Baaghi TV

Author: News Editor

  • البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    پیدائش:07 نومبر1913ء
    الذرعان
    وفات:04 جنوری 1960ء
    ولیبلوین
    وجۂ وفات:کار حادثہ
    مدفن:لورمارین
    رہائش:فرانس
    شہریت:فرانس
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    زوجہ:فرانسائن فیئر
    مادر علمی:جامعہ الجزائر (1935-مئی 1936)
    تخصص تعلیم:فلسفہ
    تعلیمی اسناد:ماسٹر آف آرٹس
    دائرۂ عمل: مصنف، فلسفی، ناول نگار
    صحافی، مضمون نگار، ڈراما نگار
    منظر نویس، شاعر
    مادری زبان:فرانسیسی
    زبان:فرانسیسی
    کارہائے نمایاں:موت کی خوشی
    مؤثر:نطشے
    عسکری خدمات
    لڑائیاں اور جنگیں:دوسری جنگ عظیم
    اعزازات:
    نوبل انعام برائے ادب (1957)

    البرٹ کامو یا البیغ کامو (فرانسیسی: Albert Camus) ایک فرانسیسی فلسفی تھے جنھوں نے بے شمار مشہور کتب لکھیں۔ ان کوادب پر 1957 میں نوبل پرائز دیا گیا تھا۔ آپ الجزائر میں 1913 میں پیدا ہوئے جس وقت فرانسیسوں کی سربراہی تھی۔
    موجودیت
    ۔۔۔۔۔۔
    البیغ کامو کی کتابوں کو موجودیت کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
    مذہبی خیالات
    ۔۔۔۔۔۔
    البرٹ خدا و مذہب پر یقین نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی یہ سمجھتا تھا کہ وہ ملحد نہیں ہے۔ خدا کو جھٹلانے کا انسانی زندگی کے لیے کیا منطقی نتیجہ نکلتا ہے، کیمس نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا: You will never live if you are looking for the meaning of life یعنی اگر تم زندگی کے معنی جاننے کی کوشش کرو گے تو زندہ نہ رہ سکو گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارفی سلسلہ
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    پیدائش: 26 ستمبر 1888ء
    وفات : 04 جنوری 1965ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور نقاد سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی شاعری کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1915ء میں برطانیہ چلا گیا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء میں ایک ادبی رسالہ Criterionجاری کیا۔ جو 1929ء میں بند ہو گیا۔ 1948ء میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں شاعری کا پروفیسر ہوا اور او۔ ایم کا اعلی برطانوی خطاب پایا۔ متعدد منظوم ڈراموں کا مصنف ہے۔ آخری دنوں میں فیر اینڈ فیر پبلشر کا اڈیٹر رہا۔ تنقیدی نظریات بھی بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ رومانیت کے سخت خلاف تھا۔ اور اس کے خلاف شخصیت سے گریز اور معروضی تلازمے کے نظریات پیش کیے۔ اس کا نظریہ روایت اردو ادب پر بھی اثر انداز ہوا اور کئی اردو نقاد مثلاً محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر عابد علی عابد ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔

    ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلانات و رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘ تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
    ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالات کا‘ لب لباب کچھ یوں ٹھہرے گا:
    1- روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
    2- روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
    3- تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ گیے ہوتے ہیں۔
    4- شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر کی‘ دیگر شعرا کے کلام ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
    5- ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔
    6- ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
    7- نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالات کی فہرست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں ہوتا ہے۔
    اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے

    مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر رضوی مطبع عالیہ 1966
    ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی نیشنل فاؤنڈیشن 1975ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 24 ابتدائی کھلاڑیوں میں سے کون حتمی ون ڈے اسکواڈ میں ہوگا؟ کل پتے لگ جان گے

    24 ابتدائی کھلاڑیوں میں سے کون حتمی ون ڈے اسکواڈ میں ہوگا؟ کل پتے لگ جان گے

    لاہور:پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے بعد تین ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جائے گی۔ون ڈے سیریز کیلئے عبوری سلیکشن کمیٹی نے 24 ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن حتمی ٹیم کا اعلان کل کیا جائے گا۔

    پہلی اننگزمیں نیوزی لینڈ کھیلا بھی اچھا:قسمت بھی مہربان نظرآئی:محمد یوسف

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عبوری چیف سلیکٹر شاہد آفریدی پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری کراچی ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز چائے کے وقفے پر ون ڈے ٹیم کا اعلان کریں گے۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ون ڈے میچز آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہیں۔ سپرلیگ میں پاکستان ابھی چھٹے اور نیوزی لینڈ دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ون ڈے میچز 9, 11 اور 13 جنوری کو کراچی میں کھیلے جائیں گے۔

    کراچی ٹیسٹ؛نیوزی لینڈ 449 رنزکےجواب میں پاکستان کے154رنزپر3کھلاڑی آوٹ بھی ہوگئے

    فخر اور حارث نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے اسکواڈ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہیں ، اعلان کردہ ابتدائی اسکواڈ میں بابر اعظم ، محمد رضوان، عبداللہ شفیق، ابرار احمد ، عامر جمال اور حارث رؤف شامل ہیں۔اس کے علاوہ حسن علی، احسان اللہ، امام الحق ، کامران غلام ، محمد حارث ، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا بھی اعلان کردہ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    پی ایس ایل 8: پشاور زلمی کی کٹس کی رونمائی کر دی گئی

    شاداب خان، شاہنواز دھانی، شان مسعود ، شرجیل خان، طیب طاہر ، محمد حسنین، فخر زمان اور حارث سہیل بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔فخر زمان، خوشدل شاہ ، شاہین آفریدی (انجرڈ) اور زاہد محمود جو نیدرلینڈز کیخلاف ون ڈے سیریز میں شامل تھے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں ہیں۔

  • جماعت اسلامی نے ایم کیو ایم کے احتجاج میں شرکت سے معذرت کرلی

    جماعت اسلامی نے ایم کیو ایم کے احتجاج میں شرکت سے معذرت کرلی

    کراچی: جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پاکستان کی ملاقات بے نتیجہ رہی، حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم کے احتجاج میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، جماعت اسلامی کی توجہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنے اور 8 جنوری کے جلسے پر ہے۔

    جماعت اسلامی کے حافظ نعیم نے سوال کیا کہ حکومت نے آپکی بات نہ مانی تو کیا کریں گے کیا حکومت سے باہر آئیں گے؟ جس پر خالد مقبول صدیقی نے جواب دیا پھر ہم اس وقت صورتحال پر غور کریں گے، جواب میں حافظ نعیم نے کہا اس سے لگتا ہے کہ آپ سنجیدہ ہیں نا اگلی حکمت عملی ہے۔

    جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم کے سربراہ کو کہا کہ آپ کو بلدیاتی امور سے متعلق مطالبات تسلیم کرائے بغیر حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہئیے تھا، جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

    دوسری طرف ذرائع کے مطابق سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفی کمال جنرل ورکرزاجلاس میں کارکنان کوریلی میں شرکت کےلیے اعتماد میں لیں گے۔ پی ایس پی کا بھرپور قوت سے ایم کیوایم کی ریلی میں شرکت کا قوی امکان ہے۔

    خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں میں ترمیم سمیت بلدیاتی انتخابات پر دیگر مطالبات منظور نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کیخلاف 9 جنوری کو احتجاج کا اعلان کردیا۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ مقاصد پورے نہ ہوئے تو حکومت میں رہنا کسی کام کا نہیں، پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں، حلقہ بندیوں سے پری پول رگنگ ہوچکی ہے۔

  • سعودی ائیر لائن کی پرواز منسوخ، درجنوں عمرہ زائرین جدہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

    سعودی ائیر لائن کی پرواز منسوخ، درجنوں عمرہ زائرین جدہ ائیرپورٹ پر پھنس گئے

     

    اسلام آباد:سعودی ائیر لائن کی پرواز کے منسوخ ہونے سے جدہ ائیرپورٹ پر درجنوں کی تعداد میں پاکستانی عمرہ زائرین پھنس گئے۔ائیر لائن ایس وی 738 نے 350 عمرہ زائرین کو 3 جنوری کو پاکستان لیکر آنا تھا لیکن سعودی حکام کی جانب سے پاکستان میں خراب موسم کے باعث پرواز کو منسوخ کر دیا گیا۔

     

    عمرہ زائرین نے بتایا کہ دو دن سے جدہ ائیر پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، بیشتر مسافروں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں، حکام نے تاحال نہیں بتایا کہ پرواز کب روانہ ہوگی۔

     

    مسافروں نے مزید بتایا کہ بچوں اور بوڑھوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری واپسی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اپنے گھروں کو پہنچ سکیں۔

     

    پرواز پر 330 مسافر سوار تھے، جو کئی گھنٹوں سے ایئرپورٹ پر پریشان بیٹھے تھے،اطلاعات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کے فیول پمپ میں فنی خرابی کے باعث جدہ جانے والی عمرہ پرواز میں 19 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے بعد بالآخر مسافروں کو سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

    کراچی:لائنز ایریا میں 2دن سے بجلی کی فراہمی معطل:علاقہ مکین رُل گئے:احتجاج بھی کام…

    کراچی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کو منگل کی رات 2 بجے 300 سے زائد مسافروں کو جدہ لے جانا تھا۔رپورٹ کے مطابق پرواز سے کچھ وقت پہلے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کے فیول پمپ میں خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    متاثرہ پرواز کے اکانومی اور بزنس کلاس کے 330 مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں اکثریت نے احرام باندھ رکھا تھا۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    بزرگ اور خواتین سمیت دیگر مسافر رات سے ایئرپورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں موجود رہے،جبکہ پرواز کی روانگی میں مسلسل تاخیر کے باعث مسافروں کی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔بالآخر پی آئی اے کی پرواز 19 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمرہ زائرین کو لے کر جدہ روانہ ہوگئی۔

    پرواز میں تاخیر کے حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ متاثرہ طیارے کے مسافروں کو رات میں کھانا اور صبح میں ناشتہ پیش کیا گیا، ہوٹل منتقل کرنے کی پیشکش مسافروں نے قبول نہیں کی۔

  • مصطفیٰ کمال ایم کیوایم کی احتجاجی ریلی میں شرکت کیلئے رضا مند

    مصطفیٰ کمال ایم کیوایم کی احتجاجی ریلی میں شرکت کیلئے رضا مند

    کراچی :پی ایس پی رہنماؤں نےایم کیو ایم پاکستان کی احتجاجی ریلی میں شرکت کیلےرضا مندی ظاہرکردی۔ذرائع کےمطابق سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفی کمال جنرل ورکرزاجلاس میں کارکنان کوریلی میں شرکت کےلیے اعتماد میں لیں گے۔ پی ایس پی کا بھرپور قوت سے ایم کیوایم کی ریلی میں شرکت کا قوی امکان ہے۔

    رانا ثناءاللہ کو عابد شیر علی کی انتخابی مہم چلانے پر آج ہی طلب کرلیا گیا

    خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں میں ترمیم سمیت بلدیاتی انتخابات پر دیگر مطالبات منظور نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کیخلاف 9 جنوری کو احتجاج کا اعلان کردیا۔

    پی ایس پی کے رہنماؤں نےایم کیوایم میں باوقارطریقےسے واپسی کی شرط رکھ دی

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ مقاصد پورے نہ ہوئے تو حکومت میں رہنا کسی کام کا نہیں، پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی مردم شماری اور حلقہ بندیاں درست کرائے، جلد الیکشن چاہتے ہیں لیکن فراڈ انتخابات نہیں، حلقہ بندیوں سے پری پول رگنگ ہوچکی ہے۔

    رانا ثناءاللہ میرا وعدہ ہے تم اسلام آباد میں چھپ نہیں سکتے،عمران خان کی دھمکی

    دوسری طرف ایم کیوایم کے سنیئررہنما ڈاکٹرفاروق ستار نے سنیئرصحافی مبشرلقمان کےساتھ ایم کیوایم کے انضمام کے حوالےسے کہا ہےکہ وہ پچھلے تین سال سے اس کوشش میں تھے کہ ایم کیوایم کے تمام دھڑے آپس میں مل جائیں تاکہ کراچی کی تعمیر ترقی کے امور بہتر انداز سے نمٹائے جاسکیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سید مصطفیٰ‌ کمال بہت جلد ایم کیوایم کا حصہ بن جائیں گے،آج کے اس اعلان کے بعد جس میں کہا جارہاہےکہ مصطفیٰ کمال ایم کیوایم پاکستان کے احتجاجی مظآہرے میں کارکنوں سمیت شامل ہوں گے ،ڈاکٹرفاروق ستار کا دعویٰ درست ثآبت ہورہا ہے

  • پہلی ٹیسٹ سنچری پر مبارکباد:عبوری چیف سلیکٹرشاہد آفریدی کا زبردست خراج تحسین

    پہلی ٹیسٹ سنچری پر مبارکباد:عبوری چیف سلیکٹرشاہد آفریدی کا زبردست خراج تحسین

    کراچی: پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی میں جاری ہے، آج کھیل کے تیسرے روز پورا دن بیٹنگ کرنے کے باوجود پاکستانی بیٹرز پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کے 449 رنز کو عبور نہ کرسکے۔

    نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 449 رنز بنائے تھے جبکہ پاکستان نے تیسرے روز کھیل کے اختتام پر 9 وکٹوں کے نقصان پر 407 رنز بنالیے ہیں اور اسے پہلی اننگز میں اب بھی 42 رنز کا خسارہ ہے۔پاکستان نے تیسرے روز اپنی پہلی اننگز 154 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی۔ اس وقت امام الحق 74 اور سعود شکیل 13 پر بیٹنگ کر رہے تھے۔

     

     

     

    امام الحق اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے اور 83 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد سرفراز احمد 78 رنز بنا کر اسٹمپڈ آؤٹ ہوئے۔

     

     

     

    تیسرے دن پاکستانی بیٹرز کی کارکردگی کے حوالے سے عبوری چیف سلیکٹر شاہد خان آفریدی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں شاہد آفریدی نے کہا کہ ’سعود شکیل کو پہلی ٹیسٹ سنچری پر مبارکباد، آپ نے سمجھداری اور خوبصورتی کے ساتھ بیٹنگ کی۔‘شاہد آفریدی نے امام الحق اور سرفراز احمد کی بھی تعریف کی اور کہا : ‘امام اور سرفراز آپ نے اچھا کھیل پیش کیا، آپ دونوں کا حق تھا کہ سنچری کرتے۔‘

    عبوری چیف سلیکٹر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پر اعتماد ہوں کہ ہمارے بولرز کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری اننگز میں ہمارے بیٹرز کو یہ موقع دیں گے کہ وہ ہدف کا تعاقف کرسکیں۔ میں کا دلچسپ اختتام نظر آرہا ہے۔‘

  • سی ٹی ڈی کے شہید افسروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    سی ٹی ڈی کے شہید افسروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    لاہور: خانیوال میں فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے حساس ادارے کے شہید افسروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ڈائریکٹر نوید صادق شہید، انسپکٹر ناصر عباس شہید کی نماز جنازہ ملتان، خانیوال اور لاہور میں ادا کی گئی، جس میں سول ملٹری حکام اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔

     

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سی ٹی ڈی کے افسران خفیہ کارروائی کے دوران خانیوال کے قریب ہوٹل پر کھانا کھا رہے تھے کہ ایک ملزم نے فائرنگ کر کے ایک ڈائریکٹر اور انسپکٹر کو شہید کر دیا تھا۔

     

    خانیوال میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں حساس ادارے کے دو افسروں کی شہادت کے بعد دہشت گرد عمر خان کے خلاف ملتان کے سی ٹی ڈی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں دہشتگردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم عمر خان نے دہشت گرد اسداللہ اور دیگر تنظیموں کی معاونت سے حملہ کیا۔ ملزم کالعدم تنظیموں سے روابط کے باعث واچ لسٹ میں بھی شامل تھا۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مفرور دہشت گرد عمرخان کی گرفتاری کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے نوید صادق اور ناصرعباس خفیہ اطلاعات پر کارروائی کے لئے جارہے تھے۔ چائے پینے کےلیے پیروال کے ہوٹل میں رکے، جہاں ملزم نے پارکنگ میں فائرنگ کرکے شہید کردیا۔

    نوید صادق کو دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیوں اور نیٹ ورکس توڑنے پر ستارہ شجاعت سے بھی نوازا گیا تھا۔

    دوسری طرف اسلام آباد میں ہونیوالے خودکش دھماکہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ، پولیس اور حساس اداروں نے 10 سے زائد دہشتگرد گرفتار کرلیے۔اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش دھماکے کا پورا نیٹ ورک پکڑ لیا، پولیس اور حساس اداروں نے 10 سے زائد دہشت گرد گرفتار کرلیے ، دہشتگردوں کا نیٹ ورک ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہوا تھا۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، 23 دسمبر 2022 کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پولیس چیک پوائنٹ پر خودکش دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک جبکہ چھ افراد زخمی ہو گئے تھے ۔

  • مالی بحران کےحل میں وفاق سرد مہری کا مظاہرہ کررہا ہے:عبدالقدوس بزنجو

    مالی بحران کےحل میں وفاق سرد مہری کا مظاہرہ کررہا ہے:عبدالقدوس بزنجو

    کوئٹہ :وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مالی بحران کے حل میں وفاق سردمہری کا مظاہرہ کررہاہے، بلوچستان میں گندم اورمالی بحران پراتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے صوبے کا مالی بحران برقرار رہا تو ترقیاتی کام مکمل نہیں ہوسکیں گے۔ سرکاری ملازمین کو تنخوائیں دینے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔

    رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کویقینی بنایا جائے:مشیرداخلہ پنجاب کی آئی جی کو ہدایت

    عبدالقدوس بزنجو کا مزید کہنا تھا کہ ہم خیرات نہیں،بلکہ این ایف سی میں اپناحصہ مانگ رہے ہیں۔ این ایف سی میں بلوچستان کے حصے کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب 6 لاکھ بوری گندم کی فراہمی کا وعدہ پورا کرے تاکہ صوبے میں گندم بحران پر قابو پایا جاسکے۔ گندم بحران کوحل کرنےکیلئےوفاق فوری طور پر اپناکرداراداکرے۔

    رانا ثناءاللہ میرا وعدہ ہے تم اسلام آباد میں چھپ نہیں سکتے،عمران خان کی دھمکی

    وزیرعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے حصہ کو کسی بھی طور پر کم نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا تو مطالبہ ہے کہ سیکورٹی کی مد میں بھی این ایف سی میں ایک فیصد ہمیں اضافی شیئر دیا جائے۔ بلوچستان کے پی پی ایل کے ذمہ 34 ارب کے بقایا جات ہیں۔ وزیراعظم ذاتی دلچسپی لے کر بلوچستان کو مالی بحران سے نکالیں۔

    رانا ثناءاللہ کو عابد شیر علی کی انتخابی مہم چلانے پر آج ہی طلب کرلیا گیا

    ادھروزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دانش اسکول کی طرز پر 12 اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔صحبت پور میں مقامی عمائدین سے خطاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صحبت پور کا میرا یہ دوسرا دورہ ہے ، پہلے میں یہاں آیا تو یہ پورا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، خوراک اور دیگر اشیا پہنچانا آسان نہیں تھا،میں نے اس طرح کا سیلاب اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب کی صورت حال دیکھ کر سوچتا تھا کہ کس طرح یہ لوگ اپنے گھروں کو جائیں گے، اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ ٹوٹ چکا تھا، انتہائی مخدوش حالات میں ہم نے حکومت سنبھالی تھی۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں مہنگائی عروج پر ہے، اربوں ڈالر خرچ کرکے گندم منگوا رہے ہیں، سیلاب نے چیلنج اور بڑھا دیا، سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی حکومت نے 100ارب روپے سے زائد خرچ کئے ہیں اور کئی سو ارب مزید درکار ہیں۔

  • وزیر خارجہ کی سفارتکاری جاری:ایشیائی ترقیاتی بینک کےنائب صدرسےٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ کی سفارتکاری جاری:ایشیائی ترقیاتی بینک کےنائب صدرسےٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعمیرنو اور بحالی کے لیے جنیوا ڈونرز کانفرنس کے معاملے پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر شکسن چِن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔اس حوالے سے بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر سے گفتگو کر کے دلی مسرت ہوئی۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون، اظہار یکجہتی قابل قدر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سیلاب کے بعد تعمیرنو اور بحالی کی جانب بڑھ رہا ہےانہوں نے کہا کہ پاکستان سیلاب کے بعد تعمیرنو اور بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے، تعمیرنو اور بحالی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ دیرپا تعاون کے خواہاں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان کو موسمیاتی طور پر بہتر، مضبوط بنائیں گے۔

    گزشتہ روز وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ان کا انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، انڈونیشین ہم منصب سے گفتگو کرکے بہت مسرت ہوئی۔انکا کہنا تھا کہ گفتگو میں انڈونیشیا نے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور ہر ممکن مدد کے عزم کا اظہار بھی کی جبکہ موسمیاتی طور پر مضبوط پاکستان کانفرنس کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

     

    بلاول بھٹو نے کہا کہ گفتگو میں دوطرفہ اور عالمی معاملات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغانستان کی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی اور پاک، انڈونیشیاء تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری مزید کہا کہ اس موقع پر دونوں جانب سے خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔