Baaghi TV

Author: News Editor

  • اسلام آباد پولیس کی کامیاب کارروائی،اغوا برائے تاوان کے مجرم گرفتار،مغوی بھی بحفاظت رہا

    اسلام آباد پولیس کی کامیاب کارروائی،اغوا برائے تاوان کے مجرم گرفتار،مغوی بھی بحفاظت رہا

    اسلام آباد:اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے تھانہ کورال کے علاقہ سے تاوان کی خاطر اغواءہونے والے کمسن بچے کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔مرکزی ملزم بھی گرفتار۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے ساتھی ملزم کے ہمراہ15دن پلا ننگ کر نے کے بعد تا وان کی غر ض سے کمسن بچے کو اغو اءکیا تھا، ساتھی ملزم کی گرفتار ی کے لیے پولیس ٹیمیں متحر ک ہیں جس کو جلد گرفتار کرلیا جا ے گا

    تفصیلات کے مطابق منگل کے روز کیپیٹل پولیس آفیسر آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ نے سنٹرل پولیس آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ31دسمبر 2022کو مدعی مقدمہ مسمی شاہدنصیرولد نصیر احمدنے تھانہ کورال میں تحر یری درخواست دی کہ اس کا ساڑھے پا نچ سالہ بیٹا محمدبر ہا ن محلہ کی دوکان پر کچھ چیزیں خر یدنے گیا تھاتو کچھ دیر بعد اس کے دوسرے بیٹے ایان علی نے گھر واپس آکر بتایا کہ محمد بر ہا ن کو دو نامعلوم مو ٹر سائیکل سوار اغواءکر کے لے گئے ہیں ،

    تھانہ کورال پولیس نے فوری مقدمہ نمبر 02/23 بجرم 364A ت پ درج کرلیا۔آئی جی اسلام آبادڈاکٹر اکبر نا صر خاں نے کمسن بچے کے اغواءکا فوری نوٹس لیتے ہوئے بچے کی جلد از جلد بحفاظت بازیابی کے احکامات جاری کئے جس پر سی پی او آپر یشنز سہیل ظفر چٹھہ نے آٹھ مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دیں۔ وقوعہ میں ملوث ملزمان نے کمسن بچے کو اغواءکر نے کے بعد ایک کر وڑ روپے تا وان طلب کیا اور تا وان کی رقم ادا نہ کر نے کی صورت میں بچے کو قتل کر نےکی دھمکی دی ،پولیس ٹیموں نے وقوعہ کے نزدیکی مکانوں، دکانوںکے علاوہ اسلام آباد سیف سٹی اور پرائیویٹ کیمروں کی فوٹیج حاصل کی اور ملزمان کے آنے اور جانے کے روٹس حاصل کئے،اس کے علاوہ سول کپڑوں میں مختلف کور ٹیمیں بنائی گئیں جنہوں نے مختلف علاقوں میں سرچنگ کی،اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ریڈ کئے گئے اور ایسے تمام ملزمان کا بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا جو ایسے واقعات میں ملوث رہ چکے تھے،اور آخر کار پولیس ٹیموں نے جدید انٹیلی جنس اور ہیومن ذرائع کی مد د سے ملزمان کو ٹریس کرلیا۔

    ملزمان نے بچے کو ترلائی کے قریب ایک کرائے کے مکان میں رکھا ہوا تھا جو کہ ملزمان نے 06/07ماہ قبل کرائے پر حاصل کیا تھا، پولیس نے انتہائی محفوظ طریقے سے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کا مر ان ظفر بٹ کو گرفتار کرکے ملزم کے قبضہ سے مغوی محمدبر ہا ن کو بغیر تا وان ادا کیے بحفا ظت با زیا ب کرالیا۔بچے کو والد ین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ ساتھی ملزم کے ہمراہ15دن پلا ننگ کر نے کے بعد تا وان کی غر ض سے کمسن بچے کو اغو اءکیا تھا، ساتھی ملزم کی گرفتار ی کے لیے پولیس ٹیمیں متحر ک ہیں جس کو جلد گرفتار کرلیا جا ے گا ، بچے کی بحفاظت بازیابی پر والدین نے اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی کا وشوں کی تعریف کی۔آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے پولیس ٹیموں کو شاباش دی اور اعلی کارکردگی پر نقدانعامات اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے

  • ایم کیو ایم پاکستان نےحکومت کے خلاف احتجاج کی کال دے دی

    ایم کیو ایم پاکستان نےحکومت کے خلاف احتجاج کی کال دے دی

    کراچی :ایم کیو ایم پاکستان نے مطالبات کے حق میں 9 جنوری کو احتجاج کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ مقاصد پورے نہ ہوئے تو حکومت میں رہنا کسی کام کا نہیں، پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں میں ترمیم سمیت بلدیاتی انتخابات پر دیگر مطالبات منظور نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کیخلاف 9 جنوری کو احتجاج کا اعلان کردیا۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں، حلقہ بندیوں سے پری پول رگنگ ہوچکی ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے ورکرز کنونش سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقاصد پورے نہ ہوں تو حکومت میں رہنا کسی کام کا نہیں، فیصلہ یہ ہے کہ عزت سے جینا ہے، حقوق کیلئے لڑ مرنا ہے، ایم کیو ایم کیساتھ اتنا ظلم ہوا ہے کہ کسی اور کیساتھ ہوتا تو ختم ہوجاتا، جو کچھ مہاجروں کے ساتھ ہوا لگتا ہے کوئی قومی اتفاقِ رائے ہے، اس قومی اتفاقِ رائے کی بھی شکست ہوئی ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر کا کہنا ہے کہ ہمارے دروازے ان سب کیلئے کھلے ہیں جو ایم کیو ایم کو مہاجروں کیلئے کشتی نوح سمجھتے ہیں، ہم نے بار بار کہا ہے کہ آئیے جدوجہد میں ہمارے ساتھ شریک ہوں، مہاجروں کو تقسیم کرنے کیلئے ہمارے خلاف آپریشن ہوئے، دباؤ آئے، ہمارے کچھ ساتھی اپنی جان بچانے کیلئے ایم کیو ایم چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہماری دعوت شمولیت پر ایم کیو ایم سے جانے والے واپس آئے ہیں، ایک وسیع تر اتحاد کیلئے دعوت دی جارہی ہے، تمام جماعتوں میں موجود مہاجروں کو پتہ ہونا چاہئے ایم کیو ایم ہی پلیٹ فارم ہے، جو اب یہاں نہیں کھڑا وہ مہاجروں کے مفاد کیلئے نہیں کھڑا۔

  • بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    کراچی: جماعت اسلامی نے سندھ حکومت کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو دئیے گئے خطوط 24 گھنٹے میں واپس نہ لینے پر دھرنے کی دھمکی دے دی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے الیکشن کمیشن کوبھیجے گئے خطوط 24گھنٹوں کے اندر واپس نہ لیے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ دار ی حکومت پرعائد ہو گی۔

    انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے التواء کا کوئی آئینی و قانونی اور جمہوری جواز موجود نہیں ہے، گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس سازشوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں، ماضی کی طرح شہر کو ایک بار پھر تباہ و برباد کرنے کے لیے پیپلز پاٹی، ایم کیو ایم کے ساتھ اب نواز لیگ کی جوڑ توڑ اور سازشیں بھی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا گورنر بنایا گیا ہے جس کا ماضی میں کرمنل ریکارڈ موجود ہے، جماعت اسلامی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر حکمران پارٹیاں اکھٹی ہورہی ہیں اور بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

    حافظ نعیم جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کراچی کے شہری چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا میئر آئے اور شہر میں تعمیر و ترقی کا کام دوبارہ شروع ہو، کراچی میں ہر صورت میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہونے چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایم کیو ایم حلقہ بندیوں پر اعتراض کررہی ہے یہ اعتراض اس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب یہ اپنا مینڈیٹ فروخت کررہے تھے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ فروخت کیا اور شہر کی ترقی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا یہ ہر حکومت میں شامل رہی ہے 2013 کے ایکٹ کی منظوری میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں برابر کے شریک جرم رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جتنی کرپشن اور لوٹ مار کررہی ہے اس میں ایم کیو ایم برابر کی حصہ دار ہے 2018میں اہل کراچی نے پی ٹی آئی کو بھی مینڈیٹ دیا لیکن اس نے بھی کراچی کے لیے پیکجز کے اعلان تو کیے لیکن کام کچھ نہیں کیا۔

    امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں مسلح ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود کراچی کے عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں۔ اہل کراچی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے حقوق،مسائل کا حل اور تحفظ کب ملے گا۔

  • پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    لاہور:پاک فوج کے حاضرسروس افسر نے پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کے خلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے ، یہ مقدمہ برطانوی ہائی کورٹ میں کیا گیا ہے،یو ٹیوبر میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انتخابی دھاندلی کرنے اور جنرل ریٹائرڈ باجوہ پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔

    جیو ٹی وی کے مطابق متنازع یو ٹیوبر میجرریٹائرڈ عادل راجہ جوکہ اس وقت لندن میں رہ رہے ہیں نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پنجاب کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے آصف زرداری سے خفیہ ملاقاتوں کے الزامات بھی لگائے ۔میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کی طرف سے لگائے الزامات کے بعد برطانوی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوبر نے 14 جون 2022 کو حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔

    مدعی مقدمہ کے وکلاء نے مؤقف اپنایا ہے کہ یو ٹیوبر کی طرف سے چلائی گئی مہم سے حاضر سروس بریگیڈیئر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔دوسری جانب یوٹیوبر عادل راجہ نے اپنے خلاف دائر ہونے والے مقدمے کی تصدیق کردی ہے۔ یوٹیوبر کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹوئٹس اور وی لاگس میں دی گئیں معلومات اسٹیبلشمنٹ کے ہی اعلیٰ ذرائع کی فراہم کردہ تھیں۔

    خیال رہے کہ یہ یوٹیوبر گزشتہ برس اپریل میں اسلام آباد سے لاپتہ ہونے کے بعد لندن پہنچ گئے تھے۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حال ہی میں عادل راجا نے سوشل میڈیا پر جاری وی لاگ میں پاکستان کی ٹاپ ماڈلز اور اداکاراؤں پر سنگین الزامات عائد کیے تھےاور ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ادارے کے پاس ان ماڈلز اور اداکاراؤں کی نازیبا ویڈیوز بھی موجود ہیں۔جن اداکاراوں کو پرالزام تراشی کی گئی ہے ،ان میں سجل علی،مہوش حیات،ماہرہ خان اور کبریٰ خان پرمختلف قسم کے الزامات عائد کیے گئے تھے

    عادل راجا نے اپنے وی لاگ میں اداکاراؤں کا نام لینے کے بجائے ان کے ناموں کے ابتدائی حروف بتائے تھے جن میں M H. – M K. – A K- S A شامل تھے۔

    اس معاملے پر اداکارہ کبریٰ خان نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ ’آپ کے پاس ثبوت سامنے لانے کیلئے صرف 3 دن ہیں جس کیلئے آپ نے حق اور سچ کا دعویٰ کیا ہے، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنا بیان واپس لو اور عوام کے سامنے معافی مانگو ورنہ میں تمہارےخلاف مقدمہ کروں گی اور میں صرف پاکستانی ہی نہیں برطانوی شہری بھی ہوں لہٰذا میں وہاں بھی تمہارے پیچھے پہنچ جاؤں گی کیوں کہ میں سچ پر ہوں، میں حق پر ہوں اور میں کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتی‘۔

  • اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد:گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت موقع سے ملنے والی موبائل سم سے ہوئی، جائے وقوعہ سے ملنے والی سم ملزم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    22 سالہ حملہ آور ثاقب الدین کرم ایجنسی کا رہائشی تھا۔ خودکش حملہ آور نے 22 دسمبر کو ضلع کرم سے صوابی کا سفرکیا، حملہ آور کوراولپنڈی کے ایک رہائشی شخص کیجانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور10 سے12 کلوگرام باردو سے بھری جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔

    یوکرین کاروس پرامریکی ہتھیاروں سےحملہ:پوتن نےہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے کے کیس میں چار سے پانچ ملزمان اور ان کے ہیلنڈرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے ملے میں استعمال ہونے والی ٹیکسی کا ڈرائیور بے گناہ تھا۔

    خیال رہے کہ 23 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے میں ایک پولیس اہلکار اور ٹیکسی ڈرائیور سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔

  • یوکرین میں امریکا کا میزائل سسٹم تباہ، روس کا بڑا دعوی

    یوکرین میں امریکا کا میزائل سسٹم تباہ، روس کا بڑا دعوی

    ماسکو:روس کا کہنا ہے کہ ہم نے یوکرین میں امریکی میزائل سسٹم کو تباہ کر دیا۔روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں دو امریکی ساختہ ہیمارس میزائل سسٹم کو تباہ کر دیا گیا ہے جو مبینہ طور پر کیف پر کل کے میزائل حملے میں استعمال ہوئے تھے ۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ دو امریکی ساختہ ہیمارس میزائل سسٹم کو مشرقی یوکرین کے کراماتورسک علاقے میں تباہ کر دیا گیا جو مبینہ طور پر کیف کی طرف سے پیر کے روز ڈونیٹسک کے علاقے پر میزائل حملے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔روس کے اعلان کے مطابق، اس کے فضائی دفاعی سسٹم نے 13 یوکرینی ڈرون طیاروں کو بھی تباہ کر دیا اور نو ہیمارس میزائلوں کو انٹرسپٹ کر دیا۔

    یوکرین کاروس پرامریکی ہتھیاروں سےحملہ:پوتن نےہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    رشا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یوکرین میں فوجی کارروائیوں کی پیشرفت کے بارے میں روس کی وزارت دفاع کے نوٹیفکیشن کے مطابق آج کے روسی میزائل حملوں میں تقریباً 120 یوکرینی فوجی زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دونیتسک میں روسی فضائی حملوں میں 130 غیر ملکی کرائے کے فوجی مارے گئے۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    روسی وزارت دفاع نے کیف کی طرف سے گزشتہ روز دونیتسک کے علاقے "مکیئیوکا” میں روسی فوجی دستوں کے عارضی مقام پر چھ ہیمارس میزائلوں سے کیے گئے حملے کا حوالہ دیا ہے جس میں مزید 63 روسی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

  • پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    کراچی:پرواز پر 330 مسافر سوار تھے، جو کئی گھنٹوں سے ایئرپورٹ پر پریشان بیٹھے تھے،اطلاعات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کے فیول پمپ میں فنی خرابی کے باعث جدہ جانے والی عمرہ پرواز میں 19 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے بعد بالآخر مسافروں کو سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

    کراچی:لائنز ایریا میں 2دن سے بجلی کی فراہمی معطل:علاقہ مکین رُل گئے:احتجاج بھی کام…

    کراچی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کو منگل کی رات 2 بجے 300 سے زائد مسافروں کو جدہ لے جانا تھا۔رپورٹ کے مطابق پرواز سے کچھ وقت پہلے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کے فیول پمپ میں خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    متاثرہ پرواز کے اکانومی اور بزنس کلاس کے 330 مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں اکثریت نے احرام باندھ رکھا تھا۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    بزرگ اور خواتین سمیت دیگر مسافر رات سے ایئرپورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں موجود رہے، جبکہ پرواز کی روانگی میں مسلسل تاخیر کے باعث مسافروں کی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔بالآخر پی آئی اے کی پرواز 19 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمرہ زائرین کو لے کر جدہ روانہ ہوگئی۔

    پرواز میں تاخیر کے حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ متاثرہ طیارے کے مسافروں کو رات میں کھانا اور صبح میں ناشتہ پیش کیا گیا، ہوٹل منتقل کرنے کی پیشکش مسافروں نے قبول نہیں کی۔

  • منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور
    ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    یوم پیدائش : 3 جنوری 1836

    منشی نول صاحب کی پیدائش 03؍جنوری 1836ء کو متھرا اتر پردیش ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب میں فارسی اور اردو پڑھ کر کیا تھا۔ منشی نول کشور ایک کتاب پبلشر تھے۔ انہیں بھارت کا کیکسٹون کہا جاتا ہے۔ 1858ء میں، 22 سال کی عمر میں، انہوں نے ‘نول کشور پریس اور کتاب ڈپو’ لکھنؤ میں قائم کیا تھا۔ آج یہ ادارہ ایشیا میں سب سے پرانی پرنٹنگ اور اشاعت کا مرکز ہے۔ مرزا غالب منشی نول کشور کے وفادار دوست تھے۔ منشی نول کشور کے والد کا نام پنڈت جمونا پرساد بھگاوکا تھا، آپ کے والد علی گڑھ کے زمیندار تھے 1970ء میں ہندوستان کی حکومت نے ان پر اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

    منشی نول کشورکی نوجوانی کے زمانے میں لاہور سے اخبار ‘کوہِ نور’ نکلتا تھا جس میں آپ کے مضامین شائع ہونے لگے، جو اس قدر مقبول ہوئے کہ اس کے مدیر منشی ہرسُکھ رائے نے انھیں لاہور آ کر اخبار میں کام کرنے کی دعوت دی جو نول کشور نے قبول کر لی۔1857ء کے ملک گیر فسادات شروع ہو چکے تھے، جن میں دوران میں امرا و روسا کے صدیوں پرانے کتب خانوں میں موجود ہزاروں نادر مخطوطے تلف ہو گئے۔ 21 سالہ نول کشور نے تمام صورتِ حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا اور انھیں ہم وطنوں کی حالت سدھارنے کا ایک کارگر طریقہ سوجھ گیا۔ آپ نے چند مذہبی رسائل اور بچوں کے قاعدے چھاپے اور انھیں خود ہی بیچنا شروع کیا۔ وہ خود اپنے کندھوں پر طبع شدہ مواد کے گٹھڑ اٹھا کر بازار اور دفاتر تک لے جاتے تھے۔ انگریزوں کو ان کی لگن پسند آئی اور انھیں دفتری سٹیشنری کے ٹھیکے ملنے لگے۔ 26 نومبر 1858ء میں انھوں نے ’اودھ اخبار‘ کا اجرا کیا جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مبنی ہوتا تھا۔

    #داستانامیرحمزہ

    اس سلسلے میں غالباً ان کے پریس کا سب سے بڑا کارنامہ داستانِ امیر حمزہ کی 46 جلدوں کی اشاعت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی داستان کہا جاتا ہے۔

    دیگر کتب کی اشاعت
    ہندو ہونے کے باوجود منشی نول کشور نے کئی اہم اسلامی کتابیں، قرآن کی تفاسیر، احادیث کے مجموعے اور فقہ کی کتابیں شائع کیں۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے 1858ء سے 1950ء تک 6000 سے زیادہ کتابیں شائع ہوئی۔ 1950ء میں منشی نول کشور کا پریس خاندانی جھگروں کی بنا پر بند ہو گیا۔

    نول کشور پریس کی طبع شدہ کتابوں کے چند نام ۔

    فتاویٰ عالمگیری
    سنن ابی داؤد
    سنن ابن ماجہ
    مثنوی مولانا روم
    قصائدِ عرفی
    تاریخِ طبری
    تاریخِ فرشتہ
    دیوانِ امیر خسرو
    مراثی انیس
    فسانۂ آزاد
    داستانِ امیر حمزہ
    دیوانِ غالب
    کلیاتِ غالب فارسی
    الف لیلہ
    آثار الصنادید (سر سید احمد خان)
    قاطعِ ب رہان (غالب)،
    آرائشِ محفل
    دیوانِ بیدل
    گیتا کا اردو ترجمہ
    رامائن کا اردو ترجمہ
    بوستان
    اور دیگر کئی صد کتابیں ہیں۔

    غالب سے دوستی
    منشی صاحب کے ساتھ جن لوگوں نے اس اخبار میں کام کیا ان میں رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر، قدر بلگرامی، منشی امیر اللہ تسلیم اور دوسرے مشاہیرِ اردو شامل ہیں۔ اس اخبار میں جن لوگوں کے مضامین چھپتے تھے ان میں مرزا غالب اور سر سید احمد خان بھی شامل ہیں۔ سرشار کا شاہکار ’فسانۂ آزاد‘ اسی اخبار میں دسمبر 1878ء سے دسمبر 1879ی تک قسط وار چھپتا رہا۔ غالب منشی صاحب کے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ وہ نول کشور پریس کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں: ‘اس چھاپہ خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔’ غالب منشی صاحب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے سے دریغ نہیں کرتے، چنانچہ ایک اور خط میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘خالق نے اسے زہرہ کی صورت اور مشتری کی سیرت عطا کی ہے۔’ غالب کے دوست قدر بلگرامی جب مالی مشکلات کا شکار ہوئے تو غالب نے انھیں خط میں لکھا کہ جا کر لکھنؤ میں میرے دوست سے ملو، تمھارا کام ہو جائے گا۔
    منشی نول کشور 19؍فروری 1895ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

  • پہلی اننگزمیں نیوزی لینڈ کھیلا بھی اچھا:قسمت بھی مہربان نظرآئی:محمد یوسف

    پہلی اننگزمیں نیوزی لینڈ کھیلا بھی اچھا:قسمت بھی مہربان نظرآئی:محمد یوسف

    کراچی :پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ اور سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف نے کہا ہے کہ دوسرا ٹیسٹ نتیجہ کن رہنے کا مکان ہے، پہلی اننگ میں برتری لینے میں کامیاب رہے تو نیوزی لینڈ کو پریشانی ہوسکتی ہے، نیوزی لینڈ پر قسمت بھی مہربان نظر آرہی تھی۔

    دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز کے کھیل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی ٹیسٹ کی وکٹ ٹرن کر رہی ہے لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہمیں سو رنز کی سبقت ملی تو مہمان ٹیم مشکل میں آسکتی ہے، پچز پر بات ہورہی ہے، لیکن ان پچز پر نتاٸج آرہے ہیں، ملتان میں جب پچز دیکھنے گیا تو بتایا گیا کہ ہمارے پاس وہ مٹی نہیں جو درکار ہے، ہمارے دور میں وکٹیں مختلف ہوتی تھیں، وکٹ بنانے کا ماہر نہیں لیکن جس طرح کی ہم ٹرن وکٹیں چاہتے ہیں ویسی ہمارے پاس مٹی نہیں ہے۔

    ڈپارٹمنٹل کرکٹ بحال، پاکستان جونیئر لیگ ختم،رمیز راجہ کا ردعمل سامنےآ گیا

    انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے زمانے میں باونسی وکٹ ہوتی تھی، پنڈی ٹیسٹ کے بعد ایسی پچز تیار ہوئی جو نتیجہ خیز رہی، مثبت کرکٹ ہوئی، نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ بھی اچھا رہا، موجودہ صورتحال میں وکٹ ٹرن کررہی ہے، نیوزی لینڈ کی آخری وکٹ پر ہم نے زیادہ رنز دے دیے اور انہوں نے سو رنز زیادہ بنالیے،وہ اچھا کھیلے اور کچھ قسمت بھی ان پر مہربان نظر آرہی تھی، وکٹ پر چانس ہے، نتیجہ آسکتا ہے۔

    2022 کرکٹ؛ گرین شرٹس کی کامیابیاں اورناکامیوں کا سال رہا

    محمد یوسف نے کہا کہ کپتان یا کوچ نے اوپنرز کو کوٸی پلان نہیں دیا، کپتان یا مینجمنٹ کیجانب سے بیٹرز کو کوئی ہدایات نہیں دی گئیں، عبد الللہ شفیق اور شان مسعود جیسے کھیل رہے ہیں یہ ان کی اپنی گیم ہے، سب کھلاڑی اپنا نیچرل گیم کھیل رہے ہیں،تاہم حالات کے مطابق بھی کھیلنا چاہیے، ہم کھلاڑی کو اعتماد ہی دے سکتے ہیں، عبداللہ شفیق نے انگلینڈ کیخلاف سنچری اسکور کی تھی، وہ اس وقت کمرہ امتحان میں ہیں، تکنیکی طور پر اس وقت عبداللہ شفیق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

    پاک نیوزی لینڈ دوسرا ٹیسٹ، پہلے روز کاکھیل ختم ،نیوزی لینڈ نے 6وکٹوں کے نقصان…

    بیٹنگ کوچ نے کہا کہ عبد الللہ خود بھی اپنی غلطی سمجھ رہا ہے، کچھ اننگز خراب ہوجائیں تو کھلاڑی کو فکر لاحق ہوجاتی ہے، ٹیسٹ کرکٹ کیلئے تجربہ اہمیت رکھتا ہے، میں صرف بیٹرزسے اتنی بات کرتا ہوں جتنی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ بات کرو تو کھلاڑی پریشان اور ڈبل مائنڈ ہوجاتا ہے۔

  • میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق     صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    لاہور:سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے پاکستان واپس آنے کی خواہش کا ا‌ظہارکردیا،سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا ہےکہ پاکستان ان کا جینا مرنا ہے،اس حوالے سے سابق جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پاکستان واپس آنے کی استدعا کردی ،

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیاہےجس میں‌ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں، زندگی کے آخری ایام وہ پاکستان میں گزارنا چاہتےہیں، پرویز مشرف نےکہاکہ ان کے اباواجداد،رشتہ دار دوست احباب سب پاکستان میں ہیں لیکن وہ بیماری کی وجہ سے ملک سے باہرتھے اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں،

     

    پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو پیغام میں‌ کہاہے کہ وہ نسلاَ اوراصلاَ پاکستانی ہیں وہ دیار غیر میں رہ کرانگریزوں یادیگرقوموں کےساتھ نہیں کرنا چاہتے، ان کی خواہش یہ ہےکہ اب وہ زندگی کے آخری ایام پاکستان میں گزاریں اورجب موت آئے توپاک وطن میں‌ ہی دفن کیا جائے،

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ان کو کوئی علم نہیں‌ کہ انکے خلاف کیا کیسزہیں اور ان کیسز میں چارجز کیا ہیں،انکا کہنا تھا کہ انہوں نے وطن پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کےلیے اپنی زندگی وقف کررکھی تھی،پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اب وہ بہت بیمار ہیں اور ان حالات میں‌ خواہش یہی ہے کہ واپس اپنےوطن چلا جاوں اور اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کےساتھ زندگی کے آخری ایام گزار سکوں‌

    پرویز مشرف نے مزید کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے توجہ دیں اور میری پاکستان واپسی کےلیے اقدامات کریں ،پرویز مشرف کا کہنا تھاکہ وہ کسی مقدمے کے ڈر سے ملک سےباہر نہیں بلکہ طبعیت کےپیش نظراچھے علاج معالجے کےلیے باہر جانا پڑا اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر قسم کی قانونی جنگ لڑنےکےلیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے پاکستان واپس آنے کےانتظامات کیے جائین