا مسلہ ہے اور وہ اسے بنیاد بنا کر آج ملک کے غریب و پسے عوام کی ہڈیوں کا گودا بھی نچوڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

    ( سری لنکا کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، اس پر پھر بحث ہو گی )

    ایک اور بات یاد رکھیں کہ دیوالیہ ریاست کے بیرون ملک جانے والے ہوائی یا بحری جہاز روکے جانے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ پاکستان کے پاس تقریبآ سارے ہوائی اور بحری جہاز لیز یا کرائے پر ہیں جنہیں روکا نہیں جاسکتا اور پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جس کی افراتفری عالمی تشویش کا باعث ہے ۔ اس لیے عالمی طاقتوں کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان پر مسلسل دباؤ رکھا جائے اور اسے گھٹنوں پر لایا جائے اور اسے سب سے پہلے ایٹمی قوت سے محروم کیا جائے ، محض دیوالیہ سے ان کا پروگرام پورا نہیں ہو گا بلکہ مزید دور ہو جائے گا۔

    ( آپ کو بھی اس پر اپنی ماہرانہ رائے کا حق حاصل ہے لیکن لغو کلامی بازی سے پرھیز فرمایا،علمی و تحقیقی بات کی جائے )

  • ایم کیو ایم کےمرکزخورشید بیگم ہال غیر قانونی قرار,اصل اسٹیس بحال کرنے کا حکم

    ایم کیو ایم کےمرکزخورشید بیگم ہال غیر قانونی قرار,اصل اسٹیس بحال کرنے کا حکم

    کراچی :کے ڈی اے نے ایم کیو ایم کے زیر انتظام خورشید بیگم میموریل ہال کو اس کے اصل اسٹیٹس میں بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو غیر قانونی قرار دیدیا۔

    رپورٹ کے مطابق خورشید بیگم میموریل ہال پلاٹ نمبر ایس ٹی 3/بی بلاک 8 میں اسپتال / میڈیکل سینٹر کی زمین پر تعمیر کیا گیا، سپریم کورٹ نے 2010ء میں ضلعی انتظامیہ کو اس حوالے سے کارروائی کا حکم دیا تھا۔

    خورشید بیگم میموریل ہال ایم کیو ایم بانی الطاف حسین کی والدہ کے نام سے منسوب ہے، جن کا انتقال 1985ء میں کراچی میں ہوا تھا، اس عمارت میں بانی قائد اور دیگر رہنماؤں کی پریس کانفرنسز اور پارٹی اجلاس ہوتے تھے۔

    یہ عمارت ایم کیو ایم کے مرکز اور بانی قائد کی رہائش گاہ نائن زیرو کی عقبی گلیوں میں واقع ہے۔

     

     

    کے ڈی اے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ جمیل احمد بلوچ نے بتایا کہ یہ فیصلہ ایک میٹنگ میں کیا گیا۔

    عدالتی معاملات پر کے ڈی اے کے ترجمان جمیل بلوچ کا کہنا تھا کہ کے ڈی اے کے اعلیٰ افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسران کی ایک میٹنگ ہفتہ کو ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پلاٹ ایس ٹی 3/بی کو عدالتی احکامات کی روشنی میں اس کے اصل اسٹیٹس میں بحال کیا جائے۔

    کے ڈی اے افسر نے بتایا کہ میٹنگ میں رفاعی پلاٹ کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کرنے ککیلئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ پلاٹ لے آؤٹ پلان میں اسپتال / میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کیلئے مختص ہے۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ یہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اسٹیٹ آف دی آرٹ میڈیکل انسٹی ٹیوشن قائم کیا جائے گا تاکہ مقامی لوگوں کو ان کے علاقے میں صحت کی سہولیات میسر آسکیں۔

    کے ڈی افسر نے مزید بتایا کہ میٹنگ میں کئی تجاویز پر غور کیا گیا، جس میں کڈنی اینڈ ڈائلیسز سینٹر کا قیام بھی شامل ہے۔ کے ڈی اے ان تجاویز پر غور کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نجی انسٹیٹیوشنز کے ساتھ مل کر اقدامات کرے گا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ خورشید بیگم میموریل ہال کے باہر ایدھی ایمولینسیں بھی کھڑی کردی گئی ہیں تاکہ عمارت کو طبی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا تاثر دیا جاسکے۔

    خورشید بیگم میموریل ہال 3 منزلہ عمارت ہے جس میں 57 کمرے ہیں۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر آگ لگ گئی تھی، جسے بجھانے کیلئے عمارت کی دیواریں توڑ دی گئی تھیں۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں 40 لاکھ خواتین اور بچوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا:حالات بگڑسکتے ہیں

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں 40 لاکھ خواتین اور بچوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا:حالات بگڑسکتے ہیں

    لاہور:پاکستان کے سيلاب متاثرہ علاقوں ميں 40 لاکھ خواتین اور بچے مختلف بيماريوں ميں مبتلا ہیں جنہیں فوری امداد نہ ملی تو زندگيوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ديگر اداروں نے حکومت کو خبردار کرديا۔

    رواں سال کے تباہ کن سیلاب کے بعد جنم لینے والی بیماریوں نے لاکھوں افراد خصوصاً بچوں اور خواتین کی زندگیوں کو داﺅ پر لگا دیا ہے اور آئندہ دنوں اس میں مزید اضافے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں لوگ خصوصاً بچے اور خواتین بیماریوں اور بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    صوبائی محکمہ صحت، یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ پروگرام، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور منسٹری آف ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوارڈینیشن کی جانب سے حکومت کو اگلے دو تین ماہ میں ماں بننے والی خواتین کی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے۔

    مذکورہ اداروں نے حکومت کو سردی کے موسم میں سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں کے 1کروڑ 60 لاکھ بچوں کی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی متنبہ کیا گیا ہے۔

    بین الاقوامی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سیلاب کے باعث پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے تقریباً 7 کروڑ لوگ بے گھر ہوئے ہیں جب کہ پاکستان ریسرچ کونسل اور منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے مطابق تباہ کن سیلاب کے باعث تقریباً 4 کروڑ لوگ خوراک کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

    رواں برس میں مون سون سیزن کے دوران ہونے والی غیر معمولی بارشوں نے ملک کو تاریخ کی بدترین تباہی سے دوچار کیا۔ سیلاب کے نتیجے میں فصلوں، گھروں، معاشی ذرائع، جانوروں کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔

    قدرتی آفات صنف کے امتیاز کے بغیر سب کو متاثر کرتی ہیں تاہم خواتین پر ان کے اثرات دیرپا اور زیادہ ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جب قدرتی آفات خواتین اور بچوں پر اثرانداز ہوتی تو اموات کا تناسب کا خدشہ مردوں کی نسبت 14 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق 70 فیصد خواتین کو قدرتی آفات میں مختلف اقسام کے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، قدرتی آفات کے دوران خواتین اور لڑکیاں مردوں اور لڑکیوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

    ریسکیو اور ریلیف کے دوران بھی خواتین اور لڑکیوں کو کم ترجیح دی جاتی ہے، جب قدرتی آفت گزر جاتی ہے اور نام نہاد بحالی کا کام شروع ہوتا ہے تو خواتین مزید متاثر ہوتی ہیں۔ اُن پر کام کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے اور ان کی رسائی صحت اور تعلیم کی سہولیات تک مزید کم ہو جاتی ہیں۔ انہیں بحالی کے دوران نوکری کی سہولیات تک بھی کم رسائی دی جاتی ہے اور اُن کی تنخواہیں بھی انتہائی کم رکھی جاتی ہیں۔

    سیلاب نے پاکستان کے وسیع علاقے کو متاثر کیا ہے اور تقریباً 650,000 حاملہ خواتین جن میں سے 73000 اگلے ماہ ماں بن جائیں گی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یو این ایف پی اے کے مطابق ان خواتین کو صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جو نومولود کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی پاکستان میں ماں اور نومولود کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں مجموعی طور پر خواتین پر اثرات انداز ہوئی ہیں تاہم حاملہ خواتین اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    سیلاب نے پاکستان کے صحت کے مراکز کو تباہ کر دیا اور صرف صوبہ سندھ میں 1000 سے زیادہ مراکز صحت سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث 193 صحت کے مراکز تباہ ہوئے جب کہ سڑکیں اور مواصلات کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، ان رکاوٹوں سے حاملہ خواتین کی صحت بھی متاثر ہوئے۔ بحالی کے دوران پاکستانی اور بین الاقوامی اداروں کو حاملہ خواتین کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • خیبرپختونخوا میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں:الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    خیبرپختونخوا میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں:الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    پشاور:خیبرپختونخوا میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں:الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا (کے پی) میں وزیراعلیٰ اور کابینہ ارکان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے خیبرپختونخوا میں جلسوں کیلئے سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کے استعمال کا سخت نوٹس لے لیا گیا۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کے پی میں جلسوں کے دوران سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کمیشن کا اہم اجلاس 19 ستمبر 2 بجے الیکشن کمیشن سکریٹریٹ میں بلا لیا گیا ہے، اجلاس میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی پر غور کیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق اجلاس کے دوران صوبائی الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا جبکہ اجلاس میں چیف سکریٹری خیبرپختونخوا کو بھی الیکشن کمیشن طلب کیا گیا ہے

    یاد رہے کہ آج پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان نے چارسدہ جلسے میں پہنچنے کیلئے خیبرپختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان اسلام آباد سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں چارسدہ پہنچے۔

    ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محمود خان پارٹی میٹنگ میں شرکت کیلئے ہیلی کاپٹر میں اسلام آباد گئے تھے جہاں سے وہ عمران خان کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں چارسدہ گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسے کے اختتام پر عمران خان سڑک کے راستے بنی گالا روانہ ہوگئے اورمحمود خان چارسدہ سے پشاور چلے گئے۔

    اس حوالے سے صوبائی وزیرشوکت یوسفزئی کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ کی صوابدید ہے کسے ہیلی کاپٹرمیں بٹھاتے ہیں؟ نئے قانون کے تحت وزرا، سیکرٹریزبھی سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرسکتے ہیں۔

  • "میں تاں ہنڈا ای لیئساں”ہونڈا اٹلس نے سی جی 125 کا نیا ماڈل متعارف کرادیا

    "میں تاں ہنڈا ای لیئساں”ہونڈا اٹلس نے سی جی 125 کا نیا ماڈل متعارف کرادیا

    لاہور:ہونڈا اٹلس نے سی جی 125 موٹر سائیکل کا 2023ء ماڈل مارکیٹ میں لانچ کردیا ہے۔ڈیلرز کے مطابق نیا ماڈل پیر 19 ستمبر سے مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔ ہونڈا اٹلس نے نئے ماڈل میں سوائے نئے گرافکس کے اسٹیکر کے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

    واضح رہے کہ ہونڈا اٹلس کی جانب سے گزشتہ 30 سال سے ایک ہی ماڈل نئے گرافکس اور نئے اسٹیکرز کے ساتھ ہر سال نئے ماڈل کے طور پر سی جی 125 صارفین کو پیش کیا جارہا ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق مذکورہ ماڈل کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا اور سی جی 125 اسٹینڈرڈ ایک لاکھ 79 ہزار 900 روپے جبکہ سی جی 125 ایس ای 2 لاکھ 10 ہزار روپے میں دستیاب ہوگی۔ڈیلرز کا کہنا ہے ہونڈا اٹلس نے سی جی 125 ماڈل پہلی مرتبہ 1992ء میں متعارف کرایا تھا، جس کے بعد اس رینج میں یہ سب سے مقبول ماڈل ہے لیکن کمپنی کی جانب سے ہر سال اس میں نئے ماڈل کے نام پر اسی پرانے ڈیزائن میں لانچ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے دیگر کئی موٹر سائیکل ماڈلز کی طرح یہ برانڈ بھی یکسانیت کا شکار ہوگیا ہے۔

    ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں ہونڈا سی جی 125 کو طاقتور انجن اور پائیداری کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس ماڈل کی پائیداری اور کوالٹی میں کمی آئی ہے لیکن چونکہ مقابلے میں کوئی اور ماڈل نہیں ہے اور دیگر کمپنیوں کے ماڈلز کی کوالٹی اس سے بھی زیادہ گر گئی ہے لیکن اسی لئے گاہک اب بھی ہونڈا کی 125 خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز صابر شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موٹر سائیکل انڈسٹری جمود کا شکار ہوگئی ہے، پچھلے دو تین دہائیوں سے ایک ہی ڈیزائن میں اسمبلرز اپنے ماڈلز تیار کررہے ہیں۔

    صابر شیخ کے مطابق سی بی 150 ایف، وائی بی آر 125 جی، جی آر 150 اور جی ڈی 110 قدرے بہتر ڈیزائن متعارف کئے گئے ہیں، اس کے سوا ایک ہی طرح کی موٹر سائیکلیں لائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں ہمارے پڑوسی ممالک چین اور بھارت میں ایک سے ایک نت نئے ڈیزائن اور ماڈلز میں موٹر سائیکلیں تیار کی جارہی ہیں۔

    ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مقامی اسمبلرز کو پاکستانی صارفین کو بھی موٹر سائیکلوں کی جدید اور نت نئے ڈیزائنوں اور کوالٹی کی رینج دینی چاہئے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:احسن اقبال

    ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:احسن اقبال

    اسلام آباد:ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں بہت کچھ موجود ہے:اطلاعات کے مطابق نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا آج شام کو ایک خصوصی اجلاس آج NFRCC میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور ڈائریکٹر جنرل این ایف آر سی سی میجر جنرل اسد چیمہ نے کی۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا آج کے اجلاس میں خصوصی سیشن کا محور ضروری اشیائے خوردونوش خصوصاً گندم کی دستیابی کا تفصیلی ذخیرہ تھا۔ فورم کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کا وافر ذخیرہ رکھا جا رہا ہے اور گندم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ فورم کو بریفنگ دی گئی کہ گندم، چاول، مکئی اور چینی سمیت تمام اہم غذائی اشیا وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک ان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں گڈز ٹرین سمیت ٹرانسپورٹ کے تمام دستیاب ذرائع ہیں۔

    فورم کو بتایا گیا کہ بعض کارٹیل صرف اپنے مفادات کے لیے گندم کی قلت کا جھوٹا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ اس معاملے کے حقائق یہ ہیں کہ گندم کا 153 دن کا سٹاک دستیاب ہے اور 30.5 ملین ٹن گندم کی سالانہ قومی طلب کو یقینی بنانے کے لیے منصوبے جاری ہیں۔ فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ اہم غذائی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنائیں، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی سیلاب سے متاثرہ خواتین کے لیے خشک دودھ اور غذائی سپلیمنٹس سمیت گندم سمیت اہم معاملات پر گفتگو ہوئی ۔

    اس اہم اجلاس میں‌ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کے لیے بچوں کی خوراک اور غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی کو تیز رفتار بنیادوں پر یقینی بنایا جائے اور گڈز ٹرینوں اور تمام نقل و حمل کے ذرائع کے ذریعے سپلائی لائن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ علاقے کی ضروریات کے مطابق خوراک کے ذخیرہ کی سطح کو برقرار رکھا جائے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہ دی جائے۔ فورم نے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں مشترکہ سروے کے نقصانات کے جائزے کا بھی جامع جائزہ لیا اور سروے رپورٹس کے مطابق بحالی کی کوششوں کا اعادہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ڈیٹا کی مدد سے سائنسی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.