Baaghi TV

Author: News Editor

  • وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ ملنا مشکل ہوگیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ ملنا مشکل ہوگیا

    لاہور:پنجاب میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی حمایت یافتہ ق لیگ کی حکومت ڈگمانے لگی،ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد میں شامل مزید 3 اراکین پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالہیٰ کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ق لیگ کے بعض ارکان کا بھی غیرحاضر رہنے کا امکان ہے۔

    رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کویقینی بنایا جائے:مشیرداخلہ پنجاب کی آئی جی کو ہدایت

    اعتماد کے ووٹ کےلیے مطلوبہ نمبر پورے نہ ہونے سے عمران خان کی نیندیں اڑ گئیں۔ پی ٹی آئی نے 186 ووٹ پورے کرنے کے جتن شروع کر دیے ہیں۔

    4 بجے کے بعد پرویز الٰہی وزیر اعلٰی پنجاب نہیں رہیں گئے:رانا ثناءاللہ وفاقی وزیر…

     

    خیال رہے کہ اسپیکر سبطین خان کی ہدایت پر اسمبلی سیکریٹریٹ نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کررکھا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع کی جائے گی تاہم 9 جنوری سے قبل ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے سے عمران خان سخت پریشان ہیں۔

    وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کو دل کی تکلیف،راولپنڈی میں فوجی ہسپتال میں علاج…

    خیال رہے کہ گزشتہ روز گورنر بلیغ الرحمان نے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کردیا جس کا نوٹیفکیشن چیف سیکرٹری پنجاب نے جاری کیا تھا تاہم بعدِ ازاں لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو اگلی سماعت تک اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا حلف لینے کے بعد بحال کردیا تھا۔

  • اب امریکی جنگی ڈرون طیارے بھارت میں بنیں گے:معاہدہ طئےپاگیا

    اب امریکی جنگی ڈرون طیارے بھارت میں بنیں گے:معاہدہ طئےپاگیا

    نئی دہلی :امریکی ڈرون بنانے والی کمپنی نے بھارت کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر دیا۔اطلاعات کے مطابق سرکردہ ہندوستانی جنگی آلات بنانے والی فرم اور سرکردہ امریکی ڈرون بنانے والے ادارے نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اب امریکی جدید جنگی ڈرون بھارت میں تیار ہوں گے ، اس سلسلے میں بتایاگیا ہے کہ امریکی فرم نے بھارت میں پرائمری لینڈنگ گیئر کے پرزہ جات، ذیلی اسمبلیاں اور ریموٹ سے پائلٹ طیاروں کی اسمبلیاں بنانے کے لیے بھی مشترکہ تیاری کا معاہدہ کیا ہے

    امریکہ اوربھارت نےشہبازشریف سے،پروفیسرحافظ محمدسعید ISI اورکشمیریوں کیخلاف مدد…

    جنرل اٹامکس ایروناٹیکل سسٹمز (GA-ASI)ایک جنرل اٹامکس کمپنی، جو سان ڈیاگو میں واقع ہے نے کہا کہ بھارت فورج لمیٹڈ کے ساتھ اس کے تعاون کے نتیجے میں دونوں فرمز کے کاروباری حجم میں‌بھی اضافہ ہوگا اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون بھی بڑھے گا،اس معاہدے کے تحت بھارت میں‌ہی اب بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز بنائے جائیں گے

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    ہندوستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ بھارت کی فوجی اور دفاعی ضروریات پورا کرنے کےلیے یہ فرم پروڈکٹ ڈیزائن، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ، ٹیسٹنگ، اور توثیق تک مکمل سروس سپلائی کی صلاحیت پیش کرتا ہے۔ ”

    خطےمیں امریکہ بھارت کےمفادات کامحافظ، دہشت گردی کی سالانہ رپورٹ میں بڑی مکاری سے…

    بھارت فورج لمیٹڈ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر بابا کلیانی نے دعویٰ کیا کہ ہوائی جہاز کی صنعت مصنوعات کی سالمیت، بھروسے اور صفر کی خرابی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ یہ ایک ہائی ٹیک انڈسٹری ہے۔

  • روسی حملے میں ایک ہی دن میں 130 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک

    روسی حملے میں ایک ہی دن میں 130 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک

    ماسکو:روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونتسک میں یوکرینی فوج میں شامل غیر ملکی فوجیوں کے ٹھکانوں پر روسی فوج کے حملے میں ایک سو تیس سے زائد یوکرین کے آلہ کار غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کونا شنکوف نے اعلان کیا ہے کہ خارکیف میں یوکرینی فوج کے خلاف روسی فوج کی کارروائی میں چالیس سے زائد فوجی اہلکارہلاک، اور تین بکتر بند گاڑیاں اور فوجی ٹرک تباہ ہوئے ہیں۔

    اس ترجمان نے کہا کہ یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز سے اب تک روسی فوج یوکرین کے دو ہزار آٹھ سو سے زائد ڈرون طیارے تباہ کر چکی ہے۔ کونا شنکوف نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تین سو پچپن جنگی طیارے، ایک سو نننانوے ہیلی کاپٹر، دو ہزار آٹھ سو سات ڈرون طیارے، تین سو نننانوے دفاعی سسٹم، سات ہزار تین سو بیاسی ٹینک، سیکڑوں فوجی و جنگی نیز بکتر بند گاڑیاں، نو سو سڑسٹھ راکٹ لانچر، تین ہزار سات سو اڑسٹھ توپ اور مارٹر ہتھیار اور سات ہزار نو سو خصوصی فوجی گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

    امریکہ اور مغربی ملکوں نے یوکرین کے خلاف روسی فوجی کارروائی کے بہانے شدید ترین پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ یوکرین کو مختلف قسم کے جدید ترین جنگی ساز وسامان فراہم کیا اور ہتھیاروں کی سپلائی کا یہ سلسلہ بدستور جاری رکھا ہے جبکہ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کا یہ اقدام صرف جنگ کے طویل ہونے کا باعث بن رہا ہے کہ جس کے اور زیادہ بد تر نتائج برآمد ہوں گے۔

  • سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے

    سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے

    واشنگٹن :سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق ریاستہائے متحدہ میں ایک حالیہ سروے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکی 2023 میں امریکی امکانات کے بارے میں بڑی حد تک مایوسی کا شکار ہیں، آبادی کی اکثریت اس سال سیاسی تنازعات اور معاشی مشکلات سے بھرپور ہونے کی توقع رکھتی ہے۔

    امریکہ میں مقیم پولسٹر گیلپ کے مطابق، امریکیوں نے نئے سال کا آغاز قوم کے لیے "زیادہ تر اداس نظریے کے ساتھ” کیا۔سروے کے مطابق، نوے فیصد امریکیوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ سال امریکہ میں سیاسی تنازعات کا دور ہوگا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو 6 جنوری 2021 کے حملے کے بارے میں اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس سلیکٹ کمیٹی سے "جھوٹ سے دھوکہ” دیا گیا ہے۔معیشت کے بارے میں، 10 میں سے 8 امریکی بالغوں نے کہا کہ ان کے خیال میں 2023 زیادہ ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کے ساتھ معاشی مشکلات کا سال ہو گا جبکہ نصف سے زیادہ نے کہا کہ انہیں بے روزگاری میں اضافے کی توقع ہے۔

    رائے دہندگان نے امریکہ کے حالات کے بارے میں ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس سے زیادہ مایوس کن پایا، جسے گیلپ نے کہا کہ موجودہ صدر کی پارٹی پر مبنی ایک عام رجحان ہے۔

    بینک آف امریکہ کے چیف اکانومسٹ مائیکل گیپن نے کہا کہ امریکی معیشت کساد بازاری میں گرنے کا خطرہ زیادہ ہے اور 2023 ملک کے لیے مشکل سال ہو سکتا ہے۔گیلپ کے مطابق، مجموعی طور پر امریکیوں کو بہت کم توقع تھی کہ 2022 میں بند ہونے والی معاشی جدوجہد 2023 میں ختم ہو جائے گی۔دریں اثنا، ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ میں اقتصادی کساد بازاری کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

  • سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات

    سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات

    لاہور:سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات سامنے آئے ہیں، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہےکہ پنجاب حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کےلیے کچھ بنیادی اقدامات کیے ہیں جو کہ قابل تحسین بھی ہیں، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہےکہ پنجاب حکومت نے کلرکہار، مری اور دیگرمقامات پر امن وامان اورسیاحوں کی رہنمائی کےلیے پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری لگادی گئی ہے

    یہ اہلکار سیاحوں کی آمد ورفت کو محفوظ بنانے کےلیے اپنی خدمات بہتر انداز سے پیش کریں‌گے ، اس کےساتھ ساتھ ان مقامات تک رسائی کےلیے جہاں سیاحت سے متعلقہ سرکاری محکمے اور اہکار خدمات پیش کررہے ہیں وہاں پنجاب پولیس یہ بھی فریضہ ادا کررہی ہے اور منزل تک پہنچنے کےلیے مکمل رہنمائی فراہم کررہی ہے،

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ لاہور ، مری اور ٹیکسلا کے درمیان تک مختلف جگہوں‌ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں تاکہ ان راستوں پر سفر کرنے والے سیاحوں کوریفریش منٹ دی جائے اور ان کی رہمائی کےلیے تمام مکنہ حد تک خدمات پش کی جائیں ، اس حوالے سے سیکرٹری سیاحت پنجاب اور ڈی ٹی سی کے افسران اور اہلکاروں نے سیاحوں کو ہاٹ لائن رابطے کی سہولت بھی دی ہے اور ہرقسم کی خدمت بھی پیش کی ہے تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے

    سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ کی ہدایت

     

     

  • امریکہ کورونا پابندیوں کو چین کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال نہ کرے: چین

    امریکہ کورونا پابندیوں کو چین کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال نہ کرے: چین

    بیجنگ: چین کی جانب سے متعدد ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں کے منفی کورونا ٹیسٹ لازمی کرنے کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ نے مختلف ممالک کےاس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط سائنسی طور پر بے بنیاد اور غیرمعقول ہے۔

    کورونا کے مزید 21 کیسز رپورٹ، 19 مریضوں کی حالت نازک

     

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین سےآنےوالےمسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کےاقدام کی سخت مخالفت کرتے ہیں ، چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ لازمی کرنے پر جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

    چین میں رواں ماہ کورونا پابندیاں نرم کرنے کے بعد کورونا کیسز میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ ملک پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے وائرس کے تیز پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چین کی حکومت نے منگل کے روز ان ممالک کو منہ توڑ جواب دیا ہے، جو چین کے عوام یا چین سے ہوتے ہوئے گزرنے والے فضائی مسافروں پر پابندیاں لگارہی ہیں۔ چینی سرزمین سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں پر ایک درجن کے قریب ممالک کی طرف سے کووڈ۔19 ٹیسٹ کو لازمی کردیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ وہ جواب میں ان ممالک کے خلاف اقدامات کرسکتی ہے۔

    کورونا کا خدشہ؛ اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کردی گئی

    امریکہ، کینیڈا، فرانس اور جاپان ان متعدد ممالک میں شامل ہیں جو اب چین سے آنے والے مسافروں کو آنے سے پہلے منفی کوویڈ ٹیسٹ دکھانے کو لازمی کردیا ہے، کیونکہ اب ان ممالک میں بھی کورونا کے کیسوں میں اضافے کا سامنا ہے۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک باقاعدہ بریفنگ میں بتایا کہ کچھ ممالک نے صرف چینی مسافروں کو نشانہ بناتے ہوئے داخلے پر پابندیاں لگائی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں سائنسی بنیادوں کا فقدان ہے اور کچھ طرز عمل ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین باہمی اصول کی بنیاد پر جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔ پچھلے مہینے بہت کم انتباہ یا تیاری کے ساتھ اچانک صفر کووڈ۔19 کی سخت پابندیوں کو کم کرنے کے بعد چین میں کورونا انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

    حکومت کا بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کی ہدایت

    یاد رہے کہ چین نے تین سال بعد 8 جنوری سے کورونا پابندیاں نرم کرکے تمام بارڈر کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے، زیرو کووڈ پالیسی میں نرمی کے معاملے پر مختلف ممالک کی جانب سے سفری پابندیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔

  • عمران خان نےالطاف حسین کے گناہ معاف کروا دیئے؛کراچی کی سیاست میں دما دم مست قلندر شروع

    عمران خان نےالطاف حسین کے گناہ معاف کروا دیئے؛کراچی کی سیاست میں دما دم مست قلندر شروع

    کراچی :عمران خان نے الطاف حسین کے گناہ معاف کروا دیئے، کراچی کی سیاست میں دما دم مست قلندر شروع۔اہم انکشاف سامنے آئے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں سنیئر صحافی مبشرلقمان نے سیر حاصل گفتگوکی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسا بڑا شہر اس وقت جن محرومیوں کا شکار ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا

    ان کا کہنا تھاکہ ایک طرف ملک میں معاشی بحران ہے تواس کے ساتھ ساتھ ملک میں‌ دہشت گردی کا بھی زور بڑھ رہا ہے ، اس حوالے سے مبشرلقمان نے کراچی کی سیاست ،معاشرت اور معیشت کے اسٹیک ہولڈر ایم کیوایم کے ایک دھڑے کے سربراہ سے کچھ دکھ بھی گفتگو کی تاکہ کراچی کے مسائل کا حل نکل سکے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=YwjgS5snUZA

    اس سلسلے میں ڈاکٹرفاروق ستار نے مبشرلقمان کی گفتگو اورکراچی کے حوالے سے خاص کر اور پاکستان بھر کے حوالے سے عمومی طور معاشی ، سیاسی اور امن وامان کی صورت حال سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اس ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، لیکن پچھلی کئی دہائیوں سے حالات بہت بدترہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کوبہتراس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جبتک کراچی والے مخلص نہ ہوں اس کے لیے کراچی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ایم کیوایم کا اتحاد ضروری ہے ، گورنرسندھ اس سلسلے میں کوششیں کررہے ہیں ، بہت جلد تمام دھڑے ایک ہوجائیں گے اورسیاسی عدم استحکام میں کمی آئے گی، جہاں تک تعلق ہے پی ٹی آئی کا تو انہوں نے کراچی میں اپنی جگہ بنائی ہے ، اپنا مقام حاصل کیا ہے لیکن وہ کراچی کے مسائل کو حل نہیں کرسکتے جس طرح‌ایم کیوایم کی سیاست ، خدمت اور معاشرت گلی محلے تک پھیلی ہوئی تھی، پی پی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےانکا کہنا تھا کہ پی پی نے پچھلے پندرہ سال سے کراچی کا جو حشر کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، اس لیے اب ایم کیوایم پھر سے اتفاق واتحاد سے دوبارہ کراچی والوں کی خدمت کےلیے میدان سیاست میں اسی پرانے انداز سے آرہی ہے

    ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے جہاں ہر نسل کے لوگ رہتے ہیں ، ہم اب اکٹھے ہوکر نوجوان نسل کو موقع دیں‌گے تاکہ وہ کراچی کےمسائل کے حل کے لیے آگے بڑھیں‌، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ وہ کبھی عہدے کےلالچ میں نہیں ہوتے بلکہ وہ تو خالد مقبول صدیقی کو قائد سمجھ کر کراچی کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں گے،

     

    https://www.youtube.com/watch?v=YwjgS5snUZA

    سید مصطفیٰ کمال کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ،بہت جلد سارے اکٹھے ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں کام ہورہا ہے ، کراچی جیسے بڑے شہر میں بہت جلد رونقیں لوٹ ائیں گی ، ان کا کہنا تھا کہ پی پی نے اس شہر کا بیڑا غرق کردیا ہے ، اس کی وجہ ایم کیوایم میں دھڑے بندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سارے دھڑے اکٹھے ہوں گے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ توبڑے عرصے سے اس سلسلے میں کوشاں ہیں‌

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیرونی فیکٹر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے مگراس کا زیادہ اثر نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ سید مصطفیٰ کمال کا اختلاف اپنی جگہ مگران سے کیا ہوسکا،ان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھاکہ پارٹی قیادت کی غلطیوں کی وجہ سے بھی معاملات خراب ہوئے

    مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں جس میں انہوں‌ فاروق ستار سے پوچھا کہ عمران خان کے ورکرز اور دایاں بازو ایم کیوایم کے وہ نوجوان ہیں جو مایوس ہوکر ایم کیوایم چھوڑ گئے تو فاروق ستار نے کہا ہے اگرعمران خان کی حکومت پانچ سال رہتی توصورت حال مختلف ہوتی اورآج پی ٹی آئی کراچی سے ختم ہوچکی ہوتی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • برطانیہ خود بھی معاشی تباہی کےدہانے پریورپ کو بھی لےڈوبا

    برطانیہ خود بھی معاشی تباہی کےدہانے پریورپ کو بھی لےڈوبا

    لندن:برطانیہ کی معاشی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ملک گیر ہڑتالوں میں شدت آئی تو کساد بازاری کی شدت میں اضافہ کم سے کم سن دو ہزار چوبیس تک جاری رہے گا۔برطانیہ کی جدیدترین معاشی صورتحال کے بارے میں جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہڑتالوں کی بڑھتی شدت اور یورو زون میں اقتصادی تنزلی کے نتیجے میں برطانیہ میں کساد بازاری آئندہ سال بھی جاری رہ سکتی ہے۔ادھر برطانیہ کی مزدور یونینوں نے بھی مختلف شعبوں میں سرگرمیاں روک دی ہیں اور دو ہزار تیئس میں ہڑتال کی وسعت بڑھانے کی جانب سے بھی لندن کو خبردار کیا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ برطانوی حکومت نے ایک جانب جنگی اخراجات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے تو دوسری جانب خدماتی، تعلیمی اور طبی شعبے کے بجٹ میں کمی کرکے ثابت کردیا ہے کہ اسے ذرہ برابر عوام کی پرواہ نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ نرسوں، ٹرین ڈرائیوروں، محکمہ ریلوے، سرحدی افواج اور محکمہ ڈاک کے کارکنوں کے علاوہ متعدد دوسرے شعبوں کے ملازمین نے ہڑتال کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔

    ان یونینوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات منظور نہیں کرتی تب تک ہڑتال جاری رہے گی۔ ادھر بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ اکتوبر میں برطانیہ میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر گیارہ اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ گئی جسے گذشتہ چالیس سال کا بدترین ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔ایک طرف رشی سونک کا یہ کہنا ہے کہ تنخواہیں بڑھانے کے نتیجے میں افراط زر میں بھی اضافہ ہوگا تو دوسری طرف برطانیہ کے سینٹرل بینک کے گورنر جیریمی ہنٹ نے متضاد بیان دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مہنگائی کو کم کرنا اور عوام کی قوت خرید کو بڑھانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ معاشی پالیسی کے نتیجے میں، برطانیہ کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی جانب سے بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ بتایا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں بے روزگار شہریوں کی تعداد میں لگاتار تیسرے مہینے بھی اضافہ ہوا ہے۔بڑھتی مہنگائی، ملازمین کی تنخواہوں کی گھٹتی قدر اور کنزرویٹیو حکومت کی پالیسیوں نے عوام کے سامنے احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ہڑتال کے نتیجے میں صنعتی، خدماتی اور سرکاری مراکز کی کارکردگی گذشتہ دس سال کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عوام کی موجودہ معاشی صورتحال کا براہ راست اثر عوام کی قوت خرید اور سیاحت کے شعبے پر مرتب ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے دوسری شش ماہی میں، معاشی صورتحال سے پریشان برطانوی شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے سفر کا پلان ملتوی یا منسوخ کردیا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے ایگزیکٹیو کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ یورو زون کے انیس رکن ممالک میں سن دو ہزار تیئیس کے دوران کساد بازاری جاری رہے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ایک بڑی تباہی کی جانب گامزن ہے جسے گلوبلائزیشن یا عالمگیریت، جیوپالیٹکل، ٹیکنالوجی اور سماجیات کے مختلف شعبوں میں غلط تبیدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانوی عوام میں پچھتاوا بڑھتا جا رہا ہے اور لندن کے معاشی نظام کے ساتھ ساتھ تمام یورپی ممالک کے اقتصاد کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے ۔

  • مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    لاہور:پی ڈی ایم کی حکومت کیوں آئی ، عمران خان کی حکومت کیوں ختم ہوئی ، ان سوالات کے جوابات سب کومعلوم ہونے چاہیں، عمران خان نے جب حکومت کی تو اس وقت ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پرلے گیا،عوام الناس تو تنگ تھے ہی ساتھ پی ٹی آئی کے اہم رہنما بھی عمران خان کی پالیسیوں سے نالاں تھے اور وہ ناخوش بھی تھے

    اس حوالےسے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کی طرف سے معاشی تباہی میں جنرل ریٹائرڈ کا بھی کردار ہے اس شخص کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے ادارے تباہ کردیئے تھے ،اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگانے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور یہ کہ اس سارے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کےلیے جنرل فیض حمید کردار ادا کررہے تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ان حالات نے پی ڈی ایم کی شکل میں ایک سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنایا اورپھریہی اتحاد اقتدار میں آگیا ، ان کا کہنا تھاکہ اس ملک کی تباہی میں سب کا برابر کا کردار ہے، اسفند ولی یار سمیت دیگرکئی سیاستدانوں کے اپنے بچے تو یورپ میں ہیں ان کو کیا پرواہ ہے ،ان کے بچے باہر ہیں ، جیسے مونس الٰہی باہر ہے ،

    ان کا کہنا تھاکہ پہلے سائفرکا ڈرامہ چلایا گیا اورپھرخود ہی کہہ دیا کہ امریکی سازش نہیں تھی ،

     

    ان کا کہنا تھاکہ یورپ کی منڈیوں میں ایکسپورٹ میں کمی آگئی ہے جو دوسال پہلے بہت بڑھ گئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلا دیش اور بھارت کو آڈڑ بہت کم ملے تو پاکستان کو موقع مل گیا

    ان کا کہنا تھا کہ اب امپورٹڈ حکومت نے وزیروں کی فوج بھرتی کررکھی ہے ، غیرملکی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طالب علم پریشان ہیں، بچوں کی تعلیم متاثرہوتی ہے ،ہمارے مسائل ہمارے بچوں کے گلے پڑ گئے ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے مشکل ہوگئے ہیں ، اب لوگوں نے ہنڈی اور حوالا کا سہارا لینا شروع کردیئے ہیں ،

    زرمبادلہ ذخائر بہت کم ہیں ، اور جو ہیں اگرسعودی عرب اور عرب امارات نے واپس مانگ لیے توپھرہمارے پاس کیا بچے گا ، اب کہہ رہے ہیں کہ امریکہ میں پی آئی اے کا ہوٹل بیچ کر معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کریں گے ، ان کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کی توجہ ہیلی کاپٹر پر ہے ،عمران خان پنجاب اور کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹراستعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا ہمارے زرمبادلہ کے ذخائرکم ہوگئے ہٰیں ،ان کا کہنا تھا کہ 6 ملین ڈالرز میں امریکہ میں پاکستان کا قیمتی اثاثہ بیچنے کا پروگرام ہے

     

    ان کا کہنا تھا کہ گورنر،وزیراعظم اور دیگر بیوروکریسی بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف اگر کچھ پیسے دے دیں تو کب تک وہ کام آئے گا، ادویات کےلیے پیسے نہیں مگرہوٹلوں پر کھانا کھانے چاتےہیں تو بڑے بڑے مشروب اور بہترین چیزیں کھاتے ہیں

    ہنڈا جیسی کمپنی پاکستان میں سروسز بند کررہی ہیں ، ان کا کہنا تھا یہ کمپنیاں پاکستان میں مہنگی گاڑیاں بناکرسرمایہ باہر لے گئیں ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں گاڑیوں پر پابندی لگا دیں کہ جس گاڑی پر دو یا تین سے کم مسافر ہوں تو ان کو بند کردیں ،

    انہوں نے کہاک عارف علوی دانتوں کا کیڑا تو نکال سکتا ہے ،اس پر کروڑوں روپے خرچ ہورہےہیں، زمان پارک کی بات کرتے ہوئے کہٰتےہیں کہ اب وہاں بڑی سیکورٹی لگا دی ہے ، فائراس کو لگا نہٰیں اور جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے تو عوام قریب آئے گی ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانے کےلیے سخت فیصلےکرنےہوں گے ، سترکی دہائی میں پاکستان چین کو قرض دیتا تھا اب یہ حال ہیں کہ ہم چین کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں ، تمام سرکاری افسران کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے ، ان کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گےتو سکول بہتر ہوں‌گے

  • بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان کا انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشین ہم منصب سے گفتگو کرکے بہت مسرت ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گفتگو میں انڈونیشیا نے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور ہر ممکن مدد کے عزم کا اظہار بھی کی جبکہ موسمیاتی طور پر مضبوط پاکستان کانفرنس کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گفتگو میں دوطرفہ اور عالمی معاملات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغانستان کی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی اور پاک، انڈونیشیاء تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری مزید کہا کہ اس موقع پر دونوں جانب سے خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے دادو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان حقیقت اور تحریک طالبان پاکستان فتنہ ہے۔دادو میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے 2010 کا سیلاب دیکھا مگر 2022 کے سیلاب نے سب کچھ متاثر کیا، سیلاب کی وجہ سے لوگ آج بھی مشکل میں ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہمیں کچھ وقت ضرور درکار ہوگا مگر عزم ہمارا پختہ ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی کے بعد انہیں گھر بنا کر بھی دیئے جائیں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کا موقف دنیا بھر میں پیش کیا، سیلاب متاثرین کی بحالی،گھروں کی تعمیر اور نقصانات کے ازالے کے لیے ورلڈ بینک سے رقم منظور کروائی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لئےکئی پروگرامز شروع کیےہیں، سندھ حکومت کی ملکیت زمین پر رہنے والوں کو اس کا مالک بنادیں گے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوویڈ کے دوران ساری چیزیں بھول کر ہم نے عمران خان سے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، سیلاب کی صورت حال میں ہمارے سیاسی حریف نے سندھ ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور کوہستان و گلگت بلتستان میں مدد کرنے کے بجائے اپنی سیاست جاری رکھی۔ ملک میں سیلاب کی صورتحال تھی مگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چلتا رہا۔